260.6K
19

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Lot Ane Tak Episode 8

Tere Lot Ane Tak by Sanya Chaudhary

حورین وہی بیڈ پر بیٹھ گئی ازلان کا رویہ اسکی سمجھ سے بالاتر تھا وہ جتنی کوشش کر رہی تھی ازلان کو سمجھنے کی سب اتنا ہی الٹا ہو رہا تھا

وہ سوچوں کے بھنور میں الجھی ہوئی تھی جب دروازے پر نوک ہوا دیکھا تو مہر تھی

ایسے کیوں بیٹھی ہو حورین کیا ہوا ہے (مہر نے اسکی شکل دیکھتے ہوے پریشانی سے کہا

ن نہیں کچھ نہیں بس پیکنگ کر رہی تھی ( حورین نے لرکھراتے ہوے لہجے میں کہا

حورین مجھے تمہاری طبیعت تھک نہیں لگ رہی تم ایسا کرو آرام کرو تھوڑی دیر اور کل آپ لوگ نہیں جا رہے شہر ابھی دو تین دن ہیں اسلئے ابھی پیکنگ کی ضرورت نہیں ہے ہوں (مہر نے بیڈ سے پھیلاوا سمیٹا اور حور کو بیڈ پر لیٹا کر لا یٹ آف کرتی باہر چلی گئی

کہیں نا کہیں تو وہ بھی ازلان کے رویے کو سمجھ رہی تھی جو اسکا حور کے ساتھ تھا

آج رات پھر ویسے ہی گزری ازلان پوری رات کمرے میں نہیں آیا تھا اور یہ ایک طرف سے حور کے لئے اچھا ہی تھا کم سے کم اسکے سخت رویے سے تو بچی ہوئی تھی

اگلے دن جب ازلان کمرے میں آیا تو حور کہیں نہیں تھی اسنے جا کے کپ بورڈ کھولی تو حیرت کا جھٹکا لگا وہاں ازلان کے کپڑوں کے ساتھ حور کے کپڑے بھی تھے

ازلان نے بے اختیاری کی کیفیت میں اسکے کپڑوں پر ہاتھ پھیرا

کھٹکے کی آواز پے وہ چونکا حور کمرے میں آ چکی تھی

ایک سخت نظر اس پر ڈال کر اپنے کپڑے لے کر واشروم میں چلا گیا

جبکے حور جلدی جلدی نیچے چلی گئی اسکی موجودگی میں تو کمرے میں رہنا محال تھا

نیچے آئ کچھ دیر تائی امی کے پاس بیٹھی

تائی امی میں ماما کی طرف جاؤں

کہیں نہیں جا رہی تم کمرے میں جاؤ (تائی امی کے بولنے سے پہلے ہی ازلان جو ابھی آیا تھا سخت لہجے میں بولا

ازلان یہ کیا کہ رہے ہو تم ( تائی نے حیرانگی سے پوچھا

ماما پلیز یہ ہم دونوں کا معملا ہے آپ اس میں نا پڑیں

اور تم کمرے میں جاؤ (ماما کے بعد اسنے حور کو مخاطب کیا

پر میں نے ماما

شادی سے پہلے تمہاری مرضی تھی جدھر تم جانا چاہتی تھی جاتی تھی لیکن سب تم میرے نکاح میں ہو اور میں نہیں چاہتا کے تم اس گھر کے کسی بھی فرد سے ملو

( اسنے حور کی بات کاٹتے ہوے دو ٹوک لہجے مسن کہا

پر اس سب میں میرا کیا قصور ہے ازلان آپ میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہیں (حور نے روتے ہوے کہا

قصور تمہارا اور تمہارے اس بھائ کا ہی تو ہے تم دونوں کی وجہ سے ہی تو آج یہ حالات ہیں (اذلان پھنکار رہا تھا

بس کر دیں اذلان اگر غلطی میرے بھائ کی تھی تو غلطی حماد بھائ کی بھی ہو سکتی ہے ہو سکتا ہے ان کے کردار ……..

حور کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی ازلان کا ہاتھ اٹھا اور حورین کے گال پے اپنا نشان چھوڑ گیا

حور تو لہرا کر زمین پر گر گئی تائی امی جلدی سے آگے بڑھی

ازلان کچھ شرم کرو یہ کیا طریقہ ہے بات منہ سے کی جاتی ہے (انہوں نے ازلان کو سخت لہجے میں کہا

آپ چھوڑیں اسے ( اس نے کہتے ہوے ساکت سی بیٹھی حور کو بازو سے پکڑا اور کھینچتا ہوا کمرے کی طرف بڑھ گیا جب کے وہ کسی بے جان گڑیا کی مانند اسکے ساتھ کھینچتی گئی

اذلان نے لا کر اسے بیڈ پر پٹخا

ایک لفظ بھی اور نکالا منہ سے تو زبان کھینچ لوں گا تمہاری (اس نے حور کا منہ دبوچتے ہوے کہا

اور خبر دار اگر گھر سے باہر نکلی ٹانگیں توڑ دوں گا ( وہ کہتا ہوا جھٹکے سے اسے چھوڑ کر باہر نکل گیا جب کے حور تو وہی گر گئی آج تک کسی نے اونچی آواز میں بات تک نہیں کی تھی اس سے اور آج

قسمت کی اس ستم ظریفی پر وہ جتنا رو تی کم تھا

جب مہر کو پتا چلا تو وہ بھاگتی آئ

حورین کے لئے دودھ گرم کر کے لائی جو وہ نہیں پی رہی تھی

حورین میری جان تھوڑا سا پی لو نا (مہر نے کہتے ہوے اس کے منہ سے گلاس لگایا بمشکل دو تین گھونٹ لینے کے بعد اسنے گلاس پیچھے کر دیا

اور لیٹ گئی مہر نے اس پر کمبل درست کیا اور اٹھ کر جانے لگی

جب حورین نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا مہر نے اسکی طرف دیکھا تو حور کی آنکھوں میں التجا تھی

وہ ادھر ہی اسکے پاس بیٹھ گئی جب کے حور نے ابھی بھی اسکا ہاتھ پکڑا ہوا تھا

____________

سکا دل غم و غصے کی شدت سے پھٹا جا رہا تھا آج کیا ہو گیا تھا اس سے جو زندگی میں نہیں سوچا تھا

وہ تو خود عورت پر ہاتھ اٹھانے کے سخت خلاف تھا لیکن آج اسنے خود وہی کام کیا تھا

کمرے کی ہر چیز بکھری پڑی تھی کوئی کہ ہی نہیں سکتا تھا کے یہ کمرہ ازلان کا ہے

جس کو اپنے کمرے کی ہر چیز جگہ پر چاہیے وہ بے چینی اور اضطراب کی کیفیت میں ادھر سے ادھر ٹہل رہا تھا

ٹہلتے ٹہلتے اسکی نظر ڈریسنگ پر پڑی اور اگلے ہی لمحے ڈریسنگ کا شیشہ چکنا چور ہو کر زمین پر پڑا تھا اور اذلان کے ہاتھ سے خون کے فوا رے نکل پڑے تھے

پر اسے کوئی احساس نا تھا یہ تکلیف اس تکلیف سے کئی گنا کم تھی جو وہ مسلسل جھیل رہا تھا

۔ ۔ ❤❤❤

مہر حور کے پاس ہی بیٹھ گئی تھی اور مسلسل اسکی بالوں میں انگلیاں چلا رہی تھی حور تو شائد روتے روتے ہی سو چکی تھی

مہر کی نظر اسکے گال پر گئی جہاں انگلیوں کے نشان تھے دل میں درد کی اک لہر اٹھی تھی

اسکی دوست سے زیادہ بہن تھی حور اور آج اسکو ایسی حالت میں دیکھ کر مہر کو بہت تکلیف ہو رہی تھی

وہ اپنا ہاتھ حور کے ہاتھ سے نکال کر اٹھنے لگی تھی کے حور نے نیند میں ہی زور سے اسکا ہاتھ پکڑ لیا

لبوں سے اک ہچکی نکلی تھی مہر کو بہت دکھ ہو رہا تھا اسکی حالت پےدل کٹ کے رہ گیا تھا وہ دوبارہ وہی بیٹھ گئی

۔ ۔ ❤❤❤

کافی دیر بعد اس نے خود کو سمبھالا اور اور کمرے سے نکل کر دوسری طرف آیا

ماما جو رو رہی تھیں اس کے ہاتھ پر نظر پڑتے ہی جلدی سے اسکی طرف آئیں

یا خدا ازلان یہ کیا کر لیا ہے تمنے کتنا خون نکل رها ہے وہ پریشانی سے اسکا ہاتھ دیکھتی ہوئیں بولیں

کچھ نہیں ماما بس غلطی سے ہو گیا (وہ لا پر واہی سے بولا

جانتی ہوں میں کے کتنا غلطی سے ہوا ہے اب چپ کر کے بیٹھو میں پٹی کر دیتی ہوں (وہ سخت لہجے میں بولیں

ازلان بھی انکا لہجہ دیکھ کر چپ کر کے بیٹھا رہا

انہوں نے فرسٹ ایڈ منگوایا اور ازلان کی پٹی کی

ازلان بہت افسوس ہوا آج مجھے تمہاری اس حرکت سے آج تک ہمارے گھر میں کسی نے عورت پر ہاتھ نہیں اٹھایا

اور آج تم نے کیا کیا ہاتھ اٹھانا کوئی مردانگی نہیں ہے حالت دیکھو حور کی ذرا افسوس ہے مجھے تم پر اذلان (انھوں نے تھکے ہوے لہجے میں کہا

میں مانتا ہوں کے مجھے ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے تھا لیکن وہ جو بول رہی تھی بھائ کے بارے میں وہ کیا سہی تھا (اس کی باتیں یاد کر کے ازلان کو غصہ آ رہا تھا

اس نے جو کہا وہ تمہاری باتوں کا رد عمل تھا پر تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا

اور یہ بات یاد رکھو ازلان کے جتنی عزیز مجھے مہر ہے اتنی ہی عزیز مجھے حورین ہے

اگر تم اسے تکلیف پہنچاؤ گے تو تکلیف مجھے بھی ہو گی (ازلان کچھ بولنے ہی لگا تھا

کے حور کی ماما آتی ہوئی دکھائی دیں وہ اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا

کمرے میں آیا تو حور سوئی ہوئی تھی اور مہر پاس بیٹھی ہوئی تھی

مہر نے بھائ پر ایک شکوہ کنا نظر ڈالی اور حور کے ہاتھ سے آرام سے اپنا ہاتھ نکال کر باہر کی طرف بڑھ گئی

ازلان نے آگے بڑھ کے دروا زہ بند کیا اور حور کی طرف آیا جو بے خبر سو رہی تھی

ازلان کی نظر اسکے چہرے کی طرف گئی تو ندامت نے آن گھیراانگلیوں اور آنسوں کے نشان تھے

اسکے چہرے پر

وہ آگے بڑھا اور جہاں مہر بیٹھی ہوئی تھی وہیں بیٹھ گیا اور حور کے چہرے پر ہاتھ پھیرنے لگا

پھر آہستگی سے جھکا اور اسکے رخسار پر اپنے دہکتے لب رکھ دیے

حور ہلکا سا کسمسائی لیکن اذلان کو کوئی فرق نا پڑااچانک اسکی آنکھیں کھلی تو یکدم چیخ نکلنے لگی جسے ازلان نے ہاتھ رکھ کر روکا

حور کی آنکھوں میں خوف ہلکورے لینے لگا اور پورے جسم میں لرز ش شروع ہو گئی کچھ پل ایسے رہنے کے بعد ازلان اٹھا حور کی سانس کچھ بحال ہوئی

لیکن حوف کے ساتھ اب شرم بھی آ رہی تھی

نیچے تمہاری ماما آئ ہیں مل لو جا کر (ازلان کہتے ہوے صوفے پر بیٹھ گیا اور موبائل یوز کرنا شروع کیا

جب کے حور حیران تھی کے ابھی تھوڑی دیر پہلے تو وہ کیا کہ رہا تھا اور اب ۔ ۔

اب بیٹھی کیوں ہو مل لو جا کر اور جانے سے پہلے اپنا حلیہ درست کر جانا ( وہ ہنوز موبائل میں سر دیے بولا

حور آہستگی سے اٹھی اور واشروم کی طرف بڑھ گئی اپنی شقل آئینے میں دیکھتے ہی آنسو دوبارہ جاری ہو گئے

جلدی جلدی فریش ہو کے نیچے کی طرف بڑھ گئی

وہ نیچے آئ تو ماما اور تائی امی دونوں بیٹھی ہوئیں تھیں حور کو دیکھتے ہی ماما جلدی سے اسکی طرف بڑھی

حور میری جان آپ ٹھیک ہو نا (ماما نے اسے گلے لگاتے ہوے کہا

اور ساتھ لئے صوفے پے بیٹھ گیں

حور نے انکے سوال کا کوئی جواب نا دیا حور میری جان کچھ تو بولو

ماما مجھے یہاں سے لے جایں میں نے انکے ساتھ نہیں رہنا ماما وہ بہت سخت ہیں اگر میں اور ادھر رہی تو مر جاؤں گی پلیز ماما

(حور جب بولی تو اسکے لہجے میں۔ کرب تھا

سامنے بیٹھی دونوں ماؤں کا دل اسکی باتوں پے کٹ گیا

حور میرا بچا تائی امی کے پاس بھی نہیں رہنا کیا میں ازلان کو سمجھاؤں گی وہ ٹھیک ہو جائے گا میں نے سمجھایا ہے اسے

(تائی امی نے اپنے ازلی نرم رویے میں کہا

مجھے گھر جانا ہے تائی امی پلیز مجھے گھر جانے دیں میں آ جاؤں گی واپس پر ابھی مجھے جانے دیں ( حور ہنوز روتے ہوے بولی

ٹھیک ہے حور آپ جاؤ لیکن رونا نہیں ہے ورنہ میں ناراض ہو جاؤں گی (تائی امی نے مصنوئی حفگی سے کہا جس پر حور روتے میں بھی مسکرا دی

اور پھر تھوڑی دیر بعد وہ چلی گئی یہ جانے بغیر کے اب ازلان کیا کرے گا

_____________

گھر آ کر وہ سیدھا اپنے کمرے میں گئی کمرے میں داحل ہوتے ہی لاتعداد یادیں یاد آگئی

کمرے میں لگی لارج سائز فریم فوٹو جس میں حورین ازلان مہر حماد اور ازلان کی تصویر تھی

کتنی خوشیاں تھیں رونقیں ٹھیں کتنی خوبصورت یادیں تھیں اس کمرے میں اسکی

وہ الماری کی طرف ڈرار سے فوٹو البم نکالا اور وہیں بیڈ پر بیٹھ کر پکچرز دیکھنے لگی

دل میں اک ڈر کنڈلی مارے بیٹھا تھا کے آ تو گئی ہے پر پتا نہیں اب ازلان کیا کرے گا بس دل ہی دل میں دعا کر رہی تھی کے تائی امی سب سمبھال لیں

ابھی تو مرد سارے اس قصے سے نا واقف تھے احراز تو کسی کام سے لاہور گیا ہوا تھا جبکے مراد اور ضرار راؤ بھی کسی پنچایت میں گئے ہوے تھے

ازلان نیچے آیا تو صرف ماما اور مہر کو ہی لاؤنج میں پایا

مہر اور ماما دونوں نے اسے دیکھتے ہوے بھی نظر انداز کیا

ماما حور کدھر ہے(ازلان نے انکی بے رخی کو نظر انداز کرتے ہوے پوچھا

ندرت کے ساتھ گئی ہے کہ رہی تھی کچھ دن رہ کے آے گی (انھوں نے بیٹے پر حفا سی نظر ڈال کر کہا

پر ازلان وہ تو اتنا سن کر ہی کے حور گئی ہے غصّے میں آ گیا تھا

ماما اتنا کچھ ہونے کے باوجود وہ میری مرضی کے بغیر گئی ہے (اس نے اپنے غصّے کو کنٹرول کرتے ہوے کہا

میرا نہیں حیال کے اسنے کچھ غلط کیا ہے بلکے میرے حیال میں صاھب زادے غلطی پر آپ ہیں (ماما نے اسکی بات کے جواب میں کہا

کچھ منٹ لاؤنج میں مکمل خاموشی رہی اور اس خاموشی کو ازلان کی آواز نے توڑا

مہر میرے روم میں بلیک کلر کا بیگ پڑا ہے وہ گاڑی میں رکھواؤ (یہ کہتے ہوے ازلان اٹھ کھڑا ہوا

بھائ آپ کہاں جا رہے ہیں ؟(مہر نے اٹھتے ہوے پوچھا جب کے بیگم مراد بھی اسی کے جواب کی منتظر تھیں

شہر جا رہا ہوں کچھ ضروری کام ہے کچھ دن تک چکر لگاؤں گا آپ اپنا اور ماما بابا کا حیال رکھنا ہوں (اسنے مہر کو اپنے ساتھ لگایا اور اسکے سر پر بوسہ دیا

بھائ حور (مہر نے اس سے الگ ہوتے ہوےبات ادھوری چھوڑی

ساتھ جا رہی ہے وہ بھی (ازلان کہتے ہوے حفا حفا بیٹھی ماں کی طرف بڑھ گیا اور مہر ازلان کے کمرے کی طرف بڑھ گئی

اپنا حیال رکھئے گا میرے لئے (ازلان کہتے ہوے جھکا اور انکے شفیق چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیا لےمیں لے کر انکی پیشانی چومی اور باہر کی طرف قدم بڑھا دیے ماں کی آنکھ میں نمی دیکھی تھی پر اگر رکتا تو کمزور پر جاتا

جب تک ازلان گاڑی تک آیا مہر بھی آ چکی تھی ازلان نے بیگ لے کر پیچھے رکھا اور جا کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کی

بھائ (گاڑی چلنے لگی کے مہر نے آواز دی

حور کے ساتھ کچھ برا نا کریے گا (مہر نے اتنا کہا ازلان نے ایک نظر اس پر ڈالی اور گاڑی سٹارٹ کر دی

۔ ۔ ❤❤❤

حورین کمرے میں ہی تھی جب ملازمہ آئ

حور بی بی وہ نیچے آپ کو ازلان بابا لینے آیں ہیں (ملازمہ کی بات پر حور کی رنگت یکدم زرد ہوئی پھر حود پر قابو پاتے بولی

ٹھیک ہے میں آتی ہوں (حور کے کہنے پر ملازمہ سر ہلاتی چلی گئی

حور نےپاس پڑا البم پکڑا اور اپنے اندر ہمت جمع کی اور باہر نکل آئ

سامنے ہی وہ صوفے پر بیٹھا ہوا تھا

حور کو آتا دیکھ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا

اورایک نظر اس پے ڈال کر باہر کی جانب بڑھ گیا

حور نے بے بسی سے ماں کی طرف دیکھا جنہوں نے جانے کا اشارہ کیا

وہ آنکھوں میں آئ نمی کو اندر دکھیلتے اس کے پیچھے چل دی

باہر آئ تو ازلان کی گاڑی کھڑی تھی پورچ میں اور وہ اندر بیٹھ چکا تھا

حور حیران ضرور ہوئی مگر کچھ پوچھنے کی ہمت نا کر سکی

اور چپ چاپ فرنٹ ڈور کر بیٹھ گئی اسکے بیٹھتے ہی ازلان نے گاڑی سٹارٹ کی اور حویلی سے باہر نکالی

وہ خاموشی سے ڈرائیونگ کر رہا تھا حور نے ایک نظر اسے دیکھا

سفید کلر کے شلوار سوٹ میں حسب عادت بازو کہنیوں تک فولڈ کیے گہری موچھوں تلے عنابی لب آپس میں بھینچے ہوے ہاتھ مضبوطی سے سٹیرنگ پر جمے ہوے تھے حور نے سر سیٹ کی پشت سے ٹکا کر آنکھیں موند لیں

پتا نہیں کتنا وقت گزر گیا تھا جب حور کے کانوں میں آوازپڑی

Apni kahani kesy kahein gy

Apni kahani kesy kahein gy

Dil e umeed torra hai kisi ny

Dil e umeed torra hai kisi ny

Dil e umeed torra hai kisi ny

Dil e umeed torra hai kisi ny

Apni kahani kesy kahein gy

Apni kahani kesy kahein gy

Apni kahani kesy kahein gy

Apni kahani kesy kahein gy

Na manzil hai na manzil ka nishan hai

Na manzil hai na manzil ka nishan hai

Na manzil hai na manzil ka nishan hai

Kahan py laa ky chorra hai kisi ny

Kahan py laa ky chorra hai kisi ny

Dil e umeed torra hai kisi ny

Dil e umeed torra hai kisi ny

یہ گانا اسکے دل کی عکاسی کر رہا تھا اسے نہیں یاد پڑتا تھا کے ازلان کے ساتھ کبھی اسکا سفر اس قدر خاموشی سے گزرا ہو کچھ موتی آنکھوں سے نکل کر گالوں کو بھگوتے جا رہے تھے

۔ ❤❤❤

احراز کی جب واپسی ہوئی تو سارے قصے کا علم ہوتے ہی مردانے کی طرف بڑھا جہاں بابا اور بڑے بابا تھے

السلام عليكم (احراز نے دونوں کو سلام کیا اور وہیں بیٹھ گیا

و سلام (دونوں نے جواب دیا کچھ لمحے خاموشی رہی احراز اندر ہی اندر الفاظ جوڑ رہا تھا بات کرنے کے لئے

میں بہت شرمندہ ہوں ہوں تم دونوں سے ازلان نے بہت غلط کیا ہے آج (مراد صاھب شرمندہ سے بولے

نہیں بھائ صاھب آپ کیوں شرمندہ ہو رہے ہیں واقعی ازلان نے غلط کیا ہے آپ بھی جانتے ہیں کے اس گھر کی بچیوں کو بہت نازوں سے پا لا ہے

ہم نے اور مجھے بہت دکھ ہے اس بات کا اور میں خود اب بات کروں گا ازلان سے اسکے علاوہ ہم دعا ہی کر سکتے ہیں کے اللہ‎ اسکو ھدایت دیں (ضرار صاھب نے مراد صاھب کی بات کاٹتے ہوے نرمی سے کہا

اب آپ یہ بتایں مہر بیٹی کو کب بھیجیں گے ہمارا گھر تو ویران پڑا ہے ( انہوں نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا

کیوں کے وہ مراد راؤ کی طبیعت کے بارے میں پہلے ہی کافی پریشان تھے حالات چاہے جو بھی تھے وہ نہیں چاہتے تھے کے مراد صاھب کی طبیعت اور خراب ہو

بس مہر سے بات کی تھی میں نے کچھ وقت درکار ہے اسے اپنے آپ کو سمبھالنے میں اس لئے میں نے بھی زیادہ زور نہیں دیا احراز بیٹے آپ نے بھی پریشان نہیں ہونا

( انہوں نے کہتے ہوے احراز کو تائید کی جس اور وہ ہلکے سے مسکرا دیا…