Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Udaan by Qanita Khadija Episode04

Udaan by Qanita Khadija Episode04

اسے ہسپتال میں مزید ایک ہفتہ رکھا گیا تھا۔پیچھلے ایک ہفتے میں وہ بہت کم گو ہوگئی تھی جس کی وجہ اماں اور تایا سرکار نے اسکی خراب طبیعت کو سمجھا،مگر اسکے اندر جو جنگ چھڑچکی تھی اس سے ہر کوئی انجان تھا،اس ایک ہفتے میں اپنوں کے اصل رنگ اسکے سامنے واضع ہوئے تھے،اماں تایا سرکار اور بی ماں کے علاوہ کسی نے اس آکر ملنا تو دور کی بات فون پر اطلاع لینا بھی ضروری نا سمجھا۔اکمل خان نے بھی ایک ہفتے سے کوئی رابطہ نا کیا۔ ہر کوئی اپنی اپنی زندگی میں مصروف تھا،ہر کوئی پر سکون تھا سوائے دو نفوس کے۔ جہاں ایک طرف فلک اپنوں کے حقیقی رنگ دیکھ کر ایک فیصلہ کر چکی تھی، وہی دوسری طرف شاہ تھا جس نے ہر ممکنہ طریقے سے خان کو منانے کی کوشش کی تھی مگر وہ اسکی سنتا تو نا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج صبح ہی اسے ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا تھا،اسے حویلی آئے رات ہوگئی تھی مگر چھوٹے تایا کی فیملی میں سے کوئی بھی اس سے آکر نا ملا تھا اور نا ہی اسنے ایسی کوئی خواہش کی تھی، رات کے نو بج رہے تھے جب اسکے کمرے کا دروازہ کھلا۔
’’اماں اس وقت مجھے تنگ نا کرے مجھے واقعی بھوک نہیں ہے‘‘اسے لگا اماں ہوگی کھانے پر بلانے کے لیے کیونکہ جب سے وہ واپس آئی تھی ایک نوالہ ہلق سے نا اتارا تھا اور اب بھی موڈ نا تھا۔ کوئی جواب نا پا کر اسنے دروازے کی طرف دیکھا جہاں اسکی چھوٹی تائی اور انکی نکمی اولادیں کھڑی تھی (یہ فلک اور خان کی مشترکہ سوچ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔چلو کسی بات پر تو دونوں بہن بھائی متفق ہوئے!!!!!) اسکے چہرے پر حیرانگی در آئی مگر جب پیچھے چھوٹے تایا کو کھڑا پایا تو سمجھ میں آیاکہ ضرور انکے اصرار پر یہ ٹولا اس وقت یہاں اسکے کمرے میں برجمان تھا۔
’’فلک میرا پتر کیسا ہے تو۔۔اور یہ کیا کروا لیا میرے بیٹے نے‘‘ چھوٹے تایا نے محبت بھرے لہجے میں بیڈ پر اسکے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا،جس پر وہ مسکراہ کر رہ گئی (ایک اصل مسکراہٹ)، تایا سرکار، بی ماں اور اماں کے بعد چھوٹے تایا ہی تو تھے اس سے مخلص۔
’’بلکل ٹھیک تایا ابو آپ بتائے آپ کا سفر کیسا رہا!!‘‘اشارہ انکے سفری دورے کی طرف تھا جن پر وہ چند دن پہلے ملک سے باہر گئے تھے۔
’’میں ٹھیک میرا بچا،لیکن تمنے یہ اپنی کیا حالت بنا لی ہے‘‘ لہجے میں فکر سموئے وہ پوچھ رہے تھے،جبکہ تائی اور انکے دو نکمے یہ ساری کاروائی دیکھ دیکھ ٹیڑا منہ بنا رہے تھے جب اچانک چھوٹے تایا نے چھوٹی تائی کو متوجہ کیا۔
’’ارے سفینہ وہاں صوفہ پر کیا بیٹھی ہوں،فلک کو نہیں پوچھو گی‘‘
’’کیسی ہوں فلک؟‘‘ اکبر خان کی بات پر انہوں نے مارے بندھے پوچھ ہی لیا۔مگر فلک کے جواب نے تو انکے اوسان خطا کر دیے۔
’’ویسی تو بلکل نہیں ہوں جیسا آپ چاہتی تھی‘‘فلک کی اس بات پر جہاں اکبر خان چونکے وہی سفینہ بیگم کا رنگ فق ہو گیا۔ اور فلک اسے تو سہی موقعہ ملا تھا بدلے چکانے کا۔
’’کیا مطلب میں سمجھا نہیں آپ کی بات بیٹا؟‘‘اکبر خان نے حیرانگی سے پوچھا، اور سفینہ بیگم انہیں تو سمجھ ہی نہی آرہا تھا کہ وہ کیا کرے، ایک پل کو تو دل چاہا کہ اس کالی بلی کا گلہ دبا دے جس کے چہرے کی مسکان انہیں بے چین کیے ہوئے تھی۔
’’وہ تایا ابا میرا مطلب تائی ماں مجھے ہٹا کٹا دیکھنا چاہتی تھی لیکن میں‘‘چہرے ہر معصومیت سجائے،آنکھیں پٹ پٹایئں وہ بولی تو اکبر خان کو اس پر اچانک بے اختیار پیار آیا اور انہوں نے اسکی پیشانی چوم لی۔
’’میرا بیٹا‘‘ اسکے شانے کے گرد بازو پھیلائے اپنے ساتھ لگائے اب وہ اس سے باتوں میں مگن تھے۔
اپنے شوہر کو یوں پرائی اولاد کےلاڈ اٹھاتے ہوئے دیکھ کر انکے سینے پر سانپ لوٹنے لگے۔
’’سہی کہتی ہے بھابھی بیگم یہ فلک اور اسکی ماں دونوں بلائیں ہیں، رخسانہ بھابھی اپنا گھر تو بسا نا پائی اور اب میرے گھر کا چین و سکون لوٹنے پر آئی، ڈھیٹ مرتی بھی تو نہی ہے، اف مصیبت کیا تھا جو خدا اس فلک کی جگہ کسی فہد کو ہی بھیج دیتا‘‘۔ اپنی سوچوں میں کڑھتے ہوئے انکی نظر اپنے شوہر اور اس حرافہ کی طرف گئی جو اب بھی لاڈ اٹھوانے میں مصروف تھی، پھر ایک نظر اپنی اولاد کو دیکھا جو ہر چیز سے بے نیازاپنے ٹکر ٹکر مطلب کے موبائل میں مصروف تھی، جنہیں دیکھ کر انہیں پھر سے غصہ آگیا اور انکی طبیعت بعد میں سہی کرنےکاسوچتے ہوئے اپنے شوہر کی جانب متوجہ ہوئی۔
’’اکبر اب بس بھی کرے بچی کو آرام کرنے دے تھک گئی ہوگی بیچارررری‘‘ لہجے میں فکر سموئے، بیچاری پر زور ڈالتے ہوئے وہ بولی۔
’’ہاں بھئی وقت تو بہت ہو گیا ہے‘‘گھڑی کی طرف ایک نگاہ ڈالے،اسکے ماتھے پر بوسہ دیے وہ کمرے سے باہر چل دیے پیچھے انکی پلٹون بھی۔
’’ویسے تائی میں نے ہسپتال میں آپکا اتنا انتظار کیا،مگر نا آپ آئی اور نا ہی آپ کی کال،اور تو اور جبران اور زرش بھی نہیں آیئں‘‘چہرے پر وہی ازلی معصومیت، آنکھوں میں شرارت سموئے وہ بولی۔ اسکی اس بات پر جہاں اکبر خان کے ماتھے پر بل پڑے، وہی سفینہ بیگم کا سانس گلے میں اٹک گیا، اور یہی حال جبران اور زرش کا بھی تھا، جبکہ کہنے والی تو کہہ کر اب نئے ڈرامے کے انتظار میں تھی،جوکہ کچھ منٹ بعد نیچے تایا ابا کے پورشن میں لگنے والا تھا۔ایک اہم کارنامہ سر انجام دینے کے بعد اب وہ پرسکون سی آنکھیں موندگئی مگر ساتھ ہی بہت سے لوگوں کا سکون بھی غارت کر گئی۔
اکبر خان نے ایک غصیلی نگاہ اپنی بیگم اور بچوں پر ڈالی،انکا لہجہ خطرناک حد تک سنجیدہ تھا، جس کا سفینہ بیگم صرف ایک مقصد اخذ کر پائی تھی انکی بے عزتی۔
ایک نظر اس کالی بلی پرڈٓالے اپنے ماتھے پر آئے ٹھنڈے پسینے صاف کرتی وہ اکبر خان کے پیچھے ہولی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد نیچے سے آوازے آنا شروع ہوگئی جس کا مطلب سمجھتے ہوئے ایک پر سکون سی مسکراہٹ اسکے چہرے پر آئی اور اب کے وہ سائڈ لیمپ اوف کرتی وہ نیند کی آغوش میں سما گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’روٹھے ہو تم، تم کو کیسے مناؤں پیا،بولونا،بولونااااا‘‘۔ سر پر ڈوپٹا سجائے خان کی تھوڑی سے لگے،وہ اس روٹھے پیا کو منانے میں مصروف تھا، مگر روٹھے پیا نے نہایت بے دردی سے اسے جھٹکا دیا، مگر وہ پھر بھی ڈھیٹ بندروں کی طرح اس سے چمٹا رہا۔
’’اجی سنتے ہوں،اس غصے کی وجہ تو بتا دیجیے میرے سر کے سایئں‘‘ کندھے پر ہنوز تھوڑی ٹکائے وہ نہایت لاڈ سے پوچھ رہا تھا۔ مگر دوسری طرف نو لفٹ کا بوڑد لگا تھا،لیکن وہ بھی اپنے نام کا ایک تھا ہار ماننا تو اسنے بھی نا سیکھا تھا۔
کبھی وہ خان کی تھوڑی ہلاتا،تو کبھی حسیناؤں کی طرح بالوں میں ہاتھ پھیرتا،تو کبھی اسکی ہلکی ہلکی داڑھی پر ہاتھ پھیرتا، مگر اب تو حد ہوگئی کیونکہ اب وہ اسکی داڑھی پر اپنے ہاتھ کی جگہ لب رکھ چکا تھا،اور یہی خان کی برداشت جواب دے گئی۔
’’کیا بد تمیزی ہے یہ!!!‘‘ اسے خود سے پرے دھکیلتا وہ غصے سے بولا، مگر سامنے والا تو اخیر دھیٹ نکلا۔
’’شکر ہے سرتاج آپ نے اس کنیز کو بات کے قابل تو سمجھا‘‘ڈوپٹا منہ کے کونے میں دبائے وہ آنکھیں پٹ پٹا کر بولا۔جس پر خان صرف آنکھیں گھما کر رہ گئے۔
’’ہوگئی تیری ڈرامے بازی، اب جا مجھے پڑھنا ہے تنگ نا کر‘‘ خان کو کسی بھی صورت مانتا نا دیکھ کر اب وہ بھی سنیجدگی سے اسے دیکھنے لگا جو کتابیں کھولے پڑھنے میں مصروف تھا۔
’’خان اب غصہ تھوک بھی دے یار ایک ہفتہ ہونے کو آیا ہے مگرنا تو اپنی انا سے پیچھے ہٹ رہا ہے اور نا ہی شاہ،یار کیوں ایک چھوٹی سی بات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’چھوٹی، چھوٹی سی بات نہیں ہے یہ اسنے اس لڑکی کو مجھ پر فوقیت دی، اس تھرڈ پرسن کو اپنے بیسٹ فرینڈ پر ترجیح دی اسنے، وہ کہتا ہے کہ میں غلط ہوں۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے میں غلط ہوں نا تو کیوں کی مجھ سے دوستی، رکھے اپنی دوستی اپنے پاس مجھے کسی احسان کی ضرورت نہیں‘‘ یہ کہتے ہی وہ دوبارہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گیا۔
’’مگر خان!!!‘‘‘
’’بسس‘‘ وہ جو کچھ کہنے والا تھا اسکے ہاتھ اٹھا کرٹوکنے پر لب بھینچ کر رہ گیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اب خان کسی کی نہیں سنے گا، اور بنا کچھ کہے وہاں سے چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’یار وہ بہت زیادہ بد گمان ہو گیا ہے تجھسے، میری بھی نہیں سنی اسنے‘‘۔ اس وقت وہ دونوں اپنا پیریڈ بنک کرکے کینٹین میں بیٹھے تھے۔
’’مجھے تو سمجھ نہی آرہی کہ کیا کروں۔۔۔ایک تواسنے ہر جگہ سے بلاک کیا ہوا ہے اگر سکول میں بات کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو اگنور۔۔۔۔‘‘ سر ہاتھوں میں گرائے وہ اس وقت شدید پریشان تھا۔
’’ویسے شاہ ایک بات کہوں‘‘ اسے یوں پریشان دیکھ کر اسنے کہا۔
’’ یار تو خان کو اسکے حال پر چھوڑ دے مطلب کے دیکھ وہ اسکا فیملی میٹر ہے تو اسکی وجہ سے اپنی اور اسکی دوستی خراب نا کر‘‘ اسے اپنی طرف دیکھتا پا کر وہ بولا۔
’’مگر یاروہ غلط ہے ہم اسکے دوست ہیں ہمیں اسے سمجھانا چاہیے نا کے غلط مین اسکا ساتھ دینا چاہیے‘‘
’’ تو سہی کہ رہا ہے مگر ہم اچانک اسے پریشرائز نہیں کر سکتے اور اسے سمجھانے کے لیے اسکا ہمارے ساتھ ہونا ضروری ہے ویسے بھی آج کل اسکا ارحم کے گروپ کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہو گیا ہے اور تو جانتا ہےنا کہ وہ کیسا ہے,!!!!‘‘ آرام سے بات کرتے ہوئے وہ شاہ کو سمجھا رہا تھا جس کے چہرے سے صاف ظاہر تھا کہ وہ بات سمجھ رہا تھا
’’مگر ملک‘‘
’’شششش‘‘ اسکے کچھ بولنے سے پہلے ہے ملک نے اسنے چپ کروا دیا تھا۔
یہ تین دوستوں کا گروپ تھا جس میں خان،شاہ اور ملک تھے، صرف وہی تینوں تھے جو ایک دوسرے کو یوں بلاتے تھے کیونکہ باقی سب انہیں انکے اصل نام سے بلاتے تھے، مگر یہاں بھی ایک ایسا وجود تھا جو انہیں انکے اصل نام کی بجائے خان،شاہ اور ملک کہہ کر بلاتا تھا، جو کوئی اور نہیں بلکہ فلک تھی، فلک ان تینوں کے ساتھ بچپن سے ایک ہی سکول میں پڑھتی آئی تھی، وقت کے ساتھ ساتھ شاہ اور ملک کی فلک کے ساتھ اچھی دوستی ہوگئی تھی مگر خان کی وجہ سے انہوں نے اس دوستی کو چھپا کر رکھا ہوا تھا۔ وہ ابھی تک اکٹھے ایک ہی سکول میں زیر تعلیم تھے اور یوں انکی دوستی مزید گہری ہو چجی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملک کے سمجھانے کے بعد شاہ نے بہت کوشش کی خان سے بات کرنے کی مگر وہ تو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتا۔
آج پندرہ دن بعد وہ سکول آئی تھی، جب اسکا سامنا ارحم کے گروپ سے ہوا تھا۔
’’دیکھو بھئی کون آیا لوگوں کے گھر خراب کرنے والی بلا‘‘ جملہ ارحم نے کسا تھا اور اسی پر کسا تھا۔جسے اگنور کیے وہ آگے بڑھنے لگی۔
’’ارے ارے کہاں جا رہی ہوں،زرا ہمیں بھی تو سسکھاؤ یہ ادائے۔‘‘ کہتے ہی اسنے فلک کا ہاتھ تھام لیا۔ جسے چھڑوانے کی اسنے کوشش کی مگر بے سود۔
’’ارے اتنی بھی کیا جلدی ہے ہم سے بھی دو گھڑی ہس کر مسکرا کر بات کر لیا کروں‘‘ اور ساتھ ہی اسکا ہاتھ فلک کے سکارف کی طرف بڑھا۔ جسے اس سے پہلے وہ کھینچتا ایک زوردار مکہ اس کے چہرے پر پڑا۔۔۔۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *