Tere Lot Ane Tak by Sanya Chaudhary NovelR50431 Tere Lot Ane Tak Episode 4
Rate this Novel
Tere Lot Ane Tak Episode 4
Tere Lot Ane Tak by Sanya Chaudhary
اگلی صبح ناشتہ کر کے وہ لوگ فارم ہاؤس سے تھوڑا دور آ گئے کھلی زمین تھی جسکی ایک طرف کھائی تھی ان لوگوں کا ارادہ کرکٹ کھیلنے کا تھا پر ابھی کچھ کزنز نہیں تھے آے
حور چلتی ہوئی کھائی کی طرف آ گئی کچھ ہی دیر گزری ہو گی کے حماد آگیا
ادھر کیوں کھڑی ہو حورین ( حماد نے پوچھا
ایسے ہی میں نے سوچا جب تک باقی سب نہیں آ جاتے ادھر آ جاؤں
حورین مجھے تم سے ایک بات کرنی ہے امید ہے تم میری مدد کرو گی کیوں کے میں نے ہمیشہ تمہیں اپنی بہن سمجھا ہے (حماد نے کہتے ہوے حورین کے کندھے پر ہاتھ رکھنا چاہا
لیکن بیچ میں ہی احراز نے پکڑ لیا
حماد اپنی یہ حرکتیں کم سے کم فمیلی میں تو نا کرو اور حورین سے دور رہو (احراز نے دبے دبے لہجے میں کہا
کونسی حرکتیں اور احراز میں نے اس دن بھی تم سے بولا تھا کے تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے (احراز کے غصّے کے بر عکس اس نے نرمی سے جواب دیا
وہ تو حورین سے کہنے آیا تھا کے احراز کو سمجھا ے کے اپنے دل سے ساری تلحیاں نکال دے پر وہ کیا کہ رہا تھا
بھائ کیا بول رہے ہیں آپ دونوں کیا ہوا ہے (حورین کو
سب جانتا ہوں اور غلط فہمی نہیں ہوئی مجھے کئی دفع اپنی آنکھوں سے تمہیں اس لڑکی کے ساتھ دیکھا ہے اور پلیز میری بہن سے اپنی یہ اوچھی حرکتیں نا کیا کرو اور دور رہو ورنہ
ورنہ کیا بولو (وہ اسکی بات کاٹتے ہوے بولا
حماد تو ایک لڑکی کی مدد کر رہا تھا اس کا باپ بیمار تھا بس کچھ دن ڈاکٹر کے پاس سے اسکا علاج کرواتا رہا اور ایک دو دفع بس اس آدمی کی حیریت پوچھنے گیا اور اب احراز کی بات سن کر اسے بھی غصہ آ گیا
احراز نے اسکا گریبان پکڑ لیا جب کے حورین چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی
بھائ چھوڑیں کیا ہو گیا ہے آپ دونوں کو
مارنا چاہتے ہو مارو میں بھی دیکھوں کیا کر سکتے ہو
حماد کے کہنے پر اسنے اسکے گریبان کو جھٹکے سے چھوڑا
حماد پیچھے کی طرف لرکھڑ ایا اور پتھر سے الجھنے کی وجہ سے ایک دم کھائی میں گرتا ہے
حور کی چیخ نکلتی ہے جب کے احراز پڑ تو سکتا طاری ہو جاتا ہے
ازلان جو کے اس طرف آ رہا ہوتا ہے احراز کو دھکا دیتے اور حماد کو گرتے دیکھ لیتا ہے
وہ چلاتا ہے
بھائ (کچھ مزارعے جو کے زمینوں پر کام کر رہے تھے
حماد کو گرتے اور ازلان کی چیخ سن کر بھا گ کر آے
کھائی زیادہ گہری نہیں تھی لیکن حماد کا سر پتھر سے ٹکرانے کی وجہ سے لمحوں میں وہ لہو لہان ہو گیا
ازلان جلدی سے کھائی کی طرف بڑھا کچھ اور لوگ ساتھ بڑھے
حماد کو جلدی سے اٹھا کے گاڑی میں ڈالے اور قریبی کلینک لے گئے
ڈ
سارے کزنز حیران تھے کے یہ کیا ہوا ہے اور حورین وہ تو جیسے سکتے میں آ گئی تھی
مہر کا رو رو کر برا ہال تھا
اور دوسری طرف ڈاکٹرنے چیک کیا اور ازلان کی طرف آے جسکی اپنی حالت بری تھی
دل تھا کے کچھ برا ۔ ہونے کی گواہی دے رہا تھا
ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پر رہا ہے کے چوٹ بہت گہری ہونے کی وجہ سے ان کی ڈیتھ ہو گئی ہے آپ حوصلہ رکھیں ( ڈاکٹرکہتا ہوا آگے بڑھ گیا جب کے
ازلان کے تو پاؤں کے نیچے سے زمین ہی کھینچ گئی تھی
شام تک پورے گاؤں میں کہرام مچ گیا تھا جوان موت ہوئی تھی ہر ایک کی آنکھ اشک بار تھی
اور مہر اسکی تو رو رو کر حالت بری تھا
بھائ اٹھیں بھائ کیوں لیٹیں ہے ایسے اٹھ جایں بھائ آپ کی مہر مر جائے گی آپ کے بغیر (وہ رو رو کر اسکو اٹھا رہی تھی پر وہ تو دنیا سےغافل ہو گیا تھا کیسے سنتا اسے
حورین اور شمائل اور انکی ماما بھی ادھر ہی تھیں
وہ بیگم مراد کو چپ کروا رہیں تھیں جو کے جوان بیٹے کی موت سے بار بار بے ہوش ہو رہی تھی ۔جنازے کا وقت آیا ۔اذلان میت کے قریب آیا ۔وہ مرد تھارو نہیں سکتا تھا پر وہ بے جان پڑا وجود اس کی عزیز ترین ہستیوں میں سے ایک تھا ۔اور اذلان نے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا اور ضبط کی انتہا کو توڑتے ہوئے دو آنسو اسکی آنکھوں سے ٹوٹ کر حماد کے چہرے پر پڑے ۔تدفین کا وقت نکلا جارہا تھا ۔از لان سمیت تین لوگوں کے کندھوں پر اس کے عزیز بھائی کو جنازہ کے لئے لے گئے
رات سب کی روتے بلکتے کٹی حماد کی موت کو دو دن ہو گئے تھے
سب کو وجہ پتا چل چکی تھی کے کیسے حماد کی موت ہوئی کیوں کے کچھ لوگوں نے احراز کو دھکا دیتے ہوے دیکھا تھا
جب مراد راؤ نےاحراز سے پوچھا تو اسنے ساری بات بتا دی
لیکن ازلان اسکا تو بس نہیں چل رہا تھا کے احراز کی جان لے لے
ازلان مہر کے کمرے میں آیا
اسکے ہاتھ میں ٹرے تھی مہر جو کے بیڈ پے ٹیک لگاے بیٹھی تھی
ازلان کو دیکھتے ہوے سیدھی ہو کر بیٹھ گئی
کھانا کیوں نہیں کھا رہی ہو مہر (ازلان نے نرمی سے کہا
ویسے ہی بھوک نہیں تھی (مہر نے بیڈ شیٹ پر انگلی پھیرتے ہوے کہا پر ضبط کے با وجود آنکھیں چھلک اٹھیں
مہر ادھر دیکھو میری طرف ایسے تو بھائ کو تکلیف ہو گی نا رونا بند کرو شا با ش (ازلان کے کہنے پر مہر اسکے سینے سے آ لگی اور ہچکیوں سے رونے لگی
مہر بس اب نہیں رونا (ازلان نے خود پر قابو پاتے ہوے کہا
مہر پیچھے ہو کر آنسو صاف کرنے لگی
اب بس اب کھانا کھاؤ (ازلان نے اسے خود کھانا کھلایا اور کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد چلا گیا
اور مردانے میں مراد راؤ کے پاس گیا
بابا میں نے کال کر دی ہے کمشنر کو ساری ڈیٹیل دے دی ہے بس کچھ دنوں میں وہ لے جائے گی احراز کو (ازلان کے کہنے پر مراد راو کو جھٹکا لگا
ازلان یہ کیا کہ رہے ہو تم آج پنچایت بیٹھے گی تو اس میں میں احراز کو معاف کر دوں گا
بابا یہ آپ کیا کہ رہے ہیں آپ بھائ کے قاتل کو کیسے معاف کر سکتے ہیں (ازلان صدمے سے بولا
وہ ایک حادثہ تھا ازلان احراز کا قصور نہیں تھا اس میں تو سزا کس چیز کی ملے(انہوں نے ازلان کو سمجھانا چاہا
بابا آپ کیسے کہ سکتے ہیں کے اسکا قصور نہیں پنچایت آج بیٹھے گی اور اگر آپ نے اسے معاف کیا تو آپ اپنے دوسرے بیٹے کو بھی کھو دیں گے (اتنا کہتے ہوے وہ جھٹکے سے اٹھا اور باہر نکل گیا
___________
ازلان کے جانے کے بعد مراد راؤ کرسی سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند کر بیٹھ گئے ایک آنسو تھا جو چپکے سے ان کی آنکھوں سے نکل کر داڑھی میں جذب ہو گیا تھا
ابھی ایک بیٹے کے غم سے سمبھلے نہیں تھے کے اب دوسرے کی بات نے پریشان کر دیا تھا
ہمیشہ خوش و حرم رہنے والے مراد راؤ کچھ ہی دنوں میں برسوں کے بیمار نظر آنے لگ گئے تھے
پر سب کے سامنے ابھی بھی وہ اپنے آپ کو مضبوط ثابت کر رہے تھے
کیوں کے اگر وہی ٹوٹ جاتے تو باقی سب کو کون سمبھالتا
دوسری طرف حورین کی بہت بری حالت تھی جب سے اس نے حماد کو اپنی آنکھوں سے کھائی میں گرتے دیکھا تھا اس پر جیسے سکتا طاری ہو گیا تھا نہ وہ کچھ بول رہی تھی نہ رو رہی تھی اگر کوئی بلاتا تو حالی حالی نظروں سے دیکھتی رہتی تھی
سب کو اسکی فکر ہو رہی تھی مسز زوا ر کتنی دفع اسے سمجھا چکی تھیں پر وہ پھر بھی خاموش تھی
حورین میری بہن پلیز کچھ کھالو (شمائل ابھی حورین کو کھاناکھلانے کی کوشش کر رہی تھی
ایک وہ تھی جو کبھی حورین کو حوصلہ دیتی تو کبھی مہر کے پاس جاتی
حورین کھاؤ اسے (اس نے اب کی بار سختی سے کہا کے شائد کھا لے
لیکن وہ بولی تو اتنا
آپی حماد بھائ آپی حماد بھائ (وہ اتنا بول کے چپ کر گئی
اور شمائل کی طرف دیکھنے لگ گئی
گڑیا دیکھو جس کی جتنی عمر لکھی ہوتی ہے وہ تب تک ہی رہتا ہے
اور سب نے اک نا اک دن چلے جانا ہے نا اور تمہیں تو تائی امی کو سمبھالنا چاہیے نا اور تم خود ایسے کر رہی ہو
( شمائل حورین کو سمجھا رہی تھی پر اپنی آنکھوں سے اشک رواں تھے
حورین نے اپنے ہاتھوں سے اسکے آنسو صاف کیے اور بیڈ سے اٹھنے لگی
کہاں جا رہی ہو (شمائل نے اسے یوں اٹھتے دیکھ کر پوچھا
تائی امی کے پاس (حورین نے جواب دیا اور دروازے کی طرف بڑھ گئی
جب کے شمائل اسے دیکھتی رہ گئی
حورین چلتی ہوئی لاؤنج تک آئ وہاں کسی کو نا پا کر وہ تائی امی کے کمرے کی طرف بڑھ گئی
دروازہ کھولا تو وہ سامنے ہی بیڈ کرا ؤن سے ٹیک لگاے تسبیح پڑھ رہی تھی اور آنکھیں بند تھیں
وہ چلتی ہوئی بیڈ تک آئ اور ان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی
آنسو بڑی تیزی سے آنکھوں سے نکل کر گال بھیگو رہے تھے سکتا ٹوٹ چکا تھا
حورین ( انہوں نے نم لہجے میں کہا
تائی امی کس کی نظر لگ گئی ہمارے گھر کو ابھی تو اتنی خوشیاں آئ تھیں کیوں ہوا یہ تائی امی (حورین روتے ہوے بولی
ہم کیا کہ سکتے ہیں بیٹا بس تقدیر میں یہی لکھا تھا یہ وقت تو میرا تھا جانے کا پر وقت کی ستم ظریفی دیکھو
اپنے جانے کی عمر میں اپنے لخت جگر کو سپرد خاک ہوتے ہوے دیکھا (وہ بولتے بولتے رو پڑیں
تائی امی آپ نارویں نا ہم بھائ کے لئے دعا کریں گے اگر ہم سب ایسے ہی روتے رہے تو بھائ کو تکلیف ہو گی (حورین نے ان کے آنسو صاف کرتے ہوے کہا
بیٹا جو ہونا تھا وہ تو ہو گیا پر اب میں اس گھر میں کوئی بد مزگی نہیں چاہتی پر ازلان کو کون سمجھا ے
کیا ہوا تائی امی کیا ہوا ہے ازلان کو (حورین نے فکر مند ہوتے ہوے پوچھا
بیٹا وہ کہتا ہے احراز کو سزا دلوا کے رہے گا اسنے تو پولیس کو بھی سب بتا دیا ہے
پر بیٹا نا تمہارے بڑے بابا ایسا چاہتے ہیں نا میں جیسا ہمیں حماد تھا ویسے ہی احراز ہے پر اس کو کون سمجھاے اور مہر اسکی تو اپنی حالت بری ہے اس طرح تو سالوں سے بنے رشتے خراب ہو جایں گے
( وہ بات کرتے کرتے رو پڑ یں
تائی امی کچھ نہیں ہوگا آپ فکر نا کریں کچھ برا نہیں ہوگا (اس نے تائی امی کو دلاسا دیا پر اندر سے اسکا اپنا دل ڈر گیا تھا
کچھ دیر بعد وہ وہاں سے اٹھی اور اب اسکا رخ ازلان کے کمرے کی طرف تھا
وہ بہت ساری ہمت متجمع کر کے ازلان کے کمرے کی طرف بڑھی تھی
جیسے ہی دروازہ کھولا وہ سامنے ہی آنکھیں موندے ایزی چیئر پے جھول رہا تھا اور کمرے میں فل اندھیرا کر رکھا تھا دروازہ کھلنے پڑ اسنے آنکھیں کھولیں اور حور کو دیکھتے ساتھ ہی آنکھیں دوبارہ موند لیں
ازلان (حورین نے پکارا لیکن وہ اسی طرح رہا البتہ جھولنا بند کر دیا تھا
حورین گھٹنوں کے بل بیٹھی اور ازلان کے گھٹنے پڑ ہاتھ رکھا
ازلان پلیز نا کریں ایسا (حورین کے کہنے پڑ ازلان نے آنکھیں کھولیں اور حورین کو دیکھا جسکی آنکھوں سے نکل کر آنسو تیزی سے اسکےگال بھیگو رہے تھے
حور جاؤ یہاں سے ( اس نے بمشکل خود کو کنٹرول کرتے ہوے کہا اسکے آنسو اسے تکلیف دے رہے تھے
ازلان پلیز میں زندگی میں آخری بار کچھ مانگنے آئ ہوں مجھے نا امید نا لوٹایے گا
معاف کر دیں بھائی کو اگر بھائی کو کچھ ہوا تو ہم سب مر جایں گے پلیز (وہ مسلسل روتے ہوے بول رہی تھی
کچھ پل دونوں کے درمیان خاموشی رہی جیسے ازلان کی سرد آواز نے توڑا
جاؤ حورین میں نے معاف کیا اپنے بھائی کے قاتل کو (آج پہلی دفع اسنے حورین بولا تھا
حورین نے ازلان کو دیکھا جس کی آنکھیں شدت ضبط سے سرخ تھیں
حورین کچھ بولنے ہی لگی تھی جب اذلان دھاڑ ا تھا اور آنکھوں سے شعلے نکل رہے تھے
حورین میں نے کہا جاؤ یہاں سے (وہ اسکی دھاڑ سے سہم گئی تھی پھر یکدم وہاں سے اٹھ کر نکلتی چلی گئی
ازلان حورین کے جانے کے بعد بھی ویسے ہی بیٹھا رہا
کوئی اس سے پوچھتا کے اسکی دل کی حالت کیا تھی جان سے عزیز بھائ کو کھونے کا کتنا دکھ تھا
اور دکھ تو اس بات کا بھی تھا کے وہ ہستی جس کی اس نے ہمیشہ مانی تھی جو اسے خود سے زیادہ عزیز تھی
وہ اس کے بھائ کو مرتے ہوے دیکھ رہی تھی پر روک نا سکی
اور اب بھی اسے اپنے بھائ کی فکر تھی بہت سی سوچوں کے در کھلے ہوے تھے
وہ بہت مضبوط اعصاب کا مالک تھا زندگی کی ہر سختی کو جھیلنا آتا تھا اسے بلاخر کافی دیر بعد اسکے ذہن نے ایک فیصلہ کیا
وہ جھٹکے سے اٹھا اور باہر نکل گیا اب اس کے قدم تیزی سے مردان حانےکی سمت بڑھ رہے تھے
وہ سیدھا بابا کے کمرے کی طرف گیا
بابا مجھے آپ سے بات کرنی ہے ( وہ اندر داحل ہوتے ہوے بولا
کرو میں سن رہا ہوں ( مراد راؤ نے لمبی سانس لیتے ہوے کہا
می ںاپنی ایف آئ آر واپس لے لوں گا اور آپ بھی پنچایت میں جو کہنا چاہیں کہ دیں (ازلان نے کہتے ہوے انکی طرف دیکھا جن کے چہرے پر خوشی کی جھلک تھی
لیکن میری ایک شرط ہے بابا (ازلان کی یہ بات سن کر ان کے چہرے پر پریشانی واضح تھی
کیسی شرط ( انہوں نے سوالیہ انداز میں پوچھا
نا مجھے احراز کو سزا دلوانی ہے نا مجھے جرگہ یا پنچایت بٹھانی ہے بابا مجھے صرف حورین چاہیے صرف حورین (اسنے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوے کہا اور اسکے لہجے میں چٹانوں جیسی سختی تھی
اور مراد راؤ وہ تو کنگ تھے ان کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کے ازلان ایسی کوئی بات کرے گا
پر ازلان (کچھ دیر بعد وہ حیرت زدہ سے بولے
بابا فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے اگر آپ کو نہیں منظور تو پھر جو میں کروں گا وہ آپ لوگ سوچ بھی نہیں سکتے
اتنا کہتے ہوے وہ جیسے آیا تھا ویسے ہی چلا گیا جب کے مراد راؤ سر تھام کر بیٹھ گئے
____________
حورین ازلان کے کمرے سے بھاگتی ہوئی آئی اور اپنی حویلی کے لان میں آ کر قدرے سنسان گوشے میں بینچ پر بیٹھ گئی آنسو زارو قطار آنکھوں سے نکل رہے تھے دل میں ایک درد کی لہر اٹھی تھی زندگی میں پہلی دفعہ اذلان نے اس سے اتنے سرد رویے میں بات کی تھی وہ تو ابھی تک یقین ہی نہیں کرپائی تھی کے وہ ازلان ہی تھا وہ ازلان جو کسی کو بھی اس سے اونچی آواز میں بات نہیں کرنے دیتا تھا آج خود کار اپنا رویہ اتنا سرد تھا
وہ مسلسل روئے جا رہی تھی اپنے اردگرد سے بیگانہ سردی کا موسم تھا
شام کے حل کے سائے گہرے ہو رہے تھے سردی بڑھ رہی تھی لیکن اسے کوئی فکر نہیں تھی روتے روتے اسکی ہچکی بندھ گئی تھی
۔ ![]()
![]()
![]()
شمائل کمرے میں تھی ک اچانک اسے یاد آیا کے حورین تائی امی کے پاس گئی تھی اور اب تو رات ہونے کو آئ تھی اسے فکر لاحق ہونے لگی
وہ چلتی ہوئی لاؤنج میں آئ تو فرحت بیگم بیٹھی ہوئی تھیں اور ہاتھ میں تسبیح تھی
ماما حورین کہاں ہے
بیٹا کمرے میں ہوگی اپنے کیوں کوئی کام ہے فرحت بیگم نے پوچھا
نہیں ماما وہ تائی امی کے پاس گئی تھی اور ابھی تک نہیں آئ ( شمائل نے فکر مندی سے کہا
بیٹا باجی صفیہ کے پاس سے تو میں ابھی آ رہی ہوں وہاں تو نہیں ہے حورین اور نا ہی مہر کے پاس تھی (وہ پریشانی سے بولی
بیگم صاحبہ بیگم صاحبہ وہ (ابھی وہ کچھ اور بولتیں ملازمہ آئ اس کے چہرے کی ہوا یاں اڑی ہوئیں تھیں
کیا ہوا ہے نگین یہ تمہارے چہرے پر ہوا یاں کیوں اڑ ی ہوئیں ہیں (فرحت بیگم نے صوفے سے اٹھتے ہوے پریشانی سے کہا
وہ آپ چلیں میرے ساتھ (ملازمہ کے کہنے پر وہ اسکے ساتھ گیں
۔ ۔ ۔
ازلان اپنے کمرے میں تھا شام سے ۔گھٹن حد سے زیادہ ہونے لگی تو اٹھ کر کمرے سے ملحقہ ٹیرس پر آگیا اور ریلنگ پر ہاتھ ٹکا کر کھڑا ہو گیا
ذہن میں بہت سی سوچیں گردش کر رہی تھیں اچانک اسکی نظر دوسری حویلی کے لان میں پری
وہ چونک گیا قدرے سنسان گوشے میں کوئی ہیولا نظر آرہا تھا پر وہ سمجھنے سے قاصر تھا کے یہ کون ہے
ابھی کچھ ہی پل گزریں ہونگے کے لان کی لائٹ آن ہوئیں اور اگلے ہی لمحے وہ ٹھٹک گیا
وہ بے سدھ پڑا وجود کسی اور کا نہیں حورین کا تھا درد کی اک لہر اٹھی تھی دل نے کہا بھاگ کے جاؤ اپنے دل کےمکین کے پاس محبت کی دیوی اسکی منت کر رہی تھی
لیکن دماغ کہ رہا تھا کے وہ اسکے بھائ کی موت کی برابر ذمہ دار ہے
دماغ اپنی دلیلیں دے رہا تھا اور محبت کی دیوی اسکی منت کر رہی تھی
دل اور دماغ دونوں کی جنگ ہو رہی تھی وہ یک ٹک نظریں جما ے سامنے اس عزیز ہستی کو دیکھ رہا تھا
جس کے پاس اب شمائل اور فرحت بیگم ملازمہ کے ساتھ کھڑی تھیں اور حورین کو اٹھا کر اندر لے جانے کی کوشش کر رہی تھیں وہ اسے اندر لے کر جا رہی تھیں جو بلکل بے سدھ تھی ارد گرد سے بیگانہ
ازلان کو اسے اس حالت میں دیکھ کر تکلیف ہو رہی تھی دل کہ رہا تھا بس ایک دفع چلے جاؤ اسکے پاس لیکن دماغ دل پر حاوی ہو رہی تھی
۔ ۔ ![]()
![]()
![]()
شمائل اور فرحت بیگم جلدی جلدی نگین کے پیچھےگیں لان میں دیکھا تو حورین کا وجود بے سدھ پڑا تھا وہ جلدی سے آگے بڑھیں
حورین کو اٹھایا اور اندر لے گیں
احراز نے ڈاکٹر کو فون کر کے بلایا
ڈاکٹر چیک کر رہا تھا جب کے سب پریشانی سے کھڑے تھے
ڈاکٹر چیک کر کے ان سب کی طرف متوجہ ہوا
بہت زیادہ ٹینشن اور کسی صدمے کی وجہ سے یہ بیہوش ہو گئی ہیں کوشش کریں مزید انہیں کوئی ٹینشن نا دیں ورنہ ان کا نروس بریک ڈاؤنبھی ہو سکتا ہے ابھی تو میں کچھ میڈیسن لکھ دیتا ہوں
جی ڈاکٹر صاھب ہم کوشش کریں گے کے اب یہ کوئی ٹینشن نا لیں
چلیں میں چلتا ہوں پھر اگر ان کی حالت مزید حرا ب ہوئی تو آپ مجھے انفارم کر دیں ہو سکتا ہے انہیں ہسپتال ایڈمٹ کرنا پڑے(ڈاکٹر نے اگاہ کیا
بہت شکریہ ڈاکٹر صاھب (احراز ان کو چھوڑنے چلا گیا جب کے شمائل پاس ہی بیٹھ گئی حورین کے
اور فرحت بیگم بھی
پتا نہیں حورین کو کیا ہو گیا ہے ہمارے گھر کو تو نظر ہی لگ گئی ہے کسی کی
ہستا بستا گھر اجڑ گیا ہمارا ( شمائل روتے ہوے بولی اور حورین کو دیکھا جس کی حالت بری تھی
سرخ و سفید رنگ زرد پر چکا تھا
بس بیٹا تقدیر میں یہی تھا اور ہونی کو کون ٹال سکتا ہے بس اب د عا یہی ہے کے اور کچھ برا نا ہو اس گھر میں (فرحت بیگم نے نم لہجے میں کہا
ماما آپ ایسا کریں اپنے کمرے میں چلی جایں میں ہوں ادھر (شمائل نے کہا
نہیں بیٹا میں ادھر ہی رہوں گی
تمہیں پتا ہے حورین کو بیماری کی حالت میں میری ضرورت ہوتی ہے (فرحت بیگم کے کہنے پر شمائل چپ ہو گئی
تم جاؤ جا کر سو جاؤ میں ادھر ہی ہوں ( انہوں نے شمائل کو کہا جس پر وہ اثبات میں سر ہلاتی اٹھ گئی…
