Udaan by Qanita Khadija NovelR50777 Udaan by Qanita Khadija Episode01
Rate this Novel
Udaan by Qanita Khadija Episode01 (Watching)Udaan by Qanita Khadija Episode02 Udaan by Qanita Khadija Episode03 Udaan by Qanita Khadija Episode04 Udaan by Qanita Khadija Episode05 Udaan by Qanita Khadija Episode06 Udaan by Qanita Khadija Episode07 Udaan by Qanita Khadija Episode08 Udaan by Qanita Khadija Episode09 Udaan by Qanita Khadija Episode10 Udaan by Qanita Khadija Episode11 Udaan by Qanita Khadija Episode12 Udaan by Qanita Khadija Episode13 Udaan by Qanita Khadija Episode14 Udaan by Qanita Khadija Episode15 Udaan by Qanita Khadija Episode16 Udaan by Qanita Khadija Episode17 Udaan by Qanita Khadija Episode18 Udaan by Qanita Khadija Episode19 Udaan by Qanita Khadija Episode20 Udaan by Qanita Khadija Episode21 Udaan by Qanita Khadija Episode22 Udaan by Qanita Khadija Episode23 Udaan by Qanita Khadija Episode24 Udaan by Qanita Khadija Episode25 Udaan by Qanita Khadija Last Episode
Udaan by Qanita Khadija Episode01
Udaan by Qanita Khadija Episode01
’’لیفٹینینٹ خان،لیفٹینینٹ خان آر یو لسنگ؟‘‘
(لیفٹینینٹ خان،لیفٹینینٹ خان کیا آپ کو آواز آ رہی ہے؟‘‘ ایر پیس پر ابھرتی آواز نے اس وقت سب کے اعصاب کو شدید جھٹکا دیا تھا۔
کنٹرول آفس میں بیٹھا املہ اس وقت سخت دباؤ کا شکار تھا۔موسم ابر آلود ہونے کی وجہ سے رابطہ نا ہونے کے برابر تھا۔ایر پیس میں ابھرتی آواز بھی سگنلز نا ھونے کی وجہ سے بیچ میں ہی کہی کھو جاتی۔آج صبح ہی تھنڈڑ ایف سیونٹین نے پرواز بھری تھی گھنٹے بعد ہی طیارے کے انجن میں تکنیکی خرابی کی وجہ سے چنگاریاں ابھرنے لگی۔جسکی وجہ سے کنٹرول آفس میں ایک ہلچل مچ گئی،اور اب لیفٹینینٹ خان سےرابطہ کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی جو کہ خراب موسم کی وجہ سے نا ممکن ہو گیا تھا۔کالی گھٹاؤں نے پورے آسمان پر اپنی چادر بچھادی تھی،کڑکڑاتی بجلی نے موسم کو خوابناک بنا دیا تھا۔
آسمان میں طیارہ غوطے کھا رہا تھا،ایسا موسم اس ماحول نے سب کا سانس روک رکھا تھا۔جہاں ہر کوئی طیارے کی حفاظت کے لیے دعا گو تھا وہی ایک ایسا وجود بھی تھا جو آج اپنے جیت جانے کی خوشی منا رہا تھا۔
دیکھتے دیکھتے آگ کا ایک شعلہ بھڑکا اور پورے طیارے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا،بس چند منٹوں کا کھیل اور سب کچھ ختم ہو گیااور کسی کو تو شاید دنیا۔۔۔۔
ایک وجود تھا جسنے آج اپنی پہچان کھو دی وہی دوسری طرف ایک اور وجود تھا جس نے سب کچھ کھو دیا ، سب کچھ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔’’فلک،نی فلک کتھے آں تو؟‘‘
(فلک ، فلک کہاں ہوں)
’’میں اوپر ہوں اماں، یہاں چھت پر‘‘ اماں کی آواز سن کر وہ جو چھت پر پتنگ اڑا رہی تھی جھٹ سے جواب دیا۔
جولائی کے اوائل دن،گرمی اپنے عروج پر تھی اور محترمہ فلک صاحبہ بنا چپل کے پتنگ اڑانے میں مصروف تھی۔اماں تو اسے دیکھ کر ہی اپنا ماتھا پیٹ کر رہ گئی
’’یہ لڑکی کبھی نہی سدھر سکتی۔۔۔۔۔۔۔۔فلک او فلک اس سے پہلے کے تیرے تایا سرکار تک بات پہنچے اللہ کو مان میری بیٹی نیچے آجا شاباش‘‘پہلی بات منہ میں بڑبڑاتے ہوئےوہ زرا اونچا بولی۔اور وہ شوق سے پتنگ بازی میں مصروف تھی تایا سرکار کا نام سن کر اسکا منہ بن گیا۔ڈور کو اپنے مضبوط دانتوں سے کاٹتے ہوئے گرم ہوا کے سپرد کیا،اس کے چہرے پر ایک خوبصورت مسکراہٹ تھی وہ کٹی پتنگ کو دور جاتا دیکھ رہی تھی،اسکی آنکھوں میں شوق کی الگ دنیا آباد تھی۔اماں کی آواز تو کہی دور جا دبی تھی۔
’’کیا ہو رہا ہے یہاں؟‘‘ ایک روعب دار آوازسے جہاں اسکی سوچوں کا تسلسل ٹوٹا وہی اماں نے اپنی آنکھیں زور سے میچ لی اور وہ جو اپنی دنیا میں جا سمائی تایا سرکار کی آواز پر اسکا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا،تایا سرکار کے قہر سے بچنے کے لیے وہ جوتیزی سے مڑی تھی، دھڑام سے نیچے گری،چونکہ وہ چھت کے آخری کونے پر کھڑی تھی چھت کی اندرونی طرف کو گری۔اماں اور تایا سرکار تو اپنی جگہ پر جم کر رہ گیا،اس سے پہلے کہ کوئی کچھ سمجھ پاتا،اماں کی چیخوں نے پوری حویلی میں کہرام مچا دیا۔وہ تیزی سے اوپر کی طرف بھاگی اور تایا سرکار نے بھی انکی پیروی کی،فورا سے پہلے ایمبولینس کو بلایا گیا،تایا سرکاراسے بانہوں میں اٹھائےجلدی سے ایمبولینس کی طرف بڑھے،اماں بے بھی انکی پیروی کی،پردے کی اوٹ سے یہ سب دیکھتے ہوئے چھوٹی تائی کا منہ بن گیا۔
’’ہنہ۔۔۔خامخواہ کےڈرامے‘‘ چھوٹی تائی جو کہ شور کی آواز سن کر اپنی نیند سے جاگی تھی،ہنکارہ بھرتے ہوئے اپنی رائے دی اور دوبارہ سے سونے کو لیٹ گئی۔
ہسپتال لیجاتے ہی فورا اسےآئی۔سی۔یو۔ لیجایا گیا، بارہ گھنٹےآئی۔سی۔یو میں رہنے کے بعد اسے نئی زندگی کی نوید سنا سی گئی تھی،اور کمرے میں شفٹ کر دیا گیا تھا۔
اماں تو اسے بے ہوش دیکھ کر رورو کر ہلکان ہو چکی تھی ایسے میں تایا سرکار نے انکی امید باندھی تھی۔
’’حوصلہ کریں بھرجائی،اللہ نے ہماری دھی رانی کو نئی زندگی دی ہے،اس وقت رونے سے زیادہ ضروری ہے کہ ہم اس خدا کا شکر ادا کرے۔‘‘
’’وہ تو ٹھیک ہے بھا صاحب،مگر اسے ابھی تک ہوش کیوں نہی آیا؟‘‘کرب سے بولتے ہوئے ایک نظر اپنی بیٹی کو دیکھا جو انکی کل کائنات تھی،وہی تو ایک مخلص رشتہ تھا جو انہوں نے اپنی زندگی میں پایا تھا۔
’’فکر مت کرے بھرجائی،بس خدا سے دعا کرے تب تک میں بھی صدقے کے پانچ کالے بکرے دے کر آتا ہوں‘‘ اماں کی امید بڑھاتے ہوئے وہ باہر کو چک دیے۔
اماں کب سے تسبیح پڑھتے ہوئے اس پر دم کر رہی تھی جب اچانک ایک نرس دڑیپ دیکھنے کمرے میں داخل ہوئی۔
’’سنوں۔۔۔میری دھی رانی کو ہوش کب تک آئے گا؟‘‘ اماں نے نرس کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا جوڈریپ کو دیکھ رہی تھی۔
’’گھنٹے تک آپکے مریض کو ہوش آجائے گا‘‘ پروفیشنل انداز میں جواب دیتے وہ پھر سے ڈریپ کی طرف متوجہ ہو گئی۔
’’گھنٹہ‘‘ خود سے بولتے ہوئے اماں نے دیوار پر نصب کلا ک کی طرف دیکھا،جہاں ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا تھا،اور ایک نظر اپنی بیٹی کی طرف دیکھتے ہوئے ہسپتال میں موجودمسجد کی طرف بڑھ گئی جو کہ نمازیوں کے لیے بنائی گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ارے اکمل آپ آگئے میں بس ابھی ملازم سے کہ کر آپ کو ناشتے کے لیے بلوانے لگی تھی‘‘ نتاشہ بیگم اپنے شوہر کو ڈائنگ ٹیبل پر آتا دیکھ کربولی جو آج بھی اتنے ہی خوبرو تھے جتنا کے اپنی جوانی میں،انہیں آج پھر سے اپنی قسمت پر رشک آیا۔
اکمل صاحب اپنی بیوی کی بات سن کت مسکرا دیے
’’کیا ہوا بیگم،کیا نظر لگانے کا ارادہ ہے؟‘‘نتاشہ بیگم کو یوں اپنی طرف گھورتا دیکھ کر وہ مسکراہٹ دباتے شرارت سے بولےجس پر وہ جھنپ گئی۔
’’ناشتہ کریں‘‘ نتاشہ بیگم کی بات پر مسکراتے ہوئے انہوں نے ناشتا شروع کیا۔
’’ویسے یہ آپ کے صاحبزادے کہاں آج کل نظر ہی نہی آتے؟‘‘ناشتہ کرتے وقت انہیں اپنے ایک اکلوتے بیٹے کا دھیان آیا،جس سے ملے آج انہیں ہفتہ ہو گیا تھا۔وہی تو تھا انکا مان،انکی پہچان،انکے آنے والی نسل کا امین اور انکا ولی وارث۔
’’اوہوں۔۔آپ تو جانتے ہے نا کی میٹرک کے فائنلز آنے والے ہےاور مقابلہ بھی سخت ہے توبس سکول سے اکیڈمی اور پھر ررات کو گروپ سٹڈیز۔‘‘ مسکراتے ہوئے انہوں نے جواب دیا۔
’’ارے بیگم آپ بھی حد کرتی ہے،میں نے کہا تو تھا اسے فلک کے پاس پڑھنے بھیج دیا کرے،ویسے بھی آج کل کا معاشرہ بہت خراب ہے ناجانے کیسے لڑکوں سے دوستی ہوں اسکی،اور اچھا ہے نا فلک کے ساتھ ملکر پڑھے ماشااللہ سے اتنی ذہین بچی ہے،اور پھر۔۔۔۔۔‘‘اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتے نتاشہ بیگم نے انکی بات کاٹ دی۔
’’حد کرتے ہے آپ اکمل،کیا ہو گیا ہے آپ کو‘‘نتاشہ بیگم لہجے میں نفرت اور ناگواری لیکر بولی،جس کی وجہ اکمل صاحب کے ماتھے پر ان گنت شکنیں ابھری۔اور نتاشہ بیگم جو اپنی رو میں بول رہی تھی اپنے شوہر کے چہرے کت بگڑتے زاویے دیکھ کر ایک دم سے اپنے لہجے کا احساس ہوا تو جھٹ سے بولی
’’میرا مطلب ہے کہ آپ تو جانتے ہے نا اپنےصاحب زادے کو اس سے گرمی زرا برداشت نہی ہوتی،اور پھر خوشاب جانے کے لیے شاید وہ نا مانے‘‘
’’ہاں تو ہم فلک کو یہاں بلا لیتے ہے‘‘ایک نئی تجویز دیتے ہوئے وہ پھر سے ناشتے کی طرف متوجہ ہوگئے اور نتاشہ بیگم سہی معنوں میں جل بھن کر رہ گئی۔
’’اکمل میں تو دلوجان سے اسے بلا لو لیکن آپ جانتے ہے نا کہ فلک بڑے بھا اور بھابھی کے علاوہ کسی سے نہی ملتی جلتی،حالانکہ میرا اتنا دل چاہتا ہے کہ میری بیٹی میرے گھر آئے،مگر شاید رخسانہ نے ہمیں ابھی تک معاف نہی کیا تبھی تو وہ بچی ہم سے کھچی کھچی سی رہتی ہے‘‘جتنی مٹھاس اور محبت بھرے لہجے میں نتاشہ بیگم نے بات کی تھی اکمل صاحب تو اتفاق میں سر ہلا کر رہ گئے،اگرچہ وہ انکی آنکھوں میں چھپی نفرت دیکھ لیتے تو شاید انکی باتوں پر یوں یقین نا کرتے۔اکمل صاحب کو اپنی بات سے اکتفا کرتا دیکھ کر نتاشہ بیگم بھی چپ چاپ ناشتے میں مگن ہوگئی،بظاہر تووہ بالکل ناارمل ہوگئی مگر دل میں موجود نفرت نے مزید شدت اختیار کرلی،اب انہے کسی بھی طرح اس فلک نامی ناسور سے جان چھڑوانی تھی۔اچانک ٹیلی فون کی گھنٹی نے سکوت توڑا۔اکمل صاحب اور نتاشہ بیگم ابھی ناشتے میں مگن تھے جب ملازم کی اطلاع نےانکا ناشتا چھڑوا دیا۔
’’صاحب جی وہ بڑے صاحب کا فون آیا تھا،فلک بی بی چھت سے گر گئی ہے،ہسپتال میں ہے وہ‘‘
اس خبر نے جہاں نتاشہ بیگم کو دلی خوشی دی تھی،وہی اکمل صاحب کے لیے دوسرا نوالہ حلق سے اتارنا مشکل ہو گیا۔
’’نتاشہ جلدی سے گاڑی کی چابی لائے ہم ابھی ہسپتال جا رہے ہیں‘‘ناشتہ چھوڑ کر،نتاشہ بیگم کو حکم دیتے ہوئے وہ بایر کی طرف لپکے،اور نتاشہ بیگم تو جل بھن کر رہ گئی،ملازم کو گھوری سے نوازتے ہوئے وہ کمرے سے گاڑی کی چابی لیکر اکمل صاحب کے پیچھے چل دی۔
’’خدا کرے یہ بلا ہمارے جانے سے پہلے ہےاللہ کو پیاری ہو جائے،ناگ کی طرح ہر وقت میری خوشیوں کو ڈستی رہتی ہے یہ لڑکی‘‘ فلک کو یونہی بع شمار بد دعاؤں سے نوازتی وہ گیراج کی طرف بڑھی جہاں اکمل خان پریشانی میں ادھر ادھر ٹہلتے ہوئے کال پر مصروف تھے،نتاشہ بیگم کو آتا دیکھ کر فورا ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی۔
’’ فکر مت کرے اکمل خدا نے چاہا تو ہماری بچی بلکل ٹھیک ہو جائے گی‘‘جس کے جواب میں انہوں نے صرف سر کو ہلکی سی جنبش دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔’’مام،ڈیڈ کوئی گھر پر ہے؟‘‘گھر داخل ہوتے ہی سناٹے نے اسکا استقبال کیا،جس پر اسنے اپنے مام ڈیڈ کع آواز دی اورجا کر صوفے پر بیٹھ گیا اور اپنے جوتے اتارنے لگا۔
’’چھوٹے صاحب،وہ صاحب جی اور بیگم صاحبہ تو ہسپتال گئے ہیں‘‘
’’کیوں خیریت؟‘‘ملازم کے بتانے پر بھی وہ جوتے کے تسمے کھولتے ہوئے پوچھنے لگا
’’وہ چھوٹے صاحب فلک بی بی چھت سے گر گئی تھی،دونوں بہت فکرمندتھے اسی لیے فورا نکل گئے‘‘
ملازم کے بتانے پر اسکے جوتے کے تسمے کھولتے ہاتھ رکے اورفلک کے ہسپتال کا سنتے ہی ایک کمینی مسکراہٹ اسکے چہرے پر در آئی،مگر ساتھ ہی اپنے والدین کا اسکے لیے فکرمند ہونا سن کر آنکھیں لال انگارہ ہو گئی۔
’’میں اپنے کمرے میں جا رہا ہوں مجھےتنگ مت کرنا‘‘ملازم کو حکم دیتا وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔
سوئچ کو ہاتھ مار کر اسنے لائٹ اون کی اور اب ڈریسنگ روم کے شیشے کے سامنے جاکر کھڑا ہو گیا۔
’’مجھے تم سے نفرت ہے فلک خان،شدید نفرت خدا کرے تم مر جاؤں‘‘کہتے ہی اسنے پوری قوت سے شیشے پر اپنا باڈی سپرے مارا اور ہر طرف کانچ بکھر گیا۔
خود کو پر سکون کرتا وہ بیڈ پر آکر لیٹ گیا۔اسے فلک خان سے شدید نفرت تھی مگر اسے یہ معلوم نا تھا کہ اس نفرت کی آگ میں جلنے والا وہ اکیلا نہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
