260.6K
19

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Lot Ane Tak Episode 5

Tere Lot Ane Tak by Sanya Chaudhary

ازلان کو پوری رات نیند نہیں آئ تھی بیچینی حد سے زیادہ تھی لیکن وہ خود کو مضبوط رکھے ہوے تھا

ابھی وہ ناشتہ کر کے مردانے کی طرف جا رہا تھا کے پیچھے سے مہر کی آواز آئ

وہ روکا اور مڑا

بھائ جلدی چلیں ابھی نگین نے بتایا ہے کے حورین رات کو بیہوش ہو گئی تھی (مہر پریشانی سے بولی

جب کے ازلان ابھی بھی چپ رہا

بھائ چلیں نا پتا نہیں حورین کی کیسی حالت ہے (وہ فکر مند تھی اسکے لئے

مہر آپ اپنے کمرے میں جاؤ (وہ بولا بھی تو بس اتنا اور یہ بولتی وقت اسے اپنی آواز گہری کھائی سے آتی ہوئی معلوم ہو رہی تھی

پر بھائ آپ کیسے

مہر میں کیا کہ رہا ہوں کمرے میں جایں اپنے (مہر کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی وہ درشت لہجے میں بولا

مہر بے یقینی سے اسے دیکھتی رہی اور پھر اپنے کمرے کی طرف بھا گ گئی

جب کے ازلان خود پے قابو پا تا مردانے کی طرف بڑھ گیا

وہ تیزی سے مردان خانے میں موجود بابا کے کمرے کی طرف جا رہا تھا

جب دستک دینے کے لئے اٹھا ہاتھ اندر سے آتی آواز کی وجہ سے ہوا میں ہی رہ گیا

۔ ۔ ❤❤❤

احراز ابھی مراد صاھب کے پاس آیا تھا بات کرنے

کیوں کے کل کی حورین کی حالت اور گھر کے حالات کے بعد اس نے کچھ سوچا تھا

بڑے بابا مجھے آپ سے بات کرنی ہے ( احراز نے کہا

کیا بات ہے بیٹے ( انہوں نے نرمی سے کہا

بڑے بابا میں نے سوچا ہے کے ( اتنی بات کر کے وہ چپ ہو گیا

کے کیا ؟ انہوں نے سوالیہ نظروں سے پوچھا

بڑے بابا میں نے سوچا ہے کے مجھے کچھ دنوں کے لئے حورین کو لے کر یہاں سے چلے جانا چاہیے

پر بیٹا کیوں(انہوں نے وجہ پوچھ

کیوں کے بڑے بابا حورین کی حالت خراب ہے بہت اور ہم سب کے رشتوں میں بھی بہت سی غلط فہمیاں آ چکی ہیں جو کے پہلے جیسے ہونے میں کافی وقت لگے گا

اور ازلان کو بھی دکھ ہوتا رہے گا اگر میں یہاں رہا کیوں کے وہ مجھے قصور وار سمجھتا ہے اور غلطی کہیں نا کہیں میری ہے بھی اسلئے

اور جہاں تک بات مہر کی ہے تو اگر وہ میرے ساتھ جانا چاہے گی تو بھی اسکا فیصلہ ہو گا اور اگر وہ ادھر رہنا چاہے گی تب بھی

میں بس آپ سے پوچھنے آیا ہوبڑے بابا کے میں چلا جاؤں حورین کو سا تھ لے کر ( احراز نے ساری بات کہ کر انکی طرف دیکھا جن کے چہرے پر سوچ کی لکیریں تھیں

میرے حیال میں بھی یہ ٹھیک رہے گا اور مہر سے میں پوچھ لوں گا بیٹا جیسے اسکی مرضی ہوئی ( کچھ لمحوں بعد انہوں نے کہا

جب کے باہر کھڑے ازلان کے دماغ میں نئی سوچوں کے در کھل گئے تھے پیشانی کی رگیں تن گئی تھیں اور مٹھیاں بھینچ گئی تھیں

____________

ازلان غصے کی شدت سے لمبے لمبے ڈگ بھرتا اپنے کمرے کی طرف چلا گیا

۔کمرے میں آکر دھاڑ کی آواز سے دروازہ بند کیا ۔دماغ غم اور غصے کی شدت سے پھٹ رہا تھا ۔

یک دم اسکی نظر سائیڈ ٹیبل پر پڑے ہوئے پکچر فریم پر پڑھی ۔ارسلان نے ایک جھٹکے سے اسے ہاتھ مار کر زمین بوس کردیا

شیشہ ٹوٹ چکا تھا

فرش پر ہر طرف کانچ کے ٹکرے پھیلے ہوئے تھے فریم کے از لان کے ہاتھوں سے نکلنے والی خون کی بوندیں اس پکچرپڑ گر رہی تھیں ازلان کی نظر فریم میں محفوظ پکچر پر پڑھی ۔وہ اس فریم کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اس نے اس تصویر کو اٹھانا چاہا

تبھی ایک کانچ کا چھوٹا سا ٹکڑا از لان کی انگلی میں چھب گیا ۔از لان کے دل و دماغ میں جو جنگ چھر ی ہوئی تھی

اس کے آگے تو یہ تکلیف کچھ بھی نہیں تھی ۔اس نے زخمی ہوتے ہاتھوں کی پرواہ کیے بغیر فوٹوفریم کو اٹھا لیا ۔ہاتھوں سے نکلنے والی خون کی بوندیں ازلان کی تکلیف کا ثبوت دے رہی تھیں

۔ازلان پکچر کو یک ٹک دیکھے جا رہا تھا ۔پکچر میں اس کے ساتھ مہر اور حور موجود تھیں

جو ایک خوشگوار یاد کو اجاگر کرتی تھی ۔شدت گریہ سے ازلان کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں ۔اچانک ہی اس کی آنکھوں کے سامنےاک منظر گھوم گیا ۔

مہر یہ دیکھو یہ پھول ازلان کو پسند آیں گے نا

یار نہیں یہ نہیں پسند بھائ کو یہ وائٹ لی لی پسند ہیں

کیا ہو رہا ہے کس کو کیا نہیں پسند(ازلان ہاتھ میں کیمرہ لیے ان کی طرف آیا اور پوچھا تھا

بھائ یہ دیکھیں حور آپ کے لئے پھول لائی ہے اور میں کب سے یہ سمجھا رہی ہوں کہ یہ پھول

ہاں ہاں یہ پھول تو مجھے بہت پسند ہیں (ازلان نے مہر کی بات کاٹتے ہوئے کہا جب کہ مہر حیران سی کھڑی تھی جس پر ازلان نے اس طرف دیکھتے ہوئے اپنی آنکھیں دبا ی تو مہر کو بات سمجھ آئ

بھائ و یسے ایک تصویر تو ہونی چاہیے نہ کہ آپ کے پسندیدہ پھولوں کے ساتھ (مہر نے ازلان کو چھیڑتے ہوئے کہا

جس پر اس نے بمشکل مسکراہٹ ضبط کی

ہاں ازلان آیں تصویر لیتے ہیں تینوں (حور نے بھی کہا اور پھر تینوں نے اس خوبصورت لمحے کو کیمرے میں قید کر لیا

مسلسل موبائل کی رنگ بجنے کی وجہ سے وہ حال میں لوٹا

اپنے ارد گرد بکھری چیزوں پر نظر پڑی تو اندر کی گھٹن اور زیادہ بڑھنے لگی

اس نے موبائل اور کی چین اٹھائیں اور باہر کی طرف بڑھ گیا

۔ ۔ ۔ ❤❤❤

ساری رات بے ہوش ہونے کے بعد اس کی آنکھ کھلی تو اپنے پاس ماما کو بیٹھے پایا

کچھ دیر تو اسے لگی سمجھنے میں کہ اس کے ساتھ کیا ہوا تھا لیکن چند ہی لمحے لگے اس کے ذہن کو بیدار ہونے میں

حور ین بیٹا تم ٹھیک ہو ؟(فرحت بیگم نے پریشانی سے پوچھا

پر اس نے کوئی جواب نہ دیا اور ان کی طرف خاموشی سے دیکھتی رہی

فرحت بیگم نے اس کی حالت کو سمجھتے ہوئے مزید کوئی پوچھ گچھ نہیں کی

حورین تم فریش ہو جاؤ میں تمہارے لئے ناشتہ لے کر آتی ہوں (وہ ise کہتی ہوئی باہر کی طرف بڑھیں

جب کے حور نے ان کے جاتے ہی دوبارہ آنکھیں موند لیں ذہن پھر سے کل والی باتوں پر چلا گیا تھا

رکے ہوئے آنسو پھر سے جاری ہو گئے تھے کچھ ہی لمحوں بعد دروازے پر ناک ہوا اس نے جلدی سے اپنے آنسو صاف کیے اتنے میں احراز کمرے میں آ چکا تھا

حور سیدھی ہو کر بیٹھ گئی

احراز اس کے پاس ہی بیٹھ کر بیٹھ گیا اور حورین سے بات کر نے کے لیے الفاظ تلاش کر رہا تھا جب کہ وہ خاموشی سے اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ کو دیکھ رہی تھی

حورین بیٹا میں نے آپ سے کچھ بات کرنی تھی

حورین نے کوئی جواب نہ دیا وہ خاموشی سے احراز کی بات کرنے کا انتظار کر رہی تھی

بیٹا میں نے حالات کے پیش نظر کچھ سوچا ہے یہ تم بھی جانتی ہوں کہ ہمسب لوگ کتنے قریب تھے (وہ اتنا کہہ کر ایک دفعہ پھر چپ ہو گیا ایسے لگ رہا تھا جیسے اسے بولنے میں مشکل ہو رہی ہو

کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد وہ پھر سے بولا

ہم سب نے بہت سارا وقت ایک ساتھ گزارا ہے مجھے نہیں لگتا کہ شاید ہی کبھی اس طرح کے لمحات دوبارہ ہماری زندگی میں آئیں جوتلحیاں جو رنجشیں جو احتلافات اب ہمارے رشتوں میں آچکے ہیں اس کےاور تمہاری حالت کی پیش نظر کچھ سوچا ہے میں نے

کیوں کہ تمہاری ایسی حالت نہیں ہے کہ تم اور تکلیف برداشت کر سکو اور ہم سب نہیں چاہتے کہ کسی اور مشکل کا سامنا کرنا پڑے

وہ بول کر پھر ایک دفعہ چپ ہو گیا جب کہ حور شش وپنج میں مبتلا تھی کہ احراز کیا کہنا چاہتا ہے

بھائ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا (حور نے الجھن سے کہا

میں نے سوچا ہے کہ میں تمھیں لے کر یہاں سے کچھ عرصہ کے لئے چلا جاؤں کیوں کے یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم یہاں رہیں تو تمہاری حالت اور بگڑ سکتی ہے ( اس کی بات سن کر وہ گو مگو کی کیفیت میں آگئی آنکھیں یکلخت آنسوؤں سےلباب بھر گئیں

احراز اسے حا موش دیکھ کر ایک دفعہ پھر گویا ہوا

حورین کوئی تم پر زبردستی نہیں ہے جو تمہارا فیصلہ ہوگا ہم سب کو منظور ہوگا تم سوچ لو کہ تم نے کیا کرنا ہے (احرار نے ا سے چپ دیکھ کر کہا اور اس کے سر پر ہاتھ رکھتا باہر چلا گیا

جب کے وہ تو سکتے میں آ گئی تھی

۔ ۔ ۔ ❤❤❤

اذلان گھر سے گاڑی لے کر نکل آیا تھا وہ بہت ریش ڈرائیونگ کر رہا تھا اور بے مقصد سڑکوں پر گھوم رہا تھا

دل اور دماغ کی مسلسل جنگ سے تنگ آ چکا تھا

ابھی اس کی نظر اپنے مسلسل بچتے فون کی طرف بڑھی

نمبر دیکھا تو بابا کا تھا اس نے گہری سانس لیتے ہوئے کال پک کر لی

ازلان کہاں ہو تم بیٹا کب سے کال کر رہا ہوں (فون میں مراد راؤ کی پریشان سی آواز ابھری

ابھی وہ کچھ بولنے ہی لگا تھا کے نظر بلکل اسکی گاڑی کے سامنے آتے بچے پڑ پڑی

ازلان نےبچے کو بچانے کے لئے جلدی سے گاڑی کو دوسری طرف موڑا جو کے سیدھا جا کر درحت میں لگی اذلان کا سر بری طرح ڈیش بورڈ سے ٹکرایا تھا اور کچھ ہی لمحوں بعد وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گیا تھا

_____________

ہاسپیٹل کے کمرے میں مراد راؤ ضرار راؤ اور احراز کھڑے تھے اس وقت .اذلان تقریبا ہوش میں آ گیا تھا ۔

بیٹا کیسا محسوس کر رہے ہو اب (مراد صاحب نے اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوے سفقت سے کہا

بہتر ہوں بابا پریشان نہ ہوں آپ (ازلان نے بمشکل مسکراتے ہوے کہا

بیٹا درد تو نہیں ہو رہی (مراد صاحب کے پیچھے ہوتے ہی ضرار نے پوچھا

نہیں چاچو (اس نے مختصر جواب دے کر آنکھیں موند لیں جیسے مزید کوئی بات نہ کرنا چاہتا ہوں

اور اس سب میں احراز کو مکمل نظرانداز کیا

ازلان کو زیادہ چوٹیں نہیں لگی تھیں سر پر چوٹ لگی تھی جو کے زیادہ گہری نہ تھی اس وجہ سے ڈاکٹر نے دو گھنٹے بعدہی اسے چھٹی دے دی

وہ سب ازلان کو لے کر کچھ دیر میں گھر آ گئے

ازلان بیٹا تم ٹھیک ہونا زیادہ تو نہیں لگی نہ (ازلان کی ماما نے فکر مندی سے پوچھا

وہ اس وقت اذلان کے کمرے میں اس کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں

میں ٹھیک ہوں ماما آپ کیوں پریشان ہو رہی ہیں (اس نے انہیں مطمئن کرنا چاہا

بیگم مراد کے دل میں hof سا پیدا ہو گیا تھاہجب انہوں نے ازلان کے ایکسیڈنٹ کی خبر سنی

تب سے وہ مسلسل ٹینشن میں تھیں اور اب ازلان کو اپنے سامنے دیکھ کر تھوڑا حوصلہ ہوا تھا لیکن اس کے سر کی چوٹ کو دیکھ کر وہ فکرمند ہو گئیں تھیں

بیٹا اب اٹھنا نہیں تم نے یہ نہ ہو کہ آپ گر جاؤ کہیں ابھی چوٹ کی وجہ سے چکر آیں گے (ماما آپ کیوں اتنی فکر کر رہی ہیں میں ٹھیک ہوں اب کچھ نہیں ہوتا

اذلان نے ان کی اتنی فکر مند پر مسکراتے ہوئے کہا

ٹھیک ہے بیٹا میں مہر کو بھیجتی ہوں اگر کسی چیز کی ضرورت ہے تو اسے بتاؤ (بیگم مراد ne اٹھتے ہوئے کہا

ٹھیک ہے ماما

ماما باہر گیئں تو اسنے آنکھیں موند لیں کچھ ہی دیر بعد کھٹکے کی آواز پر اسنے آنکھیں کھولیں تو مہر کھڑی تھی

ارے مہر آو نا (ازلان نے مسکرا کر کہا کیوں کے اسکی سرخ آنکھیں رونے کی چغلی کھا رہی تھیں

بھائ آپ ٹھیک ہیں نا (مہر نے اذلان کے پاس بیٹھتے ہوے پوچھا

میں ٹھیک ہوں مہر آپ پریشان نا ہوں (ازلان نے کہا

مہر نیچے منہ کیے بیڈ شیٹ پر انگلی پھیر رہی تھی

مہر ب ادھر میری طرف دیکھو بیٹا (ازلان نے اسکی تھوڑی پکڑ کر منہ اونچا کر تے ہوے کہا

آپ رو رہی تھی (ازلان نے خفگی سے کہا

ازلان کے پوچھنے پر مہر کی آنکھیں بھر آیں اور اگلے ہی لمحے وہ اذلان کے سینے سے لگی ہچکیوں کے ساتھ رو رہی تھی

مہر کیا ہوگیا ہے میں ٹھیک ہوں (ازلان نے اس کے کمر تھپتھپاتے ہوئے کہا

بھائی میں بہت زیادہ ڈر گئی تھی مجھے لگا حماد بھائی کی طرح آپ کو بھی نہ کھو دوں (مہر نے ہچکیوں کے درمیان بات مکمل کی

اچھا اب تو میں ٹھیک ہو نہ ہو اب تو آپ کے سامنے ہوں دیکھو مجھے کچھ بھی نہیں ہوا اب چپ کرو ورنہ میں نے آپ سے ناراض ہو جانا ہے (ازلان نے اس کو خود سے الگ کیا اور اس کے آنسو صاف کرتے ہوے کہا

چلو اب سمائل کرو

مہر نے سمائل کی جس پر ازلان نے مسکراتے ہوے ۔ اسکے بال بکھیرے

دیٹس لائک مائے سسٹر (thats like my sister

اچھا آپ آرام کریں اب (مہر نے اٹھتے ہوے پردے سارے آگے کیے اور باہر لائٹ آف کرتی باہر نکل گئی

جب کے ازلان آنکھیں موند کے لیٹ گیا اور شائد یہ دوایوں کا اثر تھا کے وہ جلد ہی نیند کی وادیوں میں اتر گیا

۔ ❤❤❤

حورین کو جب سے پتا چلا تھا وہ مسلسل رو رہی تھی دل مسلسل بے چین تھا حلانکہ احرا ز نے بتایا بھی تھا کے اب ازلان ٹھیک ہے لیکن اسے پھر بھی یقین نہیں آرہا تھا

اب سب کو یہ فکر تھی کہیں اسکی طبیعت رونے کی وجہ سے زیادہ خراب نا ہو جائے ابھی اسے پتا چلا کے ازلان آگیا ہے

تو وہ جلدی سے اسکے کمرے کی طرف بڑھی

دروازہ کھولا تو سامنے ہی وہ بیڈ پر سویا ہوا نظر آیا

حورین چلتی ہوئی بیڈ تک آئ

اسکو دیکھ کر آنسو گال بھیگونے لگے

ازلان کے ماتھے پر پٹی بندھی ہوئی تھی رنگ زرد ہو رہا تھا

سوتے ہوے اسکے نقوش جو پچھلے کئیں دنوں سے ہر وقت تنے رہتے تھے اس وقت بلکل نارمل تھے بلکل مسوم لگ رہا تھا وہ

حورین نے ہاتھ بڑھا کر اسکی پیشانی پر بندھی پٹی پر پھیرا

آپ کو کیا ہو گیا ہے ازلان آپ ایسے کیوں ہو گئے ہیں

آپ آپ کو کچھ ہو جاتا اگر تو آپ کی حور کہاں جاتی کیسے زندہ رہتی (وہ روتے ہوے سوے ہوے ازلان سے مخاطب تھی جو دنیا جہاں سے غافل ہو کر سو رہا تھا

آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے اور حور کی آنکھوں سے نکل کر اذلان کے ہاتھ پر گر رہے تھے

حورین ازلان کا اس دن کا رویہ بھولی نہیں تھی

کچھ دیر اور وہ اسکے پاس بیٹھی رہی اور پھر اسکے اٹھنے سے پہلے ہی واپس آ گئی

۔ ❤❤❤

مہر آ کر اپنے کمرے میں بند ہو گئی تھی رکے ہوے آنسو پھر سے جاری ہو گئے تھے

اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کے کیا کرے اب کیا ہوگا اسکے اور احراز کے رشتے کا

کیا وہ ایک ایسے شخص کے ساتھ رہ لے گی جسکو اسکا بھائ قاتل سمجھتا ہے

کیا وہ اپنے بھائ کی بات مان کر احراز جو کے اسکا شوہر ہے اسے چھوڑ دے گی

سر درد سے پھٹا جا رہا تھا سمجھ نہیں آ رہا تھا کے کیا کرے

اسکی زندگی میں تو خوشیاں آنے سے پہلے ہی لوٹ گئیں تھیں

اور دوسری طرف احرازاپنے کمرے میں بیٹھا وہ مسلسل سوچ رہا تھا اپنے اور مہر کے رشتے کے بارے میں

ازلان جتنے غصے میں ہے وہ جانتا تھا کے وہ کبھی بھی مہر کو واپس نہیں بھیجے گا اور یہ رشتہ حتم کرے گا

اور کیا مہر بھی ایسا چاہے گی وہ بھی چھوڑ دے گی اسے

اور اگر یہ یہاں سے حورین کو لے کر چلا گیا اور مہر نا گئی تو وہ مہر کو ہمیشہ کے لئے کھو دے گا

مختلف سوچوں کے در کھلے ہوے تھے اسنے پریشانی سے اپنی پیشانی مسلی

اس نے سوچ لیا تھا کے اب مہر سے بات کرے گا

۔ ۔❤❤❤

کیسی طبیعت ہے اب بیٹے (ابھی رات کے وقت مراد صاھب ازلان کے کمرے میں اس سے اسکی طبیعت پوچھ رہے تھے

ٹھیک ہے بابا (اذلان نے انکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوے کہا

بابا میں نے آپ سے کچھ بات کی تھی (کچھ لمحوں بعد ازلان نے کہا

ازلان کوئی اور راستہ نہیں نکل سکتا (ان کے لہجے میں التجا تھی

بابا ہے نا میں نے کہا تھا نا اگر آپ کو نہیں منظور تو دوسری شرط بھی ہے پر وہ آپ سب کے لئے زیادہ مشکل ہو گی (اذلان نے سامنے دیکھتے ہوے کہا

کچھ دیر کمرے میں خاموشی چھائی رہی جسکو مراد راؤ کی آواز نے توڑا

ٹھیک ہے کرتا ہوں بات میں ضرار سے

بابا انکو یہ بھی بتا دیجۓ گا میں کل ہی نکاح کرنا چاہتا ہوں (ازلان کی بات پر وہ اسے دیکھ کر رہ گئے

ازلان اتنی جلدی کیسے تم ٹھیک تو ہو جاؤ (انہوں نے اسے سمجھانا چاہا

بابا جلدی والی کونسی بات ہے کرنا تو پھر کل کیوں نہیں اور میں چاہتا ہوں کے میں جلد از جلد یہ نکاح کر لوں (ازلان کے کہنے پر وہ چپ کے چپ رہ گئے

آج کے حادثے سے وہ ڈر گئے تھے اور اسی وجہ سے انہوں نے ازلان سے حامی بھری تھی کے شائد اس سب سے اور حورین کے ساتھ سے وہ پہلے کی طرح ہو جائے شائد حورین اسے سمبھال لے

لیکنانھیں یہ نہیں تھا پتا کے جو ہم سوچتے ہیں ہمیشہ وہ نہیں ہوتا….