Tere Lot Ane Tak by Sanya Chaudhary NovelR50431 Tere Lot Ane Tak Episode 16
Rate this Novel
Tere Lot Ane Tak Episode 16
Tere Lot Ane Tak by Sanya Chaudhary
رات اگر ازلان کی سگریٹ پھونکتے گزری تھی تو حور کی بھی روتے ہوے گزری تھی
حور کی جب آنکھ کھلی تو کمرے میں ایک خوشبو سی پھیلی ہوئی تھی چہرہ موڑکر دیکھا تو ایشو سو رہی تھی لیکن ازلان کی جگہ خالی تھی ۔
یک دم نگاہ کمرے کی طرف پڑی جہاں تازہ گلاب کے پھول ![]()
گلدان میں سجے ہوے تھے
کچھ سینٹر ٹیبل پڑ پڑے ہوے تھے نظر ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے پر پڑی جہاں مختلف کلرز کے کارڈ چسپاں تھے
وہ بیڈ سے اٹھی جب نظر سائیڈ ٹیبل پڑی جہاں ایک کارڈ پڑا تھا جسکے ساتھ گلاب
کے پھول تھے ۔
اورحور اس کے اخساسات عجیب ہو رہے تھے سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کچھ کے یہ کیا ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ ۔
زندگی میں اچانک یہ موڑ کل تک اسکی زندگی کیا تھی کچھ بھی نہیں
بلکل روکھی روکھی سی ایسے جیسے زندگی پچھلے کچھ سالوں سے ناراض ہو گئی ہو
اس سے جیسے ہر خوشی روٹھ گئی ہو ازلان کا رویہ کتنا برا ہو گیا تھا اسکے ساتھ بلکل انجان ہو گیا تھا وہ اس سے ۔۔۔
لیکن اب جب اسے سچ پتا چلا حقیقت معلوم ہوئی تب تب اسکے دل میں یہ اخساس جاگا کے حور بےگناہ ہے تب اسے احساس ہوا ۔ ۔
اور اگر اب بھی اسے حقیقت پتا نا چلتی تو وہ پوری زندگی ایسے ہی گزار دیتا کیا یہی اہمیت تھی اسکی زندگی میں حور کی ۔ ۔ ۔
ابھی وہ سوچوں کے بھنور میں تھی جب دروازہ کھلا اور اسکی سوچوں کا ارتکاز ٹوٹا وہ فریش فریش سا ٹریک سوٹ میں ملبوس اسکے سامنے تھا
اور اسی کو دیکھ رہا تھا ۔
گڈ مارننگ ڈیر وائفی (وہ نرم لہجے میں کہتا ہوا بلکل اسکے سامنے آ کھڑا ہوا ۔
حور ایک نظر اس پڑ ڈال کر آگے بڑھ گئی ۔
کیا اچھا نہیں لگا کچھ (وہ اپنی سیاہ آنکھیں اس پڑ گاڑے سنجیدگی سے استفسار کر رہا تھا ۔
جن کی زندگی بے رنگ ہو انھیں کچھ اچھا نہیں لگتااور آپ کو یہ سب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے
اس سب سے میریزندگی کا وہ تلخ دوڑ وہ تلخ یادیں میرے ذہن سے مٹ نہیں سکتیں
(وہ اداسی بڑھے لہجے میں کہتی آگے بڑھ گئی جب کے ازلان کے چہرے پڑ اک تلخ مسکراہٹ رینگ گئی ۔
اب جو بویا ہے وہ کاٹنا توپڑے گا (خود سے بربراتے بڑبڑاتے ہوے وہ سوئی ہوئی عشال کی طرف متوجہ ہوا
۔ ![]()
![]()
![]()
ازلان تو ناشتہ کرنے کے بعد آفس چلا گیا تھا اور اخراز وہ دیر سے سو کر اٹھا پھر ناشتہ کر کے عشال کے ساتھ کھیلنے میں مگن ہو گیا
ارے اشو تو ماموں کے آتے ہو ماما کو بھول گئی (حور اشو کو اخراز کے ساتھ مگن دیکھ کر مسکراتے ہوۓ بولی ۔
ہماری اشو ہے ہی اتنی اچھی بچی بلکل اپنے ماموں پڑ گئی ہے ہے نا اشو
(اخراز حور کی طرف دیکھ کر مسکراہٹ ضبط کرتے ہوے بولا اور آخر میں اشو سے تائد چاہی جس پڑ اسنے زور زور سے سر ہلایا
جیسے ساری سمجھ آ گئی ہو لیکن یہ تو اخرازنے ہی اسے سیکھا یا تھا کے وہ جو بھی بات کرے بس سر ہلانا ہے ۔
بلکل بلکل بھائی بس پوری دنیا میں ایک آپ کی بھانجی اور ایک آپ ہی تو اچھے ہیں (حور تو اشو کے رد عمل پڑ سلگ کر بولی ۔
دھائی دھائی (بھائی بھائی ) (اشو شروع ہو چکی تھی آج کل وہ جو بھی بات کرتا بس اسی کو ریپیٹ کرتی تھی اور ابھی بھی اسنے یہی کیا تھا ۔
اف اشو گندی بات ماموں بولتے ہیں نا (حور نے اسے سمجھایا جس پڑ اسنے حسب عادت زور شور سے سر ہلایا اور دوبارہ سے اپنے کھلونوں کی طرف متوجہ ہو گئی ۔
بھائی آپ کب جا رہے ہیں واپس وہ میں سوچ رہی تھی کے میں بھی آپ کے ساتھ چلوں (حور نے اخراز سے کہا ۔
میں آج کل تک جاؤں گا ٹھیک ہے آپ ازلان سے پوچھ کر تیاری کر لینا اپنی
(اخراز جواب دیتے ہوۓ فون کی طرف متوجہ ہوا جہاں کال آ رہی تھی وہ حور کو اشارہ کر کے باہر کی طرف بڑھا ۔
جب کے حور سوچ رہی تھی کے ازلان تو پتا نہیں اسے جانے دے گا بھی یا نہیں پڑ اب جب سب کلیر ہو چکا تھا
تو اب اسے کوئی مسلہ نہیں ہونا چاھئیے تھا اس نے تو انتقاما شادی کی تھی تو اب جب بات ہی کلئیر ہو گئی ہے تو اسکا کوئی حق نہیں بنتا اسے روکنے کا
لیکن شام کو جب ازلان آیا اور روم میں بیٹھا کوئی کام کر رہا تھا حور خاموشی سے آ کر بیڈ کے کنارے پے ٹک گئی
جب کے وہصوفے پڑ بیٹھا ہوا تھا نظر یں سامنے پڑے لیپ ٹاپ پڑ تھیں ۔
وہ جتنا بھی اس سے بد گمان تھی ناراض تھی لیکن اسکے غصے سے بھی خائف تھی وہ مسلسل اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں مسل رہی تھی ۔
کوئی بات کہنی ہے کیا (کچھ دیر بعد ازلان نےبینا سر اٹھاے پوچھا جس پڑ حور کی آنکھیں حیرت سے پھیل گیں کے اسے کیسے پتا چلا ۔۔
آپ نے مجھے سے شادی اپنے بدلے کے لئے کی تھی نا (کچھ توقف کے بعد حور بولی جس پڑ ازلان نے سر اٹھا کر اسے دیکھا
پھر لیپ ٹاپ بند کرتا ٹانگیں سامنے ٹیبل پڑ رکھے گود میں کشن رکھ کر مکمل طور پڑ اسکی طرف متوجہ ہوا ۔
جو اب اسکے اسطرح دیکھنے پڑ مزیدپزل ہو رہی تھی ۔
تو ۔ ۔ ۔ ۔ (،ازلان نے اسے خاموش پا کر سوال کیا ۔
تو یہ کے اب آپکا بدلہ پورا ہو گیا ہے ناتو میں اب اخراز بھائی کے ساتھ واپس جانا چاہتی ہوں
(حور نے ہمت کر کے کہ تو دیا تھا لیکن اب اسکے جواب کی منتظر تھی جس کی حور کی بات سن کر ایک لمحے کے لئے کشن پڑ گرفت مضبوط ہوئی تھی ۔
ہمم تو تم گاؤں جانا چاہتی ہو ٹھیک ہے میں کچھ دن ٹک خود تمہیں لے جاؤں گا گاؤں جتنے دن چاہے رہ لینا
لیکن آیندہ کے بعد میں تمہارے منہ سے چھوڑنے والی بات نا سنوں باقی تم نے ناراضگی دکھانی ہے وہ تمہارا حق ہے یہاں اسی کمرے میں اسی گھر میں رہ کر جتنے مرضی باتیں
سنانی ہے ناراضگی دکھانی ہے میں جی جان سے تیار ہوں تمہیں منانے کے لئے
(لہجے کے بر عکس آواز میں نرمی تھی اور آخر میں وہ کچھ شوخ ہوا اور حور وہ سوچ رہی تھی کے اب اچھی پھسی
اور پھر اگلے دن ہی اخراز چلا گیا تھا جس پڑ حور نے منہ پھلایا ہوا تھا
پانچ منٹ میں ریڈی ہو جاؤ شاپنگ کرنے چلتے ہیں
(ازلان روم میں آتا ہوا حور سے بولا جو کے کارٹون لگاے دیکھنے میں مگن تھی
اور اشو کو ازلان نے اٹھایا ہوا تھا ۔
اسے کارٹون دیکھتے دیکھ کر ازلان کے چہرے پڑ مسکراہٹ در آئ
مجھے نہیں جانا شاپنگ پے (حور نے نظریں ٹی وی پڑ مرکوز کیے جواب دیا اور یہ شادی کے بعد پہلی دفع تھا
جب ازلان اسے شاپنگ پڑ لے کر جا رہا تھا ورنہ تو خود ہی اسکے لئے کر لاتا تھا
_____________
کیوں نہیں جانا شاپنگ پے ( ازلان اسکے ہاتھ سے ریموٹ لیتا ٹی وی اف کر چکا تھا
حور اب غصے سے اسے گھور رہی تھی ۔
بس میری مرضی میں نے نہیں جانا اور کارٹون لگایں جو میں دیکھ رہی رہی تھی
(حور منہ فلا پھولاے اس سے کہ رہی تھی ۔
جب کے عشال کارپٹ پر دونوں سے بے نیاز کھیل رہی تھی
۔
عشال کو میں لے کر جا رہا ہوں پانچ منٹ میں باہر اؤ ورنہ عشال کی جگہ تمہیں اٹھا کے لے کے جاؤں گا
(ازلان شرارت سے کہتے ہوے عشال کو اٹھایا اور ایک نظر حور پر ڈال کر باہر کی طرف بڑھ گیا ۔
جب کے حور اسکی بات پر غصے اور حیا سے لال ہو گئی پھر کچھ سوچ کر اٹھی اور کمرے کی طرف بڑھی ۔
ازلان باہر اسکا ویٹ کر رہا تھا اسے یقین تھا کے حور ضرور آے گی اور کچھ ہی دیر بعد وہ آتی دکھائی دی
ریڈ کلر کی شرٹ کے ساتھ سکن کلرکا کیپری پہنے جو کے اس پر کافی سوٹ کر رہا تھا ساتھ سکن کلر کی شال لئے ۔
اسکے آتے ہی ازلان نے فرنٹ ڈور کھول دیا حور خاموشی سے آ کر بیٹھ گئی ۔
ایشو ماما پاس آ جاؤ (حور نے کہتے ہوے اسکی طرف ہاتھ بڑھایا جو ازلان کی گود میں تھی
نو ماما میں بابا پاش (وہ کہتی ہوئی مزید ازلان کے ساتھ لگی جب کے حور بس دیکھ کر رہ گئی
ہمیشہ ایسا ہی کرتی تھی وہ ازلان کے سامنے حور کی کوئی پروا نہیں بس ازلان ہونا چاہیے
اور عشال کی ٹوٹی پوٹھی باتیں اور سوالات جو وہ کرتی رہتی تھی ۔
حور اسکی بات پر منہ بنا کر باہر دیکھنے لگ گئی لیکن ازلان کے ہونٹوں پر پراسرار مسکراہٹ دوڑ گئی ۔
اس نے گاڑی کی سپیڈ آہستہ کرتے ہوے عشال کے کان میں کچھ کہا اور دوبارہ ڈرائیونگ کی طرف متوجہ ہو گیا
ماما پاش آنا ہے (کچھ دیر بعد ایشو حور کی طرف باہیں پھیلا کر بولی
میرے بے بی نے میرے پاس آنا ہے(حور نے اسے اٹھاتے ہوے کہا اور اسکے سرخ سفید پھولے ہوے گالوں پر چٹا چٹ پیار کیا پھر اسکے ساتھ باتوں
میں لگ گئی اور عشال کے سوالوں کا نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا ۔
حور یہ کیسا ہے (ازلان ایک بلیک ڈریس اسکے سامنے کرتے ہوے بولا
کیوں کے وہ جب سے اے تھے ازلان حور کی بے توجہی دیکھ رہا تھا ۔
حور نے جب دیکھا تو وہ بلیک کلر کی شرٹ جس کے دامن پر خوبصورت کام ہوا تھا حور کو بھی وہ پسندآئ تھی ۔
ازلان حور کی آنکھوں میں پسندیدگی دیکھ کر سمجھ گیا تھا ۔
کافی چیزیں لینے کے بعد بھی ازلان کے ماتھے پر شکن نہیں آئ تھی ۔
اب تو حور بھی جان بھوج کر جن چیزوں کی اسے ضرورت نہیں تھی وہ بھی لے رہی تھی ۔
کافی ساری چیزیں عشال کی لیں تھیں
گھر چلیں میں تھک گئی ہوں (کافی دیر بعد وہ بولی تھی ۔
اوکے کوئی اور چیز نہیں لینی؟ (ازلان کے پوچھنے پر اس نے نفی میں سر ہلایا اوراسکے ہم قدم چلنے لگی ۔
کچھ ہی دیر بعد گاڑی ریسٹورنٹ کے آگے رکی تھی حور نے بے ساختہ ازلان کی طرف دیکھا تھا ۔
ڈنر کر کے چلتے ہیں ہوں (ازلان اسکی سوالیہ نظروں کے جواب میں بولا تھاعشال پہلے ہی سو چکی تھی
ازلان اپنی سائیڈ سے دروازہ کھول کر نکلا اور آ کر حور کی طرف کا دروازہ کھول کر عشال کو اس سے لیا
جب کے حور تو خیران ہو رہی تھی اسے ایسے لگ رہا تھا جیسے پہلے والا ازلان واپس آ گیا ہو جو اسکی کیئر کرتا تھا جسے اسکا اخساس تھا
ازلان نے فیملی کیبن لیا تھا تا کے حور ایزی رہے
کھانا آرڈر کرو (ازلان۔ نے اسکی طرف مینیو کارڈ کرتے ہوے کہا
جب آج تک ہر چیز میں آپ کی مرضی کی ہوئی ہے تو یہ بھی آپ خود ہی آرڈر کر لیں
حورنے کارڈ واپس ازلان کی طرف کرتے ہوے کہا
ازلان نے حور کو دیکھا جسکی آنکھوں میں شکوہ تھا
ہاں تو اسی لئے کہ رہا ہوں تم کرو ان فیکٹ اب سے ہر چیز تم اپنی مرضی کے مطابق کرنا چلو شاباش کرو (ازلان اسکی بات کا اثر لئے بغیر بولا
حور بھی بغیر کوئی اثر لئے بیٹھی رہی لاپرواہی سے ارد گرد دیکھتی رہی ۔
ٹھیک ہے پھر آج رات یہیں گزارتے ہیں کیوں کے آرڈر تو تم ہی کرو گی (وہ مسکراہٹ دباتے ہوے بولا اور حور کو غصہ دلا گیا ۔
حور بھی اپنے نام کی ایک تھی لیکن ازلان کی پر شوخ نظریں اسے کنفیوز کر رہی تھیں وہ سکون سے بیٹھا اس پے نظریں گاڑے اسے بے سکو ن کر رہا تھا
وقت گزر رہا تھا حور نے چوڑ نظروں سے ازلان کی طرف دیکھا وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا اسکے دیکھنے پر نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبا کر آئ برو اٹھا کر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا
حور نے اسے دیکھا اور پھر منہ میں بڑبڑاتے ہوے کارڈ پکڑ لیا ازلان نے بمشکل اپنی ہنسی کنٹرول کی اور ویٹر کی بلایا
کھانا کھاتے ہوے وہ گاہے بگاہے حور کو دیکھ رہا تھا
ایک بات پوچھوں (حور نے یک دم کھانے سے ہاتھ روک کر کہا
ہمم پوچھو
گاؤں کب لے کر جایں گے (اس نے قدرے توقف سے کہا
امم کچھ کام ہیں وہ کر کے جلد ہی چلیں گی(ازلان نے کچھ سوچتے ہوے کہا تھا
حور اسکا جواب سنتے ہی واپس کھانے کی پلیٹ پر جھک گئی ۔
گھرآ تے ہی حور سو گئی تھی ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
حور کچھ دن پہلے جو فائل تمہیں دی تھی وہ لا دو (ازلان نے کمرے میں آتے ہوے حور سے کہا
وہ سکون سے بولتے ہوے حور کا سکون تباہ کر گیا تھا
کیوں کے جس فائل کی وہ بات کر رہا تھا وہ تو کب کی اپنے انجام کو پہنچ گئی تھی
حور کبھی اسے دیکھتی تو کبھی ہاتھوں کی انگلیاں مروڑتی
کوئی پریشانی ہے کیا (ازلان نے اسکی نظروں کا ارتکاز اپنے اوپر محسوس کر کے پوچھا
ازلان وہ فائل وہ میں (وہ سخت خوفزدہ تھی اس سے
وہ کیا (ازلان صوفے سے اٹھ کر اسکے قریب آتے ہوے بولا
وہ میں نے ٹیبل پر رکھی ہوئی تھی پر غلطی سے مجھ سے اس پر چاے گر گئی اور وہ (بات کرتے کرتے وہ رک کر ازلان کو دیکھنے لگی ۔
اور وہ خراب ہو گئی ہوں (ازلان نے کہتے ہوے اپنے بازو اسکی کمر کے گرد حمائل کیے
حور نے نظریں اٹھا کر ازلان کی طرف دیکھا اور اثبات میں سر ہلایا ۔
ازلان اسکی آنکھوں میں خوف کے ڈورے صاف دیکھ سکتا تھا
کوئی بات نہیں وہ فائل مجھے تم سے زیادہ عزیز نہیں ہے (ازلان نے کہتے ہوے اسے قریب کیا
حور کی دھڑکن تیز ہونے لگ گئی ٹانگیں کانپ رہیں تھیں اس نے ازلان کو دور کرنے کی کوشش کی لیکن اسکی گرفت مضبوط تھی ۔
ازلان نے ایک ہاتھ سے اسکا چہرہ اوپر کیا تھا حور نے اپنی آنکھیں زور سے بند کر رکھیں تھیں
آنکھوں سے دو موتی ٹوٹ کر گرے تھے لیکن ازلان نے انھیں بے مول ہونے سے بچا لیا اور اپنے ہونٹوں سے چن لیا تھا
یش عشال رو رہی ہے
حور نے کانپتی آواز میں کہا تھا
وہ سو رہی ہے (ازلان اسکی پیشانی سے اپنی پیشانی ٹکراتے ہوے بولا
پ پلیز (حور کے کہنے پر اس نے حور کے ہونٹوں اپنے پیار کی نشانی چھوڑی اور اسے نرمی سے الگ کیا ۔
حور تو وہاں سے ایسے بھاگی جیسے گدھے کے سر سے سینگھ….
