260.6K
19

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Lot Ane Tak Episode 7

Tere Lot Ane Tak by Sanya Chaudhary

ازلان کے جانے کے بعد حور وہی زمین پر بیٹھتی چلی گئی دل کے سارے حدشات سہی نکلے تھے

جس چیز سے ڈر لگ رہا تھا وہی ہو گئی تھی اگر وہ ازلان کی بات نا مانے تو پھر جو وہ کہ کر گیا ہے

وہ ضرور کرے گا اتنا تو وہ اسے جانتی تھی کے اگر وہ کسی ضد پے آ جائے تو وہ کام کر کے رہتا ہے

اور اگر اسکی بات مان لی تو وہ کیا کرے گا اسکے ساتھ جو اسے اس کے کمرے میں آ کر دھمکا گیا ہے وہ تب کیا کرے گا جب وہ اسکے گھر جائے گی

مسلسل روتے ہوے وہ سوچ رہی تھی اگر آگے کھائی تھی تو پیچھے کنواں تھا

وہ ویسے ہی بیٹھی رو رہی تھی جب شمائل کمرے میں داحل ہوئی

حورین کیا ہوا گڑیا ادھر رو کیوں رہی ہو اور ایسے کیوں بیٹھی ہو (شمائل پریشانی سے آگے بڑھی

ک ک کچھ نہیں آپ آپی ( حورین نے جلدی سے آنسو صاف کرتے ہوے کہا

اور نا محسوس طریقے سے اپنے بازؤں پر پڑے نشانوں کو چھپانے کی کوشش کی

وہ کسی بھی صورت شمائل یا کسی اور کو بتا کر پریشان نہیں کر سکتی تھی

پھر ادھر کیوں بیٹھی ہو اور اذلان بھائ نے تو کچھ نہیں کہا تم سے

( شمائل نے کڑی نظروں سے استفسار کیا

نہ نہیں کچھ نہیں کہا انہوں نے (حورین جلدی سے بولی اور اٹھ کر جا کے بیڈ پر بیٹھ گئی

حورین میری بہن سب انتظار کر رہے ہیں باہر مان جاؤ نا (شمائل نے اک اس سے پوچھا

ٹھیک ہے آپی مجھے منظور ہے آپ سب کی بات (حورین نے کہتے ہوے سر جھکا کر آنکھوں میں آنے والی نمی کو روکا

کوئی اس سے پوچھتا کے وہ بے بسی کے کس مقام پر کھڑی ہے

دل میں ڈر کنڈلی مار کے بیٹھ گیا تھا لیکن اپنی فیملی اپنے جان سے عزیز بھائ کے لئے وہ اپنی زندگی قربان کرنے لگی تھی

کچھ ہی دیر بعد مہر اور شمائل نے اسے شال اوڑھای باہر لے آیں

سب سے مل کر اور خوب رو کر وہ قران مجید کے ساۓ تلے رخصت ہو کر گاڑی میں بیٹھی

جہاں اسکے ساتھ مہر تھی اور آگے ہی وہ ظالم بیٹھا ہوا تھا

کچھ ہی دیر بعد گاڑی رکی مہر اتری اور حورین کو بھی باہر نکلنے میں مدد دی

وہ لوگ حماد کی قبر پے آے تھے ازلان نر حماد کی قبر پر پھول رکھے

تینوں کی آنکھیں نم تھیں قبر پر دعا کرنے کے بعد انہوں نے واپسی کی راہ لی

واپسی کا سفر بھی خاموشی سے کٹا جب گھر آے تو تائی امی ان کا انتظار کر رہی تھیں

ازلان تو سیدھا مردان خانے کی طرف چلا گیا

تائی امی نے حورین کی پیشانی پر بوسا دیا اور اسے اپنے ساتھ لگاے کمرے میں لے آئیں

میری بیٹی خوش تو ہے نا (تائی امی نے اسکا چہرہ ہاتھوں میں تھامتے ہوے پوچھا

جی تائی امی (حورین نے آہستگی سے جواب دیا

حورین بیٹا مجھے پتا ہے کے یہ سب اتنی جلدی ہوا ہے کے آپ کو یہ سب قبول کرنے میں مشکل ہو گی

لیکن بیٹا حالات ہی ایسے ہو گئے تھے کے یہ سب اتنی جلدی کرنا پڑا اور ویسے بھی آپ تو میری اچھی بیٹی ہو نا آپ تو سمجھدار ہو

تھوڑی مشکل ہوگی ابھی لیکن بیٹا آہستہ آہستہ حالات ٹھیک ہو جایں گے بس تم کبھی صبرکا دامن ہاتھ سے نا چھوڑنا سمجھ رہو ہو نا بیٹا (پیار سے سمجھاتے ہوۓ انھوں نے آخر میں تائید چاہی

جس پر حورین نے اثبات میں سر ہلا دیا وہ اور کر بھی کیا سکتی تھی

یہ میری طرف سے تحفہ ہے تمہارے لئے (انھوں نے خوبصورت سونے کےکنگن نکال کر حورین کی کلائیوں میں پہنا ے

شکریہ تائی امی (حورین نے حلوص دل سے کہا

پھر تائی امی کے کہنے پر ہی اسنے تھوڑا سا کھانا کھایا اور کچھ دیر اور باتوں کے بعد تائی امی نے کہا

بیٹا اب تم تھک گئی ہو گی کمرے میں چل کر آرام کرو (تائی امی کے کہنے پر ایک دم حورین کا رنگ زرد ہوا

مہر نے اسے ازلان کے کمرے میں چھوڑا

نئی زندگی بہت بہت مبارک ہو اللہ‎ تمہیں دنیا کی ساری خوشیاں دیں (مہر نے اسے بیڈ پر بٹھاتے ہوے کہا

اچھا اب بھائ آتے ہوں گے تم آرام کرو (مہر پیار سے اسکا گال تھپتھپاتی ہوئی باہر نکل گئی

جب کے مہر کے جاتے ہی حورین نے کمرے کی طرف نگاہ دورا ی

وہ لا تعداد دفع اس کمرے میں آئ تھی لیکن اب سب بدل گیا تھا

اس نے تو کبھی اس بارے میں سوچا بھی نہیں تھا اور ابھی تو اسنے اپنی زندگی میں بہت کچھ کرنا تھا لیکن ہم ہمیشہ جو سوچتے ہیں وہ تو نہیں ہوتا

کبھی کبھی تو ہماری زندگی میں وہ سب کچھ ہو جاتا ہے جو ہمارے گمان میں بھی نہیں ہوتا

۔ ❤❤❤

وہ گاڑی سے اتر کر سیدھا اپنے اس طرف والے کمرے میں آ گیا تھا

ازلان مسلسل سگریٹ پے سگریٹ پھونک رہا تھا وہ کبھی بھی سگریٹ کا اتنا عادی نہیں تھا لیکن اب تو وہ کافی دنوں سے بہت زیادہ پی رہا تھا

وہ مسلسل حور کے بارے میں سوچ رہا تھا کیسے آج اس نے اتنا برا سلوک کر لیا اسکے ساتھ

آج حورین کی آنکھوں میں آنسو ازلان کی وجہ سے تھے اس ازلان کی وجہ سے جو کبھی حور کو روتا ہوا نہیں دیکھ سکتا تھا کبھی حور کی آنکھوں میں نمی نہیں آنے دی تھی اس نے

لیکن اب سب کچھ بدل چکا تھا اب ازلان بدل چکا تھا

______________

حورین کافی دیر بیٹھنے کے بعد جب تھک گئی تو ٹائم دیکھا جو کے بارہ سے اوپر ہو رہا تھا وہ اٹھی ڈریسنگ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنا چہرہ دیکھا

کبھی سوچا ہی نہیں تھا کے یہ وقت بھی آے گا اسنے ہاتھ بڑھا کر اپنا زیور اتارنا شروع کیا

پھر میکپ صاف کر کے واشروم کی طرف بڑھی اپنے جہاں پہلے ہی شب حوابی کا لباس لٹکا ہوا تھا

کچھ دیر بعد وہ وہ نکلی اور آکر بیڈ پر لیٹ گئی سوچوں کے دھارے پھر سے کھل گئے تھے

روتے روتے کب نیند کی دیوی اس پر مہربان ہوئی اسے پتا ہی نا چلا

اور دوسری طرف ازلان تھا جس نے پوری رات آنکھوں میں کاٹی تھی

صبح فجر کے وقت جا کر کہیں نیند کو اس پر رحم آیا تو اسکی آنکھ لگی

۔ ۔ ❤❤❤

مہرکام حتم کر کے اپنے کمرے میں آئ جب نہا کر نکلی تو یکدم ٹھٹھک گئی

اس کے کمرے اس کے بیڈ پر وہ نہایت شان سے براجمان تھا اور اسی کی طرف متوجہ تھا

مہر کی نظر اپنے حلیے پر پڑی جہاں دوپٹہ ندارد تھا اس نے دوپٹے کی لئے نظر دوڑائی

جو کے احراز کے نیچے تھا اور وہ پر شوخ نظروں سے مہر کو دیکھ رہا تھا

آپ یہاں کیا کر رہے ہیں (مہر نے اپنے لہجے میں سختی سموتے ہوے کہا

جب کے اخراز کے دیکھنے میں کوئی فرق نا آیا

میں آپ سے کچھ پوچھ رہی ہوں

یار میری اتنی معصوم سی بیوی ہے ادھر اس سے دل اداس ہو گیا تھا بس اسی سے ملنے آیا ہوں

(اخراز نے پیار بھری شوخی سے کہا

آپ پلیز ابھی کے ابھی جایں یہاں سے اگر کسی نے آپ کو

دیکھ لیا تو میرے لئے مسلہ ہو گا اسلئے جائے یہاں سے (مہر نے غصّے سے دروازے کی طرف اشارہ کر کے کہا

ایسے کیسے چلا جاؤں یار اتنے دنوں سے تم ادھر ہو کتنا ٹائم لینا ہے

اب بس مجھ سے اور انتظار نہیں ہوتا اب چلو گھر (اخراز نے کہتے ہوے یک دم اسکا ہاتھ پکڑ کر جھٹکا دیا

جس کے نتیجے میں اگلے ہی لمحے وہ اسکے اوپر تھی

کیا کر رہے ہیں چھوڑیں مجھے نہیں جانا

میں نے آپ کے ساتھ کتنی دفع بتاؤں آپ کو کیوں نہیں سمجھتے آپ (مہرکی آنکھیں بھر آیں

جب کے اخراز نے اسکی کمر کے گرد حصار باندھ لیا تھا

اور مہر وہ تو لاکھ کوشش کے با وجود بھی اس کے حصار کو توڑ نا سکی

اور اسی کے سینے پر سر رکھ کے شدتوں سے رو دی

اخراز نے ایک ہاتھ سے اسکا چہرہ اپنی طرف کیا

بس تمہارے ان آنسوؤں کے سامنے بے بس ہوں ورنہ کب کا تمہیں لے گیا ہوتا پر اب میں مزید انتظار نہیں کروں گا

(کہتے ہوے اسنے مہر کی پیشانی پر اپنے پاکیزہ رشتے کی مہر ثبت کی

اور اسے اپنے حصار سے آزاد کرتا جھٹکے سے اٹھا اور کمرے سے نکل گیا

جب کے مہر وہی بیڈ پر بیٹھ کر رو دی

۔ ❤❤❤

صبح جب حورین کی آنکھ کھلی تو نظر سامنے لگی دیوار گیر گھڑی پر گئی جو کے نو بجنے کا پتا دے رہی تھی

وہ جلدی سے اٹھی اور ایک سادہ سا سوٹ نکال کر واشروم کی جانب بڑھ گئی

فریش ہو کر باہر نکلی ڈریسنگ کے سامنے بیٹھ کر بال سلجھا ے آنکھوں میں کاجل اور ہونٹوں پر لپ سٹک لگا کر اٹھی تو نظر یک دم تھم سی گیں

ازلان جو کے پتا نہیں کس وقت روم میں آیا تھا اس وقت نکھرا نکھرا سا گرے شلوار سوٹ میں بازو کہنیوں تک موڑے صوفے پر بیٹھا بغور اسکا جائزہ لے رہا تھا

پھر وہ اٹھا قدم بقدم چلتا حور کی طرف آیا جب کے حور تو ساکت سی کھڑی تھی

اسنے ایک جھٹکے سے حور کی کمر میں بازو ڈال کر خود سے قریب کیا

جب کے حور کا تو شرم اور ڈر سے برا خال ہو رہا تھا رخسار لا ل ٹماٹر ہو گئے تھے دھڑکن اتنی تیز تھی لے ازلان بخوبی سن سکتا تھا وہ بلکل سانس روکے کھڑی تھی

اذلان نے ہاتھ بڑھا کر حور کے ہونٹوں پر لگا گئی لپ سٹک کو سختی سے رگرا

صاف کرو اسے اور آیندہ کے بعد میں تمہارے منہ پر کسی بھی قسم کا میک اپ نا دیکھوں

(ازلان نے کہتے ہوے اسے چھوڑا اور باہر نکل گیا جب کے حور تو اسکے سرد رویے پر غور کرتی رہ گئی

پھر ڈریسنگ کے سامنے آ کر لپ سٹک صاف کی نظر شیشے پر پڑی تو پتا چلا کے وہ رو رہی ہے

ہاتھ گال پر لگایا تو یقین ہو گیا

پھر اچھے سے منہ دھو کر باہر نکلی تو مہر بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی

اٹھ گئی تم نیند آ گئی تھی ٹھیک سے کوئی مسلہ تو نہیں ہوا (مہر نے پیار سے اسے گلے لگاتے ہوے کہا

شائد وہ جانتی تھی ازلان کے بارے میں اسی لئے ذکر نہیں تھا کیا اسکا

ہاں آ گئی تھی تم سناؤ طبیعت ٹھیک ہے ؟(حور نے تشویش سے پوچھا کیوں کے اسکی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں

ہاں ہاں طبیعت کو کیا ہوا بلکل ٹھیک ہے (مہر نے مسکرا کر جواب دیا

اچھا پھر تمہاری آنکھیں کیوں اتنی ریڈ ہیں کیا نیند نہیں پوری ہوئی(حور نے پریشانی سے پوچھا

ہاں اصل میں رات کو ایک بک پڑھ رہی تھی تو اس لئے لیٹ سوئی اور تم یہ اتنا لائٹ سوٹ کیوں ڈالا اور میک اپ بھی نہیں کیا کچھ

(مہر نے اسکی طرف دیکھتے ہوے کہا

یار کیا کرنا ہے چھوڑو ٹھیک ہوں ایسے ہی اب نیچے نہیں چلنا کیا (حور نے بیزار سا لہجہ بناتے ہوے کہا

ہاں چلو ٹھیک ہے آو چلیں نیچے (وہ دونوں نیچے گیں تو ڈائننگ ٹیبل پر تائی امی بڑے بابا اور ازلان تینو موجود تھے

اسنے جاتے ہی سب کو سلام کیا بڑے بابا سے پیار لیا

پھر تائی امی سے اور پھر آ کر ازلان کے ساتھ والی چیئر پے بیٹھ گئی

جب کے اس سب میں ازلان نے حور کو مکمل نظر انداز کرتے ہوے اپنا ناشتہ جاری رکھا

جیسے اس سے ضروری کوئی کام ہی نا ہو

_____________

ناشتے سے فارغ ہو کر حورین مہر کے ساتھ اسکے کمرے میں چلی آئ اور دونوں جو کافی دنوں بعد باتیں کرنے بیٹھیں تو پھر ٹائم کا پتا ہی نہ چلا

حورین تو باتیں کرتے کرتے ادھر ہی سو گئی جب کے مہر اٹھ کے باہر آ گئی

ازلان جو مہر سے کوئی بات کرنے آیا تھا اسکو سر منہ لپیٹ کر سوتے دیکھ کر مسکراتے ہوے آگے بڑھا

کمبل اس کے منہ سے اتارا اور مہر کو پکارا

مہر

وہ جو کروٹ لے کر سو رہی تھی نیند میں سیدھی ہوئی

اور اذلان وہ یک دم ساکت ہو گیا وہ مہر نہیں حور تھی اسکے دل کی مکین

اسکی نظریں حور کے چہرے پر جا ٹکی سوتے ہوے بھی وہ بلکل معصوم لگ رہی تھی وہ معصومیت

جو اسکی شخصیت کا خاصہ تھی پونی میں مقید بالوں کو کچھ آوارہ لیٹں اسکے چہرے کو چوم رہی تھیں

ازلان کے دل نے بڑی بے تابی سے ایک خواہش کی جسے اگلے ہی لمحے اس نے

حور کی آوارہ لیٹوں کو کان کے پیچھے کر کے پورا کیا

حور ہلکا سا کسمسائی ازلان ایک نظر اسکے چہرے پر ڈال کر کمرے سے باہر نکل گیا

حور جب اٹھی تو کافی ٹائم ہو گیا تھا وہ نیچے آئ تو تائی امی بیٹھی ہوئی تسبیح پڑھ رہی تھیں

وہ آ کر ان کے پاس بیٹھ گئی

نیند پوری ہو گئی میری بیٹی کی (انہوں نے پیار سے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوے کہا

جی ہو گئی(حور نے انکی گود میں سر رکھتے ہوے کہا

ماما نہیں آئ کیا تائی امی (حور نے آنکھیں موندے ہوے پوچھا

آئیں تھی پر تم سو رہی تھی اسلئے میں نے کہا جب تم اٹھو گی پھر خود مل آنا (تائی امی نے اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوے کہا

ہم پھر ابھی مل آوں (حور جلدی سے اٹھتے ہوے بولی

ہاں جاؤ پر آرام سے اس طرح بھاگ کے نہیں جانا (انھوں نے اسکی جلد بازی دیکھتے ہوے کہا

اوکے تائی امی (وہ بولتے ہوے چلی گئی

شازو ماما کدھر ہیں (حور نے لاؤنج میں سے گزرتی ملازمہ سے پوچھا

وہ جی وہ اپنے کمرے میں ہیں

حور ماما کے کمرے کی طرف بڑھ گئی

السلام عليكم ماما (وہ جو آنکھیں موندے بیٹھی تھیں حور کی آواز پر جھٹ کھولیں

و سلام کیسی ہے میری شہزادی (انہوں نے کہتے ہوے حور کو اپنے ساتھ لگایا

میں بلکل ٹھیک ماما آپ کیسی ہیں (حور نے پوچھا

میں بھی ٹھیک ہوں (انہوں نے جواب دیتے ہوے اسکے سر کا بوسہ لیا

ماما آپی کدھر ہیں (حور نے انکے ساتھ لگے لگے ہی پوچھا

بیٹا وہ تو صبح ہی چلی گئی تھی کہ رہی تھی کچھ دنوں تک پھر چکر لگاے گی

پر مجھ سے ملے بنا ہی چلی گیں (حور کے لہجے میں شکوہ تھا

بیٹا گئی تھی تم سے ملنے تم سو رہی تھی کچھ دن تک لگاے گی نہ چکر

(انہوں نے حور کا شکوہ دور کرنا چاہا

اچھا ایک بات بتاؤ حور (انھوں نے حور سے پوچھا

بولیں ماما

بیٹا ازلان کا رویہ کیسا ہے تمہارے ساتھ میرا مطلب وہ تمہارے ۔ساتھ ٹھیک تو ہے نہ

(انہوں نے اپنا حدشہ ظاہر کیا اور وہ ماں تھی اپنی بیٹی کے لئے فکرمند تھیں سو طرح کے حدشے تھے دل میں

جی ماما ٹھیک ہیں وہ بلکے بہت اچھے ہیں میرے ساتھ (حور نے کہتے ہوے اپنی آنکھوں میں بےساختہ آنے والی نمی کو چھپایا

وہ اپنی ماں کے لہجے کے حدشات کو محسوس کر چکی تھی اور انھیں بتا کر زیادہ پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی

اچھا اب بھوک لگی ہے کچھ کھانے کو ہی دے دیں( حور نے زور سے کہتے ہوے بات بدلنی چاہی

کیا کھانا ہے مجھے بتاؤ میں خود بنا کے دیتی ہوں اپنی بیٹی کو (انھوں نے پیار سے کہتے ہوے اسے اٹھایا اور خود بھی اٹھ کے کچن کی طرف بڑھی

۔ ۔ ❤❤❤

بابامیں نے کچھ بات کرنی تھی آپ سے (ازلان انکے کمرے میں آتے ہوے بولا

کیا بات ہے ازلان (انہوں نے ہاتھ میں پکڑے نیوز پیپر کو سائیڈ پے رکھتے ہوے کہا

باب ابھی کال آئ تھی مینیجر کی بزنس میں کچھ پروبلمز آ رہی ہیں تو مجھے جانا ہوگا آج ہی (ازلان نے نے کہتے ہوے انکی طرف دیکھا

ٹھیک ہے بیٹا جاؤ ویسے اگر کچھ دن رک جاتے تو اچھا تھا

بابا چکر لگاتا رہوں گا نا (ازلان نے انکے ہاتھ پے ہاتھ رکھتے ہوے کہا

حورین کو بھی لے کر جاؤ گے (انہوں نے سوالیہ نظروں سے پوچھا

جی بابا وہ بھی جائے گی سا تھ (ازلان نے کہتے ہوے نظریں پھیریں

پر ازلان مجھے اسکی طرف سے تمہارے لئے کوئی شکایت نہیں ہونی چاہیے (انہوں نو سخت لہجے میں کہا

جی بابا اب میں مہر کو بتا لوں (وہ کہتے ہوے اٹھا

ٹھیک ہے کب نکلو گے (انہوں نے نیوز پیپر دوبارا پکڑتے ہوے پوچھا

کل صبح (وہ کہتے ہوے باہر کی طرف بڑھ گیا

لاؤنج میں آیا تو تینوں حواتین بیٹھی ہوئی تھیں

حور جا کر اپنی پیکنگ کر لو کل صبح ہم نے واپس جانا ہے (ازلان کہتے ہوۓ صوفے پر بیٹھ گیا

جب کے حور سر ہلاتی کمرے کی طرف بڑھ گئی کے مبادا سب کے سامنے ہی کچھ بول نا دے

بھائ آپ اتنی جلدی کیوں جا رہے ہیں (مہر نے پوچھا

بیٹا کچھ کام آ گیا ہے نا کچھ دن تک آوں گا نا اور آپ بھی ساتھ چلو اگر جانا چاہتی ہو تو (ازلان نے رسان سے سمجھایا

نہیں میں نے نہیں جانا اور بابا کی بھی تو طبیعت خراب ہے نا کچھ دن بعد چلے جائیے گا نا ( مہر نے اسرار کیا

ہاں ازلان ٹھیک کہ رہی ہے مہر ( ماما نے بھی مہر کی حمایت کی

اوکے ماما کرتا ہوں کچھ (اذلان نے کچھ سوچتے ہوے حامی بھری

کچھ دیر وہاں بیٹھنے کے بعد جب پیکنگ کی غرض سے کمرے کی طرف بڑھا تو حور میڈم اسکی پیکنگ کرنے میں مگن تھیں

میں نے تمہیں صرف تمہاری پیکنگ کرنے کا کہا تھا اپنی نہیں اور نا مجھے ضرورت ہے تمہاری میں خود کر لوں گا ( اذلان نے غصے سے بولتے ہوے اسکے ہاتھ سے اپنی شرٹ کھینچی

لیکن ازلان پہلے بھی تو میں کر دیتی تھی تو اب کیا مسلہ ہے ( وہ ہنوز اسکی پیکنگ کرتے ہوے بولی

اب تم مجھے بتاؤ گی کے کیا سہی ہے اور کیا نہیں (ازلان ne غصے سے اسے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کرتے ہوے کہا

ازلان چھوڑیں مجھے درد ہو رہا ہے

(حور نے روتے ہوے کہا

اسکی آنکھوں سے نکلتے ہوے آنسو دیکھ کر یکدم ازلان کے دل کو کچھ ہوا وہ اسے ادھر ہی چھوڑ کر باہر نکل گیا…..