Tere Lot Ane Tak by Sanya Chaudhary NovelR50431 Tere Lot Ane Tak Episode 12
Rate this Novel
Tere Lot Ane Tak Episode 12
Tere Lot Ane Tak by Sanya Chaudhary
حور پورا دن بولائی بولائی پھرتی رہتی سدرہ اپنے کاموں میں لگی رہتی وہ اپنا دل بہلانے کے لئے ٹی وی دیکھتی رہتی لیکن کتنی دیر عصر کا وقت ہوا تو نماز پڑھ کر کچن میں آ گئی کھانے بنانے لگی
جب تک کھانا بنا اذلان کے آنے کا وقت ہو گیا تھا حور کو یکدم ازلان کی صبح والی بات یاد آئ تو جلدی سے کمرے کی طرف بڑھی تا کے اسکے آنے سے پہلے اپنا حلیہ ٹھیک کر سکے ۔
وارڈروب سے ایک خوبصورت سا سپمل بلیک کلر کا سوٹ نکالا اور واشروم کی طرف بڑھ گئی ۔
جب واپس آئ تب بھی ازلان ابھی تک نہیں آیا تھا اسے تشویش ہوئی بالوں کو سلجھا کر ابھی اٹھی ہی تھی جب اسکی گاڑی کا محصوص ہارن بجا حور لاؤنج کی طرف بڑھی
وہ لاؤنج میں داخل ہوا تو حور نے معمول کے مطابق پانی کا گلاس لا کر تھمایا
وہ فریش ہونے چلا گیا تو حور کھانا لگانے لگی اذلان کے آنے کے بعد وہ جانے لگی جب ازلان بولا ۔
کہاں جا رہی ہو؟
کچن میں( مختصر سا کہ کے وہ کچن کی طرف بڑھی
بیٹھو یہیں اور کھانا کھاؤ (ازلان نے نظروں سے کرسی کی طرف اشارہ کیا ۔مجھے بھوک نہیں ہے جب ہوئی تب کھا لوں (وہ ایک دفع پھر آگے بڑھی ۔
جب کے ازلان اب کی بار خاموشی سے اسے جاتا دیکھتا رہا ۔
جب وہ کام ختم کر کے کمرے میں آئ تو ازلان صوفے پے بیٹھا لیپ ٹاپ پے کوئی کام کر رہا تھا جب کے فائلز ارد گرد بکھری ہوئیں تھیں وہ چونکی تو تب جب ۔ نظر ساتھ پڑی جہاں سنگل صوفے پر شاپنگ بیگز پڑے ہوے تھے ۔
تمہاری چیزیں ہیں ان میں رکھ لو جہاں رکھنی ہیں (ازلان نے ایک دفع سر اٹھا کر کہ کر دوبارہ لیپ ٹاپ کی طرف متوجہ ہو چکا تھا ۔
جب کے حور حیران ہوتی آگے بڑھی اور ساری چیزیں دیکھنے لگی ان میں حور کے کپڑے جوتے اور کچھ چیزیں تھیں ۔
حور نے بیگز اٹھاۓ اور انہیں جگہ پر رکھ کر ابھی بیڈ کی طرف بڑھنے لگی تھی جب ازلان کی آواز آئ ۔
حور ادھر آو
جی (حور صوفے کے پاس جا کر بولی ۔
ادھر بیٹھو (ازلان نے اپنے ساتھ صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔
جس پر وہ سوچتی ہوئی آ کر بیٹھ گئی
یہ فائل پکڑو اور صبح تک اسکے پورے پیجیز ٹائپ کر دو
(اذلان کے کہنے پر حور نے حیران گی سے اسے اور پھر اسکے ہاتھ میں پکڑی فائل کو دیکھا جس کے اتنے پیجیز تھے کے وہ تو کبھی بھی صبح تک ٹائپ نہیں کر سکتی تھی سارے ۔
پر اذلان یہ تو بہت زیادہ ہیں (حور نے فائل کو دیکھتے ہوے کہا
تو ؟(اذلان نے اک ابرو اٹھا کر پوچھا
تو یہ کے یہ میں کل کر دوں گی آج مجھے بہت نیند آئ ہوئی ہے (حور نے التجا یا لہجے میں کہا ۔
نہیں بلکل نہیں مجھے کل یہ ہر صورت میں چاہیے ۔
تو کوئی اور نہیں کر سکتا کیا پلیز ( حور نے اک آخری کوشش کی تھی
کیوں کے اتنی رات کو اتنا کام سن کر وہ پریشان ہو چکی تھی ۔
حور یہ پکڑو فائل اور شروع کرو ٹائپنگ (ازلان نے کہتے ہوے فائل اس کی طرف بڑھائی اور لیپ کا رخ اسکی طرف کیا
خود آرام سے دونوں ٹانگیں ٹیبل پر رکھے حور کو دیکھنے میں مصروف ہو گیا ۔
اور وہ بیچاری جب انگلیاں تھک جاتیں تو اک التجا یا نگاہ ازلان پے ڈالتی لیکن اسے تو کوئی فرق ہی نہیں پڑتا تھا ۔
وہ اپنے کام میں پوری طرح مصروف ہونے کی کوشش کرتی لیکن ازلان کبھی آگے ہو کر اسکی کوئی غلطی بتاتا تو کبھی کوئی جسکی وجہ سے حور عاجز آ چکی تھی
وہ مسلسل اسے زچ کرنے کے در پے تھا کبھی اسکا کندھا ازلان کے کندھے سے ٹکراتا تو کبھی اسکے ہاتھ پے اذلان اپنا ہاتھ رکھ کر ٹائپنگ مسٹیک بتاتا ۔
آخر کار جب دو بجے کا ٹائم ہوا تو اذلان کی نظر اس پے پڑی جو ٹیبل پر سر گرا ے سو رہی تھی
اسنے ایک نظر دیکھنے کے بعد لیپ ٹاپ بند کیا اورحور کی اٹھا کر بیڈ پر لٹایا اور خود بھی آ کر سو گیا
اگلی صبح جب حور کی آنکھ کھلی تو خود کو بیڈ پر پایا چہرہ موڑ کے دیکھا تو سائیڈ ٹیبل پر ایک چٹ پڑی ہوئی تھے ۔
آئندہ مجھ سے بھاگنے کی بجاے میری بات مانلینا فائدے میں رہو گی ( حور نے چٹ پڑھ کر واپس سر تکیے پر گرا لیا
تو ازلان نے رات کو اس کے ساتھ کھانا نا کھانے کا بدلہ لیا تھا
______________
زندگی اسی ڈگر پر رواں تھی اذلان کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئ تھی حور وہ پورا پورا دن گھر میں بور ہوتی رہتی تھی
زندگی کے بارے میں کیا سوچا تھا اور کیا ہوگیا ابھی تو اس نے ماسٹر کرنا تھا کتنے خواب تھے
اس کے کے زندگی میں کچھ کرے گی اپنا آپ منواے گی لیکن اب
اب تو سب کچھ بدل چکا تھا وہ شخص جو ہر بات ہر معاملے میں اس کا ساتھ دیتا تھا
اب ہر معاملے میں اسکے مقابل ہوتا ہے وہ انسان جو کبھی حور کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا تھا اب اسے رلانے کا سبب ہی وہ ہے
اس کی سوچوں کا ارتکاز تب ٹوٹا جب لینڈ لائن پے آتی کال کی آواز آئ اس نے آگے بڑھ کر فون اٹھا یا ۔
السلام عليكم(حور نے فون اٹھاتے سلام کیا
وعلیکم السلام حور بھائ کہاں ہیں وہ فون نہیں اٹھا رہے (فون سے مہر کی پریشان سی آواز آئ ۔
وہ تو آفس گئے ہیں کیوں سب خیریت ہے نا (حور اسکی آواز سن کر پریشان ہو چکی تھی اس نے پریشانی سے پوچھا ۔
حور چچی کی طبیعت بہت زیادہ حراب ہے تم پلیز جلدی آ جاؤ (مہر کی بات سن کر حور نے فون بند کر دیا تھا
اور اگلے ہی لمحے وہ نمبر ملا رہی تھی پر فون نہیں اٹھایا جا رہا تھا ۔
یک دم اس کے ذہن میں اک حیال آیا تھا اور اگلے ہی لمحے وہ اندر کی طرف بڑھی تھی کچھ دیر بعد باہر آئ تو کالی شال اوڑھی ہوئی تھی ۔
جلدی سے پورچ کی جانب بڑھی ۔
ڈرائیور آگے بڑھا تھا اسے دیکھ کر لیکن وہ خود ہی ڈرائیونگ سیٹ سمبھال چکی تھی
سب حیران تھے اس نے گاڑی باہر نکالی سائیڈ مرر سے میں دیکھا تو پیچھے گارڈ کی گاڑی آ رہی تھی ۔
آدھے گھنٹے بعد وہ ازلان کے آفس کے باہر تھی ریسپشن پے رک کر وہاں بیٹھی لڑکی سے پوچھا
اذلان آفس میں ہیں اپنے ؟(وہ لڑکی حیرانگی سے حور کو دیکھ رہی تھی اسکی سوالیہ نظروں کے جواب میں حور بولی
میں ان کی وائف ہوں
میم سر تو بہت امپورٹنٹ میٹنگ میں ہیں آپ ان کے آفس میں ویٹ کر سکتی ہیں (اس نے پیشہ ورانہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا
حور سنی ان کرتی ہوئی آگے بڑھی تھی میٹنگ روم کا دروازہ ایک جھٹکے سے کھولا تھا
سارے افراد ایک دم چونک گئے تھے اور ان میں سے ایک فرد جس کی آنکھوں میں حیرانگی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے غصہ در آیا تھا۔
میٹنگ ختم ہوئی آپ لوگ جا سکتے ہیں (اذلان کے کہتے ہی پورا روم خالی ہو گیا تھا اب صرف ازلان اور حور تھے روم میں ۔
ازلان ماما کی طبیعت بہت خراب ہے میں نے گاؤں جانا ہے (اسکی سرخ آنکھوں اور سرد نگاہوں کے جواب میں حور بولی تھی
وہ چلتا ہوا حور کے قریب آیا
کس کے ساتھ آئی ہو (سرد لہجے میں سوال کے جواب میں سوال پوچھا گیا ۔
حور کو یکدم احساس ہوا کے وہ غلطی کر چکی ہے ۔
وہ م میں میں خود آئ ہوں (اسنے کچھ لمحوں بعد جواب دیا ۔
اذلان یکدم اس کے قریب آیا تھا اور اگلے ہی لمحے اسکو کھینچ کر قریب کیا تھا اور حور کا بازو اسکی کمر کے پیچھے لے جا کر مروڑا کے اسکی چیخ نکل گئی ۔
کس سے پوچھ کر تم گھر سے باہر نکلی ہو (وہ حور کی حالت سے بے نیاز دھاڑاتھا ۔
ا اذلان م مجھے ددرد ہو رہا ہے چھوڑیں (حور اپنے آپ کو چھرواتی ہوئی بولی
میری بات کا جواب دو جب میں نے ایک دفع بول دیا تھا کے تمہارا ان لوگوں سے کوئی رشتہ نہیں ہے تو پھر کیوں آئ ہو یہاں
وہ میری ماما ہیں ان کی طبیعت خراب ہے میں ۔ نے ماما کے پاس جانا ہے (آج وہ بھی اس کے سامنے ڈٹی ہوئی تھی ۔
ازلان نے اسکا ہاتھ پکڑا اور روم سے باہر لے گیا راہداری سے چلتا ہوا ایک روم کا دروازہ کھولا حور کو احساس ہوا کے یہ اسکا روم ہے
اسی روم میں آ گے بڑھ کے ایک دروازہ کھولا اور لا کر وہاں رکھے صوفے پر پٹخا حور کو لگا جیسے اسکی ہڈیاں ٹوٹ گئیں ہوں
ایک انچ بھی یہاں سے ہلی تو چلنے کے قابل نہیں چھوڑوں گا (اس نے اپنے شعلے برساتی نگاہوں سے دیکھتے ہوے اسے کہا
اور مڑ کر وہاں سے باہر نکل گیا جب کے حور تو وہیں جم کے رہ گئی ۔
اپنے آفس میں آ کر اس نے ادھر ادھر ٹہل کر اپنا غصہ کم کرنا چاہا
اس کے دل میں تھوڑی سی جو گنجائش نکلی تھی حور کے لئے اسکی حرکتوں کی وجہ سے وہ بھی ختم ہو گئی ۔
پھر آ کر اپنی چیئر پر بیٹھ گیا اور لیپ ٹاپ کھول کر خود کو مصروف کرنے کی کوشش کرنے لگا
اور گاہے بگاہے سیٹنگ روم کے دروازے پر بھی نظر ڈال لیتا معمول کے مطابق کام کرتا رہا
اور اپنے ٹائم پر کام حتم کیا اورسیٹنگ روم کی طرف آیا دروازہ کھولا تو سامنے ہی وہ صوفے پر سکڑی سمٹی بیٹھی بیٹھی سو رہی تھی ۔
ازلان آگے بڑھا اور اسے اپنے بازوؤں میں اٹھا کر باہر کی طرف بڑھا اسکے اٹھانے پر ایک لمحے کو کسمسائی لیکن پھر دوبارہ سو گئی
ازلان نے لا کر اسے سیٹ پر بٹھایا اور دوسری طرف سے آکر گاڑی سٹارٹ کر دی ابھی کچھ ہی دیر گزری ہو گی کے حور کی آنکھ کھلی کچھ لمحے حیرانگی سے دیکھتی رہی پھر خفگی کے توڑ پر اسکی طرف سے منہ موڑ کر کھڑکی کی طرف منہ کر لیا ۔
پورچ میں گاڑی رکتے ہی حور اور ازلان کی نظر بیک وقت وہاں کھڑی بلیک لینڈ کروز کی طرف گئی جو کے بڑے بابا کی تھی ۔
حور بغیر کسی تاحیر کے باہر نکلی اور اندر کی طرف بڑھ گئی ۔
سامنے ہی لاؤنج میں مراد راؤ بیٹھے ہوے تھے
بڑے بابا (ان کو دیکھتے ہی حور جلدی سے ان کی طرف بڑھی
اور اگلے ہی لمحے وہ بھاگتی ہوئی ان کے سینے سے لگی ہوئی تھی ۔
بس بس میرے بچے میں آ گیا ہوں اپنے بیٹے کے پاس (انہوں نے حور کو خود سے الگ کیا اور اسکے آنسو صاف کرتے ہوے بولے ۔
ازلان بھی یہ منظر دیکھ رہا تھا ۔
چلو اب آپ جلدی سے فریش ہو جاؤ اور اپنا ضروری سامان پیک کر لو ہمیں ابھی کچھ دیر تک نکلنا ہے
بڑے بابا ماما تو ٹھیک ہیں نا (حور فکرمندی سے بولی
میرا بچا وہ ٹھیک ہیں بس آپ کو یاد کر رہی ہیں چلو اب جلدی سے جاؤ
ان کے کہنے پر حور جلدی سے کمرے کی طرف بڑھی اور اس سب میں اس نے ایک دفع بھی ازلان کو نہیں دیکھا کیوں کے وہ جانتی تھی ۔
السلام عليكم بابا کیسے ہیں آپ ؟(حور کے جاتے ہی ازلان نے پوچھا
وعلیکم السلام آپ نے میرا نام فخر سے بلند کر دیا ہے تو پھر کیا توقع رکھتے ہیں کیسا ہو سکتا ہوں (انہوں نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔
بابا کیوں ناراض ہو رہے ہیں کچھ غلط تو نہیں کیا میں نے (اذلان نے ان کے جواب میں کہا
ابھی کچھ کیا ہی نہیں جب کرتے تب کیا ہوتا یہ جانتے ہوے بھی کے حور ہم سب کو اور ہم سب سے زیادہ تمہیں عزیز ہے
اور تم اسے اتنی اذیت دیتے ہو پھر بھی کس چیز کی سزا دے رہے ہو اسے صبح سے مہر نے کال کی ہوئی ہے وہاں بیمار پڑی ہے اسکی ماں اور تم بے حس بنے پھر رہے ہو
(اذلان نے کچھ بولنے کے لئے لب کھولے ہی تھے کے انھوں نے حور کو آتے دیکھا تو اٹھ کھڑے ہوے اور ازلان کو ہاتھ کے اشارے سے بولنے سے منا کیا ۔
بہر حال تم نے جو کیا سو کیا پر اب میں حور کو لے کر جا رہا ہوں اگر کسی کی یا سب سے زیادہ اپنی بوڑھی ماں کی فکر ہوئی تو چلے آنا چلو حور
(انہوں نے حور کو آخر میں مخاطب کیا اور وہ بھی ازلان کو بنا دیکھے باہر نکل گئی
___________
حور ین بڑے بابا کے ساتھ روانہ ہو چکی تھی اور کچھ ہی گھنٹوں میں وہ لوگ گاؤں کی حدود میں داخل ہو چکے تھے
حویلی کے پورچ میں گاڑی رکتےہی حور جلدی سے باہر نکلی اور اندرونی جانب کی طرف بڑھی ۔
رات کی سیاہی نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا ہر سو خاموشی تھی
حور راہداری عبور کرتی ہوئی اندر کی جانب بڑھ رہی تھی جب اندر سے مہر اور احراز دونوں ایک ساتھ آتے دکھائی دئے ۔
مہر جلدی سے آگے بڑھی اور حورکو گلے سے لگایا دونوں کی آنکھیں نم تھیں کچھ دیر بعد حور مہر سے الگ ہوئی اور پھر آخراز سے ملی
کیسی ہے میری گڑ یا(اخراز اسے خود سے الگ کرتے ہوے بولا ۔
میں ٹھیک ہوں بھائی ماما کیسی ہیں اور کدھر ہیں (حور نے جلدی سے پوچھا ۔
ماما اب تو ٹھیک ہیں اور کمرے میں ہیں ابھی کچھ دیر پہلے ہی سوئی ہیں(اخر از اسی اپنی ہمراہی میں لئے اندر کی طرف بڑھتے ہوے بولا ۔
کمرے میں پہنچ کر حور ماما کی طرف بڑھی وہ سو رہی تھیں چہرہ زرد تھا
حور انکے پاس ہی بیڈ پر بیٹھ گئی اور ان کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لئے وہ ماں تھیں اپنی اولاد کا لمس پہچانتی تھیں انہوں نے آنکھیں کھولیں
حور میری جان (حور کو دیکھتے ہی ان کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی
ماما کہتی ہوئی انکے سینے سے لگی
وہ بے اختیاری کی کیفیت میں حور کا سر اور منہ چوم رہی تھیں
مہر بھی پاس ہی بیٹھی ماں بیٹی کی محبت دیکھ رہی تھی ۔
ماما بس کریں اور لیٹ جائیں آپ کی طبیعت زیادہ خراب ہو جائے گی
(ان کی طبیعت کے باعث فکر مندی سے بولی
تم فریش ہو جاؤ میں کھانا لے کر آتی ہوں (مہرحور کو کہتی ہوئی اٹھنے لگیں
نہیں مہر میں نے بڑے بابا کے ساتھ راستے میں کھا لیا تھا اب بھوک نہیں ہے ۔(حور نے مہر کو کہا ۔
اچھا ٹھیک ہے تم آرام کرو میں ہوں چچی کے پاس
نہیں تم آرام کرو دن میں بھی کافی کام ہونگے تو تھک گئی ہو گئی میں ماما کے پاس ہی ہوں
(حور نے مہر کے چہرے پر تھکن کے اثرات دیکھتے ہوے کہا ۔
لیکن حور (مہر نے کچھ کہنا چاہا لیکن حور کے خفگی بھرے تاثرات دیکھ کر خاموش ہو گئی ۔
اچھا پھر اگر کسی چیز کی ضرورت ہوئی تو مجھے بتانا (مہر اٹھتے ہوے بولی
حور اثبات میں سر ہلانے لگی ۔
۔ ۔![]()
![]()
![]()
ازلان حورکے جانے کے بعد کمرے میں آ گیااسے رہ رہ کر حور اور اپنے اپر غصہ آ رہا تھا
کے اسنے کیسے حور کو جانے دیا اور اس کے منع کرنے کے با وجود وہ کیوں چلی گئی دل میں ہی غصے کا لاواپک رہا تھا جو کے حور پر ہی پھٹنا تھا….
