Tar e Ankaboot by Uzma Mujahid NovelR50607 Last updated: 2 April 2026
Rate this Novel
Tar e Ankaboot (Episode 01)Tar e Ankaboot (Episode 02)Tar e Ankaboot (Episode 03)Tar e Ankaboot (Episode 04)Tar e Ankaboot (Episode 05)Tar e Ankaboot (Episode 06)Tar e Ankaboot (Episode 07)Tar e Ankaboot (Episode 08)Tar e Ankaboot (Episode 09)Tar e Ankaboot (Episode 10)Tar e Ankaboot (Episode 11)Tar e Ankaboot (Episode 12)Tar e Ankaboot (Episode 13)Tar e Ankaboot (Episode 14)Tar e Ankaboot (Episode 15)Tar e Ankaboot (Episode 16)Tar e Ankaboot (Episode 17)Tar e Ankaboot (Episode 18)Tar e Ankaboot (Episode 19)Tar e Ankaboot (Episode 20)Tar e Ankaboot (Last Episode)in PDF
Tar e Ankaboot by Uzma Mujahid
"نفرت اور محبت کی بات تو آئی ہی نہیں مس سید زادی افق صاحبہ ۔"
باری کی آواز پہ وہ اسے کھاجنے والی نظروں سے دیکھتی لپکی تھی جبھی لاریب نے اسے بازو سے پکڑے روکا۔
"اسے کہو میرے منہ نہ لگے تم لوگوں کو کیا لگتا تمہارے پنجاب والے بہت ستی ساوتری ہیں۔"
اس نے باری کے ساتھ ساتھ لاریب کو بھی رگیدا ماحول ایک دم سیاسی ہوچکا تھا۔
"اوئے ہیلو بات وڈیرہ سسٹم کی ہورہی ہے تم سندہ سے اپنی وفاداری اپنے پاس رکھو۔"
باری نے بنا کسی لحاظ کے" افق " کو کھری کھری سنائی تھی ۔
"یو چیپ باسٹرڈ تم سے تو بات کرنا ہی فضول ہے اچھے سے جانتی ہوں تم جیسے مڈل کلاس لوگوں کو، جنکو صرف کمپلیکس ہی رہنا ساری زندگی جلتے ہو تم ہم گدی نشینوں سے ۔"
افق نے ایک ادائے بے نیازی سے کہتے بالوں کو جھٹکا تھا۔
داور حشر مرا نامۂ اعمال نہ دیکھ ۔۔
اس میں کچھ گدی نشینوں کے بھی نام آتے ہیں۔۔
عبدلباری نے آرام سے "پردہ نشینوں " کو گدی نیشنوں میں تبدیل کرتے شعر کا کباڑہ کیا۔
باری کے گروپ کے لوگوں نے سٹیاں بجاتے اسے داد تھی جبکہ اس سر پھری لڑکی کے مزید منہ لگنے کے بجائے اپنا سامان اٹھائے وہاں سے چل دیا۔
وائے قسمت کے راستے میں ہی وہ ٹہری تھی۔
"راستہ ملے گا یا پھر وہ بھی وڈیروں کے ہاں عرضی دینی پڑے گی۔"
باری نے جاتے ہوئے اسے تپانا ضرور سمجھا تھا وہ پاؤں پٹختے سائیڈ پہ ہوئی۔
"لوزر۔" افق کی بات پہ اس نے ابرو اچکائے جیسے کہا گیاہو! "کیا واقعی ہی؟"
افق نے منہ پھیر لیا تھا جبکہ وہ اسکی ادا پہ مسکرا کے رہ گیا۔
"مجھے کبھی بھی دربار پر ماتھا نہیں رگڑنا پڑا،نہ ہی دھکم پیل کی ذلالت برداشت کرنی پڑی ہے، نہ ہی گدی نشینوں سے اپنی جیب پر ڈاکہ پڑوانا پڑا اور نہ ہی در در کی ٹھوکریں کھائیں۔نفرت وڈیروں سے ہے سندہ سے نہیں کشمیری سیب۔ آئی لوو مائے پاکستان ۔"
باری نے جاتے ہوئے بھی کاروائی پوری کی تھی جبکہ وہ اسکے ٹونٹ پہ تلملا کے رہ گئی ۔
"ندھ سوہنیا لطیف سندھ میں,منجا لال لطیف آ سندھ میں،
منجا سہون شریف سندھ میں، منجا شاہ بھٹائی سندھ میں
آہ اجرک ، ٹوپی ، شال ا،سندھ دی آ پہچاں آ."افق کے دوستوں نے اسے اداس دیکھتے اونچی آواز میں عابد بروہی کا ریپ گاتے اسے باری کی باتوں سے نکالنا چاہا۔
کیونکہ افق کی ماں کا تعلق کشمیر سے تھا جبکہ اسکے بابا سندہ سے تعلق رکھتے تھے ۔مگر جہاں اس نے اپنے بابا کا رعب بھرا لہجہ اپنایا وہیں ماں کے نقوش بھی چرا لائی تھی اور باری نے اسکے سرخ بھرے بھرے گالوں کو دیکھتے کشمیری سیب کا خطاب دے ڈالا تھا۔ ہمیشہ کی طرح اسکے ساتھ منہ ماری نے افق کو ایک بار پھر یہاں آکے پڑھنے پہ اسے پچھتاؤے کا شکار کیا تھا۔
یہ منظر تھا لاہور کی پنجاب یونیورسٹی کا جہاں فلاسفی کے سٹوڈنٹس ایک جتھے کی صورت میں جمع تھے وجہ ہمیشہ والا ہاٹ ٹاپک باری اور افق کی نوک جھونک۔
اب دونوں میں کوئی خاندانی دشمنی تو نہ تھی مگر ایک چیز تھی وہ افق کا سندہ سے آکے پی۔یو میں پڑھنا اور بدقسمتی سے باری کے مطابق چونکہ اسکا تعلق سندھ کے ایک بہت بڑے نواب گھرانے سے تھا س لیے انکی آپس میں بہت لگتی تھی ۔ لیکن باری کو افق سے کس واسطے کا بیر تھا یہ سمجھ سے باہر تھا۔بعض لوگوں کو یہ بھی لگتا تھا چونکہ ان دونوں کی فیملیز ایک مضبوط سیاسی بیک گراؤنڈ رکھتی تھیں اسیلئے فطری چڑ کی کوئی وجہ نہ تھی۔
