Tere Lot Ane Tak by Sanya Chaudhary NovelR50431 Tere Lot Ane Tak Episode 10
Rate this Novel
Tere Lot Ane Tak Episode 10
Tere Lot Ane Tak by Sanya Chaudhary
ازلان کی حسب معمول فجر کے وقت آنکھ کھل گئی تھی نماز پڑھ کر آیا اور ٹریک سوٹ پہن کر جوگنگ پے چلا گیا ایک گھنٹے بعد واپس آیا تو اپنے کمرے کی طرف جاتے ہوے نظر حور کے کمرے کی طرف گئی ۔اسکے کمرے کا دروازہ بند تھا ۔
اس نے اپنے قدم حور کے کمرے کی طرف موڑ لئے دروازے کا ہینڈل گھمایا تو حسب توقع دروازہ ان لاک تھا وہ اندر داحل ہوا تو کمرے میں فل اندھیرا تھا اور حور دنیا جہاں سے بے خبر حواب خرگوش کے مزے لے رہی تھی
حور (وہ اسکے سر پر کھڑا اسے اٹھا رہا تھا
حور تھوڑا سا کسمسائی اور دوبارہ سو گئی
حور اٹھو (اب کی بار اذلان نے جھک کر اسکا گال تھپتھپاتے ہوے کہا
حور نے تھوڑی سی آنکھیں کھولیں اور ازلان کو اپنے اوپر جھکا ہوا دیکھتے ہی اسکی آنکھیں پٹ سے کھل گیں اتنی دیر میں ازلان بھی کھڑا ہو چکا تھا ۔
میں لیٹ ہو رہا ہوں اٹھو اور ناشتہ بناؤ (اذلان نے ہاتھ پے بندھی گھڑی دیکھتے ہوے کہا
اور مڑنے لگا جب پھر رک گیا
آج یہ لاسٹ ٹائم تھا آئندہ مجھے تمہیں اٹھانا نہ پڑے (اتنا کہتے ہوے وہ یہ جا وہ جا جب کے حور ہونقوں کی طرح منہ کھولے اسے دیکھتی رہ گئی ۔
پھر جلدی سے اٹھی فریش ہو کر کچن میں ناشتہ بنانے آ گئی ناشتے بناتے بناتے اسکی آنکھیں بند ہو رہی تھیں رات لیٹ سونے کی وجہ سے نیند بھی پوری نہیں ہوئی تھی ۔
جب تک اس نے ناشتہ بنایا ازلان تیار ہو کے خوشبوئیں بکھیرتا کچن میں ڈائنیگ ٹیبل کے گرد رکھی کرسی پر بیٹھ گیا ۔
حور نے خاموشی سے ناشتہ ٹیبل پے لگایا اور خود چیزیں سمیٹنے لگی ازلان جو کے موبائل یوز کر رہا تھا نظر ہٹا کر ناشتے کو دیکھا اور پھر حور کو ۔
حور یہاں آو (ازلان نے کہتے ہوے موبائل سائیڈ پے رکھا
جی (حور نے پاس آ کر بولا دل میں اک ڈر بھی تھا کے پتا نہیں اب کیا کہے گا
بیٹھو (اذلان نے کہتے ہوے کرسی اپنی کرسی کے نزدیک کی
حور نے ایک نظر اسے دیکھا جو حور کو ہی دیکھا رہا تھا اور سمٹ کر بیٹھ گئی
ازلان نے ناشتہ اسکی طرف کیا جب کے حور خاموشی سے بیٹھی اپنی انگلیاں مسل رہی تھی ۔
چلو اب کھلاؤ مجھے (اذلان کی بات پر حور نے یک دم سر اٹھا کر اسے دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔
اس کے دل میں ڈر بھی تھا ابھی دو دن پہلے ہی تو اسنے کتنی بری طرح اسکی انگلی زخمی کی تھی
حور کو اپنی ہتھیلیاں عرق آلود ہوتی محسوس ہوئیں
تنفس کی رفتار تیز ہو گئی تھی اسنے بمشکل اذلان کو دیکھتے ہوے نفی میں سر ہلایا ۔
اور اٹھنے لگی کے ازلان نے اسکے ہاتھ پے اپنا ہاتھ رکھا اور گرفت مضبوط کر لی ۔
اسکی گرفت اتنی مضبوط تھی کے حور کو اپنے ہاتھ کی ہڈیاں ٹوٹتی ہوئیں محسوس ہوئیں ۔
حور میں کیا کہ رہا ہوں (اب کی بار وہ دبے دبے لہجے میں دھاڑا۔
اب جب تک وہ اسکی بات مان نہ لیتی اسکا ہاتھ نہیں چھوٹ سکتا تھا ۔
حور نے کپکپاتے ہاتھ سے نوالہ بنایا اور نظریں نیچی کیے اسکے منہ کی طرف بڑھا دیا
اذلان نے حور کا کپکپاتا ہاتھ پکڑا اور اپنے منہ کی طرف لے گیا ۔
پورا ناشتہ اسنے حور کے ہاتھوں سے ہی کیا تھا جب کے اس دوران حور کے کئی موتی آنکھوں سے ٹوٹ کر گر رہے تھے ازلان کے ہاتھ کی گرفت ہنوز مضبوط تھی جس کی وجہ سے حور کو تکلیف ہو رہی تھی ۔
ناشتہ حتم ہوتے ہی ازلان نے حور کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا
گڈ اسی طرح میری بات مانتی رہو گی تو تمہارے لئے اچھا ہوگا (اذلان اسکا گال تھپتھپتا اپنی چیزیں اٹھا کر باہر نکل گیا جب کے حور کی نظر اپنے ہاتھ پر گئی جو بری طرح سرخ ہو چکا تھا
۔ ![]()
![]()
![]()
مہر اپنے کمرے میں تھی جب مراد صاھب اسکے کمرے میں آے
بابا آپ آیں نہ کوئی کام تھا تو مجھے بلا لیا ہوتا ۔(مہر جو کے کپڑے تے کر کے رکھ رہی تھی انہیں دیکھتے ہوئے بولی
ضروری ہے کوئی کام ہو تب ہی آؤں میں تو اپنی بیٹی سے باتیں کرنے آیا ہوں (وہ کہتے ہوے بیڈ پر بیٹھ گئے جب کے مہر بھی ساتھ ہی بیٹھ گئی ۔
کیا کر رہی تھی میری بیٹی (انہوں نے نرمی سے پوچھا
کچھ نہیں بابا بس کچھ کپڑے تھے وہ تے کیے
بیٹا آپ نے کیا سوچا ہے اب آپ کے چھوٹے بابا اور احراز بھی پوچھ رہے تھے بیٹا یہ جو زندگی ہے نہ اس میں بہت سے غم تکلیفیں اور آزمائشیں آتی ہیں اور ایک بہترین انسان وہ ہوتا ہے جو ان تکلیفوں اور آزمائشوں کا سامنے کرے نہ کے ڈر کے بیٹھ جائے اور بیٹا مجھے پتا ھے کے آپکا دماغ ابھی ڈسٹرب ہے پر بچے جب بچے آپ سامنا کرو ان سب چیزوں کا اور جہاں تک حماد کی بات ہے تو وہ اللہ کی امانت تھا اور اسکی اتنی ہی ذندگی تھی اسمیں اخراز کا کوئی قصور نہیں یہ تو ہم سب کی قسمت میں ایسے ہی لکھا تھا آپ سمجھ رہی ہو نہ (انہوں نے بڑی نرمی سے سمجھاتے ہوے آخر میں پوچھا
جی بابا (مہر نے آہستگی سے کہا
چلو پھر آپ کی چچی کی طبیعت بھی نہیں ٹھیک جاؤ ان کی خبر لو جا کے شاباش (انہوں نے کہا جس پر مہر اثبات میں سر ہلایا
۔ ![]()
![]()
![]()
ازلان آفس میں بیٹھا کب سے مسلسل لینڈ لائن پے کال کر رہا تھا لیکن بیل جانے با وجود کوئی اٹھا نہیں رہا تھا ۔
اسکی کچھ فائلز آنی تھیں اور حور کو بتانا تھاکے انھیں سمبھال کے رکھ لے لیکن اب وہ کال ہی پک نہیں کر رہی تھی
اذلان نے اپنا کام ختم کیا اور گھر روانہ ہو گیا ۔
حور لاؤنج میں بیٹھی کوئی مگن سو انداز میں پروگرام دیکھ رہی تھی جب لاؤنج کا دروازہ کھلنے کی آواز آئ ۔پر وہ سمجھی شائد سدرہ ہو گی وہ کسی کام سے باہر گئی تھی ۔
کال کیوں نہیں پک کر رہی تھی (لیکن اسکا اندازہ غلط ثابت ہوا جب اگلے ہی لمحے ازلان اسکے سر پے کھڑا پوچھ رہا تھا ۔
ک کونسی کال کوئی ک کال نہی آئ ( حور نے اٹکتے ہوے جواب دیا
ازلان نے لب بھینچے کچھ سوچا اور لینڈ لائن کی طرف بڑھا
کچھ دیر چیک کرنے کے بعد اسے ادراک ہوا کے واقعی کچھ مسلہ ہے ۔
کب سے حراب ہے یہ (اسنے مڑ کر حور سے پوچھا
دو دن ہو گئے ہیں
تو مجھے کیوں نہیں بتایا (اب وہ کڑے تیوروں کے ساتھ استفسار کر رہا تھا
م مجھے یاد نہیں رہا (حور نے گویا اطراف جرم کیا تھا جب کے دل میں تو وہ سوچ رہی تھی کے ہر وقت تو لارڈ صاھب کو غصہ رہتا ہے بتاتی کب ۔
ہمم کچھ دیر تک کچھ فائلز آیں گی میرے کمرے میں پہنچا دینا اور میں روم میں جا رہا ہوں کافی بنا کے وہیں دے جانا (وہ کہتا ہوا کمرے کی طرف بڑھ گیا جب کے حور کچن کی طرف
کافی بنا کے ٹرے میں رکھی وہ سوچ رہی تھی کے ازلان کو ہی بولے کے مہر سے اور ماما سے بات کروا دے کتنے دن ہو گئے بات کیے ہوے
یہی سوچتے ہوے وہ اسکے کمرے تک گئی نوک کیا لیکن کوئی آواز نہ آئ دوبارہ نوک کرنے پر بھی بے سود اسنے ہمت کر کے اندر جھانکا تو روم حالی تھا وہ اندر داحل ہو گئی کافی ٹیبل پے رکھی اور خود بھی وہیں بیٹھ گئی تا کے اذلان سے بات کر سکے ۔
تھوڑی ہی دیر گزری تھی کے واشروم کا دروازہ کھلا تھا اور اذلان باہر آیا بلیک ٹراؤزر میں شرٹ کے بغیر
حور کی رنگت گلابی ہو گئی اذلان بھی اسے دیکھ چکا تھا اسی لئے اس کی طرف بڑھا
رات کو میں نے کیا بولا (وہ سخت لہجے میں پوچھ رہا تھا
م میں ن نے نوک کیا تھا ڈور (حور نے نظریں قالین پے گاڑے جواب دیا
تو پھر جواب ملا تھا کیا
وہ م مجھے آ آپ سے بات کرنی تھی (حور نے کپکپاتے لہجے میں کہا
کرو سن رہا ہوں (اذلان کہتے ہوے تھوڑا آگے بڑھا جب کے حور پیچھے ہونے کی وجہ سے صوفے پر گر گئی
ؤ وہ مجھے ماما اور م مہر سے بات کرنی ہے ( حور کی پیشانی پر قطرے نمودار ہو گئے تھے دل پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو تھا
ٹھیک ہے کروا دوں گا (ازلان کہتے ہوے شرٹ پہننے کے لئے مڑا جب کے حور اسکے مڑتے ہی ایسے بھاگی جیسے گدے کے سر سے سینگھ
۔ ![]()
![]()
![]()
شام کو اذلان نے حور کو فون دیا تھا بات کرنے کے لئے مہر کے پوچھنے پر کے سب ٹھیک ہے حور رو پڑی
مہر کچھ ٹھیک نہیں ہے ازلان کو پتا نہیں کیا ہوگیا ہے ۔ وہ ہر وقت غصہ کرتے ہیں مجھے ان سے بہت ڈر لگتا ہے مہر مجھے لگتا ہے کے میں اگر اور یہاں رہی تو مر جاؤں گی مہر مجھے آ کر لے جاؤ یہاں سے پلیز ورنہ آپ سب کی حور مر جائے گی (وہ ہچکیوں کے ساتھ کہ رہی تھی
حورین دیکھو رو نہیں م میں کرتی ہوں بات تمہیں لے آیں گے کچھ نہیں ہوگا تمہیں تم بس ٹینشن نہ لو (مہر نے اسے سمجھا بھجا کے چپ کروایا تو حور کو بھی تھوڑی تسلی ہوئی
لیکن اسے نہیں پتا تھا کے جو ہم سوچتے ہیں وہ نہیں ہوتا اب اسکے ساتھ کیا ہوگا اس بات سے وہ انجان تھی
___________
فون بند ہوا تو حور اذلان کے کمرے میں اسے فون دینے گئی لیکن وہاں نہیں تھا وہ واپس مڑی تو اذلان پیچھے ہی کھڑا تھا اور اسے ہی گھور رہا تھا حور کی رنگت یکدم بدلی کے ازلا ن نے کچھ سن نہ لیا ہو
موبائل ؟(کچھ دیر بعد اذلان کی آواز آئ
حورنے موبائل دیا جسے اذلان نے جھپٹنے کے انداز میں لیا اور چلا گیا
لیکن حور تو حیران تھی آج ہٹلر کچھ کہے بنا ہی چلے گئے
اس نے دل میں سوچا لیکن وہ پرسکون ہو گئی تھی
مہر سے بات کرکے ۔اتنے دنوں بعد کسی اپنے کو دل کا حال بتا کے
اب اسے یقین تھا کے حالات میں بہتری اے گی ۔ ۔
۔ ![]()
![]()
![]()
اذلان گھر سے نکلا اور بے مقصد سڑکوں پر گاڑی دوڑانا شروع کر دیا ذہن میں مختلف سوچیں تھیں
غصے سے دماغ پھٹ رہا تھا حور کی مہر سے کی گئی باتیں وہ سن چکا تھا حور کو کیسے جانے دے سکتا تھا
دل میں لگی آگ اور بڑھ رہی تھی اب اس نے ایک فیصلہ کرنا تھا
مڈل ختمی فیصلہ جو کے حور کی زندگی کو مزید کٹھن بنا دیتا ۔ ۔ ۔
۔ ![]()
![]()
![]()
مہر گھر آ گئی تھی لیکن ابھی تک اسکا اور اخراز کا سامنا نہیں ہوا تھا اور نہ ہی وہ چاہتی تھی لیکن ایسا کب تک ممکن تھا کے ایک ہی گھر میں آمنا سامنا نا ہو ۔
وہ تو پہلے ہی اس سے سخت بدگمان تھی لیکن اس رات کے بعد تو وہ اس سے اور بھی نالاں ہو گئی تھی ۔
اسی لئے سارے کام ختم کرنے کے بعد وہ کمرے میں آئ اور اخراز کے آنے سے پہلے ہی سو گئی ۔
۔ ۔![]()
![]()
![]()
حورین ابھی نہا کر نکلی تھی نم بالوں کو سلجھایا اور انہیں جوڑے میں مقید کر دیا وہ اٹھی ہی تھی
کے ازلان کا چہرہ شیشے میں نظر آیا وہ مڑی تو واقع ہی اذلان کھڑا تھا اور اسکے ہاتھ میں شاپنگ بیگ تھا
حور کھولو اسے (اذلان نے کہتے ہوۓ بیگ حور کی طرف بڑھایا
حور نے بیگ پکڑ کر کھولا تو حیران رہ گئی کچھ دیر تو الفاظ ہی ساتھ نہیں دے رہے تھے
ی یہ کیا م میرا م مطلب ک کیوں (کچھ دیر بعددماغ نے سمجھنا شروع کیا تو اسنے اٹکتے ہوے پوچھا
یہ برائیڈل ڈریس ہے اور کل رات جب میں اوں تو مجھے میرے کمرے میں اس لباس کے ساتھ چاہیے ہو (اذلان نے بغور حور کی آنکھوں میں جھانکتے ہوے کہا
اور جانے لگا
حور جو سن سی کھڑی تھی اسکو جاتے دیکھا تو دل اور دماغ نے کہا کے وقت ہے ابھی کہ لو ۔۔۔
م میں یہ ن نہیں پہنوں گی (حور نے آنکھیں بند کر کے کہا
اور اذلان وہ تو حور کی بات سن کر مڑا
تو پھر پتا ہے میں کیا کروں گا (ازلان نے کہتے ہوے قدم حور کی طرف بڑھاے
حور نے آنکھیں کھولی تو اذلان کو اپنے قریب پایا
بے ساختہ اس نے نفی میں سر ہلایا ۔
ازلان آگے بڑھا اور حور کو جھٹکے سے قریب کیا ۔اسکے جوڑے میں مقید نم بال ایک جھٹکے سے کھلے تھے اور آبشار کی طرح اسکی کمر پر پھیل گئے تھے ۔
ابھی اسی وقت تمہیں اٹھا کے اپنے کمرے میں لے جاؤں گا اور پھر تمہاری ہر مزاحمت بیکار جائے گی ۔
(اذلان کی بات پر حور نے لبوں کو دانتوں تلے دبا کر سسکی کو روکا جب کے آنسو پلکوں کی بار توڑ کر باہر نکل آے تھے ۔
اوں ہوں یہ تمہارے پاس میری امانت ہیں اور میں نہیں چاہتا کے میرے سوا کوئی ان پے ظلم کرے
(اذلان نے کہتے ہوۓ اسک لبوں کو دانتوں سے آزاد کروایا اور چھوڑتا ہوا نکل گیا ۔
جب کے حور اس نئی آزمائش پے رو رہی تھی
۔ ۔ ![]()
![]()
![]()
احراز جب روم میں آیا تو دیکھا مہر سر منہ لپیٹے سو چکی تھی وہ ایک ٹھنڈی سانس لے کر رہ گیا
وہ تو چاہتا تھا کے مہر سے بات کر کے ساری غلط فہمیاں دور کر دے لیکن ابھی تو یہی سوچ اسے پرسکون کر گئی تھی کے مہر آ تو گئی ہے ۔
۔ ![]()
![]()
![]()
پوری رات اسکی دعاؤں میں گزری تھی روتے روتے وہ جائے نماز پر ہی سو چکی تھی ۔
ازلان جب حور کے کمرے سے آیا تو آنکھیں حد درجہ سرخ تھیں شاور کے نیچے پتا نہیں کتنی ہی دیر کھڑے رہ کر اپنے اندر لگی آگ کو بھجانے کی کوشش کر رہا تھا ۔
وہ حور اپنی مکین دل کو کیسے اتنے دکھ دے سکتا ہے وہ جس کے ہر دکھ کا مداوا ہی وہ کرتا تھا اب اسے ہر دکھ دیتا ہے اسکے ہر دکھ کی وجہ بنتا ہے
سوچوں کے بھنور سے جان چھڑوانے کے لئے اسنے دراز سے سلیپنگ پلز نکالی اور کھا گیا کچھ ہی لمحوں بعد وہ نیند کی آغوش میں تھا
___________
صبح جب ازلان کی آنکھ کھلی تو کافی وقت ہو چکا تھا نماز کا وقت بھی نکل چکا تھا وہ آفس کے لئے تیار ہو کر نیچے آیا تو نظر بے اختیار حور کے کمرے کی طرف پڑی بند دروازہ اسکا منہ چرا رہا تھا ۔
وہ آفس روانہ ہو گیا
حور روتے روتے وہیں سو گئی تھی جب اٹھی تو وہ ویسے ہی پڑی رہی کچھ دیر ہی گزری تھی جب دروازہ کھٹکھٹایا گیا ۔
وہ چونک گئی خوف غالب آنے لگا سانس رکنے لگی تھی
دروازہ پھر سے کھٹکھٹایا گیا
حورین باجی (دروازے پار سے آنے والی آواز سن کے اسے حوصلہ ہوا
رکی ہوئی سانس چلنے لگی تھی آگے بڑھ کر دروازہ کھولا تو سامنے سدرہ کھڑی تھی ۔
باجی آپ دروازہ کیوں نہیں کھول رہی تھی مجھے تو بڑی فکر ہو رہی تھی (دروزہ کھولتے ہی سدرہ شروع ہو گئی ۔
وہ رات کو لیٹ سوئی تھی نا اسلئے آنکھ نہیں کھلی آپ آج جلدی آ گیں
میں تو روز اسی ٹائم آتی ہوں (سدرہ کے کہنے پر اسنکی نظر دیوار گیر گھڑی پر پڑی تو ادراک ہوا کے وہ کافی دیر سوتی رہی ہے
اچھا آپ فریش ہو جایں میں ناشتہ بنا دیتی ہوں (سدرہ کے کہنے پے وہ فریش ہونے چلی گئی ۔
حور جب فریش ہو کر آئ تو سدرہ نے پراٹھا اور ساتھ میں آملیٹ اور چاۓ بنا کر ٹیبل پر رکھی ۔
آپ بھی آ جایں (حور نے دعوت دی ویسے بھی اس کی کافی بے تکلفی تھی مہر اور حور کے ساتھ
نہیں جی میں ناشتہ کر کے آئ ہوں (وہ کہ کر دوبارہ کام کی طرف متوجہ ہو گئی ۔
حورین باجی مہر باجی کیسی ہیں اور کب آیں گی ۔(اس نے کام کرتے ہوے پوچھا
ہاں ٹھیک ہے پتا نہیں اب کب آیں گی (حور نے کھوے کھوے لہجے میں جواب دیا ۔
ہاۓ قسم سے کتنا مزا آتا تھا نا جب مہر باجی بھی ہوتی تھیں کتنا ہلا غلا کرتی تھیں آپ لوگ (وہ اپنی باتیں کہی جا رہی تھی جب کے حور تو سوچ رہی تھی کے وہ وقت تو چلا گیا اب شائد ہی زندگی میں سب کچھ پہلے جیسا ہو ۔
۔ ![]()
![]()
![]()
مہر جب اٹھی تو اخراز ابھی سو رہا تھا وہ فریش ہو کر نیچے آ گئی ضرار صاھب کا ناشتہ ٹیبل پر لگا کر وہ چچی کا ناشتہ ٹرے میں رکھ کر ان کے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔
امی ناشتہ (مہر نے ان کے سامنے ٹرے رکھتے ہوے کہاوہ بیماری کے بائث کمرے میں ہی رہتی تھی زیادہ
بیٹا خوش رکھو تم نے کر لیا (انہوں نے پیار سے کہتے ہوے پوچھا
میں ابھی کر لوں گی (مہر نے مسکراتے ہوے کہا
اچھا بیٹا دھیان سے کر لینا
مہر (کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد ان کی آواز آئ
جی امی (مہر نے سر اٹھا کر انھیں دیکھا وہ کل کی حور کی بات سے پریشان تھی سمجھ نہیں آ رہی تھی کے کس سے بات کرے ۔
تمہاری حورین سے بات ہوتی ہے جب سے گئی ہے میری بات صرف ایک دفع بات ہوئی ہے اس سے مجھے بڑی فکر ہےاس کی (کہتے ہوے انکی آنکھوں میں نمی در آئ وہ ماں تھیں انکا دل اپنی اولاد کے لئے فکر مند تھا
جی میری ہوتی ہے بات اس سے اور ٹھیک ہے وہ اور آپ پریشان نا ہوں میں اسکی بات کرواؤں گی فون آیا جب (مہر نے مسکراتے ہوے کہا وہ انکو بتا کر مزید پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی ۔
ان کو مطمئن کرنے کو بعد وہ آئ چاۓ پی ناشتے کا تو دل نہیں تھا کمرے میں آئ تو اخراز شیشے کے سامنے کھڑا بال بنا رہا تھا
گڈ مارننگ
مہر کو دیکھ مسکرایا
مہر اسے نظرانداز کرتی آگے بڑھی اور کمبل سمیٹنے لگی ۔
ناشتہ ملے گا؟(اخراز جب اپنے آپ کو نظر انداز کرتے دیکھا تو پوچھا
جیسے روز کرتے ہیں آج بھی کر لیں (مہر بے رخی سے کہا
میں تو کر لوں گا پر کیا سوچیں گے سب کیسی بیوی ملی ہے کے شادی کے بعد بھی دوسروں کو کہ رہا ہوں (اخراز نے شوخی سے کہا ۔
اور باتوں پے تو جیسے لوگ کچھ نہیں کہتے نا (مہر کا اشارہ اس رات کی طرف تھا ۔
اب لوگ فارغ تو نہیں ہوتے ہر وقت میں نے تو تمہاری بھلای سوچی تھی پر تمہیں نہیں منظور تو خود چلا جاتا ہوں (اخراز کہتے ہوے آگے بڑھا پر مہر اس سے پہلے ہی اس پر ایک غصیلی نظر ڈال کر دروازے کی طرف بڑھ گئی
جس پر اخراز نے بمشکل اپنی مسکراہٹ روکی
۔![]()
![]()
![]()
حور پریشانی سے ازلان کی باتوں کو سوچ رہی تھی عصر کا وقت ہو چکا تھا سدرہ بھی ازلان کے آنے سے پہلے چلی جاتی تھی ۔
ابھی وہ یہی سوچنے میں مصروف تھی کے لاؤنج کی بیل بجی تھی اور سدرہ کے دروازہ کھولتے ہی ایک انجان چہرہ نمودار ہوا تھا ایک دو باتوں کے بعد وہ سدرہ کے ساتھ اندر کی طرف آ رہی تھی ۔
یہ ہیں حورین باجی (سدرہ اس لڑکی کو بتا کر واپس مڑ چکی تھی جب کے حور الجھن بھری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔
السلام عليكم میم مجھے ازلان سر نے آپ کو ریڈی کرنے کے لئے بھیجا ہے پر آپ تو ویسے ہی بہت خوبصورت ہیں (وہ کہتی ہوئی اک ادا سے کھکھلائی تھی
جب کے حورین تو اسکے لفظوں میں ہی اٹکی ہوئی تھی ۔
آپ رہنے دیں میں خود ہو جاؤں گی (حور نے خود پر قابو پاتے ہوے کہا ۔
بٹ میم ہمیں سر نے سختی سے تاکید کی ہے کہ آپ کو تیار کرنا ہے کیوں کے آپ تیار ہونے کے معما ملے میں کافی گھبراتی ہیں (اسنے اپنے پیشہ ور انداز میں کہا ۔
میں ان سے بات کر لوں گی ڈونٹ وری (حور نے بظاھر اپنے لہجے کو مضبوط کرتے ہوے کہا ۔
اوکے میں ان سے بات کر لیتی ہوں وہ کہتے ہیں تو ٹھیک ہے (وہ اپنے محصوص انداز میں مسکراتی ہوئی بولی ۔
اور فون نکال کر نمبر ملایا کچھ سیکنڈ کی بات کے بعد اسنے فون حور کی طرف بڑھایا جسے اس نے کانپتے ہاتھوں سے تھاما اور اٹھ کر کمرے میں آ گئی ۔
