Takmeel e ishq by Muntaha Chohan NovelR50508

Takmeel e ishq by Muntaha Chohan NovelR50508 Last updated: 4 February 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Takmeel e ishq by Muntaha Chohan

وہ اندھا دھند بھاگی جا رھی تھی ۔اسے اردگرد کا کوی ھوش نہ تھا ۔بھاری بھرکم لہنگا دونوں ہاتھوں سے سنبھالے بس وہ دور تک نکل جانا چاھتی تھی۔ایک بار بھی پلٹ کر نہ دیکھا۔بھاری شال باربار کندھوں سے ڈھلکتی نیچے آتی لیکن وہ رکی نہیں۔بس دماغ میں ایک ہی بات گردش کر رھی تھی "ان درندوں سے بچ کر نکل جاوں" بی جی کی روندھی آواز کانوں میں بازگشت کرتی تو اس کے بھاگنے کی رفتار اور بڑھ جاتی.شام کے ساۓ اب گہرے ہوتے جا رہے تھے ۔جس جگہ وہ پہنچی وہاں رش نہ ہونے کے برابر تھا ۔یہ جہلم کا رپوش علاقہ تھا لیکن صحیح میں یہ کون سی جگہ تھی وہ سمجھ نہ پای۔۔۔کہ تبھی ایک بائیک قریب آکر رکی۔۔۔ اے خوبصورت گرل۔۔۔۔کیا میں آپ کی کوئی مدد کر سکتا ہوں؟اس کا انداز' اسکا دیکھنا اور اس کے الفاظ نے ماہیر کو سلگا کر رکھ دیا۔ ہاں۔۔۔! اپنی شکل یہاں سے دفعان کر دو۔بہت مہربانی ہو گی ۔۔وہ ماہیر تھی ڈرنے یا گبھرانے والی نہیں۔سامنے والے کو چاروں خانے چت کرنے والی ۔۔اتنا کہہ کر ماہیر سوچے سمجھے بنا آگے سڑک کے ایک طرف چلنے لگی۔۔۔۔ ارے ارے اتنا غصہ ۔۔۔اففف۔۔۔اتنی خوبصورتی پر اتنا غصہ سوٹ نہیں کرتا . وہ کوئی بہت ڈھیٹ اور لوفر قسم کا تھا۔ماہر کا راستہ روک کر کھڑا ہو گیا۔۔ تم میں شرم نام کی کوئی چیز ہے یا نہیں؟دفع ہو یہاں سے۔۔ماہیر نے غرا کر کہا ۔۔ بس بس ذیادہ ایکٹیگ کرنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔! اتنی پارسا ہوتی تو شادی سے نہ بھاگتی ۔۔اس شخص نے نخوت سے اسے دیکھتے ہوے چوٹ کی۔۔ماہیر کی نظر اپنے حلیے پر گئ۔پھر لب بھینج کر اسے دیکھا اور اسے ایک تھپڑ رسید کر دیا۔ بکواس بند کرو اور نکلو یہاں سے۔۔انگلی کے اشارے سے دھمکایا۔۔ وہ تو اس لڑکی کی دیدہ دلیری پر حیران رہ گیا۔پھر آنکھوں میں ڈھیر سارا غصہ آیا ۔۔ماہیر سایئڈ سے ہو کر نکلنے لگی ۔۔کہ اس نے ماہیر کو بازو سے پکڑ کر اپنی طرف موڑا۔۔۔۔۔۔ تمہاری اتنی جرأت کہ تم مجھ پر ہاتھ اٹھاو ۔اب بتاتا ہوں میں تمہیں۔۔۔! وہ ایک ایک لفظ چبا کر بولا۔ ماہیر کو کچھ سمجھ نہ آیا کہ کیا کرے ۔پھر ایک لمحہ بھی ضأئع کیے بغیر اس کی بازو پر زور سے دانتوں سے کاٹا۔اس شخص کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی تو ماھیر ہاتھ چھڑا کر بھاگی۔وہ درد سے کراہ کر رہ گیا ۔۔جنگلی بلی ۔۔۔اتنا بول کر وہ بائیک پر جا کر بیٹھا اور بائیک اسی کے پیچھے لگا دی ۔ماہیر اندھا دھند بھاگ رہی تھی ۔۔کبھی کوئی گلی مڑتی کبھی کوئی ۔۔کبھی سڑک پر تو دو منٹ بعد پھر کسی گلی میں گھس جاتی وہ اس شخص کو چکما دے رہی تھی پر وہ اس کے پیچھے پیچھے ہی تھا تبھی وہ ایک بڑے کار پارکنگ ایئریا میں پہنچ گئ اور گاڑیوں سے نکل کر آگے بڑھتی جا رہی تھی۔ پیچھے دیکھا تو وہ بائیک پہ آتا نظر آیا ماہیر سر پکڑ گر رہ گئ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا۔۔ابھی ایک مصیبت سے جان چھڑا کر بھاگی تھی کہ دوسری گلے پڑ گئ۔۔۔ بی جان۔۔۔کہاں پھنسا دیا مجھے۔۔۔!ایڈونچر پسند ہے مجھے۔۔۔لیکن۔۔۔اتنا بھی نہیں۔۔!خود سے بڑبڑاتی وہ آگے بڑھتی گئی۔وہ بہت نڈر تھی۔ خطروں سے کھیلنا بچپن سے اسکی عادت تھی۔۔۔یونیورسٹی تک وہ بہت بہادر ہو گئی تھی اور زندگی کو جینے والوں میں سے تھی ۔۔۔۔ماہیر علی شاہ۔۔۔۔۔ ایک گاڑی پر ہاتھ رکھا تو اس کی ڈگی کھل گئی۔ماھیر حیران رہ گئی۔۔خدا ایسے بھی مدد بھیجتا ہے ۔وہ جھٹ سے ڈگی میں لیٹ گئی اور ڈگی بند کر دی۔اب وہ مطمین انداز میں کان باہر کی آواز پر رکھے ہوے تھی۔ ڈگی کا ہلکا سب ایک سائیڈ سے منہ کھلا ہوا تھا تاکہ خطرہ ٹلے تو وہ باہر نکل سکے ابھی وہ اپنی سوچوں میں غلطاں تھی کہ۔۔۔ یار۔۔۔! جلدی چلو۔۔۔!کتنی دیر ہھ گئی ھے ۔ایک تو یہ سیمینار بھی ناں۔۔۔!!تم پٹواو گی کسی دن۔۔وہ لڑکی تیزتیز بول رہی تھی۔ پلیز مشال آپی ۔۔۔! غصہ تو نہ کریں آپکو پتہ ہے ناں۔۔۔نہ آتی تو سارہ کتنی ناراض ہوتی۔ دوسری لڑکی کی بینی بینی آواز آئی ۔۔۔اب بیٹھو۔۔! جلدی ۔۔سات بج رہے ھیں اور اسلام آباد پہنچتے بھی کم از کم دو تین گھنٹے لگ جائیں گے اور۔۔۔اگر بھائی کو پتہ لگا تو گئے کام سے۔۔۔! وہ گاڑی میں بیٹھ چکی تھیں اور گاڑی سٹارٹ ہوئی ماہیر نے نکلنے کا ارادہ کیا۔۔ لیکن۔۔ پھر رک گئی راہ فرار اچھی تھی اور وہ تھی بھی لڑکیاں ان سے کوئی خطرہ بھی نہیں وہ مزے سے لیٹی رہی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *