Tere Lot Ane Tak by Sanya Chaudhary NovelR50431 Tere Lot Ane Tak Episode 15
Rate this Novel
Tere Lot Ane Tak Episode 15
Tere Lot Ane Tak by Sanya Chaudhary
جھپٹنے کے انداز میں ایشو کو اس سے لیا اور دروازہ بند کرتا ڈاکٹر کی طرف آگیا ۔
جب کہ حور ہکابکا دیکھتی رہ گئی ۔
کچھ دیر بعد ازلان باہر نکلا تو حور کو پریشانی سے ٹہلتے ہوئے پایا ازلان کو دیکھتے ہی وہ فورا اس کی طرف لپکی ۔
لگوا دیا نہ انجیکشن دیکھیں کتنا رو رہی ہے (حور نے ایشو کو لینا چاہا لیکن ازلان ایک نظر اس پر ڈال کر آگے بڑھ گیا ۔
حور کو گاڑی میں بٹھا کر ایشو کوا سے دیا اور خود میڈیسن لینے چلا گیا ۔
گھر آتے ہی عشال کو حور سے لیا اور اندر کی طرف بڑھ گیا ۔
حور بھی ہمت جمع کرتی اندر کی طرف بڑھی ۔
کمرے میں ازلان نہیں تھا کمرے سی ملحقہ اسٹڈی کا دروازہ ۔ کھولا تو وہ وہاں تھا
ازلان ایشو کو سلا رہا تھا
آپ فریش ہوجائیں میں ایشوں کے پاس ہی ہوں (حور نے ہمت کرتے ہوئے کہا۔
لیکن اس کی آنکھوں سے نکلتے ہوئے شعلے دیکھ کر خاموش ہو گئی ۔
اازلا ن ایشو کو سلا کر حور کی طرف متوجہ ہوا
اس نے خود کا بازو پکڑا اور اسے لیے روم میں آگیا ۔
جب کے ہو تو اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر ڈر رہی تھی۔
آئندہ تم ایشو کے پاس نہیں جاؤں گی نہ ہی اس کا کوئی کام کروں گی (ازلان حور پر گرج رہا تھا ۔
پر وہ میری بیٹی ہے (حور آہستہ سے منمنائی تھی ۔
آج تمہاری لاپرواہی کی وجہ سے اس کی یہ حالت ہوئی ہے اور اگر اسے کچھ ہوجاتا
تو آئ سویئر میں نے تمہاری جان لینے میں بھی دیر نہیں کرنی تھی (وہ دار سے کہتا ہوا دو قدم آگے بڑھا تھا
جبکہ حور بیساختہ دو قدم پیچھے ہوئی تھی ۔
جاؤ یہاں سے اس سے پہلے کہ میں اپنے اوپر اختیار کھو دوں (وہ ٹہلتے ہوئے اپنے غصے پر قابو کرتے ہوئے بولا ۔
پر میں (حور ہلکا سا منمنائی
حور آئ سیڈ اوٹ (hoor i said out)وہ دھارا تھا ۔
اور دو قدم پیچھے ضرور ہٹی لیکن وہاں سے گی نہیں
حور میں کہہ رہا ہو جاؤ یہاں سے (وہ ضبط کرتے ہوئے بولا ۔
میں نہیں جاؤں گی یہاں سے (وہ بھی آج مضبوط بنی ہوئی تھی ۔
حور (یک دم کہتے ہوے اس کا ہاتھ اٹھا تھا
حور نے یکدم آنکھیں خوف سی میچ لیں دو موتی بے اختیار آنکھوں سی پھسل گئے تھے چہرہ یک دم۔ زرد ہوا ۔
ازلان کا اٹھا ہوا ہاتھ ہوا میں ہی رہ گیا اور واپس اسکے پہلو میں آ گرا ۔
جاؤ ایشو کے پاس لیکن آیندہ میں۔ برداشت نہیں کروں گا (اس کے کہنے پر حور نے آنکھیں کھولیں اور جلدی سے اسٹڈی کی طرف بڑھ گئی ۔
حور کے جانے کے بعد وہ بے دم سا بیٹھ گیا بالوں میں ہاتھ پھرتے پھیرتے ہوے خود پے کنٹرول کر رہا تھا
جتنی کوشش کرتا تھا کے غصہ نا کرے اتنا ہی غصہ آتا تھا کچھ دیر بعد اٹھا اور نائٹ ڈریس نکال کر واشروم کی طرف بڑھ گیا ۔
اور حور وہ عشال کے پاس بیٹھی مسلسل رو رہی تھی اب تو ایشال بھی ایک سال کی تھی اور حور نے جتنا صبر ان دو سالوں میں کیا تھابہت کم لوگ کر سکتے ہیں
ہر بات اس کی مانی تھی ہر وہ چیز ہر وہ کام چھوڑ دیا تھا جو کے ازلان کو پسند نہیں تھا یا جس سے اس نے منع کیا
تھا گھر والوں سے بات وہ نہیں کرنے دیتا تھے مجرم نا ہوتے ہوے بھی وہ مجرم بن گئی تھی ایک ایسی سزا کاٹ رہی تھی جو غلطی اسنے کی ہی نہیں تھی ۔
ان سب باتوں کے باوجود ازلان کی زندگی میں اسکی کوئی اہمیت نہیں تھی اگر اب اللہ نے ایک سہارا بیٹی کا دیا تھا
تو وہ اسے بھی چھین رہا تھا سوچتے ہوے بے اختیار اسنے ایشال کو ساتھ لگا کے خود میں بھینچ لیا
۔ ۔![]()
![]()
![]()
ایشو اپنے ٹویز (toys)کے ساتھ کھیلو آپ بابا کام کر رہے
ہیں نا (ازلان لیپ ٹاپ پے کچھ کام کر رہا تھا جب کے وہ بار بار لیپ ٹاپ پے ہاتھ مار کر کبھی کچھ کر دیتی کبھی کچھ ۔
ادان نو بار دھولے (ازلان نہیں باہر جھولے ) اپنی توتلی زبان میں وہ بول رہی تھی ۔
ازلان کا بے ساختہ قہقہ لگا
کپڑے سیٹ کرتی حور نے بے اختیار مڑ کر اسے دیکھا تھا ۔
ادان کی ڈول بابا کہتے ہیں (ازلان نے لیپ ٹاپ پیچھے کرتے ہوے اسے گود میں بیٹھا کر کہا ۔
نونو ادان (اپنا سر نفی میں ہلاتی ہوئی بڑی بڑی آنکھیں جھپکاتی ہوئی بولی ۔
چلو کہاں جانا ہے(ازلان اسے اٹھاتے ہوے بولا
دھولے لینے(جلدی جلدی وہ بولی ۔
چلو پھر (ازلان کی چین اٹھاتا ہوا بولا ۔
ادان اول (وہ حور کی طرف اشارہ کرتی ہوئی بولی ۔
اول کیا؟(وہ نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگا ۔
جب کے حور مسکرا رہی تھی اسے دیکھ کر ۔
اول آ داؤ (وہ حور کو دیکھتے ہوے بولی جب ازلان نے پیچھے دیکھا اور بات سمجھ آئ تو بے ساختہ اسکا قہقہ گونجا ۔
اول نہیں بولتے گندی بچی ماما بولتے ہیں (وہ اسکی چھوٹی سی ناک دباتا ہوا بولا ۔
آپ جاؤ ایش میں پھر جاؤں گی (وہ اس کے قریب آتی ہوئی بولی ۔
ایشو بائے بائے کرتی چلی گئی جب کے حور اسکی باتوں کو سوچ کر مسکرا کر رہ گئی
______________
میں بہت شرمندہ ہوں ۔مجھے بہت افسوس ہے ۔اس بات کا کہ مجھے اس وقت اپنےحواسوں سے کام لینا چاہیے تھا
۔مجھے ہماد کی بات سن لینی چاہیے تھی ۔لیکن افسوس گیا وقت واپس نہیں آ سکتا ۔
وہ اداسی سے گویا ہوا ۔
بیتی ہوئی باتوں کو وقت کے ساتھ چھوڑ دینا چاہیے جس وقت حماد کی موت ہوئی میں پاکستان میں نہیں تھا
اور مجھے جب پتا چلا تو کچھ دن تو یقین ہی نہیں آیا لیکن حیر یہ تو قسمت لے کھیل ہیں کوئی کیا کر سکتا ہے (سامنے بیٹھا شخص نرمی سے گویا ہوا ۔
بس کچھ اختلافات ایسے پیدا ہوگئے تھے چھوٹی چھوٹی رنجشوں سے پتا ہی نہ چلا کب دلوں میں اتنا میل آ گیا بس پھر اس سے آگے اس نے ساری رواداد علی کو سنا دی ۔
علی جو کہ حماد کا جگری یار تھا اور اب کافی سالوں بعد پاکستان آیا تھا اور آج اخراز اس سے ملنے آیا تھا ۔
اب کمرے میں خاموشی تھی جسے علی کی آواز نے توڑا ۔
اب جو قسمت میں تھا وہ تو ہو گیا حماد کے ساتھ میں شروع سے تھا اور مجھے آج بھی کبھی کبھی لگتا ہے
کے جیسے وہ ہم سب کے بیچ میں ہے اسے کچھ نہیں ہوا لیکن حقیقت کو کون جھٹلا سکتا ہے
مجھے تم سے کوئی گلہ نہیں ہے اخراز اور میں چاہتا ہوں کے جیسے پہلے تھے ہمارے تعلقات ویسے ہی رہیں (وہ ایک نرم سی مسکراہٹ کے ساتھ بول۔ رہا تھا ۔
لیکن ان سب میں ایک وجود دروازے کے پار کھڑا گویا بت بن گیا تھا اسکے سر پر تو جیسے آسمان ٹوٹ پڑا تھا
کیا کرتا آیا تھا وہ اتنے سالوں سے کس اذیت کی بھٹی میں جل رہا تھا خود بھی اور اپنے ساتھ جڑے رشتوں کو بھی جلا رہا تھا
اور سب سے زیادہ جس رشتے کو تکلیف دی تھی اسنے اسکا کیا آج اپنی کہی ہر بات ہر چیز یاد آ رہی تھی اپنی کی ہوئی ہر نا انصافی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ازلان (ابھی وہ اپنے ہی حیالوں میں تھا جب علی کی آواز اسے ہوش میں لے آئ ۔
علی کے ساتھ اخراز نے بھی مر کر دیکھا تھا اسے جسکا کی آنکھیں ضبط سے سرخ ہورہی تھیں ۔
اخراز اپنی سیٹ سے اٹھ کھڑا ہوا تھاابھی ازلان کی طرف بڑھنے لگا تھا جب ازلان بھی آگے بڑھا اور آ کر اس سے لپٹ گیا ۔
جب کے اخراز پر تو خیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے ۔
مجھے معاف کردینا اخراز میں اپنے غصے اور انتقام میں اتنا اندھا ہو چکا تھا کے صحیح کیا ہے
اور غلط کیا ہے یہ تک بھول گیا تھا اتنے سالوں سے مسلسل خود بھی اذیت میں مبتلا تھا اور اپنے عزیزوں کو بھی اذیت میں رکھا
میری عقل پے تو پٹی بندھ چکی تھی جیسے بس جو آنکھوں سے دیکھا تھا وہی سچ لگا
یہاں تک کے کسی سے پوری بات سننی تک گوارا نا کی تھی لیکن اب پتا چل چکا ہے کے سچ کیا ہے
اور جھوٹ کیا ہے میں نے بہت غلط کیا ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا (ازلان پوری بات کہ کر اخراز کی طرف دیکھا جو اسی کو دیکھ رہا تھا ۔
معافی تو مجھے بھی مانگنی چاہیے تم سے غلط تو میں نے بھی بہت کیا سچ ہی کہا ہے غصہ حرام ہوتا ہے تمنے بھی غصے میں سب کیا اور میں نے بھی ۔ ۔ ۔ ۔
اؤ بھئی یہ اب معافی تلافی ختم بھی کر دو تم دونوں یا مجھے رلا کے ہی دم لینا ہے
(ابھی اخراز کچھ کہتا جب علی درمیان میں بول پڑا جسکی بات پر دونوں بے ساختہ مسکرا دیے ۔
ویسے ایک ٹریٹ تو ہونی چاہیے تم دونوں کی طرف سے نئی (علی نے مسکراتے ہوے کہا آنکھوں میں شرارت تھی ۔
پوری دنیا بدل گئی لیکن تم سدا کے بھوکے ہی رہنا (اخراز نے ازلان کی طرف آنکھ دبا کر علی کو کہا ۔
اب ٹریٹ دینی پر رہی ہے تو میں بھوکا ہو گیا ہوں چلو کوئی نئی ٹریٹ کے لئےیہ بھی منظور ہے (اسنے دل جلانے والی مسکراہٹ سے کہا ۔
لے لینا بھوکا کہی کا (یہ ازلان کی طرف سے تھا
ویسے ازلان تم یہاں (اخراز نے دل میں آیا سوال پوچھا ۔
ہاں وہ ایک پروجیکٹ کے ہم دونوں ساتھ کام کر رہے ہیں تو اسی سلسلے میں آیا تھا (ازلان نے جواب دیا
ویسے یہ بھوکے لوگوں کے ہاں اگر کوئی اے تو چاۓ پانی نہیں دیتے
(اخراز کے کہنے پر ازلان کے بے ساختہ قہقہ گونجا جس پر علی ایک گھوری سے نوازتا چایے وغیرہ آرڈر کرنے لگا
۔ ![]()
![]()
![]()
حور ایشو کو سلا چکی تھی ازلان آج خلاف معمول لیٹ ہو گیا تھا اور حور پریشان تھی
کیوں کے ایسا کم کم ہی ہوتا تھا کے ازلان جب لیٹ ہوتا تھا اور فون کر کے بتا دیتا تھا وہ لاؤنج میں ہی ٹہل رہی تھی جب گاڑی رکنے کی آواز آئ
اور کچھ ہی لمحوں بعد ازلان لاؤنج میں تھا اور اس کے ساتھ جو شخصیت تھی اسے دیکھ کر تو حور کو جیسے سکتا ہی ہو گیا تھا ۔
اور اگلی ساعت میں وہ اخراز کےسینے سے لگی ہوئی تھی کتنے عرصے بعد اپنےبھائی کو دیکھا تھا
اپنے ماں جائے کو آنسو تھے کے رک ہی نہیں رہے تھے اور ازلان کو آج اپنے اوپر شدید غصہ آ رہا تھا
کیاحال ہے میری گریا کا (اخراز نے اسے خود سے الگ کر کے آنسو صاف کرتے ہوے کہا ۔
میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں اورماما بابا لوگ سب کیسے ہیں (وہ ایک ہی سانس میں سب بول گئی
جس پر اخراز کے ساتھ ازلان کے چہرے پر بھی مسکراہٹ پھیل گئی ۔
سب ٹھیک ہیں اور سب آپ کو بہت یاد کرتے ہیں (اخراز نے اس سے کہا ۔
ایشال کہاں ہے
وہ نیند آ گئی تھی اسے تو میں نے سلا دیا (اخراز کے سوال کے جواب میں حور بولی ۔
بھئی آپکا اگر ملنا ہو گیا ہو تو میری طرف بھی دیکھ لیں ایک شوہر بھی ہے آپکا (ازلان کی شرارت سے بھرپور آواز پے حور تو جیسے سکتے میں آگئی
ازلان اور وہ بھی حور کے ساتھ نرمی سے بات کرے مذاق کرے
وہ تو آنکھیں پھاڑے اور منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی جو لبوں میں مسکراہٹ لئے اسی کی طرف متوجہ تھا ۔
منہ بند کر لو۔ مکھی چلی جائے گی
(ازلان کے کہنے پر اسنے جلدی سے منہ پر ہاتھ رکھا اور بولی
میں کھانا لگاتی ہوں آپ لوگ فریش ہو جایں ۔
خوشگوار ماخول میں کھانا کھایا گیا جب کے حور تو سب سمجھنے سے قاصر تھی کھانے کے بعد چاے کافی کا دور چلا ۔
حور کہاں جا رہی ہو (جب کافی دیر بیٹھنے کے بعد وہ اٹھنے لگی تو ازلان بولا ۔
وہ ا یشو کے پاس جا رہی ہوں اٹھ نا جائے (حور نے جواب دیا اور اٹھ کھڑی ہوئی ۔
میں جاتا ہوں ا یشو کے پاس تم بیٹھو (ازلان کہتا ہوا اٹھا جب کے حور بیٹھ گئی ۔
کافی دیر باتیں کرنے کے بعدنیند کے حیال سے وہ دونوں اٹھے اور اب حور کی خیرت ختم چکی تھی کیوں کے اخراز اسے مختصر لفظوں میں ساری بات بتا چکا تھا ۔
کمرے میں آئ تو ایشو ازلان کے ساتھ کھیل رہی تھی
ادان اول آ دی (ازلان حور آ گئی )
حور کو دیکھتے ہی وہ شروع ہو چکی تھی اور بیڈ سے اتر کر لرکھتی پڑتی آ کر حور کی ٹانگوں کے ساتھ چمٹ گئی ۔
ماما کے آتے ہی پارٹی بدل لی (ازلان نے خفگی سے کہا جسکا اسنے کوئی اثر نا لیا
میرا بےبی اٹھ گیا (حور اسے اٹھا کر اسکے گالوں پر بوسہ دیتی ہوئی بولی ۔
اور پھر اسے لے کر صوفے پر بیٹھ گئی جب کے ازلان نائٹ ڈریس نکال کر واشروم جا چکا تھا ۔
اب سونا نہیں ہے میری جان نے (حور اسے جما یا ں لیتے ہوے دیکھ کر بولی ۔
جس پر اس نے اثبات میں سر ہلایا اور حور اسے گود میں اٹھا کر بیڈ تک لائی اور سلانے لگی ۔
کچھ ہی دیر میں وہ سو چکی تھی ۔
معافی مل سکتی ہے (وہ سوچوں کے بھنور میں تھی جب ازلان کی آواز آئ
آپ جو کچھ میرے ساتھ ہوا ہے وہ سب سوچیں اور پھر بتایں کے کیا مجھے معاف کرنا چاہیے
اور کیا میرا اتنا ظرف ہو سکتا ہے کے میں آپ کو معاف کر سکوں میرا اتنا ظرف نہیں ہے
ازلان جب آپ مجھے اتنے سال اس غلطی کی سزا دیتے رہے جو میں نے کی ہی نہیں تو آپ خود کے لئے پھر کیا کہتے ہیں
(حور ایک ہو سانس میں سارا بولی چہرہ آنسوو ں سے تر تھا ۔
میں مانتا ہوں بہت اذیت دی تمہیں لیکن اب میں اپنی ساری غلطیوں کی تلافی کروں گا(اسنے حورکے آنسو صاف کیے
اور مجھے یقین ہے تم جلد مجھے معاف کر دو گی (ازلان نے کہا اور اسے قریب کرتے ہوے اسکی پیشانی پر مہر ثبت کی ۔
حور کسمسا کر پیچھے ہوئی
پلیز
اوکے سو جاؤ (ازلان نے بولتے ہوے نرمی سے اسکا گال تھپتھپایا اور ٹیر س پر چلا گیا۔
میں کتنے ٹکڑوں میں ٹوٹی
کوئی جانے نا
میں کتنا راتوں میں روئی
کوئی جانے نا
میرا حال جانتا ہے خدا
کیا بتاؤں تجھے
میری داستان ادھوری رہی
کیا سناؤں تجھے…
