Udaan by Qanita Khadija

’’نائس ہیر سٹائل,!!‘‘ میس سے فارغ ہونے کے بعد وہ ہاسٹل کی طرف جا رہی تھی جب یہ الفاظ اسکے کان میں پڑے اور آواز سے وہ اچھی طرح واقف تھی۔
’’ارے یار میں نے تمہارے بالوں کی تعریف کی ہے اور تم مجھے اگنور کر رہی ہوں۔۔۔۔۔۔ ناٹ فئر یار‘‘ اب کے وہ اسکے برابر چلنا شروع ہوگیا۔
’’شایان اس وقت میں کسی بھی قسم کےمذاق کے موڈ میں نہیں ہوں‘‘ اسنے اپنے ساتھ چلتے شایان کو وہاں سے چلتا کرنے کی کوشش کی مگر بے سود۔
’’ارے میں نے کچھ کہا ہے بس پرانی دوست کے ساتھ بات کرنے کو دل کر رہا ہے‘‘
اب وہ دونوں ساتھ چل رہے تھے چونکہ ابھی ہاسٹل کا گیٹ بند ہونے میں ٹائم تھا تو انہیں زیادہ جلدی نا تھی۔ ان کے درمیان اب خاموشی تھی مگر ایک پرسکون سی خاموشی۔
’’ارے یہ تو شاہ اور خان ہے نا!!‘‘ شایان کی بات پر اسنے سامنے دیکھا جہاں وہ دونوں کھڑے آپس میں باتیں کر رہیں تھے، بلکہ یوں کہنا ٹھیک ہوگا کہ شاہ اسے کچھ سمجھا رہا تھا۔ پہلے تو فلک نے وہاں سے جانا مناسب سمجھا مگریہی وقت تھا جب وہ خان سے اپنے اختلافات دور کر سکتی تھی۔
’’چلو ان کے پاس چلے‘‘ شایان کو کہتی اب وہ ان دونوں کی طرف بڑھنے لگی۔
’’یا االلہ اس وقت میں مزید کوئی ڈرامہ افورڈ نہیں کر سکتا‘‘ دل میں خدا سے بات کرتے وہ اب فلک کے پیچھے چل دیا۔
’’جونیئر بات کرنی ہے تم سے‘‘ ان کے سروں پر کھڑی اب وہ اس سے مخاطب تھی۔
’’بولو‘‘ بنا کسی جزبے کے اجازت دی گئی۔
’’یہاں نہیں اکیلے میں‘‘ حالانکہ ان چاروں کے علاوہ وہاں کوئی موجود نا تھا مگر اس وقت وہ صرف خان سے بات کرنا چاہتی تھی۔
’’کیوں اب ایسی کونسی تمھارے اوپر ڈھائے ظلم کی داستان سنانی ہے؟۔۔۔۔ اور اگر سنانی بھی ہے تو اکیلے میں کیوں یہ دونوں کونسا غیر ہے سب معلوم ہے انہیں کہ تم کتنی معصوم ہوں‘‘ سپاٹ چہرہ لیے وہ ان دونوں کی طرف اشارہ کیے اب اس سے سوال کر رہا تھا۔
’’پلیز۔۔۔۔‘‘ اسکے اس لفظ نے جہاں دلاور کو چونکایا وہی ہارون اور شایان بھی ششد رہ گئے، کسی کو فلک سے اسکی امید نا تھی۔
’’دلاور جاؤ سن لو۔۔۔۔۔‘‘ اب کی بار شاہ نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہاں، وہ خان کو اسکے اصل نام سے صرف تبھی بلایا کرتا تھا جب معاملہ گھمبیر صورت کا ہوں۔
وہ دونوں چلتے ہوئے اب گراؤنڈ سے زرا ہٹ کر ایک تاریک گوشے میں آگئے تھے۔
کچھ پل تو خاموشی کی نظر ہوئے، فلک نے آنکھیں اٹھا کر اسکو دیکھا جو اب اسکی طرف متوجہ تھا۔
’’آئی ایم سوری خان۔۔۔۔۔۔۔۔سوری فار ایوری تھنگ۔۔۔۔۔۔۔۔سمجھ نہیں آرہا کہ کہاں سے شروع کروں۔۔۔۔۔اپنے کس کس عمل کی تم سے معافی مانگوں۔۔۔۔۔۔ جانتے ہو جونیئر میں نے کبھی بھی تم سے نفرت نہیں کی تھی، کسی سے بھی نہیں کی تھی۔۔۔۔۔ ابا بہت محبت تھی مجھے انسے۔۔۔۔۔۔ جاننا چاہوں گے فلک خان کیسے نفرت کے راستے پر گامزن ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کیوں فلک اکمل خان سے صرف فلک خان بن کر رہ گئی‘‘
اسکی اس بات پر وہ صرف سر ہلا سکا۔
’’میری چودھویں سالگرا تھی اس دن خان، میں نے بہت انتظار کیا تھا اباکا کہ وہ آئے گے اور میں پھر کیک کاٹوں گی، مگر سات سے آٹھ بج گئے مگر وہ نا آئے، میں نے پھر بھی انتظارمگر دس اور پھر گھڑی نے گیارا بجا دیے، اماں نے تایا سرکار نے سب نے بہت کالز کی مگر کوئی جواب موصول نا ہوا، پھردکھی دل کے ساتھ میں نے کیک کاٹ لیا، مگر دیر رات رونے کی وجہ سے صبح مجھے بخار ہوگیا اور میں سکول نا جا سکی، میری آنکھ شور کی وجہ سے کھلی جو اماں کے کمرے سے آرہاتھا، میں کوشش کرتی اماں کے کمرے کی طرف بڑھی مگر جو الفاظ میں نے وہاں سنے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جانتے ہو میرا باپ میری ماں کیا کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ انہیں نفرت ہے میری ماں سے کیونکہ وہ ایک جاہل عورت ہے، کیونکہ وہ اتنی خوبصورت نہیں کہ انکےساتھ جچے، انہیں میری اماں سے نفرت تھی جونیئر کیونکہ وہ انہیں بیٹا نا دے سکی۔۔۔۔۔۔غلطی میری اماں کی تھی کہ اگر وہ انہیں بیٹا دے دیتی تو شاید وہ اماں کو چھوڑ کر دوسری شادی نا کرتے۔۔۔۔۔۔۔ جانتے ہوں وہ اماں سے کہہ رہے تھے کہ وہ مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں مگر مرکر بھی کسی کو یہ پتا نہیں چلنے دے گے کہ انکی کوئی بیٹی بھی ہے کیونکہ وہ ایک جاہل عورت کے وجوو سے اس دنیا میں آئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سوچوجونیئر میرا باپ مجھے دنیا سے یوں چھپاتا تھا جیسے میں کوئی گناہ ہوں کیا میرا وجود اتنا ازراں تھا کہ وہ مجھے اپنا نام بھی صرف کاغذ پر ہی دینے کو تیار تھے۔۔۔۔میں کتنی تکلیف میں رہی ہوں یہ صرف میں جانتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جانتے ہوں ایک بار سکول میں پیرنٹ ٹیچر میٹنگ تھی میں نے ابا کے نمبر پر کال کی میں نے ٹاپ کیا تھا جونیئر’’سٹودنٹ آف دا ایئر‘‘ مجھے ملنا تھا میں چاہتی تھی کہ جب مجھے ایوارڈ ملے تو اماں ابا دونوں وہاں ہوں،مگر کال کرنے پر جب میں نے انہیں یہ خبر دی تو انہوں نے مجھے یہ کہہ کر جھڑک دیا کہ میں نے ایسی فضولیات کے لیے انکی امپورٹینٹ میٹنگ خراب کردی اور یہ کہ اب میں انہیں کال کر کے پریشان نا کروں۔ پھرجس دن ایوارڈ ملا جب میں انکے پاس لیکر گئی تو انہوں نے مجھے صرف اتنا کہا۔۔۔مبارک ہوں فلک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا دل کٹ کر رہ گیا جونیئر، کیسا باپ تھا میرا۔۔۔۔۔۔ایک بار صرف ایک بار مجھے گلے تو لگا لیتے۔۔۔۔۔۔۔۔مگر میری خام خیالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر تو یہ سلسلہ شروع ہوگیا جونیئر۔۔۔۔۔ وہ جب بھی حویلی آتے انکا زیادہ وقت صرف اماں کو زلیل کرتے گزرتا۔۔۔ اور میں تو زرش، جبران اور تائی کی وہ تمسخرانہ نظریں نا بھول پاتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمہیں یاد ہوگا نا خان جب میں چھت سے گر گئی تھی اس دن وہ میرے پاس آئے مجھسے محبت سے ملے مگر اس وقت میرا دل ان سے اچاٹ ہوگیا تھا جونیئر اور میں نے انکا دل دکھایا مگر جب احاساس ہوا تو میں نے معافی کے لیے کال کی مگر انکے الفاظ۔۔۔۔۔۔۔۔۔انکے لفظوں نے اس دن سہی معنوں میں مجھے توڑ کر رکھ دیا تھا جونیئر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جانتے ہوں وہ کہہ رہے تھے کہ انکا مجھسے کوئی تعلق نہی، انکی صرف ایک اولاد ہے وہ ہوں تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انکا مان، عزت، وقار،فخر، غرور‘‘ اتنا بول کر وہ ایک پل کو رکی اور خان کو وہ رات یاد آگئی جب فلک ہسپتال میں تھی اور اسکے پیر میں کانچ کا ٹکڑا چلا گیا تھا۔
’’جانتے ہوں اس دن میں نے خود سے عہد کیا تھا کہ فلک خان خود کو ٹوٹنے نہیں دے گی، عہد کیا تھا خود سے کہ وہ اکمل خان کو توڑ دے گی۔۔۔۔۔۔۔مگر میں غلط تھی مقصد انکا مان توڑنا نہیں بلکہ انہیں اس بات کا احساس دلانا تھا کہ میں بیٹی ہوکر وہ سب کر سکتی ہو جس کی امید وہ اپنے بیٹے سے لگائے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔جانتے ہون ارحم والے واقعے سے دو ہفتہ پہلے تک میں سکول کیوں نہیں آئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اماں کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا اور وجہ ابا تھے، وہ ایک بار پھر حویلی آئے تھے اور ہر بار کی طرح اماں کی تزلیل کرنا شروع کردی، مگر اس بار شاید اماں تھک گئی تھی آخر کو انسان جو تھی مگر جب ابا کو کال کی تو کہنے لگے کچھ نہیں ہوگا اس عورت کو وہ ایک ناگن ہے جو انہیں ڈسے بنا نہیں مرے گی۔۔۔اور اگر مر بھی گئی تو اچھا ہے جان چھوٹے گی انکی‘‘ اب کی بار وہ ہنسی، مگر اسکی ہنسی کھوکھلی تھی، اور آواز نم، جب کے خان تو بس اپنی جگہ جم کر رہ گیا تھا۔

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *