Takmeel e ishq by Muntaha Chohan NovelR50508 Takmeel e ishq (Episode 20,21)
Rate this Novel
Takmeel e ishq (Episode 20,21)
Takmeel e ishq by Muntaha Chohan
ٹرک ڈرائیور نے بری طرح کچلا ہے کہ لاش پہچانتے میں نہیں آرہی ۔ لاش کے پاس سے یہ آئی ڈی ملا کانسٹیل نے ایک کارڈ انسکیٹر شیر دل کی طرف بڑھایا. ابرارہ شاہ ؟؟ انسپکٹر تھوڑا حیرت کا شکار ہوا ۔ جیل میں بند فرقان شاہ اور آفتاب شاہ کے کان بھی کھڑے ہوئے۔ ٹھیک ہے !لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجوا دو – انسیکٹر ! تم — تم نے کیا نام لیا ؟ ابرار میرا بیٹا ؟؟ فرقان شاہ کی آواز آنسوؤں کی وجہ سے روندھ گئی اوہ ! ہاں جی !! ابرار شاہ تو آپ کا مفرور بیٹا ہے ناں ؟؟ چلو جی ! خس کم جہاں پاک ! فرید ! ایک کام کرو۔ لاش کا پوسٹ مارٹم کرانے کی ضرورت ہی نہیں۔ ! لاوارث Show کر کے ایدھی والوں کے حوالے کردو ۔ انسپکٹر فرقان شاہ اس بات پر تڑپ ہی تو گئے۔ بیٹا ہے وہ میرا لاوارث نہیں – فرقان غصہ سے بپھرا ۔
فرقان ! کیا کر رہے ہو؟ سنبھالو – خود کو – ! وہ ابرار کیسے ہو سکتا ہے ؟ وہ تو یہاں ہے ہی نہیں ۔ آفتاب شاہ نے بات کو سنبھالنا چاہا اور بھائی کو ٹھنڈا کرنا چاہا دونوں بھائیوں کا کیس فائل ہو چکا تھا ۔ اور انھیں اسلام آباد جیل میں شفٹ کیا گیا تھا ۔ بس اب ابرار شاہ کا پتا لگاتا
ہاں ناں۔۔ اپنے بھاٸ کی بات مانو۔۔ اور یہ جو لاش ملی ہے۔۔ اور یہکارڈ جس پے صاف لکھا ہے۔ ابرار شاہ ولد فرقان شاہ اسے۔۔ لاوارثوں کی طرح دفن ہونے دو۔ اور تیر پگینکا جو سیدھا نشانے پے لگا۔
خبردار انسپکٹر۔۔ جو میرے بیٹے کے ساتھ ایسا کوٸ سلوک کیا۔۔؟ فرقان شاہ پاگلوں کی طرح چلانے لگا۔
فرقان۔۔!ہوش میں آٶ۔۔ ابرار شاہ یہاں نہیں ہے۔ وہ یہاں کیسے آسکتا ہے۔۔؟؟ وہ کراچی میں اپنے فارم ہاٶس میں ہے۔ آفتاب شاہ کی غصہ میں زبان پھسلی۔ ار وہ بولتے چلے گۓ۔ لیکن فرقان شاہ ابھی بھی مطمین نہ ہو پارہے تھے۔ جب کہ انسپکٹر شیر دل کے چہرے پے ایک پر اسرار مسکراہٹ نمودار ہوٸ تھی۔ تھینک یو۔۔۔ آفتاب شاہ۔۔۔! ابرار شاہ کا پتہ بتانے کے لیے۔۔۔! انسپکٹر شیر دل کے دلچسپ انداز پے وہ دونوں بھاٸ بری طرح چونکے۔ جب کہ انسپکٹر شیر دل کانسٹیبل کی جانب متوجہ ہوا۔
ابھی کے ابھی ریڈ مارو۔ اور ابرار شاہ کو حراست میں لو۔۔ زندہ یا مردہ۔۔؟؟ مجھے ابرار شاہ چوبیس گھنٹوں میں یہاں چاہیے۔۔ ہر حال میں۔ انفارم کرو وہاں کے پولیس اسٹیشن میں۔۔ ! ایک نظر ان دونوں بھاٸیوں کو دیکھا۔ یہ کیس تو آج سلجھ کے ہی رہے گا۔ ایک یقین بھرلے سخت لہجے میں کہتا وہ ان دونوں بھاٸیوں کو پچھتاوے کی اتھاہ گہراٸیوں میں جھونک گیا۔
جیسے ہی وہ باہر نکلا۔ موباٸل بجا دوسری طرف اس کا خاص آدمی تھا۔ ہاں۔۔؟ أنعام بولو۔۔؟ سر ۔۔؟؟ ایک بری خبر ہے۔۔۔۔! مسٹر ابیہان کے گھر پر کسی نے گولی چلائی ہے ! اور شاید اندر کوئی زخمی بھی ہوا ہے ۔ !! کیا کہہ رہے ہو۔۔؟؟ کس نے گولی چلاٸ۔۔؟؟ شیر دل پریشان ہوا۔ سر۔۔ ڈونٹ وری۔۔ سر اویس ! اسکے پیچھے ہیں ۔ بچ نہیں پائے گا آپ کہیں تو اندر جا کر پتہ کریں ۔ ؟ مزید بریف کیا .” نہیں ! میں آ رہا ہوں ۔ تم لوگ باہر ہی رہو ۔ لیکن۔۔ چونکا۔ میں بس تھوڑی دیر میں آیا۔ کہتے ہی عجلت میں فون بند کیا۔ اور باہر کی طرف قدم بڑھائے سادہ لباس میں اہلکار ابیہان کے گھر کے باہر تھے مسلسل چاک و چوکس ایسے میں گولی کیسے چلی۔ اب وہاں جا کر ہی پتہ چلے گا ۔ انسپکڑ شیر دل کافی پریشان ہو گیا تھا****
اپنے مراقبے سے وہ باہر آئی تھی ۔ مسلسل موبائیل پر آتی بیل نے اُسے چونکا دیا تھا۔ جھٹ سے منہ ہی منہ میں کچھ پڑھتے کال رسیو کی ۔ میڈم ! آپ کا کام ہو گیا ہے ۔۔ لیکن ایک گڑ بڑ ہوگئی ہے کیسی گڑیڑ ؟ وہ جو کام ہو جانے پر پرسکون ہوئی۔ گڑ بڑ پر چونکی۔ میڈم پولیس میرے پیچھے ہے ۔ میں چھپتا چھپاتا پھر رہا ہوں ۔ وہ شخص بدحواس لگ رہا تھا۔ الو کے !! تمہارے پیچھے پولیس لگی ہے اور تم مجھے فون کر رہے ہو؟ پاگل – ! فون بند کرو۔ اور اسے توڑ دو خبردار جو پولیس کے ہاتھ لگے اور اس سب میں میرا نام آیا ۔ ” تم سوچ بھی نہیں سکتے۔ کیا حال کروں گی تمہارا اور تمہاری فیملی کا ! غائب ہو جاؤ کہیں بھی دوبارہ مجھ سے رابطہ مت کرنا سمجھے ۔ تم! غصے سے کہتے ساتھ ہی کال بند کی – اور رُخ موڑا تمام سازش کرنے والی کوئی اور نہیں “میں ہوں !! ہاں میں نادیہ عثمان – ! زور دار قہقہہ لگایا – &&&&&&&
فلیش بیک۔
مسلسل فون کال پر منہ بگاڑتے حور نے فون اٹھایا۔ مجھے نوفل سے بات کرنی ہے ابھی اسی وقت – ماؤس پیتھ سے کسی لڑکی کی آواز پر حور کے کان کھڑے ہوئے۔ آپ کون؟ دھیرے سے پوچھا۔ میں – نوفل کی منگتیر ہوں ۔ اور محبت کرتی ہوں۔ اس سے بے پناہ! اسے فون دیں ۔ وہ مجھ سے وعدہ توڑ کیسے سکتا ہے ؟ وہ بپھری ہوئی لگ رہی تھی ۔ کیسا وعدہ — ؟ ہوش میں تو ہو ؟ نوفل بھائی کا تو نکاح ہوا ہوا ہے!کب سے۔۔ اور بہت جلد رخصتی بھی۔ چپ! ایک دم چپ – نادیہ نے حور کو غصے سے چب کرادیا۔ وہ صرف میرا ہے۔ صرف میرا! میں اُسے کسی اور کا نہیں ہونے دوں گی ۔ اس کے لیے چاہے مجھے کچھ بھی کیوں نہ کرنا پڑے۔ ! آواز میں ایک جنون تھا۔ حور کو وہ اپنے جیسے ہی لگی۔ نوفل بھاٸ کو حاصل کرنا چاہتی ہو۔۔؟؟ حور کی آواز پراسرایت لیے ہوۓ تھی۔ نادیہ چونکی۔
مطلب؟ تم کیا کہنا چاہتی ہو؟ نادیہ تھوڑا سنبھل کے بولی۔ میرا نمبر نوٹ کرو۔ اور میرے موبائیل پر کال کرو۔ سب سمجھاتی ہوں ۔ نمبر نوٹ کروا کے اِدھر اُدھر دیکھا۔ اور اپنے روم میں چلی گئی۔ اب بتاؤ ؟ نوفل میرا کیسے ہو سکتا ہے ؟ نادیہ نے بے چینی سے پوچھا میں نوفل بھائی کی بہن ہوں حور ! اور بہنیں بھائیوں کو بہت اچھے سے جانتی ہیں۔ تمہیں نوفل بھائی سے میں ملواؤں گی ۔ !! لیکن ۔۔ تمہیں میرا ایک کام کرنا ہوگا۔ نادیہ اس کی بات پے سوچ میں پڑ گٸ۔ پھر ۔۔ کچھ ماٸنڈ سیٹ کرتی وہ پلان بناتی ہامی بھر گٸ۔ بولو ؟؟ کچھ بھی کیوں نہ کرنا پڑے۔ میں کروں گی۔۔ اپنی محبت کو حاصل کرنے کے لیے۔ آواز میں ایک جنون تھا۔ حور کے چہرے پے مسکراہٹ رینگی اور وہیں اس کے دماغ میں شیطان گھسا تھا۔ نوفل بھاٸ کو حاصل کرنے کے لیے تمہیں میرا۔۔ صرف۔۔ ایک کام کرنا ہوگا۔۔۔
کیسا کام – ؟ نادیہ بھی فارم میں آگئی تھی ۔ تمہیں ۔ تمہاری محبت چاہیئے ۔ تو مجھے میری ” !! تم مجھے میری محبت سے ملوا دو ! میں تمہیں تمہاری محبت سے ملوا دوں گی ۔ سمپل- ! بیڈ پر نیم دراز ہوتے سرور سے کہا۔ تمہاری محبت ؟ یعنی تم بھی میری طرح !! نادیہ طنزیا نداز میں بولتے بولتے رکی۔ ٹھیک ہے ۔ ! مجھے منظور ہے ! بتاؤ ؟ کیا کرنا ہے؟ .
کیونکہ میں اب ۔ مزید wait نہیں کر سکتی. نادیہ کے پوچھنے پر پھر حور نے اسے ماہیر کے متعلق بتایا۔ اور نادیہ کے ساتھ مل کے پلاننگ کی ۔ کیونکہ ماہیر کی چھپ کے باتیں سُن چکی۔
جس سے اُسے پتہ چل چکا تھا کہ ہیر گھر سے بھاگی ہوئی ہے ۔ اور اسی بات کا فائدہ اٹھاتے انہوں نے ایک شخص کو ہائر کیا۔ نادیہ سے پانچ لاکھ لے کر حور نے اس شخص کو دیئے اور ولیمے والی رات وہ شخص گھر میں داخل ہوا ۔ اور سب کچھ تباہ و برباد کر گیا۔ لیکن نادیہ تھی پکی کھلاڑی – حور اس شخص کے سامنے آچکی تھی ۔ نادیہ نے اپنے ٹاپ شوٹر سرمد جو ہمیشہ اسکے غلط کاموں میں اسکا ساتھ دینا تھا اسکو اس۔ شخص کے پیچھے لگایا ۔ اور اُسے مروا دیا۔ ! وہ شخص سیدھا اوپر پہنچ گیا ہے ۔ لیکن مرنے سے پہلے اس نے حور کا نام لے لیا ! وہ لڑکا اور وہ لڑکی سامنے ہیں۔ کہیں تو انھیں بھی ؟؟ سرمد نے اس شخص کو مارنے کے بعد نادیہ سے فون پے ابیہان اور ماہیر کے متعلق پوچھا۔ ن نہیں سرمد ! پاگل ہو گئے ۔ ان کو مارنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔یہ حور تک پہنچے ہیں۔ ! مجھ تک نہیں !” اور اس سے پہلے کہ یہ حور سے مجھ تک پہنچیں۔ Kill her . نفرت سے کہتی وہ سرمد کو چونکا گئی ۔ میم ! سیر یسلی حور کو – ؟؟ وہ حیران ہوا۔ ہاں ! وہ میرے لیے آنے والے وقت میں خطرہ ثابت ہو سکتی ہے ۔ ! کافی کچھ جان گئی ہے ! اور میرا علم کہتا ہے ۔ ! اب اُسے مر جانا چاہیئے۔ اسکا ٹائم مکمل ہو گیا ۔ نفرت اور حقارت سے کہا۔ اور ہاں کام تمام ہو۔ ! ایک ہی گولی سے۔ نادیہ نے یاد دہانی کرائی۔ آگے کبھی آپ کو شکایت کا موقع دیا ؟ ایک ادا سے بولا ۔ نادیہ نے کال بند کردی سوری ڈئیر حور ! تمہارا ۔ اب کوچ کر جانا ہی بہتر ہے !! وہ شخص سرمد بچتا بچاتا ابیہان کے گھر کے سامنے والی بلڈنگ تم پہنچتا وہاں سے تاک کر نشانہ لگایا۔ ! حور کو وہ پہچانتا نہیں تھا لیکن نادیہ نے اسکی تصویر Send کردی تھی ۔ وہ انتظار میں تھا. ایہان اور ماہیر کچھ دیر پہلے ہی منشن میں داخل ہوۓ تھے۔ وہ انہیں داخل ہوتا دیکھ چکا تھا اور اوپر راہداری میں اُسے خود نظر آئی۔ نشانہ باندھا اور گولی سیدھا دل کے پار ہوئی۔ اس کے بعد وہ وہاں رکا نہیں ۔! وہاں سے فورا نکلا۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتا کہ پولیس اہلکار وہاں سادہ لباس میں Duty دے رہے تھے ۔ اور ایک کی نظر میں وہ آگیا۔ اب وہاں سے بچتا بچاتا وہ نکلا تھا۔ لیکن خطرہ پھر بھی تھا۔ وہ پولیس کے ہتھے نہیں چڑھنا چاہتا تھا۔ اس نے گولی چلائی تھی پکڑا جاتا تو سیدھا پھانسی تھی ۔ وہ سخت گھبرایا اور بوکھلایا ہوا تھا لیکن انسپکٹر اویس کے ہاتھوں سے بچنا ناممکن تھا۔ اور آخر کار وہ اس کے ہتھے چڑھ گیا۔ ۔ اور گرفتار ہو گیا۔ فرار ہونے کے چکر میں ٹانگ پر گولی بھی کھائی۔
*******
یہ یہ کیا ہوا ؟ گولی کی آواز ؟ حور جو نور کو ڈانٹ کر بھیج چکی تھی۔ گولی کی آواز پر چونکی فوراً باہر کی طرف لپکی۔ اور سامنے نور کو گولی لگے خون بمیں لت پت دیکھتی پتھر کی ہوگئی تھی اور نور کسی بے جان وجود کی طرح سیڑھیوں سے لڑھکتی ہوئی نیچے۔ گری تھی۔ ایک کہرام سا مچ گیا ۔ سبھی وہاں موجود ھے۔ نور کو ہوش میں لا رہے تھے ۔ لیکن وہ بے جان پڑی تھی۔ حور ! باز آجاؤ ! چھوڑ دو سب کو ۔۔! صرف خود پر توجہ دو۔ مجھے میری حور ۔۔۔ میری بہن واپس لادو – نور نے حور کا ہاتھ تھاما۔ ایک لمحے کے لیے حور کا دل پگھلا لیکن اگلے ہی۔ پل اسے اپنے دل میں ابیہاں نظر آیا۔ تو فوراً اٹھ کھڑی ہوئی۔ نور ! سب اپنی جگہ۔۔۔ لیکن محبت کا کوئی نعم البدل نہیں ! اس لیئے تم مجھے۔ میرے حال پر چھوڑ دو۔ ایک لمبا سانس خارج کیا ۔ اور اُٹھ کر دور جاکھڑی ہوئی۔ نہیں چھوڑ سکتی تمہیں تمہارے حال پر ! تم میں، میں ہوں اور مجھ میں تم – اہم ایک دوسرے کا عکس ہیں۔ حور – حور سے نور ہے اور نور سے حور ۔۔۔حور ! اس راستے سے لوٹ آؤ۔ جس کا کوئی انجام نہیں ۔ ” لوٹ آؤ .. ! کہ اس سے پہلے سب کچھ کھو دو ! اور تمہارے پاس کچھ نہ رہے۔ پچھتاوے کے لئے بھی کچھ نہ بچے ۔۔ نور کی آواز روندھ گئی۔ نور پلیز ! جاؤ یہاں سے حور کے دماغ پر ہتھوڑے برسے ۔ نور کو ڈانٹ پلادی نور آنسو صاف کرتی دروازے کی طرف بڑھی۔ یاد رکھنا حور ! جس دن تم واپس لوٹی تمہارے پاس کچھ ہو نہ ہو۔ میں کہیں نہیں ہوں گی: کہتے ساتھ ہی وہ باہر نکل گئی ۔ حور کو ایسا لگا جیسے اس کا دل ہی نکال کے لے گئی ہو۔ ابھی اپنی سوچوں میں غلطاں تھی کہ گولی کی آواز آئی ۔ دل کسی انہونی سے ڈرا ۔ لیکن۔ جو ہونا تھا۔ وہ ہو گیا ۔ سب گھر والے آہ و بکا میں مصروف تھے ۔ نور کو مسلسل ہوش میں لانے کی سعی کر رہے تھے۔ لیکن ۔ وہ تو بے جان پڑی ۔ تھی۔ نوفل چینخ رہا تھا۔ نور سب سے زیادہ قریب اسی کے تھی اسے اُٹھا رہا تھا ۔ ابیہان نے نبض چیک کی۔ دل کی دھڑ کن چیک کی ، لیکن بے سود ابیہان نے نوفل کو سنبھالا ۔ خود وہ بھی اشک بار تھا نور گھر کا نور تھی جو جاتے ہی سب کو اندھیر کر گئی تھی کیا ۔ کیا ۔ ہوا ؟ کیوں رو رہے ہو ؟؟ میری – نور – ٹھیک ہے! ہوش ہوش میں لاؤ اسے .. !! فروا بیگم کو سانس نہیں آرہی تھی۔ انہی گھٹن ہو رہی تھی۔ سبھی اشکبار تھے ۔ شاہ ویز صاحب تو ابھی تک سکتے کے عالم میں تھے۔ انھیں تو یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔ کہاں وہ ایک بیٹی کا کیس لڑ رہے تھے۔ اور کہاں دوسری انھیں سزا دے کر چلی گئی زمین پر ڈھے سے گئے۔ فردا بیگم نور کو ہلا ہلا کر اسے جگا رہی تھیں۔ لیکن اس بے جان وجود میں حرکت نہ ہوئی ۔ وہ سب کو بے جان کر گئی۔ پولیس بھی پہنچ چکی تھی۔ انسپکٹر شیر دل ساتھ ہی تھے ۔ ایس تو ڈاڈا دکھ نہ کوئی ۔ ایس تو ڈاڈا دکھ نہ کوئی۔۔۔
یار نہ وپچھڑے ۔۔۔۔ کسی دے یار نہ وچھڑے ۔
&&&&&
کچھ دن بعد !
گھر میں ایک سوگواری سی چھا گئی تھی۔ سبھی ایک دوسرے سے دور دور تھے ۔۔ نور کے جانے کے بعد گھر میں ہر کوئی اسی کی یاد میں تھا۔ حور نے تو خود کو روم میں بند کر لیا تھا نہ کسی سے بات کرتی ۔ نہ کچھ کھاتی پیتی – ! بس روتی رہتی ۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ رونا دکھ کا تھا یا پیچھاوے کا ۔ ! ابیہان نے حور کے معاملے میں چپ سادھ لی تھی۔ نور کو کھونے کے بعد اب شاہ ویز صاحب سے حور کے متعلق بات کر کے انہیں مزید دکھ دینا ۔ وہ اس حق میں نہ تھا۔ البتہ معاف ابھی بھی نہیں کر سکا تھا۔ مہمانوں کو رخصت کر کے ابیہان اندر داخل ہوا تو موبائیل پر انسپکڑ شیر دل کی کال پر چونکا۔ اور کان سے لگایا۔ کیسے ہو؟ دھیرے سے اور دُکھ سے دریافت کیا. ٹھیک ہوں ۔ ! مختصر جواب دیا ۔ یہ بھی ابیہان کا انداز تھا دُکھ میں وہ یونہی چپ ہو جایا کرتا تھا۔ اور مختصر جواب دیتا تھا یار ! اگر ہو سکے تو پولیس اسٹیشن آ جاؤ۔ جس نےگولی چلائی تھی۔ اس کے بارے میں بات کرنی ہے .. ! بہت سنبھل سنبھل کر بات کی۔ ابیہان نے لب بھینچے ۔ اور اوکے کا سگنل دیا۔ اور دل میں پکا تہیہ کیا۔ گولی چلانے والے کو نست و نابود کر دے گا۔
کہیں جا رہے ہیں۔۔؟؟ آپ۔۔؟؟ ماہیر ابیہان کو تیار ہوتا دیکھ چلتی ہوٸ اس کے قریب آٸ۔ جو بڑھی ہوئی شیو میں اور ماتھے پر بل ڈالے بکھرے بالوں کے ساتھ ماہیر کے لیے الگ ہی چھب دے رہا تھا ۔ ام ! مختصر جواب دے کر والٹ اٹھایا۔ اور واچ باندھی ۔ حتی الامکان ماہیر سے نظریں نہ ملائیں۔ کب تک لوٹیں گے ؟ سلیقے سے بندھی ٹائی کو پھر سے ٹھیک کرنے لگی ۔ جلدی آجاؤں گا ۔ ! نرمی سے کہتا۔ وہ نرم نظروں سے دیکھتا بولا. میں انتظار کروں گی ! دھیرے سے کہتے وہ ابیہان کو چونکا گئی. واپس پلٹا اور آگے بڑھ کر ماہیر کے ماتھے پر پیار کی مہر ثبت کی ۔ اپنا خیال رکھنا۔ پیار سے کہتا وہ باہر نکل گیا۔ ماہیر کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے لیکن آنکھوں میں آنسو تھے – # # #
شاہ ویز صاحب روم میں انٹر ہوئے تو فروا بیگم کو سوتے پایا ۔ وہ بہت اپ سیٹ تھیں۔ مشال نے زبردستی کھانا کھلا کر اور میڈسین دے کر سلایا تھا ۔ شاہ ویز صاحب ایک نظر مر جھائی ہوئی اپنی بیوی پر ڈال کر سٹڈی روم کی طرف بڑھ گئے۔ سامنے نور اور حور کی فریم میں تصویر تھی ۔ ٹیبل سے تصویر اٹھا کر ہاتھ پھیرنے لگے۔آنسو بہہ نکلے ۔ تو گلاسز اتار کے آنکھیں پونچھیں۔ بابا ! دیکھیں ناں ۔ حور نے میرا فراک خراب کر دیا ہے۔ نور روتی ہوئی شاہ ویز صاحب کے پاس آئی ۔ ۔
ہاں تو ؟ میرے پاس نہیں ہے یہ تو تمہارے پاس کیسے ہو سکتا ہے ؟ حور نے ضدی اور ہٹ دھرمی سے کہا۔ بابا ! دیکھیں ! یہ میری فیورٹ تھی۔ نور نے منہ بسورا – چلو ! میں اپنے بچے کو اور دلا دوں گا۔ شاہ وزیر صاحب نے نور کو گود میں بٹھاتے کہا ۔ وہ آٹھ سال کی تھیں دونوں ! ایک دوسرے کی کاربن کا پی۔ صرف آنکھوں کا فرق تھا۔ اور مجھے ؟ چہکتے ہوئے حور پاس آئی میں ۔ اپنی دونوں جانوں کو لے کر دوں گا۔ شاہ ویز صاحب نے دونوں کو گود میں پیار سے بٹھایا۔ وہ لمحہ اس تصویر میں قید تھا۔ لوٹ نہیں سکتا تھا۔ نہ جانے ۔ ۔ والا واپس آ سکتا تھا ۔ سٹڈی رون کے دروازے پر دستک ہوئی مشال کھانا اٹھائے اندر داخل ہوئی ۔ شاہ ویز صاحب نے فوراً آنسو ہو پونچھے۔ ۔ تصویر سائیڈ پر رکھی ۔ چھوٹے بابا -پلیز – کھانا کھا لیں ۔ بہت پیار سے کہا۔ نہیں بیٹا۔۔ بھوک نہیں لے جاؤ — اخیالوں میں کھوئے ہوئے کہا۔ پلیز چھوٹے بابا – ! ایسے مت کریں ! ایسے تو نور کو بھی۔ تکلیف ہوگی ! آپ اپنا خیال نہیں رکھ رہے فروا آنٹی کا کیسے خیال رکھیں گے ؟؟ انھیں آپ کی ضرورت ہے۔ ! ان کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھنے کہا شاہ ویز صاحب نے ایک نظر اسے دیکھا۔ رکھ دو۔ کھالوں گا ۔ ! ٹالنا چاہا آپ ۔ میرے ہاتھ سے کھائیں گے ۔۔! روتے ہوئے نوالہ توڑا ۔ اورشاہ ویز صاحب کی طرف بڑھایا۔ اب کی بار آنسوؤں کو نہ روکا۔ اور بہنے دیا ۔ اور نوالہ منہ میں رکھ لیا ۔
کیا کچھ نہیں کیا تھا۔ انہوں نے اس کے ساتھ لیکن آج وہی ان کے دُکھ بانٹ رہی تھی ۔ جس انداز سے وہ بیٹھی تھی۔ وہی انداز نوفل کا ہوتا ۔ شاہ ویز صاحب دھیرے سے دُکھی انداز میں ہنس دیئے۔ ایک ان کہی داستان تھی ۔ جو خاموشی کی نظر ہوگی *
نوفل بھائی ! آپ؟ پولیس اسٹیشن داخل ہوتے ہی نظر نوفل پر پڑی ۔ تبھی انسپکٹر شیر دل بھی وہیں آ گیا ۔ ہاں ۔ ان کو میں نے بی بلایا ہے ۔ دونوں سے مصافحہ کرتے وہ ان کو لیے آفس میں کی طرف قدم بڑھائے ۔ کیا حال ہیں۔ انسپکر شیر دل کا ٹرانسفر اسلام آباد پولیس اسٹیشن میں ہو گیا تھا۔ اب وہ یہاں انچارج تھا۔ اور نور کے قتل کا کیس کا انچارج بھی وہی تھا جو بھی ہوا ا اسکا بہت دُکھ اور افسوس ہے۔ ۔ اس کیس میں پیش رفت ہوئی ۔ تو آپ دونوں کو ۔ بلانا پڑا تھوڑا توقف کیا۔ اور نوفل کی طرف مڑا ۔ نوفل بھائی ! اگر اس سب کا تعلق آپ سے نہ ہوتا تو – – آپ کو یہاں آنے کی تکلیف کبھی نہ دیتا۔ سپاٹ لہجے میں تمہید باندھی کیا ؟ کیا مطلب؟ نوفل کے ماتھے پر بل آۓ۔ کچھ بھی کہنے سننے سے پہلے آئیے۔ میں آپ کو اس سے ملواؤں . جس نے یہ جرم کیا ہے ۔ کیاوہ پکڑا گیا ہے۔ ابیہان فوراً غصے سے کھڑا ہوا۔ جی ! آئیں — ! دونوں کو لیے وہ جیل کی طرف بڑھا. بہت بری حالت میں ایک شخص زمین پر ادھ موئے انداز میں پڑا ہوا تھا۔ مار مار کر اسکا بھرکس نکال دیا۔ تھا۔ پولیس ریمانڈ پر تھا ۔ آگے بڑھتے ابیہان نے اسے گریبان سے پکڑا اور زوردار مکا جڑ دیا۔ وہ دور جا گرا۔ اور تکلیف سے مزید دہرا ہوا۔ انس انسکپٹر شیر دل نے آگے بڑھ کر ابیہان کو روکا۔ چھوڑو ۔ مجھے۔ میں اسے جان سے ماردوں گا۔ خود کو چھڑاتے ابیہان پھر سے اسکی طرف بڑھا۔ ابھی رک جاؤ ! قصور وار یہ نہیں ! اصل مجرم کوئی اور ہے ! یہ تو – صرف – ایک مہرہ ہے ابیہان کو روکتے شیر دل نے دُکھ اور غصے سے کہا . تو وہ دونوں چونکے اور شیر دل کی طرف دیکھا۔
کیا۔ کیا مطلب؟ دونوں ہی حیران ہونے چلئے .. !میرے ساتھ ۔۔ ! سب بتاتا ہوں ! انسپکٹر شیر دل انھیں لیے واپس آفس میں آئے ۔ اور ٹیپ ریکارڈر ٹیبل پر رکھا ۔ اس شخص نے بہت مار کھائی لیکن منہ نہ کھولا۔ اسے اپنی فیملی کو بچانے کا ڈر سوار تھا۔ اگر یہ منہ کھولتا تو اسکی فیملی کو خطرہ ہوتا. لیکن. اسکا موبائیل حراست میں لے لیا۔ اس سے تمام کالز کی ریکارڈنگ نکلوالی ہے ۔ میں چاہتا ہوں ۔ آپ دونوں خود سنیں۔ انسپکٹر شیر دل نے ریکارڈر آن کیا۔ تو جیسے جیسے وہ سنتے گئے ۔ ان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ نادیہ سے ہوئی تمام باتیں وہ با آسانی سُن سکتے تھے ۔ اور یہ بھی جان گئے تھے ۔ وہ گولی جو نور کو لگی ۔ وہ نور کے لیے نہیں حور کے لیے تھی۔ نوفل کی آنکھیں شدت ضبط سے لال ہوگئی تھیں. ایک بہن کو وہ کھو چکا تھا۔ اور اب حور… !! اسے یقین نہ آ رہا تھا کہ اسکی اپنی بہن۔ اتنا کیسے گر سکتی ہے۔ ابیہان نے نوفل کے کاندھے پر ہاتھ رکھ اُسے تسلی بھری تھپکی دی ۔ ہم آج اس لڑکی نادیہ کو اپنی حراست میں لینے جا رہے ہیں۔ اسکے اریسٹ وارنٹ جاری ہو گئے ہیں۔ افسوس ! ہمیں آپکی بہن حور کو بھی حراست میں لینا پڑے گا ۔ وہ بھی اس سب میں شامل ہے۔
جاری ہے۔
انسپکٹر — ! میری صرف ایک بہن تھی۔ نور – جواب اس دنیا میں نہیں رہی۔ اس قتل میں جو جو شامل ہیں ۔ آپ سب کو اریسٹ کریں اور کڑی سے کڑی سزا دیں ۔ سخت گیر لہجے میں کہتے نوفل پولیس اسٹیشن سے باہر نکل گیا ۔ ابھی یار! یہ اتنا آسان نہیں ہے ۔ گھر میں ابھی ایک بیٹی کا صف ماتم بچھا ہوا ہے ۔ دوسری کو اریسٹ کیا۔ تو — ماں باپ کے دل پر کیا بیتے گی؟؟ اس لیے اگر کہو تو میں آرام سے اس سب میں حور کا نام ہٹوا سکتا ہوں فیصلہ آپ کا ہے ۔ انسپکٹر شیر دل نے فیور دیا ۔ شکریہ یار – حور نے جو کیا ۔ وہ بہت غلط ہے ۔ اور ناقابل معافی بھی۔ لیکن شاہ ویز انکل اور فروا آنٹی مزید اب کوئی دکھ برداشت نہیں کرپائیں گے … !! ابیہان نے سمجھ داری سے معاملہ حل کیا ۔ باہر آیا تو نوفل وہاں نہیں تھا ۔ ابیہاں اسکے لیے کافی پریشان ہوا ۔ آفتاب علی شاہ اور فرقان علی شاہ کو کچھ دن پہلے ہی عدالت نے فیصلہ سنا دیا تھا۔ ایک بھائی کو عمر قید کی سزا ہوئی تھی۔ تو دوسرے کو پھانسی کی۔ ابرار شاہ بھی۔ پولیس کی حراست میں تھا ۔ لیکن نہ وہ زندوں میں تھا۔ نہ مردوں میں اپنی محبت کو موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد اسکے باپ نے اُسے جس فلیٹ میں رکھا تھا ( نظر بند) وہ کافی عرصہ سے واہاں تھا۔ اور وہ وہاں نشے کا عادی ہو گیا تھا۔ اور جب پولیس افیسرز نے وہاں چھاپہ مارا تو اُسے بے سدھ حالت میں گرفتار کیا ۔ اور ہاسپٹل میں ایڈمٹ کروایا۔ اسکا فیصلہ ابھی عدلات نے نہیں سنایا تھا۔ ملک پاشا کے خلاف بھی ثبوت پولیس نے اکھٹے کر لئے تھے۔ لیکن وہ کہیں نہ ملا کہنے والے یہی کہتے کہ وہ روپوش ہو گیا ہے ۔ جبکہ حقیقت کوئی نہیں جانتا تھا۔ کہ وہ فوج کے کمانڈوز کے انڈر ہے۔ سپیشل فورس میجر سکندر کی حراست میں ہے ۔****
آپ ٹھیک ہیں ناں بابا ! مریم نے کرنل صاحب کو سہارا دیتے اٹھا کر بٹھایا۔ اور سوپ پلاتے دھیرے سے کہا۔ تو انہوں نے اثبات میں سریلایا ، بابا ! آپ نہیں جانتے – ! ! آپکو صحیح سلامت دیکھ کر مجھے کتنا سکون ملا ہے !! میں – بہت ڈر گئی تھی ۔ مریم نے اپنا درد چھپاتے باپ سے پیار سے کہا ۔ بیٹا ہماری فوج سے کوئی بازی نہیں لے جا سکتا۔ اان دہشت گردوں نے مجھے قید میں رکھا۔ ٹارچر کیا لیکن میں ہمت نہیں ہارا۔ ان سے۔۔۔ مجھے یقین تھا ۔ کہ میرے بہادر جوان مجھ تک ضرور پہنچیں گے۔ پاس بیٹے کیپٹن رضا کی طرف فخریہ نظروں سے دیکھتے کیا ۔ وہ کافی حد تک اب بہتر ہو گئے تھے۔ لیکن کمزوری ابھی بھی تھی۔ حقیقت سامنے آنے پر کیپٹن رضا نے مریم کو بحفاظت گھر پہنچایا تھا۔ بجلی کے کرنٹ سے وہ پثر مردہ ضرور ہوئی تھی۔ لیکن کیپٹن رضا کی ایکسٹرا کٸیر سے وہ جلد صحت یاب ہوگئی تھی۔ ہاں یہ اور بات تھی کہ اتنا سب ہو جانے کے بعد وہ یونیورسٹی نہیں گئی تھی دوبارہ۔ اور نہ ہی ندا سے ملنے کی ہمت جٹا پائی تھی۔ جو بھی تھا۔ وہ خود کو قصور وار سمجھتی تھی۔
کرنل صاحب کو میڈسین دے کر وہ دونوں باہر آئے ۔ تھینک یو کیپٹن !مریم نے دل سے شکریہ ادا کیا ۔ کس لئے ؟ وہ حیران ہوا؟
تھینکس سب کے لیئے ۔ ! جو میرے لیے کیا ۔ رضا کو ممنونیت بھرے انداز میں کہا۔
! اتنی کٸیر کی۔ میری۔۔ میرے ڈیڈ کی۔۔۔!
مریم ! تم نے جو کیا وہ غلط تھا۔ لیکن تمہارا اراده غلط نہ تھا۔ بلکہ تمہاری وجہ سے وہ اتنا بڑا گینگ بے نقاب ہوا ۔ اور نہ نجانے کتنی لڑکیاں اور ان کا شکار ہوتیں۔ رضا نے اُسے مزید بات کرنے سے روک کر کہا ۔ مریم کی آنکھیں نم ہوئیں رضا اسکے قریب آیا۔ کیا ۔۔ وہ مجھے معاف کردے گی ؟ ایک اُمید سے پوچھا۔ رضا نے اسکے آنسو صاف کیئے ۔۔ ! جب حقیقت پتہ چلے گی۔ تو ضرور کر دے گی ۔ کچھ بھی ہو تم دوستی بھی تو نبھا لی گئی ۔ رضا نے اسکا گلٹ کم کرنا چاہا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
اچھا ۔ ! اب چلتا ہوں ۔ کل پھر آؤں گا۔ اگر کوئی مسئلہ ہوا تو ۔ نمبر ہے ناں ۔۔ !! فون کال کر سکتی ہو ۔ رضا نے بہت دھیمے اور سنجیدہ لہجے میں کہا۔ مریم اثبات میں سر ہلاتی دروازہ لاک کرتے اندرآئی :- رضا کے جانے کے بعد مریم کے موبائیل پر کال آئی۔ وہ حیران ہوئی خیریت — ؟؟ ابھی تو آپ گئے ۔ ؟؟ وہ واقعی حیران ہوئی ہے مریم میں سیدھا سا بندہ ہوں۔ گھما پھرا کر بات نہیں کرنا آتا.simple and straight.
Will you marry me..?
بے دھڑک بنا سانس لیے رضا نے جھٹ سے بول دیا مریم ہکا بکا رہ گئی ۔ کچھ سمجھ نہ آیا کہ کیا جواب دے — کیا ہوا ؟ چپ کیوں ہوگئی ۔۔ ؟ کسی ڈر کے تحت پوچھا . آپ نے – یوں ۔ اچانک ۔ ؟؟ مریم کا دل دھڑکنے لگا تھا رضا کے لب خود بخود ہی مسکرا دہے۔ اسکا آپ کہنا ہی اسے سب سمجھا گیا تھا ۔ اتنی جلدی نہیں ہے۔ سوچ سمجھ کر جواب دینا۔ گاڑی اسٹارٹ کرتے وہ مسکراتے بولا ۔ تو مریم خاموش ہو گئی کال – بند ہو چکی تھی ۔ ایک لمحے کو آنکھوں کے سامنے سکندر کی شبیہہ ابھری ۔ دل پر جیسے کوئی بوجھ آن پڑا ہو۔ ایک سرد آہ بھری۔ زندگی نے پہلی بار کسی کے ساتھ کی چاہ کی تھی ۔ لیکن ۔ جو حالات ہوئے۔ اس کے بعد نہیں ! میں انھیں Deserve – نہیں کرتی ۔ اور وہ تو – ندا سے : !! میں ان کے راستے میں بھی کبھی نہیں آؤں گی ۔ آنسو پونجھے۔ پتہ نہیں۔ ندا مجھے معاف پائے گی بھی یا نہیں ؟؟ رونے میں تیزی آ گئی۔ اُٹھ کر گارڈن میں آگئی۔ تبھی مغرب کی اذان ہوئی دھیرے سے آسمان کی طرف دیکھا۔ اذان کا جواب دیا۔ میں ہمیشہ آپ دونوں کے لیے دعا کرتی رہوں گی ۔ آپ دونوں ہمیشہ خوش رہو – آنسو صاف کرتی ۔ وضو بنانے چلی گئی۔ ****
ہاتھ مار کر سارا کھانا دور اچھالا ۔ آنسو ضبط کے باوجود بہتے چلے جا رہے تھے کہ جیسے کسی کڑے امتحان سے گزر رہی ہو۔ مشال حیرت سے حور کو دیکھے چلی گئی ۔ کھانے کی ٹرے اچھالی تھی ۔ جس سے کچھ سالن کی چھینٹیں اس پر بھی گزریں۔ حور جھٹکے سے اُٹھی ۔ آپ کو میری کہی ایک بات سمجھ نہیں آتی ۔ ؟؟ نہیں کھانا مجھے کچھ بھی نکلیں یہاں سے ! اپنا چہرہ دور کریں مجھ سے — ! غصے اور نفرت سے کہتے اُسے ہوش نہ تھا ۔ کہ وہ کیا بولے جا رہی ہے۔ حور — !جسٹ ریلیکس – ! میں جا رہی ہوں۔ مشال نے خود پر ضبط کرتے کچھ بھی کہنے سے خود کو باز رکھا۔ زمین پر پڑے سارے برتن اٹھائے ٹرے میں رکھے ۔ ایک نظر حور کی پیٹھ کی طرف دیکھا نفی میں سرہلایا۔ کپڑے صاف کرنے کی غرض سے واش روم میں گی ۔ حور آنسو پونچھی لیکن پھر سے آنکھیں نم ہونے لگتیں کھٹکے کی آواز پر ایک بار پھر غصہ سے مڑی۔ لیکن اس بار نوفل کو سامنے پاکر حور کا دل بہت بری طرح دھڑکا ۔ کیوں ؟ کیوں کیا ؟ یہ سب ؟ نوفل غصہ کو ضبط کرتا دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا حور کے پاس آیا۔حور سخت ڈری تھی۔ ۔ کیا ہوا بھا ؟؟ ڈرتے ڈرتے پوچھا ۔ خبردار ! خبردار جو مجھے بھائی کہا۔ انگلی اٹھاتے وارن کہا حور ڈر کے مارے پیچھے ہٹی۔ نوفل کے غصے کو وہ بھانپ چکی تھی ۔ کیا ۔ کیا کمی رہ گئی تھی ہمارے پیار میں ؟ جو غیروں کے ساتھ مل گئی ، لہجے میں دُکھ اور درد بول رہا تھا ۔ پل کے ہزارویں حصے میں حور کو اندازہ ہو گیا ۔ کہ وہ سب جان گئے ہیں۔ آنکھیں سختی سے بھینچ لیں۔ کوئی ۔ اتنا کیسے گر سکتا ہے حور ؟ کہ اپنے بہن بھائی تمہارے لیے پرائے ہو گئے ۔ دشمن ہو گئے ۔ ؟؟ نوفل اسکے بہت پاس آیا۔ وہ ڈر کے پیچھے ہٹی ۔ تبھی نوفل نے پاس پڑا واس اٹھا کے زمین پر پٹخا۔ اس سے اپنا غصہ کسی طرح سے کنٹرول نہیں ہو رہا تھا حور روتے ہوئے پیچھے ہٹتی چلی گئی۔ پلیز ! بھای – امعا۔۔۔ ف- دہلتے دل سے روتے ہوئے کہا ۔ معاف ؟ کس کس بات کی معافی مانگو گی ؟ ہاں … تمہیں معاف کر دیا ۔ تو قیامت کے دن نور کو کیا منہ دکھاؤں گا ۔ ؟ کبھی نہیں ۔ ! تمہیں اپنے ہاتھوں سے میں !! کہتے ہی حور کے گلا پر ہاتھ کا دباؤ ڈالا وہ جو – نور کے نام پر حیرت میں آئی تھی۔ گلے پر ہاتھ کا دباؤ محسوس کرتے سانس رکنے لگی۔ مشال جو شور کی آواز سن کر واش روم سے باہر آئی ۔ نوفل اور حور کی سچویشن دیکھ سخت گھبرا گئی ۔ آگے بڑھ کر نوفل کے ہاتھوں سے حر کو چھڑانا چاہا – کیا۔ کیا کر رہے ہیں ۔ ؟ پلیز – چھوڑیں اسے۔ !! مشال بمشکل نوفل کے ہاتھوں سے اُسے چھڑا پا رہی تھی ۔ لیکن ناکام تھی۔ حور کی آنکھیں ابل کر باہر آ رہی تھیں۔ دروازہ بھی لاک تھا۔ ورنہ کوئی نہ کوئی ضرور آ کے سنبھال لیتا ۔ پلیز نوفل – خدا کا واسطہ ہے چھوڑ دیں ۔ وہ مر جائے گی۔ مشال نے روتے نوفل کو پیچھے کرنا چاہا ۔ مرجانے دو۔ میں چاہتا ہوں ۔ یہ مر جائے ۔ کاش . کاش میری نور – کی جگہ ۔ یہی مر جاتی. جھٹکے سے اُسے چھوڑا ۔ حور کھانستے ہوئے فوراً پیچھے کی طرف ہوٸ مشال نے آگے بڑھ کر حور کو تھپکی دی۔ اسکا سانس بحال نہیں ہو رہا تھا ۔ مڑ کر روتے ہوئے ایک نظر نوفل پر ڈالی ۔ افسوس سے نفی میں سر ہلایا۔ نوفل کا غصہ ابھی بھی کم نہیں ہو رہا تھا ۔ تم ٹھیک ہو حور؟ تسلی اور حوصلہ دیتے پوچھا۔ حور نے مشال کا ہاتھ جھٹکا ۔ اس بات پر نوفل کو مزید غصہ آیا پکڑ کر مشال کو بازو سے سائیڈ پر کیا ۔ تم ۔ تم اس لائق ہی نہیں ۔ کہ کوئی تم سے ہمدردی کرنے … پلیز نوفل ! چھوڑ دیں اُسے ! مشال پھر سے بیج میں آئی۔ چھوڑ دوں ؟ اس اس بدبخت کو چھوڑ دوں ۔ دانت پیستے وہ غصے سے پھینکارا ـ کہ مشال بھی سہم گئی ۔ جانتی ہو ناں! اب کی بار حور کیجانب غصہ سے مڑا کہ وہ دو قدم پیچھے ہٹی۔ وہ گولی تمہارے لیے تھی ۔ لیکن یہ۔۔۔ جو تمہارا چہرہ ہے ناں ۔ شوٹر اس سے – اس سے دھوکہ کھا گیا اور تمہاری جگہ میری نور – چلی گئی ۔۔ !! اب کی بار وہ رو دیا ۔ رونے میں تڑپ تھی ۔ مشال تو سکتے میں آگئی ۔ اور حور روتے ہوئے بیٹھتے چلی گئی آج وہ تڑپ گئی اُسے یقین نہ آیا۔ نوفل کی باتوں پر … وہ بس روئے جارہی تھی تکلیف تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی ۔ اپنی بہن کی موت کی وجہ وہ خود تھی۔ یہ سوچ دماغ کو جھنجھوڑ کے رکھ رہی تھی پل پل مر رہی تھی وہ اپنا آپ زمین پر بوجھ لگنے لگا۔ یہ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟ مشال اب خود کو چھوڑ نوفل کی جانب بڑھی۔ پتھرائے لہجے سے پوچھنے لگی۔ یہی یہی سچ ہے۔ اس نے غلط کام کیئے ۔ ! اپنی ضد کو محبت کے لبادے میں اوڑھے ہر حد پار کرگئی یہ !! اور وه – نادیہ ۔ جس کے ساتھ ۔ اس نے یہ سب مل کر کیا۔ خود کو بچانے کی خاطر اُسی نے اسے مارنے کے لیے شوٹر ہائر کیا ۔ اور وہ نور؟؟ زمین پر بیٹھنا چلا گیا۔ دونوں بازو گھٹنوں پر رکھے وہ ضبط کے کڑے مراحل سےگزر رہا تھا ۔ مشال ہچکیوں سے روتی نوفل کے پاس ہی ٹک گئی۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ حور ایسا بھی کچھ کر سکتی ہے۔ ساری ہمدردی اور چاہت ایک پل میں ختم ہوئی تھی ۔ نور کی موت کی زمہ دار کو وہ کیسے معاف کر سکتی تھی ۔ دونوں میاں بیوی اس وقت ایک دوسرے کا غم بھلانے میں تسلیاں بھی نہیں دے پا رہے تھے۔ الفاظ تھے کہ ختم ہو گئے تھے۔ لیکن آنسو نہ ختم ہوئے ****
ابیہان کاریڈور سے گزر رہا تھا کہ فروا بیگم سے ٹکراؤ ہوا اِن چند دنوں میں وہ صدیوں کی بیمار لگ رہی تھیں۔ آپ ٹھیک ہیں؟ لہجہ دھیما تھا۔ بمشکل مسکراتے اثبات میں سر بلایا ۔ انہیں تھامتا وہ صوفے پر بٹھاتے ابیہان خد ان کے قدموں میں ہی بیٹھ گیا۔ ان کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے۔ فروا بیگم کے آنسو ایک بار پھر سے بہہ نکلے۔ میری چھوٹی مما ہیں ناں۔آپ۔۔؟؟ بہت بہادر ہیں ! ہی ناں ؟؟ ابیہان نے ان کے آنسو صاف کرتے محبت بھرے لہجے میں کہا ۔ فروا بیگم نے سر جھکا لیا۔ کہاں برداشت ہو رہا تھا۔ وہ بیٹی جس کو نازوں سے بالا – رخصت کرنا تھا پیا کے ساتھ۔ منوں مٹی میں جاسوئی تھی ۔ دل میں درد بڑھتا جا رہا تھا۔ ابھی بیٹا ! مجھے نور کی قبر پر لے چلو ! لجاجت سے کہا !
لے چلوں گا ۔ بس آپ روئیں مت ، ابیہان نے پھر سے ان کے آنسو صاف کیئے ۔ موبائیل پر کال آئی۔ تو وہیں بیٹھے بیٹھے رسیو کر گیا۔ آفس سے کال تھی سن کر بند کر دی — چھوٹی مما- آپ وعدہ کریں مجھ سے ! اب روئیں گی نہیں۔ !! نور کی روح کو بہت تکلیف ہوگی آپ کے اسطرح رونے سے….!! فروا بیگم نے اثبات میں سر ہلایا۔ ماہیر بیٹا ! یہاں آؤ ! وہاں کیوں کھڑی ہوگئی .. ؟ فروا بیگم کی اچانک نظر ماہیر پر پڑی۔ ابیہان بھی چونکا۔ ماہیر آنسو صاف کرتی – فروا بیگم کے پاس آکر بیٹھ گئی ۔
آپ مت روئیں ! آپ کے رونے سے ہمیں بھی تکلیف ہوتی ہے ۔ اور بی جان کہا کرتی ہیں کہ جو روحیں بہت نیک ہوتی ہیں ۔ اللہ انھیں بہت جلدی اپنے پاس بلا لیتا ہے ۔ میری مما بھی !! کہتے کہتے ماہیر رودی۔ آپ مجھے چپ کروانے آئی ۔ اور پگلی خود رودی – فروا بیگم نے اسکو پیار سے گلے سے لگایا تو وہ اور زور سے رونے لگی. ابیہان نے نفی میں سر ہلایا۔ اور بہت ضبط کیا۔ ماہیر کے آنسو اُسے تکلیف اور غصہ دلا رہے تھے ۔ ! نہیں۔۔ آنٹی ۔ میں نے اپنی مما کو نہیں دیکھا۔ لیکن وہ ہوتیں تو! تو آپ اور بڑی مما کی طرح ہی ہوتیں۔ ماہیر نے روتے ہوئے دل کی بات کہہ دی ۔فروا نے اسے پیار سے تھپکی دی ۔
اگر آپ کا رونے کا کام ختم ہو گیا۔ تو آپ زرا روم
میں تشریف لائیں۔ ابیہان اسکے رونے پر ضبط سے طنز کرتا۔ وہاں سے اٹھا ۔ ماہیر نے نروٹھے پن سے اسے دیکھا۔ جاؤ بیٹا ۔ ! کوئی کام ہوگا۔ فروا بیگم نے بھی ماہیر کو پیار سے کہا تو وہ اٹھتے ہوۓ ابیہان کے پیچھے روم میں آئی ۔ تو ابیہان کہیں نظر نہ آیا ۔ پلٹی تو ابیہان دروازے کو لاک لگا کر ماہیر کی جانب بڑھا۔ مسز ابیہان کی آنکھوں میں سمندر ہے۔ جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ؟ جبکہ جانتی ہیں۔ اچھی طرح کہ یہ آنسو اس دل پر گرتے ہیں۔ ماہیر کے گالوں سے آنسو صاف کرتے۔
قریب ہوتے گھمبیر لہجے میں کہا۔ تو ماہیر کا سر جھک گیا۔ مجھے اپنی ماہی – ہنستی مسکراتی اور شرارتیں کرتی پسند ہے۔ وہی – ماہی — جو – میری زندگی میں بے دھڑک گھستی چلٕی آئی – روتی – منہ بسورتی یہ لڑکی ۔ مجھے – نہیں پسند – منہ بگاڑ کر کہتے وہ ماہیر کو خفا کر گیا۔
اب – دل دُکھے تو بندہ روئے بھی ناں ۔۔ ؟ منہ پھیرا ۔ اب کوئی دُکھ نہیں ۔ صرف خوشیاں اور مسکراہٹیں – اچھا ۔ ادھر دیکھو ۔۔ میری طرف ابیہان نے ماہیر کو کاندھوں سے پکڑ اپنی طرف موڑا ۔ ناراضگی ہنوز برقرار تھی ۔ شام کو جلدی آجاؤں گا۔ اور ایک سرپرائز کے ساتھ آؤں گا جسے دیکھ میری ماہی خوشی سے جھوم اٹھے گی۔ تھوڑا اور قریب ہوتے بالوں کی لٹ کو کانوں کے پیچھے اڑسا ۔ کیسا سرپرائز — : ماہیر کی آنکھیں سرپرائز پر کھل سی اٹھیں ۔ سرپرائز بتایا نہیں جاتا میری جان – شام تک کا wait کرو اور نہاں ! میں آؤں تو ۔ مجھے ۔ اس حالت میں نہ ملو۔ روتی بسورتی سمجھی ۔ ؟؟ ماتھے پر پیار بھرا بوسہ دیتے حق جتایا ۔ ماہیر آسودگی
سے مسکرائی اور اثبات میں سر ہلایا۔ ایسے فرمانبرداری دکھاؤ گی۔۔ تو ۔ کیسے ۔ جاپاؤں گا؟ ادل کو بے ایمان ہوتے دیکھ بے چارگی سے بولا۔ اب فرمانبرداری پر بھی گلہ ؟ نروٹھے پن سے کہا۔ اس سے پہلے کہ مزید کچھ کہتی۔ ابیہان نے اسکے الفاظ لبوں سے چن لیئے ۔ اور وہ حق دق رہ گئی ۔ اپنی تشنگی اور دیوانگی لیوں کے ذریعے ماہیر میں انڈیل کر وہ اب اسے آزاد کر چکا تھا۔ ماتھے کے ساتھ ماتھا جوڑے آنکھیں موندے۔ دونوں ایک دوسرے کو محسوس کر رہے تھے ۔ جلدی آؤں گا ۔ ” گھمبیر لہجے میں کہتے وہ اپنی سانسوں کی مہک ماہیر کے پاس ہی چھوڑ گیا۔ اور وہ اس کے سحر میں جکڑی وہیں کھڑی رہ گئی – ### مجھے صرف اتنی ہی Force چاہیئے ۔ میرا یہ کام کرنا ہے۔ آپ نے !! نوفل فون پر انسپکٹر شیر دل سے مخاطب تھا۔
اتنے میں مشال روم میں داخل ہوئی ۔ دونوں نے ہی حور کے متعلق تمام بات اپنے تک رکھی تھی گھر میں سوائے ابیہان کے اور کوئی نہ جانتا تھا ۔ مشال کو دیکھ کر فون بند کر دیا۔ مشل ! آدھے گھنٹے تک ہمیں نکلتا ہے۔ ضروری جگہ جانا ہے۔ موبائیل پر مصروف وہ مشال کو بنا دیکھے بولا۔ کہاں ؟ سوال پر خفگی سے مشال کی طرف دیکھا۔ آئی مین خیریت – ؟ یوں اچانک ۔ ؟؟ وہ اس کی نظروں سے گڑ بڑا گئی۔ خیریت ہی ہے۔ آپ تیار ہوں۔ میں مما کو بتا کر آیا۔ کہتے ساتھ ہی سنجیدگی سے باہر کی طرف بڑھ گیا۔ مشال اسکی چوڑی پشت کو دیکھتی لمبی سانس لیتی رہ گئی۔۔ یہ شخص – Impossible ہے ۔ کبھی کسی وقت بھی کچھ سے ہو جائے پتہ ہی نہیں چلتا — ! اور وہ خود اتنا بڑا قدم اٹھایا ۔ نجانے کیا تھا؟؟؟ مشال کے دماغ میں ایک پل کو نہ سوچا۔ جس دن حقیقت کھلے گی ۔ تو ؟؟ ایک منٹ ! نوفل – کسی نادیہ کا نام لے رہے تھے ! دماغ میں جھپاکا ہوا۔ دل 120 کی رفتار ے دھڑکا۔ یہ نادیہ کون ہو سکتی ہے ؟ اسکا ہم سے کیا تعلق – ؟؟ خیر – نوفل سے پتہ چل ہی جائیگا۔ ابھی تو ریڈی ہو جاؤں. یہ نہ ہو ۔ پھر سے ناراض ہو جائیں۔ ***
کیا ہوا سر آپ کچھ پریشان ہیں۔ رضا ، سکندر کے پاس بیٹھا سوچ میں ڈوب کو آکر چونکایا ۔ گہری سانس خارج کی ۔ ملک نے بہت مار کھائی ہے ۔ لیکن زبان نہیں کھولی۔ اتنا میں جانتا ہوں۔ اسکے پیچھے کوئی غیر ملکی کاندھے کام کر رہے ہیں۔ پر ملک مر جائیگا۔ ان کا نام نہیں لے گا۔ بہت سوچتے ہوئے کہا۔ سر – ! آپ اپنا کلیہ آزمائیں ۔ رضا نے حل پیش کیا ۔ سکندر نے ایک نظر رضا پر ڈالی ۔ اور سر اثبات میں ہلاتا اُٹھا۔ سر ! ایک بات کرنی تھی آپ سے۔۔ !! جھٹ سے مدعے پر آیا۔ سر ! وہ میرا بڑا ہونے کے ناطے آپ سے کہنا تھا۔ تھوڑی جھجک آرہی ہے ۔ لیکن کہنا بھی ضروری ہے۔ رضا تھوڑا جھجھک گیا ۔ سکندر کی پیشانی پر بل پڑے۔
کیا کہنا چاہ رہے ہو ؟ صاف کھل کے کہو ۔ سر! وہ رشتہ لے کر جانا ہے آپ نے۔ لڑکی پسند کرلی ہے۔ وہ بھی راضی ہے ! اماں حضور یہاں ہیں۔ نہیں۔ ان سے بات ہوئی ہے۔ انہوں نے آپ کا بولا ہے۔ آپ جانتے ہیں۔ آپ کے اور اماں کے علاوہ میرا کوئی نہیں ہیں دنیا میں۔ اس لیئے یہ کام بھی آپکو ؟ – تمہیں لگتا ہے۔ مریم کے ساتھ تم خوش رہ سکو گے ؟ ؟ رضا کی تقریر ابھی جاری تھی کہ سکندر نے ٹوک دیا ۔ آپ جانتے ہیں؟؟ حیرت سے پوچھا۔ رضا ! تمہیں صرف زبان سے چھوٹا بھائی نہیں مانا تمہارے ہر لمحے کا پتہ ہے مجھے کہتے آگے بڑھا۔ کہ پھر سے پلٹا۔ اور یہ جاسوسی نہیں Care ہے۔ بہت پیار سے کہتا وہ نیچے – Basement کی جانب بڑھ گیا ۔ جہاں ملک کو بلیک روم میں رکھا گیا تھا ۔ اب وہ اُسے ٹیلی پیتھی کے ذریعے سب اگلوانا کا ارادہ رکھتا تھا ۔ اس عمل کا استعمال وہ بہت کم کرتا تھا لیکن جب بھی کرتا اپنے ملک کی خاطر کرتا تھا ۔ حد ہے ! ابھی کچھ سوچا۔ وہیں سر کو پتہ چل جاتا ہے. بہت اوپر کی چیز ہیں ۔ رضا دل ہی دل میں ایک بار پھر سے سکندر سے متاثر ہوتا مسکرایا تھا ***
گاڑی ڈرائیو کرتے نوفل کی خاموشی کو مشال نوٹ کر چکی تھی لیکن کچھ بھی کہتا یا پوچھنا ضروری نہ سمجھا۔ دو گھنٹے کی مسلسل – ڈرائیو کے بعد اب وہ ایک نواحی گاؤں میں پہنچ گئے تھے۔ زیادہ نہ سہی لیکن کچھ حد تک سڑکیں ہموار ہی تھیں۔ دن کے بعد ان بعد اب سپہر ہو رہی تھی۔ لہلہاتے کھیت تاحد نگاہ تک مشال کو بہت بھلے معلوم ہو رہے تھے وہ باہر دیکھنے میں۔ مگن تھی کہ نوفل نے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ پر رکھا۔ مشال کوتو مانو 100 والٹ کا کرنٹ لگا ہو۔ سانس ہی رک گئی ۔ مشال – دھیرے سے لیکن محبت سے پکارا۔ اور اسی ایک یکار کی تو وہ دیوائی تھی۔ دھیرے سے دھڑکتے دل سے پلٹ کر دیکھا۔ کیا کچھ نہ تھا اسکی آنکھوں میں اور پھر دھیمے لہجے۔ میں ہی وہ اُسے نادیہ سے متعلق اپنے گھر اور گاؤں کے متعلق بنانے لگا۔ داجی کی موت پر نوفل کی آنکھیں اشکبار ہوئیں. شوہر کی آنکھ کے آنسو مشال کو بھی تڑپا گئے گاڑی جھٹکے سے رکی ۔ خود پر ضبط کرتا وہ مشال کی طرف مڑا ۔ مشی ! آج میں یہ سب یہاں ختم کرنے آیا ہوں ۔ جو کہانی نادیہ نے شروع کی اسکا – The End کرنے آیا ہوں اور اس میں مجھے تمہارا ساتھ چاہیئے ۔ بہت رسان سے کہتا وہ مثال کو معتبر کر گیا۔ میں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہوں نوفل – تاحیات -اپنی آخری سانس تک۔۔۔!! پریقین لہجے سے کہتے نوفل کے ہاتھ پر اپنے ہاتھ کا دباؤ بڑھایا۔ نوفل پُر سکون ہوا ۔ اور گاڑی سے باہر آیا ۔ مشال بھی اسکی تاٸید میں گاڑی سے باہر نکلتی اس کے ساتھ آن کھڑی ہوئی ۔ دونوں کا رخ بڑی حویلی کی طرف تھا۔ اور دونوں نے ایک ساتھ قدم آگے بڑھائے #
ہا ہا ہا ہا !!کٹیں گے ۔ چڑیا کے پر کٹیں گے !! وہ تڑپے گی ۔ روئے گی – ! سائیں جی پورے صحن میں غصہ سے شور مچاتی اٹھکیلیاں کر رہی تھی ۔ نادیہ اپنے حجرے سے باہر نکلی اور سائیں جی کو زور کا دھکا دیا۔ کیا کر رہی ہیں آپ ؟؟ ابھی چوٹ لگ جاتی انھیں- بلال یامین نے آگے بڑھ کر سائیں جی کو اٹھایا۔ اپنی ماں کو لو۔ اور نکلو یہاں سے۔ مجھے اسکا وجود بھی یہاں نہیں چاہتے ۔ سنا تم نے – غصہ سے پھنکاری۔ کٹیں گے پر کٹیں گے۔ روئے گی ۔ تڑپے گی کوئی نہیں آئے گا ؟ ہاہا۔ ہاہاہاہا ۔۔۔ سائیں جی پھر شور مچانے لگی ۔ نادیہ کا پارہ ہائی ہوا تم اسے لے کے جاتے ہو یا میں ؟؟ لے کے جا رہا ہوں۔ پلیز ۔۔۔! آپ اب کچھ مت کہیے گا انہیں۔ بلال یامین نے فورآ بات کائی ۔ آگے بڑھ کر سائیں جی کو تھاما۔ تبھی ہوا کا ایک تیز جھونکا انھیں چھو کر گزرا ۔ پھر جیسے تیز ہوائیں چلنے لگیں ۔۔۔
لو وقت پورا ہوا۔۔۔ تمہارا۔۔۔! ساٸیں جی پھر سے بولی تھی۔ بڑی حویلی کی چوکھٹ پر سب کی نظریں اٹھیں ۔ عثمان صاحب اپنی اہلیہ کے ساتھ باہر آئے۔ دروازہ کی طرف دیکھتے سب کو جیسے سانپ سونگھ رہا تھا۔ دروازہ جھٹ سے کھلا اور آنے والی ہستی کو دیکھ نادیہ کھل اٹھی۔ فوراً آگے بڑھی ۔ لیکن قدم وہیں تھمے تھے وقت وہیں رکا سانس ساکن ہوئی ۔ جب نظرں نے وہ منظر دیکھا۔۔ ؟؟ جس پے دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھی تھی۔
جاری ہے۔
