Takmeel e ishq by Muntaha Chohan NovelR50508 Takmeel e ishq (Episode 11)
Rate this Novel
Takmeel e ishq (Episode 11)
Takmeel e ishq by Muntaha Chohan
یہ۔۔۔۔ تم۔۔۔ کہاں جا رہے ہو؟ اس شخص نے موباٸیل سے نظریں ہٹاتے راستے کیبجانب یکھا اور حیران ہوا۔
وہ پریشان ہوا تھا۔ ڈراھثور کی طرف سے کوٸ جواب نہ آیا۔ بلکہ سپیڈ مزید بڑھ گٸ تھی۔
اس شخص نے رخ پھیر کے ڈراٸیور کو دیکھا۔ تو بری طرح چونکا۔
کون ہو تم۔۔۔؟؟ گھبراۓ ہوۓ پوچھا۔ جبکہ سکندر نے ایک قہر کی إکر اس پے ڈالی۔ تو وہ بری طرح کانپا۔ سکندر کو وہ جان گیا تھا۔۔ ! کہ وہ اس کا ڈراٸیور نہیں۔۔ کوٸ انٹیلی جینس کا ہی بندہ ہے۔۔ انہیں رپورٹ ملی ہوٸ تھی۔ کہ وہ شک کے داٸرے میں ہیں۔۔ اور وہ نظر میں آچکے تھے۔ ت۔۔۔تتم۔۔۔۔۔ !! وہ شخص ہواس باختہ ہؤا۔ وہ سکندر کو پہچان گیا تھا۔ لیکن وہ یہاں کیسے پہنچ گیا۔۔۔۔ وہ یہ نہ سمجھ سکا۔ گ۔۔۔ گاڑی روکو۔۔۔۔ ! اس شخص نے ہوش میں واپس آتے کہا۔ سکندر نے سپیڈ اور تیز کی۔ اور یہیں وہ غلطی کر گیا۔ اس شخص نے پسٹل سکندر کی طرف کی۔ جسے سکندر نے ایک ہی ہاتھ سے اس کی کلائی پکڑ کر مروڑ دی۔ اور وہ درد سے تڑپ گیا۔ موبائیل چھوٹ کے نیچے گرا۔ وہ گھنی مونچھوں والا شخص جان گیا تھا۔ کہ سکندر سے بچنا ،ممکن، نہیں۔ اس لیے وہ فیصلہ کر چکا تھا۔ کہ اسے کیا کرنا ہے۔ مڑی ہوئی کلائی تھامے وہ سکندر کی جانب مڑا۔ درد برداشت کرتے مسکراتے بولا۔ میجر۔۔۔۔ تمہیں کیا لگا۔۔۔ تم۔۔۔ جیت جاؤ گے۔۔۔؟ طنز تھا۔ سکندر نے غصیلی نظروں سے اسے دیکھا۔ وہ اب بھی مسکرا رہا تھا۔ ہاتھ بڑھا کر ایک بٹن پریس کیا۔ اور بے تحاشا ہنستے چلا گیا۔ یہ ۔۔۔۔ لڑکی۔۔۔۔۔ ملک صاحب تک نہ پہنچی۔۔۔ تو۔۔۔ وہ خود پہنچ جائیں گے۔۔۔۔! وہ شخص جیسے خیالوں میں ہنستے ہوئے بولا۔ بکواس بند کرو۔۔۔۔! اور۔۔۔۔!! غصے سے سکندر نے کہتے بریک لگائی۔ لیکن بریک نہ لگی۔ بار بار کوشش کی۔ لیکن بریک نہ لگی۔ نہ۔۔۔ نہ۔۔۔۔! میجر صاحب۔۔۔۔ نہ۔۔۔ سپیڈ کم کی۔۔۔ تو ۔۔۔۔۔ گاڑی کے ساتھ ساتھ خود بھی اڑ۔۔۔۔ جاؤ گے۔ سکندر کو سپیڈ کم کرتا ہوا دیکھ کر وہ فوراً بولا۔




تم ۔۔۔۔ یہاں تک تو پہنچ گئے۔۔۔۔۔! لیکن واپس نہیں جا پاو گے۔ سکندر نے دماغ کو پر سکون کیا۔۔۔۔۔ وہ ہوش و حواس کھونے والوں میں سے نہیں تھا۔ حالات کو اپنے رخ موڑنے والوں میں سے تھا۔ اب بھی حالات اس کے خلاف تھے۔ وہ دماغ میں لائحہ عمل بنانے لگا۔
ٹھیک ہے۔۔۔! تو پھر ایک ساتھ۔۔۔ مریں گے۔۔۔! سکندر نے بھی ایک آنکھ ونک کرتے اس شخص سے کہا۔ وہ سوالیہ نظروں سے سکندر کو دیکھنے لگا۔ جو گاڑی کی سپیڈ کم کیے جا رہا تھا۔ وہ شخص گھبرا گیا۔
ن۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔ میجر۔۔۔۔۔! سپیڈ ۔۔۔۔ بڑھاؤ۔۔۔! وہ ڈر گیا۔ سکندر اب پرسکون ہو گیا تھا اب۔۔۔! کیونکہ وہ سامنے والے کے دماغ سے کھیلنے کا ہنر رکھتا تھا۔ اس شخص نے موبائیل ڈھونڈنا چاہا تھا۔ لیکن ملا نہیں۔۔۔۔!! دیکھو۔۔۔۔! میجر۔۔۔۔! تم۔۔۔۔ تم غلط کر رہے ہو۔۔۔۔! خود تو مرو گے ۔۔۔ وہ۔۔۔۔ لڑکی ۔۔۔ جو پیچھے ۔۔۔ بے ہوش پڑی ہے۔۔۔ وہ بھی جان سے جائے گی۔
پرواہ نہیں۔۔۔! سکندر اب بھی پرسکون تھا۔ وہ شخص سخت جز بز کا شکار ہوا۔ جھٹ سے ایک بٹن دبایا۔ فرنٹ سیٹ کا ڈور اوپن ہوا۔




الوداع میجر۔۔۔۔! وہ شخص اتنا کہتے ہی کود گیا۔ میجر لب بھینچ کر رہ گیا۔ سپیڈ دوبارہ بڑھا دی۔ سکندر اتنا جانتا تھا۔ کہ وہ گاڑی سے کودنے کے بعد وہ زندہ بچے یا نہ بچے۔۔۔۔ نوفل سے نہیں بچے گا۔ تبھی بلیو ٹوتھ سے آواز ابھری۔
کہاں ہو سکندد ۔۔۔۔! نوفل کی پریشان آواز آئی۔ بہت مزے میں ۔۔۔۔! ٹو مچ انجوائے ۔۔۔۔! سکندر جس نے کبھی مزاق نہ کیا۔ اس وقت اسے نوفل کی بات سے اسے آگ لگی۔ ام۔۔۔۔ ! ٹارگٹ کلئیر ہے۔۔۔۔! نو لڑکیوں کو باز یاب کرایا ہے۔اس میں سے تین کی حالت تشویشناک ہے۔۔۔۔!
ہاسپیٹل پہنچا دیا گیا ہے۔۔۔!! نوفل اسے بریف کرنے لگا۔ گڈ۔۔۔!! سکندر گاڑی کی سپیڈ کو اب کنٹرول نہیں کر پا رہا تھا۔ وہ ایک ہی سپیڈ برساکت ہو گئی تھی۔ عجیب گاڑی کا عجیب سسٹم تھا۔ جسے سکندر کے پاس سمجھنے کا وقت نہیں تھا۔ کال ڈراب ہو گئی تھی۔ سکندر ہیلو! ہیلو! کرتا رہ گیا تھا۔ اتنے میں ندا کو ہوش آیا۔ سر کو تھامے ہوئے وہ اٹھ بیٹھی۔ آنکھوں کے آگے ابھی بھی دھندلا پن تھا۔ تھوڑی دیر تو وہ ہواس قابو کرنے میں لگ گئی۔ لیکن گاڑی کے لگتے مسلسل جھٹکوں نے اسکے ہوش ٹھکانے لگا دئیے تھے۔ اردگرد دیکھتے وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے شخص کو دیکھ کر وہ حیران رہ گئی۔ س۔۔۔ سر۔۔۔۔ ر ۔۔۔ ریحان ۔۔۔۔ آپ۔۔۔۔؟؟ ندا گھبرائی سکندر نے ایک نظر ندا پر ڈالی۔ جس میں بے تحاشا غصہ تھا۔ ندا کو چڑیا جیسا دل زور سے دھڑکا۔ سکندر اس گاڑی کو روکنے کے تمام جتن کر چکا تھا۔ لیکن ناکام رہا تھا۔
پ۔۔۔ پلیز۔۔۔ !! س۔۔۔ ر ۔۔۔ گا ۔۔۔ ڑی روکیں۔۔۔!! ندا بمشکل بول پائی۔ اسے سمجھ نہ آیا کیا بولے۔ پلیز۔۔۔! گاڑی ۔۔۔۔ روکیں ۔۔۔۔ !! ندا تقریباً چلائی۔ بکواس بند کرو۔۔۔۔! آواز نہ۔۔۔۔ آئے۔۔۔۔ اب!!سکندر نے اسے غصے سے لب بھینچے دھاڑتے کہا۔ وہ سخت سہم گئی۔ اور پیچھے سیٹ پر دبک گئی۔ ہیلو۔۔۔! بڈی ۔۔۔۔ !! آواز آ رہی ہے میری۔۔۔۔؟؟ بلیو ٹوتھ سے وہ نوفل سے پھر سے رابطہ جوڑا۔ سکندر۔۔۔ لوکیشن آن کرو۔ نوفل کی آواز پر اس نے فوراً عمل کیا۔ لیکن کال پھر سے کٹ گئی۔ وہ علاقہ خطرناک تھا۔ جہاں وہ اس وقت گاڑی بھگا لئیے جا رہا تھا۔ وہ صرف اسٹیرنگ کو Move کر سکتا تھا۔ اس سے زیادہ وہ بے بس تھا۔ Every thing is under control,, رضانے ہیڈ فون سائیڈ پر رکھا۔ اب وہ اپنے اگلے Step کے لئیے جا چکا تھا۔ جہاں اسکے سچے محب وطن ہونے کی آزمائش تھی۔
######
ہہہہہم۔۔۔۔! تو بہت بڑے تیس مار خان۔۔۔ ہستی ہیں یہ۔ ،،آفتاب علی شاہ،، ابیہان نے فائق کو آفتاب علی شاہ کے بارے میں ساری انفارمیشن اکھٹی کرنے کو کہا تھا۔ اور جو باتیں اس نے بتائیں۔ ابیہان کو وہ پرسنلٹی انٹرسٹنگ لگی. سر ! انہوں نے آپ کے فون کا ڈیٹا بھی نکلوا لیا ہے۔ اور بہت جلد آپ تک پہنچ جائے گا۔۔۔! فائق نے مزید بتایا۔ ام ۔۔۔۔!! اتنے بے تاب ہیں سسر۔۔۔ جی۔۔۔ ! تو ۔۔۔ فائق ایک ملاقات رکھوا ہی دو ان کے ساتھ ہماری۔۔۔!! سر۔۔۔ !! آریو سیریس۔۔۔۔؟ فائق حیران ہوا۔
یسDame serious،،! ابیہان نے لیپ ٹاپ اوپن کیا۔ سر۔۔۔! وہ بہت خطرناک لوگ ہیں۔۔۔! فائق نے وارن کیا۔ مجھ سے بھی زیادہ۔۔۔؟ ایک آنکھ ونک کرتے پوچھا۔ تو فائق مسکرا دیا۔۔۔ کیونکہ وہ جانتا تھا۔ ابیہان جو دکھتا ہے وہ ہے نہیں۔۔۔ اور جو وہ ہے۔۔۔ وہ کم ہی دیکھتا ہے۔ فائق جا چکا تھا۔ ابیہان سیٹ کے ساتھ ٹیک لگاۓ وہ گہری سوچ میں چلا گیا۔




ایک بات تو طے ہے مسز ماہیر ابیہان خان۔۔۔! میری محبت کی قید سے تم نکل نہیں سکتی۔۔۔۔ اب ۔۔۔۔ تم ۔۔۔ضروری ہو اس طرح جیسے دھڑکن ضروری ہے دل کے لیے۔۔۔۔۔! سانسیں ضروری ہیں جینے کے لیے۔۔۔۔ تم ۔۔۔ ضروری ہو۔۔۔۔ میرے عشق کے لیے۔۔۔! میرا ،، قلب عشق ،، ہو تم۔۔۔۔! جو ضرور مکمل ہو گا۔
یہ عشق نہیں آساں۔۔۔۔ اک آگ کا دریا ہے۔۔۔!تجھے مل کے جانا ہے۔۔۔ جینے کا تو۔۔۔ ذریعہ ہے۔۔۔!!
#########
بہت بہت مبارک ہو جان ۔۔۔! آخر کار تمہیں تمہاری محبت ملنے والی ہے۔۔۔اور اس حویلی ۔۔۔۔ کی ۔۔۔ مالکن بننے والی ہو۔۔۔!! نادیہ کی خالہ زاد بریرہ نے نادیہ کو چھیڑا۔
نادیہ نے ایک شرمیلی مسکراہٹ دی۔ آخر کار واقعی وہ نوفل کو پا لے گی۔۔۔۔! اندر تک سر شاری لئے ہوئے تھی وہ اس بات سے !! مت اڑ ہواؤں میں۔۔۔۔! گرے گی منھ کے بل۔۔۔۔!!
آواز کانوں سے ٹکرائی تو ایک لمحے میں نادیہ کے لب سکڑے۔ وہ اسکے دار جی کی منھ بولی بہن زبیدہ تھی۔ جس کا دماغی توازن کبھی کبھار کام نہ کرتا تھا۔ سبھی اسے ،،سائیں جی ،، کہا کرتے تھے۔ اور دار جی کی وجہ سے اسکی عزت بھی کرتے تھے۔ لیکن نادیہ کو ان کی بات سخت نا گوار گزری۔ بکواس بند کرو۔۔۔! نادیہ نے اس کے قریب جا کر اسے کھانا کھاتے غصے سے اسکی جگہ سے اٹھایا۔




ہا۔۔۔۔ ہا۔۔۔ ! ۔۔۔۔۔ ہاہاہا۔۔۔۔! وہ پاگلوں کی طرح ہنسے جا رہی تھی۔ بریرہ خوف زدہ ہو گئی۔ کیونکہ،، سائیں جی،، جو بولتی وہ سچ ہو جاتا۔ دار جی کے ساتھ۔۔۔ تم بھی یہاں سے نکل جاؤ۔۔۔۔ تو تمہارے لیے اچھا ہے۔۔۔۔!! نادیہ نفرت سے زبیدہ بوڑھی کو دھمکا دیا۔ وہ زمین پر اوندھے منہ جا گری۔ منہ پر چوٹ لگنے سے ناک سے خون بحہ نکلا۔ زبیدہ گھبرا گئی۔ اور ڈرتی لڑ کھڑاتی اندر کی جانب بھاگی۔ نادیہ کا غصہ کسی طور کم نہ ہو رہا تھا۔ نادیہ۔۔۔۔! وہ بوڑھی ہیں۔۔۔۔! انھیں ۔۔۔۔ چوٹ۔۔۔ !! جسٹ شٹ آپ۔۔۔۔! نادیہ نے بریرہ کو ڈانٹ دیا۔ بریرہ خاموشی سے اندر کی جانب بڑھ گئی۔ جبکہ نادیہ بے سکون ہو گئی۔ کہیں نہ کہیں ،،وہ بھی سائیں جی،، کی باتوں سے ڈر گئی تھی اندر سے۔۔۔!! اور پریشان ہو گئی تھی۔
########
دروازہ کھولے جیسے ہی وہ اندر داخل ہوئی۔ وہ ٹھٹھکی ویلکم۔۔۔ ویلکم۔۔۔ ! بہت دیر کر دی۔۔۔۔ مہرباں۔۔۔۔ آتے ۔۔۔ آتے۔۔۔۔! سامنے پاکٹ میں ہاتھ ڈالے کھڑے رضا کو دیکھ مریم کا رنگ فق ہوا۔ فوراً سے پیشتر واپسی کے لیے مڑی۔ پر رضا نے اسے پیچھے سے دبوچ لیا۔ اور اسکی کمر کو سینے سے لگایا۔ رضا کے اندر ایک الاو دھک رہا تھا۔





خود کو ختم کر دینا چاہتا تھا۔ اپنے دل کو مار دینا چاہتا تھا۔ جس نے محبت کے لیے ایک غلط لڑکی کا انتخاب کیا۔ چھ۔۔۔۔ چھوڑو۔۔۔۔ مجھے۔۔۔۔! مریم بن پانی کے مچھلی کی طرح تڑپ گئی۔۔ کیوں ۔۔۔؟ کیوں کیا تم نے ایسا ؟ رضا جنونی سا ہوا۔ ک۔۔۔ کیا۔۔۔ کیا۔۔۔۔؟؟ اور چھوڑو مجھے۔۔۔! مریم ایک لمحے کو سہم گئی۔۔۔ لیکن دوسرے لمحے خود کو سنبھال لیا۔ تم۔۔۔ اچھی طرح جانتی ہو۔۔۔! میں کیا کہہ رہا ہوں۔ رضا نے جھٹکے سے اس کا رخ اپنی طرف موڑا۔ اور اس کے منہ کو ہاتھوں میں جکڑا۔ پکڑ میں اتنی سختی تھی۔ کہ مریم سے درد سہا نہ گیا۔ اور رضا کو زور سے دھکا دیا۔ رضا نے اس کے منہ سے ہاتھ ہٹایا اسے دیوار کے ساتھ پن کیا۔ اس لمحے رضا کو خود بھی ہوش نہ تھا۔ وہ کیا کر رہا ہے۔
پا۔۔۔ گل ہو گئے ہو کیا۔۔۔۔۔ تم ۔۔۔۔۔!؟ چھوڑو مجھے ۔۔۔۔!! مریم نے پورا زور لگا کر اسے ہٹانا چاہا۔ لیکن نا کام رہی۔۔ پا۔۔۔۔ گل۔۔۔مس مریم۔۔۔۔ اب۔۔۔ جب تم۔۔۔۔ جیل کی سلاخوں کے پیچھے جاؤ گی۔۔۔۔ تو۔۔۔۔ پاگل پن کیا ہوتا ہے۔۔۔۔! تب اچھے سے سمجھ آئے گا۔ رضا کی بات سن کر مریم ہک دک رہ گئی۔ بے یقینی سے رضا کو دیکھنے لگی۔
اس کا مطلب تھا۔ وہ پکڑی جا چکی تھی۔
########
گاڑی اب ہچکولے لے رہی تھی۔ پیٹرول ختم ہو رہا تھا۔ سپیڈ کم ہو رہی تھی۔ ایسے میں گاڑی کے بلاسٹ ہونے کا چانس بڑھ گیا تھا۔ سکندر کو اپنی نہیں ندا کی فکر تھی۔ وہ اکیلا ہوتا تو اس شخص کو بھی قابو کر لیتا۔ اور اب تک یہاں سے نکل بھی چکا ہوتا۔ لیکن ندا کی وجہ سے وہ پھس گیا تھا۔ اسے کچھ بھی کر کے ندا کو بخفاظت یہاں سے لے کر جانا تھا۔
ندا۔۔۔ ! آگے۔۔۔ آؤ۔۔۔۔! سکندر نے کچھ سوچتے ندا سے کہا۔ وہ ڈر کے سکندر کو دیکھنے لگی۔ سنا نہیں تم نے۔۔۔۔۔! آگے آؤ۔۔۔۔۔۔۔۔! سکندر دھاڑا وہ تھوک نگلتی بمشکل آگے فرنٹ سیٹ پر آئی۔ جس کا ڈور کہیں اڑ چکا تھا۔ ہوا بہت تیز تھی۔ ندا سخت گھبرا رہی تھی۔
آ۔۔۔۔۔ پ۔۔۔۔ گاڑی۔۔۔ روک دیں۔۔۔۔ ناں ۔۔۔۔۔! ندا کو ابھی بھی سمجھ نہ آئی۔ کہ وہ گاڑی کیوں نہیں روک رہے ۔اس کی بات سن کرسکندر نے لب بھینچ کر ایک قہر آلود نظر اس پر ڈالی۔
موت سے کھیلنے کا شوق ہے میرا۔۔۔۔!! کہتے ساتھ ہی اس نے ندا کو کھینچ کر اپنے قریب کیا۔ وہ ٹوٹی ڈال کی طرح اس کے کشادہ سینے سے جا ٹکرائی۔ ایک ہاتھ اسٹیرنگ پر دھرے دوسرے ہاتھ سے ندا کو کمر سے پکڑ کے خود کے مزید قریب کیا۔ کیونکہ جو وہ کرنے جا رہا تھا۔ اس میں وہ بہت بڑا رسک لے رہا تھا۔ ندا کو بتا کر وہ گاڑی سے نہیں کود سکتا تھا۔ کیونکہ وہ جان گیا تھا وہ بہت ڈرپوک لڑکی ہے۔
یہ۔۔۔ یہ کیا۔۔۔۔ کر۔۔۔؟ ندا اسکے بے حد قریب تھی۔ سکندر نے ایک ترچھی نظر اس جھلی کو دیکھا۔ جو اس کی سانسوں کے بہت قریب تھی۔ دونوں کی نظریں ملیں۔ سکندر نے ہاتھ بڑھا کراپنی سائیڈ والا ڈور اوپن کیا۔ اور پلک جھپکتے ہی وہ ندا کو لئیے گاڑی سے کودا تھا۔ ندا جو اسکی گہری بھوری آنکھوں میں کھو سی گئی تھی۔ سکندر کے یوں کرنے پر بے اختیار وہ توازن کھو گئی۔ لیکن سکندر نے اسے نہ چھوڑا مضبوطی سے اپنے ساتھ لگائے وہ نیچے گرتا چلا گیا۔ ندا کو اس نے اپنے سینے میں بھینچ کر خود سے لگایا ہوا تھا۔ کسی قیمتی متاع حیات کی طرح لڑکھڑاتے ہوئے وہ پہاڑی سے نیچے گرتے کہ ایک درخت کی ڈال کو سکندر نے تھام لیا۔ اسے کافی چوٹیں آئیں تھیں۔ لیکن یہ معمولی چوٹیں اس فوجی کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی تھیں۔ ندا۔۔۔ ندا۔۔۔۔!! ادھر دیکھو۔۔۔! میری طرف۔۔۔۔! سکندرنےاسے پکارا۔ جو اس کے سینے سے لگی اس پہاڑی سے لٹک رہے تھے۔ دل تھا کہ ابھی بس باہر آنے کو بے تاب تھا۔ ندا۔۔۔۔ تم سن رہی ہو؟ سکندر نے اسے اونچی آواز میں پکارا تو اس نے ڈر کے اس سنگدل انسان کی طرف گردن اٹھا کر دیکھا۔ جبکہ دونوں بازو ابھی بھی سکندر کی گردن کے گرد مائل تھی۔ ندا۔۔۔! اوپر کی طرف بڑھو۔۔۔۔! سکندر نے اسے دیکھتے کہا۔ ندا نے نفی میں سر ہلایا۔ اور مزید سختی سے اسکے سینے سے لگی۔ look at me,,۔۔۔۔! کچھ نہیں ہو گا۔۔۔۔۔! سکندر ضبط سے بولا۔ ندا کو سمجھانا۔۔۔ اس کے لئیے مشکل ثابت ہو رہا تھا۔ ندا نے نیچے دیکھا۔ وہ ایک گہری کھائی تھی۔
ن۔۔۔۔ ن۔۔۔ نہیں۔۔۔۔! میں۔۔۔ گر۔۔۔ جاونگی۔۔۔۔!! بمشکل لفظ ٹوٹ ٹوٹ کر ادا ہوئے۔ نہیں گرو گی۔۔۔! نیچے مت دیکھو۔۔۔! Just look at. me،، سکندر نے ابھی اسے نرمی سے پکارا۔ ندا نے اسے ڈرتے ہوئے دیکھا۔ کچھ نہیں ہو گا۔۔۔۔! وہ لفضوں کا سحر پھونکنے لگا۔





مجھ پہ بھروسہ ہے؟ دھیرے سے پیار سے پوچھا۔ بے اختیار سے ہی ندا کا سر ہاں میں ہلا۔ تو بھروسہ رکھو۔۔۔! کچھ نہیں ہونے دوں گا تمہیں۔۔۔۔!! سکندر نے دل کی گہرائیوں سے اسے یہ کہا تھا۔ اس کے لہجے کا یقین تھا۔ کہ ندا کو حوصلہ ہوا۔ اور وہ اوپر کی طرفMove کرنے لگی۔ اور بمشکل ہی وہ لڑکھڑاتی اوپر پہنچ گئی۔ اب نیچے جھکی وہ سکندر کو اپنا ہاتھ بڑھا کراسے آنے میں مدد کرنا چاہ رہی تھی۔ سکندر اس کے اس پیارے عمل پر دھیرے سے مسکرایا۔ وہ سکندر تھا۔ اسے سہاروں کی ضرورت کہاں تھی۔ بھاری وہ پلک جھپکتے میں اوپرآ گیا۔ جبکہ ندا حیرت ذرہ اسے دیکھے گئی۔ کبھی اپنے ہاتھ کو کبھی اسے۔۔۔۔!! سکندر نے جھٹکے سے اسے اپنے رو برو کھڑا کیا۔ ندا مکمل اسکی آغوش میں آ گئی تھی۔ تم۔۔ پدی سی مکھی۔۔۔۔! مجھے ۔۔۔۔ کھینچ سکتی ہو۔ آنکھوں میں شرارت جبکہ لہجہ طنزیا تھا۔ میں۔۔۔۔ پدی۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔۔ ندا برا مان گئی۔ سکندر ہنس دیا۔ ندا نے غور سے دیکھا۔ وہ شخص ہنستا ہوا بہت پیارا لگتا تھا۔ اسکی بھوری آنکھیں بھی مسکراتی تھیں۔




کیا ہوا۔۔۔؟ ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟ سکندر نے اسے نوٹ کیا۔ تو ندا یکدم سٹپٹا گئی۔ اور ادھر ادھر دیکھنےلگی۔ آ۔۔۔۔ پ۔۔۔۔ آپ وہاں کیسے پہنچے۔۔۔۔؟ اپنی جھینپ مٹانے کو ندا نے سکندر کا دھیان اپنی طرف سے ہٹانا چاہا۔ اور یہی وہ غلطی کر گئی۔ سکندر کو پھر سے وہ سب یاد کروا دیا۔ وہ یکدم سننجیدہ ہوا۔ اور اب اس کی آنکھوں میں سخت قہر تھا۔ میں نے منع کیا تھا ناں۔۔۔! کہ مریم سے دور رہنا۔۔۔۔! پھر کیوں نہیں مانی میری بات؟؟ سکندر نے اسے قریب ہوتے کہا۔ وہ سخت گھبرا گئی۔ مریم کا نام سنتے ہی ندا کا دل سخت دکھا تھا۔ جس نے دوست ہو کر اسے غنڈوں کے حوالے کر دیا تھا۔ سکندر کے بڑھتے قدموں سے وہ سخت ڈری سہمی پیچھے ہو رہی تھی۔ اٹھتی گرتی پلکیں پھر سے سکندر کے غصے کو کہیں تھپکی دے کر سلانے لگںیں۔
پلیز۔۔۔! مجھے ۔۔۔۔ نہیں پتہ تھا وہ۔۔۔۔!! ندا رو دی۔ چپ ! ایک دم چپ۔۔۔! رو کر۔۔۔۔ تم۔۔۔ سزا سے بچ نہیں سکتی۔۔۔! سکندر نے اسے انگلی اٹھا کر غصے سے وارن کیا۔ وہ سہمی روتی آنکھوں سے سکندر کو دیکھنے لگی۔ بھیگی پلکیں۔ آنکھوں میں نمی۔۔۔ ایک بار پھر وہ نرم پڑ گیا۔ آپ۔۔۔۔مجھے۔۔۔۔ ماریں گے۔۔ سر۔۔۔۔ ریحان۔۔؟؟ ندا معصومیت کی ہر حد توڑتے سکندر سے پوچھا۔ تو سکندر مزید سختی برقرار نہ رکھ سکا۔ کیونکہ وہ سب برداشت کر سکتا تھا۔ لیکن اس چھوٹی سی لڑکی کے آنسو اسے تکلیف دے رہے تھے۔
اپنے آنسو پونچھو۔۔۔! سکندر نے قدرے نرم لہجے میں کہا۔ تو وہ سوں سوں کرتی آنسو صاف کر گٸ۔
نجناے اب ہم کس جگہ ہیں۔۔؟؟ وہ زیرڑِ لب بڑببڑایا تھا۔
یہ ۔۔۔ ایک پہاڑی۔۔ ہے۔۔ اور ہم۔۔ یہاں۔۔ اس پہاڑی پے۔۔؟؟ تم سے پوچھا نہیں۔۔۔! سندر نے اسے ڈپٹا۔
یو۔نو۔۔۔! یہ اب تمہاری وجہ سے ہوا ہے۔۔۔ اسس مشکل میں۔۔ صرف تمہاری وجہ سے پھنسا ہوں۔۔ میں۔۔! سکندر کے غصہ سے کہنے پے وہ پھر رو دی۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔! ٹھیک ہے رونا بند کرو۔ سکندر نے اپنے جزبوں پر بند با ندھتے اس سے نظریں ہٹائیں۔
آپ مجبھ پے غصہ کر رہے ہیں۔۔ سر۔۔۔! وہ منمناٸ تھی۔
اچھا۔۔ چپ کر جاٶ۔۔ یہ رونا۔۔۔ تو بند کرو۔۔ یار۔۔ ! وہ چڑا تھا اس کے رونے سے۔
اب آپ ڈانٹیں گے تو روٶں بھی نہ۔۔؟؟ وہ نیچے والا ہونٹ باہر نکال کے بولی تھی۔
اکندر اس ے یکھتا ہی رہ گیا۔
اچھا نہیں ڈانٹتا۔
سکندر کے کہنے پر ندا کی جان میں جان آئی۔
تھینک یو سر ریحان۔۔۔! آپ نے میری جان بچائی۔۔! ندا نے تشکر سے اسکے سامنے آتے کہا۔
خبردار۔۔۔! جو اپنی جگہ سے کوئی ہلا تو۔۔۔۔۔! کسی سخت مردانہ آواز پر دونوں چونکے۔ ندا تو یکدم اچھلی ہی تھی۔ فورا سکندر کے قریب ہوئی۔ آنکھوں میں وحشت تھی۔ کون ہو تم۔۔۔۔! سکندر نے بھی سختی سے پوچھا۔ اتنے میں چار پانچ اور بندے بھی وہاں آگئے۔ ان کے ہاتھ میں بھی بندوقیں تھیں۔ ہمارے علاقے میں کھڑے ہو کر ہم سے پوچھتے ہو۔۔۔ کون ہیں ہم۔۔۔۔؟؟ وہ پٹھانوں والے انداز میں بولتا سکندر کے چودہ طبق روشن کر گیا۔ یعنی ایک مصیبت سے نکل کر دوسری میں پھس چکا تھا۔






ندا گھبرائی سے سکندر کا بازو سختی سے تھامے کھڑی تھی۔ جبکہ سکندر وہاں موجود ان سب کی حرکات و سکنات سے اندازہ لگانے کی کوشش کر رہا تھا۔ کہ وہ لوگ کس قماش کے ہیں۔
چلو۔۔۔! انہیں سردار کے پاس لے چلو۔۔۔۔۔! ان کا لیڈر بولا اور انہیں چلنے کو کہا۔ سکندر نے خاموشی سے ان کے ساتھ ہو لیا۔ جبکہ ندا نے اسے سختی سے دبوچے رکھا تھا۔ وہ سخت ڈری ہوئی تھی۔ اور سکندر سے ہی اسے تخفظ کا احساس ہو رہا تھا۔ سکندر کے لیے وہ پانچ کی تعداد بہت زیادہ نہ تھی۔ وہ دو منٹ میں ان پر قابض آ سکتاتھا۔ لیکن۔۔۔۔ یہ علاقہ ان کا تھا۔ اور وہ اس علاقے کے لوگوں پر ہاتھ اٹھا کر یہاں دشمنی مول نہیں لے سکتا تھا۔ اسے پلاننگ کے مطابق کام کرنا تھا۔ تا کہ یہاں سے وہ ندا کو لے کر بخفاظت نکل سکے۔ ندا ایک بار گھر سے پھر غائب تھی۔ اور یہ بات نوفل جان گیا تھا۔ کہ ندا ہی وہ لڑکی ہے جسے مریم نے استعمال کیا۔ رضا مریم کو بلیک روم میں قید کر چکا تھا۔ نوفل ندا اور سکندر کو لے کر بہت پریشان تھا۔ کیونکہ سکندر سے وہ مسلسل رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ جو ناکام ہو رہی تھی۔
