Tere Lot Ane Tak by Sanya Chaudhary NovelR50431 Tere Lot Ane Tak Episode 17
Rate this Novel
Tere Lot Ane Tak Episode 17
Tere Lot Ane Tak by Sanya Chaudhary
دل ایک نیے احساس سے دھڑک رہا تھااک انوکھی لے پے دھڑک رہا تھادل چاہتا تھا
ساری پرانی رنجشیں سارے غم سب کچھ بھول کر
ازلان کی باتوں کا یقین کر لے ایک نئی زندگی اسکے سنگ گزارے
لیکن پھر اپنے ساتھ ہوئی وہ زیادتیاں وہ ظلم سب یاد آتا تھا
جب بے قصور ہوتے ہوے بھی وہ سزا کاٹ رہی تھی اسکے اعتبار ٹوٹا تھا
اور اگر ایک دفع اعتبار ٹوٹ جائے تو پھر بڑی مشکل سے دل اس انسان کی طرف مائل ہوتا ہے اور کبھی تو عرصہ گزر جاتا ہے
اعتبار دوبارہ قائم ہونے پر اب بس یہ تو وقت ہی بتا سکتا تھا
کے ان دونوں کے بیچ کب سب سہی ہو گا کب اسکا اعتبار دوبارہ قائم ہو گا
۔ ![]()
![]()
![]()
عشال کیوں تنگ کر رہی ہو سو جاؤ نا (حور جھنجھلائی ہوئی
آواز میں بولی جو مسلسل کھیلنے میں مگن اور سونے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔
نی ماما نی نینی ترنی (کرنی ) وہ حور کی گود سے نکلتے ہوے بولی ۔
عشال مجھے غصہ مت دلاؤ سو جاؤ ورنہ میں نے پٹائی لگانی ہے
آپ کی اب (حور قدرے میں بولی پکڑ پکڑ کر اسکے بازو درد کرنے لگ گئے تھے
لیکن عشال سونے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔
نی ماما بابا پاش دانا ہے (بابا پاس جانا ہے
)(وہ حور کا دوپٹہ پکڑ کے کھینچتی ہوئی بولی۔
عشال ابھی نی نی کر لو نا جب اٹھو گی تب بابا آ جایں گے (حور اسے پیار سے پچکارتے ہوے بولی ۔
نو ماما ادھی دانا(ابھی دانا )وہ ضد کرتی ہوئی بولی
عشال (حور کی آواز قدرے اونچی ہوئی
کیا ہوا ہے بھئ کیوں ڈانٹ رہی ہو میری ڈول
کو (ازلان روم میں داخل ہوتے ہوے بولا
جب کے ازلان کو دیکھ کر تو عشال کی باچھیں کھل گیں ۔
ڈانٹوں نا تو اور کیا کروں صبح سے تنگ کیا ہوا ہے آج اس نے ابھی بھی نہیں سو رہی
(غصے میں بولتے بولتے حور کا لہجہ روہانسی ہو گیا ۔
بابا ماما دندی (عشال ازلان سے چمٹتے ہوے بولی
جس پر ازلان کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی ۔
گندی بات ایسے نہیں کہتے ڈول (ازلان اسے پیار سے سمجھاتے ہوے بولا ۔
اب بابا عشال کو باہر لے کر جایں گے لیکن پھر ماما کو تنگ نہیں کرنا اوکے (ازلان کے کہنے پر اس نے زورشور سے سر ہلایا ۔
تم ریسٹ کر لو تھک گئی ہو گی (ازلان حور سے کہتا ہوا اسے لے کر باہر نکل گیا
جب کے حور نے سوچا کے وہ بھی تو تھکا ہوا ہو گا لیکن پھر سوچوں کو جھتکتی ہوئی
کچھ دیر آرام کی غرض سے لیٹ گئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے نیند کی وادیوں میں اتر گئی
جب دوبارہ آنکھ کھلی تو روم میں اندھیرا چھایا ہوا تھا۔
چہرہ موڑ کے دیکھا تو لیمپ کی روشنی میں ازلان کا چہرہ نظر آیا جو کے موبائل پر کچھ کر رہا تھا ۔
حور آنکھیں ملتے ہوے اٹھ بیٹھی ازلان نے ایک نظر اسے دیکھا اور دوبارہ سے موبائل پے نظریں جمادیں ۔
حور نے ٹائم دیکھنے کی کوشش کی تو ادراک ہوا کے رات کے دس بج چکے ہیں عشال درمیان میں محوخواب تھی ۔
آپ نے کھانا کھا لیا (حور اسکی طرف دیکھتے ہوے پوچھنے لگی ۔
امم بھوک نہیں ہے مجھے (ازلان کے جواب پر خاموشی سے باہر کی طرف بڑھ گئی
کچھ دیر بعد لوٹی تو ہاتھ میں ٹرے تھی جس میں دو کپ تھے ۔
روم میں ازلان نہیں تھا وہ خاموشی سے ٹیرس کی طرف بڑھ گئی وہاں وہ ریلنگ پے دونوں کہنیاں ٹیکاے کھڑا تھا
حور کے دیکھ کر سیدھا ہو کر کپ پکڑا ۔
حور اپنا کپ لے کر اندر جانے لگی جب اس نے ہاتھ پکڑ کر روکا
اب دونوں خاموشی سے کوفی پی رہے تھے ایک کی نظریں آسمان کی طرف تھیں
تو دوسرے کی اسکے چہرے پر رات کی خاموشی میں ان کے دل بول رہے تھے فضا میں خنکی تھی ۔
ستاروں کے بغیر آسمان کتنا خالی خالی خالی لگتا ہے نا ۔ ۔ ۔ یا شائد جن کے دل ہی خالی ہو گئے ہوں انھیں ایسا لگتا ہے ( حور آسمان پے نظریں جماے ہوے بولی
ہمم لیکن جس طرح آسمان پر ستارے آ جاتے ہیں اسی طرح ویران دل کو بھی آباد کیا جا سکتا ہے خوشیاں لائی جا سکتی ہیں
(ازلان اس کے چہرے پر نظریں جماے ہوے بولا ۔
شائد لیکن جب انسان کے روح پر گھاؤ لگتے ہیں نا پھر اسکی زندگی میں خوشیاں بڑی مشکل سے آتی ہیں
پھر انسان کا دل بھی مردہ ہو جاتا ہے (وہ کھوئی کھوئی آواز میں بولی
تم ایک دفع مجھ پر اعتبار کرو تمہاری پوری زندگی خوشیوں سے بھر دوں گا صرف ایک بار ۔۔۔
آپ کو پتا ہے اعتبار ایک بار ہی ہوتا ہے اور جب مجھے آپ پر اعتبار تھا
آپ پر مان تھا تب میرا یہ اعتبار میرا یہ مان آپ نے ہی توڑا تھا
صرف ایک غلط فہمی کی بنا پر میری زندگی خراب کی کبھی ایک دفع بھی پوچھا کے پوری بات کیا ہے کبھی میرا یقین کیا
صرف اپنی غلط فہمی کی بنا پر مجھے قصور وار ٹھہرایا اور اب جب آپ کو حقیقت معلوم ہو گئی ہے تب ۔ ۔ ۔ ۔
اگر کبھی حقیقت پتا نا چلتی تو میں نے تو پوی زندگی اسی چکی میں پس جانا تھا
کیسے کروں آپکا اعتبار آپ خود بتایں اور اب اگر کل کو پھر ایسا کچھ ہوا تو آپ پھر سے یہی سب کریں گے
اور ایک دفع پھر میرا اعتبار ٹوٹے گا اور اگر اب میرا اعتبار ٹوٹ گیا نا تو میں زندہ نہیں بچوں گی (بولتے بولتے وہ ہانپ گئی تھی
آنکھوں سے اشک رواں تھے ازلان نے آگے بڑھ کر اسے تھاما تھا اور وہ تو دم بخود رہ گیا تھا آج حور کی باتیں سن کر اور واقع وہ سہی بول رہی تھی ۔
حور تم خود سوچو جو میری آنکھوں نے دیکھا میں تو اسی پر بھروسہ کرنا تھااور مجھے تم سے تب شکایت تھی
کے تمنے اخراز کو روکا بھی نہیں لیکن جب تم مجھ سے اخراز کے بارے میں بات کرنے آئ تھی
تب پتا نہیں کیسے میرے اندر انتقام کا لاوا بنا تھا مجھے دھجکا لگا تھا
کے تم سب جانتے ہوے بھی اسی کی حمایت کر رہی ہو اور پھر میں اسی سب میں اندھا ہوتا گیا (ازلان اسے سمبھالے کھڑا اس پے سچائی آشکار کر رہا تھا ۔
حور نے کوئی بات نا کی ایک دفع پھر دونوں کے درمیان جامد خاموشی تھی
جسے کچھ دیر بعد ازلان کی آواز نے توڑا ۔
کل ہم لوگ گاؤں جایں گے تم چاہو تو واپس آ کر اپنی پڑھائی دوبارہ سٹارٹ کر سکتی ہو
مجھے کوئی مسلہ نہیں عشال کے لئے میں کیئر ٹیکر رکھ لوں گا تم اپنے ادھورے خواب
اپنی خواہشیں پوری کر سکتی ہو میں پورا پورا ساتھ دوں گا۔
میں اپنی بچی کو دوسروں کے حوالے نہیں کر سکتی اور خواہشات تو زندگی کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہیں
خیر یہ موضوع اب پھر کبھی کے لئے رکھتے ہیں اندر چلو سردی بڑھ رہی ہے اور اگر کوئی
چیز لینی ہے توکل میرے ساتھ چل کے لے لینا (وہ ایک بازو اسکے کندھے پے پھیلاے اسے لئے اندر آ گیا ۔
آپکا لیپ ٹاپ لے لوں ؟(حور کمرے میں آ کر بولی
ضرور لیکن اس وقت ؟
وہ نیند تو آنی نہیں تو میں نے سوچا کوئی مووی دیکھ لوں
چلو پھر مل کر دیکھتے ہیں آ جاؤ (وہ کہتا ہوا لیپٹاپ اٹھاکر بیٹھ گیا اور حور بس اسے دیکھ کر رہ گئی
_____________
آج ان دونوں نے گاؤں روانہ ہونا تھا حور کی تو خوشی دیکھنے کے لائق تھی
آج کتنے عرصے بعد وہ گاؤں جا رہی تھی سب اپنوں کے بیچ اسکی خوشی دیدنی تھی
اور یہ بات ازلان بھی محسوس کر رہا تھا عشال کو تیار کر کے خود بھی تیار ہو کر وہ اب ازلان کا انتظار کر رہی تھی جو کسی کام سے گیا تھا
تنگ آ کر اس نے تیسری دفع پھر اسے کال ملائی لیکن بیل جانے کے باوجود کال نہیں اٹھائی جا رہی تھی
اسے اب غصہ آنے لگا
کچھ ہی دیر بعد ازلان لاؤنج میں داخل ہوا اسے دیکھتے ہی حور کو غصہ آنے لگا ۔
کہاں تھے آپ اتنی دیر سے انتظار کر رہی ہوں کال بھی پک نہیں کر رہے تھے (حور نان اسٹاپ شروع ہو چکی تھی ۔
اور ازلان کو اسے روایتی بیویوں کو طرح دیکھ کر بے ساختہ مسکراہٹ اسکے چہرے پر دوڑ گئی ۔
پانچ منٹ ویٹ کرو میں فریش ہو کر آیا اسے کہتے ہوے وہ روم کی طرف بڑھ گیا ۔
کچھ دیر بعد وہ لوگ روانہ ہوے گاڑی میں بلکل خاموشی تھی جسے عشال کے سوال توڑتے تھے ۔
کبھی کبھی کوئی ازلان حور سے کر لیتا تھا۔ جسکا وہ ہوں ہاں میں۔ جواب دیتی تھی ۔
جس وقت وہ لوگ گاؤں کی حدود میں داخل ہوے تھےپرندے اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے
شام اپنے پر پھیلا رہی تھی کیا کیا نا یاد آیا تھا اسے گاڑی جب پورچ میں رکی تو حور باہرنکلی اور دیکھ کر خیران رہ گئی
کے سامنے گھر کے سب افراد کھڑے تھے
بڑے بابا بابا ماما تائ امی مہر اخراز سب کی آنکھیں نم تھیں لیکن چہروں پر خوشی تھی وہ سب سے باری باری ملی تھی
اور عشال تو کبھی کسی کی گود میں اور کبھی کسی کی ۔
ازلان جب مراد راؤ سے ملنے لگا تو انہوں نے ایک پر شکوہ نگاہ ڈال کر اسے گلے لگایا
سوری بابا (وہ شرمندہ شرمندہ سا بولا
چلو دیر اے درست اے (اسے ساتھ لگاے وہ اندر کی طرف بڑھے
سب باتیں کر رہے تھے جب ازلان اٹھ کر حور کی ماما کے پاس آ کر گھٹنو کے بل بیٹھا
وہ چونک کر اسے دیکھنے لگیں ۔
میں بہت شرمندہ ہوں چچی اپنے کیے پر میں نے بہت دکھ دیے آپ سب کو بہت اذیت دی سب کو سب کو میرے اوپر مان تھا
اور میں نے وہ مان ہی توڑ دیا آپ سب کو غلط سمجھتا رہا لیکن غلط میں خود تھا (وہ نا دم نادم سا گویا ہوا
تکلیف تو بہت ہوئی تھی بیٹا جان سے عزیز بیٹی کو جب دکھ میں دیکھتی تھی
لیکن مجھے امید ہے کے اب اسکی زندگی کے برے دیں ختم ہو گئے ہیں
اب اللہ نے چاہا تو خوشیاں ہی ہوں گی اسکی زندگی میں اور مجھے امید ہے اب کی بار میرا یہ بھروسہ میرا مان نہیں ٹوٹے گا
(انہوں نے کہتے ہوے اسکے سر پر بوسہ دیا ۔
پھر خوشگوار ماخول میں کھانا کھایا گیا ۔
حور اور مہر عشال کو سلانے کے لئے اٹھ گیں
باتوں ہی باتوں میں وقت گزرنے کا پتا ہی نا چلا جب وہ کمرے میں آیا تو حور اور عشال ندارد تھیں
یک دم اسے پریشانی نے آن گھیرا کچھ سوچ کر حور کا نمبر ملایا لیکن بیل جانے کے با وجود کال اٹھائی نہیں جا رہی تھی ۔
حور مہر کے ساتھ اپنے گھر آ گئی تھی کافی دیر مہر اور وہ باتیں کرتی رہیں
پھر مہر شب خیر بول کر اپنے کمرے میں چلی گئی اور حور بھی سونے کی غرض سے لیٹ گئی ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی
جب موبائل کی بیل بجی وہ آنکھیں بند کیے لیٹی رہی چہرے پر مسکراہٹ تھی موبائل بج بج کر بند ہو چکا تھا ۔
کچھ دیر بعد پھر سے کال آنے لگی حور نے نمبر دیکھا تو مسکراہٹ گہری ہو گئی
کال اٹھا لی لیکن بولی کچھ نہیں
کہاں ہو حور (فون سے اسکی فکرمند سی آواز آئ
میں کمرے میں ہوں (حور نے جواب دیا چہرے پر شرارتی مسکراہٹ آ گئی تھی ۔
کمرے میں تو نہیں ہو حور سچ بتاؤ کہاں ہو اور عشال (وہ ہنوز الجھا ہوا تھا
ہاں تو میں نے کونسا بولا تھا کے میں آپ کے کمرے میں ہوں میں تو اپنے کمرے میں ہوںاور عشال سوئی ہوئی ہے (اسنے ازلان کے سر پے دھماکا کیا ۔
کیا مطلب وہاں کیوں (وہ سمجھنے سے قاصر تھا ۔
میرا دل کر رہا تھا اسلئے اور اب میں کچھ دن یہیں رہوں گی ۔
وہاں کیوں رہو گی صبح چپ چاپ واپساؤ اور ویسے بھی دن کو تم چاہے ادھر رہنا یا ادھر ۔ ۔ ۔ ۔
جی نہیں میں نے بول دیا ہے تو اب میں کچھ دن یہیں رہوں گی اور اب مجھے نیند آئ ہے
میں فون بند کرنے لگی ہوں شب خیر (شرارت سے کہتی وہ فون بند کر چکی تھی جب کے دوسری طرف ازلان دانت پیس کر رہ گیا جب آنکھیں بند کیے لیٹا تھا تو حور کے بدلے بدلے انداز سوچ کر لبوں پر مسکراہٹ آ گئی
۔ ۔ ۔![]()
![]()
![]()
اخراز کمرے میں آیا تو مہر کھڑکی کے پاس کھڑی کسی سوچ میں گم تھی آہٹ پر بھی متوجہ نا ہوئی
اخراز نے آگے بڑھ کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ چونک کر پیچھے مڑی اخراز نے اسے دیکھا تو بے اختیار پوچھا
مہر طبیعت ٹھیک ہے ؟
ہوں ٹھیک ہوں میں (اس نے اداس لہجے میں جواب دیا
پھر کیا سوچ رہی ہو کوئی پریشانی ہے کیا ؟
عشال کتنی پیاری ہے چھوٹی سی اسکی باتیں اتنی پیاری حرکتیں ہیں ہمارے نصیب میں یہ خوشیاں کیوں نہیں ہیں
اب تو جو چچی یا ماما پاس انکی دوست یا رشتےدار آتی ہیں پوچھتی ہیں پھر
طرح طرح کی باتیں (وہ بولتے بولتے پھپھک کر رو دی
جب کے اخراز لب بھینچے اسے سن رہا تھا
وہ کافی دنوں سے اسکی اداسی نوٹ کر رہا تھا اور اب چاہتا تھا کے اسکے دل کا غبار نکل جائے ۔
شش چپ مہر لوگ تو کسی حال میں خوش نہیں ہوتے اور یہ ہماری زندگی ہے جب ہمیں کوئی مسلہ نہیں تو پھر لوگ چاہے جو مرضی کہیں
اور یہ تو اللہ کی دین ہے وہ جب چاہے دے دے ہوں (اخراز اسکے آنسو صاف کرتے ہوے بولا ۔
لیکن مجھے ڈر لگتا ہے ہر وقت دل کو ایک دھڑکا لگا رہتا ہے کے کہیں آپ لوگوں کی باتوں میں آ کر مجھے چھوڑ نا دیں میں کیسے جیوں گی
مہر ادھر دیکھو (وہ اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لیے بول رہا تھا ۔
تمہیں مجھ پر اعتبار نہیں ہے کیا میں اپنی آخری سانس تک تمہارا ساتھ نبھاؤں گا یہ میرا دل اسکے دھڑکنے کی وجہ تم ہو اورتم سے جدا ہو کر میں جی سکوں گا
ایسی فضول باتیں آیندہ اپنی اس چھوٹے سے دماغ میں نہیں لانی ورنہ میں ناراض ہو جاؤں گا ہوں ( مصنوئی خفگی سے کہتے ہوے اسنے مہر سے تائید چاہی
مہر نے اثبات میں سر ہلایا اخراز نے محبت سے اسکی پیشانی پر اپنے لب رکھے اور اسے اپنے حصار میں لیا..
