Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Udaan by Qanita Khadija Episode15

Udaan by Qanita Khadija Episode15

رات کا آخری پہر تھا، انہیں کل صبح ہی پنڈی ائربیس رپورٹنگ کرنی تھی مگر نیند اسکی آنکھوں سے کوسوں دور تھی،اسکے چہرے پر آج ایک الگ ہی چمک تھی، وہ اپنا یہ راز کسی کو بتانا چاہتی تھی،کوئی ایسا جسے وہ بتا سکے کہ وہ کتنی خوش تھی،آخر کار اسے وہ مل ہی گیا جس کی چاہ کی تھی اسنے، محبت پر اسکا بھی حق ہے، اسنے جسکو چاہا وہ بھی اسے چاہتا ہے یہ احساس ہی کس قدر خوبصورت تھا۔
’’افففف اگر میں کچھ اور پل ایسے ہی سوچتی رہی تو پاگل ہوجاؤ گی‘‘ خود سے بات کرتے وہ بول اٹھی۔
’’کس کو بتاؤں۔۔۔کس کو؟؟ اماں!!!! ہاں اماں، انہیں بتا سکتی ہوں میں‘‘ یہ خیال ذہن میں آتے ہی اسنے جلدی چپل پہنی اور اماں کے کمرے کی طرف بڑھ گئی، مگر اماں کو بتاؤ گی کیا یہ سوچتے ہی وہ پھر سے آج صبح ہونے والے واقع کو سوچنے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
درد سے اسکا سر پھٹا جارہا تھا، وہ لوگ جن کی خاطر اسنے اتنے خوبصورت رشتے چھوڑے تھے آج وہی اسکے دشمن بنے بیٹھے تھے، وہ اپنا درد کسی سے بیان کرنا چاہتا تھا مگر کس سے اس وقت وہ شاہ یا ملک میں سے کسی کو بھی تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا مگر پھر کون؟
’’اماں ہاں اماں کو بتاؤں گا میں، وہ ضرور سنے گی میری‘‘ یہ خیال ذہن میں آتے ہی وہ اماں کے کمرے کی طرف چل دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’فلک؟‘‘ اپنے نام کی پکار سن کر وہ پیچھے مڑی جہاں وہ دشمن جاں کھڑا تھا، وہ بی ماں کی ضد پر آج خان کے گھر ہونے والی تقریب کے لیے شاپنگ کرنے آئی تھی جہاں اسے شاہ مل گیا۔
’’تم یہاں؟‘‘ شاہ کے سوال پر اسنے اسے یوں دیکھا جیسے پوچھنا چاہ رہی ہوں کہ ’’اس بے تکے سوال کا مطلب‘‘ اور شاید وہ بھی اسکی آنکھوں میں رقم سوال پڑھ چکا تھا۔
’’اوہ سوری میں بھی کیا فضول سوال کرنے لگ گیا شاپنگ مال ہے تو یقینا تم شاپنگ کرنے آئی ہوں‘‘ جب کے اسکی بات پر وہ بس مسکراہ دی۔
’’آہ فلک کیا تم؟ ایکچولی میرا مطلب کے کیا تم میری شاپنگ میں مدد کروں گی؟ وہ دراصل مجھے کچھ خاص علم نہیں ہے میں نے ملک کو بولا تھا مگر وہ دھوکہ دے گیا‘‘ وہ جو اتنا سیریس ہوکر اسکی بات سن رہی تھی آخر میں مسکراہ دی۔
’’ضرور کیوں نہیں۔۔۔ ویسے تمہیں خریدنا کیا ہے؟‘‘ فلک کی ہاں پر وہ پرسکون ہوگیا تھا۔
’’مجھے ہم تینوں کے لے ایک جیسی شرٹس لینی ہے مگر کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے‘‘ بالوں میں ہاتھ پھیرتے وہ گویا ہوا۔
’’میں مدد ضرور کروں گی مگر ایک شرط میری بھی ہے‘‘
’’ہاں بولو؟‘‘
’’پہلے ہم مل کر میری شاپنگ کرے گے‘‘ ایک آبرو اچکا کر اسنے کہا
’’ہاں ضرور کیوں نہیں‘‘ بےچارے کی وہی مسکراہٹ مگر اسے یہ علم نا تھا کہ وہ کس کی مدد کی حامی بھر رہا تھا، اور پھر اگلے تین گھنٹے اسے واقعی میں لینے کے دینے پڑ گئے کیونکہ فلک نے بنا کچھ خریدے اسے پورا شاپنگ مال گھما دیا تھا۔
’’بس یہ آخری ہے‘‘ جیولری شاپ کے باہر رکتے ہوئے وہ گویا ہوئی اور ایک نظر اسکو دیکھا جو اپنے پھولے سانس کو نارمل رکھنے کی ناکام سی کوشش کر رہا تھا۔
’’کیا ہوا شاہ تھک گئے ہوں؟‘‘ آنکھوں میں شرارت اور لہجے میں مصنوئی فکر سمائے وہ گویا ہوئی۔
’’نہیں تو میں اور تھکن بلکل بھی نہیں، چلو چلے‘‘ بنا منہ کھولے ناک کے ذریعے لمبے لمبے سانس لیے وہ گویا ہوا اور اندر کی طرف بڑھ گیا، جبکہ پیچھے کھڑی فلک نے بامشکل ہی اپنے کہکے پر قابو پایا۔
’’ویسے ہم یہاں کیا کر رہے ہیں کیونکہ جہاں تج مجھے یاد ہے تمہیں تو جیولری کا کوئی خاص شوق نہیں‘‘
’’وہ بی ماں نے آرڈر کروایا تھا سیٹ بس وہی لینا ہے‘‘ جواب تو اسنے شاہ کو دے دیا مگر نظریں کہی اور تھی، تبھی شاہ کی نظر اس پر پڑی اور نظروں کے تعاقب میں اسنے دیکھا تو سامنے ایک ڈائمنڈ رنگ تھی شوکیس میں، فلک کو وہ انگوٹھی جتنی خوبصورت لگی شاہ کو اتنی ہی اپنی پہنچ سے دور، شاہ ایک کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتا تھا مگر وہ فلک جتنا امیر نا تھا اور نا ہی وہ اپنے باپ کی کمائی کویہ سوچ کر لوٹانے والوں میں سے تھا کہ اس پر اسی کا حق ہے۔
’’چلو بھی اب کہ یہی رہنا ہے؟‘‘ اسکو واپس ہوش میں لاتے ہوئے وہ بولا۔
’’ہاں چلو کیوں نہیں‘‘
شاہ کی شاپنگ کرنے کے بعد وہ لوگ اب پارکنگ کی طرف آگئے تھے، فلک اپنی سوچوں میں آگے ہی چل دی جبکہ وہ پیچھے کھڑا رہا۔
’’فلک‘‘ اسنے پکارا، وہ مڑی مگر اس بار اسکی پکار الگ تھا اور احساسات بھی، ایک ہاتھ پیٹھ کے پیچھے کیے وہ اب ایک عجیب کشمش میں تھا، اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کرے۔ ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے وہ لمبے قدم اٹھاتا اسکی طرف بڑھا جو کہ اب اپنی جگہ پر جمی ہوئی تھی، اور بنا کچھ کہے اسکا بائے ہاتھ کی تیسری انگلی میں وہ انگوٹھی پہنا دی، البتہ نگاہے اسکی نیچی رہی۔
’’یہ کیا کر رہےہو؟‘‘ اسنے انگوٹھی کی طرف اشارا کیا
’’وہی جومجھے کرنا چاہیے‘‘
’’جانتی ہواسکا مطلب کیا ہے؟ کہ اب تم پر میرا حق ہے‘‘ اسکے ہاتھ میں دمکتی اس انگوٹھی کو غور سے دیکھتے وہ گویا ہوا۔
’’پچاس والی انگوٹھی دے کر تم مجھ پر حق جمانے لگے ہوں‘‘ وہ ہنستے ہوئے اس سے گویا ہوئی جس پر وہ مسکراہ کر رہ گیا۔
’’انگوٹھی بھلے ہی پچاس کی ہوں، مگر اس میں چھپی کڑوڑوں جیسی میری محبت کا کوئی نعم البدل نہیں، اور حق کی بات تو مت ہی کروں فلک خان وہ تو میں شروع سےتم پر رکھتا ہوں‘‘ آنکھوں میں محبت سموئے وہ اس سے گویا ہوا۔
’’کتنی محبت کرتے ہوں مجھ سے شاہ؟‘‘ حالانکہ وہ جواب جانتی تھی مگر پھر بھی پوچھنا ضروری سمجھا۔
’’اتنی کے اگر تم ریان کو ہاں کہہ دیتی تو خوشی خوشی اپنی محبت سے دستبردار ہوجاتا‘‘ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ گویا ہوا۔ وہ اظہار کرے گا اسے معلوم تھا مگر ایسا اظہار تو کیا وہ سب جانتا تھا؟
’’ہاں میں سب جانتا ہوں‘‘ اسکی آنکھوں میں رقم سوال کو دیکھ کر وہ بول اٹھا۔
’’ویسے ایک بات کہوں اگر میری محبت کا اقرار تم ریان کی جگہ مجھ سے کرتی تو مجھے زیادہ خوشی ہوتی‘‘ اسکی اس بات پر فلک کے گال دہکنے لگے، وہ بلش کی تھی شاہ چاہتا تو اسے چھیڑتا مگر ابھی اتنا بھی حق نہیں تھا اور وہ یہ جانتا تھا۔
’’اگر دنیا نے ہم پر پہرے بٹھا دیے‘‘ اسنے اپنا اندیشہ ظاہر کیا۔
’’تو کیا ہوا میں خان کو ہم پر پہرے بٹھانے نہیں دو گا‘‘
’’میں نے دنیاکی بات کی ہے شاہ‘‘
’’اور دنیا سے مراد خان ہی ہے یہ میں اچھے سے جانتا ہوں، فکر مت کروں فلک تمہارا شاہ تمہیں کسی اور کا نہیں ہونے دے گا‘‘ اسکی فکر کم کرتے ہوئے وہ گویا ہوا۔
’’ویسے یہ پچاس کی انگوٹھی لی کہاں سے؟‘‘ ماحول کو ہلکہ پھلہ کرتی وہ بولی۔
’’پٹھانوں سے‘‘ کہتے ہی اسنے زبان دانتوں میں دبا لی کیونکہ سامنے کھڑی وہ بھی پٹھان تھی یہ تو وہ بھول ہی گیا تھا۔ اور ایک نظر اسکا چہرا دیکھا جو اب شرم کی بجائے غصے سے لال ہوچکا تھا۔
’’تم!!‘‘ وہ چیخی۔
’’اچھا قسم لے لو پورے پانچ سو کی انگوٹھی لی تھی میں نے پچاس کی تو تمہیں لگی‘‘ اپنا بچاؤ کرتے وہ بولا، اور وہاں سے بھاگ نکلا
’’ہارون شاہ تم قتل ہوگے میرے ہاتھوں‘‘ وہ اسکے پیچھے دوڑی
’’شادی سے پہلے بیوہ ہوجاؤ گی تم، اور پھر میری تصویر گلے سے لگائے روؤ گی اور کہوں گی کہ شاہ واپس آجاؤ‘‘ وہ تو مذاق میں کہہ چکا مگر اس مذاق نے فلک کو اندر تک ہلا دیا تھا۔
’’اللہ نا کرے‘‘ اپنے آنسوؤ پر ضبط کرتے وہ اتنا ہی بول سکی،جبکہ اسکی بڑبڑاہٹ سن کر شاہ کے ہونٹ پھیل گئے۔
’’سنو! آئی لو یو‘‘ اسکے کان میں بولتا وہ وہاں سے چل دیا، جبکہ وہ جو اپنے خیالوں میں غم تھی ایک دم پھر سرخ ہوگئی، اور پھر ایک بھرپور مسکراہٹ اسکے چہرے پر در آئی۔
’’لو یو ٹو ہارون شاہ، لو یو ٹو۔۔۔۔ زندگی ہوں تم میری‘‘ خود سے کہتے وہ اپنی گاڑی کی طرف چل دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے خیالوں سے باہر نکلتے ہی وہ مسکراتے ہوئے وہ اماں کے کمرے کی طرف بڑھ گئی جبکہ اندر سے آنے والی آوازوں نے اسکو وہی روک دیا اور سب کچھ سنتے ہی خود سے عہد کیے وہ وہاں سے چل دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’اماں‘‘ خان انکے کمرے میں داخل ہوا، وہ جو سونے کی تیاری میں تھی اسے اس وقت کمرے میں دیکھ کر ٹھٹکی۔
’’بچا آپ اس وقت یہاں‘‘ اور وہ بنا کچھ کہے ان بیڈ پر بٹھائے انکی گود میں سر رکھے آنکھیں موند گیا۔
’’کیا ہوا میری جان تھک گئے ہوں کیا‘‘ اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتے وہ گویا ہوئی اور اسے انکے ایسا کرنے سے ڈھیروں سکون ملا۔
’’بہت زیادہ اماں‘‘ آنکھیں بند کیے وہ بولا۔
’’اماں کیا آپ مجھے اپنا بیٹا مانتی ہے؟‘‘ اسکے سوال پر وہ چونک اٹھی جو اب انہیں دیکھنے میں مگن تھا وہ اس وقت انہیں کوئی پانچ سال کا بچا لگ رہا تھا۔
’’ہاں میری جان‘‘ پیار سے اسکا ماتھا چومتے وہ بولی۔
’’آپ مجھ سے اتنی ہی محبت کرتی ہے جتنی فلک سے؟‘‘ اگلا سوال فورا پوچھا گیا۔
’’کیا ہوا بچے ایسے سوال کیوں کر رہے ہوں؟‘‘ انہیں تشویش ہوئی
’’ اماں بتائے نا‘‘ اسنے ضد کی
’’میرے لیے تم اور فلک بلکل ایک جیسے ہو خان، جتنی عزیز مجھے وہ ہے اتنے ہی تم‘‘
’’جو کچھ بابا نے کیا اسکے باوجود بھی، آپ مجھ سے کیسے محبت کر سکتی ہے جو اس عورت کا بیٹا ہے جس نے آپ کا گھر اجاڑا‘‘ اسکے سوال پر وہ مسکراہ اٹھی۔
’’جانتے وہ خان ماں کا مطلب کیا ہوتا ہے؟‘‘
’’وہی جو آپکو پیدا کرتی ہے؟‘‘ اسکے جوان پر انہوں نے نفی میں سر ہلایا۔
’’ماں وہ نہیں ہوتی جو صرف اپنی اولاد سے محبت کرے، ماں تو وہ ہوتی ہے جو دوسروں کی اولاد سے بھی اتنی ہی محبت کرے جتنا کہ اپنی اولاد سے، ماں ہونا آسان نہیں خان، بہت تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے یہ، جانتے ہو جب ایک عورت کے وجود سے ایک نیا وجود دنیا میں آتا ہے نا تو اس وقت کہتے ہے کہ عورت کا ایک پیر زمین اور دوسرا پیر آسمان پر ہوتا ہے، اور میں نے تو یہ تکلیف سہی ہے یقینا تمہاری ماں نے بھی سہی ہوگی خان، مگر ماں کا اصل مطلب یہ نہیں کہ جو تمہیں پیدا کرے، بلکہ جو تمہیں سنبھالے، اچھے برے کا فرق سکھائے تمہیں، جو تمہیں معاشرے میں چلنے کے قابل بنائے، جس کو تکلیف ہوں جب تم تکلیف میں ہوں، جو تمہیں لوگ کیا کہے گے یہ سکھانے کی جگہ یہ سکھائے کہ غلط کیا ہے اور سہی کیا، جو تمہیں یہ نا سکھائے کے تم ایک مرد ہو تو یہ تمہارا معاشرہ ہے اور تم عورت کو دباؤ بلکہ یہ سکھائے کےیہ معاشرہ تم دونوں کا ہے اسے ساتھ مل کر چلاؤ۔ وہ دوست ہوں تمہاری، تم جھجکو مت اسے کچھ بتاتے ہوئے۔ ماں ماں ہوتی ہے خان سگی یا سوتیلی نہیں‘‘
’’ایک بات یاد رکھنا خان دنیا کا کوئی بھی رشتہ ماں،باپ، بہن، بھائی، دوست، سگے یا سوتیلے سے نہیں بنتا، ہر رشتہ دل سے بنتا ہے، جو تم سے مخلص ہے بس وہی تمہارا اپنا ہے۔۔۔۔ ورنہ باقی رہی بات ان رشتوں کی، توایک انسان دوسرے کو کس کس روپ میں دھوکہ دیتا ہے یہ صرف خدا بہتر جانتا ہے‘‘
’’اماں اگر میں آپ سے کچھ مانگوں تو دو گے مجھے؟‘‘ نجانے کیون مگر انہیں اسکی آواز بھیگی لگی۔
’’ہاں میری جان بولو‘‘ وہ پیار سے بولی۔
’’اماں مجھے تایا سرکار سے روشانے دلوا دے‘‘
’’خان!!!‘‘ اماں تو اسکی فرمائش پر حیران رہ گئی۔
’’پلیز اماں اگر آپ کو میں فلک جتنا ہی عزیز ہو تو دلوادے،میں بہت محبت کرتا ہوں اس سے ، ڈر لگتا ہے کہ کوئی اور اسے چھین نا لے‘‘
’’میری جان میں ضرور تمہاری بات کرتی مگر تمہارے والدین تمہاری منگنی کر چکے ہیں‘‘
’’نہیں مانتا میں اس رشتے کو اماں پلیز میری خاطر پلیزاماں، میں اس سے بہت محبت کرتا ہوں آپ اسے مانگ لے نا میرے لیے‘‘ وہ ضدی لہجے میں بولا۔
’’ٹھیک ہے میں بات کروں گی انسے‘‘ اسکو دلاسا دیتی وہ گویا ہوئی
’’آپ واقعی میں کرے گی نا‘‘ اسکی بات پر انہوں نے سر ہلایا جو اب پرسکون سا ہوتا انکی گود میں سر رکھے سو گیا،جبکہ رخسانہ بیگم کی تو نیندیں اڑ چکی تھی۔
’’تم روشانے ضرور ملے گی جونئیر،یہ میرا فلک خان کا تم سے وعدہ ہے‘‘ دروازے کی اوٹ میں کھڑی فلک فیصلہ کرچکی تھی، اپنے نمبر سے میسج ٹائپ کرتے، اماں سے پھر کبھی بات کرنے کا فیصلہ کیے وہ اب اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح فجر کے وقت اسکی آنکھ کھلی، سائڈ لیمپ آن کیے وہ وضو کی نیت سے واشروم میں چلی گئی، ابھی وہ سلام پھیرے دعا مانگ کر فارغ ہوئی تھی کہ اسکے موبائل کی بیپ بجی، جائےنماز تہہ کر کے اپنی جگہ پر رکھتے ہوئے اسنے موبائل پر واٹس ایپ اون کیا، جسے دیکھتے ہی اسکا چہرہ روشن ہوگیا۔
’’ملیحہ اقبال تم تو گئی‘‘ کہتے ہی وہ باہر لان میں آگئی جہاں روشانے اس وقت تایا سرکار کےساتھ واک کرنے میں مصروف تھی۔
’’اسلام علیکم!!‘‘ انکے پاس جاتے اسنے سوال کیا۔
’’وعلیکم اسلام!!‘‘ دونوں کے جواب پر وہ انکے ساتھ چہل قدمی کرنے لگی، مزید آدھے گھنٹے کی واک کے بعد وہ اب تایا سرکار کے ساتھ لان میں لگے بینچ پر آکر بیٹھ گئی، جبکہ روشانے چائے بنانے چل دی۔
’’روشانے کتنی بڑی ہوگئی ہے نا،وقت کتنی تیزی سے گزرتا ہے پتا ہی نہیں چلا‘‘ اسنے بات کا آغاز کیا۔
’’بڑی تو آپ بھی بہت ہوگئی ہے‘‘ انہوں نے جواب دیا۔
’’آپ نے روشانے کے حوالے سے کیا سوچا تایاسرکار‘‘ اب وہ اصل بات کی طرف آنا شروع ہوئی۔
’’کیا مطلب‘‘ اسکی بات پر وہ چونکے۔
’’مطلب کے وہ بڑی ہونے کے ساتھ ساتھ خوبصورت بھی ہوگئی ہے‘‘
’’تو؟‘‘ انہوں نے اصل بات جاننا چاہی
’’تو یہ کہ اسکا رشتہ کرنے کا ارادہ بھی ہےیا نہیں؟‘‘ اسکی بات پروہ ہنس دیے
’’کرلے گے لیکن پہلے آپکا فرض تو خیروعافیت سے پورا کرے‘‘
’’میری فکر مت کرے آپ، اپنے لیے میں خود ڈھونڈ لوگی‘‘ مزے سے کندھے اچکائے،انکی گھوری کو خاطر میں نا لائے وہ بولی۔
’’آپ جانتی ہے کہ اس وقت آپ اپنے باپ سے مخاطب ہے‘‘ انہوں جیسے اسے جتلایا،مگر شاید باقی سب کی طرح وہ بھی بھول گئے تھے کہ سامنے بھی فلک خان ہے۔
’’جی جانتی ہوں اور یہ بھی اچھے سے معلوم ہے کہ آپ ان لوگوں میں سے نہیں ہے جو اپنی اولاد کی خواہش کو انا کا مسئلہ بنا لے، آپکو یقین ہے مجھ پر اور میں اسے ٹوٹنے نہیں دوں گی‘‘اسکی بات پر وہ پرسکوں ہوئے وہ واقعی میں نہیں چاہتے تھے کے جو کچھ رخسانہ کے ساتھ ہوا وہ کسی اور کے ساتھ بھی ہوں، انکے بچوں کو اپنا ہمسفر چننے کی اجازت تھی مگر انہوں نے کبھی بھی انہیں اپنی حد سے نکلنے نا دیا اور نا ہی کبھی انکے بچوں سے ایسی کوئی کوشش کی۔
’’پھر تو میں یہ جاننے کا حق رکھتا ہوں کہ وہ کوں ہے؟‘‘
’’آپ اسے جانتے ہیں بہت اچھے سے‘‘
’’ہممم‘‘ اسکی بات پر وہ صرف یہی کہہ سکے
’’مجھے کچھ چاہیے آپ سے تایاسرکار‘‘
’’کیا؟‘‘
’’خان کے لیے روشانے‘‘ جتنے آرام سے اس نے کہا تھا اتنی ہی زوروں سے انہیں جھٹکا لگا۔
’’شاید آپ بھول رہی ہے کہ خان کی کل رات ہی اسکی خالہ کی بیٹی کے ساتھ رضامندی سے منگنی کردی گئی ہے‘‘
’’خان کی منگنی ہوئی مگر اسکی رضامندی سے ہوئی ہے یہ جھوٹ ہے، اور کیا ہوا اگر اسکی منگنی ہوگئی ہے شادی تو روشانے سے ہوگی‘‘
’’اور اگر میں انکار کردوں؟‘‘ انہوں نے پوچھا،لہجہ دھیما اور پرسکون تھا۔
’’اسے دیکھ لے پھرنہیں کرے گے‘‘ کہتے ہی موبائل انکے سامنے کردیا، جس میں ملیحہ کی اسکی دوستوں کے ساتھ کلب میں کچھ تصاویر کھینچی گئی تھی، اور ساتھ میں ایک وڈیو بھی تھی جس میں وہ ایک لڑکے کی گردن میں بازو ڈالے ناچنے میں مصروف تھی اور وہ دونوں شرمناک حد تک قریب تھے۔
’’تم نے میرا وضو تڑوا دیا فلک بی بی‘‘ وہ بس یہی کہہ سکے جبکہ فلک دل کھول کر ہنسی۔
’’تو اب کیا کہنا ہے آپکا؟‘‘ اسنے سوال کیا
’’آج سے ٹھیک چار سال بعد تمہارے بھائی کی برات میری بیٹی کے لیے اس گھر میں آئی ہوں‘‘ انہوں نے جواب دیا اور وہ مسکراہ اٹھی۔
’’مگر میں چاہتی ہوں نکاح ابھی ہوں‘‘ پرسکون طریقے سے اسنے ایک اور بم پھوڑا۔
’’ابھی؟‘‘
’’ہاں بلکل آٹھ بجے تک ہمیں نکلنا ہے، ابھی چھ بجے ہیں،مسجد کا مولوی بلوائے اور کردے نکاح‘‘ اور وہ تو اسے دیکھ کر رہ گئے یعنی کے وہ پہلے سے ہی سب کچھ ڈیسائڈ کرچکی تھی،جبکہ وہ سانس بھر کر رہ گئے، ان دونوں بہن بھایئوں کو سمجھنا بہت مشکل تھا،نجانے کس الٹی کھوپڑی کے مالک تھےیہ۔
’’اسےچھوڑو اپنا بتاؤ؟‘‘ انہوں نے بات بدلی
’’میں کیا بتاؤ؟‘‘ انداز صاف مکرنے والا تھا۔
’’جانتی ہوں فلک جب اولاد جوان ہوجاتی ہے تو ماں باپ بوڑھے ضرور ہوجاتے ہیں مگر عقل سے پیدل نہیں، اب شروع ہوجاؤ‘‘
’’آپ کوکیا لگتا ہے؟‘‘ اپنے بائے ہاتھ کی تیسری انگلی اٹھائے اسنے انہیں وہ انگوٹھی دکھائی اور کی تو آنکھیں باہر گرنے کوتھی،فلک خان شاید آج قسم کھا کر آئی تھی کہ وہ انہیں شاک پر شاک ضرور دے گی۔
’’یہ کیا ہے فلک خان؟‘‘ اب کی بار انکی آواز میں غصہ تھا۔
’’میری منگنی کی انگوٹھی‘‘ انکے غصے کا اثر لیے بنا وہ بولی۔
’’شاہ سے‘‘ اس سے پہلے کے وہ کچھ کہتے وہ بول اٹھی،جس نے انکے غصے کو ٹھنڈا کیا
’’آخرکار اسے عقل آہی گئی‘‘ ابکی بار وہ مسکراہ کر بولے
’’بلکل‘‘
’’اگر وہ کسی اور سے شادی کرلیتا ؟‘‘ انہوں نے سوال کیا۔
’’تو آپکا قتل مجھ پر واجب ہوجاتا‘‘
’’کیوں بھئی میں نے کیا کیا ہے‘‘
’’اتنے بھولے مت بنے وہ آپ ہی تھے نا جنہوں نے مجھے بچپن سے یہی سکھایا ہے کہ میری شادی ہوگی تو صرف شاہ سے‘‘ اسنے آبرو اچکا کر پوچھا تو وہ کھیسیانی ہنسی ہنسے۔
’’اچھے ویسے ایک بات تو بتاؤ؟‘‘ انکی آواز سرگوشی سے زیادہ نا تھی
’’پوچھے‘‘ اسنے بھی ویسے ہی جواب دیا
’’تم نے یہ بات کسی کو بتائی تو نہیں نا؟‘‘
’’اگر کسی سے مراد بی ماں ہے تو بےفکر رہے‘‘ اسکے جواب پر وہ اصل میں پرسکوں ہوگئے تھے۔
’’ویسے شکر ہے اسس کھوتے(شاہ) کو عقل آئی ورنہ میں تو بوڑھا ہوچکا ہوں،اب کہا تمہارے لیے رشتے ڈھونڈتا پھرتا‘‘
’’خیر اب اتنی بھی کوئی دیر نہیں کی اسنے اور نا ہی آپ کوئی خاص بوڑھے ہوئے ہیں‘‘
’’جب بیٹیاں جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی ہے نا تو ماں باپ اپنے آپ ہی بوڑھے ہوجاتے ہیں ‘‘
’’خیر یہ چھوڑو یہ تمہاری بھابھی (روشانے) عرصہ ہوا چائے بنانے گئی تھی ابھی تک لوٹی نہیں‘‘
’’آپ بیٹھے میں دیکھ کر آتی ہوں بلکہ بیٹھے نہیں جا کر مولوی کو لائے ہمارے جانے میں صرف ڈیڑھ گھنٹہ باقی ہے‘‘ کہتے ہی وہ اندر چل دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جو اس وقت گہری نیند میں تھی موبائل کی بیپ پر اسنے ہاتھ مار کر موبائل اٹھایا اور وہ جو سوئی ہوئی آنکھوں سے موبائل دیکھ رہی تھی اب کی بار اسکی آنکھیں مکمل طور پر کھل چکی تھی،اسکی کل رات کی کلب کی وڈیو کسی پرائویٹ نمبر سے اسکے موبائل پر سینڈ کی گئی تھی، مگر اصل کہرام تو اس وقت اکمل خان کے گھر میں مچا تھا، وہ جو ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھے اخبار کا مطالعہ کرنے میں مصروف تھے، موبائل پر سینڈ ہوئی اس وڈیو نے تو انکے سہی معنوں میں ہوش اڑا دیے تھے،انکی ہونے والی بہو اور یہ کرتوت، انہوں نے صاف صاف الفاظ میں ملیحہ کے گھر فون کرکے رشتے سے معذرت کرلی تھی اور وجہ پوچھنے پر صرف اتا ہی بتایا کہ اپنی بیٹی سے ہی پوچھ لے، نتاشہ بیگم کو اتنی تزلیل کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی، زندگی کا گھیراؤ ان پر تنگ ہو رہا تھا جسے وہ سمجھنے سسے قاصر تھی، اکمل خان ابھی بھی غصے میں تھے جب جمیل خان کے گھر سے آنے والی کال نے جو خبر انہیں سنائی اسنے انکے رہے سہے اوسان بھی خطا کردیے اور انہوں نے نتاشہ بیگم کو فورا گاڑی میں بیٹھنے کا حکم دیا اور گاڑی جمیل خان کے گھر کی طرف موڑ دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *