Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Takmeel e ishq (Episode 05)

Takmeel e ishq by Muntaha Chohan

کون ہو تم۔۔۔؟ اور۔۔۔۔ کیوں آئی ہو یہاں۔۔۔؟ آنے والی حور تھی کیا مطلب۔۔۔؟ ہیر کے ماتھے پر بل پڑ ے۔

زیادہ معصوم بننے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔! جانتی ہوں میں۔۔۔۔ ابیہان کو تم نے پھنسایا ہو گا۔۔۔ اور ۔۔۔!! ایک منٹ ۔۔۔ ایک منٹ۔۔۔! یہ۔۔۔ سب کیا بولے جا رہی ہیں آپ ہوش میں تو ہیں؟ ماہیر نے مصلحتاً نرم لہجے اپنایا۔ ورنہ غصہ ۔۔۔! کچھ غلط بھی نہیں کہہ رہی ۔۔۔! حور نے ماتھے پر تیوری چڑھائی۔ اچھا جی۔۔۔! بولیں فیر۔۔! ہیر مزے سے اس کی طرف مڑی۔ تم۔۔۔ سمجھتی کیا ہو خود کو۔۔؟؟ اس بھول میں مت رہنا ۔ کہ تم۔۔۔ ابیہان پر قبضہ جمالو گی۔۔۔! آنکھوں میں قہر تھا۔ اچھا۔۔۔۔! پھر کس بھول میں رہوں میں؟ ہیر کو اسے تپا کے مزے آنے لگا تھا۔ ویسے ہی بور ہو رہی تھی۔ اب کچھ مزے کا کرنے کو ملا۔ بکواس بند کرو۔ اور جتنی جلدی ہو۔ یہاں سے نکالو۔ حور نے اسے چٹکی بجا کر اسے حکم صادر کیا۔

اور اگر ۔۔۔نہ نکلوں تو ۔۔۔؟ ہیر آنکھیں گھوماتی اسکے مقابل آئی۔ تو۔۔ مجھے نکالنا آتا ہے۔۔۔! شرافت سے نکلو گی ۔ تو عزت سے جاؤ گی۔ ورنہ حالات ایسے پیدا کر دوں گی۔کہ۔ خود ابیہان تمہیں ہاتھ سے پکڑ کر اسے گھر سے چلتا کرے گا۔ چلو۔۔ جی۔۔۔! پھر میں آپکا یہ ارمان بھی پورا کر دیتی ہوں۔ کرو ایسے حالات پیدا ابیہان پرویزخان ۔۔۔ خود مجھے اس گھر سے ہاتھ پکڑ کر نکال دے۔ ماہیر نے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا۔

تم۔۔۔ مجھے چیلنج کر رہی ہو؟ حور نے غصے سے آنکھیں دکھائ۔۔۔! ہاں جی۔۔۔! “I challenge u”۔۔۔! بہت مطمئن انداز میں کہا۔ اوکے “Just wait and watch” حور غصہ ضبط کرتے بولی اور باہر نکل گئی۔ ماہیر وہی صوفے پر بیٹھ گئ۔

توبہ ہے پوری فیملی عجیب ہی ڈرامہ ہے۔ میں کہاں پھنس گئی ہوں۔۔۔!! ماہیر سوچوں میں ڈوبی پلاننگ کر رہی تھی۔ ہیر ۔۔۔! یہاں سے نکل کر کہاں جاؤ گی۔۔۔؟ یہاں تو صرف ایک ہی جلاد ہے۔ جس سے ۔۔۔ وہ۔۔۔ پرویز انکل ہی بچا لیں گے۔۔۔۔! اس گھر کے باہر تو بہت سارے جلاد ہوں گے۔۔۔ ان سے کیسے خود کو بچاؤں گی۔۔۔؟؟ اور بی جان ان سے کیسے رابطہ کروں۔۔۔۔؟ گھر کے حالات کا کیسے پتہ لگاؤں؟ ماہیر سوچوں میں خود سے ہی مخاطب تھی۔اور پھر ایک فیصلہ کر کے وہ مطمئن ہوگئی۔ جب تک کوئی بندوبست نہیں ہوتا وہ یہیں رہے گی۔ مفت کا ٹھکانہ،کھانا اور آرام اور پیار ومحبت الگ۔۔!! واہ کیا بات ہے ماہیر تیری۔۔! ہائے مزے مزے!! ماہیر شاطر مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے روم سے باہر نکلی ۔

%%%%%%%%%%

زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا ہے؟ آخر کہاں جا سکتی ہے وہ؟ ایک ہفتہ ہو گیا ہے۔ تم کیا کر رہے ہو؟ ایک چھٹانک بھر کی لڑکی کو تم نہیں ڈھونڈ پا رہے؟ آفتاب علی شاہ غصے سے انسپکٹر شیر دل سے بولا۔ جناب شاہ صاحب! ملک صاحب آۓ ہیں۔۔۔!! مبشر نے آکے ہاتھ باندھے اطلاع دی۔لو۔۔ اس کی کمی تھی۔۔۔!! کیا کروں میں۔۔؟؟ شاہ صاحب پریشان ہوئے۔ بٹھاؤ انھیں ڈیرے پے۔۔۔! آتا ہوں میں! رعب و دبدبے سے کہا۔ دیکھیں شاہ صاحب۔۔۔! ہم ہر طرح سے کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ لیکن لگتا ہے۔ وہ ہمارے علاقے سے باہر نکل گئی ہے۔ اب ہر جگہ الرٹ کرنا پڑے گا۔ آپ مجھے۔۔۔بی بی کی کوئی فوٹو دے دیں ۔ میں۔۔۔!! ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔۔! مل جائے گی۔۔۔! لیکن دھیان رکھنا۔ کام راز داری سے کرنا ۔ اور تصویر حریفوں کے ہاتھ نہ لگنے پائے۔ ہاتھ اٹھا کے وارننگ دیتے ہوئے وہ باہر نکل گئے۔ جبکہ انسپکٹر دل نفی میں سر ہلاتے دوسرے راستے سے باہر نکلا۔

\*\*\*\*\*\*\*\*\*\*\*\*\*\*\*\*\*\*

سیڑھیاں چڑھتے آگے سے جلاد نظر آیا نیچے آتے ماہیر نے وہیں سے راستہ بدلا۔ اور واپس پلٹ دوسری طرف نکل گئی۔ ابیہان اس کی اس حرکت پر ٹھٹھکا۔ لیکن اگلے پل سیڑھیاں اتر گیا۔ بس دو دن اور صبر کرو۔ دو دن میں پتہ لگ جائے گا۔ تم کون ہو کہاں سے آئی ہو۔۔۔؟ اور تمہارا مقصد کیا ہے؟اس کے بعد ۔۔۔ تمہارا حساب کتاب کلئر کروں گا۔ ابیہان اپنی پلاننگ کرتے آگے بڑھا۔ کہ آواز پر رکا۔

ابیہان۔۔۔! قدم تھمے اور پلٹا۔ سامنے حور کھڑی تھی۔ آنکھیں رتجگوں کا پتہ دے رہی تھی۔گوری رنگت اس لمحے مانند پڑی تھی۔ دھیرے سے چلتی ابیہان کے قریب آئی۔

وہ۔۔۔ مجھے۔۔۔۔ کچھ بات کرنی تھی آپ سے!! نظریں جھکیں۔ بولو۔۔۔! ابیہان نے سنجیدگی سے کہا ۔ آپ ۔۔۔ آپ کی یوں۔۔۔ اچانک شادی۔۔ سے۔۔۔ ہم سب کو ۔۔ بہت بڑا دھچکا لگا ہے۔۔۔! !تمہید باندھی۔ ابیہان اس کے چہرے پر حسن و ملال کے رنگ دیکھ رہا تھا۔ لیکن وہ کیا سوچ رہی ہے سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ جیسے۔۔۔ ہم۔۔۔ آپکی۔۔۔ اس اچانک۔۔۔ شادی سے۔۔ خوش نہیں۔ آپ بھی ۔۔ خوش۔۔۔ نہیں۔۔ یہ بات بھی۔۔ ہمیں معلوم ہے۔! حور نے پر یقین لہجے میں کہتے ابیہان کی طرف دیکھا۔

ایک منٹ۔۔۔! تمہیں کس نے کہا۔۔۔؟ میں خوش نہیں؟ لہجہ رعب والا اور انتہائی سرد اور سنجیدہ تھا۔ حور تھر تھرا کے رہ گئی۔ اور ماہیر جو چھپ کے ان کی باتیں سن رہی تھی ۔ ابیہان کی اس بات پر حیرت سے پلکیں اٹھیں۔ اور اس جلاد پر جا ٹھہریں۔ ( کیا وہ۔۔ خوش ہے۔۔؟؟)

وہ۔۔۔ وہ۔۔ماہیر ۔۔۔نے بتایا۔۔۔! کہ ۔۔۔ نہ وہ خوش ہے ۔ اس شادی سے۔۔! نہ آپ۔۔۔!! زبردستی۔۔!! حور نے گڑ بڑا کر جھوٹ کا سہارا لیا۔ ام۔۔۔!! یہ سب ماہیر نے کہا ہے۔۔۔!! بڑے سکون سے تصدیق چاہی۔ نظریں چراتے معصومیت خود پر طاری کیے جھٹ سےحور نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ مارے حیرت ماہیر کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ لو جی۔۔ لفنگی۔۔ بدمعاش۔۔۔!! کتنے مزے سے جھوٹ بول رہی ہے۔۔۔! میں نے اسے ایسا کب کہا۔۔؟؟ بیٹا۔۔۔ تم مجھ سے ملو اکیلے میں۔۔۔! تم نے ماہیر علی شاہ کو Underustimate کیا ہے۔ تم جانتی نہیں پنگا کس سے لے رہی ہو۔۔۔! ماہیر نے دانت چبائے۔

اس نے کہا ہے تو اسی سے پوچھو۔۔!نہ ہی میں نے کہا ہے اور نہ ہی مجھ سے پوچھنے کا تمہیں کوئی حق ہے۔ اور کسی کے قول و فعل کا میں۔۔ ذمہ دار ۔۔۔ نہیں۔۔ اوکے۔۔! بہت رسان سے ٹال مٹول کرتے وہ اندر ہی اندر پیچ وتاب کھاتا بظاہر نارمل انداز میں کہتا باہر کے لیے قدم بڑھا دیئے۔ اس کے جانے کے بعد حور نے لمبا سانس خارج کیا۔ ابیہان کے آگے تو ویسے ہی کوئی بات نہیں نکلتی تھی۔ سبھی سوچ سمجھ کر ابیہان سے بات کرتے۔ ابیہان کے جاتے ہی ماہیر سامنے آئی۔ اے رکو۔۔۔تو! ماہیر نے اسے آڑے ہاتھوں لیا۔ حور ٹھٹھکی۔

کیا کہہ رہی تھی تم۔۔۔؟ بولو ذرا۔۔۔؟ کڑے تیوروں سے کمر پر ہاتھ باندھ کے تفتیش کا آغاز کیا۔ حور آنکھیں پٹپٹا کے دیکھنے لگی۔

کیا کہا میں نے۔۔۔؟ کچھ سنا کیا تم نے۔۔۔؟ایکٹنگ کی۔

او۔۔۔ مس اوور ایکٹنگ۔۔۔! تمہیں جھوٹ بولتے شرم نہیں آتی؟ کب کہا میں نے تم سے یہ سب ۔۔۔؟ کیوں بولا تم نے جھوٹ؟ سیدھا مدعے پر آئی۔ اوہ ۔۔اچھا اچھا۔۔! وہ۔۔بات۔۔۔!! وہ تو ۔۔۔ اب کر دی۔۔۔!! اب کیا ہوگا۔۔۔؟؟ حور مزے سے کہتی ماہیر کو مزید تپانے لگی۔

ہوگا تو کچھ نہیں۔۔۔! کیوں کہ جو خواب تم جاگتے میں دیکھ رہی ہو وہ کبھی پورے نہیں ہوں گے۔۔۔! سمجھی تم۔۔۔! ماہیر نے وارن کیا۔ اچھا ۔۔۔جی۔۔۔! بہت کانفیڈنس ہے۔۔ خود پر۔۔! لیکن یہ بھی یاد رکھنا۔۔وہ وقت دور نہیں۔۔! جب تم اس گھر سے باہر ہو گی۔ حور نفرت سے بولی۔ بہت خوش فہمی پالی ہے تم نے۔۔! لیکن زیادہ نہ پالنا۔ ورنہ بعد میں آنسو کم پڑ جائیں گے۔۔۔! کیونکہ۔۔ ماہیر۔۔ تب تک نہیں ہارتی۔ جب تک وہ خود نہ ہارنا چاہے۔ “Got it” ماہیر نے انگلی اٹھا کر کہا۔

حور نے ناک سے مکھی اڑائی۔وقت بتائے گا۔ کیونکہ اپنی محبت حور بھی نہیں چھوڑنے والی۔۔۔! ایک ادا سے کہتی وہ آگے بڑھی۔

محبت۔۔۔؟؟ جاتی حور کا جھٹکے سے بازو پکڑا اپنی طرف موڑا۔

ہونہہ محبت۔۔۔۔! میرا شوہر ہے وہ۔۔! کسی راہ چلتے کی محبت نہیں۔ ماہیر علی شاہ کا عشق ہے وہ۔۔۔! تم تو کیا۔۔۔ تم جیسی ہزاروں حوریں بھی آجائیں۔تو ابیہان کو مجھ سے چھین نہیں سکتیں۔ سمجھی تم۔۔۔!! ایک پختہ یقین اور جنون سے کہتی ماہیر وہاں رکی نہیں۔۔ حور تو اس کی باتوں کے حصار سے ہی باہر نہ نکل سکی۔ اتنی جنونی لڑکی۔۔۔!! یہ کیا بول کے گئی ہے؟؟ کیا۔۔ یہ Love marriage ہے ۔۔۔؟ بڑے بابا نے ۔۔۔ہم سب سے جھوٹ بولا۔۔۔ کیا سچ ہے۔۔۔؟ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا لیکن۔۔۔ میں بھی حور شاہ ویزعلی خان ہوں۔ میں بھی ہار ماننے والوں میں سے نہیں۔۔۔تم دونوں کو تو میں جدا کر کے ہی رہوں گی۔

&&&%%%%%%%%

روم میں آ کے ادھر سے ادھر ٹہلتے اپنے غصے کو کم کرنے کی کوشش کرنے لگی اس کی ہمت کیسے ہوئی میرے شوہر پر نظر ڈالنے کی۔۔۔! آنکھوں نہ نوچ لوں اس کی۔۔! ماہیر کا غصہ کسی صورت کم نہ ہو رہا تھا۔ اور غصے میں اسے یہ تک احساس نہ تھا۔ کہ وہ کیا بولے جا رہی ہے۔

جس جانے جس کے ساتھ رشتہ بندھے دو دن بھینہیں ہوۓ اس کے لیے وہ اتنی جنونی کیوں ہو رہی ہے۔۔؟؟ اسے بس ایک ہی بات سمھ آرہی تھی۔ کہ ابیہان اس کا ہے۔۔ اس کے نکاح میں ہے۔ کوٸ اور اسے کیوں دیکھے۔۔؟؟ کیوں سوچے۔۔؟؟ کیوں چاہے۔۔۔؟؟ اپنی فیلنگز سے یکسر نابلد تھی وہ۔۔ اسے شاید ایک ضد سی ہوٸ تھی حور سے۔ اسی لیے وہ ضدی پن کا مظاہرہ کر رہی تھی۔ اور یہ تو وقت نے طے کرنا تھا۔ کون کس سے کس حد تک جیتتا ہے۔۔؟ کن احساسات کے ساتھ؟

%%%%%%%%%&&&&

ہمیں کیوں ایسا لگ رہا ہے۔ کہ تم نے اپنی بیٹی کو خود غائب کر وایا ہے۔ شاہ صاحب؟ ملک دلاور بیگ نے مونچھوں کو تاؤ دیتے تیکھے لہجے میں کہا۔ شاہ صاحب نے ایک گھوری ڈالی۔ اور غصہ ضبط کیا۔

ملک صاحب۔۔۔! ایسا ہوتا تو۔۔۔ تمہارے اس پاگل بیٹے سے اپنی بیٹی کی شادی نہ طے کر تا۔۔۔! اسی وقت غائب کروا دیتا۔

فرقان علی شاہ ساتھ ہی خاموش بیٹھے تھے۔ سر جھکائے۔

یہ۔۔ سازش بھی تو ہو سکتی ہے ناں۔۔۔! ایک اور وار کیا۔

ملک صاحب۔۔۔! شاہ صاحب غصے میں آ کے کھڑے ہو گئے۔

ہم شاہ لوگ ہیں۔۔! ہم ایک بار زبان دے دیں تو پھر کرتے نہیں۔ اپنی بیٹی کو بہت جلد ڈھونڈ کر اس کا نکاح تمہارے بیٹے سے کرواؤں گا۔ وعدہ ہے یہ میرا۔ آفتاب علی شاہ کا رعب و دبدبے سے کہا۔ بہتری بھی اسی میں ہے شاہ صاحب۔۔۔! ورنہ خون کے بدلے خون لینے میں ہمیں بھی ایک منٹ نہیں لگے گا۔ یہ۔۔ ہم ملکوں کا وعدوں کا ہے۔ ملک دلاور بیگ بھی مونچھوں کو تاؤ دیتا اپنے گارڈز کے ساتھ باہر نکل گیا۔ اور شاہ صاحب پیچ و تاب کھاتے رہ گئے۔

آفتاب علی شاہ اور فرقان علی شاہ دونوں بھائی تھے۔ فرقان علی شاہ کا ایک ہی بیٹا تھا۔ ابرار علی شاہ۔۔۔ جو غلطی سے ملکوں کی بیٹی علیزے سے محبت کر بیٹھا۔ جب ملکوں کو اس بات کا پتہ لگا۔ تو انہوں نے اپنی برادری میں ہی علیزے کا رشتہ طے کر دیا۔ علیزے کو یہ کہہ کر باز رکھا گیا۔ کہ اگر اس نے بغاوت کی۔ تو اسے اور ابرار دونوں کو جان سے مار دیا جا ئیگا۔ اسی وجہ سے علیزے نے محبت سے منہ موڑ لیا۔۔۔ بے وفا بن گئ۔ اور باپ کے حکم کے آگے سر جھکا لیا۔ اور شادی کے لیے ہاں کر دی۔ یہ بات ابرار سے برداشت نہیں ہوئی۔ کہ علیزے اسے دھوکہ دے کر کسی اور سے شادی کر رہی ہے۔ اس کی غیرت نے گوارا نہ کیا۔ تو غصے میں آ کے سیدھا شادی والے دن جاکے علیزے پر بندوق تان لی۔ اور بنا اس کی کوئی بات سنے اسے گولی مار دی۔ ہر طرف چیخ و پکار شروع ہو گئی۔ ابرار علی شاہ وہاں سے باگ نکلا۔ غصہ اترا تو اسے سمجھ آیا ۔ کہ وہ کیا غلطی کر آیا ہے۔ اپنی محبت کو خود ہی موت کے گھاٹ اتار آیا ہے۔ یہ سوچ آتے ہی اس نے اپنی کنپٹی پر بھی گولی مارنی چاہی۔ لیکن جیسے ہی ٹریگر دبانے لگا۔ آفتاب علی شاہ وہاں پہنچ گیا۔ اور اسے بچا لیا۔ اور اسے سب کی نظروں سے غائب کر دیا۔ ملکوں کے کارندے ابرار کو پاگل کتوں کی طرح ڈھونڈتے رہے تھے۔ علیزے جانبر نہ ہوسکی۔ اور موقع پر ہی دم توڑ گئی۔ لیکن آفتاب علی شاہ سب کے ساتھ مل کے پنچائیت میں ابرار علی شاہ کو بچانا چاہا۔ لیکن بدلے میں پنچائیت نے لڑکی کے بدلے لڑکی دینے کو کہا۔ ملکوں نے اس میں خود کی جیت سمجھی۔ اور ملک دلاور بیگ نے اپنے پاگل ( ذہنی مریض) بیٹے کے لیے ماہیر کا نکاح طے کر دیا۔ آفتاب علی شاہ اپنے خاندان کے اکلوتے وارث کو بچانے کے چکر میں اپنی بیٹی کا سودا فکس کر دیا۔ اور ماہیر کو شہر سے بلوانے اسے زبردستی نکاح کے رشتے میں بندھنے کو مجبور کر دیا۔ ماہیر نے احتجاج کیا۔ لیکن وہ آفتاب علی شاہ کے ایک تھپڑ کے آگے دم توڑ گیا۔ اور روتی بلکتی شادی کے لیے تیار ہو گئی۔ ایک زندہ لاش بن کے۔۔۔۔! کیوں کہ اتنا تو وہ بھی جانتی تھی۔ کہ خون بہا میں میاہی گئی لڑکی کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس نے اپنا معاملہ اللہ تعالٰی پر چھوڑ دیا۔ پورے گھر میں اگر کوئی ماہیر کا ہمدرد تھا۔ تو وہ بی جان (کنیز فاطمہ دادی) تھیں ۔ وہ بھی نہ چاہتے ہوئے بے دلی سے مان تو گئیں۔ لیکن عین شادی والے دن انھیں پتہ لگا۔ کہ لڑکا پاگل ہے۔ ذہنی مریض۔ یہ بات بی جان کے دل کو جاکےلگی۔ اور لمحہ لگا۔ انھیں فیصلہ کرنے میں۔ اور چھپ چھپا کے اپنی ایک خادمہ کی مدد سے ماہیر کو حویلی سے بھگا دیا۔ لیکن یہ بات آفتاب علی شاہ پر پہاڑ بن کے گری۔ ہر جگہ تلاش کر چکے تھے۔ لیکن ابھی تک وہ ناکام ہی تھے۔

\#################

سر ! رپورٹ کنفرم ہے۔۔۔! آج رات یونیورسٹی میں اسلحہ آ رہا ہے۔ اس کے بعد آگے اس کا سودا کس سے کرنا ہے۔ یہ طے ہو گا۔۔! کیپٹن رضا نے Bluetooth سے راز دانہ انداز میں میجر سکندر اور نوفل کو اطلاع پہنچائی۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ کر اثبات میں سر ہلایا۔ اسلحہ پہنچنے اور اسٹور روم میں رکھنے تک کوئی کروائی نہ کی جائے۔ صرف نظر رکھی جائے۔ اوور اینڈ آوٹ۔۔۔! میجر سکندر اب نوفل کے ساتھ مل کر آگے کی پلاننگ ترتیب دینے لگا۔

\#######

شام کی چائے بے سبھی خاموشی سے براجمان تھے۔ آج Sunday تھا۔ باقیوں میں سے تو سب گھر ہی تھے۔ لیکن ابیہان ابھی تھوڑی دیر پہلے آیا تھا۔ سامنے ڈرائینگ روم میں بیٹھی ثروت بیگم سے باتیں کرتی نظر ماہیر پر جا ٹھہری۔ آج کی ساری باتیں پھر سے دماغ میں گردش کرنے لگیں۔ جس Detective کو ابیہان نے ماہیر کی انفارمیشن نکالنے کو کہا تھا۔ وہ اس کے دماغ کو گھومانے کے لیے کافی تھا۔ کچھ عرصہ پہلے وہ جہلم کے نواحی علاقے میں اپنے ایک پروجیکٹ کے لیے گیا تھا۔ وہاں زمین کا مسئلہ چل نکلا۔ ملکوں نے جو زمین بیچی ان پر شاہوں کا قبضہ تھا۔ معاملہ طول پکڑتا گیا۔ تو لگے باندھے ابیہان نے زمین خریدنے سے انکار کر دیا۔ اس لمحے بھی ملکوں اور شاہوں کی اچھی خاصی جھڑپ ہوئی تھی۔ لیکن ابیہان کو ان کے مسئلوں سے کوئی غرض نہیں تھی۔ کیونکہ ان دنوں نے کینیڈا میں ایک بڑے پروجیکٹ پر اسے جانا تھا۔ اور جہلم کے پروجیکٹ کو فی الفور ملتوی کر دیا۔ لیکن جتنے دن وہ وہاں رہا۔ ان دنوں میں ابیہان کو اتنا ضرور پتہ لگ گیا تھا۔ کہ وہ دو برادریوں کا کوئی جدی پشتی جھگڑا چلا آ رہا ہے۔ جو آنے والی نسلوں میں بھی منتقل ہوا ہے۔ اب جبکہ یہ معلوم ہوا۔ کہ وہیں کے آفتاب علی شاہ کی بیٹی ماہیر علی شاہ ہے۔ اور اس وقت وہ پاگلوں کی طرح اسے ڈھونڈ رہا ہے ۔ اپنے گھر سے وہ شادی کے روز کیون بھاگی؟؟ یہ ابھی تک ایک راز تھا۔ چاہ کے ابھی تک یہ راز وہاں سے نہیں نکلواسکا تھا۔ لیکن وہ یہ ضرور جانتا تھا۔ کہ یہ راز کس سے کیسے نکلوانا ہے۔ ایک اچٹتی نظر ماہیر پر ڈالی۔ تبھی ماہیر کی نظریں بھی ابیہان سے ٹکرائیں۔ ابیہان رخ موڑ کر اپنے روم میں چلا گیا۔ ماہیر نے سر جھٹکا۔ لیکن وہ ابیہان کی نظروں سے پزل ہو گئی تھی۔ کیا تھا ان نظروں میں۔۔۔؟؟

شاور کے کر باہر نکلا۔ تو تبھی مشال روم میں داخل ہوئی۔

ابھی بھائی۔۔! بابا نیچے بلا رہے ہیں۔۔! مشال نے دھیرے سے کہا۔

آپ ۔۔ چلیں آپی۔۔۔! میں آتا ہوں۔۔۔! بال (ٹاول) سے خشک کرتے سنجیدہ لہجے میں کہتا وہ ڈریسنگ ٹیبل کی جانب بڑھا۔ ابھی۔۔۔! وہ۔۔۔کچھ بات کرنی تھی تم سے۔۔۔۔! مشال ہاتھوں کی انگلیوں کو مروڑتے ہوئے ابیہان سے مخاطب ہوئی۔ جی۔۔۔ بولیں۔۔۔! ابیہان پلٹ کر مشال کے پاس آیا۔

سمجھ نہیں آ رہا۔۔ کیسے کہوں۔۔۔؟ لیکن۔۔۔ نہ کہا تو۔۔۔۔ ساری زندگی ایک بوجھ دل میں رہ جائے گا۔۔۔! مشال کا لہجہ نم ہوا۔

آپی۔۔! جو بھی بات ہے کہہ دیں۔۔۔! ابیہان نے حوصلہ دیا۔ ابیہان۔۔۔! ماہیر سے تمہارا نکاح ۔۔۔ اس کے پیچھے کیا وجہ ہوئی؟؟ یہ ۔۔ ہم نہیں جانتے۔۔۔ لیکن۔۔۔۔ ماہیر ۔۔۔کے اس گھر میں آنے کی وجہ۔۔۔ ہم ہیں۔۔۔! بلآخر کہہ دیا۔

میں۔۔ سمجھا نہیں آپ کی بات۔۔۔۔! ابیہان حیران ہوتے دیکھنے لگا۔ تو مشال نے اسے جہلم سے آنے اور ماہیر کو اس گھر تک لانے کا سارا واقعہ ابیہان کو بتا دیا۔ ایم سوری۔۔! ابھی ۔۔۔!ساری غلطی ہماری تھی۔۔۔! لیکن۔۔۔ ہم ڈر گئیں تھیں۔ اور بھول بھی گئی تھی۔ اس کے بارے میں۔۔۔! لیکن۔۔۔ ہمیں نہیں تھا پتہ ۔۔۔کہ وہ ۔۔۔ یوں ۔۔۔ آپ کے لیے وبال جان بن جائیگی۔۔!! مشال اب باقاعدہ رو دی تھی۔ ابیہان نے لب بھینچے۔ واقعی ان کی چھوٹی سی غلطی ابیہان کو بہت بھاری پڑی تھی۔

آپی۔۔۔! جو ہوا۔۔۔سو ہوا۔۔۔اس بات کے بارے میں آپ کسی سے کچھ نہیں کہیں گی۔۔۔! وعدہ کریں مجھ سے۔۔۔! ابیہان کچھ اور ہی سوچے ہوئے تھا۔ مشال نے حیرت سے اپنے بھائی کو دیکھا۔

لیکن ابھی بھیا۔۔! سچ تو۔۔۔!!

سچ وہی ہے۔۔۔ جو بابا نے کہا۔۔ نہ میں نے کچھ سنا۔ اور دوبارہ اس کا ذکر نہیں ہو گا۔ وعدہ۔۔۔۔؟؟ ابیہان نے بہت حوصلہ دلانے والے انداز میں کہا۔ تو مشال نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

$$ $ $ $ $ $ $$

ابیہان۔۔۔! جو ہوا بیٹا اچھا نہیں ہوا۔۔۔۔! ناجانے کون ہے وہ لڑکی؟ کس خاندان کی ہے۔ ہم۔۔ نواب ہیں۔۔۔ خان زادے۔۔۔!! نجانے بھائی صاحب کو کیا ہوا ہے۔۔۔ کسی کو بھی اپنی بہو بنا کے لے آئے بیٹا۔۔۔! تم سمجھ دار ہو۔ اس مسئلے کو سمجھ داری سے حل کرو۔ بلکہ ختم کرو۔۔۔ وہ لڑکی قطعی ہمارے خاندان سے میچ نہیں کھاتی۔۔۔!! \$شاہ ویز صاحب ایک پل کے لیے رکے اور پھر بولے۔

خان زادوں کے ساتھ خان زادیاں بی جچتی ہیں ۔ نہ کہ راہ چلتی ان کی اس بات پر ابیہان نے ایک ترچھی نظر ان پر ڈالی۔ شاہ ویز صاحب نے فوراً بات کو سنبھالا۔

ابیہان بیٹا۔۔۔! میری بات کا غلط مطلب مت لینا۔ میں آپ کا ۔۔۔ ہمارے خاندان کا بھلا ہی چاہتا ہوں۔۔۔! اور پھر ۔۔۔ جب رشتہ گھر میں موجود ہے جوڑ گھر میں ہے۔ تو باہر سے کیوں لے کے آنی ہو۔۔۔!

میں۔۔۔ آپ کی بات کو سمجھا نہیں انکل۔۔۔! ابیہان نے شاہ ویز کی بات کاٹی۔۔!اور اپنی جگہ سے کھڑا ہوا۔

ابیہان۔۔۔! میں گھما پھرا کے بات نہیں کروں گا۔۔۔! جیسے بھائی صاحب نے رشتہ گھر میں ہی جوڑا۔۔۔ مشال کا نوفل سے۔۔! اور ہم نے ان کی بات پر سر تسلیم خم کیا۔ اسی طرح۔۔۔ ہمارا بھی یہی ارادہ تھا ۔۔۔ آپ کا۔۔۔ حور کا رشتہ۔۔۔!!

شاہ ویز انکل ۔۔۔! پلیز۔۔۔! حور میرے لیے ندا اور مشال آپی جیسی ہے۔ بہن سمجھتا ہوں میں اسے ۔۔۔! آپ نے ایسا سوچا بھی کیسے۔۔۔؟ ابیہان غصے کو ضبط کرتے مٹھیاں بھینچتا بولا۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے بیٹا۔۔۔! شادی سے پہلے سبھی بہن بھائی ہوتے ہیں۔ رشتے کی نوعیت بدلے۔ تو جذبات بھی بدل جاتے ہیں۔۔! لیکن ابھی سب سے بڑا مسئلہ وہ لڑکی ہے۔۔! اسے کسی طرح۔۔۔ گھر سے چلتا کرنا ہوگا۔۔۔! باقی میں خود سنبھال لوں گا۔۔!! فکر مت کرنا۔۔۔! بیٹا ۔۔۔! میں ہر لمحے آپ کے ساتھ ہوں۔ کاندھا تھپتھپا کر وہ آفس سے باہر نکل گئے۔ ابیہان غصے میں بیچ و تاب کھاتا رہ گیا۔ اور اب مشال کی باتیں سن کر وہ سخت پریشان ہوا۔ کہ اگر یہ بات شاہ ویز انکل کو پتہ چلی ۔تو وہ اس بات کو مدعا بنا کے مشال اور نوفل کے رشتے میں کوئی دراڑ نہ ڈال دیں ۔ اس لیے وہ مشال کو اس معاملے میں انوالو ہی نہیں کرنا چاہتا تھا۔

%%%%%%%%%%%%%%%%%

واٹ۔۔۔! یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں بھائی صاحب؟ شاہ ویز صاحب پرویز صاحب کی بات سن کر شاک کی کیفیت میں آگئے۔ میں نے کوئی غلط بات کہہ دی کیا؟ پرویز صاحب ٹھنڈے لہجے میں بولے غلط۔؟؟ بھائی صاحب۔۔! ساری باتیں تو آپ ہی کرتے ہیں۔۔۔!! یہ جانے بغیر کے۔۔۔ وہ صحیح ہیں یا غلط۔۔۔! شاہ ویز صاحب بگڑے. ابیہان سمیت سبھی دونوں کو خاموشی سے سن رہے تھے۔

شاہ ویز۔۔! مجھے یہ بتا دو۔۔کہ جو میں نے کہا۔۔۔! اس میں کیا غلط بات تھی۔۔۔؟ جب لڑکا اور لڑکی کا نکاح ہوتا ہے۔۔۔ تو اس کے بعد ولیمہ سنت ہوتا ہے۔۔۔۔ آگے۔۔ اس کام میں کافی دیری ہو گئی ہے۔ اس لیے میں مزید دیری نہیں چاہتا۔۔! اس لیے۔۔ یہی سوچا ۔۔۔کہ آج سے دو دن بعد ابیہان اور ماہیر بیٹی کا Reception کر لیا جائے۔۔۔!! پرویز صاحب نے دوبارہ بات دہرائی۔ تو شاہ ویز صاحب پہلو بدلتے رہ گئے۔ حور غیر محسوس انداز میں وہاں سے واک آؤٹ کر گئی۔ ماہیر پہلے تو خوش ہوئی۔ کہ حور کو تکلیف ہوٸی ہے۔ اس نے جو کیا اس کا بدلہ اللہ نے اسے دے دیا۔ لیکن اب پریشان ہو گئی تھی۔۔۔اور دونوں بھائیوں کو دیکھ رہی تھی۔ بھائی! جن حالات میں ان کا نکاح کیا۔ اس کے بعد۔۔! اس رشتے کو آگے لے کے جانا۔۔۔۔؟؟ کیا صحیح ہے۔۔۔؟؟

شاہ ویز۔۔! یہ کیسی باتیں کر رہے ہو؟ پرویز صاحب بھی کھڑے ہو گئے۔ بھلے حالات جیسے بھی ہوں۔ لیکن اب۔۔ ماہیر اس خاندان کی بہو ہے۔ پرویز صاحب نے پختہ لہجے میں کہا۔

ہمارا خاندان۔۔؟؟ خان زادے ہیں ہم۔۔۔! اور ۔۔۔ اس لڑکی کے شجرہ نصب کا پتہ ہے آپ کو کیا۔۔؟ کس خاندان سے ہے یہ۔۔۔؟؟ شاہ ویز صاحب کی باتیں سبھی کو بری لگیں۔ لیکن ماہیر کا تو دل چیر گئی۔۔۔! دھیرے سے پلکیں اٹھائیں سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر چپکے سے دو آنسو گالوں پے بہہ نکلے۔ فوراً اسے بیشتر چھپائے اور وہاں سے اپنے روم کی جانب بڑھ گئی۔ کسی اور نے نہ دیکھا۔ لیکن اس کے وہ دو آنسو ابیہان سے چھپے نہ رہ سکے۔۔۔! وہ آنسو ابیہان کو یوں لگا۔ کہ اس کے دل پے گرے ہوں۔

بس۔۔! بہت ہو گیا۔۔۔! خبردار۔۔ جو میری بیٹی جیسی بہو کے بارے میں کچھ بھی غلط کہا۔ اسے اپنے ابیہان کی بیوی بنا کے اس گھر میں لانے والا میں ہوں۔ اور یہ بات بھی سب اچھی طرح سن لیئں۔۔۔!شجرہ نصب کم نہیں اس کا۔۔۔! بلکہ ہم سے بڑھ کے ہی ہے۔۔۔! پرویز صاحب اب غصے سے بولے۔ فروا اور ثروت بیگم بھی اس بحث و لڑائی سے پریشان ہو چکی تھیں۔

آپ نے کہا۔۔! اور ہم نے مان لیا۔۔۔؟؟ شاہ ویز صاحب ابھی بھی اپنی بات سے پیچھے نہ ہٹے، بلکہ دوبدو ہوئے۔ تو۔۔۔! کیا چاہتے ہو اب۔۔۔؟ دونوں بھائی آمنے سامنے آ گئے۔ آپ۔۔۔! یہ۔۔ رشتہ ختم کر دیں۔۔۔! کہتے ہوئے لہجہ ڈگمگایا۔ پرویز صاحب نے لب بھینچے۔۔! کچھ بھی سخت کہنے سے خود کو باز رکھا ناممکن۔۔۔! یک لفظ جواب آیا۔ پختہ لہجے میں۔

بھائی صاحب۔۔۔! سوچ سمجھ کے فیصلہ کریں۔۔! یہ نہ ہو۔۔۔ ایک اولاد کی خوشیاں مناتے مناتے دوسری اولاد کی خوشیوں کے لیے رونا پر جائے۔۔۔! شاہ ویز صاحب ڈھکے چھپے الفاظ میں دھمکی دے ہی گئے۔ ابیہان جواب تک صرف اس لیے چپ تھا۔ کہ بات اس کی زات تک تھی۔ لیکن۔۔۔ اب بات اس کی بہن تک پہنچ گئی تھی۔ ایک منٹ انکل۔۔۔! ابیہان نے پلٹتے ہوئے شاہ ویز کو پکارا۔ ہال میں خاموشی چھا گئی۔ مشال کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔ ابیہان دھیرے دھیرے چلتا شاہ ویز صاحب کے پاس آیا۔ اور نظروں سے نظریں ملائیں۔ کچھ تھا۔ ابیہان کی نظروں میں کہ شاہ ویز صاحب نظریں چراگئے۔ دن کو بھی جو وہ کہہ کے گئے۔ ابیہان ابھی وہ بھی نہیں بولا تھا۔ کہ اب ایک نیا تماشا کھڑا کر دیا۔

شاہ ویز۔۔۔ انکل۔۔۔! یہ مت بھولیں۔۔ کہ مشال آپی اور نوفل بھائی کے بیچ نکاح کا رشتہ ہے۔۔! اور رشتوں کے سودے نہیں ہوا کرتے۔ اس لیئے۔۔۔ ان کے رشتے پر کوئی سودا۔۔۔ میں ہونے بھی نہیں دوں گا۔۔۔! کرخت لہجے میں کہتا وہ سب کو دنگ کر گیا۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *