Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Udaan by Qanita Khadija Episode13

Udaan by Qanita Khadija Episode13

وہ اس وقت شاہ اور خان کے ساتھ کافی شاپ میں بیٹھا تھا جبکہ سوچ کے سارے دھاگے اس وقت دل آویز میں ہی پھنسے تھے۔ شاہ اور خان بہت دیر سے اسکی غیر حاضری نوٹ کر رہے تھے اورباتوں ہی باتوں میں اسے بلانے کی بھی کوشش کی مگر کوئی فائدہ نا ہوا۔
’’ملک کہاں گم ہے یار کب سے بلا رہے ہیں تجھے ہم‘‘ آخر میں شاہ نے اسے ہلا کر متوجہ کیا۔
’’ہاں کیا کہہ رہے تھے تم؟‘‘ وہ چونک کر بولا۔
’’ملک بھئی دھیان کہا ہے تمہارا؟‘‘ شاہ نے اسے پوچھا۔
’’کہی نہیں یار!!‘‘ ہاتھ بالوں میں پھیرتا، سانس خارج کیے وہ بولا
’’ملک اس سے پہلے کہ میں تیرا منہ توڑ کر سب کچھ اگلواؤ سب سچ بتا کیا ہوا ہے؟‘‘ اب کی بارخان کی سنجیدہ آواز اسکے کانوں سے ٹکڑائی۔ ایک نظر خان کے سنجیدہ چہرے پر ڈالے اور دوسرا شاہ پر ڈالے اسنے ساری بات الف تا یے سنا دی۔ اب وہ ان دونوں کے جواب کا منتظر تھا۔
’’بہت غلط حرکت تھی یہ ملک‘‘ خان کی سنجیدہ سی آواز ابھری۔
’’غلط میں غلط ہوں تم لوگوں نے شاید میری بات غور سے نہیں سنی وہ لڑکی۔۔۔ آہ اب میں تم دونوں کو کیسے سمجھاؤ‘‘
’’خیر تم جو بھی کہوں لیکن میں آدھی ادھوری باتوں پر یقین نہیں کرتا‘‘ خان کی بات پر اسنے حیرانگی سے سر اٹھا کر دیکھا۔
’’تم،تم مجھے غلط بول رہے ہوں میں دوست ہوں تمہارا‘‘ ملک آنکھوں میں حیرانگی لیے بولا۔
’’تو یہ کہاں لکھا ہے کہ تم میرے دوست ہوں تو تم غلط نہیں ہو سکتے، ہر کوئی زندگی میں کسی نا کسی نقطے پر غلط ہوتا ہے، میں تم ہر کوئی‘‘ وہی سنجیدہ لہجہ اپنائے وہ بولا۔
’’خیر ابھی بھی دیر نہیں ہوئی گھر جا معملہ سلجھا اور پھر اپنی غلطی پر معافی بھی مانگ لینا‘‘ اسے یوں پریشان دیکھ کر وہ مزید گویا ہوا۔
’’ٹھیک ہے کرتا ہوں کچھ لیکن میں نے جو کچھ دیکھا کچھ غلط نہیں تھا میں ابھی جا کر معاملہ سلجھاتا ہوں‘‘ یہ کہتے ہی وہ تیزی سے کیفے سے باہر نکلا۔
’’اسے کیا ہوا؟‘‘ شاہ اسکی تیزی پر حیران رہ گیا۔
’’شاید محبت؟‘‘ خان نے اندازہ لگایا۔
’’خیر تم مجھے یہ بتاؤ کہ یہ انکل آنٹی کے ساتھ ناجانا اور کل پھر تایا سرکار کے گھر دعوت بھئی کیا قصہ ہے؟‘‘ شاہ کی اس بات پر خان نے ساری بات اسکے سامنے کھول کر رکھ دی۔
’’تم نے غلط کیا ہے خان‘‘ ساری بات سن کر شاہ افسوس میں سر ہلائے یہی کہہ سکا۔
’’یار شاہ تجھے ہم ٹھیک کب لگتے ہیں‘‘ اسکی بات پر خان ناگوار لہجے میں بولا۔
’’بات وہ نہیں یاررررر۔۔۔۔۔۔۔ اف تم دونوں بہن بھائی اتنے جذباتی کیوں ہوں؟ تمہیں انکل کو تھوڑا ٹائم دینا چاہیے نا کہ ان سے یوں سارے تعلق توڑ لو، اب اگر اللہ اللہ کر کے فلک نے رشتوں کو سنبھالنا سیکھا ہے تو تم مت بگاڑو، انکل سے قطع تعلقی کرنے سے کیا ہوجائے گا تم بس انہیں موقع دو احساس دلاؤ انہیں، بسس اتنی سی بات ہے‘‘ اپنی بات کہہ کر شاہ خاموش ہوگیا اسکی نظریں اب خان پر تھی، جو اسکی بات سن کر صرف سر ہلا سکا جبکہ شاہ اب پرسکون ہوچکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس وقت گھر میں داخل ہوا تو امی اور عائشہ کو تیزی سے باہر نکلتا دیکھ کر حیران رہ گیا۔
’’کیا ہوا امی کوئی مسئلا ہے کیا اور یہ آپ اتنی تیزی میں کہاں جا رہی ہیں؟‘‘ اسنے سوال کیا۔
’’ہاں بیٹا وہ دل آویز وہ،وہ ہسپتال میں ہے ہمیں جلدی جانا چاہیے بےچاری بچی پتا نہیں کس حال میں ہوگی‘‘ اور شایان پر تو اماں کی بات سن کر سکتہ طاری ہوگیا۔
’’رکے اماں میں چلتا ہوں آپ کے ساتھ‘‘ انہیں اپنے ساتھ لیتا ٹیکسی کروائے وہ ہسپتال کی جانب رواں ہوا۔
ہسپتال میں پہنچ کر وہ جلدی سے اپنے مطلوبہ کمرے کی جانب بڑھے، کمرے کے اندر کا منظر دیکھ کر تو شایان کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا، دل آویز کا وجود پٹیوں میں جکڑا ہوا تھا جب کے چہرے پر تھپڑ کے نشان واضع محسوس کیے جاسکتے تھے، جبکہ شایان کا خون تو خول اٹھا۔
’’تمہیں کیسے پتا چلا کہ دل آویز ہسپتال میں ہے؟‘‘ شایان نے عائشہ سے سوال کیا جبکہ وہ تو رونے میں مصروف تھی۔
’’میں نے کچھ پوچھا ہے عائشہ‘‘ اب کی بار وہ چلا کر بولا۔ جبکہ عائشہ تو کانپ کر رہ گئی
’’وہ وہ کال آئی تھی ایک نمبر سے‘‘
’’کس نمبر سے‘‘ ضبط کر کے اسنے سوال کیا۔
’’موبائل دو اپنا‘‘ اسنے ہاتھ بڑھا کر مانگا جب عائشہ نے اپنے کانپتے ہاتھ سے موبائل اسکے ہاتھ میں رکھ دیا، آج سے پہلے اسنے کبھی بھی اپنے بھائی کو اتنے غصے میں نا دیکھا تھا۔ نمبر دیکھ کر شایان نے اسے اپنے موبائل میں فیڈ کیا اور لوکیشن سرچ پر ڈال کر باہر کی طرف بڑھا۔
’’اپنی دوست کا دھیان رکھنا اور جیسے ہی ہوش آئے مجھے مسج کرنا‘‘ دروازے کے پاس رکتا ایک نظر دل آویز کے سوئے ہوئے چہرے پر ڈالے وہ عائشہ کو تنبیہ کرتے ہوئے نکل گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ابے یار اچھا خاصہ مال ہاتھ آیا تھا تونے کیوں جانے دیا اسے‘‘ عامر اپنے پاس بیٹھے حماد پر چلاتے بولا۔
’’ابے یار میری بات سمجھ عامر وہ محلے کی لڑکی ہے اور آج کل وہ فوجی بھی چھٹیوں پر آیا ہوا ہے اگر بات اس تک پہنچ گئی؟‘‘ حماد نے اسکے غصے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی اس بات سے بےخبر کے بات تو وہ خود ہی پہنچا چکا ہے۔
’’ابے بھاڑ میں گیا وہ (گالی) خود کو سمجھتا کیا ہے، عامر کسی سے نہیں ڈرتا، آج کی وڈیو کے اچھے خاصے پیسے مل جانے تھے، ایسے مال کے تو پیسے بھی بہت ملتے ہے، مگر تیری بزدلی نے سب کچھ ہاتھ سے نکال دیا‘‘ عامر شراب کی بوتل زمین پر مارتا بولا۔
’’تجھے ڈر نہیں لگتا کہ اگر اس فوجی کو پتا چل گیا؟‘‘ حماد نے ڈرتے ڈرتے بات کی۔
’’ابے وہ فوجی تو کیا مجھے اسکے باپ سے بھی ڈر نہیں لگتا‘‘ عامر نے نخوت سے کہتے سر جھٹکا۔
’’سہی کہا تم نے ویسے بھی تمہیں فوجی کے باپ کی ضرورت بھی نہیں ہے یہ فوجی ہی کافی ہے تمہارے لیے‘‘ ایک تیسری آواز نے ان دونوں کو چونکہ دیا، جب نظریں سامنے کھڑے شایان پر گئی تو دونوں کے طوطے اڑ گئے۔
’’ہاں تو کچھ کہہ رہے تھے نا تم دونوں اپنی شرٹ کے بازوں موڑتے وہ ان دونوں سے گویا ہوا‘‘
اس سے پہلے کہ وہ دونوں کوئی جواب دیتے پولیس کی ایک بھاری نفری اندر داخل ہوئی اور ان دونوں کو اپنے ساتھ لے گئی، جبکہ شایان بھی ان کے پیچھے چل دیا، اب اسکامقصد ان دونوں سے لاک اپ میں ہی نمٹنے کا تھا۔
پولیس سٹیشن میں انکی خوب آؤ بھگت کی جا رہی تھی جب وہ لاک اپ میں داخل ہوا اور پولیس والے رک کر اسے دیکھنے لگے جیسے اسکی اجازت کے منتظر ہوں۔
’’کچھ بولا انہوں نے؟‘‘ انکی طرف اشارہ کیے اسنے پوچھا۔
’’جی محترم سب کچھ بولے ہیں، یہ کتے لڑکیوں سے دوستیاں پالتے ہیں اور پھر انہیں اپنے ساتھ اپنے اڈے پر لیجا کر ان کو نشہ دیکر غلط طریقے سے نازیبا وڈیو بناتے ہیں اور پھر بلیک میل کرکے انسے یا تو پیسے مانگتے ہیں یا غلط حرکتیں کرواتے ہیں ساتھ ہی ساتھ جن لڑکیوں کو وڈیو میں پسند کیا جاتا ہے انہیں یہ دباؤ ڈال کر بیچ دیتے ہیں اور گھر والوں کو یہی بتایا جاتا ہے کہ انکی لڑکیاں بھاگ گئی ہے۔‘‘ ایک آفیسر کی بات پر اسکی آنکھیں سرخ انگارہ ہوگئی۔
اب وہ ان دونوں کے سامنے کرسی پر جاکر بیٹھ گیا۔
’’مجھے صرف ایک سوال کا جواب چاہیے دل آویز کیسے بچ گئی؟‘‘ پہلے تو وہ دونوں حیرانگی سے اسے دیکھتے رہیں کہ گویا وہ کیا کہنا چاہ رہا ہے۔
’’ہم دل آویز پر شروع سے ہی نظریں گاڑھیں بیٹھے تھے، ماں باپ ہے نہیں اور ایک بیمار دادا، لیکن ہمیں مشکل تب آئی جب وہ بچوں میں ہی رہتی تھی اور دوسرا اسکی آپکی بہن سے بہت زیادہ دوستی ہوگئی تھی اور ہم نہیں چاہتے تھے کہ آرمی کسی بھی طریقے سے اس سب میں داخل ہو،لیکن ہمیں دل آویز تک بھی پہنچنا تھا تو ایک دن ہمیں پتا چلا کہ اسے بایئک چلانے کا شوق ہے اور سیکھنا چاہتی ہے تو عامر نے اس سے وعدہ کیا کہ وہ سکھائے گا،مگر مسئلہ یہ تھا کہ وہ محلے کے اندر صبح کے وقت سیکھنے پر باضد تھی کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ کوئی کچھ غلط سوچے، پھر آج ہم نے اسے آپ کے گھر سے روتا نکلتے دیکھا تو میرے اور عامر کے پوچھنے پر ہمیں اسنے سب بتا دیا اور عامر کو لگا کہ اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں،تو ہم نے اسے وعدہ کیا کہ ہم اسے کہی گھمانے لیکر چلے گے اور وہ بھی راضی ہوگئی مگر ناجانے آدھے راستے میں اسکے دماغ میں کیا سمائی اس نے واپس جانے کی ضد شروع کردی،جس پر عامر نے اسکے چہرے پر تھپڑ مارنا شروع کردیے،جب وہ بے حال ہوگئی تو ہم بھی پرسکون ہوگئے مگر جیسے ہی گاڑی اڈے پر رکی وہ لڑکی تیزی سے باہر نکلی اور سڑک کی جانب دوڑنا شروع کردیا جب ایک گاڑی سے اسکی زوردار ٹکڑ ہوئی اور وہی آدمی اسے گاڑی میں لیے ہسپتال لے گیا،میں بہت ڈر گیا تھا،مگر ناجانے کیوں میں نے عائشہ کے موبائل پر کال کرکے سب اسے بتا دیا۔‘‘ حماد کی تقریر ختم کرتے ہی عامر نے اسے گھورا کہ گویا تم ہی وہ دھوکےباز ہوں۔
’’تم زندگی میں پہلی بار کوئی ایک اچھا کام کیا ہوگا حماد مگر افسوس کہ تمہارے گناہ اتنے وسیع ہے کہ تمہیں اب کوئی بھی نہیں بچا سکتا‘‘ یہ کہہ کر بنا کوئی بات کیے وہ وہاں سے نکل گیا کیونکہ اب انکا فیصلہ آرمی کو ہی کرنا تھا کیونکہ یہ کیس میجر سبحان کے انڈر تھا،جن کی مدد ایک طریقے سے شایان کر چکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ویسے دل آویز ایک بات پوچھو تمہیں یہ آدھے راستے میں واپسی کا خیال کیسے آیا‘‘ عائشہ کی بات پر کمرے کے اندر داخل ہوتا شایان بھی رک گیا اس سوال کا جواب تو اسے بھی چاہیے تھا۔
’’تمہارے بھائی کی وجہ سے‘‘ اسکے جواب پر جہاں عائشہ حیران ہوئی وہی شایان کو بھی حیرت ہوئی۔
’’کیسے؟‘‘ عائشہ نے سوال کیا
’’اسکو لگتا ہے کہ میں ادایئں دکھا کر لڑکوں کو رجھاتی ہوں میں معصوم بن کر سب کو بےوقوف بناتی ہوں، اور وہ اچھے سے جانتا ہے کہ مجھ جیسی لڑکیاں کیسی ہوتی ہے، اسی لیے میں نہیں چاہتی تھی کہ وہ سمجھے میں واقعی میں ایسی ہوں‘‘ اسکے جواب پر جہاں عائشہ کو گھیروں شرمندگی نے آن گھیرا وہی شایان کا دل چاہا کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔
’’مجھے معلوم ہے عائشہ کے ایسے اکیلے میں کسی کے گھر نہیں جاتے، کیا ہوا اگر میرے ماں باپ نہیں لیکن مجھے میرے دادو نے سب کچھ سکھایا ہے، میں تو صرف اس لیے تمہارے گھر چلی آئی تھی کیونکہ تم نے کہا تھا کہ تمہارا بھائی آرمی میں ہے اور مجھے کوی مسئلہ نہیں ہوگا مگر وہ تو مجھے برا بھلا کہنے لگا، اگر مجھے ایسے ہی کرنا ہوتا تو میں عادل کو کہہ کر یوں محلے میں اس سے بایئک چلانے کا نا کہتی اور اسکی بات مان کر کسی سنسان سڑک پر سیکھتی، مانا کہ میری غلطی تھی مگر تمہارا بھائی اتنا بھی اچھا نہیں ہے آئندہ سے کبھی بھی میں تمہارے گھر نہیں آؤ تب تک تو بلکل بھی نہیں جب تک تمہارا بھائی نہیں چلا جاتا‘‘ آخر میں اسکے لہجے میں بچوں جیسی ضد آگئی جس پر عائشہ مسکرا اٹھی جبکہ شایان کی ہنسی نکل گئی، اسکی ہنسی کی آواز سن کر ان دونوں نے دروازے کی طرف دیکھا جہاں وہ ہونٹوں پر مسکان اور آنکھوں میں نرم تاثر لیے اسے دیکھنے میں مگن تھا، جبکہ وہ رخ موڑ گئی اور شایان نے اپنی ہنسی روکتے ہوئے اشارے سے عائشہ سے باہر جانے کو کہاں۔
’’میری دوست کو تنگ مت کیجیے گا‘‘ شایان کے پاس سے گزرتی وہ تنبیہ کرتے بولی،جس پر وہ اچھے بچوں کی طرح سر ہلانے لگا۔
’’کیسی ہوں‘‘ اسکے پاس بیٹھتے ہوئے اسنے پوچھا،مگر کوئی جواب نہیں ملا۔
’’آج موسم کافی خوشگوار ہے نا‘‘ جس پر دل آویز نے اسے حیران نظروں سے دیکھا کیونکہ باہر ٹکا کر گرمی برس رہی تھی۔
’’تمہیں کچھ چاہیے‘‘
’’سکون‘‘
’’میرا مطلب کے کچھ کھانے پینے کو‘‘
’’جو کام تمہیں یہاں سے مجھ سے دور لیجائے تو بہتر ہوگا‘‘
’’سوری یار،مجھے پتا نہیں کیا ہوگیا تھا، میں مانتا ہوں کہ میں اوور ری ایکٹ کرگیا مگر تمہیں بھی یوں کسی سے بھی بات کرنی چاہیے‘‘
’’میں جس مرضی سے بات کروں تم میرے مامے نہیں لگتے‘‘ اب کی بار اسنے تپ کر جواب دیا۔
’’بلکل تمہارے ماموں اتنے ہینڈسسم ہوگے بھی نہیں‘‘ اسکی اس بات پر ناچاہتے ہوئے اسکے ہونٹوں پر مسکان آگئی اور یہ دیکھ کر شایان بھی پرسکون ہوگیا۔
اس سے پہلے کے وہ کوئی اور بات کرتا اسکے موبائل پر کال آنے لگی جو وہ اٹھائے باہر آگیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے گھر داخل ہوا جہاں اس وقت اسے نوکروں کے علاوہ کوئی نظر ناآیا۔
’’مام ڈیڈ کہاں ہے ؟‘‘ اسنے نوکر کو روکتے پوچھا۔
’’صاحب جی تو کسی میٹینگ کے لیے گئے ہیں اور بیگم صاحبی کسی پارٹی میں‘‘ نوکر کی بات پر وہ سر جھٹک کر رہ گیا اور بنا کچھ کہے دیوار کی طرف بڑھا وہاں سے سورڈ آف اونر اٹھائے وہ وہی سے الٹے پاؤں مڑ گیا۔ آج رات دعوت تھی اور وہ کسی بھی طور روشانے کو اسکی دوستوں کے سامنے زلیل ہوتا نہیں دیکھ سکتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جمیل صاحب نے پورے گھر کو سجاوایا تھا یو جیسے کہ کسی کی شادی ہو، تمام مہمان اس وقت آچکے تھے اور آپس میں خوش گپیوں میں مصروف تھیں۔
’’تو روشانے زرا ہمیں بھی اپنی بہن سے ملاؤ جس نے آرمی جوائن کی تھی ‘‘ اسکی ایک دوست نے اس سے سوال کیا۔
’’خیر آرمی میں جانا کوئی اتنا مشکل کام بھی نہیں ہے اور تمہارے تو چاچا بھی آرمی میں تو انکے بچوں کو آسانی سے مل گیا ہوگا ایڈمیشن‘‘ اسکی ایک کلاس فیلو نخوت سے سر جھٹک کر بولی۔
’’اصل بات تو سورڈآف اونر کی ہوتی ہے، وہ دکھاؤ تو بات بنے‘‘
’’کہی تم اسکی بات تو نہیں کررہی؟‘‘ اسکی بات پر فلک ہاتھ میں سورڈ آف اونر لیے انکے سامنے آئی جبکہ ان سب کے منہ حیرت سے کھل گئے اور وہی روشانے کا چہرا کھل اٹھا۔
سوڑد آف اونر تو خان کو ملی تھی پھر فلک کے پاس کیسے یہی سوچتے اسنے آس پاس نگاہ دوڑائی جو خان پر رکی جو شاہ اور ملک سے بات کرنے میں مصروف تھا، خود پر نظروں کی تپش محسوس کیے اسنے سامنے دیکھا جہاں وہ کھڑی اسے دیکھ رہی تھی، خان کے دیکھنے پر وہ مسکرا دی جس پر خان بھی مسکراہ دیا۔ سب کچھ اب ٹھیک ہورہا ہے، اس بات پر چاند اور ستارے بھی کھل کر چمکے۔ اور یونہی ہنستے مسکراتے ہوئے ایک حسین رات کا اختتام ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *