Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Udaan by Qanita Khadija Episode22

Udaan by Qanita Khadija Episode22

رخصتی ہوتے ہی اسے خان کے کمرے میں پہنچا دیا گیا تھا دوسری دلہنوں کی طرح شرم سے سر جھکائے اپنے سرتاج کا انتظار کرنے کی بجائے اب وہ آنکھیں کھولے اسکا کمرہ دیکھ رہی تھی،یہ نہیں تھا کہ وہ اس کے کمرے میں پہلی بار آئی تھی مگر غور پہلی بار کی تھی، کمرہ سادہ مگر خوبصورت تھا
جس بیڈ پر اسے بٹھایا گیا تھا وہ بھی بہت سادہ ساتھا، بیڈ کے سامنے ٹیبل پر صرف ایک بوکے رکھا گیا تھا وہ بھی دل آویز کی ضد پر، خان کی سادگی کو مدنظر رکھتے ہوئے گلاب کی ایک لڑی بھی کمرے میں نا تھی، اسے بیڈ پر بٹھائے فلک اسے دیکھے مسکرائے جارہی تھی جو اب بھی غور سے آنکھیں کھولے کمرے کا جائزہ لینے میں مصروف تھی، اسکی آنکھوں میں ابھرتی ستائش فلک دیکھ چکی تھی اور اسے خوشی بھی ہوئی تھی کہ روشانے نے سادہ سے کمرے کو دیکھ کر مائنڈ نہیں کیا مگر وہ پھر بھی کنفرم کرنا چاہتی تھی۔
’’ایسے کیا دیکھ رہی ہے آپ‘‘ فلک کو خود کو دیکھتے ہی روشانے بول اٹھی
’’تم کیا دیکھ رہی ہوں؟‘‘ فلک نے سوال کیا
’’یہ کمرہ بہت اچھا ہے آپی‘‘ وہ اشتیاق سے بولی۔
’’تمہیں واقعی میں اچھا لگا نا میرا مطلب کے جیسا لڑکیوں کو شوق ہوتا ہے انکا کمرہ سجا ہوں یہ ویسا نہیں ہے‘‘ فلک نے اپنا ڈر دور کرنا چاہا
’’ارے نہیں آپی یہ کمرہ تو بہت اچھا ہے، سمپل سا اور خوبصورت بھی‘‘
’’ہمیشہ خوش رہو‘‘ اسکی پیشانی چومتے وہ بولی
’’اچھا اب میں چلتی ہوں خان آنے والا ہوگا‘‘ کہتے کی فلک باہر جانھے لگی جب روشی نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا
’’آپی مت جائے مجھے عجیب سا لگ رہا ہے‘‘ فلک کی سوالیہ نظروں پر وہ بولی، وہ گھبرائی ہوئی تھی فلک جانتی تھی کیونکہ جس ہاتھ میں اسنے فلک کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا وہ بھیگا ہوا تھا۔
’’روشی میں ضرور رکتی مگر عیشا پڑھنی ہے پہلے ہی دیر ہوچکی ہے‘‘ بیڈ پر اسکے پاس بیٹھتے وہ پیار سے سمجھاتے اسے بولی
’’ٹھیک ہے‘‘ سر جھکائے وہ مدہم لہجے میں بولی
’’فکر مت کروں کچھ نہیں ہوگا اور اگر خان نے کچھ کہا نا تو مجھے بتانا، کان نا مڑوڑا اسکا تو میرا نام بھی فلک خان نہیں‘‘ فلک کی اس بات پر وہ ہنس دی، وہ تو فلک کو خان کا کان مڑوڑتے بھی تصور کر چکی تھی، اسکو ہنستا دیکھ کر فلک بھی پرسکون ہوگئی تھی۔
’’کیا باتیں چل رہی ہے بھئی دونوں بہنوں میں؟‘‘ دروازہ ناک کرتے بی ماں نے اندر داخل ہوتے پوچھا
’’ارے بی ماں آیئے نا میں بس جا ہی رہی تھی بس اپنی بہن پلس بھابھی کو کچھ ٹپس دے رہی تھی‘‘ بی ماں سے بات کرتے روشانے کو دیکھ کر آنکھ مارتے وہ بولی جس پر وہ کھلکھلا اٹھی
’’اچھا کیا ٹپس دی جارہی تھی زرا مجھے بھی پتا چلے‘‘ فلک کو دیکھتے اب انکا رخ روشانے کی طرف ہوگیا
’’وہ آپی کہہ رہی تھی کہ اب اگر خان نے کچھ کہے نا تو انکو بتاؤ تاکہ یہ انکے کان مڑوڑ سکے‘‘ فلک کے چپ رہنے کے اشاروں کو اگنور کیے اسنے تابعدار بیٹی کی طرح بی ماں کو سب سچ بتایا جو کہ اب پیچھے مڑے فلک کو گھورنے میں مصروف تھی اور فلک بی بی بند کمرے میں تارے گننے میں
’’تم کچھ کہہ کر تو دکھانا زرا میرے دماد کو بہت مارو گی میں تمہیں‘‘ فلک کا کان پکڑے اب وہ اسے سنانے میں مصروف تھی
’’اللہ بی ماں چھوڑے نا نماز پڑھنے جانا ہے مجھے‘‘ جلدی سے انکے ہاتھ سے اپنا کان چھڑوائے، روشانے کو نظروں کے ذریعے ہی وارننگ دیتے اسنے باہر کو دوڑ لگائی
’’ایک منٹ فلک‘‘ بی ماں کے پکارنے پر وہ رکی
’’یس مائی ڈئیر بیوٹیفل مام‘‘
’’خوش تو ہوں نا اس رشتے سے تم‘‘ اسکے رشتے کو لیکر انہوں نے تصدیق کرنا چاہی
’’بہت زیادہ بی ماں بہت زیادہ‘‘ انکے گلے سے لپٹے، حیا کی چادر اوڑھے وہ بولی اور بی ماں تو پرسکوں ہوگئی۔
’’ ہمیشہ خوش رہوں میری جان‘‘ اسکے ماتھے پر بوسہ دیتی وہ محبت سے بولی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’کام آن دل اب بتا بھی دوں کہ کہاں لیکر جارہی ہوں تم مجھے‘‘ وہ جو اسے اپنے ساتھ کھینچ کر لے جارہی تھی اسکے پانچویں دفع پوچھنے پر وہ رکی اور اسکی طرف دیکھ کر منہ پر انگلی رکھے ’’شش‘‘ چپ رہنے کا کہا
’’شش؟ وٹ ششش، یار تم پانچ منٹ سے یہ منہ پر انگلی رکھے شش اونہہ میرا مطلب ہے کے چپ کروائے جارہی ہوں آخر بات کیا ہے‘‘ وہ جھنجھلا اٹھا
’’اللہ شایان کیا مسئلہ ہے سکون نہیں ہے تمہیں کیا، بتاتی ہوں صبر رکھوں‘‘ شایان کا ہاتھ کھینچتے وہ اسے اسکے کمرے میں لے آئی اور اسکا ہاتھ چھوڑے اب وہ دروازے کی طرف بڑھی اور باہر دیکھنے لگی جب کسی بھی ذی روح کے ناہونے کا یقین ہوگیا تو سکون کی سانس خارج کیے اسنے دروازہ ہلکے سے بند کیا اور شایان کی طرف متوجہ ہوئے جو اب چہرے پر پراسرار مسکراہٹ لیے، دونوں بازو باندھے اسکی طرف دیکھ رہا تھا
’’کیا؟‘‘ ایک آبرو اچکا کر اسنے سوال کیا
’’دل ڈارلنگ تمہارے دماغ میں کیا چل رہا ہے‘‘ مسکراہٹ چھپانے کی ناکام کوشش کرتے اسنے پوچھا
’’مطلب؟‘‘ دل کو سمجھ نہیں آیا
’’ارے تنہا چاند، کالی رات، بند کمرہ صرف میں اور تم، کیا چل کیا رہا ہے تمہارے دماغ میں‘‘ اسکی طرف قدم بڑھائے وہ شوخ لہجے میں پوچھنے لگا، جبکہ دل تو اسکا مطلب سمجھ کر لال ہوگئی مگر فرق صرف اتنا تھا کہ یہ لالی شرم سے نہیں بلکہ غصے کی وجہ سے آئی تھی۔
’’شایان!! بیہودہ انسان تم،تم کبھی بھی سدھر نہیں سکتے ہر وقت، ہر وقت صرف بکواس کیے پائے جاؤں گے تم، بےشرم آدمی‘‘ اسکا تو غصہ ہی کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا
’’اب میں سکون میں ہوں‘‘ اسے گلے لگاتے وہ شرارت سے بولا
’’مطلب؟‘‘ دل کو واقعی سمجھ نہیں آئی تھی
’’ارے یار پورا دن گزرگیا آج کا مگر تم نے اپنےشایان کی شان میں کوئی قصیدہ ہی نہیں پڑھا تو بس، اب تو عادت سی ہوگئی ہے جب تک تمہارے منہ سے تعریف نا سن لو چین نہیں آتا مجھے‘‘ وہ ہنستے ہوے بولا اور دل کو منہ پھول گیا جس پر شایان نے اسکے گال کھینچے۔
’’اچھا اب بتاؤں بھی مجھے یہاں کیوں لائی ہوں یا پھر جو میں سوچ رہا ہوں وہی سچ ہے‘‘ شرارت سے اسکے کان میں وہ بولا
’’ارے ہاں وہ تو میں بھول ہی گئی تم جانتے ہوں شایان آج کیا ہوا‘‘ ڈرامائی انداز میں آنکھیں بند کیے وہ بولی
’’دل مجھے کیا پتا کہ آج کیا ہوا ہے کیونکہ جہاں تک مجھے یاد ہے میں تو گھر پر نہیں تھا‘‘
’’اوہو وہی تو بتانے لگی ہوں تمہیں سنو تو سہی تم‘‘
’’اچھا چلو سناؤ‘‘ اسکو ایکسائٹیڈ ہوتا دیکھ کر وہ ہنس کر پوچھنے لگا۔
اور پھر دل نے آج کی ساری روداد سنا دی شایان کو اور خاص طور پر ارمان کا ری ایکشن اور اکمل خان اور نتاشہ بیگم کی کہانی جس طرح سے اسنے شایان کو سنائی تھی وہ اسکا خون کھولنے کے لیے کافی تھا، ساری کہانی سن کر شایان تو مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا، غصے سے اسکی رگیں تن گئی تھی، مگر دل سامنے خود کو جیسے اسنے قابو رکھا تھا یہ صرف اسے ہی معلوم تھا، اسکا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اس ارمان کو خود اپنے ہاتھوں سے قتل کردے، اسکی آنکھیں لال ہوچکی تھی۔
’’دل جاؤ یہاں سے‘‘ سرد لہجے میں وہ بولا جبکہ دل کو اپنی ہی باتوں میں مگن تھی اسنے چونک کر اسے دیکھا جس کی مٹھیاں بھینچ چکی تھی، وہ غصے میں تھا جس کا اندازہ دل کو باخوبی ہوچکا تھا
’’کیا ہوا شایان تم ٹھیک ہوں نا‘‘اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھے وہ بولی، تھوڑی دیر پہلے والی شوخی کا اب شائبہ تک نا تھا اسکے چہرے پر
’’ہمم کافی دیر ہوگئی ہے تمہیں جانا چاہیے اب‘‘ وہی سرد لہجہ
’’شایان۔۔۔‘‘
’’جاؤ دل باقی باتیں کل ہوگی‘‘ اسکی بات کاٹتے وہ بولا، دل نے کبھی بھی شایان کو اس حد تک سنجیدہ نہیں دیکھا تھا، کچھ غلط تھا اس بات کا اندازہ وہ لگا چکی تھی اور اسنے جانے میں ہی آفیت سمجھی
’’ٹھیک ہے کل بات کرے گے، شب بخیر‘‘ اسکے ماتھے پر بوسہ دیا وہ وہاں سے چل دی جبکہ شایان نے صرف سر ہلانے پر اکتفا کیا جس کو دل نے بہت محسوس کیا مگر کچھ کہے بنا باہر چل دی جب پیچھے سے شایان نے اسکا ہاتھ پکڑلیا۔
’’شب بخیر دل‘‘ اسکے ماتھے کو چومتا وہ بولا اور وہ مسکراہ کر باہر چل دی
شایان نے کیسے خود کو قابو کیا تھا یہ تو وہی جانتا تھا، اور خان بھی جانتا تھا کہ اسنے خود کو کیسے قابو کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جو اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا اچانک اسے یاد آیا کہ آج شایان روشانے کو کچھ کہہ رہا تھا مگر اس وقت وہ فلک اور شاہ کے ساتھ تھا، اسے شک تھا کہ کہی اسنے پھر سے روشانے کو کوئی الٹی سیدھی بات نا کہہ دی ہوں اور اس سے پہلے کہ روشانے کوئی نیا الزام اس پر لگائے وہ پہلے ہی شایان سے پوچھ آئے، جب وہ شایان کے دروازے پر پہنچا تو اسے بند دیکھ کر دستک دینے کے لیے ہاتھ اٹھایا مگر اندر سے آتی دل آویز کی باتوں کی آواز سے اسکا ہوا میں ٹہرا ہاتھ پہلو میں آگرا اور وہ سب کچھ سنتا رہا جب دل کہہ چکی تو وہ بنا کچھ کہے وہاں سے چل دیا ایک ہارے ہوئے جواری کی طرح، آنسوؤں اسکی آنکھوں سے بہہ نکلے، وہ کتنی بار اپنے ماں باپ کی وجہ سے شرمندہ ہوچکا تھا یہ تو وہ بھی نہیں جانتا تھا، اسے نفرت محسوس ہورہی تھی ان سے اور خود سے بھی کیونکہ وہ انہی کہ وجود کا حصہ تو تھا، خود پر قابو پاتے وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھا جب اسکی نظر فلک کے بند کمرے کی طرف گئی، نجانے کیوں مگر اسے شدید غصہ آگیا، بنا ناک کیے وہ اسکے کمرے میں داخل ہوا
’’چٹاخ‘‘ اسکے پاس جاتے ہی بنا کوئی لحاظ کیا ایک زوردار تھپڑ اسنے فلک کے منہ پر مارا، اور وہ جو جائے نماز اپنی جگہ رکھ کر مڑی ہی تھی اسکے تو چودہ طبق روشن ہوگئے، اپنے گال پر ہاتھ رکھے وہ حیران کن ںطروں سے خان کو دیکھنے لگی جس کی خود کی حالت کسی زخمی انسان سے کم نا تھی۔
’’کیا سمجھ رکھا ہے تم نے خود کا ہاں، کیا بہت مہان ہوتم، اتنی بڑی ہوگئی ہوں کہ اپنی زندگی کے فیصلے خود سے لینا شروع کردیے تم نے، تمہیں کسی کا احساس نہیں کسی کا خیال نہیں تمہیں ، ایسی بھی کیا انا پرستی بتاؤں فلک خان کیوں کیا تم نے ایسا، کیا میں مر گیا تھا جو تم نے اپنی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ یوں لے لیا، کیا کوئی کھیل ہے تماشہ چل رہا ہے کوئی یہاں، مگر نہیں فلک خان کو تو ہیروئین بننے کا بہت شوق ہے نا بہت سمجھدار ہے یہ، جو فلک خان نے کہہ دیا بس وہی ٹھیک باقی سب کچھ غلط، بہت تکلیف دی ہے تم نے مجھے فلک خان بہت زیادہ، خود کو اس وقت ناکارہ محسوس کررہا ہوں میں، ایک بےبس انسان، ایک کمزور مرد‘‘ وہ رو دیا تھا آنسوؤں تو فلک کی آنکھوں سے بھی ہہ نکلے تھے۔
’’کیوں نہیں کرسکتی میں کوئی ہاں، یہ میری زندگی ہے اور اسکے فیصلے کرنے کا حق ہے مجھے، اور جہاں تک بات ہے احساس اور خیال کی تو نہیں ہے مجھے کسی کا احساس کسی کا خیال کیوں کروں میں کسی کا احساس کیوں ہا کیوں کروں میں، اور جہاں تک بات ہے انا پرستی کی تو وہ انا پرستی نہیں تھی، وہ تو وقت تھا کہ اب ان احسانات کو لوٹا دیا جائے جو مجھ پر کیے گئے تھے، بتاؤں مجھے کس منہ سے میں بی ماں کو انکار کرتی، باپ کے ہوتے ہوئے بھی میں نے یتیموں والی زندگی گزاری ہے جونیئز، ماں کے ہوتے ہوئے بھی میں نے خود اپنے آپ کو اس دنیا کے مطابق ڈھالا تھا، کیونکہ میرے باپ کے پاس میرے لیے وقت نہیں تھا اور ماں وہ جو خود بھی بےخبر تھی، ایسے میں تایا سرکار اور بی ماں ہی تھے جنہوں نے مجھے جینا سکھایا اور میں کیا کہتی آئی ایم سوری میں آپ کے بیٹے سے شادی نہیں کرسکتی رئیلی سوری۔۔ کس بنا پر بولو کس بنا پر میں انہیں منع کردیتی، میرے پاس میرے باپ کی سپورٹ یا ماں کا سہارا نہیں تھا، میری ماں نے پوری زندگی سر جھکانا سیکھا ہے، میں چاہے اکمل خان کی بیٹی سہی مگر میری ماں نتاشہ اکمل نہیں بلکہ رخسانہ اکمل ہے، میں دلاور خان نہیں ہوں جس کو جو چاہیے وہ آنکھ بند کر کے مل جائے گا میں فلک خان ہوں مجھے محنت کرنا پڑی تھی ہر چیز کو حاصل کرنے کے لیے اور تم کہتے ہوں کہ مجھے ہیروئین بننے کا شوق ہے تو بلکل سہی کہا ایسی ہی ہوں میں خود غرض، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا سمجھے تم‘‘ وہ چلا رہی تھی جب خان نے اسے گلے لگا لیا وہ دونوں اس وقت رو رہے تھے، دونوں کی تکلیف دونوں کا غم ایک جیسا تھا۔
’’ایک بار ایک بار تو مجھ پربھروسہ کیا ہوتا، اپنے بھائی کو ایک بار تو یاد کر کے دیکھتی تم، کیا میں ابھی بھی اتنا ہی اجنبی ہوں تمہارے لیے فلک، جانتی ہوں کتنی تکلیف دی ہے تمہارے اس عمل نے مجھے، بڑا نا سہی چھوٹا ہی سہی مگر بھائی تو ہوں نا، اتنی بےاعتباری، کیوں فلک کیا تمہیں اپنے جونیئر پرزرا سا بھی یقین نہیں تھا، جانتی ہوں وہ شخص جس کے لیے تم نے ہاں کی تھی اپنا خواب تک داؤ پر لگادیا تھا وہ تمہیں بیچنے والا تھا۔۔۔‘‘ بہت ضبط سے خان نے اس یہ بات بتائی جبکہ وہ تو جھٹکے سے اس سے علیحدہ ہوتے آنکھوں میں حیرانگی لیے اسے دیکھنے لگی
’’تو کیا بی ماں اور تایا سرکار بھی۔۔۔۔‘‘ اس سے آگے وہ سوچ نا سکی
’’نہیں فلک خدارا ان کی محبت پر شک مت کروں، انہیں سچائی معلوم چل گئی تھی اسی لیے تمہارا رشتہ ختم کیا انہوں نے‘‘ وہ اسکی آنکھوں میں رقم سوال پڑھ چکا تھا اسی لیے اسے جواب دیا
’’مگر تم فلک خان میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا بہت تکلیف دی ہے تم نے مجھے خود سے نفرت محسوس کر رہا ہوں میں‘‘
’’خان‘‘ اسکی طرف بڑھے اسنے پکارا
’’بس ایک اور لفظ نہیں‘‘ ہاتھ اٹھائے اسے روکتا وہ تیزی سے اسکے کمرے سے نکل گیا مگر جو چوٹ اسکے دل پر لگی تھی جو زخم اسے ملا تھا وہ بہت گہرا تھا درد کی شدت اختیار کرچکی تھی مگر آج وہ سب کچھ سلجھا کر رہے گا اور یہی فیصلہ کیے وہ اکمل خان کے کمرے کی طرف بڑھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ارے اس وقت کون ہے‘‘ دروازہ بجتا دیکھ کر نتاشہ بیگم نے حیرت سے اکمل خان کو دیکھ کر پوچھا
’’میں دیکھتا ہوں‘‘ بیڈ سے اٹھتے انہوں نے دروازہ کھولے سامنے خان کو پایا تو حیران رہ گئے جس کی آنکھیں سرخ انگارہ ہوچکی تھی اس وقت
’’ارے خان آؤ نا‘‘ اسے اندر آنے کا اشارہ کرتے وہ اب بیڈ پر جا کر بیٹھ گئے
’’اور کتنا زلیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں آپ مجھے‘‘ بغیر کوئی لگی لپٹی رکھے اس نے پوچھا
’’کیا مطلب ہے اس بات کا خان‘‘ انکا لہجہ سخت تھا اور ماتھے پر بل بھی نمودار ہوگئے تھے
’’میں پوچھا اور کب تک مجھے یوں دوسروں کے سامنے زلیل کرتے رہے گے آپ لوگ‘‘
’’ہوش میں تو ہوں کیا بکواس کر رہے ہوں؟‘‘ وہ ناگوار لہجے میں بولے
’’میں تو ہوش میں ہی ہوں مگر یہ کنفرم کرنے آیا ہوں کے آپ نے بےحسی کی ایسی کون سی دوا پی لی ہے جس کا اثر ختم ہی نہیں ہورہا‘‘ چبا چبا کر اسنے لفظ ادا کیے
’’کیا کہنا کیا چاہتے ہوں تم؟‘‘
’’آخر کیا بگاڑا ہے اسنے آپکا جو آپ اسکی زندگی کے اسکی خوشیوں کے دشمن بن گئے ہیں، کیوں سکون سے نہیں جینے دیتے آپ اسکو‘‘
’’خان کس کی بات کر رہے ہوں تم؟‘‘
’’فلک، فلک کی بات کر رہا ہوں میں جو بد قسمتی سے آپ ہی کی اولاد ہے، کیا کردیا ہے اسنے جو آپ نے ٹھان لی ہے کہ آپ اس سے زندگی جینے کا حق چھین لے گے، خدا کے لیے بس کردے، اپنی یہ گری ہوئی حرکتیں چھوڑ دے اللہ کا واسطہ ہے آپ لوگوں کو، مت کرےہم دونوں کو یوں لوگوں کے سامنے زلیل، مت مجبور کرے مجھے کہ میں آپ دونوں سے سارے تعلق سارے رشتے توڑ ڈالو، تھک گیا ہوں میں اب اور ہمت نہیں ہے مجھ میں کہ آپ کے کیے کا بوجھ سہہ سکو، میری زندگی کو پرسکون رہنے دے اسے خراب مت کرے‘‘ انکے سامنے ہاتھ جوڑتے وہ بولا جبکہ اسکی اس حرکت پر تو ان دونوں کو سانپ سونگھ گیا کس قدر تھکا لگ رہا تھا وہ۔
’’رحم کرے ہم پر اور چھوڑ دے ہمیں ہمارے حال پر، بس کردے، چھوڑدے یہ نفرتوں کے جال بننا کچھ حاصل نہیں ہوگا، التجا ہی سمجھ لے مگر اب ہماری زندگیوں سے کھیلنا بند کردے، یہ احسان ہوگا آپ لوگوں کا ہم دونوں پر‘‘ کہتے ہی وہ بےبس سا قدم اٹھائے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا جبکہ اکمل خان تو اپنی جگہ جم کر رہ گئے اور نتاشہ بیگم کی نفرت مزید پختہ ہوگئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی اسکی نظر سامنے سوئے ہوئے وجود پر پڑی تو اسے افسوس بھی ہوا اور غصہ بھی آیا کیونکہ آج کے ڈرامے میں وہ اسے تو مکمل طور پر فراموش کرچکا تھا، بنا کچھ کوئی شور کیے وارڈرووب سے کپڑے نکالے وہ واشروم میں گھس گیا، شاور لینے کے بعد تولیے سے بال رگڑتا وہ باہر آیا اب وہ خود کو کاف حد تک ریلیکس کر چکا تھا، ایک بار پھر اسکی نظر بیڈ پر سوئے ہوئے وجود پر گئی، اصل مسئلہ تو خان کے سونے کا تھا کیونکہ صوفہ پر وہ کمفرٹیبل نہیں تھا۔
’’روشانے، روشانے اٹھو یار‘‘ اسکو ہلاتے وہ بولا
’’کیا ہے سونے دے نا‘‘ اسکا ہاتھ جھٹکتی وہ کروٹ لیے بولی
’’تم تو سو جاؤ گی مگر میرے سونے کا کیا؟‘‘ اسکو دوبارہ ہلاتے اسنے پوچھا
’’تو آپ بھی سوجائے میں نے کیا لوریاں سنانی ہے‘‘ نیند میں ڈوبی بیزار آواز میں بولی
’’کیسے سوجاؤ پورا بیڈ تو آپ محترمہ کے قبضے میں ہے‘‘ سینے پر ہاتھ باندھے اسکے سر پر کھڑا وہ جھنجھلا کر بولا
’’اففف سونے نہی دینا مجھے لے اٹھ گئی، اب آپ جناب بھی آئے اور اپنی پسند کی جگہ منتخب کرکے سوجائے‘‘ آخر کار وہ اسے اٹھانے میں کامیاب ہوگیا تھا
’’شکریہ محترمہ‘‘ بایئں جانب لیٹتے وہ بولا
’’رکو‘‘
’’اف اب کیا ہے‘‘ وہ جھنجھلا اٹھی
’’جاؤ شاباش کپڑے چینج کر کے آؤ ابھی‘‘
’’صبح کرلوں گی ناں‘‘
’’ابھی کا مطلب ابھی ہوتا ہے چلو شاباش جلدی کروں‘‘ روشانے کوفت زدہ سی بیڈ پر سے اٹھے نائٹ ڈریس لیے واشروم کی طرف بڑھ گئی
’’ہنہ رہتے نہیں شوہر کہی کے‘‘ وہ بڑبڑائی، جسے وہ اچھے سے سن چکا تھا
’’شوہر تو میں ہوں تمہارا مگر ابھی تھوڑی دیر پہلے بیوی سے کم تو تم بھی نہیں تھی‘‘ وہ شرارت سے بولا جبکہ وہ واشروم میں گھس گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’کیا ہوا خان آپ ٹھیک تو ہے نا؟‘‘ چینج کرکے واشروم سے نکلتے ہی اسنے خان کو اپنی پیشانی مسلتے دیکھا تو پوچھ بیٹھی
’’ہاں وہ درد ہے بہت‘‘
’’میں دبا دوں؟‘‘
’’ارے نہی بھئی اچھا لگتا ہے اپنی ایک رات کی بیوی سے سر دبواؤں میں اپنا‘‘
’’اس میں کچھ برا بھی نہیں ہے چلے شاباش لیٹے میں سر دبا دوں آپکا‘‘ اسے تکیے پر لٹائے وہ اسکے سرہانے بیٹھی اسکا سر دبانے لگی جس سے خان کو ڈھیروں سکون ملا
’’کھانا کھایا تھا آپ نے؟‘‘
’’پوری بیوی لگ رہی ہوں ایسے سوال کرتے ہوئے‘‘
’’تو بیوی ہوں تو لگوں گی نا، آپ جواب دے کھایا تھا کھانا؟‘‘
’’ہاں بابا کھایا تھا‘‘
’’ میڈیسن دوں‘‘ فکرمندی سے اسنے سوال کیا
’’نہیں بس پاس رہو سر دباتی رہوں‘‘ وہ پرسکون سا تھا، نیند کب مہربان ہوئی اس ہر اسے کچھ خبر نا ہوئی
’’میرا غصیلہ خان‘‘ اسکی پیشانی چومتے وہ محبت سے بولی
’’مائی اینگری برڈ‘‘ اسکے سینے پر سر رکھے اسکا سینا چومتے وہ بولی اور جلد ہی نیند کی وادیوں میں گم ہوگئی، اسکے سونے کا یقین کرتے ہی خان نے آنکھیں کھول دی، روشانے نے بےشک ہی اسے سوتا سمجھ کر اقرار کیا تھا مگر اسے سرشار کر گیا تھا
’’مائی اینگری برڈ‘‘ اسکی بات دوہراتے وہ ہنس دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح بھی سب اپنی اپنی تیاریوں مین مگن تھے کیونکہ آج ایک نہیں دو دو فنکشن تھے، آج بیوٹیشن نے خود ہی آکر ان دونوں کو تیار کردیا تھا وہ دونوں اس وقت فلک کے ہی کمرے میں دلہنیں بنے بیٹھی رتھی جب خان دروازہ ناک کیے اندر آیا
’’روشانے میرے ساتھ آنا زرا‘‘ فلک پر ایک بھی نظر ڈالے بنا وہ روشانے سے کہنے لگا
’’اچھا دس منٹ تک آئی‘‘
’’روشانے میں نے کہا آؤ تو اسکا مطلب ابھی آؤ‘‘ وہ زرا سخت لہجے میں بولا، جس پر فلک نے اسے چونک کر دیکھا جبکہ خان نے اسے اگنور کردیا اور روشانے اسکا تو منہ بن گیا اور وہ بھی خان کے پیچھے چل دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’افف خان کیا ہوگیا ہے آرہی تھی نا میں ‘‘ ڈریسنگ مرر کے سامنے کھڑی اپنا ڈوپٹا سیٹ کرتے وہ بولی، جبکہ خان نے بنا کچھ کہے اسے پیچھے سے اپنے حصار میں لیا
’’بہت خوبصورت لگ رہی ہوں‘‘
’’پتا ہے‘‘
’’ناراض ہوں‘‘
’’ہونے چاہیے؟‘‘
’’بلکل ہونا چاہیے‘‘
’’کیوں ہونا چاہیے؟‘‘ اب اسنے سوال کیا
’’کیونکہ میں نے اپنی بیوی کی تعریف نہیں کی‘‘
’’اور؟‘‘
’’اور۔۔۔اور یہ‘‘ کہتے ہی اسنے ایک خوبصورت سا پینڈینٹ اسکے گلے میں پہنا دیا
’’یہ تو بہت خوبصورت ہے خان‘‘ اسکو چھوتے وہ بولی
’’پسند آیا؟‘‘
’’بہت زیادہ‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر کو وہ گھڑی آہی گئی تھی جس کا سب کو انتظار تھا، قاضی صاحب آچکے تھے اور اب وہ کمرے داخل ہوئے فلک کے پاس آگئے
’’نکاح شروع کرے؟‘‘ انہوں نے اجازت چاہی
’’جی ضرور مولوی صاحب‘‘
’’فلک خان ولد اکمل خان آپکا نکاح ہارون شاہ ولد جمال شاہ سے سکہ راج الوقت پچاس ہزار حق مہر قرار پایا ہے۔ کیا آپ کو قبول ہے؟‘‘
’’قبول ہے‘‘
’’کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟‘‘
’’قبول ہے‘‘
’’قبول ہے؟‘‘
’’قبول ہے‘‘
’’مبارک ہوں‘‘ سب نے ایک دوسرے کو مبارک باد دی اور اب سب فلک کو مبارک دے رہے تھےجبکہ وہ خان کو دیکھے گئی جو نکاح ہوتے ہی قاضی صاحب کو لیے وہاں سے چل دیا، اسکی بےاعتنائی پر اسے رونا آرہا تھا۔
کچھ دیر بعد ہی ہارون نے بھی ایجاد و قبول کے مراحل طے کرلیے تھے اور اب اسے سٹیج پر لیجا کر شاہ کے برابر بٹھا دیا گیا تھا۔
سٹیج پر دو صوفے تھے ایک پر خان اور روشانے جبکہ دوسرے پر شاہ اور فلک بیٹھے تھے۔
کچھ دیر بعد فوٹو سیشن کا دور چلا تھا وہ دونوں اس وقت ایک دوسرے کے قریب کھڑے تھے
’’سنو۔۔۔۔۔اچھی لگ رہی ہوں‘‘ اسے پاس کھڑا وہ اسکے کان میں جھک کر بولا۔
’’سنو۔۔۔۔مجھے پتاہے‘‘ اسکی بات کا جواب ویسے ہی مسکرا کر، کندھے اچکاتے وہ بولی۔
اس کے جواب پر ایک خوبصورت مسکراہٹ اسکے چہرے پر در آئی۔ یہ لڑکی واقعی اسکی سمجھ سے باہر تھی۔
فوٹوگرافر کی ہدایت پر اسکا ہاتھ پکڑے اب وہ اسکی طرف منہ کیے کھڑا تھا
’’میری زندگی میں شامل ہونے کا شکریہ مسز ہارون شاہ‘‘ اسکا ہاتھ تھامے وہ محبت سے بولا
’’مجھے اپنی زندگی میں شامل کرنے کا شکریہ مسٹر ہارون شاہ‘‘ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے، محبت کے دیپ جلائے وہ بولی۔
’’مبارک ہومیرے یار‘‘ تھوڑی دیر بعد ہی خان اس سے ملنے آیا
’’کتنی بار مبارک باد دے گا تو؟؟‘‘ شاہ نے ہنستے ہوئے پوچھا
’’اچھا وہ تجھے ملک بلا رہا تھا‘‘ اسنے بات بنائی
’’ملک مجھے خیریت؟‘‘
’’پتا نہیں خود پوچھ لے‘‘
’’اچھا میں آیا‘‘
اسکے جاتے ہی خان بھی جانے لگا تھا جب فلک نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا
’’ارمان کے کیے کا بدلہ کبھی بھی روشانے سے مت لینا خان وہ بہت معصوم ہے‘‘ نکاح کے سرخ جوڑے میں ملبوس اسکا ہاتھ پکڑے اسنے التجا کی
’’تمہاری بےاعتباری مجھے ایک دن ختم کردے گی فلک ہارون شاہ‘‘ چبا چبا کر الفاظ ادا کرتے اسکے چہرے پر زخمی مسکراہٹ در آئی
’’خوش رہوں‘‘ اسکے سر پر ہاتھ رکھتا وہ وہاں سے چل دیا جبکہ فلک کی آنکھیں بھیگ گئی۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *