Udaan by Qanita Khadija NovelR50777 Udaan by Qanita Khadija Episode03
Rate this Novel
Udaan by Qanita Khadija Episode01 Udaan by Qanita Khadija Episode02 Udaan by Qanita Khadija Episode03 (Watching)Udaan by Qanita Khadija Episode04 Udaan by Qanita Khadija Episode05 Udaan by Qanita Khadija Episode06 Udaan by Qanita Khadija Episode07 Udaan by Qanita Khadija Episode08 Udaan by Qanita Khadija Episode09 Udaan by Qanita Khadija Episode10 Udaan by Qanita Khadija Episode11 Udaan by Qanita Khadija Episode12 Udaan by Qanita Khadija Episode13 Udaan by Qanita Khadija Episode14 Udaan by Qanita Khadija Episode15 Udaan by Qanita Khadija Episode16 Udaan by Qanita Khadija Episode17 Udaan by Qanita Khadija Episode18 Udaan by Qanita Khadija Episode19 Udaan by Qanita Khadija Episode20 Udaan by Qanita Khadija Episode21 Udaan by Qanita Khadija Episode22 Udaan by Qanita Khadija Episode23 Udaan by Qanita Khadija Episode24 Udaan by Qanita Khadija Episode25 Udaan by Qanita Khadija Last Episode
Udaan by Qanita Khadija Episode03
Udaan by Qanita Khadija Episode03
پورا کمرہ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا،اےسی کی ٹھنڈک نے ماحول کو مزید خوابناک بنا رکھا تھا،ایسے میں وہ دنیا جہاں سے بے خبر خوابٖ خرگوش کے مزے لوٹ رہا تھا،دفتعا موبائل کی رنگ ٹون نے اسکی نیند میں خلل پیدا کیا،مندی مندی آنکھیں کھولے اسنے اندھیرے میں دیکھنے کی کوشش کی اور ادھر ادھر ہاتھ مار کر موبائل دھونڈنا چاہا جب تکیے کے نیچے سے اسے موبائل کے بجنے کی آواز سنائی دی،موبائل نکال کر اسنے نمبر دیکھا جہاں شاہ کالنگ لکھا ہوا تھا،اور کال اٹھاتے ہوئے موبائل کان سے لگایا۔
’’ہیلو‘‘
’’اسلام علیکم۔۔۔خان کہا گم ہوں یار کب سے کال کررہا ہوں تجھے مجھے فکر ہو رہی تھی تیری‘‘
’’واسلام،میں کہی نہی ہوں بس سویا ہوا تھا،اور آج تو اتنی میٹھی اور پر سکون نیند آئی ہے کہ کیا بتاؤں تجھے‘‘اسکے سلام کا جواب دیتے ہوئے اسکی اگلی بات پر وہ مسکرا اٹھا،اسکا یوں اپنے لیے فکر کرنا اسے اچھا لگتا تھا۔آخری بات پر جو مسکراہٹ خان کے چہرے پر آئی تھی وہ کال کی دوسری طرف موجود شاہ بھی محسوس کر سکتا تھا۔
’’کیوں لالا ایسا بھی کون سا خزانہ ہاتھ لگ گیا جو تو اتنا خوش ہے؟‘‘اسکی مسکرایٹ پر شاہ نے بھی مسکراہ کر پوچھا۔
’’خزانہ تو نہی لیکن کسی کو تکلیف میں دیکھ کر عجیب سا سکون محسرس ہواہے آج،مائی گوڈ آج پتا چلا کہ جب کوئی ایسا شخص جس سے آپ سخت نفرت کرتے ہوں،اسکے تکلیف ملےتو کتنا سکون ملتا ہے‘‘خوشی اسکے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی۔ اسکی بات پر اب کی بار شاہ چونکہ۔
’’خان تو کیا بات کر رہا ہے مجھے کھل کر بتا۔کون تکلیف میں ہے،کسے تکلیف میں دیکھ کر تو خوش ہے؟‘‘ خان کی باتوں نے اسے سہی معنوں میں پریشان کر کے رکھ دیا تھا۔اور اب پوچھنے پر جو بات خان نے اسے بتائی اسنے تو شاہ کے ہوش اڑا دیے۔ شاہ کو معلوم تھا کہ خان اور فلک کی آپس میں نہی بنتی مگر وہ اس سے اسقدر نفرت کرتا ہے اس بات کا اسے اندازہ تک نا تھا۔کہنے کو تو وہ صرف پندرا کے تھے مگر وہ آج کی نسل تھی،جو وقت سے پہلے بہت سے معاملوں کو جان جاتی،کہنے کو شاہ اور خان دو جسم ایک جان تھے مگر ان میں زمین آسمان کا فرق تھا،شاہ جتنا دھیمے مزاج کا تھا خان اتنا ہی گرم،دھوپ چھاؤں کا ساتھ تھے دونوں۔
آج شاہ کو حقیقت میں خان کی سوچ پر افسوس ہوا آخر کو وہ کیسا بھائی تھا،سوتیلی ہی سہی فلک اسکی بہن تھی۔
’’یقین مان یار آج تو دل بہت ہلکا محسوس کر رہا ہے،ویسے پتا نہی مر گئی کہ نہی رک میں پتا کرتا ہوں اگرر مر گئی تو میری طرف سے ٹریٹ پکی۔۔۔ہاہاہاہا‘‘بات پوری کرتے ہی اگلے ہی پل وہ اونچی آواز مین قہقہ لگا کر ہنسا اور بس شاہ کی ہمت جواب دے گئی۔
’’تو پاگل ہوگیا ہے کیا خان،دماغ ٹھکانے ہے بھی کہ نہی کیا بکواس کر رہا ہے جانتا بھی ہے تو۔۔۔۔بہن ہے وہ تیری،سگی نا سہی مگر وہ تیری ‘‘شاہ فون پرچلایا جب خان نے اسکی بات بیچ میں ہی کاٹ دی۔
’’نہی ہے وہ میری بہن سنا تونے نہی ہے وہ میری بہن،نا سگی نا سوتیلی،کوئی تعلق نہی ہے میرا اس سے نفرت ہے مجھے اس سے سنا تونے‘‘شاہ کے مقابل خان ہلق کے بل چلایا۔آج اپنے دوست کع بھی اس لڑکی کی طرف داری کرتا دیکھ کر اسکے دل میں اسکے لیے مزید نفرت پیدا ہو گئی،اسکی آنکھوں میں کئی آنسوں جمع ہوگئے،اسے وہ وقت یاد آگیا جب اسنے ۹ سالہ فلک کو کھیل میں غلطی سے دھکا دیا تھا اور کیسے اکمل خان نے سب کے سامنے اسکے گال پر ۳ تھپڑ جڑے تھے،وہ وقت اور آج کا وقت اسے فلک خان سے شدید نفرت محسوس ہوئی اور چھ سالوں میں یہ نفرت مزید بڑھتی گئی۔
’’آئندہ مجھے کبھی کال مت کرنا نا کبھی بات کرنے کی کوشش کرنا،ہمارا تعلق آج سے ختم‘‘یہ کہہ کر بنا کچھ سنے اسنے کال کاٹ کر شاہ کا نمبر بلاک لسٹ میں ڈال دیا ۔ دوسری طرف شاہ نے اس سے بات کرنے کوشش کی اور دوبارا کال کرنے کی کوشش مگر کوئی فائدہ حاصل نہی۔
خان کا غصہ کسی بھی صورت کم ہونے کو نا آرہا تھا اور غصے میں اسنے اپنا موبائل دیوار میں دے مارا۔
بیڈ سے اتر کر وہ دروازے کی طرف بڑھا جب پیر میں اسے شدید تکلیف محسوس ہوئی،لائٹ اون کر کے جب اسنے نیچے دیکھا تو کانچ کا ایک بڑا ٹکڑا اسکے پیر میں چبھا ہواتھا وہ پیر پکڑ کر وہی زمین پر بیٹھ گیا۔
ایک شاہ کی باتیں اور دوسری پیر کی تکلیف اسکے آنکھوں سے بے اختیار آنسوں نکل آئے۔
’’دینو چاچا،دینوچاچا کہاں ہے آپ‘‘ہلق کے بل چلاتے ہوئے اسنے اپنے خاندانی ملازم دین محمد کو آواز دی،جن کو حویلی فلک کے کاموں کے لیے رکھا گیا تھا،مگر خان کی ضد پر وہ اب انکے پاس آکر رہتے تھے۔
’’خان میری جان۔۔۔او مائی گاڈ وٹ ہیپند ٹو یو‘‘اسکے چلانے پر نتاشہ بیگم اور اکمل خان بھی دوڑے دوڑے اسکے کمرے میں آئے جو کہ ظہر کے وقت ہی گھر آگئے تھے اور اسکے بعد اکمل خان نے خود کو لائبریری میں بند کر لیا تھا،اب خان کی چیخیں سن کر وہ اسکے کمرے کی طرف بھاگے۔سامنے کا منظر دیکھ کر وہ سر جھٹک کر رہ گئے جہاں نتاشہ بیگم اسکے آنسوں پونچھ رہی تھی اور دین محمد اسکے پیر ککی بینڈیج کر رہے تھے۔
’’دین محمد آپ کو اس گھر میں مفت کی روٹیاں توڑنے کے لیے نہی بلایا گیا،یہ صفائی کی ہے آپ نے کمرے کی دیکھے میرا بچا کتنی تکلیف میں ہے‘‘ نتاشی بیگم نے بغیر انکی عمر کا لحاظ کیے انہے لتاڑا۔جس پر وہ شرمندگی سے سر جھکا کر رہ گئے
’’معافی بی بی صاحبہ،ہم نے تو اپنی نگرانی میں صفائی کروائی تھی لیکن پتا نہی کیسے یہ ٹکڑا بابا کے کمرے میں آگیا‘‘جھکے سر کے ساتھ انہوں نے جواب دیا جس مر وہ ہنکارہ بھر کر رہ گئی۔
’’ہاہا پتا ہے کتنی نگرانی کروائی ہے،بس مفت کی روٹیاں تڑوا لو انسے‘‘سر جھٹک کروہ دوبارا خان کی طرف متوجہ ہوئے،جو خاموش تماشائی بنے دروازے کی جانب دیکھ رہا تھا جہاں کھڑے اکمل خان اندر ہونے والی چک چک سے بے نیاز کمرے کا جائزہ لینے میں مصروف تھے جب انکی نظر ڈریسنگ مرر کی طرف اٹھی اور ایک پل میں انہیں ساری کہانی کا علم ہوگیا کیونکہ خان کے غصے سے سب واقف تھے اور انہیں معلوم تھا کہ اس میں نوکروں کا کوئی ہاتھ نہی، جبکہ خان انکا جائزہ لینے میں مصروف تھا کہ کب وہ آگے بڑھ کر اسے گلے لگائے ویسے ہی جیسے انہوں نے آج فلک کو لگایا ہوگا۔
’’کیا چل رہا ہے یہاں؟‘‘انکی آواز پر نتاشہ بیگم نے انکی طرف دیکھا اور بولی
’’دیکھے اکمل، خان کو کتننے برے سے چوٹ لگی ہے،میرا بچا دیکھے کتنا خون بہہ گیا ہے اسکا‘‘
’’کوئی بات نہی بیگم ایسی چھوٹی موٹی چوٹیں تو لگتی رہتی ہے‘‘یہ کہہ کر وہ پلٹ گئے اور خان اسے دل میں کچھ ٹوتٹا محسوس ہوا،کیا اسکی تکلیف تکلیف نا تھی اس وقت اسے خود پر ترس اور فلک پر رشک آیا،مگر ساتھ ہی ساتھ نفرت کی جڑیں مزید مضبوط ہو گئی۔ حیران تو نتاشہ بیگم بھی رہ گئی انکی اس بیگانگی پر
’’دین محمد کمرا صاف کروائے۔۔۔۔۔میری جان کسی بھی چیز کی ضرورت ہوں تو دین محمد کو بتا دینا‘‘دین محمد کو آرڈر دیتی وہ خان کی طرف متوجہ ہوئے اس سے بات کر کے اسکی پیشانی چومتی اکمل خان کے پیچھے ہولی۔
’’چھوٹے خان کھانا لاؤ آپ کے لیے؟‘‘تھوڑی دیر بعد ملازم نے آکر پوچھا۔
’’نہیں جاؤیہاں سے‘‘بازو آنکھوں پر رکھے اسنے جواب دیا
’’لیکن چھوٹے خان وہ بی بی صاحبہ۔۔۔۔۔۔‘‘
’’کہا نہی جاؤ یہاں سے،بکواس کررہا ہوں کیا،یا فارسی بول رہا ہوں‘‘ملازم کی بات کاٹتے وہ درشتگی سے بولا
آج اسکے دل میں پلتی نفرت ایک سڑھی اوپر چڑھ چکی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ویسے اکمل یہ آپ نے اچھا نہی کیا خان کے پاؤں میں گہری چوٹ لگی تھی ایک بار تو پوچھ لیتے کم از کم آپ کا ہی بیٹا ہے حالانکہ فلک کی دفعہ کیسے دوڑتے ہوئے گئے تھے آپ۔۔۔۔۔یہ نہی کہ میں شکایت کر رہی ہوں مگر پھر بھی‘‘ہاتھوں پر باڈی لوشن ملتے ہوئے انہوں نے اپنے شوہر سے شکوہ کیا جو کسی کتاب کی ورق گردانی میں گم تھے، نتاشہ کا شکوہ سن کر ان کے چہرے پر ایک مسکراٹ دوڑ آئی تو وہی فلک کے زکر پر آج والا واقعہ یاد کر کے وہ غمگین بھی ہو گئے۔ہاتھ کے اشارے سے انہوں نے نتاشی بیگم کو پاس بلایا اور بیڈ پر پاس بیٹھنے کو کہا ،ان کے بیٹھتے ہی نرمی سے انکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں دبایا اور گویا ہوئے۔
’’خان میرا بیٹا میرا مان ہے نتاشہ،اگر آج میں ہر چھوٹی چھوٹی بات پر اسکے آنسوں پونچھو گا تو وہ بہادر کیسے بنے گا وہ،میرا فخر ہے وہ میں چاہتا ہوں کہ جب وہ آرم جوائن کرے اور سورڈ آف اونر لاکر میرے سامنے رکھے تب میں اسے گلے لگاؤں اور ساری دنیا کو فخر سے بتاؤ کے یہ میرا بیٹا میرا مان ہے،میرا دایا بازو ہے یہ‘‘انکی آنکھوں میں جلتی روشنی کے دیپ دیکھ کر نتاشہ بیگم بھی پر سکون ہوگئی۔
’’اور جہاں تک بات ہے فلک کی تو آئندہ سے میں اسکا ذکر نہی سننا چاہتا‘‘جہاں نتاشہ بیگم کو یہ بات سن کر دھیڑوں سکون دل میں اترتا محسوس ہوا وہی دوسری طرف صرف اکمل خان جانتے تھے کہ کس دل سے انہوں نے اتنی بڑی بات کہی ہے۔مگر دو وجود اور بھی تھے جن کی آج دنیا بدل کر رہ گئی۔ایک تو خان جو آج ہر حساب کتاب چکتا کرنے آیا تھا مگر اپنے باپ کی بات سن کر دل میں عہد کیا کہ سورڈ آف اونر تو وہ ضرور لے گا اور ساتھ ہی ساتھ فلک کے حوالے سے اپنے باپ کے خیالات سن کر وہ ایک انجانی خوشی محسوس کر رہا تھا،تو دوسری طرف فلک تھی جس نے آج کے رویے پر اپنے باپ سے معافی مانگنے کے لیے فون کیا تھا جو کہ دینو چاچا انکے کمرے کی طرف لیجارہے تھے،مگر اندر سے آتی آوازیں سن کر انہوں نے ایک نظر فون کی طرف دیکھا جو کہ اب بند ہوچکا تھا مطلب کے فلک سب کچھ سن چکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’بہت فخر ہے نا آپ کو ایک بیٹے کا باپ بننے پر کرنل اکمل خان،بہت غرور ہے نا آپ کو کہ آپ کا بیٹا سورڈ آف اونر لے گا تو یہ میرا فلک خان کا وعدہ ہے آپ سے کہ اب نا صرف وہ ائیر فورس جوائن کرے گی مگر سورڈآف اونر بھی لیکررہے گی،وہ اکمل خان کا مان،فخر اور غرور سب پاش پاش کردے گی‘‘ بے دردی سے اپنے آنسوں صاف کرتے ہوئے اسنے خود سے عہد کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
