Udaan by Qanita Khadija NovelR50777 Udaan by Qanita Khadija Episode20
Rate this Novel
Udaan by Qanita Khadija Episode01 Udaan by Qanita Khadija Episode02 Udaan by Qanita Khadija Episode03 Udaan by Qanita Khadija Episode04 Udaan by Qanita Khadija Episode05 Udaan by Qanita Khadija Episode06 Udaan by Qanita Khadija Episode07 Udaan by Qanita Khadija Episode08 Udaan by Qanita Khadija Episode09 Udaan by Qanita Khadija Episode10 Udaan by Qanita Khadija Episode11 Udaan by Qanita Khadija Episode12 Udaan by Qanita Khadija Episode13 Udaan by Qanita Khadija Episode14 Udaan by Qanita Khadija Episode15 Udaan by Qanita Khadija Episode16 Udaan by Qanita Khadija Episode17 Udaan by Qanita Khadija Episode18 Udaan by Qanita Khadija Episode19 Udaan by Qanita Khadija Episode20 (Watching)Udaan by Qanita Khadija Episode21 Udaan by Qanita Khadija Episode22 Udaan by Qanita Khadija Episode23 Udaan by Qanita Khadija Episode24 Udaan by Qanita Khadija Episode25 Udaan by Qanita Khadija Last Episode
Udaan by Qanita Khadija Episode20
Udaan by Qanita Khadija Episode20
پوری خان حویلی کو گیندے کے پھولوں سے سجایا گیا تھا، مصنوئی روشنیوں سے پوری حویلی جگمگا رہی تھی، ہر کوئی اپنی اپنی تیاریوں میں مصروف تھا۔ایسے میں چھوٹی تائی اپنے کمرے میں اپنے بچوں سمیت الگ ہی محفل جمائے بیٹھی تھی۔
’’اماں اب تو آپ کو یقین آگیا نا کہ میں اور یہ لنگور جھوٹ نہیں بول رہے تھے‘‘ منہ بناتے زرش انسے مخاطب ہوئے اور ایک گھوری اس لنگور مطلب کے جبران کو بھی دی جو کہ اب انگور کھانے میں مصروف تھا
’’ہاں بھئی اس کایا پلٹ پر تو میں بھی حیران ہوں‘‘ پرسوچ انداز میں وہ بولی۔
’’ویسے اماں آپ نے خان کو دیکھا بھی ہے اف کمبخت پر سے تو نظر ہی نہیں ہٹتی، ایسا ناولی ہیرو جیسا روپ پایا ہے اسنے‘‘ انکے پاس بیٹھے زرش سرگوشی بھرے انداز میں بولی۔
’’ہمم کہہ تو تو سہی رہی ہے مگر اب کیا فائدہ آہیں بھرنے کا جب کے وہ روشی لے اڑی اسے‘‘ انکی بات سن کت زرش کا منہ بن گیا
’’ویسے اماں وہ جو خان کا دوست ہے نا شاہ برا تو وہ بھی نہیں ہے‘‘ وہ منمنائی۔
’’خبردار جو ایسی کوئی بات بھی سوچی تم نے خاندان سے باہر میں ہرگز تیری شادی نہیں کروں گی پھر چاہے گھوڑے پر کوئی شہزادہ ہی کیوں نا تجھے بیاہنے آجائے‘‘ وہ درشت لہجے میں بولی۔
’’تو پھر بیٹھی رہوں یونہی اور زرا بتاؤں کہ خاندان میں تمہیں کونسا طلسمی شہزادہ مل جائے گا میرے لیے، وہ روشی کتنی چھوٹی ہے مجھ سے اور فلک وہ بھی سال چھوٹی ہے، ایک کی شادی ہورہی ہے تو دوسری کے لیے رشتوں کی لائنیں لگی ہوئی ہیں ، اور میں کوئی دوسری بار مڑ کر نہیں دیکھتا مجھے‘‘ آخر میں وہ رو دی
’’نا میری جان نا بھلا تیرا کیا مقابلہ ان دونوں سے اور جہاں تک بات رہی خاندان میں لڑکوں کے کمی کی تو رومان اور ارمان بھی تو ہے نا بس میں نے فیصلہ کرلیا ہے بھائی صاحب سے بات کروں گی تمہارے رشتے کی ، اگر وہ اس فلک کی فکر کرسکتے ہیں تو تمہاری کیوں نہیں اسکا تو باپ بھی زندہ ہے اور تو میری بچی بن باپ کی اولاد‘‘ کہتے ہی انہوں نے اسے گلے لگا لیا، اور وہ جو رونے میں مصروف تھی یہ سوچتے ہی پرسکون ہوگئی، ارمان یا رومان میں سے کسی سے شادی کا مطلب تھا یورپ جانا، یہ سوچتے ہی اسکی آنکھیں چمکنے لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’آپی !!!!‘‘ فلک کے کمرے میں جاتے ہی وہ چیخی جب اسے بیڈ پر صبا بیٹھی نظر آئی جو آج مہندی کے حساب سے اپنے کپڑے سیٹ کر رہی تھی جسے دیکھ کر اسکا منہ پھر سے بن گیا۔
’’ارے روشانے آؤ‘‘ اسے دیکھ کر صبا مسکراہ دی
’’مجھے آپ کی اجازت کی ضرورت نہیں‘‘ ناچاہتے ہوئے بھی اسکے لہجے میں بدتمیزی شامل ہوگئی، اور صبا اسکو بھلا اس لہجے کی کہاں عادت تھی فلک کے بعد اب روشانے تھی جس نے اتنے برے لہجے میں پہلی ہی ملاقات میں اس سے ایسے بات کی تھی، مگر پھر وہ یہ سوچ کر خود کو پرسکون کر گئی کیونکہ وہ جانتی تھی روشانے کے غصے کی وجہ کیا تھی۔
’’نہیں ایسا کوئی مطلب نہیں تھا میرا‘‘ وہ خود کو کمپوز کرتے بولی
’’فلک آپی کہاں ہے؟‘‘ اسنے صبا کی بات کو اگنور کیا
’’وہ تو کچھ کام سے گئی ہے دلاور کے ساتھ‘‘
’’اچھا ٹھیک ہے‘‘ خان کا نام لینا اسے برا تو لگا مگر فلحال یہ اسکا دن تھا اور وہ اپنا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔
’’ویسے فلک کو شاید دیر ہوجائے اگر تمہیں کسی مدد کی ضرورت ہے تو مجھے بتا سکتی ہوں‘‘ ایک پل کو تو روشانے کا دل چاہا کہ اسے سخت سنا دے مگر اگلے ہی لمحے دل میں خیال آیا اور اس پر مسکراتے ہوئے اس نے صبا کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔
’’مجھے میرے خان سے دور کرنے کا سوچ رہی تھی نا اب پتا چلے گا آپ کو‘‘ سوچتے ہی وہ مسکراہ دی اور پھر معصوم سی مسکراہٹ سجائے وہ اسکی طرف مڑی جو اب اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
’’وہ دراصل تھوڑی دیر میں مہندی کا فنکشن شروع ہوجائے گا اور مجھے گھر پر ہی تیار ہونا ہے اور مجھے تیار ہونا نہیں آتا تو میں نے سوچا آپی سے کہہ دوں گی، مگر وہ تو اب یہاں نہیں ہے‘‘ کندھے اچکائے وہ معصومیت سے بولی۔
’’او یہ تو واقعی میں مشکل ہوگیا۔۔۔ ویسے اگر تم چاہوں تو میں تمہیں تیار کر سکتی ہوں‘‘ صبا نے اسے اوفر کی اور روشانے تو دل میں بھنگڑے ڈالنے لگی آخر کو یہی تو چاہتی تھی وہ۔
’’آپ؟ مگر آپ کیسے۔۔ میرا مطلب کے اچھا نہیں لگتا، یوں آپ سے کہنا، اور آپ تو مہمان ہےنا‘‘ مہمان پر زور ڈالے وہ بولی جبکہ صبا اسکا طنز سمجھے مسکراہ دی، روشانے واقعی میں اتنی ہی بےوقوف نکلی جتنا اسے بتایا گیا تھا۔
’’ارے کوئی بات نہیں میں کردوں گی تم ایسا کروں اپنا ڈریس یہی لے آؤ‘‘ اسنے مشورہ دیا جبکہ روشانے سر ہاں میں ہلاتی اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔
روشانے نے سوچ رکھا تھا کہ وہ صبا کو خود کو سکون سے تیار نا کرنے دے گی اور پھر دو گھنٹے اسنے یہی کیا، کبھی وہ اسکی بنائی بیس میں کیڑا نکالتی، کبھی اسے لپسٹک کا شیڈ پسند نا آتا تو کبھی اسکا لائنر اور مسکارا اسے مسئلہ کرتا، کبھی وہ بلش آن زیادہ لگانے پر غصہ ہوتی تو کبھی کم پر منہ بنا لیتی، فلک کو آئے ایک گھنٹہ گزر گیا تھا چونکہ روشانے اسی کے کمرے میں تیار ہورہی تھی تو وہ خود پر ضبط کیے یہ ساری کاروائی دیکھ رہی تھی، اب بھی ایسا ہی ہوا تھا جب روشانے نے صبا سے بدتمیزی کی
’’اففف اگر آپ کومیک اپ کرنا نہیں آتا تو حامی کیوں بھری دیکھے ذرا مجھے، لپسٹک کا شیڈ کتنا اوور ہوگیا ہے، لائنر اتنا موٹا لگایا ہے آپ نے، اور مسکارہ تو دیکھے پلکے خراب ہوگئی ہے میری اور یہ بلش آن لال بھوتنی لگ رہی ہوں میں اوپر سے بیس اتنی خراب بنائی ہے آپ نے ، اففف میرے خدایا اب مجھے دوبارا منہ دھونا ہوگا، ہٹے راستے سے میں منہ دھو کر آؤ، پھر دوبارہ سے کیجیے گا‘‘ اور صبا بیچاری تو روشانے کے دل سے غلط فہمی نکالنے کی وجہ سے صرف سر ہلا کر رہ گئی۔
’’اگر اب تم نے یہ میک اپ اتارا تو یاد رکھنا روشانے دلاورخان بعد میں اپنا میک اپ تم خود کروں گی کیونکہ مجھے اور صبا کو بھی تیار ہونا ہے اور سارے انتظامات دیکھنے ہیں‘‘ وہ جو من ہی من اپنے پلان پر خوش ہوئے واشروم کی طرف بڑھ رہی تھی فلک کی آواز نے اسکے پیر وہی روک دیے اس نے ایک نظر فلک کو دیکھا جو اسے سپاٹ لہجے میں بولے اب اپنے لیپ ٹاپ پر ناجانے کیا کررہی تھی اور پھر ایک نظر اسنے صبا کو دیکھا جو واقعی میں تھکی ہوئی لگ رہی تھی اور بنا کچھ کہے دوبارا سنگھار میز پر جاکر بیٹھ گئی اور دوبارہ سے اپنا جائزہ لینے لگ گئی حالانکہ اسے ضرورت نا تھی وہ لگ ہی اتنی خوبصورت رہی تھی مگر اس وقت وہ صبا کو کسی بھی قسم کا کریڈیٹ نہیں دینا چاہتی تھی۔
’’ویسے اتنا برا بھی نہیں ہے اور اگر زیادہ مسئلہ ہوا تو میں گھونگھٹ کرلوں گی‘‘ دل میں صبا کی صلاحیتوں کو داد دیتے وہ منہ بناتی بولی جس پر صبا کے چہرے پر ایک خوبصورت سی مسکان آگئی۔
’’یہ اتنی خوبصورت کیوں ہے؟‘‘ روشانے صرف سوچ کر رہ گئی
’’اچھا آپی میں اپنے کمرے میں جارہی ہوں میری جیولری وہی پڑی ہیں، آپ میرا ہیر سٹائل میرے کمرے میں آکر بنا دیجیے گا‘‘ فلک کو کہتے ہی وہ کمرے سے نکل گئی جبکہ صبا نے ایک پرسکون سانس خارج کی اور تھکے ہارے انداز میں آکر بیڈ پر بیٹھ گئی۔
’’یہ سب کیا چل رہا ہے؟‘‘ لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلائے اسنے صبا سے پوچھا، جس پر صبا جان بوجھ کر انجان بن گئی۔
’’کیا۔۔ کیا چل رہا ہے۔ تم کام کر رہی ہوں اور میں تمہارے پاس بیٹھی ہوئی ہوں‘‘ جبکہ صبا کے اس جواب پر فلک مسکرائی بھی نا
’’تمہارے اور روشانے کے درمیان کیا چل رہا ہے صبا، میں جب سے آئی ہوں دیکھ رہی ہوں روشانے کا لہجہ تم سے کتنا بدتمیزوں والا ہے، اور تم بھی بنا کچھ کہے اسے برداشت کیے جارہی ہوں، وجہ بتانا پسند کروں گی؟‘‘ لیپ ٹاپ بند کر کے وہ اب پوری کی پوری صبا کی طرف متوجہ تھی۔
’’ارے یار مجھ سے کیا پوچھتی ہوں جاؤ جا کر شایان سے پوچھو سب کیا چل رہا ہے‘‘ بیڈ پر لیٹتے وہ بولی۔
’’کیا مطلب؟‘‘ فلک نے اچھنبے سے پوچھا جس پر صبا نے اسے صبح کی ساری کاروائی گوش گزار دی۔
’’استغفار ہے ویسے ملک اور اسکا دماغ خیر تم فکر نا کروں خان ہے نا وہ سنبھال لے گا‘‘
’’شایان جیسے شیطان کو سنبھالنا اتنا آسان بھی نہیں ہے‘‘ صبا نے جیسے چیلنج کیا
’’تو تم مجھے اور میرے بھائی کو چیلنج کر رہی ہوں؟‘‘ ایک آبرو اچکائے فلک نے پوچھا
’’ہوسکتا ہے‘‘ صبا نے کندھے اچکائے
’’تو ٹھیک ہے آج مہندی کے بعد سب کلیئر ہوجائے گا‘‘ فلک نے اسکے چیلنج کو قبول کیا کس پر وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراہ دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چونکہ نکاح ہوچکا تھا اسی لیے مہندی کا فنکشن کمبائن تھا، خان سٹیج پر بیٹھا اسی کے انتظار میں تھا جو ناجانے کہاں اتنی دیر لگا رہی تھی۔
’’اففف کب ہوگی انتظار کی گھڑیاں ختم کہ اب اس بےچین دل کو قرار آجائے‘‘ شایان کی بکواس سن کر وہ لب بھینچ کر رہ گیا، فلحال وہ اپنا موڈ شایان کی وجہ سے آف نہیں کرنا چاہتا تھا اور اسکا دماغ بعد میں سیٹ کرنے کا سوچتا دوبارا اس راستے کی طرف دیکھنے لگا جہاں سے روشانے کو لایا جانا تھا اور آخر کار انتظار ختم ہوا جب وہ پیلے مہندی کے فراک میں ہرے دوپٹے کے نیچے نظریں جھکائے اسکی طرف چلی آرہی تھی ایک نظر اسے دیکھ کر اب اسنے شایان کی طرف دیکھا جو ابھی تک اس کے ساتھ چپکے بیٹھے تھا
’’یہاں سے اٹھنے کا کیا لےگا تو؟‘‘ دانت پیستے اسنے پوچھا
’’تو کیا دے سکتا ہے وہ بتا؟‘‘ اپنے دانتوں کی نمائش کیے اس نے پوچھا۔
’’دے تو تجھے بہت کچھ سکتا ہوں مگر جو میں تجھے مہندی کے بعد دینے والا ہوں نا وہ تونے سوچا بھی نا ہوگا‘‘ دانت پر دانت جمائے وہ بولا
’’کیا مطلب؟‘‘ شایان کا ماتھا ٹھنکا
’’کچھ نہیں جا وہ دیکھ تیری بیوی آئی ہےجا اسے سنبھال‘‘ کہتے ہی خان نے سامنے کی طرف اشارہ کیا جہاں روشانے کو سٹیج پر لانے والوں میں سے ایک دل آویز بھی تھی جبکہ شایان کے لیے تو اسکا یہاں ہونا ہی ناقابل یقین تھا کیونکہ دل آویز کی اس سے لڑائی ہوئی تھی جس کی بنا پر اسے نا صرف شادی پر آنے سے انکار کر بلکہ اسے فون پر اتنی سنائی کے شایان تو غصہ ہونے کی بجائے خدا کا شکر ادا کر رہا تھا کہ دل کے الفاظ اسے لائیو شو کی جگہ فون پر سننے کو ملے۔
شایان تو بنا کچھ کہے سٹیج سے نیچے اتر گیا اور اب تمام لڑکیوں نے روشانے کو لاکر خان کے پہلو میں بٹھا دیا جبکہ شایان تو اب بیچانی سے دل کے نیچے آنے کا انتظار کرنے لگ گیا، جیسے ہی وہ نیچے اتری اسکا بازو پکڑے وہ اسے ایک کونے میں لے گیا۔
’’کیا مصیبت ہے بازو چھوڑو میرا‘‘ اسکے ہاتھ سے اپنا بازو چھڑوانے کی ناکام کوشش کرتے وہ پھنکاری
’’ ناراض ہوں؟‘‘ اسنے سوال کیا
’’میں تمہارے سوال کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتی‘‘ وہ چیخی
’’ آواز نیچی دل ورنہ میں لحاظ نہیں کروں گا‘‘ انگلی اٹھائے شایان نے وارن کیا
’’ہاں میں ڈر گئی‘‘ دونوں بازو اٹھائے وہ ڈرنے کی ایکٹینگ کرتے بولی
’’یہاں کیا کر رہی ہوں‘‘ لہجہ دھیما رکھے اسنے پوچھا
’’کیا مطلب کیا کر رہی ہوں نظر نہیں آرہا ہے کہ شادی میں آئی ہوں‘‘ کندھے اچکائے وہ مزے سے بولی
’’کس حیثیت سے‘‘ اسکے قریب آتے وہ بولا
’’کیا مطلب کس حیثیت سے‘‘ اسنے اچھنبے سے پوچھا
’’مطلب صاف ہے دل یہاں تمہارا میرے علاوہ کون ہے جو تم یہاں مزے سے گھومتی پھر رہی ہوں کیونکہ جہاں تک مجھے یاد ہے میں تواپنی بیوی کو نہیں لایا تھا ساتھ‘‘ اسکے چہرے پر جھولتی آوارہ لٹ کو کان کے پیچھے کیے چہرہ اسکے چہرے کے قریب کرتے اسنے پوچھا، ناجانے کیوں مگر دل کی آنکھیں نم ہوگئی
’’دور رہ کر بات کروں مجھ سے، اور بیوی کون سی بیوی؟ وہی جس پر تمہیں شک ہے کہ وہ تمہاری پیٹھ پیچھے گلچھڑے اڑاتی پھر رہی ہوں‘‘ اسے خود سے پرے دھکیلتے وہ اونچی آواز میں چلائی جبکہ شایان ہاتھ بالوں میں پھیر کر رہ گیا۔
’’دل۔۔ دل تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے، کیا بکواس کر رہی ہوں، آئیندہ سے اگر اپنے منہ سے ایسے الفاظ نکالے تو دیکھنا وہ حشر کروں گا کہ تم دیکھتی رہ جاؤ گی۔ شرم نہیں آتی خود کے لیے ایسے الفاظ استعمال کرتے ہوئے ‘‘
’’کیوں کیوں چپ کروں تمہیں شرم نہیں آتی تو مجھے کیوں آئے‘‘ آخر میں اسکی آواز بھیگ گئی۔
’’ششش بس کیا ہوگیا ہے یار میری دل تو اتنی بہادر ہے پھر ایسی باتیں کیوں اور میں کبھی بھی اپنی دل کے لیے ایسے الفاظ کبھی استعمال نہیں کروں، صرف محبت ہی نہیں تم تو میری عزت ہوں، طاقت ہوں میری تمہیں ایسا کچھ کہنے سے پہلے میں مر نا جاؤ‘‘ اسے گلے سے لگائے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرے وہ نرمی سے اسے سمجھا رہا تھا جبکہ اسکی مرنے والی بات پر ایک مکہ دل سے کھانے کو ملا۔
’’اور یار اب اگر میری بیوی کے لیے کوئی رشتہ بھیجے گا تو غصہ آجائے گا نا لیکن اسکا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ مجھے اپنی دل پر شک ہے‘‘ اسکا چہرہ اوپر کیے اسکے آنسو صاف کیے وہ بولا
’’اور وہ جو مجھے اتنی باتیں سنائی تھی وہ؟‘‘ ایک اور شکوہ
’’الو کا پٹھا ہوں میں یار غلطی ہوگئی معاف کردوں مجھے اب کیا کان پکڑو‘‘ بچوں سا منہ بنائے اسنے پوچھا جس پر دل آویز ہنس دی
’’نہیں اسکی ضرورت نہیں بس کبھی اپنی دل پر شک مت کرنا شایان بہت خاص ہوتم میرے لیے‘‘ محبت بھرے لہجے میں وہ اس سے بولی
’’اچھا سب چھوڑو یہ بتاؤ تم یہاں کیسے؟‘‘ اسنے پھر سے وہی سوال دھرایا
’’وہ میں مجھے تو فلک نے بلایا تھا‘‘
’’ فلک نے کیوں؟؟‘‘ شایان حیران ہوا
’’ مجھے کیا پتا خود پوچھ لو‘‘ شایان کو یوں لگا جیسے وہ اس سے کچھ چھپا رہی ہوں
’’دل کیا چل رہا ہے؟ مجھے کیوں لگ رہا ہے کہ تم کچھ چھپا رہی ہوں بتاؤں مجھے؟‘‘ اسے اپنے بازوؤں کے گھیرے میں لیتے اسنے پوچھا
’’وہ تمہیں پتا چل جائے اچھا ابھی مجھے جانا ہے ‘‘ اسکے گھیرے کو توڑتے وہ تیزی سے وہاں سے بھاگی جبکہ شایان کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’فلک‘‘ وہ جو اندر سے مٹھائی کا ٹوکڑا کینے جارہی تھی اپنے نام کی پکار پر پیچھے مڑ کر دیکھا جہاں ارمان کھڑا اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے اسکا اوپر سے نیچے تک جائزہ لینے لگ گیا
’’جی‘‘ بامشکل خود کے لہجے پر قابو پاتے اسنے پوچھا
’’بہت خوبصورت لگ رہی ہوں‘‘ ارمان کے اس تبصرے پر فلک کا دل چاہا کہ اسکا سر پھاڑ دے کیونکہ ارمان کی آنکھیں اور لہجہ دونوں یکسر مختلف تھے، فلک نے بنا کچھ کہے اندر کی طرف قدم رکھا جب وہ دوبارہ بول اٹھا
’’ویسے جب کوئی اتنا قیامت خیز حسن رکھتا ہوں تو اٹیٹیوڈ تو بنتا ہے نا‘‘ اسنے ہنستے ہوئے اسے آنکھ ماری جبکہ فلک کا ضبط جواب دینے لگ گیا
’’اپنی تعریف اپنے پاس رکھے کیونکہ مجھے اسکی ضرورت نہیں‘‘ روکھا سا جواب دیتے وہ اندر جانے لگی جب اسنے دوبارہ اسے روک لیا
’’ضرورت ہو یا نا ہوں مگر اب تو تمہیں اسکی عادت ڈال لینی چاہیے‘‘ اسکے قریب کھڑے وہ بولا جبکہ فلک کا ہاتھ بس اٹھتے اٹھتے رہ گیا
’’فلک یہاں ہوں تم اور میں کب سے تمہیں ڈھونڈ رہا تھا جلدی آؤ یہاں مجھے تمہیں کسی سے ملوانا ہے‘‘ اس سے پہلے فلک کچھ بولتی ہارون وہاں آن پہنچا اور ارمان کو دیکھے بنا فلک کا ہاتھ پکڑے وہاں سے لے گیا اور ارمان تو حیران رہ گیا کہ اسکی کزن ہوکر اس سے سیدھے منہ بات نا کرتے ہوئے وہ اس اجنبی کا ہاتھ پکڑے وہاں سے چل دی وہ بھی تب جب اسنے خود اس رشتے کے لیے رضا مندی دی تھی، غصے سے اسکی رگیں تن گئی
’’تمہیں تو میں بعد میں دیکھ لو گا فلک بی بی اور تمہارے اس عاشق کو بھی۔‘‘ خود سے عہد کرتے وہ اب سٹیج پر مہندی کی رسم کرنے پہنچ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’افف شاہ کہاں لیکر جا رہے ہوں مجھے‘‘ فلک نے جھنجھلا کر پوچھا
’’ماما سے ملوانے‘‘ شاہ نے شوخی سسے جواب دیا
’’ماما سے؟ کیا مطلب آنٹی سے‘‘ جس پر شاہ نے سر ہاں میں ہلایا جبکہ فلک کی آنکھیں بڑی ہوگئی اور وہ راستے میں ہی رک گئی۔
’’کیا ہوا فلک رک کیوں گئی؟‘‘ ہارون نے حیرانگی سے اسے پوچھا
’’شاہ‘‘
’’ہاں؟‘‘
’’میں کیسی لگ رہی ہوں؟ آئی مین کے میں اوور تو نہیں نا اور اگر آنٹی کو میں اچھی نا لگی‘‘ اسنے اپنا خدشہ ظاہر کیا
’’سیرسلی فلک یقین مانو ماما کو تم بہت اچھی لگو گی، اور جہاں تک بات ہے تمہارے حلیے کی تو ماما تمہیں اتنی بری حالت میں دیکھ چکی ہے کہ آج تو تم انہیں کوئی حور پری لگو گی‘‘ اسکی بچکانہ بات پر ہنستے وہ بولا
’’کیا سچ میں؟‘‘ اسنے یقین چاہا
’’ہاں سچ میں اب چلو‘‘
وہ اسے لیے اپنی والدہ کے سر پر آن پہنچا تھا۔
’’ماما فلک سے ملیے‘‘ کہتے ہی اسنے فلک کو آگے کردیا جو اس وقت کافی گھبرائی ہوئی سی تھی
’’ماشااللہ میری بیٹے کی پسند تو لاجواب ہے بھئی‘‘ فلک کے ماتھے پر بوسہ دیتی وہ مسکراہ کربولی جس پر فلک کو خوشی کے ساتھ ساتھ شرم بھی محسوس ہوئی
’’ماننا پڑے گا ویسے میری جان تمہیں لاکھوں میں ایک ہے میری بہو، میں تو بس آج ہی رشتہ ڈال دوں گی تمہارا فلک کے لیے‘‘ خوشی سے چہکتے ہوئے بولی
’’ارے بیٹا بھی تو لاکھوں میں ایک ہے اور آج کیا ابھی ڈالے نا دیکھے سب بڑے رسم کرکے فارغ ہوگئے ہیں‘‘ شاہ کی اس بات پر فلک نےاسے زبردست گھوری سے نوازہ لیکن وہ تو بنا کوئی اثر لیے مزے سے بولے جا رہا تھا اور فلک تو اسے دیکھ کر حیران رہ گئی جس کی شوخیاں آج عروج پر تھی، کتنا خوش تھا وہ۔
’’اسلام علیکم!‘‘ صبا کی آواز نے اسکا سحر توڑا
’’وعلیکم اسلام‘‘ ہارون کی والدہ نے شوق سے اسے دیکھا
’’کیسی ہے آپ آنٹی وہ میں صبا‘‘
’’ہاں پتا ہے مجھے تم ہی ہوں نا میرے شاہ کی سیکریٹ کیپر‘‘ وہ مسکراہ کر بولی جس پر صبا نے سر ہلا دیا
’’کیا کچھ ایسا ہے جو مجھے نہیں معلوم؟‘‘ فلک نے پوچھا اپنی باتوں میں وہ اسے تو بھول ہی گئے تھے۔
’’کچھ نہیں تم ایسا کروں میرے ساتھ آؤ رسم شروع کرنی ہے ہم نے‘‘ اسکا ہاتھ کھینچتے وہ اسے وہاں سے لے گئی۔
’’بچ گئے‘‘ شاہ نے پرسکون سانس خارج کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’تو میرا بھائی چھ بیٹیاں پیدا کرے گا گڈ ویری گڈ مجھے اسی جذبے کی توقع تھی تم سے جونیئر‘‘ مہندی کے جھولے میں اسکے برابر بیٹھتی وہ گویا ہوئی، اسکی اس بات پر روشانے کا چہرہ خفت کے مارے سرخ ہوگیا جسے اسنے جھکا لیا، جبکہ خان نے اسے گھورا جس پر اسنے اسے دانت نکالے۔
’’تمہیں شرم نہیں آتی چھوری چھپے بات سنتے؟‘‘ خان نے گویا اسے شرمندہ کرنا چاہا مگر وہ بھی اسکی بہن تھی۔
’’نہیں بلکل بھی نہیں اتنی سی بھی نہیں آئی،جب میرے بھائی کو بولتے نہیں آتی تو مجھے سنتے کیوں آتی؟‘‘ ہاتھ سے اتنے کا اشارہ بناتے ایک آبرو اچکا کر چہرے پر دل جلا دینے والی مسکراہٹ لیے اسنے جواب دیا۔
’’بہت دھیٹ ہوں تم فلک خان‘‘ وہ صرف اتنا ہی کہہ سکا۔
’’آخر کو تمہاری بہن ہوں‘‘ وہی دل جلا دینے والی مسکراہٹ لیے اسنے جواب دیا۔ جس پر خان دانت پیس کر رہ گیا۔
’’اف کتنے بے شرم ہے دونوں بہن بھائی‘‘ انکی باتیں سن کر پاس بیٹھی روشانے صرف یہی سوچ سکی، اب اسے کون بتاتا کہ یہ دونوں بےشرم کےعلاوہ بھی کیا کچھ نا ہے
’’فلک بی بی بہت زبان چل رہی ہے آپکی لگتا تمہارا انتظام بھی کرنا پڑے گا، تم رکو زرا تایاسرکار سے کہہ کر تمہارے ہاتھ بھی پیلے کرواتا ہوں‘‘
’’کیوں نہیں شوق سے میں تو تیار ہوں‘‘ کندھے اچکاتے ہوئے اطمینان سے اس نے جواب دیا
’’ہم جتنی بےشرم ہو تایا سرکار سے کہہ کر ڈھونڈتا ہوتمہارے لیے کوئی رشتہ‘‘ دانت پیستے وہ گویا ہوا۔
’’لڑکا دھونڈنے کا تکلف مت کرنا وہ میں دھونڈ چکی ہوں‘‘
’’کون ہے وہ؟‘‘ اب خان کا لہجہ یکسر بدل گیا تھا، اسکے اندر کا بھائی انگڑائی لیکر جاگا تھا۔
’’ہارون شاہ‘‘ فلک نے جس اطمینان سے جواب دیا تھا خان کے تو سر پر اتنی ہی زور سے مانو کوئی بمب پھٹا تھا۔
’’ہا۔۔۔ہار۔۔ہارون شاہ، مطلب کے شاہ‘‘ خان کی آواز تو گویا ہلق میں پھنس گئی تھی۔
’’ہاں‘‘ فلک کا وہی اطمینان بھرا جواب
’’کیوں‘‘ بہت ضبط کرکے پوچھا
’’کیا مطلب کیو؟‘‘ اس کی بات پر فلک نے اچھنبے سے اسے پوچھا۔
’’شاہ سے شادی کی کرنے کی کوئی خاص وجہ؟‘‘
’’وہی وجہ جس کی بدولت تم روشانے سے شادی کر رہے ہوں۔‘‘
اور خان تو اسکا انتخاب سن کر پرسکون ہوگیا بےشک شاہ فلک کے لیے بہترین جوڑ تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہندی کی رسم ختم ہوتے ہی سب لوگ اپنے اپنے کمروں کی طرف چل دیے جبکہ وہ پانچوں ابھی تک لان میں تھے یا شاید سب کے جانے کا انتظار کر رہے تھے جب ان کے علاوہ کوئی اور بھی وہاں نا رہا تو وہ چاروں شایان کے سر پر کھڑے ہوگئے جو پہلے تو انہیں دیکھ کر مسکرایا مگر ناجانے کیوں ان چاروں کا اسکے سر پر یوں کھڑا ہونا اسے کچھ ہضم نا ہوا۔
’’واٹس اپ گائز؟‘‘
’’تو ہمیں اس کے ساتھ کیا کرنا چاہیے دوستوں، کیا لگتا ہے تم لوگوں کو؟‘‘ فلک نے سوال کیا اور اسکی بات کو مکمل طور پر اگنور کردیا
’’میں تو کہتا ہوں اسے کرنٹ والے پانی میں پھینک دیتے ہیں اور جب یہ تڑپ تڑپ کر مر جائے گا تو اپنے آپ ہے شہید سمجھا جائے گا‘‘ یہ آیئڈیا ہارون کا تھا
’’نہیں نہیں ایسے کیا مزا آنا، میں تو کہتی ہوں اسکی سر آفاق کے بارے میں کی گئی ساری تعریفیں جو ہمارے پاس ریکورڈ ہے انہیں سنا دیتے ہیں؟ کیسا لگا؟‘‘ اب کی بار صبا بولی
’’ہم آیئڈیا برا نہیں ہے ایسے تو اسے اگلے پانچ سال چھٹی ملنا مشکل ہوجائے گا، مطلب کے پانچ سال تک شادی شدہ ہوتے بھی کنوارا‘‘ فلک کی مسکراہٹ اتنی خوفناک تھی کہ شایان کو اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہوا۔
’’تم کیا کہتے ہوں خان؟‘‘ شاہ نے سوال کیا جو سب سے الگ تھلگ کھڑا تھا۔
’’میں تو کہتا ہوں اسکی اور دل آویز کی طلاق کروا دیتے ہیں، بہت شوق ہے نا اسے دوسروں کی طلاق کروانے کا اور میاں بیوی کے درمیان پھڈا ڈلوانے کا‘‘ خان نے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔
کرنٹ والا پانی، پانچ سال کی چھٹی کینسل، طلاق۔ شایان کو تو اپنا سر چکراتا محسوس ہوا
’’دیکھ خان جو بھی تھا وہ مذاق تھا اور میں صبا اور تجھ سے معافی مانگ لیتا ہوں اور بھابھی کو بھی سب سچ بتا دوں گا ویسے بھی دوستوں یاروں میں تو سب چلتا ہے نا؟‘‘ شایان ہکلا ہکلا کر بولا
’’اتنا بھی نہیں چلتا جتنا آپ نے چلا لیا ملک صاحب‘‘ جوان شاہ نے دیا تھا
’’شاہ تو چپ رہ نہیں تو میں خان کو بتا دوں گا سب‘‘ شایان نے اسے ڈرانا چاہا
’’اچھا کیا بتاؤں گے تم کے میں اور شاہ ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور ہم شادی کرنا چاہتے ہیں‘‘ فلک نے مسکراتے ہوئے پوچھا اور شایان کو دنیا گھومتی ہوئی محسوس ہوئی
’’دیکھو صبا تم تو میری پیاری والی بہن ہونا ‘‘ اب اس صبا تھی جو بچا سکتی تھی اسے
’’میں ضرور تمہاری مدد کرتی اگرتمہاری وجہ سے روشانے مجھے اتنا انسلٹ نا کرتی تو سوری‘‘ صبا کے ہری جھنڈی دکھانے پر شایان کے پاس اور کوئی راستہ نا بچا سوائے اسکے کے وہ بےہوش ہوکر زمین پر گر پڑا اور ان چاروں نےاسے یوں دیکھا جیسے اسکی اداکاری سے اچھے سے واقف ہوں۔
جاری ہے
