Tere Lot Ane Tak by Sanya Chaudhary NovelR50431 Tere Lot Ane Tak Episode 3
Rate this Novel
Tere Lot Ane Tak Episode 3
Tere Lot Ane Tak by Sanya Chaudhary
اذلان کے جانے کےحوربھی یہ یہ کہ کر کے
شائد مجھے کوئی بلا رہا ہے باہر چلی گئی
جب کے زمل غصے سے کھولتے دماغ کے ساتھ کھڑی رہ گئی تھی
اسے شروع سے ہی ازلان کی حورین کے ساتھ بے تکلفی بری طرح کھلتی تھی
پتا نہیں اس حورین میں ایسا کیا ہے کے ازلان میری طرف دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا اس حورین کا تو کچھ کرنا ہی پڑے گا (وہ سوچتی ہوئی باہر کی طرف بڑھی
ہنسی مذاق میں مہندی کا فنکشن اپنے عروج پڑ تھا
احراز کبھی اسٹیج پڑ آ کے بیٹھ جاتا تو کبھی دوسری طرف چلا جاتا
وہ انتظار کر رہا تھا کے کب اسٹیج سے لوگ کم ہوں اور وہ مہر سے بات کرے بلاخر لوگ کچھ کم ہوے تو
بہت پیاری لگ رہی ہو (احراز نے اسکے کان میں سرگوشی کی جس پڑ مہر کے چہرے پڑ حیا کے رنگ آ گئے
شکریہ (اسنے مسکراتے ہوے کہ کر سر جھکا لیا
آ ہم آہم ہم سب ادھر ہی ہیں ابھی (حورین نے انہیں دیکھ لیا تھا اور اب اسٹیج پڑ آ کے شوخ مسکراہٹ لئے بولی
جس پڑ احراز نے اسے گھوری سے نوازا
گھور کیوں رہے ہیں (حورین نے مصنوئی غصے سے پوچھا
تمہیں تو میں بعد میں بتاؤں گا (احراز نے بھی خفگی سے کہا جس پر حور نے بمشکل اپنی مسکراہٹ ضبط کی
اسی طرح چھوٹی چھوٹی شرارتوں سے فنکشن اپنے احتتام کو پہنچا
تو حورین مہر کو کمرے میں لے آئ
چلو تم چینج کر لو اور اگر کسی چیز کی ضرورت ہے تو مجھے بتاؤ میں پھر جاؤں (حورین نے اسکی جیو لر ی اتا رتے ہوے کہا
نہیں کسی چیز کی بھی ضرورت نہیں ہے پڑ تم ادھر ہی رک جاؤ صبح چلی جانا (مہر نے التجایا لہجے میں کہا
پر مہر وہاں پر سمبل لوگ میرا انتظار کر رہی ہونگی(حورین نے اپنی کزن کا نام لیا
یار اگر تم چلی گئی تو وہ زمل آ جائے گی میرے روم میں اور اگر وہ آ گئی تو تم جانتی ہو نا اسنے خود سونا ہے اور نا مجھے سونے دینا ہے (مہر نے وجہ بتائی کیوں کے اسے بھی اپنی کزن کوئی خاص پسند نہیں تھی
ٹھیک ہے پھر میں رک جاتی ہوں اور ماما کو بتا دیتی ہوں کال کر کے (حور نے کہا جس پڑ مہر سر ہلاتے ہوے واشروم کی طرف بڑھ گئی
اور حورین نے کال کر کے بتا دیا کے وہ مہر کے پاس ہی رہے گی
دوسری طرف لڑکوں کا مہندی کے بعد اپنے فارم ہاؤس جو کے گاؤں سے تھوڑا ہی دور تھا ادھر پارٹی کا پلان تھا ازلان تو بہت خوش تھا لیکن حماد کی احراز کے لئے سرد مہری سب ہی محسوس کر رہے تھے
اگلے دن صبح ہوتے ہی دونوں حویلیوں میں ہلچل سی مچ گئی ہر کسی کو اپنی تیاری کی فکر تھی بیوٹیشن گھر ہی آ گئی تھی مہر نے وہی لہنگا پہنا تھا جو احراز کی پسند تھا
سکن کلر کی شیروانی پہنی تھی جسکے ساتھ ریڈ کلر کا کلہ تھا
مہر تو تیار ہونے کے بعد بلکل پری لگ رہی تھی بہت زیادہ روپ آیا تھا اس پہ
بارات آئ تو حور سیدھا مہر کی طرف آئ اور مہر کو دیکھ کر بے احتیار ماشاءالله بولا
بہت بہت پیاری لگ رہی ہو مہر ہمیشہ خوش رہو (حورین اسکو دیکھتے ہوے بولی
شکریہ تم بھی بہت پیاری لگ رہی ہو (مہر نے مسکراتے ہوے کہا
اچھا زیادہ باتیں نہیں کرو دلہنیں زیادہ بات نہیں کرتیں (حورین نے مصنوئی غصے سے کہا
جس پڑ مہر نے منہ بنایا تھوڑی دیر وہ مہر کے پاس ہی بیٹھی رہی پھر کسی کام سے باہر آئ
اور ازلان جو کسی سے فون پے بات کر رہا تھا حورین کو دیکھتے ہی بات کرنا بھول گیا
حورین نے پنک کلر کی فراق ڈالی ہوئی تھی جو کے بلکل باربی فرا ق کی طرح تھی اور پوری پھیلی ہوئی تھی
حورین گلابی فراق میں اپنی گلابی رنگت لئے بلکل باربی لگ رہی تھی
کیا ہوا اس طرح کیوں کھڑے ہیں(حورین نے اسکے قریب آتے ہی پوچھا اور وہ جو بلکل انہماک سے اسے دیکھ رہا تھا
یک دم چونکا اور موبائل کو دیکھا جو شائد بند ہو چکا تھا
آہاں کچھ نہیں (ازلان بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا بولا
ویسے آج اس فنکشن کی لڑکیاں تو گیں کام سے ( حورین نے شوخی سے کہا جس پر ازلان نے اسے بری طرح گھورا
اور حور ڈرنے کی ایکٹنگ کرنے لگی
(ان دونوں کو ساتھ دیکھ کر زمل جل بھن رہی تھی اسکا بس نہیں چل رہا تھا کے حورین کو غائب کر دے ازلان کے پاس سے
کچھ دیر بعد مہر کواسٹیج پڑ لایا گیا جو کے ازلان اور حماد لے کر اے تھے
دودھ پلائی اور محتلف رسموں کے بعد رحصتی کا مرحلہ آیا جو کے کسی بھی لڑکی کے لئے زندگی کا مشکل ترین موڑ ہوتا ہے
کیوں کے پوری زندگی ایک گھر میں رہ کر اپنے سگے رشتوں کو چھوڑ کر ایک ایسے انسان کا ہاتھ تھامنا جو آپ کے لئے بلکل انجان ہو بہت مشکل ہوتا ہے
رخصتی کے وقت مہر بہت زیادہ روئی اور سب کو رلایا ازلان کی حالت بھی بری تھی
جان سے عزیز بہن آج اپنا گھر چھوڑ کر جا رہی تھی بچپن کی شرارتیں اور یادیں ایک فلم کی طرح دما غ میں چل رہیں تھیں
بے شک گھر ساتھ ساتھ ہی تھے لیکن اب بدل جانا تھا سب کچھ کیوں کے اب رشتے بدل گئے تھے
اب وہ کئیں رشتوں سے منسلک ہو گئی تھی
۔ ۔ ![]()
![]()
![]()
مہر رخصت ہوکرآگئی تھی ساری کزن جمع تھیں اور ہنسی مذاق کر رہیں تھیں
چلو بھئ سب اب کمرہ خالی کرو مہر بھی تھک گئی ہو گی (حورین کی ماما کمرے میں آتے ہوے بولیں
سب لوگ جب چلے گئے تو وہ آکر مہر کے پاس بیٹھ گئیں
بیٹا نئی زندگی شروع کر رہی ہو بہت بہت مبارک ہو (انہوں نے مہر کا ہاتھ تھامتے ہوے کہا
خیر مبارک (مہر نے مسکراتے ہوے آہستہ سے کہا
دیکھو مہر جب ایک لڑکی رخصت ہو کر اپنا گھر رشتے چھوڑ کر آتی ہے نا تو اسے بہت زیادہ مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے
لیکن یہاں اگر تمہیں کوئی بھی مسلہ کوئی پریشانی احراز کی وجہ سے ہو یا کچھ اور تم مجھے بتا سکتی ہو
بیٹا تم جانتی ہو کے میں نے تم میں یا حورین میں کوئی فرق نہیں رکھا تم اور حورین دونوں میری بیٹیاں ہو (وہ رسانیت سے اسے سمجھا رہیں تھیں جب کے مہر کی اتنے پیار پر آنکھیں چھلک اٹھیں
مہربیٹا کیا ہوا رو کیوں رہی ہو (انہوں نے پریشانی سے پوچھا
مہر نے نفی میں سر ہلایا اور بولی
بس سوچ رہی ہوں کے کتنی اچھی قسمت ہے میری ایک ماں کو چھوڑ کے آئ تو دوسری ماں مل گئی
چلو اب تم آرام کرو میں احراز کو بھیجتی ہوں (وہ نرمی سے کہتی ہوئیں اٹھی اور باہر نکل گئیں
۔ ![]()
![]()
![]()
وہ اپنے کمرے میں ایزی چیئر پر جھول رہا تھا آنکھیں حد درجہ سرخ ہو چکی تھیں
اندر کی گھٹن اور بڑھنے لگی تو وہ جھٹکے سے اٹھا اور ٹیر س پر جا کے کھڑا ہو گیا
کافی دیر کھڑے رہنے کے بعد اچانک اسے اپنے کندھے پر کسی کا ہاتھ محسوس ہوا
وہ پیچھے مرا تو حیرت کا شدید جھٹکا لگاحیرت کے ساتھ غصہ غالب آنے لگا
تم یہاں کیا رہی ہو (ازلان نے غصے کو قابو میں کرتے ہوے سامنے کھڑی زمل سے پوچھا
کیاہو گیا ہے ازلان کزن ہیں آپ میرے اور روم میں ہی آئ ہوں نا (زمل لاپرواہی سے بولی
کزن ہو تو کزن ہی رہو اور مجھے نہیں پسند کے کوئی اس طرح میرے روم میں اے اسلئے تم جا سکتی ہو (ازلان نے دبے دبے غصے میں کہا
اچھا تو پھر ایک بات مجھے بھی بتا دیں کے آگر آپ کو کسی کا اپنے روم میں آنا پسند نہیں ہے
تو وہ حورین کیوں آتی ہے آپ کے روم میں اسے تو کبھی نہیں روکا ہوگا آپ نے (زمل نے بھی اپنے دل کی بھراس نکالی
مائنڈ اٹ مس زمل حورین کوئی یا کسی میں شمار نہیں ہوتی وہ بہت عزیز ہے مجھے مل گیا جواب اب دروازہ اس طرف ہے ( ازلان نے غصے سے کہتے ہوے دروازے کی طرف اشارہ کیا
جب کے زمل غصے سے پاؤں پٹختی چلی گئی
۔ ۔ ۔ ![]()
![]()
![]()
لو بھئ اب تم لوگ کیوں کھڑی ہو ادھر ( احراز اپنے کمرے کی طرف آیا پر ادھر حورین اور کچھ کزنز کو دیکھ کر بولا
کیوں کا مطلب پیسے دیں گے اور پھر کمرے میں جانے دیں گے ( حور بولی
کس کے پیسے کونسے پیسے اب کیا اپنے کمرے میں جانے کے لئے مجھے پیسے دینے پڑ یں گے( وہ حیرت سے بولا
جی اور اب جلدی کریں ہمارے پاس وقت نہیں ہے اگر پیسے نہیں دینے تو ہم آپ کی دلہن کو لے جاتے ہیں پھر بیٹھے رہیے گا (حورین نے کہا جس کی سب نے تائید کی
اور احراز منہ کھولے دیکھ رہا تھا
ایسے کیسے لے جاؤ گے میری بیوی کو لے جاؤ گے چلو شاباش یہ لو تم لوگوں کے لئے کافی ہے )احراز نے 1000 کا نوٹ دیتے ہوے کہا
کس زمانے میں ہیں آپ پچاس ہزار سے کم ایک روپیہ نہیں لیں گے ہم ( حورین کی کزن نے کہا
پہلے ہی جیب خالی ہے میری یہ لو لے لو تم لوگ اس میں جو بھی ہے (احراز نے وولٹ نکال کے دیتے ہوے کہا
حورین نے وولٹ پکڑ کے دیکھا جس میں کافی نوٹ تھے
کیا یاد کریں گے کتنی اچھی بہن سے پالا پڑا ہے جایں
(حور شان بے نیازی سے کہتی ہوئی سائیڈ پے ہوئی تو احراز اندر داحل ہوا اور دروازہ لاک کیا
سامنے بیڈ پر مہر بیٹھی تھی سر جھکاے
احراز نے سلام کیا جسکا جواب مہر نے سر ہلا کے دیا
بہت پیاری لگ رہی ہو (احراز نے کہتے ہوے اسکا ہاتھ تھا ما جو کے ہلکا ہلکا کپکپا رہا تھا
مہر کیا میں اتنا خوفناک ہوں کے تم دیکھہی نہیں رہی میری طرف ( احراز کے کہنے پر مہر نے فورااسکی طرف دیکھا
تو وہ شوخ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا مہر نے جھینپتے ہوے نظریں دوبارہ جھکا لیں
احراز نے سائیڈ ٹیبل سے ایک باکس نکالا اورکھولا
اس میں خوبصورت گولڈ کی چین تھی جسکے اندر ڈائمنڈ لگا ہوا تھا
اجازت ہے (احراز کے پوچھنے پر مہر نے اثبات میں سر ہلایا
احراز نے اسے چین پہنای اور گویا ہوا
مہر تم زندگی کے ہر مشکل وقت میں مجھے اپنے ساتھ پاؤ گی چاہے کچھ بھی ہو جائے
جیسے بھی حالات ہوے تم ہمیشہ مجھے عزیز رہو گی اور میں چاہتا ہوں کے تم بھی ہمیشہ میرا ساتھ دو
دو گی نا میرا ساتھ (احراز کے پوچھنے پر اسنے اثبات میں سر ہلایا
اور احراز نے اسکے گرد اپنی باہوں کا حصار کھینچ لیا
۔ ![]()
![]()
![]()
اگلے دن ولیمہ تھا جو کے بخیر و عافیت گزر گیا تھا سب مہمان اپنے اپنے گھروں کو سدھار گئے بس کچھ رہ گئے تھے اور ان سب نے فارم ہاؤس جانے کا پلین بنایا
ازلان احراز مہر اور حور ایک گاڑی میں تھے جب کے باقی کزنز کچھ حماد کے ساتھ تھے اور کچھ حمزہ کے ساتھ
جب وہ لوگ فارم ہاؤس پہنچے تو گیارہ بجے کا ٹائم تھا
وہ سب فارم کے ساتھ بنے گارڈن کی طرف بڑھ گئے جہاں طرح طرح کے پھول اور پھل لگے ہوے تھے
یار آجاؤ پھل توڑتے ہیں ( حورین نے مہر کو کہا
تم کیا اپنا پیچھلا تجربہ بھول گئی ہو ( مہر نے جب وہ گری تھی تب کا یاد دلایا
اب ہر دفع تھوڑی نا گروں گی آجاؤ ( حورین کہتی ہوئی آگے بڑھی اور درحت سے پھل اتارنے لگی
کچھ دیر بعد وہ اپنا شوق پورا کر کے وہاں آ کے بیٹھی جہاں زمل لوگ بیٹھی ہوئی تھیں
حورین کیا ہر وقت بچگانہ حرکتیں کرتی رہتی ہو اب تم چھوٹی نہیں ہو جو اسطرح کی حرکتیں کرو (زمل نے حور کو دیکھتے ہوے ناگواری سے کہا
جب کے حورین حیرت میں تھی کیوں کے آج تک اسے گھر میں کسی نے ایسا نہیں بولا تھا
پڑ زمل آپی میں نے کیا کیا ہے میں تو بس درخت سے پھل ہی اتار رہی تھی (حورین نے کہا پر شکل ایسی تھی کے ابھی آنسو نکل آیں گے
ہاں تو یہ تمہاری عمر تو نہیں ہے جو تم اسطرح کی حرکتیں کرتی پھرو کسی نے سمجھایا نہیں تمہیں (اب حورین کو کیا پتا کے زمل کو کس چیز کا غصہ ہے وہ بیچاری تو سارے قصے سے انجان تھی
زمل یہ تو ہر کسی کی اپنی اپنی نیچر ہوتی ہے کوئی اپنی لائف انجوے کرتا ہے اور کوئی دوسروںپر نظر رکھتے رکھتے اپنا ٹائم برباد کرتا ہے (مہر نے حورین کو دیکھتے ہوے کہا کچھ کچھ تو وہ بھی واقف تھی زمل کی طبیعت سے
اور مہر کی بات سن کر زمل کے منہ کے زاویے بگر گئے
۔ ۔ ![]()
![]()
![]()
ابھی ان لوگوں کا ایک دن اور یہاں رہنے کا پلین تھا کچھ دیر باغ میں گھوم کر وہ سارے آرام کی غرض سے فارم ہاؤس آ گئے
حورین کی بہن شمائل بھی آئ ہوئی تھی سب لوگ اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے
حماد بھی ساتھ تھا پہلے ایک دو باتوں اسکے اور احراز کے درمیان اختلاف ہوا تھا
لیکن اب اسنے اپنا دل اخراز کی طرف سے صاف کر لیا تھا
پر احرا ز اسے حماد کو لے کر کچھ غلط فہمی ہو گئی تھی اور حماد اب بس وہی دور کرنا چاہتا تھا
رات کو کھانے کے بعد سب لکڑیاں جلائیں اور ووڈ فائر کے گرد دائرہ بنا کے بیٹھ گئے
چلیں جی اب سب باری باری گانا سنایں گے ریڈی ہیں سارے
(مہر اور شمائل کافی بنانے گیں تھیں جب وہ آیں تو حورین بولی وہ دونوں بھی ساتھ بیٹھ گئیں
ٹھیک ہے تو سب سے پہلے شروع کرتے ہیں حماد بھائ سے (حورین نے حماد کو دیکھتے ہوے کہا
بھئ میں کیوں سب سے پہلے (حماد نے کہا
تو آپ بڑے ہیں نا اس لئے چلیں اب جلدی کریں (اب کی بار مہر نے کہا
میری زندگی سواری
مجھ کو گلے لگا کے
بیٹھا دیا فلک پے
مجھے خاک سے اٹھا کے
یارا تیری یاری کو
میں نے تو خدا مانا
یاد کرے گی دنیا تیرا میرا افسانہ
تیرے جیسا یار کہاں
کہاں ایسا یارانہ
حماد نے احراز اور ازلان کو دیکھتے ہوے سنایا
گانا حتم ہوتے ہی سب نے ہوٹنگ کی
بہت اچھے بھائ (مہر نے کہا
سب باری باری سنا رہے تھے اور داد وصول کر رہے تھے
چلیں جی اب مہر تمہاری باری (حورین کے کہنے پر مہرسب کی طرف دیکھا اور گانا شروع کیا
ملے ہو تم ہم کو
بڑے نصیبوں سے
چرایا ہے میں نے
قسمت کی لکیروں سے
تیری محبت سے سانسیں ملی ہیں
صدا رہنا دل میں قریب ہو کے
مہر نے گانا حتم کر کے احراز کی طرف دیکھا وہ شوخ نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا اسکے چہرے پر گلال آنے لگا مہر نے چہرہ جھکا لیا
اب ازلان کی باری حورین نے مہر کے گانےکے بعد کہا
اسنے ایک نظر حور کو دیکھا اور گانا شروع کیا
میں عشق اسکا
وہ عا شقی ہے میری
وہ لڑکی نہیں
زندگی ہے میری
آنکھوں میں ہے اسکا چہرہ
یادوں میں ہے اسکا پہرا
میں ہوں را ہی وہ ہے منزل
کرنا ہے اب اسکو حاصل
ان دھڑکنوں میں باجے
اسکی ہی سر گم
وہ میری جانا ہے وہ میری جانم
وہ لڑکی نہیں زندگی ہے میری
اذلان نے گانا حتم کیا تو سب نے داد دی
ازلان کے موبائل پر بپ ہوئی دیکھا تو حورین کا میسج تھا
کون ہے وہ لڑکی ؟(میسج پڑھ کر ازلان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی
اسنے دیکھا حور اسی کی طرف دیکھ رہی ہے
اس نے کچھ سوچتے ہوے میسج ٹائپ کیا
بس ہے کوئی تمہیں کیوں بتاؤں (میسج کر کے اسنے حور کی طرف دیکھا جو میسج ریڈ کر کے اب منہ پھلا کے بیٹھ گئی تھی
پھر رات دیر تک وہ لوگ باتوں میں لگے رہے…..
