Tere Lot Ane Tak by Sanya Chaudhary NovelR50431 Tere Lot Ane Tak Episode 6
Rate this Novel
Tere Lot Ane Tak Episode 6
Tere Lot Ane Tak by Sanya Chaudhary
مراد۔ راؤ ضرار راؤ اور احراز تینوں اس وقت مردان خانے میں بیٹھے ہوے تھے
مراد راؤ کسی نقتے کو گھور رہے تھے جیسے بات کرنے کے لئے الفاظ تلاش کر رہے ہوں
بھائ صاھب سب خیریت ہے آپ کچھ بات کرنا چاہتے تھے (بلاخر ضرار راؤ نے ہی اس خاموشی کو توڑا
ہاں سب خیریت ہے (وہ اتنا کہ کر چپ ہو گئے
ضرار میں اگر آج تم سے کچھ مانگوں تو دو گے
(کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ بولے تھے اور لہجے میں التجا سی تھی
بھائ صاھب کیسی باتیں کر رہے ہیں میرا سب اپکا ہی تو ہے (ضرار صاھب نے انکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوے اپنائیت بھرے لہجے میں کہا
ضرار میں حورین بیٹی کو ازلان کے لئے مانگنا چاہتا ہوں (انہوں نے ضرار راؤ کے چہرے کے تاثرات دیکھتے ہوے کہا
جب کے ضرار صاھب اور احراز تو بلکل حیران تھے ان حالات میں تو وہ اس بات کی توقع کر ہی نہیں سکتے تھے
بھائ صاھب حورین آپ کی ہی بیٹی ہے لیکن حالات تھوڑے ٹھیک ہو لینے دیں (انہوں نے اپنی حیرت پر قابو پاتے ہوے کہا
میں جانتا ہوں لیکن ازلان یہ چاہتا ہے میں تو خود پریشان ہوں کے وہ کرنا کیا چاہتا ہے (مراد صاھب نے پریشانی سے پیشانی مسلتے ہوے کہا
اذلان کہتا ہے لیکن کیوں بڑے بابا مطلب پہلے تو اسنے کبھی نہیں ذکر کیا اس سب کا(اب کی بار احراز بولا
جب سے حماد والا حادثہ ہوا ہے تو تب اس نے مجھے بولا تھا کے اگر ہم سب چاہتے ہیں
کے اور کوئی بدمزگی نا ہو تو اسکا نکاح حورین سے کرنا ہو گا ورنہ دوسری صورت میں وہ کچھ بھی کر سکتا ہے
ان کی بات سن کر ضرار راؤ نے بے اختیار لب بھینچے
دیکھو ضرار مجھے لگتا ہے
کے ازلان کی بات ماں لینے سے شائد رشتوں میں جو دوریاں آ گئی ہیں وہ ختم ہو جایں گی
اور میرے خیال میں حورین ہی وہ واحد ہے جو ازلان کو سمبھال سکے (مراد راؤ نے سمجھانا چاہا
میرے خیال میں بھی بابا یہ ٹھیک رہے گا شائد اس سے ہم سب میں جو اختلافات پیدا ہو گئے ہیں وہ ختم ہو جایں (احراز نے بھی تائید کی
بھائ صاھب مجھے کچھ وقت درکار ہے سوچنے کے لئےاور پھر حورین کی مرضی کے بغیر تو کچھ نہیں ہو سکتا نا (ضرار صاھب نے کہا
ضرار اذلان کا کہنا ہے کے اسے ایک دن کے اندر اندر نکاح کرنا ہے اور سچ پوچھو تو آج کے واقع کے بعد میں بہت پریشان ہو گیا ہوں اور جہاں تک حورین کی بات ہے
تو مجھے امید ہے کے وہ ہم سب کے فیصلے کا پاس رکھے گی پھر بھی اگر اسے کوئی اعترض ہوا
تو وہ اسکا حق ہے اور ہم میں سے بات کرنے کی بجاے مہر اور شمائل اس سے بات کریں تو زیادہ بہتر ہو گا (انہوں نے رسان سے سمجھایا
ٹھیک ہے بھائ جان حورین آپ کی بیٹی ہے آپ کو پورا حق ہے اسکے لئے فیصلہ کرنے کا اور ازلان اسے میں جانتا ہوں
میرا بیٹا ہے وہ مجھے کوئی اعترض نہیں اس پر اور احراز کو بھی نہیں ہوگا (انہوں نے کہتے ہوے احراز کی طرف دیکھا جو کے انکی
دیکھ کر مسکرا رہا تھا
مراد راؤ کو اک سکون سا مل گیا تھا ضرار کی رضامندی سن کر
کچھ دیر اور باتیں کرنے کے بعد احراز اور ضرار صاھب چلے گئے تو مراد راؤ نے پرسکون ہو کر آنکھیں موند لیں
۔ ۔ ![]()
![]()
![]()
مہر بابا کے کہنے پر حورین کے پاس آئ تھی
اسکے کمرے میں آئ تو سامنے ہی وہ بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی مہر کو دیکھتے ہی اٹھ کر بیٹھ گئی
آو نا مہر (اس نے بمشکل مسکراتے ہوے کہا
مہر حورین کے کہنے پر آ کر اسکے پاس ہی بیڈ پر بیٹھ گئی
کیسی طبیعت ہے اب (مہر نے پوچھا
ٹھیک ہوں پہلے سے اب تو ازلان کیسے ہیں (حورین کے لہجے میں بے چینی تھی
ٹھیک ہیں بھائ پہلے سے (مہر نے کہا
حورین تم سے بات کرنی تھی (مہر نے تھوڑا جھجھکتے ہوے کہا
ہاں کرو نا
حورین اگر اس گھر کے بڑے تمہارے لئے کوئی فیصلہ لیں تو کیا تمہیں ان کا فیصلہ منظور ہوگا (مہر کے کہنے پر حور نے حیرانی سے دیکھا
کیا کہنا چاہتی ہو مہر صاف صاف بولو نا (اس نے الجھتے ہوے کہا
حورین اس گھر کے بڑوں نے ازلان بھائ کے ساتھ تمہارے نکاح کا فیصلہ کیا ہے
(مہر کے کہنے پر حور پر تو گویا آسمان گر گیا ہو جب کے مہر اسکے چہرے کے تاثرات دیکھ رہی تھی
مہر یہ کیا کہ رہی ہو میں اور ازلان کیسے اور ازلان کو۔ پتا چلا تو وہ تو فورا منع کر دیں گے (حور اپنی حیرت پر قابو پاتے ہوے بولی
حورین بھائ نے ہی کہا ہے سب کو بھائ خود چاہتے ہیں یہ (مہر نے اسے اگاہ کیا
لیکن مہر ایسا کیسے ممکن ہے میرا تو سر سوچ سوچ کر پھٹا جا رہا ہے (حورین نے بے بسی سے کہا
تم سوچ لو حورین اور تم خود بھائ کو جانتی ہو پر یہ یاد رکھنا کے سب کو تم سے ہاں کی امید ہے
پر مہر (حور نے کچھ کہنا چاہا پر مہر نے اسکی بات کاٹ دی
تم ٹینشن نا لو ورنہ طبیت خراب ہو جائے گی حورین بس سب کچھ اچھا ہو گا
اور اب تم آرام کرو میں چلتی ہوں (مہر کہتی ہوئی اٹھی اور اسکا گال تھپتھپا کر باہر نکل گئی
جب کے حور سوچوں کے بھنور میں پھنس گئی
۔ ![]()
![]()
![]()
مہر راہداری عبور کر کے دوسری حویلی کی طرف جا رہی تھی کے پیچھے سے اخراز کی آواز آئ
مہر رکو (مہر نے آواز سن لی تھی پر رکی نہیں
مہر رکو مجھے تم سے بات کرنی ہے (اب کی بار اخراز نے سختی سے کہتے ہوے اسکا بازو پکڑ لیا
چھوڑیں مجھے نہیں کرنی میں نے آپ سے کوئی بات (مہر نے کہتے ہوے اپنا بازو اخراز کی گرفت سے آزاد کروانا چاہالیکن اسکی گرفت مضبوط تھی
مہر میری بات سنو کب تک تم یونہی ادھر رہو گی اپنے گھر نہیں آنا کیا (گرفت کے برعکس لہجہ نرم تھا
کچھ وقت کچھ وقت تو دیں احراز کے جو سب کچھ ہمارے ساتھ ہوا وہ بھول جائے
مجھے اور جب وہ سب مجھے بھول گیا تو تب میں بھی آ جاؤں گی (مہر نے کہتے ہوے اپنا بازو اسکی گرفت سے آزاد کروایا جو اسنے کر بھی دیا
احراز کو وہی چھوڑ کر وہ اپنی حویلی کی طرف چلی گئی
۔ ![]()
![]()
![]()
اگلے دن جمعہ تھا اور نکاح جمعے کی نماز کے بعد رکھا گیا تھا جب سب جمعہ کی نماز ادا کر کے آے تو بس قاضی کا انتظار تھا
ازلان نے بلیک کھدر کا سوٹ پہنا ہوا تھا اور اوپر براؤن کلر کی شال لی ہوئی تھی داڑھی تھوڑی بڑھی ہوئی تھی جس میں وہ اور بھی وجیہہ لگ رہا تھا
اور دوسری طرف حورین جو کے ٹینشن کی وجہ سے پوری رات سو نہیں سکی تھی وہ ازلان کا اس دن کا سخت رویہ ہی نہیں بھول پا رہی تھی
اور اب بھی اگر وہ ویسا ہی رہا تو
اور اس تو آگے سوچتے ہی اسکی جان نکل رہی تھی
حورین چلو شاباش یہ کپڑے ڈال لو ابھی تھوڑی دیر تک قاضی صاھب آتے ہونگے
(شمائل کمرے میں آتے ہوے بولی
جب کے حورین حیران تھی
شمائل آپی کیا مطلب ہے آپکا مہر نے تو بولا تھا کے میں سوچ کے جواب دوں تو پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے (وہ حیران ہوتی بولی
حور میری پیاری بہنا اب کیا کہ سکتے ہیں ازلان کی ضد ہے اور حالات بھی ایسے ہیں
اسلئے سب جلدی جلدی ہوا
اب تم جلدی سے چینج کر آو قاضی صاھب آتے ہوں گے (شمائل نے بت بنی حور کے ہاتھ میں کپڑے تھما ے
وہ واشروم کی طرف بڑھ گئی
وہ چینج کر کے آئ تو تب تک مہر بھی آ چکی تھی
شمائل اور مہر نے اسکا ہلکا پھلکا میک اپ کیا جس میں بھی وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی
ماشاءالله بہت پیاری لگ رہی ہو (ان دونوں نے اسے دیکھ کر بے ساختہ کہا
کچھ ہی دیر میں قاضی صاھب آ گئے ازلان کی طرف سے ہو کر
اور اب حور کی باری تھی
حورین ضرار ولد ضرار راؤ کیا آپ کو اذلان مراد ولد مراد راؤ کی زوجیت میں حق مہر ایک کروڑ سکہ رائج الوقت یہ نکاح قبول ہے
(قاضی صاھب بول رہے تھے جب کے حور کی آنکھوں کے سامنے تو بچپن سے لے کر اب تک سارے ازلان کے ساتھ گزارے گئے خوبصورت لمحات یاد آ رہے تھے
اور اب اپنی پوری زندگی کے احتیارات اسی شخص کو دینا
کچھ دیر جب وہ نا بولی تو احراز نے اسے باہوں کے حلقے میں لیا
حورین بولو بیٹا (اسنے پیار سے بلایا
حورین نے ضبط کی انتہا کو چھوتے ہوے کہا
قبول ہے (اور یہی اسکے آنسو ساری حدیں توڑ جڑ نکل گئے تھے
پھر دوسری اور تیسری دفع قبول ہے بولتے ہوے وہ ہچکیوں کے ساتھ رو دی تھی
اور اپنے ساتھ دوسروں کی آنکھیں بھی نم کر گئی
_______________
نکاح ہوتے ہی حورین ہچکیوں کے ساتھ رو دی اور اپنے ساتھ سب کی آنکھیں نم کر گئی روتے روتے ہی وہ احراز کی باہوں میں جھول گئی
حورین حورین ( مہر اور شمائل جلدی سے آگے بڑھی
سب ایک دم پریشان ہو گئے حورین کو اٹھانے کی کوشش
منہ پے پانی کے چچھینٹے مارے تو اسنے ہر برا کر آنکھیں کھول دیں
اور پاس بیٹھی مہر کو دیکھ کر اسکے گلے لگ کے رو دی
حورین چپ کرو یار کیا ہو گیا ہے ( مہر اسکے بال سہلاتی ہوئی بولی
پر حورین پر کوئی اثر نہیں تھا وہ مسلسل رو رہی تھی
دل میں ڈر غالب آ رہا تھا اک دھڑکا سا لگا ہوا تھا دل میں کسی کو بتا بھی نہیں سکتی تھی
جب دل ہلکا ہوا تو خود ہی مہر سے الگ ہوئی
چلو شاباش اب رونا نہیں پہلے ہی رو رو کر بھوتنی لگ رہی ہو ( شمائل نے اسکے پھیلے ہوے کاجل کی وجہ سے کہا
جس پر حورین مسکرا بھی نا سکی
کچھ کھاؤ گی حورین ( مہر نے بیڈ سے اٹھتے ہوے پوچھا
نہیں دل نہیں کر رہا ( حورین نے اداس لہجے میں کہا
کیوں دل نہیں کر رہا نا تم نے رات کو کچھ کھایا ہے اور نا صبح ( شمائل نے اسے گھورتے ہوے کہا
آپی سچ میں دل نہیں ہے جب دل ہوا کھا لوں گی ( حورین نے شمائل سے کہا
اچھا ٹھیک ہے
مہر تائی امی نہیں آئیں
( حورین نے شمائل کے جاتے پوچھا
نہیں اب انہوں نے تمہارا ویلکم بھی تو کرنا تھا نا آخر ان کی چہیتی جو ہو ( مہر نے مگن سے انداز میں کہا
اور حورین اسکی تو رنگت ہی متغیر ہو گئی تھی مہر کی بات سن کر
کیا مطلب ویلکم ابھی تو صرف نکاح ہوا ہے نا ( حورین کو سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کے کیسے بات کرے
حورین میری بہن دیکھو صرف نکاح نہیں رخصتی بھی طے ہوئی ہے
آج ہی اور بس اس گھر سے اس گھر ہی تو جانا ہے نا
( مہر نے اسکی حالت کے پیش نظر ہلکے پھلکے انداز میں کہا
مہر تم نے تو کہا تھا نکاح ہو گا پھر کیسے میں نے نہیں کرانی مہر تم تو سمجھو
(حورین نے روتے ہوے مہر کے ہاتھ پکڑے
جب کے مہر سوچ میں پر گئی کے اب کیا کرے
مہر میں کیاکروں یہ سب اتنی جلدی ہو رہا ہے کے میرا دماغ قبول ہی نہیں کر رہا اس سب کو
(وہ ہنوز روتے ہوے بولی
اچھا میں کرتی ہوں بات تم چپ کرو پلیز (مہر نے اسے دلاسہ دیا اور خود باہر چلی گئی
اس نے جا کے بابا سے بات کی انہوں نے بھی بات کر کے دیکھ لی لیکن حورین نا مانی اور جب ازلان کو معلوم ہوا
تو وہ بابا کو یہ کہ کر میں آتا ہوں
اندر کی جانب چل دیا
مہر اور شمائل اسے سمجھا سمجھا کے تھک گئی تھیں لیکن وہ رونے کے ساتھ مسلسل انکار کر رہی تھی
دروازے پر نوک ہوا تو تینوں نے دروازے کی جانب دیکھا
مہر اور شمائل آپ کو شائد باہر بلا رہے ہیں (ازلان نے فوری طور پر بہانہ بنایا
وہ دونوں سر ہلا کر باہر کی جانب بڑھنے لگیں
پر حورین نے مہر کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا
مہر نے اسکی طرف دیکھا اسکی آنکھوں میں التجا تھی بے بسی تھی
اور پھر ازلان کی طرف دیکھا جو کے مہر کے جانے کا منتظر تھا
اس نے نرمی سے حورین کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے چھڑایا اور باہر نکل گئی
جب کے حورین مہر کے جاتے ہی اٹھ کھڑی ہوئی
ازلان نے دروازہ بند کیا اور قدم بہ قدم چلتا اس سے دو قدم کے فاصلے پر کھڑا ہو گیا
حورین کو دیکھا جس نے سکن کلر کی فراک کے ساتھ ریڈ کلر کا دوپٹہ لیا ہوا تھا
چہرہ رونے کی وجہ سے سرخ ہو رہا تھا میک اپ پورا پھیل چکا تھا
جب کے حورین وہ تو اسکے بولنے کا انتظار کر رہی تھی آج اک نیا رشتہ جڑ گیا تھا اسکے ساتھ اس سے شرم بھی بہت آ رہی تھی
کیوں نہیں بات مان رہی سب کی (بلاخر وہ بولا لیکن آج اسکا لہجہ اجنبیت لئے ہوے تھا
حورین نے بس ایکدفع نظریں اٹھا کے اسے دیکھا پر بولی کچھ بھی نہیں
کیا پوچھ رہا ہوں میں (اب کی بار اسکے لہجے میں سختی تھی
کر تو لی ہے آپ نے اپنی مرضی اب کیا میرا اتنا حق بھی نہیں ہے
(اب کی بار حورین بھی چپ نا رہی اور آنسو پھر سے بہنے شروع ہو چکے تھے
حورین کی بات سنتے ہی ازلان نے اسے دونوں بازوں سے پکڑ کے اپنی طرف کھینچا
کیا کر رہے ہیں آپ چھوڑیں مجھے (حورین نے اپنے آپ کو چھوڑا تے ہوے کہا
دل ایسے تھا جیسے ابھی باہر آ جائے گا
ازلان نے اس کے بازوں پر اپنی گرفت اور مضبوط کردی
حورین بیگم کونسے حق کی بات کر رہی ہو تم شائد تم بھول رہی ہو
کے ابھی کچھ دیر پہلے تم نے اپنے سارے حقوق میرے نام کر دیے ہیں تو پھر کون سے حق کی بات کرنی ہے تم نے ۔اسلئے چپ چاپ سب کی بات مانو اور چلو
(وہ اسکے بازوؤں پے اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوے بول رہا تھا
جب کے حورین اسکی گرفت سے نکلنے کے لئے مسلسل مزاحمت کر رہی تھی
نہیں مانوں گی میں کسی کی بھی بات کر لیں آپ نے کرنا ہے (حورین بھی بے خوفی سے اسکی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولی
ٹھیک ہے تم اپنی مرضی کرو پھر پر یہ یاد رکھنا تمہارا پیارا بھائ کل کا سورج نہیں دیکھ سکے گا
اور اسکے بعد تم تو ویسے ہی میرے نکاح میں ہو پھر جو میں تمہارے ساتھ کروں گا وہ تم سوچ بھی نہیں سکتی
(وہ غرا کے بول رہا تھا آنکھوں سے شولے نکل رہے تھے اور اسکی انگلیاں جیسے حورین کے بازوؤں میں دھنس گئیں تھیں
اور حورین وہ تو اسکی باتیں سن کر سکتے میں آگئی تھی
اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے دس منٹ کے اندر نیچے آو ورنہ پھر کل کے لئے تیار رہنا
(ایک جھٹکے سے اسے چھوڑتا وہ باہر کی جانب بڑھ گیا جب کے حورین تو کسی ہارے ہوے جواری کی طرح نیچے بیٹھتی چلی گئی
بازوؤں پر اسکی انگلیوں کے نشان تھے آنکھوں سے زارو قطار آنسو بہ رہے تھے….
