Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Udaan by Qanita Khadija Episode02

Udaan by Qanita Khadija Episode02

گاڑی اپنی تیز رفتار میں ہسپتال کی حدود میں داخل ہوئی۔نتاشہ بیگم نے ایک نظر اپنے ساتھ بیٹھے ہمسفر کو دیکھا جن کا چہرہ کسی بھی جذبے سے عارے تھی مگر آنکھوں میں موجود فلک کےلیے فکر انہیں فکرمند کیے جا رہی تھی وہ کسی بھی طریقے سے فلک کو اپنے شوہر کے قریب ہوتا نہیں دیکھ سکتی تھی،انکے شوہر پر صرف انکا اور انکی اولاد کا حق تھا۔اور اپنے شوہر کوفلک کے لیے فکر مند دیکھنا انہیں اس پندرہ سالہ بچی سے مزید نفرت میں مبتلا کر دیتی۔
اکمل خان گاڑی پارک کیے بنا ادھر ادھر نگاہ ڈْالے تیزی سے اندر کی طرف بڑھے،نتاشہ بیگم بھی بنا کچھ کہے انکے پیچھے چل دی،فلک سے جتنی مرضی نفرت سہی مگر یہ وقت خاموش رہنے کا تھا۔
ریسپشن نے روم نمبر پوچھ کر وہ فورا اسکے کمرے کی طرف بڑھے،کمرے میں داخل ہوتے ہی انکی آنکھیں نم ہوگئی،وہ سامنے بستر پر آنکھیں موندے لیٹی تھی،سر پر پٹی اور بازو پر پلستر چڑھا ہوا تھا۔
’’میری بچی‘‘یہ کہتے ہی وہ اسکی طرف لپکے اور سر پر بوسہ دیا۔
اچانک کمرے کا دروازہ کھلا اور رخسانہ بیگم اندر آئی مگرسامنے کا نظارہ دیکھ کر انکے پیر وہی جم گئے،دروازہ کھلنے کی آواز پر اکمل خان نے نظر اٹھا کر دیکھا اور سامنے کھڑی ہستی کو دیکھ کر آنکھوں میں نفرت در آئی جسے چھپانے کی کوشش بھی نا کی،اکمل خان کی آنکھوں میں موجود نفرت دیکھ کر جہاں رخسانہ بیگم کی نظریں جھک گئی وہی نتاشہ بیگم کو اپنے دل میں ٹھنڈک اترتی محسوس ہوئی۔اس سے پہلے کہ وہ اپنی آنکھوں میں موجود نفرت کو زبان سے بیان کر سکتےانہیں اپنے ہاتھ میں موجود فلک کا ہاتھ ہلتا محسوس ہوا۔
’’اماں۔۔۔اماں‘‘ہولے سے آنکھیں کھولتے اسنے اپنے ارد گرد دیکھنا چاہا،پاس بیٹھے شخص کو دیکھ کر اسکی آنکھوں میں ناگواری در آئی جسے چھپانے کی اسنے ذرا کوشش نا کی۔
اگر وہ اکمل خان تھے تو وہ بھی فلک خان تھی،اپنے دل کا حال آنکھوں سے بیان کردینے والی اور اس وقت اسکی آنکھوں میں موجود ناگواری اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اسے انکا آنا زرا پسند نہی آیا۔
’’فلک میری بچی میری جان کیسی ہوں۔۔۔میرا بیٹا طبیت کیسی ہے اب آپکی؟‘‘فلک کی آنکھوں میں ناگواری محسوس کرتے نتاشہ بیگم فورا اسکی طرف لپکی،آخر کو یہی تو وقت تھا جب وہ اکمل خان کی نظروں میں ان ماں بیٹی کو مزید گرا سکتی تھی،اور یہی ہوا انکی آواز سنتے ہی فلک نے منہ دوسرے طرف موڑ لیا۔
فلک کی اس حرکت پر اکمل خان نے ایک غصے والی نظر رخسانہ بیگم پر ڈالی اور دوبارا فلک کی طرف متوجہ ہوئے۔
’’فلک بیٹا یہ کیا حرکت ہے،چھوٹی ماما نے کچھ پوچھا ہے نا جواب دو انہیں‘‘اکمل خان کا لہجہ نرم مگر تنبیہ زدہ تھا۔
’’چھوڑے نا اکمل بچی ابھی تو نیند سے جاگی بات کرنے کا موڈ نہی ہوگا‘‘مٹھاس بھرے لہجے میں نتاشہ بیگم ان کے شانے پر ہاتھ رکھ کر بولی۔
’’نہی بیگم اگر آج ہم اپنے بچوں کی غلطیوں پر اانہیں نہی ٹوکے گے تو کل یہی غلطیاں ہمارے سامنے آکھڑی ہوگی،لیکن شاید سب کے نصیب میں آپ جیسی ماں نہی ہوتی جو بچوں کو اچھے برے کی تمیز سکھا سکے‘‘اپنے کندھے پر موجود نتاشہ بیگم کے ہاتھ پر دباؤ ڈالتے وہ گویا ہوامگر رخسانہ بیگم پر حقارت بھری نظر ڈالنا ا بھولے۔
انکی اس بات پر جہاں رخسانہ بیگم شرمندہ ہوئی وہی فلک کی آنکھوں میں بھی موٹے موٹے آنسوں در آئے،بہت سے سوالوں نے سر اٹھایا مگر وہ اسوقت کسی قسم کی باز پرس میں ملوث نہی ہونا چاہتی تھی۔
’’ اماں میرے سر میں درد ہورہا ہے،آپ سب کو باہر بھیج دے‘‘
نتاشہ بیگم تو اسکے اس انداز پر جل کر رہ گئی،جب کے اکمل خان نے فکرمندی سے اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھا
’’کیا ہوا میری جان زیادہ درد ہے؟‘‘اکمل خان کی اس بات پر آخر کار اسکا ضبط ٹوٹ کیا۔
’’میں نے کہا نا باہر جائے تو پلیز جائے مجھے کسی جھوٹی ہمدردی کی ضرورت نہی‘‘تلخی سے انکا ہاتھ جھٹکتے ہوئے وہ گویا ہوئی اور اکمل خان وہ تو اسکی اس حرکت پر ششد رہ گئے،حیران تو نتاشہ اور رخسانہ بیگم بھی رہ گئی تھی،مگر جتنی خوشی اس وقت نتاشہ بیگم نے محسوس کی تھی اسکا اندازہ بھی کوئی نہی لگا سکتا تھا،جو وہ اتنے برسوں سے نا کرسکی وہ فلک نو آج خود کر دکھایا تھا،انہیں یقین تھا کہ فلک کے اس رد عمل نے ضرور اکمل خان کوتکلیف دی ہوگی اور اب تو وہ یقیننا اس سے متنفر ہو گئے ہو گے۔
’’نتاشہ بیگم فورا چلو یہاں سے‘‘فلک کی اس حرکت نے انہیں بہت تکلیف دی تھی اور اب ایک پل بھی وہاں رکنا وہ اپنے لیے گناہ سمجھتے تھے۔
وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکلے جب رخسانہ بیگم انکے پیچھے لپکی۔
’’سائیں میری بات سنے سائیں وہ بچی ہے معاف کردے اسے میں سمجھاؤ گی اسے‘‘
’’بس کردو رخسانہ بس کردومیں بے وقوف نہی ہو جو یہ نا سمجھ سکوں کہ سب کچھ تمھارہ پڑھایا ہوا ہے ورنہ میری بیٹی کبھی مجھسے ایسےبات نا کرتی‘‘کوریڈور میں کھڑے وہ اونچی آواز میں رخسانہ بیگم پر چلا رہے تھے،اور بیٹی ہاں وہ انکی بیٹی تھہ انکا اپنا خون مگر ایک ان چاہی بیوی سے۔
اس وقت چلاتے ہوئے کوئی بھی یہ بات ماننے سے انکار کر دیتا کہ وہ آرمی میں ایک اونچا مقام رکھتے ہیں۔
آس پاس کے لوگ بھی تماشہ دیکھنے رک گئے اور نتاشہ بیگم تو پہلے ہی اس سب سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتے ہسپتال کی انتظامیہ نے انہیں شور نا ڈٓالنے اور وہاں سے جانے کا کہا،جاتے جاتے بھی وہ نفرت بھری نگاہ ڈالنا نا بھولے،موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نتاشہ بیگم نے بھی انکے بازو پر ہاتھ رکھا اور ایک نظر رخسانہ بیگم کو دیکھا اور اشاروں ہی اشاروں میں ان پر انکی حیثیت ایک بار پھر واضع کردی۔
رخسانہ نے اپنے آنسؤوں کو اندر اتارا اور ایک ہارے ہوئے جواری کی طرح کمرے کی طرف چل دی،جہاں سامنے فلک آنکھوں میں شکایت اور آنسولیے انہے دیکھ کر رخ موڑ گئی،وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی اسکی طرف آئی اور صوفہ پر جا بیٹھی
ْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْ
جمال خان جدی پشتی رئیس زادے تھے،مفسرہ انکی بیوی انکے تایا کی بیٹی تھی،انکے خاندان میں باہر شادی کرنے کی اجازت نا تھی،انکے تتن بیٹے تھے جمیل خان،اکبر خان اور اکمل خان،یوں تو انکا گھرانہ خوشحال تھا مگر صرف وہی عورت خوش رہ سکتی تھی جو اولاد کی صورت میں بیٹا دے،کہنے کو توجمال خان بہت نیک دل اور پر خلوص انسان تھے مگر وہ بیٹیوں سے سخت نفرت کرتے تھے انکے نزدیک کسی اونچی پگڑی والے کے گھر بیٹی ہونا اسکے لیے شرمندگی کا سبب تھا اسی وجہ سے انہوں نے اپنی تیسری اولاد جو کہ ایک لڑکی اسکا وجود اسکی ماں کی کوکھ میں ہی ختم کردیااور مفسرہ تو اپنے شوہر کے ظلم کے آگے کچھ بول نا سکی مگر وہ روزانہ رات کو خوب روتی جس کا علم انکے شوہر کو ہو نا ہو مگر بڑے دونوں بیٹوں کو تھا
سب سے آخر میں مفسرہ نے اکمل خان کو جنم دیا اپنے تینوں بھائیوں میں وہ سب سے خوبرو تھے ان میں بھی اپنے باپ کی طرح ہی ضدی اور انا پرست،اکمل خان کو بچپن سے ہی آرمی میں جانے کا شوق تھا اور اپنی خواہش کو انہوں نے پورا بھی کیا،انہوں نے آرمی میں بھی اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑھے،انکی پریسنیلٹی پر لاکھوں لڑکیاں فدا تھی مگر دل تک کا راستہ صرف نتاشہ نے طے کیا جو خود ایک بریگیڈیر کی بیٹی تھی۔انکی محبت کی داستان ہر جگہ مشہور تھی۔
انکی زندگی میں اصک طوفان تو تب آیا جب انہیں اس بات کا علم ہوا کہ انکا رشتہ انکی پھوپھی زاد رخسانہ سے طے ہے توانہوں نے کسی بھی طور اس کم شکل اور کن تعلیم عورت کو اپنےمیعار پر پورا اترتانا پایا اور جب باپ کے سامنے نسر اٹھایا تو جایئداد سے عاق کرنے کی دھمکی کام کر گئی،یوں رخسانہ انکی زندگی میں شامل ہو گئی وہ ہر روز اسے ازیت دیتے مگر وہ بھی صبر کے میدے سے گوندھی تھی برداشت کرتی رہی۔
انکی زندگی بہار تب آئی جب انہیں ماں بننے کا درجہ ملا،اس دوران اکمل کا رویہ بھی ان کے ساتھ ٹھیک ہو گیا ویسے بھی شادی کے بعد پوسٹنگ کی صورت میں وہ نتاشہ سے کانٹیکٹ میں نا رہے،اکمل خان کو باپ بننے کی بہت خوشی تھی مگر زندگی نے دوبارہ پہلی محبت کو سامنے لا کھڑا کیا اور جو محبت سو چکی تھی وہ دوبارہ سے ابھری،اکمل خان کو بیٹا چاہیے تھا،مگر رپورٹس کے مطابق انکی بیٹی تھی،اسی بات کو وجہ بنا کر انہوں نے نتاشہ سے شادی کرلی اور شہر شفت ہوگئے،اور رخسانہ کی زندگی میں آئی بہار بس چند دن کی رہی اور پھر نتاشہ بیگم کی طرف سے خوشخبری وہ بھی بیٹے کو صورت میں مزید انکے اور اکمل کے رشتے کو کمزور کر دیا،ایسے میں جمیل خان اور انکی بیوی نے ہی آگے بڑھ کر رخسانہ کو سنبھالا اور فلک کو ماں باپ کا پیار دیا،مگر یہ محبت بھی فلک کے دل میں اپنے باپ کے لیے پلتی نفرت کو کم نا کر سکی،دوسری طرف نتاشہ بیگم نے بھی اکمل کورخسانہ سے بدگمان کرنا شروع کردیا جس میں وہ بہت حد تک کامیاب رہی،اکمل خان جب بھی حویلی جاتے تو رخسانہ بیگم کونظر انداز کر دیتے،بیٹے کی جتنی مرضی خواہش سہی مگر فلک انکی پہلی اولاد تھی اور انہیں اس سے محبت بھی شروع شروع میں تو فلک انکے پاس خووشی خوشی جاتی مگر وقت کے ساتھ ساتھ اپنے باپ کا رویہ اپنی ماں کے ساتھ دیکھ کر وہ کھینچی کھینچی سی رہنے لگی،اور ویسے بھی وہ اپنی عمر کے بچوں کے مقابلے میں زیادہ ہوشیار تھی،اسکا یوں کھینچا رہنا اکمل خان سے پوشیدہ نا رہ سکا مگر اسکا زمے دار بھی رخسانہ کو سمجھتے ہوئے وہ انسے مزید متنفر ہو گئے۔
فلک کی پیدائش کے تین ماہ بعد ہی نتاشہ بیگم کی کوکھ سے انکے بیٹے نے جنم لیا جسکو گھر میں سب چھوٹے خان کے نام سے بلاتے تھے۔
فلک ایک ہوشیار اور تیز بچی تھی وہ ہر چیز چاہے کھیل ہو یا پڑھائی میں خان کو مات دے دیتی یہی وجہ تھی کہ نتاشہ بیگم نے خان کو اس سے آگے کرنے کی جی توڑ کوشش کی اور اس کے سامنے فلک کی صلاحیتوں کا زکر اس انداز میں کرتی کہ وہ فلک سے نفرت کرنے لگ گیا،جسکا اندازہ فلک کو باخوبی تھی۔
مگر خان اس بات سے لاعلم تھا کہ اسکی ماں یہ سب صرف شوہر کی نظرمیں خود کو اچھا ثابت کرنے کے لیے کرتی ہے،اور نتاشہ بیگم کو اس بات کا علم نا تھا کہ انکا بیٹا نفرت میں اس مقام تک پہنچ چکا ہے،جہاں وہ فلک نامی وجود سے چھٹکارا پانے کے لیے کسی بھی حد سے بھی گزر سکتاہے،دن رات کا فلک نامہ اسے سائیکو بنا رہا تھا،ایسے میں اگر اچھے دوستوں کا ساتھ نا ملتا تو یقیننا اب تک وہ کچھ غلط کر چکا ہوتا،مگر دونوں کی نفرت کا نشانہ صرف ایک وجود تھا۔۔فلک خان جو انکے احساسات سے باخوبی واقف تھی۔
ْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْ
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *