Udaan by Qanita Khadija NovelR50777 Udaan by Qanita Khadija Episode07
Rate this Novel
Udaan by Qanita Khadija Episode01 Udaan by Qanita Khadija Episode02 Udaan by Qanita Khadija Episode03 Udaan by Qanita Khadija Episode04 Udaan by Qanita Khadija Episode05 Udaan by Qanita Khadija Episode06 Udaan by Qanita Khadija Episode07 (Watching)Udaan by Qanita Khadija Episode08 Udaan by Qanita Khadija Episode09 Udaan by Qanita Khadija Episode10 Udaan by Qanita Khadija Episode11 Udaan by Qanita Khadija Episode12 Udaan by Qanita Khadija Episode13 Udaan by Qanita Khadija Episode14 Udaan by Qanita Khadija Episode15 Udaan by Qanita Khadija Episode16 Udaan by Qanita Khadija Episode17 Udaan by Qanita Khadija Episode18 Udaan by Qanita Khadija Episode19 Udaan by Qanita Khadija Episode20 Udaan by Qanita Khadija Episode21 Udaan by Qanita Khadija Episode22 Udaan by Qanita Khadija Episode23 Udaan by Qanita Khadija Episode24 Udaan by Qanita Khadija Episode25 Udaan by Qanita Khadija Last Episode
Udaan by Qanita Khadija Episode07
Udaan by Qanita Khadija Episode07
آخر کار وہ دن آہی گیاجس کا ان چاروں کو بے صبری سے انتظار تھا۔ وہ چاروں اس وقت اپنے فیلوز کی ساتھ کھڑے پی اے ایف کا جائزہ لے رہے تھے۔
انکی آنکھوں میں ایک انوکھی سی چمک تھی اور ہونٹوں پر مسکراہٹ۔
وہ لوگ ایسے ہی اررد گرد دیکھنے میں مصروف تھے جب سینئرز کا ایک ٹولہ انکے پاس آیا۔
’’اٹینشن کیڈیٹس۔۔۔۔ ویلکم تو سرگودھا اکیڈمی‘‘ انکا ایک سینئر انسے مخاطب ہوا۔ جس کے پیچھے دو اور سینئرز بھی کھڑے تھے کے چہرے پر مچلتی مسکراہٹ اس بات کی نشاندہی کر رہی تھی کہ انہیں بہت مزا آنے والا ہے۔ مگر معصوم جونیئرز کے تو فرشتے بھی اس بات سے انجان تھے کہ اب ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔
سینئرز کے مخاطب کرنے پر بھی ایک دو لوگ ہی اسکی طرف متوجہ ہوئے جبکہ باقی سب اب بھی ایک دوسرے سے بات کرنے میں مصروف تھے۔ انکی یہ حرکت انکے سینئر کے چہرے پر سختی لے آئی۔
’’تم لوگ کیا اپنے باپ کے ولیمے پر آئے ہوں‘‘اب کی بار وہ اس قدر چلا کر بولا کہ سب لوگ اپنی جگہ جم کر رہ گئے اور اسے دیکھنے لگے کو غصے سے انہیں ہی گھور رہا تھا۔ اسکی یہ بات کہی چہروں پر ناگواری لے آئی جن میں ایک چہرا فلک کا بھی تھا۔ چونکہ وہ فرنٹ پر تھی تو جلد نظروں کے سامنے آگئی۔ پیلی کمیز، سفید کھلا پجامہ اور سسفید ہی ڈوپٹا جو کہ سکارف کی مانند گلے میں لیا تھا اسکی کھلی رنگت پر بہت جچ رہا تھا، اور اسکے کالے لمبے بال جو کہ نیچے سے ہلکے براؤن تھے اسنے اونچی پونی میں باندھ رکھے تھے۔ بس ایک پل اور ریان کو اپنا دل ڈوبتا محسوس ہوا۔
’’ہے یو کیا نام ہے تمہارا؟‘‘ آنکھوں میں شوق کا ایک جہاں لیے وہ اب فلک کے سامنے آکھڑا ہوا اور غور سے اسے دیکھنے لگا، جہاں یوں سب کی نظروں میں ایکدم آنے سے فلک گڑبڑا گئی وہی دلاور، ہارون اور شایان کے چہرے پر ناگواری در آئی انہیں ریان کا یوں فلک کو پائنٹ آوٹ کرنا اتنا برا نہیں لگا جتنی اسکا پر شوق نگاہوں سے اسے دیکھنا لگا اور ہارون کے ماتھے کے بل تو کچھ زیادہ ہی بڑھ گئے تھے جسےکسی اور نے نا سہی مگر شایان نے ضرور محسوس کیا تھا۔
’’فلک۔۔۔۔۔فلک خان‘‘ ایک پل کو تو وہ گڑبڑا گئی مگر پھر اپنا ازلی کانفیڈینس اپناتے ہوئے بولی۔
’’فلک۔۔۔۔۔۔فلک خان‘‘اسکا نام اپنے لبوں سے ادا کرتے ناجانے کیوں مگر ریان کے دل کو بہت سکون محسوس ہوا اور ہونٹوں پر باقاعدہ مسکراہٹ آگئی جو اسکے ساتھیوں کے ساتھ ساتھ باقی سب نے بھی نوٹ کی۔
’’عمر؟‘‘ اگلا سوال ساتھ ہی پوچھا گیا۔
’’سترہ سال‘‘۔ مختصر جواب۔
’’ایجوکیشن؟‘‘
’’پری انجینئرنگ‘‘۔
’’بہن بھائی؟‘‘۔ انجانے میں ہی سہی مگر وہ اسکی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ چکا تھا۔ اس سوال پر فلک کی آنکھوں میں ناگواری کے ساتھ ساتھ آنسوں بھی آگئے مگر نظریں نیچی ہونے کی وجہ سے کوئی نا دیکھ سکا۔ لیکن دلاور،ہارون اور شایان بہت اچھے سے اسکی دلی کیفیت سمجھ چکے تھے۔
’’او میڈم کیا مراقبے طے کر رہی ہوں؟؟ سوال نہیں سنا جواب دوں‘‘۔ اسکے یوں خاموش رہنے پرایک سینئر بولا جس کو ریان نے ہاتھ کے اشارے سےروک دیا۔
’’جواب دوں مجھے۔۔۔۔۔‘‘ اسکے برابر جھکتے چہرہ قریب کیے وہ بولا۔
’’سر ہمارا بھی انٹرویو لے لے ہم بھی ہے یہاں‘‘ حالات کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوا بلآخر شایان بول پڑا، کیونکہ اگر یہ سینئر کچھ دیر اور فلک کے آس پاس رہتا تو شاید خان اور شاہ اسکے سینئر ہونے کا بھی خیال نا کرتے۔
ریان جواب تک فلک کے جواب جا منتظر تھا ایک انجانی آواز پر جی بھر کر بد مزہ ہوا تو وہی فلک نے شکر کا سانس لیا۔ جب نظر اٹھا کر سامنے دیکھا تو ایک پل کو تو اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا کیونکہ سامنے والے کا حلیہ کسی ملنگ سے کم کا نا تھا۔
لمبے بال جنہیں پونی میں قید کیا گیا تھا، بڑھی ہوئی داڑھی جو کہ سترہ سال کے لڑکے کے حساب سے کچھ زیادہ ہی تھی۔ اور داڑھی کے بعد جو آنکھیں رہ گئی تھی انہیں بڑی گلاسز لگا کر چھپایا گیا تھا۔ ہاتھوں میں مختلف بینڈ پہنے، ٹی شرٹ کے اوپر جیکٹ اور پھٹی جینز پہنے ناجانے وہ کیا لگ رہا تھا یہ بات تو ریان کے وہم وگمان سے باہر تھی۔
اور جلد ہی چہرے کی ناگواریت غصے میں بدل گئی۔
’’ہے یو۔۔۔۔ یہ کیا حلیہ بنایا ہوا ہے تم نے؟‘‘ غصے سے کھولتے لہجے میں وہ اسے گھور کر بولا۔
’’یار یہ کیا بات ہوئی مجھے تو لگا آرمی والے فیر ہوتے ہیں مگر یہاں بھی یہی نا انصافی یاررررر۔۔۔۔۔ میں نہیں بولتا۔۔۔۔ لڑکیوں سے بات کرتے ہوئے اتنا شیری لہجہ اور جب ہماری بات آئی تو منہ سے انگارے نکل رہے ہیں‘‘ شاہ کے کندھے پر ٹھوڑی لگائے اسکا ڈرامہ شروع ہوچکا تھا۔ مگر شاید شایان کو معلوم نا تھا کہ اسکا یہ مزاق باقی پلٹون کو کتنا بھاری پڑنے والا ہے۔
ریان نے اپنے غصے کو قابو کرتے ایک نظر باقی سب کو دیکھا جن کے چہرے پر دبی دبی مسکان تھی۔ مگر ایک نظر فلک کے چہرے پر پڑتے ہی مانو جیسے وہ سب بھول گیا ہوں مگر یہ وقت ان سب باتوں کا نہیں تھا۔
’’ ایوری بڈی۔۔۔ اپنا سامان اپنے سر پر اٹھاؤ اور بھاگنا شروع کردو۔‘‘ اب کی بار سب سٹودنٹس نے بنا کوئی چوں چراں کیے بات مان لی کیونکہ یہاں کے سینئرز کسی جلاد سے کم ناتھے۔
اپنا سامان سروں پر اٹھائے وہ لوگ بھاگنے لگے۔
’’کیسی ہوں؟‘‘ ایک مدھم آواز اسکے پاس سے گونجی۔ جب نظر اٹھا کر دیکھا تو ہارون اسکے برابر میں دوڑ رہا تھا۔
اس دن سکول میں ارحم والے قصے کے بعد آج انکی بات ہوئی تھی۔
’’ٹھیک ہوں۔۔۔۔ تم سناؤں‘‘ ایک نظر اسکی طرف ڈالےچہرہ پھر سامنے کیے اسنے جواب دیا۔
’’ میں تمہارے سامنے ہوں۔۔۔۔ تم بتاؤں تمہیں کیسا لگا‘‘ اسکی بات کا مسکراہ کر جواب دیتے ہوئے وہ ایک پل کو اسے چونکا گیا۔ چونک تو انکے پیچھے آتا ہوا ریان بھی گیاتھا۔ فلک کا یوں کسی اور سے فری ہونا اسے سخت ناگوار گزرا۔
’’ یوں تھرڈ رو، سیکنڈ لاست‘‘ اسنے ہارون کو روکا،جورکا تو سہی مگر اسکے ساتھ ہی خان،ملک اور فلک بھی رک گئے۔
’’بڑی پکی یاری لگتی ہے‘‘ ان تینوں کے یوں رکنے پرریان کو سخت طیش آیا، اسے سمجھ ناآیا کے آخریہ کیسا جادو تھا جو وہ ایک پل بھی فلک کو کسی اورکے ساتھ نا دیکھ پاتا۔ پیچھے کھڑے ایک سینئرکی بات ریان کو مزید سیخ پا کر گئی۔
’’وٹ از یور نیم؟‘‘ ایک نظر فلک کو دیکھتا اب وہ ہارون کے سامنے آکھڑا ہوا۔
’’ہارون۔۔۔۔ہارون شاہ‘‘۔
’’ہارون،ہارون شاہ بھئی کیا دوبار ہارون آتا ہے؟‘‘ استہزایہ انداز میں وہ گویا ہوا۔
’’فلک نے بھی تو دو بار اپنا نام لیا تھا تب تو ایسا کچھ نہیں کہا‘‘ ریان کو یوں بولتے دیکھ کر شایان کی زبان میں بھی کھجلی ہوئی، جس پر خان نے ایک نظر اسکو گھورا جو بھی تھا مگر خان کو فلک کا یوں ڈسکس کیے جانا بالکل اچھا نا لگا۔
’’واپس اینٹرینس پر جاؤ اور دوبارا دوڑ لگاؤ‘‘ ریان کی اس بات پر جہاں ایک پل کو ہارون چونکہ وہی خان اور ملک کے چہرے پر بھی حیرت در آئی مگر فلک کا چہرا بلکل سپاٹ تھا۔ ایک پل کو ریان نے اسکے چہرے کا کھوجنا چاہا مگر کچھ نا پاکر جیسے مانو پر سکون ہوگیا۔
’’تم سب کیا سٹیچو بنے کھڑے ہوں کیا تم لوگوں کو بھی دوبارہ دوڑ لگانی ہے‘‘ ان تینوں کو اپنی جگہ کھڑے دیکھ کرایک اور سینئر بولا۔
اسکی بات پر شایان نے ایک نظر آسمان کو دیکھا جو خوب گرمی برسا رہا تھا۔(اتنی گرمی میں ایک اور راؤنڈ،چھوڑ شایان دوستوں کو تو، تو بعد میں بھی منا لے گا ابھی خود کی خیر منا)۔ اس سے پہلے کے وہ مڑتا ایک اور سینئر نےاسکا اور خان کا راستہ روک لیا۔
’’ کہاں جانے کی تیاری ہے، دوست کی خاطر رک سکتے ہوں تو کچھ اپنے لیے بھی اب کرنا ہوگا‘‘۔ سینئر کے چہرے کی مسکراہٹ اسے کچھ غلط ہونے کا احساس دلا رہی تھی، جبکہ ہارون اپنی دوڑ شروع کر چکا تھا۔
’’ تم اپنی زبان باہر نکالو اور گراؤنڈ میں بھاگتے ہوئے اونچی آواز میں بولو کے میں پاگل ہوں۔‘‘شایان کی طرف انگلی کرتا وہ بولا
’’سر آپکا نام کیا ہے؟‘‘ ڈرتے ڈرتے اسنے سوال کیا۔
’’جواد‘‘ ایک پل کو تو وہ حیران ہوا اور پھر چہرے پر سنجیدگی طاری کرتے ہوئے بولا۔
’’اوکے سر اب ہم جائے‘‘ شایان کی اتنی فرمابرداری پر تو خان کو لگا کہ کہی وہ غشی کے دورے کھا کر گر ہی ناجائے۔
’’ہمم۔۔۔۔ یوں مے گو ناؤ‘‘ ہاتھ کے اشارے سے انہیں جانے کا اشارہ کرتا وہ راستے سے ہٹ گیا۔
’’مس فلک آپ بھی جایئے۔‘‘ اس قریب ہوتا ریان مسکرا کر بولا۔
’’یہ بات آپ دور رہ کر بھی کر سکتے تھے۔۔ سر‘‘ لحاظ اپنی جگہ مگر اسکا یوں قریب آنا فلک کو زرا پسند نا آیا، ایک پل کو تو ریان کو شدت سے اپنی بے عزتی محسوس ہوئی، مگر کچھ سوچتے ہوئے جب آس پاس نگاہ دوڑائی تو شرمندگی نے آن گھیرا کیونکہ سب لوگ اس وقت ان دونوں کو ہی گھور رہے تھے، جو بھی تھا مگر اسے یوں فلک کوسب کی نظروں میں نہیں لانا چاہیے تھا، اسے حقیقتا شرمندگی ہوئی آخر جو بھی تھا وہ اس ملک کا محافظ تھا اور اسے یہ شعبہ نا دیتا کہ وہ کسی بھی لڑکی کہ کریکٹر کے حوالے سے یوں غلط فہمی پیدا کرتا اوروں کی نظروں میں۔
’’ یہاں تو معملہ کچھ اور ہی لگتا ہے باس دیکھ کتنے پیار سے فلک سے بات کی جا رہی ہے‘‘۔ خان کے کندھے پر بازو رکھے وہ گویا ہوا جب ایک نظر خان کو دیکھا جس کی آنکھوں میں آگ کے گولے جل رہے تھے۔
وہ تو بھول ہی گیا تھا کہ وہ اس وقت فلک کے بھائی سے مخاطب تھا، اور من ہی من خود کو سلواتیں سنانے لگا۔
’’ میرے خیال سے ہمیں چلنا چاہیے‘‘ دانت پیستے وہ بولا۔
’’ میں بب۔۔بھ۔۔۔۔بھی تو یہی کہہ رہا ہوں چل چلے‘‘ تھوک نگلتا وہ ہکلا کر بولا ورنہ خان کا کیا بھروسا کہ ابھی اسکا کچومر بنا دیتا۔
’’سر جواد پاگل ہے، سر جواد پاگل ہے، سر جواد پاگل ہے‘‘ زبان باہر نکالے پورے گراؤنڈ میں چکر لگاتا وہ اونچی آواز میں بولا۔ جب اسکا سینئر اسکے سر پر آ کھڑا ہوا۔
’’ ہے یوں پاگل ہو کیا بکواس کر رہے ہوں‘‘۔
’’ میں نے کیا کیا سر وہی کر رہاہو جو آپ نے کرنے کو کہا تھا۔‘‘ معصومیت سے لڑکیوں کی طرح آنکھیں پٹپٹائے وہ بولا۔
’’ میں نے کہا تھا کے پورے گراؤنڈ میں چکر لگا کر کہوں میں پاگل ہوں‘‘
’’ہاتو سرمیں نےبھی وہی کیا پورے گراؤنڈ میں چکر لگاتے بولا آپ پاگل ہو‘‘
’’ یو ایدیٹ ’’میں‘‘ سے مراد تم ہو‘‘ غصے میں اپنی مٹھیاں بھینچے وہ بولا۔
’’اوپسسس مجھے لگا ’’میں‘‘ سے مراد ’’آپ‘‘ ہے‘‘ اسی ازلی معصومیت سے جواب دیا گیا۔
اب تک وہ سب تھک ہار کر گراؤنڈ میں کھڑے اپنا پھولا ہوا سانس بحال کرنے کی کوشش کر رہے تھے جب شایان کی بات نے انہیں کہکہ لگانے پر مجبور کر دیا۔
’’یوو۔۔۔‘‘
’’چھوڑ جواد اب باقی کی سیوا رات کے کھانے پر کرے گے انکی‘‘ جواد کے کچھ بولنے سے پہلے ہی ریان نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے روکا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر کار اب وہ لوگ اپنے کمروں میں آچکے تھے، ہر کمرے میں چار سٹودنٹس تھے۔
یہاں بھی ان تینوں کی خوش قسمتی کے ان تینوں کو ایک ہی کمرا ملا ان کے کمرے میں ان کے ساتھ ایک انجینئرنگ کا سٹودنٹ بھی تھا۔ وہ تینوں اپنا سامان سیٹ کر کے اب اپنے بیڈ پر آرام کی غرض سے بیٹھنے لگے تھے کے دھڑام سے دروازہ کھلا ایک پل کو تو انہیں لگا کہ سینئرز نے حملہ کر دیا ہے مگر پھر جو انہوں نے دیکھا تو حیران رہ گئے۔
آنکھوں پر چشمہ رکھے، بالوں میں تیل لگائے، شرٹ پینٹ کے اندر کیے اس پر بیلٹ لگائے اندر آنے والے کو دیکھ کر شایان کو گمان ہوا کے وہ کوئی نمونہ ہی ہوگا اور ایسا سوچتے ہوئے وہ اپنے حلیے کو تو بھول ہی چکا تھا۔
آنے والا بھی ادھر ادھر دیکھے بنا سیدھا آکر شایان سے چمٹ گیا۔
’’مجھے گھر جانا ہے یہ لوگ بہت برے ہے، مجھے نہیں رہنا یہاں‘‘ ناجانے وہ کون تھا مگر اسے یوں اس حالت میں دیکھ کر شایان کے اندر کا باپ بھی بھرپور انگڑائی لیکر جاگا۔
’’نا میرے لال نا، ایسے روتے نہیں، میں ہونا بسسس تونے نہیں رونا، تیرا باپ زندہ ہے ابھی‘‘ اسے چپ کرواتے وہ خود بھی آبدیدہ ہوگیا، اور وہ دونوں تو بس اسے دیکھ کر رہ گئے۔
’’رب نے بنا دی جوڑی۔۔۔۔۔‘‘ اسکی اس حرکت پر خان نفی میں سر ہلاتا یہی بول سکا جس کی تایئد شاہ نے بھی کی۔
اب اسکا منہ دوسرے رخ کیے ناجانے وہ اس سے کیا بات کر رہا تھا، جب ایک نظر پیچھے مڑ کر اسنے ان دونوں کو آنکھ ماری،جس کا مطلب وہ اچھی طرح سمجھ گئے۔
’’یہ تو گیا۔۔۔ اللہ اسے شایان کے آسیب سے جلد مکتی دلائے‘‘ ہارون کی بات پر وہ اور خان دونوں ہنس پڑے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’یہ میرا بیڈ ہے‘‘ وہ جو الماری میں اپنا سامان رکھ کر بیڈ ٹھیک کرنے لگی تھی ایک آواز پر اسنے سر اٹھایا اور بنا کچھ کہے اپنے لیے دوسرا بیڈ سیٹ کرنے لگی۔
’’ویسے ایک بات تو بتاؤ۔۔۔ یہ تم نے آتے ہی ایسا بھی کیا جادو کردیا، بھئی وہ سینئر تو تم پر لٹو ہی ہو گیا۔۔۔ ہمیں بھی سکھا دوں ایسے ٹرکس ہم بھی سینئرز کی پنیشمنٹ سے شاید بچ جائے‘‘ اسکی بات کا جواب نا پاکر وہ دوبارا بولی مگر دوسری طرف سے ویسے ہی خاموشی پاکر ااسے چڑہونے لگی۔
’’تم خود کو سمجھتی کیا ہو؟‘‘ ایک جھٹکے سے اسکی کلئی مروڑتے اسے اپنی طرف کرتے وہ بولی۔
’’آئندہ مجھے ہاتھ مت لگانا‘‘ اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے چھڑواتے، اسے انگلی دکھاتے سرد لہجے میں وارن کرتی وہ دوبارہ اپنی بیڈ درست کرنے لگی۔
’’تم جانتی بھی ہو کہ میں کون ہوں؟‘‘ اپنی بے عزتی برداشت نا کرتے ہوئے دھیمی آواز میں وہ دھیمی آواز میں غرا کر بولی، مگر ہر بار کی طرح اس بار بھی جواب خاموشی تھا۔
’’میں بریگیڈئر رؤف عثمان کی بیٹی صبا ہوں‘‘ اب کی بار اسکے ہونٹوں پر چڑانے والی مسکراہٹ تھی وہ فلک کو ایک سویلین کیڈیٹ سمجھتی اس پر اپنا روعب جھاڑنا چاہتی تھی مگر صبا نامی اس بلا نے شاید غلط جگہ سر پھوڑنے کی کوشش کی کیونکہ فلک نے اس بات کا کوئی نوٹس نہیں لیا،البتہ وہ بڑے انہماک سے کسی کتاب کا مطالعہ کرنے میں مصروف تھی۔ اور صبا کو تو معنوں آگ لگ گئی کیونکہ اسے معلوم نا تھا کہ فلک تو وہ شہ ہے کو جودن میں بھی انسان کو رات کا نظارا کروادے۔
’’ڈنر کا ٹائم ہوگیا ہے جلدی آجاؤ ورنہ پنیشمنٹ ملے گا، اینڈ آئی ہوپ سو کے بریگیڈئیر کی بیٹی ہو نے کے ناطے اتنا تو تمہیں پتا ہوگا نا‘‘ یہ وہ الفاظ تھے جواس عرصےمیں پہلی بار اسکی زبان نے ادا کیے تھے، وہ کہہ کر رکی نہیں اور فورا وہاں سے چل دی، مگر جو آگ وہ پیچھے لگا چکی تھی اس سے انجان ہوتے ہوئے بھی وہ ناانجان ہوگئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس وقت وہ سب خاموشی سے کھانا کھا رہے تھے اور ساتھ ہی ساتھ خدا کا شکر بھی ادا کررہے تھے کہ سینئرز نے ابھی تک کچھ نہیں کہا تھا، مگر بکری کی ماں کب تک خیر منائے گی!!!!!!
’’ہینڈز ڈاؤن‘‘ سینئرز کا ایک ٹولہ انکے سر پر آپہنچا۔
’’ویلکم کیڈیٹس آج چونکہ آپ لوگوں کا پہلا دن ہے تو کیوں نا آپ کو ایک ویلکم ڈرنک پلائی جائے‘‘مسکراتے ہوئے وہ بولے۔ جو نئے تھے ان کے چہروں پر تو مسکان در آئی مگر جو اس سپیشل ڈرنک سے آشنا تھے انکے تو چہروں کا رنگ اڑ چکا تھا۔
ان کی بار بھی وہی چاروں پھنسے تھے مگر اس بار انکے ساتھ صبا اور عادل بھی تھے۔
عادل ان تینوں کا روم میٹ تھا۔
بلآخر سپیشل ڈرنک بنا کر ان کے سامنے رکھی گئی جسکا گلاس ٹیبل پر موجود ہر ڈش سے بھرا گیا تھا۔
دل پر پتھر رکھتے ہوئے ان سب نے ایک ہی سانس میں گلاس خالی کر دیا۔
اب سینئرز ہر ایک کے چہرے کے تاثرات جانچنے کی کوشش کر رہے تھے۔
فلک اور دلاور کا چہرہ بالکل سپاٹ تھا، جبکہ ہارون اور صبا نے اپنے چہروں کو نارمل رکھنے کی بھرپور کوششکی تھی۔
ان کی نصبت شایان اور عادل تو مرنے کے مقام پر پہنچ چکے تھے، مگر اس وقت سینئرز کے سامنے کچھ بھی بول کر وہ اپنی شامت نہیں لانا چاہتے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’یار یہ ائرفورس کے نام پر کس جہنم میں پھنس گیا ہوں میں‘‘ اب کے وہ لوگ اپنے کمرے میں آچکے تھے اور شایان کی دھایئاں عروج پر تھی۔
’’شکر مناؤں کہ تمہیں کھانے کو مل گیا ورنہ بہت سے کیڈیٹس کو کچھ کھانے کو بھی نہیں ملتا‘‘ بیڈ پر بیٹھا جوتے اتارتا ہارون اس سے بولا۔
اورشایان وہ تو بس اب آنے والے وقت کو لیکر دعایئں ہی کر سکتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
