260.6K
19

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Lot Ane Tak Episode 9

Tere Lot Ane Tak by Sanya Chaudhary

رات تک وہ لوگ گھر پہنچ گئے تھے گیٹ کے باہر گاڑی روکتے ہی ازلان کی سخت آواز آئ

اترو نیچے

حور جلدی سے دروازہ کھول کر باہر نکلی اس کے نکلتے ہی ازلان گا ڑی زن سے بھگا لے گیا وہ سست قدموں سے چلتی ہوئی اندرآئ

ملازمین کو شائد پہلے ہی ان کے آنے کا پتا چل چکا تھا

السلام عليكم حور بی بی (حور کے لاؤنج میں داحل ہوتے ہی ملازمہ نے کہا

وعلیکم السلام (حور کہتی ہوئی صوفے پر بیٹھ گئی

جب ملازمہ نے اسے پانی لا کے دیا

کھانا کھایں گی (اسنے گلاس لیتے ہوے پوچھا

ہاں کمرے میں ہی لے آنا (وہ سر ہلاتی چلی گئی

اور حور اٹھ کر اپنے اور مہر کے مشترکہ کمرے میں آ گئی حویلی میں تو مجبوری تھی ازلان کے کمرے میں رہنے کی لیکن یہاں تو کوئی مجبوری نہیں تھی نا اسے پتا تھا کے ازلان اب بھی نہیں آے گا اپنے کمرے میں اسی لئے وہ خود ہی اس کمرے میں آ گئی تھی

کھانا کھانے کے تھوڑی دیر بعد ہی وہ سو گئی تھی رات کے کسی پہر آنکھ کھلی تو ٹائم دیکھا جو کے 11 ہو رہے تھے

پیاس محسوس کرتے ہی وہ پانی پینے کی غرض سے باہر آئ

ازلان کے روم کی طرف دیکھاجو کے بند تھا وہ کچن میں ہی تھی جب گاڑی کی آواز آئ

اور کچھ ہی لمحوں بعد ازلان لاؤنج میں تھا ایک نظر اس پر ڈالنے کے بعد وہ آگے بڑھنے لگا

کھانا کھایں گے (حور کی بات پر اسکے بڑھتے قدم رک گئے تھے

ہوں (فقط اک لفظ بول کر وہ آگے بڑھ گیا تھا جب کے حور ہونے بے قابو ہوتی دھڑکن کو سمبھال رہی تھی بہت ہمت متجمع کر کے اس نے یہ پوچھا تھا

پھر وہ کچن میں گئی فرج کھول کے آٹا نکالا

اور اسکی چپاتی بنانے لگی کیوں کے ازلان کو ہمیشہ سے ہی تازہ چپاتی کھانے کی عادت تھی

اتنی دیر میں ازلان بھی آ گیا تھا فریش ہو کر وہ کچن میںٹیبل کے گرد رکھی کرسیوں پر بیٹھ گیا

حور کو اسکی موجودگی سے گھبراہٹ ہو رہی تھی اور ازلان اسکی نظریں مسلسل حور پر تھیں

حور نے جلدی جلدی ساری چیزیں سیٹ کیں اور ٹرے میں رکھ کر اسکے سامنے ٹیبل پر رکھیں

کھانا ٹیبل پر لگاؤ (وہ پلٹنے لگی تھی جب ازلان کی بھا ری سنجیدہ آواز آئ تھی

اسنے کپکپاتے ہاتھوں سے جلدی سے ساری چیزیں رکھیں اور اور پلٹ کر اس کے لئے چاے بنانے لگی

جب تک ازلانکھانا حتم کیا حور نے چاے بنا کے اسکے سامنے رکھی اور کھانے کے برتن اٹھا کر دھوے

وہ چاے پی کر اٹھا کپ سلیب پر رکھا اور خاموشی سے باہر نکل گیا

جب کے حور کی نظروں نے دور تک اسکا پیچھا کیا

______________

وہ کمرے کی گلاس ونڈو میں کھڑی م افق پر پھیلتی چاند کی روشنی کو دیکھ رہی تھی اور سوچوں کے بھنور میں الجھی ہوئی تھی شام سے کئیں دفع اذلان کو کال کر چکی تھی لیکن اسکا نمبر بند جا رہا تھا سوچوں کا رخ احراز کی طرف گیا وہ جو اسکا محرم تھا جو دل سے عزیز تھا لیکن اپنے بھائ کو کھونے کے بعد اس کا دل اس کی طرف سے بدگمان ہو گیا ۔ایک طرف نکاح کا مقدس رشتہ تھا تو دوسری طرف وہ خوفناک حادثہ ایک طرفہ مقدس رشتہ احراز کے قریب اسے لاتا تھا تو دوسری طرف وہ حادثہ اسے احراض سے دور کرتا تھا

وہ انہی سوچوں میں تھی جب پیچھے سے کسی نے اسے اپنے حصار میں لیامہر کی روح تک کانپ گئی وہ اس لمس کو پہچانتی تھی پیچھے مرنا چاہا لیکن مقابل نے اپنی گرفت مضبوط کر کے اس کی کوشش ناکام کی اور اپنا سر مہر کے کندھے پے رکھ دیا ۔

کیا دیکھ رہی تھی آسمان پر (وہ مہر کے کان کے بلکل قریب منہ کر کے بولا

مہر مسلسل خود کو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی اسکی سانسیں مہر کو اپنآئ کان کی لوؤں پر محسوس ہو رہی تھیں

ک کیوں آیں ہے آپ یہاں (مہر نے اپنے کپکپاتے لہجے پے قابو پاتے ہوے کہا

تمہاری تشنگی تمہاری ناراضگی مٹانے کے لئے (اس نے جذبات سے چور لہجے میں کہتے ہوے اس کے کیچر میں قید بالوں کو آزاد کیا جب کے گرفت ہنوز مضبوط تھی

اور مہر وہ تو اسکا لہجہ اور حرکتیں دیکھ کر اندر تک کانپ گئی تھی اسے احراز سے خوف محسوس ہونے لگا تھا

چاہتے کیا ہیں آخر آپ کیوں میری زندگی میں اور مشکلات پیدا کر ہے ہیں

مہر نے بھرا ی ہوئی آواز میں کہا سے کہا اور آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے

احراز نے اس کا رخ اپنی طرف کیا مہر کے آنسو صاف کیے

صرف تمہیں چاہتا ہوں تمہارا ساتھ چاہتا ہوں(احراز نے کہتے ہوے پردے برابر کیے

پلیز احراز آپ چلیں جایں یہاں سے پلیز (مہر نے روتے ہوے کہا اسکی ٹانگیں بری طرح کپکپا رہیں تھیں دل اندر ہی اندر لرز رہا تھا

آج نہیں آج میں تمہاری ساری ناراضگی ختم کر دوں گی (اخراز نے کہتے ہوے اسے اپنے بازؤ ں میں اٹھایا اور بیڈ تک لے گیا

مہر نے زور سے اپنی آنکھیں بند کر دیں

کیوں کے اخراز نے اسکے فرار کے سارے راستے مسدود کر دیے تھے

۔ ۔❤❤❤

اگلی صبح حور جب تک اٹھی ازلان جا چکا تھا اس نے ناشتہ کیا

اور اب وہ بور ہو رہی تھی موبائل کا حیال آ آتے ہی وہ کمرے کی طرف بڑھی اس نے مہر کو کال کی لیکن وہ اٹھا نہیں رہی تھی

پھر ماما کو کال کی تھوڑی دیر ان سے بات کرنے کے بعد وہ اٹھی اور لاؤنج میں آئ لاؤنج کی بیل بجی حور دروازہ کھولنے چلی گئی

ارے آنٹی آپ آئے نہ ہمسائی والی آنٹی حمیرا تھیں ۔وہ دونوں آکر لاؤنج میں بیٹھ گئیں

بیٹا میں تو کل بازار سے آئ تو آپ لوگوں کی گاڑی دیکھی سوچا کل ملوں گی

جی ہم کل ہی آئے ہیں (حور نے جواب دیا

ہاں میں بھی سوچوں اس دفعہ کچھ زیادہ ہی دن رہے آپ لوگ وھاں حیریت تھی بیٹا جو اتنے دن وہاں لگا دیے ۔حمیرا آنٹی نے مزید پوچھا پوچھا

جی وہ مہر کی شادی تھی اس کے بعد حماد بھائ کی وفات حادثے کے تحت ہو گئی بتاتے ہوئے حور کی آنکھوں میں نمی اتر آئ

ہائے بیٹا ا سے کیا ہوا وہ تو ماشاءاللہ جوان تھا ۔حور مزید کچھ نہ بول پائی

اللہ بہتر کرے گااب پریشان نہ ہو ۔مہر یا اور کوئی نہیں آئ کےاذلان کے ساتھ اکیلی آئی ہو کیا انہوں نے تشویشی انداز میں پوچھا حور ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ کیا کہے کے پیچھے سے اذلان کی آواز آئی ۔جی حور میرے ساتھ آئ ہے اور اب میری بیوی ہے اس نے گھمبیر آواز میں کہا ۔

ارے بیٹا آ گئے تم کیسے ہو احراز کا بہت افسوس ہوا اور ہیں تمہاری شادی کب ہوئی حمیرا نے سر پر پیار کرتے ہوئے پوچھا ۔ انٹی آپ بیٹھیں نہ میں آپ کے لئے چائے بناتی ہوں(حور نے کہا وہ وہاں سے کھسکنا چاہتی تھی

حور میں فائل بھول گیا تھا وہی لینے آیا ہوں میں جا رہا ہوں

اس نے کہا اور قدم باہر پرھا دیے ۔

پھر حور ان کے لئے چاے لے کے آئ کافی دیر بیٹھنے کے بعد وہ گیں اور حور کی بھی بوریت تھوڑی بہت دور ہو گئی

۔ ۔ ۔❤❤❤

مہر کی جب آنکھ کھلی تو چہرہ موڑ کر دوسری طرف دیکھا تو وہ جگہ خالی تھی رات کا سارا منظر اسکی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا آنسو ایک دفع پھر رستہ بنا کے نکل آے تھے

پھر گھڑی پے نظر پڑتے ہی جلدی سے اٹھی اور واشروم کی طرف بڑھی اور فریش ہونے چلی گئی

فریش ہو کر آئ تو ڈریسنگ کے شیشے میں اپنا عکس نظر آتے ہی شرم سے چہرہ گلابی ہو گیا پھر سر جھٹکتی بال سلجھا نے لگی ۔ ❤❤❤

ازلان جس وقت گھر آیا رات ہو چکی تھی اور سدرہ (ملازمہ ) جا چکی تھی

حور نے پانی کا گلاس لا کر دیا جسے اس نے خاموشی سے پکڑ لیا اور پھر فریش ہونے چلا گیا

حور نے کل کی طرح کھانا ٹیبل پر لگایا کیوں کے اسے کل والی بات یاد تھی خود تو وہ شام کو سینڈوچ کھا چکی تھی

ازلان کے کھانا کھانے کے بعد اس نے برتن سمیٹے جب باہر آئ

تو ازلان لاؤنج میں ہی بیٹھا لیپ ٹاپ پر کچھ کام کر رہا تھا اور سامنے نیوز چل رہیں تھیں

حورین نے مہر کو کال کرنی تھی لیکنموبائل کی بیٹری لو تھی لینڈ لائن سے کرنے کا سوچا لیکن اب اذلان کی وجہ سے سوچا بعد میں کرے گی

اور کمرے میں چلی گئی

کافی دیر بعد نکلی تب بھی وہ وہیں بیٹھا تھا

حور نے ہمت کی اور لاؤنج میں رکھےفون سے کال کرنے لگی جو کے کچھ مسلہ کر رہا تھا جسکی وجہ سے کال نہیں جا رہی تھی

دو تین بار ٹرائ کرنے کے بعد حور نے فون رکھ دیا اور پلٹنے لگی

لیکن اذلان کے فون پر نظر پڑتے ہی اسکی آنکھیں چمک اٹھیں جو کے صوفے کے ساتھ ٹیبل پر پڑا ہوا تھا

حور نے کن اکھیوں سے ازلان کی طرف دیکھا جو کے ہنوز لیپ ٹاپ کی طرف متوجہ تھا

اس نے آلتو جلال کا ورد کرتے ہوے موبائل اٹھایا اور بھاگنے کی کی

اور پھر کچن میں آ کے ہی دم لیا اور مہر کا نمبر ملانے لگی

مہر نے جب ازلان کے نمبر سے کال دیکھی تو یاد آیا کے حور کو بھی کال کرنی تھی اور حور کے نمبر سے کالز کا لز آئ تھیں

وہ خود کو کوستی کال اٹھانے لگی لیکن آگے حور کی آواز سن کر بہت خوش ہوئی

حور نے تھوڑی سی بات کر کے کال بند کی اور مڑی تو سانس سینے میں ہی اٹک گئی

سامنے ہی اذلان کھڑا تھا اور پرسکون ہو کر اسے دیکھ رہا تھا پر اسکی آنکھوں میں جو شعلے تھے حور کو ان سے خوف آ رہا تھا

اس نے خود ہی موبائل والا ہاتھ آگے کیا ازلان نے اپنا فون پکڑ ا اور حور کی طرف دیکھا جو سر جکھاے لب کاٹ رہی تھی

ازلان نے اپنے دوسرا ہاتھ حور کے سامنے لہرایا حور نے دیکھا تو کے ہاتھ۔ میں حورکا فون تھا

میری اجازت کے بغیر میرا فون کیوں لیا ؟(اذلان کی سخت آواز سے اسے اپنے ماتھے پےپسینے کے کچھ قطرے محسوس ہوے

و وہ (ابھی اس نے کچھ بولنا چاہا تھا کے ازلان نے زور سے اسکافون دیوار میں دے مارا جو ٹکرے ٹکرے ہو گیا تھا

حور تو اسکے غصے سے اندر تک لرز گئی تھی اور اب تو وہ با قاعدہ کا نپ رہی تھی

یہ سزا ہے میری اجازت کے بغیر میری چیز لینے کی اب ہر دفع کال کرنے سے پہلے تمہیں میری اجازت درکار ہے ہوں (اذلان اپنے اسی سخت لہجے میں کہتا اسکا گال تھپتھپا تا ہوا باہر نکل گیا جب کے حور اپنے بے جان ہوتےوجود کو گھسیٹتے کمرے میں آ گئی روتے روتے نہ جانے کب اسکی آنکھ لگی تھی اسے پتا ہی نہی چلا

۔ ❤❤❤

اگلا پورا دن وہ کمرے میں ہی بند رہی شام ہوئی اور جب بھوک زیادہ برداشت نہ ہوئی تو وہ باہر نکل آئ

باہر آئ تو سدرہ نہیں تھی کچن بھی خالی تھا گارڈ سے پوچھنے پر پتا چلا کے آج وہ آئ ہی نہیں طبیعت خرابی کی وجہ سے

حور اندر بڑھ گئی اور کھانے کا کچھ سوچنے لگی کیوں کے اسے تو کچھ چیزیں ہی بنانی آتی تھیں

اس نے کچھ سوچ کے دال بنا لی کیوں کے یہ ہی اچھے سے بنا لیتی تھی وہ

اذلان کے آنے تک اس نے کھانا بنا لیا تھا اور اسکے فریش ہو کر آنے تک حور کھانا ٹیبل پر لگا چکی تھی

اذلان نے کھانا دیکھا اور ایک نظر حور کو جو خاموشی سے کھا رہی تھی

اور اگلے ہی لمحے اس نے حور کا منہ کی طرف جاتا ہوا ہاتھ پکڑا اور اپنے منہ کی طرف لے گیا

اور حور اسے تو تب سمجھ آئ جب نوالے کے ساتھ وہ حور کی انگلی بھی بری طرح کاٹ چکا تھا

حور کی ایک سسکی نکلی تھی اس نے اپنی انگلی کی طرف دیکھا جہاں سے خون کی بوندیں نکل رہیں تھیں

آئندہ کچھ بھی اسطرح کا بنانے سے اختیاط کرنا ورنہ اگلی دفع میں تمہارے ہاتھ کے ساتھ بھی کوئی دریغ نہیں کروں گا ( اتنا کہتے ہوے وہ جھٹکے سے اٹھا اور باہر نکل گیا جب کے حور ڈبڈبائ نظروں سے اسے جاتا دیکھ رہی تھی

____________

حور وہی بیٹھ کے روتی چلی گئی پچھلے کچھ دنوں سے وہ رو ہی تو رہی تھی اس نے اپنا سر ٹیبل پر رکھ لیا آنسو لگاتار نکل رہے تھے دل بہت زیادہ اداس تھا

اک حسرت دل میں اٹھی تھی کاش کوئی اپنا کاش ماما کے پاس وہ جا سکتی تو ان کی گود میں سر رکھ کر خوب روتی لیکن اب تو وہ فون پر بات کرنے کے لئے بھی ازلان کی مختاج تھی لینڈ لائن میں بھی کوئی مسلہ تھا جس کا اذلان کو ابھی تک علم نہیں تھا کافی دیر بعد حور اٹھی برتن سمیٹے اور اپنے کمرے میں چلی گئی اور کچھ نہ سوجھا تو دوار پے نسب ایل سی ڈی آن کر کے بیٹھ گئی

اور کافی دیر دیکھنے کے بعد بیٹھے بیٹھے ہی سو گئی

ازلان کافی لیٹ جب گھر آیا تو اپنے کمرے کی طرف جاتے ہوے حور کے کمرے سے آتی آوازوں نے اس کے قدم وہی روک لئے اس نے اپنا رخ حور کے کمرے کی طرف کیادروازے تک پہنچ کر ہینڈل پر ہاتھ رکھا تو دروازہ کھلتا چلا گیا ۔

نظر بیڈ پر پڑی تو حور میڈم بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاے سو رہی تھی اور سامنے ایل سی ڈی پر کوئی فنی پروگرام چل رہا تھا ازلان سر جھتکتا آگے بڑھا ریموٹ سے بند کیا اور حور کی طرف بڑھا اس پر لحاف ڈالتے ہوے اذلان کی نظر انگلی پر پڑی جو کے تھوڑی سوج چکی تھی اس نے فرسٹ ایڈ باکس سے ٹیوب نکالی اسکی انگلی پے لگائی اور دروازہ بند کرتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا

وہ حور کی ہوش میں کبھی بھی اسکے ساتھ نرم رویہ نہیں رکھ سکتا تھا اس کے بھائ کو بھی تو پتا چلے کے اپنوں کو تکلیف ہو تو کیسا لگتا ہے لیکن دل کے ایک کونے میں ابھی بھی حور تھی اور شائد ہمیشہ رہتی ۔

۔ ❤❤❤

رات کے کسی پہر جب حور کی آنکھ کھلی تو یاد آیا کے وہ تو کوئی فنی پروگرام دیکھ رہی تھی اور پھر وہی سو گئی تھی تو یہ کمبل کیسے اس کے اوپر آیا اور پروگرام بھی بند ہو چکا تھا

تو کیا وہ آے تھے کمرے میں کیا انھیں ابھی بھی میری فکر ہے (دل میں خوش فہمیاں جگہ لے رہی تھیں وہ تو سوچ رہی تھی کے شائد ازلان بدل رہا ہے لیکن اسے نہیں پتا تھا کے ابھی مشکلات شروع ہوئیں تھیں

۔ ❤❤❤

ازلان آفس میں بیٹھا تھا جب اسکا موبائل بجا نمبر دیکھا تو بابا کا تھا گہری سانس لیتے ہوے کال پک کی یہ حویلی سے آنے کے بعد یہ پہلی کال تھی انکی

السلام عليكم بابا اسنے سلام میں پہل کی

و سلام کیسے ہو برخوردار

اللہ‎ کا شکر ہے بابا آپ کیسے ہیں

جو کارنامہ آپ یہاں کر کے گئے ہیں اس کے بعد کیا توقع رکھتے ہو (انکی غصے بھری آواز ابھری

بابا مانتا ہوں کے غصے سے اٹھ گیا ہاتھ اب کیا کروں پھر اس نے بھی تو غلط بولا تھا نہ (اذلان نے کہا

لیکن بیٹا جی اسکی غلطی کوئی بڑی نہیں تھی کے آپ وہ سب کرتے اس دفع تو پہلی اور آخری دفع سمجھ کر معاف کر رہا ہوں اذلان لیکن اگر آئندہ حور کو کوئی بھی تکلیف پوھنچی تو یاد رکھنا سب سے پہلے تمہارے سامنے میں آؤں گا (ان کی آواز میں غصہ تھا اذلان کو لگ رہا تھا کے اگر وہ اس وقت ان کے سامنے ہوتا تو ضرور ایک آدھ لگا دیتے

ماما اور مہر کیسی ہے بابا (اذلان نے بات بدلنی چاہی تا کے انکا غصہ کچھ کم ہو

ٹھیک ہیں وہ دونوں تم بتاؤ حور کیسی ہے اور اذلان اسے پریشان مت کرنا زیادہ (انہوں نے اب کی بار نرم لہجے میں کہا

ٹھیک ہے وہ بابا مجھے ایک میٹنگ اٹینڈ کرنی ہے اسکا ٹائم ہو گیا ہے

ٹھیک ہے حور کی بات کروانا مجھ سے اور اپنا حیال رکھنا اللہ‎ حافظ

اللہ‎ حافظ (اذلان نے کہتے ہوے فون رکھا اور میٹنگ کے لئے اٹھ کھڑا ہوا

۔ ❤❤❤

وہ جائے نماز پے بیٹھی مسلسل دعا مانگ رہی تھی اور ساتھ ساتھ آنسو اور سسکیاں بھی جاری تھیں

یا اللہ‎ جی پلیز میری مشکلیں آسان کر دیںازلان پہلے کی طرح ہو جایں پلیز اللہ‎ جی میرے دل کو سکون دے دیں سکون آ جائے میری زندگی میں جیسے پہلے تھا وہ دعا مانگ کر ہاتھ پھیرنے لگی تھی کے ازلان آ گیا حور نے اسے دیکھا تو جلدی جلدی دوبارہ ہاتھ دعا کے لئے کھڑے کر دیے

اذلان جو کے اس سے کچھ بات کرنے آیا تھا اسے ایسے دیکھ کر خاموشی سے صوفے پے بیٹھ کر موبائل یوز کرنے لگا

حورین نے کن اکھیوں سے اسے دیکھا جو کے موبائل میں کچھ ٹائپ کر رہا تھا یہ شائد نظروں کی تپش کا احساس تھا کے اذلان نے نظریں اٹھا کر حور کی طرف دیکھا

اس نے سٹپٹاتے ہوے جلدی سے نظریں پھیریں اور دعا مانگنے میں مگن ہو گئی ازلان نے ٹائم دیکھا تو دس منٹ گزر چکے تھے لیکن حور ابھی بھی ویسے ہی دعا مانگ رہی تھی

وہ اٹھ کر کمرے میں ٹہلنے لگا پانچ منٹ مزید سرکے اذلان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا لیکن حور پر کوئی اثر نہیں تھا

کچھ سوچتے ہوے وہ باہر کی طرف بڑھا اسکے کمرے سے نکلتے ہی حور نے منہ پر ہاتھ پھیرا اور اٹھنے لگی کے آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گیں

اذلان دروازے سے ٹیک لگاے کھڑا تھا بازو سینے پے لپیٹے کھڑا تھا

ہو گئی ختم دعا یا ابھی اور کرنی ہے (وہ بغور اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوے کہنے لگا

ن نہیں ہو گئی ختم آ آپ کو کوئی کام ہے (حور نے لرکھرائی زبان میں کہا اب تو اسکے سامنے بولنے سے پہلے ہی زبان لڑکھڑا جاتی تھی

ہمم میرے کمرے میں آو ابھی (اتنا کہتے ہی وہ روم سے نکل گیا جب کے حور سوچ رہی تھی کے اب پتا نہیں کیا کہنا ہے بس سب حیر ہو

وہ سست قدموں سے چلتی ہوئی اسکے کمرے کی طرف بڑھی دروازہ کھولا تو وہ سامنے ہی صوفے پے بیٹھاہوا تھا سامنے لیپ ٹاپ رکھا تھا اور ارد گرد فائلز بکھری ہوئ تھیں حور ابھی ایک ہی قدم آگے بڑھی تھی جب اسکی آواز کانوں میں پڑی

واپس جاؤ (حور تو حیران تھی کے یہ کیا کہ رہا تھا وہ

ج جی ( حور فقط ایک لفظ ہی بول پائی

واپس جاؤ اور نوک کرو جب تک میں نہ کہوں تم اندر نہیں آو گی (اب کی بار اس نے غصے سے کہا حور نے اسکو آنکھوں میں دیکھتی واپس مڑی

باہر جا کر دروازہ نوک کیا لیکن کوئی آواز نہیں آئ تھی اس نے دوبارہ نوک کیا لیکن کوئی فائدہ نہیں تھا اب وہ کمرے میں بھی نہیں جا سکتی تھی

اور اندر بیٹھا ازلان جیسے کان بند کیے بیٹھا تھا آخر کار جب حور کو باہر کھڑے پندرہ منٹ گزر گئے تو سولویں منٹ ازلان نے اسے اندر آنے کی اجازت دی یہ حور کو ازلان کو انتظار کروانے کی سزا تھی

جب وہ کمرے میں آئ تو اسکے چہرے پر بے بسی رقم تھی

آپ نے بلایا تھا (اس دفع اپنے لہجے کو مضبوط بناتے ہوے بولی

اب سے مجھے ہر صبح میرے کپڑے جوتے ٹائی والٹ میری امپورٹنٹ فائلز ہر چیز تیار اور جگہ پر ملنی چاہیے جو کے تم کرو گی اور غلطی کی بلکل گنجائش نہیں ہوگی سمجھ گئی (اس نے بات کے آخر میں حور سے پوچھا جو کے بغور سن رہی تھی

اسنے جلدی سے اثبات میں سر ہلایا

اوکے گڈ اب صبح کے لئے میری وائٹ شرٹ نیوی بلیو پینٹ کوٹ بلیک ٹائی اور بلیک شوز ریڈی کر دو (وہ کہتا ہوا اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گیا جب کے حور رات کے اس وقت اتنے کام سن کر چکرا کر رہ گئی

ابھی ضروری ہے (اس نے اٹکتے ہوے پوچھا

اگر تم صبح کرنا چاہو تو پانچ بجے سے پہلے سب کچھ ریڈی کر دینا ( وہ کہ کر دوبارہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گیا

جب کے حور اسکی واڈ روب کی طرف بڑھی بڑی مشکل سے پینٹ کوٹ ڈھونڈنے کے بعد شرٹ ڈھونڈی اور پھر اینڈ پے ٹائی جو کے ایک مشکل کام تھا

بلیک کی جگہ سلور۔۔۔۔۔۔ (اتنا کہتے ہی ازلان کی سخت نظروں سے خائف ہو کر وہ بلیک ٹائی ڈھونڈھنے لگی بلآخر بلیک ٹائی مل ہی گئی پھر کپڑے پریس کیے جو کے بہت ہی مشکل تجربہ تھا ابھی وہ ہینگ کر کے وارڈروب میں رکھنے لگی جب ازلان کی آواز بلکل اپنے پیچھے سے سن کر ہینگر ہاتھ سے چھوٹتے چھوٹتے بچا

دوبارہ کر کے لاؤ پریس اسے (اذلان کے کہنے پر اسنے ایک نظر اذلان پر ڈالی

ابھی تو کر کے لائی ہوں پھر کیوں ( حور نے ہمت کر کے کہا

خود بھی دیکھ لو اپنی کیے گئے پریس کو یہ پہلی اور آخری دفع ہے آئندہ اس طرح ہوا تو اپنی سزا بھی سوچ لینا ( وہ کہتا ہوا بیڈ پر نیم دراز ہو گیا جب کے حور دوبارہ سے پریس کرنے چلی گئی نیند بھی بہت سخت آئ تھی لیکن کیا کرتی

کپڑوں کے بعد اس نے جوتے پالش کر کے رکھے

میں نے بلیک شوز کہا تھا (اذلان کی گرج پر وہ جو فائل پکڑ رہی تھی فائل ہاتھ سے چھوٹ گئی

س سوری مسن ابھی کر دیتی ہوں ( حور کہتی ہوئی جلدی سے جوتوں کی طرف بڑھی بلیک شوز پالش کرنے کے بعد فائل اکٹھی کر کے بیگ میں ڈالیں اور دیوار گیر گھڑی پر نظر ڈالی جو بارہ کا ہندسہ کراس کر گئی تھی

میں جاؤں اب(حور نے اذلان سے پوچھا اور اجازت ملتے ہی فورا سے باہر نکلی کب سے رکی ہوئی سانس بحال ہوئی تھی…