Tere Lot Ane Tak by Sanya Chaudhary NovelR50431

Tere Lot Ane Tak by Sanya Chaudhary NovelR50431 Tere Lot Ane Tak Episode 19 (Last Episode)

260.6K
19

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Lot Ane Tak Episode 19 (Last Episode)

Tere Lot Ane Tak by Sanya Chaudhary

ہم کہاں ؟کیا واپس جا رہے ہیں؟ لیکن میں نہیں جاؤں گی ابھی مجھے رہنا ہے (حور خود ہی سوال کر کے جواب دینے لگی ۔

واپس نہیں جا رہے بس تم کہ رہی تھی نا صبح کے سرپرائز تمہیں اچھے لگتے ہیں

تو بس یہ سرپرائز ہے تمھارے لئے اب جلدی سے تیار ہو جاؤ صرف ایک گھنٹہ ہے تمہارے پاس ایک گھنٹے بعد نکلنا ہے (ازلان کی باتیں سنتے ہوے اسکا منہ کھل گیا ۔

کیا مطلب ایک گھنٹہ اور میں نے تو کوئی تیاری ہی نہیں کی پیکنگ بھی کرنی ہے عشال کی اتنی چیزیں رکھنی ہیں (وہ پریشانی سے بول رہی تھی

اور ازلان مزے سے اسکے چہرے کے تاثرات دیکھ رہا تھا اور ابھی تو ایک اور دھماکا رہتا تھا

اسکے سر پر کرنے کے لئے

پیکنگ تمہاری ہو چکی ہے اور عشال ہمارے ساتھ نہیں جا رہی وہ مہر اور اخراز کے پاس رہے گی (اور یہ ہوا تھا سب سے بڑا دھماکا

کیا مطلب عشال نہیں جا رہی وہ کیسے رہے گی ہمارے بغیر اور میں کیسے رہوں گی اسکے بغیر

(حور روہانسی ہو گئی

حور مجھے بھی اسکی پروا ہے میرے لئے بھی یہ مشکل ہے لیکن ایک تو سردی بہت زیادہ ہے اسکی طبیعت حراب ہو جائے گی

آب و ہوا کا اثر ہو گا اور مہر اور ۔ اخراز کے ساتھ وہ بہت زیادہ اٹیچ ہے پھر بھی اگر کوئی مسلہ ہوا تو ہم آ جائیں گے (اب وہ سنجیدگی سے اسے سمجھا رہا تھا ۔

تو ہم بھی نہیں جاتے نا پھر کبھی چلے جایں گے نا ۔ ۔ (ابھی وہ کچھ اور بھی کہتی جب ازلان کی گھوری پر خاموش ہو گئی ۔

ازلان اسے سمجھا سمجھا کر تھک گیا تھا لیکن اسکی ایک ہی رٹ تھی

میرا دل نہیں مان رہا میں نہیں جاؤں گی

حور دس منٹ دے رہا ہوں خاموشی سے چینج کر کے نیچے آؤ (اب تنگ آ کر وہ غصے سے کہتا باہر نکل گیا اور مہر سے کہا کے اسے سمجھاے

اور اگلے دس منٹ میں وہ نیچے سب سے مل رہی تھی

کیوں کے مہر اسے سمجھایا تھا اسکے الفاظ ہی ایسے تھے کے حور کو ماننا پڑا

حور ددیکھو عشال مجھے ایسے عزیز ہے جیسے میری اولاد ہو کچھ دن کی بات ہے بس کچھ دن میں بھی مامتا کا احساس محسوس کرنا چاہتی ہوں میں اپنی مامتا کی پیاس بھجا لوں گی

وہ مان تو گئی تھی پر ساتھ میں آنسو بھی جاری تھے

بیٹا آپ پریشن کیوں ہو رہی ہیں عشال ہم سب کے پاس ہے کسی غیر کے پاس تو نہیں اور کچھ دن تک اخراز اور مہر بھی آ جایں گے انکے ساتھ ہی عشال بھی آ جائے گی ہوں (بڑے بابا پیار سے اسے سمجھا رہے تھے

وہ سب سے مل کر آکر پھولے ہوے منہ کے ساتھ گاڑی میں بیٹھی ۔

ازلان نے اسکے پھولے ہوے منہ کو دیکھا تو خودبخود مسکراہٹ آ گئی

اسنے حور کا ہاتھ تھامنا چاہا لیکن حور نے اپنا ہاتھ۔ پیچھے کر لیا ۔

میں ناراض ہوں آپ سے اسلئے دور رہیں مجھ سے (وہ کھڑکی کی طرف منہ کیے ہوے بول

کیوں ناراض ہو اب میرا کیا قصور ہے (ازلان نے بی بسی سے کہا

ہاں آپکا کیا قصور جب چاہا غصہ کر لیا ڈانت۔ لیا اور اپنی منوا لی دوسرے کی ویلیو ہی کوئی نہیں (وہ تو آج فل فام میں تھی ۔

اچھا نا سوری اب نہیں کروں گا غصہ پر تم بھی بات مانا کرو نا (وہ صلح جو انداز میں بولا ۔

پکی بات ہے

بلکل پکی (ازلان نے مسکراتے ہوے کہا

ویسے ہم جا کہا رہے ہیں (حور نے تجسس سے پوچھا ۔

تھوڑی دیر ویٹ کرو چل جائے گا پتا (ازلان نے اسکی چھوٹی سی ناک دباتے ہوے کہا

_____________

گاڑی رکی تھی ایئرپورٹ کے پارکنگ ایریا میں اور حور نے حیرانگی سے اسے دیکھاجو مسکراہٹ دباے اسے ہی دیکھ رہا تھا پھر حور کو اشارہ کرتا خود باہر نکلا حور بھی اسکی تقلید کرتی دروازہ کھول کر باہر نکلی کچھ دیر بعد وہ لوگ اندر داخل ہوے ازلان ایک لمحے کو روکا

اور پھر حور کی طرف مڑ کر اسکے ہاتھ میں کچھ پکڑایا حور نے نا سمجھی سے اسے دیکھا پھر وہ کھول کر دیکھا تو خوشی سے چیخ مار کر یک دم ازلان کے گلے لگ گئی آس پاس کے لوگ رشک سے اس کپل کو دیکھ رہے تھے ۔

تھینک یو تھینک سو مچ (وہ مسرت جذبات سے بولی

حور یہ پبلک پلیس ہے (ازلان نے اسکے کان کے قریب ہلکی سی سرگوشی کی حور کو یکدم احساس ہوا تو جھجھکتی ہوئی پیچھے ہوئی چہرہ لال ٹماٹر بنا ہوا تھا

ازلان مسکراہٹ دباے بڑی فرصت سے اسے دیکھ رہا تھا ۔

اب چلیں بھی (حور اسکی نظروں سے پزل ہوتی ہوئی بولی

ازلان نے اسکے سامنے ہاتھ کیا جسے حور نے بنا کسی پیش رفت کے تھاما وہ دونوں نیے سفر پر رواں تھے ۔

جہاز جب اوران بھرنے لگا تو حور نے خوفزدہ ہو کر ازلان کو دیکھا جو کے اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا پھر ایک بازو سے اسے اپنے حصار میں لیا وہ تو جیسے کسی خوفزدہ پنچھی کی مانند اسکے سینے میں چھپ گئی تھی

ریلیکس حور ازلان اسکا شانہ تھپتھپاتے ہوے بولا

جہاز اپنے مقررہ وقت پر لینڈ ہوا تھا اور وہ لوگ اس خوبصورت جگہ پر تھے جہاں صرف قدرتی خوبصورتی اور سبزے سے بھرپور آزاد کشمیر کی سر زمین پر کھڑے وہ دونوں اس خوبصورتی کا ہی حصہ لگ رہے تھے ۔

ان کے پہنچتے ہی ایک گاڑی آئ تھی جس کو ازلان ڈرائیو کر رہا تھا اور حور مسرور سی باہر کے مناظر دیکھ رہی تھی ۔

وہ لوگ ایک فارم ہاؤس میں روکے تھے آس پاس پورا سبزہ ایک ماسٹر بیڈروم ایک گیسٹ روم اور دو اور رومز پر بنا یہ خوبصورت فارم ہاؤس تھا آتے ہی سب سے پہلے حور نے گھر کال کر کے عشال سے بات کی تھی ۔

باہر چل کر واک کرتے ہیں نا

ڈنرکر کے وہ لوگ روم میں تھے جب حور بولی ۔

اس وقت (ازلان نے ٹائم دیکھا جو کے نو کا ہندسہ کراس کر گیا تھا ۔

بلکل اس وقت (حور اسی کے انداز میں بولی

چلو پھر (وہ کہتا ہوا اٹھا کچھ دیر بعد وہ لوگ ایک خوبصورت ٹریک پر واک کر رہے تھے سردی اپنے عروج پر تھی ۔

ہم کتنے دن یہاں رہیں گے (حور ازلان کے حصار میں چلتی ہوئی بولی

جتنے دن میری جان کہے گی اتنے دن (ازلان اسکے سر سے اپنا سر ٹکراتے ہویا بولا

حور تو اپنی اتھل پتھل ہوتی دھرکنوں کو سمبھال رہی تھی وہ آج بھی اسکی شوخ حرکتوں پر اپنے دل کو سمبھالنے لگ جاتی تھی ۔

اگلے دن وہ لوگ ناشتے کے بعد وادی نیلم کی جانب گئے اتنا خوبصورت منظر آنکھوں کو طراوت بخش رہا تھا ایک طرف دریانیلم تھا تو دوسری طرف پہاڑ تھے سر سبز جنگلات ۔

حور توسیلفئیوں پے سیلفیاں لے رہی تھی اور ازلان ایک بڑے سے پتھر پے بیٹھا ارد گرد کے مناظر سے لطف اندوز ہو رہا تھا

ازلان آپ بھی آے نا (حور کہتی ہوئی اسکی اسکے پاس آئ

لاؤ ادھر دو (ازلان نے کہتے ہوے موبائل اسکے ہاتھ سے لیا اور پھر سیلفی لی وہ دونوں مختلف پوز بنا کر پیکس لے رہے تھے پھر وہ لوگ وادی نیلم کی تحصیل شاردا گئے جسے تاریخی مقام بھی حاصل ہے وادی نیلم میں یہ شاردا یونیورسٹی اپنی فن تعمیر کا خوبصورت نمونہ تھی اسکی دیواروں کی اونچای سو میٹر تھی حور تو گنگ ہو کر اس عمارت کو دیکھ رہی تھی جس کی دیواروں پر بدھ مت کے نشان تھے ۔

ازلان کیا لگتا ہے کے یہ کبھی شاندار امارت ہوا کرتی تھی (حور نے ازلان سے کہا جو کے خود بھی اسی طرف متوجہ تھا کیوں کے اب یہاں پر صرف دیواریں سیریاں اور کچھ اور چیزیں تھیں ان کی چھت نہیں تھی

شائد لیکن ہر چیز اس دنیامیں فنا ہونے کے لئے ہی بنی ہے چلو کہا کھو گئی آجاؤ (ازلان اس کا ہاتھ پکڑتا ہوا چلنے لگا

بہت خوبصورت دن کا اختمام ہوا تھا حور تو بے خد تھک چکی تھی لیکن ازلان اسکی نسبت قدرے فریش تھا ۔

حور تو چینج کر کے آکربے سدھ ہو کر سو گئی

حور اٹھو کھانا کھا لو (ازلان نے نیند میں اسے اٹھا کر بٹھایا

آنکھیں بند کیے وہ منہ کھولے بیٹھی تھی (ازلان کو اسکی اس ادا پر بہت پیار آیا پھر کچھ سوچتے ہوے موبائل نکالااور اسکی پک لے لی ۔

پھر موبائل واپس رکھ کر اسے کھانا کھلانے لگا ۔

اگلے کچھ دن کچھ دن گزرے ان کی کھٹی میٹھی شرارتوں میں ازلان کے سنگ اسکی زندگی اتنی خوبصورت تھی کے اسے تو گمان بھی نا تھا کبھی اس چیز کا

ازلان کے کہنے پر ہی اسنے آج ویسا ہی ڈریس پہنا تھا جیسا کے وہاں کی حواتین پہنتی ہیں کڑھائی والی وول کی قمیض شلوار اور سر پر ماتھا پٹی یہ سب پہنے کتنی ہی دیر وہ باہر ہی نہیں نکلی تھی پھر ازلان کے بار بار بلانے پر جھجھکتی ہوئی باہر آئ تھی ۔

ازلان نے جب اسے دیکھا تو وہ بلکل کوئی گریا ہی لگی اسے اپنی سرخ سفید رنگت میں رایل بلیو کلر کی کی قمیز اور اس پر ستم ماتھے پر پہنی ماتھا پٹی ۔

ازلان نے بے خودی میں اسے قریب کرتے ہوے اسکی پیشانی پر بوسہ دیا

جب کے حور تو بلکل لال ٹماٹر ہوئی تھی

آج وہ لوگ وادی کیل کی جانب گئے شونٹر نالہ اور دریاے نیل کا ملن ایک خوبصورت منظر تھا

حور وہاں مزے سے اچھلتی پھر رہی تھی وہاں کے با شندے بہت اخلاق والے تھے چھوٹے چھوٹے بچے اور بچیاں ایک لائن میں اپنی کتابیں اور بیگ لئے اسکول سے آرہے تھے جیولری وغیرہ وہ اتار چکی تھی سردی سے اسکی ناک سرخ ہو رہی تھی لیکن وہ تو اس قدرتی حسن میں کھوی ہوئی تھی ازلان نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنے مقابل کھڑا کیا

حور نے نا سمجھی سے اسے دیکھاازلان نے مفرل لے کر حور کے گلے میں پہنایا اور پھر ٹوپیجس پر حور نے منہ بنایا

سردی لگ گئی تو سارا مزہ خراب ہو جائے گا نا (ازلان نے پیار سے اسے سمجھایا

سیب کے باغات تھے اور حور کا پرانا شوق درختوں پر چڑھنے والا آج پھر جاگ گیا تھا ازلان کے بار ہا منع کرنے کے باوجود وہ نہیں مانی تھی اور درخت پر چرھ کر سیب توڑ رہی تھی

ایک دو دن یہاں رہنے کے بعد آج ان کی واپسی تھی حور کا دل بھی نہیں تھا یہاں سے جانے کا پر عشال کی یاد بھی آ رہی تھی

حور اگر میں کہوں کے ہم لوگ گھر نہیں جا رہے تو (ازلان نے پیکنگ کرتی حور سے کہا ۔

کیا مطلب نہیں جا رہے پھر (وہ پیکنگ چھوڑتی فکرمند سی بولی ۔

آپ مذاق کر رہے ہیں نا

بلکل نہیں تم دیکھ سکتی ہو اس ڈرار میں (ازلان بیڈ پر کہنی کے بل لیٹا ہوا سامنے کی طرف اشارہ کرتا ہوا بولا ۔

حور نے وہ ڈرار کھولا اور اس میں چیک کرنے لگی کچھ دیر بعد چہرے پر ملی جلی کیفیت لئے وہ ازلان کے سامنے کھڑی تھی ۔

ازلان آپ یہ کیا سچ میں (وہ بے ربط جملے بول رہی تھی

یہ واقعی سچ ہے حور (وہ بیڈ سے اٹھ کر اسکے ہاتھ تھامتے ہوے بولا

حور کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے ازلان نے اسے سینے سے لگا لیا ۔

آپ بہت بہت اچھے ہیں (حور روتے ہوے بولی

مجھے پتا ہے کے میں اچھا ہوں اب تم چپ کرو شاباش ورنہ پھر مجھے اپنے طریقے سے چپ کروانا آتا ہے (ازلان اسکا چہرہ اونچا کر کے شرارت سے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوے بولا

حور جھینپ گئی پھر اس سے الگ ہونے لگی لیکن اسکی گرفت مضبوط تھی ۔

اس نے اپنی جھکی پلکیں اٹھا کر ازلان کی طرف دیکھا جو اپنا نچلا ہونٹ دانتوں تلے دباہے اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔

چھوڑیں نا (حور نے اسکے ہاتھ میں مقید اپنی کلائی کو دیکھ کر کہا ۔

چھڑوا لو (ازلان گرفت اور مضبوط کرتا ہوا بولا البتہ چہرے پر ابھی بھی شرارت تھی

پلیز نا کریں نا (حور روہانسی لہجے میں بولی

ازلان نے اسکی کلای آزاد کر دی

ایک تو تم پتا نہیں اتنے آنسو کہا سے لاتی ہو

(وہ واپس بیڈ پر بیٹھتے ہوے بولا

آپ بھی تو شادی سے پہلے تو ایسے نہیں تھے آپ نے کہاں سے سیکھیں ایسی حرکتیں (حور جھنجھلا کر بولی ۔

کسی حرکتیں (اسنے دوبارہ سے بات پکڑ لی

حور گڑبڑ ا کر رہ گئی

یہی جو کرتیں ہیں (وہ بیگ کی زپ بند کرتے ہوے بولی ۔

ہاں تو پہلے میں تمہارا دوست تھا کزن تھا اور اب دوست کے ساتھ تمہارا شوہربھی ہوں اور دوست اور شوہر میں فرق ہوتا ہے

حور نے کوئی جواب نا دیا بس اسے گھورتی چیزیں سمیٹنے لگی ۔

اگلے کچھ گھنٹوں بعد وہ لوگ دبئی کی سر زمین پر کھڑے تھے

یہ کس کا فلیٹ ہے (حور ازلان کے ساتھ فلیٹ میں داخل ہوتی ہوئی بولی ۔

یہ ہمارا فلیٹ ہے (ازلان پرسکون انداز میں صوفے پے بیٹھتے ہوے بولا

ہمارا مطلب آپکا (حور خیرانگی سے نظریں ادھر ادھر گھماتی ہوئی بولی

یس مائے کوئین یہ فلیٹ ہمارا ہے میرا نہیں (ازلان کی بات سن کر وہ ادھر ادھر چیک کرنے لگی چیزیں

اگلے دن ابھی ازلان سو رہا تھا جب حور کی آنکھ کھلی دل میں نیے احساس تھے ایسا لگتا تھا جیسے اب وہ ازلان کے بغیر ایک پل نا رہ پاے اسکا اتنا کیئرنگ انداز اسکی شرارتیں اتنی خوشیاں دی تھیں حور کی زندگی میں رنگ بھر دیے تھے حور کو تو جیسے عشق ہو گیا تھا ازلان سے ۔ ۔

حور کی نظر ازلان کی پیشانی پر پڑے بالوں پر پڑی دل میں اک خواہش جاگی تھی اسنے ہاتھ بڑھا کر نرمی سے اسکے منتشر بالوں کو سمیٹا اور پھر دل کی خواہش پر اپنے لب اسکی پیشانی پر رکھ دیے ازلان تھوڑا سا کمسایا تو حور جلدی سے پیچھے ہو گئی اور واشروم میں گھس گئی

آج وہ لوگ برج خلیفہ دنیا کی سب سے بڑی امارت دیکھنے گئے اس عمارت میں اایک سو تریسٹھ فلور ہیں

کیا خیال ہے حور یہاں نا قیام کریں کچھ دن

کبھی بھی نہیں رہوں گی یہاں تو اتنی اونچای ہے میرا تو ویسے ہی دماغ گھوم رہا ہے (حور نے جلدی سے جواب دیا کے مبادہ وہ سچ میں ہی نا کر ڈالے

پورا دن ان لوگوں نے گھومنے میں صرف کیا رات کے وقت دبئی فاؤنٹین دیکھ رہے تھے پانیمیوزک کے حصّاب سے اونچا نیچا ہو رہا تھا اور بہت پیارا منظر پیش کر رہا تھا

ازلان اپنا موبائل دیں

کیوں

دیں نا میرے موبائل کی سپیس فل ہے تو پکس نہیں بن رہی (حور کے کہنے پر ازلان اپنا موبائل نکال کر اسے دیا

اگلے دن وہ لوگ دبئی مال میں تھے اور دھڑا دھڑ شاپنگ ہو رہی تھی کچھ اپنے لئے اور کچھ باقی سب کے لئے عشال کے لئے ڈھیر ساری چیزیں ۔ ۔

مختلف رائیڈز لیں جن میں حور ڈر کر بیٹھی رہی اور ایک میں تو باقاعدہ چیہیں مارتی وہ ازلان کے ساتھ چپکی ہوئی تھی لوگ دیکھ رہے تھے اور ازلان کی گھوڑیوں کا بھی کوئی اثر نہیں تھا ۔

حور ادھر دیکھو میری طرف (ازلان نے اسکا چہرہ اپنی طرف کرتے ہوے کہا

بس اب صرف میری آنکھوں میں دیکھو کچھ بھی نہیں ہوگا کچھ بھی (اب کی بار اسے تھوڑا حوصلہ ہوا

حور کے گلے میں ازلان کا دیا گیا پینڈینٹ تھا جس میں اے ایچ لکھا ہوا تھا

پورے دس دن دبئی میں گزار کر وہ لوگ سعودی عرب آ چکے تھے اور مہر اخراز اور عشال بھی عمرے کی نیت سے اے تھے

یہاں آنے سے ایک دن پہلے مہر کو خوشخبری سنائی گئی تھی

اور وہ تو اپنے رب کی شکر گزار تھی کعبہ کا غلاف پکڑ کر اپنے رب سے محو گفتگو تھی کے وہ کتنا رحیم ہے اپنے بندے پر کیا کیا نوازشیں کرتا ہے اور ایک بندہ ہے جو اپنے خالق کو بھول کر دنیاوی چیزوں میں سکوں تلاش کرتا ہے

افق پر سورج طلوح نہیں ہوا تھا حور اور ازلان خانہ کعبہ میں نماز ادا کرنے کے بعد اب قران مجید کی تلاوت کر رہے تھے اور یہ کوئی حور سے پوچھتا کے سکون کیا ہے اپنے محرم اپنی اولاد کے ساتھ اللہ‎ کا گھر دیکھنا یہ خوش نصیبی نہیں تو کیا ہے اسکا دل اپنے رب ke حضور سر بسجود تھا جس نے اس پر اتنی نوازشیں کی اتنی خوشیاں دی کے اس سے سمبھالنامشکل ہو گیا ۔

کہتے ہیں ہر مشکل کے بعد آسانی ہے اور یہی حور کی زندگی میں ہوا تھا زندگی کے کچھ سالوں میں اس نے بہت تکلیفیں دیکھیں لیکن اب اسکی زندگی مین خوشیاں تھیں کیوں کے اسکا ہمسفر غلط رستوں سے لوٹ آیا تھا اسے سہی غلط کی پہچان ہو چکی تھی اور اب غم کے بادل جھٹ چکے تھے اب صرف خوشیاں تھیں اپنوں کے سنگ ..