260.6K
19

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Lot Ane Tak Episode 14

Tere Lot Ane Tak by Sanya Chaudhary

ٹھیک ہے پھر تیار ہو جانا مجھے کچھ ضروری کام ہے وہ کر کے آ جاؤں گا (ازلان کہتا ہوں اپنی چیزیں لے کر باہر کی طرف بڑھ گیا ۔

نے کچھ دیر آرام کیا پھر اٹھ کر فنکشن میں پہننے کے لئے کوئی کپڑے دیکھنے لگی کیوں کہ جو اس نے سلیکٹ کیے تھے وہ تو ادھر ہی تھے ۔

کچھ دیر بعد اس نے ڈریس سلیکٹ کر لیا ازلان جب کمرے میں آیاتو خود کو دیکھ کر دنگ رہ گیا

میں بلیک کلر کی فراک ڈالی ہوئی تھی جس پر خوبصورت کام ہوا ہوا تھا

بالوں کا جوڑا بناے وہ ڈریسینگ کے سامنےکھڑی تھی اور اتنی پیاری لگ رہی تھی کے ازلان کا دل کیا کے سارے فاصلے ساری رنجشیں مٹا دے لیکن وہ خاموشی سے آگے بڑھا اور بلکل اسکے پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا

حور یک دم چونکی تھی اور ازلان کو شیشے میں سے دیکھا ۔

ازلان نے ہاتھ بڑھایا اور اگلے ہی لمحے حور کے بالوں کا جوڑا کھول دیا جب کے حور دم سادھے اسے دیکھ رہی تھی ۔

وہ اسکے کان کے پاس جھکا تھا ۔

مجھے بندھے بال پسند نہیں ہیں حور اور تمہیں صرف وہ چیزیں کرنی چاہیں جو مجھے پسند ہیں اسلئے آیندہ میری پسند کو مدنظر رکھ کر تیار ہونا ہوں

(ساکت سی حور کو کہتا وہ اپنے کپڑے نکال کر واشروم کی طرف بڑھ گیا ۔

کچھ دیر بعد باہر آیا تو بلیک ہی شلوار سوٹ میں ملبوس تھا اپنی تیاری کر کے ایک آخری نظر حور پر ڈالی اور اسے باہر آنے کا اشارہ کر کے خود باہر نکل گیا ۔

ان کے پہنچنے سے پہلے بارات پہنچ چکی تھی مہرحور کو دیکھتے ہی اسکی طرف لپکی ۔

حور تم ٹھیک ہو ؟کیا ہو گیا تھا کل ؟(مہر فکر مندی سے پوچھ رہی تھی ۔

ٹھیک ہوں میں بس تھوڑی طبیعت خراب ہو گئی تھی (حور نے مسکراتے ہوے کہا ۔

اچھا میں تو پریشان ہو گئی تھی آؤ سب پوچھ رہی تھیں تمہارا (مہر حور کو لئے آگے بڑھی

معیداورفروا (دولہا دلہن )دونوں بہت اچھے لگ رہے تھے نکاح ہو چکا تھا اور فنکشن عروج پر تھا

ایسے میں کسی کی حسد بھری نگاہیں حور پر تھیں مسلسل اور وہ اس بات سے انجان تھی

_____________

کیسی ہو خورین (اسٹیج کے پاس کھڑی تھی جب پاس سے آواز آئی اس نے مڑ کر دیکھا تو وہ زمل کھڑی تھی ۔

شارٹ سلیو لیس شرٹ میں اور چست پاجامہ پہنے لبوں پر گہرے رنگ کی لپسٹیک لگاے کھڑی تھی ۔

میں ٹھیک آپ کیسی ہیں (حور نے مسکراتے ہوے جواب دیا ۔

میں تو ٹھیک ہوں ایسی تم تو بڑی چیز نکلی ازلان کو ایسے قابو کیا تمنے کے اسنے آنافانا ہی نکاح پرواہ لیا

(زمل لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ سجائے بول رہی تھی جب کہ حور تو جیسے حیرت میں ڈوب گئی ۔

آپ میں سمجھ نہیں رہی آپ کیا کہہ رہی ہیں (کچھ لمحوں بعد حور نے حیرانگی سے کہا۔

اب اتنی بھی معصوم نا بنو تم تمہارے بھائی نے اسکے بھائی کو مار دیا اور تمنے اس سے ہی نکاح کر لیا(وہ تو بول رہی تھی اور حور کے دل کوبری طرح کچوکے لگا رہی تھی

ویسے ایک بات یاد رکھنا اسکاپیار زیادہ دیر تک نہیں چلے گا کچھ مہینوں بعد ہی چھوڑ دے گا تمہیں ۔ ۔ ۔ (

کیا باتیں ہو رہی ہیں یہاں (ابھی وہ کچھ کہتی جب ازلان وہاں آیا ۔

کچھ نہیں بس میں حور ین سے کہ رہی تھی کے ایسا کیا ہوا کے اتنی جلدی تم دونوں کا نکاح ہو گیا (زمل نے مسکراتے ہوے کہا جب کے ازلان نے ایک ناگوار نظر زمل پر ڈالی اور حور کو بولا

حور تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے نا تو گھر چلتے ہیں میں نے مہر کو بتا دیا ہے (ازلان نے مسکراتے ہوے حور کو کہا اور اسے اپنے بازو کے حصار میں لیا جب کے حور تو زرد چہرہ لئے خالی خالی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔

اوکے زمل اللہ‎ حافظ (ازلان نے فق چہرہ لئے کھڑی زمل کو کہا اور حور کو لے کر آگے بڑھ گیا ۔

پھر وہاں سے نکل کر گاڑی تک لایا اور دروازہ کھول کر حور کے بیٹھا کر خود دوسری طرف آکر ڈرائیونگ سیٹ سمبھال لی ۔

ار یو اوکے (ازلان نے حور کو دیکھتے ہوے پوچھا جو ابھی بھی گومگو کی کیفیت میں تھی۔

ازلان کی بات پر خالی خالی نظروں سے اسے دیکھنے لگی اور پھر پتا نہیں اسے کیا ہوا کے یک دم ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر رو پڑی ۔

اور ازلان وہ تو پریشان ہو گیا ۔

حور کیا ہوا ہے تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا(ازلان نے اسکے چہرے سے ہاتھ ہتاتے ہوےپوچھا ۔

حور نے روتے ہوے نفی میں سر ہلایا ۔

پھر کسی نے کچھ کہا ہے زمل نے کہا ہے کچھ کیا؟ (ازلان نے اسکا چہرہ جو کے رونے کی وجہ سے سرخ ہو رہا تھا دیکھتے ہوے پوچھا ۔

حور نے کوئی جواب نا دیا ۔

حور جب تک تم مجھے بتاؤ گی نہیں مجھے پتا کیسے چلے گا ۔

ازلان کے کہنے پر اسنے ایک نظر ازلان کودیکھا ۔

ووہ زمل آپی پتا نہیں ۔ ۔ کیا کہ رہی تھیں م میں نے آپ کوقابو کر لیا اور اور ۔۔۔

(وہ روتے ہوے ہچکیوں سے اسے ساری بات بتا رہی تھی جیسے کوئی چھوٹی بچی ہو ازلان کے چہرے پریک دم مسکراہٹ آ گئی جسے وہ بڑی مہارت سے چھپا گیا ۔

اور ؟

اور ۔ یہ کے آپ مجھے چھوڑ دیں گے (ازلان نے اسکی آخری بات پے بی ساختہ اپنے لب بھینچے

ادھر دیکھو میری طرف (ازلان نے اسکے بازو پکڑ کر اسکا رخ اپنی طرف کرتے ہوے کہا ۔

وہ جو کہ رہی تھی وہ سب فضول باتیں تھیں اور جہاں تک چھوڑنے کی بات ہے تو وہ میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا اور ایک بات آیندہ تم زمل سے دور رہو گی کوئی فنکشن ہو تو بھی اس سے نہیں ملو گی اوکے

ازلان کی بات پے اسنے بچوں کی طرح اثبات میں سر ہلایا ۔

چلو اب رونا نہیں اور یہ لو (ازلان نے کہتے ہوے اسے پانی کی بوتل تھمای اور خود گاری سٹارٹ کر لی ۔

آج تو اسے جھٹکے لگ رہے تھے ازلان کا اتنا نرم رو

یہ اس سے ایسا لگ رہا تھا جیسے پہلے جیسا وقت آ گیا ہو حور نے کن اکھیوں سے اسے دو تین دفع دیکھا لیکن وہ سنجیدگی سے ڈرایوکر رہا تھا ۔

گھر آکر وہ جلد ہو سو گئی جب کے ازلان اپنا کچھ کام کرنے لگ گیا ۔

۔ 💕💕💕

بھائی کیا کر رہے ہیں (ازلان اپنے کمرے میں تھا جب مہر دروازہ نوک کر کے اندر ای ۔

کچھ نہیں آپ اؤ (ازلان نے کہتے ہوے لیپ ٹاپ بندکیا ۔

مہر آ کرازلان کے ساتھ بیٹھ گئی ۔

حورین کہاں ہے (مہر نے کمرے میں نا پاکر کہا

نیچے ہےشائد

بھائی آپ نے چلے جانا ہے کل (مہر نے کہ لر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا ۔

ہاں ایک دوں دن میں کیوں (اسکو سمجھ نا ای ۔

تو آپ اس دفع حورین کو یہاں ہی رہنے دیں نا سب اسکا حیال بھی اچھے سے رکھ لیں گے۔

نہیں حور کو میں ساتھ لے کر جاؤں گا آپ فکر نا کریں میں اسکا حیال رکھوں گا اچھے سے ۔

بھائی آپ ایسے کیوں ہو گئے ہیں (مہر نے کچھ لمحے کے توقف سے کہا ۔

کیسا ہو گیا ہوں

مطلب پہلے آپ اتنے اچھے تھے ہمارے ساتھ تو اچھے اب بھی ہیں لیکن حورین پہلے آپ اسکا کتنا حیال رکھتے تھے

لیکن اب آپ اسکو کتنے دکھ دیتے ہیں بھائی آپ سمجھتے ہیں کے اخراز اور حورین کا قصور ہے لیکن بھائی آپ کو پوری بات ہی نہیں پتا ۔ ۔ ۔ ان کا قصور نہیں ہے (مہر کہتی ہوئی چپ ہوئی

مہر میں دماغ یہ سب قبول نہیں کرتا اور نا دل اور آگر دل قبول کر بھی لے نا تو دماغ حاوی ہو جاتا ہے

پھر بھی میں کوشش کروں گا اور حور میرے ساتھ ہی جائے گی آپ ٹینشن نا لیں میں خیال رکھوں گا اسکا (ازلان نے کہتے ہوے اسکے سر پرچپت لگای ۔

ارےمہر تم کب ای(حور کہتے ہوے اندر داخل ہوئی ۔

کچھ دیر پہلے ہی تم بتاؤ کدھر تھی

(وہ حور کو لے کر باتیں کرنے میں مصروف ہو گئی جب کے ازلان دوبارہ سے پنے کام میں مصروف ہو گیا

۔💕💕💕

ازلان حور کو لے کرواپس آگیا تھا زندگی اسی ڈگرپر رواں تھی ازلان کا رویہ پہلے سے بہتر تھا ۔

حورکی آنکھ کھلی تو نظر ساتھ پڑی جہاں بیڈ خالی تھا وہ اٹھ کر واشروم کی طرف بڑھی

کچھ دیر بعد باہر نکلی

نماز پڑھی پھر ازلان کا ٹریک سوٹ نکال کر رکھا اور خود قران مجید کی تلاوت کرنے لگ گئی ۔

کچھ دیر بعد ازلان نماز پڑھ کر آیا ٹریک سوٹ اٹھایا اور واشروم کی جانب بڑھ گیا باہر نکل کر ایک نظر حور پر ڈالی اور چیزیں لیتا باہر نکل گیا ۔

حور کچن میں تھی جب ازلان آیا کمرے میں آکر آفس کے لئے تیار ہوا اتنی دیر میں وہ ناشتہ لئے اندر آ چکی تھی ۔

وہ اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوے خود بھی آ کر بیٹھ گیا ۔

پھر ایک گلاس میں جوس ڈال کر اسے پکڑایا پھر ٹوسٹ پر جیم لگاکر اسکے آگے کی اور خود بھی ناشتہ کرنے لگا ۔(اور یہ تو روز کا معمول تھا

ڈاکٹر کے پاس جانا تھا آج (حور نے ناشتہ کرتے ہوے اسے کہا ۔

ہمم ٹھیک ہے ج پانچ بجے تک آ جاؤں گا تیار ہو جانا (ازلان نے اپنا ناشتہ ختم کرتے ہوے کہا

ازلان(وہ اٹھنے لگا جب حور نے اسے بلایا

ہوں (وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا ۔

کیا آپ مجھے سی سائیڈ پر لے جایں گے آج (حور سے اس بات کی توقع نہیں کر رہا تھا وہ

اس نے حور کی طرف دیکھا اسکی آنکھوں میں آس تھی ۔

ہمم ٹھیک ہے لے جاؤں گا(ازلان نے کہتے ہوے کی چین اور والٹ اٹھایا اور خدا خافظ کہتا باہر نکل گیا

___________

ازلان آپ ایسے کیوں کیوں ہو گئے ہیں (وہ دونوں سی سائیڈ پے واک کر رہے تھے جب حور بولی

کیسا ہو گیا ہوں ؟(ازلان نے اسے دیکھ کر پوچھا جو ازلان کی طرف نہیں دیکھ رہی تھی ۔

اتنے بدل گئے ہیں آپ نے تو کہا تھا آپ کبھی نہیں بدلیں گے (حور دور خلاؤں میں دیکھتی ہوئی بولی ۔

وقت بدل گیا ہے خالات بدل گئے ہیں اور یہاں تک کے لوگ بھی بدل گئے ہیں تو پھر میرا بدلنا تو فطری ہے (ازلان نے کچھ لمحوں کے بعد جواب دیا ۔

حور اسکے جواب پر بلکل خاموش ہو گئی ۔

کیا سب کچھ ٹھیک نہیں ہو سکتا شائد آپ جو سمجھ رہے ہوں وہ غلط ہو (وہ پھر ہمت کر کے بولی ۔

نہیں کچھ نہیں ٹھیک ہو سکتا اور آنکھوں دیکھا غلط نہیں ہو سکتا سو تم یہ حیال دل سی نکال دو کے کبھی سب کچھ پہلے کی طرح ہو گا

(وہ بےرخی سی بولتا ہوا حور کے دل میں موہم سی امید کو توڑ گیا ۔

۔۔ 💕💕

After 8 month

حور دیکھو یہ کتنی پیاری ہے (ہسپتال کے کمرے میں اس وقت گھر کے سبھی افراد موجود تھے ۔

مہر نے حور کی بیٹی اٹھائی ہوئی تھی ۔

کتنے چھوٹے چھوٹے ہیں اسکے ہاتھ پاؤں

ہاں تو چھوٹی ہے تو ہاتھ پاؤں بھی چھوٹے ہوں گے نا

(ندرت بیگم نے اسکی اوٹ پٹانگ سی بات پر مسکراتے ہوے کہا ۔

بھائی اسکا نام کیا رکھیں گے (مہر نے بچی ازلان کو دیتے ہوے کہا ۔

عیشال (ازلان نےاسکی پیشانی پے بوسہ دیتے ہوے کہا ۔

ماشاءالله بہت پیارا نام ہے ہینا حورین (مہر نے حور سی تائید چاہی جس پر وہ ہلکا سا مسکرائی ۔

ویسے عیشال کا مطلب کیا ہے ازلان (بیگم مراد نے پوچھا ۔

جنت کا پھول مطلب ہے اس نام کا

ماشاءالله اچھا اب ہمیں بھی اٹھانے دو تم دونوں بھائی بہن خود ہی کب سے اٹھاے ہوے ہو عیشال کو (ان کے کہنے پر ازلان نے مسکراتے ہوے عیشال انھیں دی۔

۔۔💕💕

ان آٹھ ماہ میں ازلان کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئ تھی اور اگر وہ تھوڑا نرم ہوا تھا

تو وہ بھی بچے کی وجہ سی ورنہ کئی باتوں میں اسکا رویہ حد سی زیادہ سخت تھا

اور حور کو لگتا تھا کے واقعی اسنے ٹھیک کہا تھا کے اب کبھی بھی سب کچھ ٹھیک نہیں ہو سکتا ۔

۔ 💕💕💕

حور گھر آ گئی تھی اور مہر کے علاوہ باقی سب واپس جا چکے تھے دن گزرتے جا رہے تھے

اور حور وہ تو عیشال کے لئے ازلان کا پیار دیکھ کر حیران تھی کے کیا وہ شخص ابھی بھی اتنا مہربان ہے ۔

تھکے ہونے کے باوجود وہ کئی کئی گھنٹے عیشال کو اٹھاے رکھتا تھا اور وہ بھی باپ سی مانوس ہوتی جا رہی تھی ۔

حور کیا ہوا ایشال رو کیوں رہی ہے اتنا (مہر رونے کی آواز سن کر حور کے کمرے میں آئ ۔

سوئی ہوئی تھی اب نیند خراب ہو گئی ہے تو رو رہی ہے (حور اسکو تھپکتے ہوے پریشانی سے بولی ۔

ادھر مجھے دو شائد چپ کر جائے

میراشونا بےبی چپ چپ (مہر اسے حور سی لیتے ہوے بولی لیکن اسکا باجا تو انچا ہوتا جا رہا تھا ۔

کیا ہوا ہے کیوں رو رہی ہے ایشو (ازلان کمرے میں آتا ہوا بولا اور ہاتھ بڑھا کر اسے مہر سی لے لیا ۔

مہر کے بتانے پر اسنے ایک نظر حور پر ڈالی اور ایشو کو لیتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا ۔

۔ ۔💕💕💕💕

آج وہ بہت خوش تھا آج اسنے وہ کام مکمل کر لیا تھا جو حماد کر رہا تھا

اسے آج افسوس تھا کے اسنے اس نے اگر تب حماد کی بات سن لی ہوتی تو آج یہ حالات ایسے نا ہوتے ۔

ہمیشہ خوش رکھو (آج وہ اپنی بہن کو رخصت کرتے ہوے کہ رہا تھا اور آنکھیں کسی احساس کے تخت نم تھیں ۔

آپ کا بہت شکریہ بھائی کے آپ نے ہمارے لئے اتنا کیا (دعا نے نم آنکھوں سے اخراز کو دیکھتے ہوے کہا ۔

کچھ عرصہ پہلے ہی دعا اخراز کو ملی تھی اور دعا ہی وہ لڑکی تھی جسکی مدد حماد کر رہا تھا

اور جب اخراز کو پتا چلا تو اسکو ایک دفع پھر ندامت ہوئی اور اس نے دعا اور اسکے بابا کی مدد کی

اور اسکی شادی کے سارے اخراجات اٹھاے اور آج وہ بہت خوش تھا کے اسنے دعا کو بھائی بن کر دکھایا تھا

__________

آفس سے واپسی پر گھر آیا تو لاؤنج میں حور کو ایشو کو چپ کرواتے ہوئے دیکھا حور کی شکل رونے والی ہوئی ہوئی تھی

حور کیا ہوا ہے ایشو کیوں رو رہی ہے (ازلا ن نے فکر مندی سے پوچھا

پتا نہیں کیا ہوا ہے دوپہر سے روئے جارہی ہے نا دودھ پی رہی ہے نہ سو رہی ہے

حور رو ہانسی سے ہوئی

اس کی بات سن کر ازلان کوئی یک دم غصہ آیا ۔

تو تم مجھے کال نہیں کر سکتی تھی میں (اس سے آگے وہ بولنے ہی لگا تھا جب حور کی شکل دیکھ کر خاموش ہو گیا

اور پھر حور سے ایشو کو لے کر باہر کی طرف بڑھا اور حور کو بھی آنے کا اشارہ کیا ۔

کچھ دیر بعد وہ دونوں ہوسپٹل میں تھے

بچے کو سردی کی وجہ سے نمونیا ہو گیا ہے سے سردی سے بچائیں اور تین دن انجیکشن لگوائیں انشاءاللہ ٹھیک ہو جائے گی (ڈاکٹر ہدایات دے رہا تھا

اور اور ڈاکٹر کی ہدایات کو چھوڑ کر حور ازلا ان کے تاثرات دیکھ رہی تھی جو کہ ڈاکٹر کی بات تو سن کے ماتھے پر شکنیں ابھر آئی تھی ۔

ڈاکٹر نے انجیکشن کا بولا تو وہ سارے خوف بالائے طاق رکھ کر ہتھے سے اکھڑ گئی ۔

میں اپنی بیٹی کو انجیکشن نہیں لگواؤں گی یہ چھوٹی سی تو ہے انجیکشن کیوں

(وہ تو خود انجیکشن سے ڈرتی تھی اور اب ایشو کو سن کر تو اس سے رہا نہ گیا ۔

حوریہ ایشو کے لیے ضروری ہے (ازلان نے تحمل سے کام لیتے ہوئے کہا وہ یہاں کوئی مسئلہ کھڑا نہیں کرنا چاہتا تھا ۔

میں کسی صورت انجیکشن نہیں لگوانے دونگی (حور اسے ساتھ لگائے بولی ۔

ازلان نے اسے بازو سے پکڑ کر اٹھایا اور ڈاکٹر کے کمرے کے باہر لے گیا…