Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Takmeel e ishq (Episode 14,15)

Takmeel e ishq by Muntaha Chohan

ابھی تھوڑی دیر ہوئی تھی۔ کہ سکندر کی آنکھ لگی تھی۔ تیز ہوا سے کھڑکی کھول گئی ۔ آندھی طوفان کے ساتھ بارش۔ پلک جھپکتے وہ صوفے سے اٹھا۔ اس کا دماغ فورا جاگا۔ فوراً کھڑکی کے پاس گیا۔ اور اس کے پٹ بند کئیے۔ نظر پلٹ کر ندا پر گئی۔ جا پلنگ میں بیٹھی منہ گھٹنوں پر گرائے رو رہی تھی۔ سکندر کو اس کا رونا دماغ خراب کر گیا۔ آگے بڑھ کرغصے سے بازو پکڑ کر کھڑا کیا۔ وہ ایک دم بو کھلائی۔ کیا مسلہ ہے تمہارا۔۔۔۔؟ کس بات کا سوگ منا رہی ہو؟ سکندر کو اس کے رونے پر بے تحاشا غصہ آیا۔ آ۔۔۔۔پ۔۔۔۔ ڈا۔۔۔۔نٹ۔۔۔ رہے ہیں۔۔۔! ندا نے منہ بروستےآنسوں سے تر گالوں کو صاف کرتے کہا۔ تو اور۔۔۔ کیا کروں۔۔۔؟ تم۔۔۔۔ اتنا روکیسے لیتی ہو۔۔؟ سیریسلی۔۔۔۔!! اتنے ۔۔۔۔آنسو آتے کہاں سے ہیں؟؟ سکندر نے لمبی سانس خارج کرتے تھکے لہجے میں کہا۔ مما۔۔۔۔بابا۔۔۔ یاد آ رہے ہیں ناں۔۔۔۔! آپ کو کیا پتہ۔۔۔۔ گھر سے دور رہنا کیا ہوتا ہے۔۔۔! ناراضگی سے کہتی وہ سکندر کو چپ کروا گئی۔ دھیرے سے اس کا بازو چھوڑا۔ اور پیچھے کی طرف قدم لیے۔ بیتے لمحوں کا درد آج اتنے برسوں بعد پھر سے جاگ گیا تھا۔

😭
😭
😭
😭
😭

آنکھوں میں کانٹے سے چبنے لگے۔ ندا جو مزید کچھ بولتی۔ سکندر کو یوں خاموش دیکھ ٹھٹھکی۔ سر۔۔۔! ندا آگے بڑھی۔ کاندھے پر ہاتھ رکھا۔ سکندر صوفے پر آنکھیں موندے بیٹھ گیا۔ ندا کو سمجھ نہ آ رہا تھا کہ کیا ہوا۔۔۔ صحیح کہا تم نے۔۔۔۔! مجھے نہیں پتہ۔۔۔۔ گھر سے دور رہنا کیا ہوتا ہے۔۔۔۔؟؟؟ کیونکہ۔۔۔ گھر ہی نہیں۔۔۔ تو پتہ کیا ہو گا۔ آنکھیں موندے وہ درد چھپائے صرف دھیرے سے بولا۔ ندا کو فورا اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ ایک فوجی کی زندگی کا احساس ہونا چاہیے تھا اسے۔ نوفل کا بھی یہی حال تھا۔ وہ بھی مہینہ مہینہ شکل نہیں دکھاتا تھا۔

ایم ساری۔۔۔ مجھے ایسے نہیں کہنا چاہیے تھا۔۔۔۔! ندا نے فوراً غلطی تسلیم کرتے معافی مانگی۔ پندرہ سال کا تھا۔۔۔ جب موم ڈیڈ کا پلین کریش ہوا۔۔۔۔ بہت۔۔۔۔ مشکل سے۔۔۔۔ اس درد کو سہا۔۔۔۔ وہ عمرے پر گئے تھے۔ لیکن۔۔۔۔ نہیں جانتا تھا۔۔ کہ پھر سے انہیں۔۔۔۔۔! سکندر کا لہجہ روند گیا۔۔۔۔ خوش قسمت ہوتے ہیں وہ جنہیں ماں باپ کا ہر لمحہ پیار ملتا ہے۔۔۔! جیسے تم۔۔!! پر۔۔۔ میرے لیے تو وہ بھی خوش قسمت ہیں۔۔ جنہیں ماں باپ کی قبر مل جائے۔۔۔۔

😢
😢
😢
😢

مجھ۔۔۔ بد نصیب کو تو۔۔۔۔! دکھ سے مزید وہ بول نہ سکا۔ ندا، سکندر کے دکھ پر رو دی۔ واقعی ایسا تو اس نے کبھی سوچا نہ تھا۔ کہ ماں باپ زندگی میں نہ ہوں۔ تو زندگی کیسی بے درد ہو جاتی ہے۔ جانے انجانے میں ندا نے سکندر کے دل کے درد کو جگا دیا تھا۔ سکندر نے گردن گھما کر اس چھوٹی سی معصوم سی لڑکی کو دیکھا۔ جو سکندر کے دکھ پر رو رہی تھی۔ تم۔۔۔! تم پھر سے۔۔۔ رونے لگی۔۔۔؟ سکندر نے حیرت سے اسے دیکھتے اپنے آپ کی Feelings کو چھپاتے کہا۔ خود بخود۔۔۔۔ آ جاتے ہیں۔۔۔۔!! آپ۔۔۔ کو دکھ بہت بڑا ہے۔۔۔ مجھے۔۔۔ نہیں پتہ تھا۔۔۔ ! انجانے میں ہوا۔۔۔ پلیز۔۔۔ سوری۔۔۔! سوں سوں کرتی وہ ناک کو ہاتھ سے صاف کرتی سکندر کو وہ اس دنیا میں سب سےزیادہ اپنی لگی۔

تمہیں میری تکلیف سے۔۔۔ تکلیف۔۔۔ ہو رہی ہے۔۔؟ لہجے میں ایک مان ایک خوشی تھی۔

ہاں۔۔۔۔! ندا معصوم سی،، فوراً اثبات میں سر ہلایا۔ سکندر تو اندر تک سر شار ہو گیا۔ وہ جو اس کے قریب بیٹھی اس کے جذبوں کو جگا گئی تھی۔ اس بات سے بے خبر اپنے رونے کے شغل میں مصروف تھی۔

😭
😭
😭
😭
😭

تبھی لائیٹ چلی گئی۔ ندا گھبرا کے سکندر کے ساتھ جڑ گئی۔ یہ۔۔۔ یہ اندھیرا کیوں۔۔۔۔ ہو گیا۔۔۔ ہے۔۔؟ شاید۔۔۔۔ لائیٹ چلی گئی۔۔! سکندر نے ندا کو خود سے قریب ہوتے دھیرے سے اس کے کان میں کہا۔ تو وہ بوری طرح چونکی۔ وہ۔۔۔ وہ۔۔۔ مجھ۔۔۔۔ ے اندھیرے سے۔۔۔۔ ڈر۔۔۔! اپنی پوزیشن کلئیر کرتے وہ سکندر کو اپنی طرف مزید راغب کر گئی۔ مجھے۔ کیوں صفائیاں دے رہی ہو مسسز۔۔؟ جبکہ میں جانتا ہوں۔۔! آپ ہر چیز سے ڈرتی ہیں۔ سکندر نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے اسے مزید قریب کیا۔ وہ سکندر کے سینے سے لگی۔ اپنے دل کے دھڑکنے کی رفتار کو بڑھتا محسوس کر رہی تھی۔ نہیں۔۔۔! ہر۔۔۔ چیز۔۔۔ سے۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ ڈرتی۔۔۔!! ندا بورا ہی مان گئی۔ سکندر زیر لب مسکرایا۔ روشنی ہوتی۔ اور ندا سکندر کی مسکراہٹ دیکھ لیتی۔ تو شاید ممیراز ہی ہو جاتی۔ بادل ایک بار پھر سے زور سے گرجا۔ کھڑکی کے پٹ پھر سے کھل گئے تھے۔ تیز ہوا کے جھونکے دونوں کو چھونے لگے۔ ندا کسمسا کے ندا سے تھوڑا دور ہونے لگی۔ کہ سکندر نے ہاتھ کی گرفت سخت کر دی۔ ندا کا دل حلق میں آ گیا۔ اندھیرے میں تو کچھ سمجھائی بھی نہ دے رہا تھا۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد بجلی چمکتی۔

😫
😫
😫
😫
😫

دونوں محویت سے ایک دوسرے کو دیکھ پاتے۔ کیا ہوا۔۔۔؟ اب بھی ڈر لگ رہا ہے۔۔۔؟ سکندر نے بہت قریب ہوتے دھیرے سے پوچھا۔ ندا کی آواز تو حلق میں ہی اٹک گئی۔ سکندر کی اتنی سی قربت پر اسکی جان پر بن گئی تھی۔ ساکت ہو گئی دھڑکن۔ ایک لمحے میں ہی وہ اپنا سانس روک گئی۔ سکندر نے محسوس کیا۔ تو اپنے امٹتے جزبوں کو وہیں تھپک کر سلایا۔

مسسز۔۔۔! اگر اپنی سانسوں کو ایسے روکا۔۔!! تو ان سانسوں کو اپنی سانسوں میں انڈیل دوں گا۔۔۔!! سکندر نےشدت پسندی سےندا کو وارن کیا۔ تو وہ سانس بحال کرتی نظریں جھکا گئی۔

سکندر نے اسے سینے کے ساتھ لگایا۔ اور تھپکی دینے لگا۔ ندا سو جاؤ۔۔۔! ورنہ۔۔۔ صبح۔۔۔ آنکھ نہیں کھلے گی۔۔! سکندر نے دھیمے اور نرمی بھرے لہجے پے ندا تو سکون سے آنکھیں موند گئیں۔ من چاہا انسان ساتھ ہو۔ تو ڈر کس بات کا۔ اور ہو بھی محرم۔۔۔ تو دل کی دنیا خود ہی آباد ہو جاتی ہے۔ سکندر کے قربت کے احساس نے ندا کو ایک نئی دنیا سے روشناس کرایا تھا۔ چاہے۔۔جانے کا احساس ہوتا ہی سب سے جدا ہے۔

😊
😊
😊
😊
😊

کیا بات ہے بھابھی۔۔۔؟ آپ اتنا پریشان کیوں ہیں۔ فروا نے ثروت بیگم کو موبائیل ہاتھ میں پکڑے دیکھا۔ تو پوچھ بیٹھیں۔ فروا۔۔۔۔ ماہیر کافی دیر سے گھر سے باہر نکلی ہوئی ہے۔ واپس نہیں آئی۔ ڈرائیور کو کال کر رہی ہوں۔ وہ فون ہی نہیں اٹھا رہا۔ اچھا۔۔۔۔! آپ پریشان نہ ہوں۔ آجائے گی۔ تسلی دی۔ فروا۔۔۔! کافی گھنٹے ہو گئے ہیں اسے نکلے ہوئے۔۔۔۔۔ اب سب گھر آنے والے ہیں۔۔۔۔ آپ نے پوچھا تو۔۔۔؟ کیا ابیہان نےپوچھا۔۔۔ ؟ حیرت بھابھی۔۔۔؟ شاہ ویز صاحب کی انٹری نے دونوں کو چونکا دیا۔ ارے۔۔۔! آپ اکیلے۔۔۔؟ بھائی صاحب اور ابیہان۔۔۔؟ فروا کہ منہ میں تھی بات۔ کہ پرویز صاحب بھی اندر داخل ہوئے۔ ابیہان کو کچھ کام تھا۔ شاید لیٹ ہو جائے۔۔۔!! فون آیا تھا اس کا۔۔۔۔! شاویز صاحب نے کوٹ اور والٹ فروا کو تھمایا۔ آپ کیوں پریشان ہیں؟ پرویز صاحب ثروت بیگم کو پریشان دیکھ کحہ اٹھے۔ تو ثروت بیگم نے ماہیر کی ابھی تک وآپس نہ آنے کے بارے میں بتا دیا۔ کتنی دیر ہو گئی ہے اسے گئے ہوئے؟ پرویز صاحب بھی پریشان ہو گئے۔ اور گھڑی کی طرف دیکھا۔ چار گھنٹے سے بھی اوپر ہو گیا ہے ٹائم۔۔۔! شرمندہ سی ہوئیں۔

😔
😔
😔
😔
😔

اتنی دیر کو گئی ۔ اور۔۔۔آپ اب بتا رہیں ہیں۔۔۔۔ پرویز صاحب خفگی سے بولے اور ڈرائیور کو کال ملائی۔ نمبر نہیں اٹھا رہا۔۔۔!! مزید پریشانی بڑھی۔ پلیز۔۔۔! کچھ کریں ناں۔۔۔!! ثروت بیگم کی آنکھوں میں نمی آگئ۔ پرویز صاحب نے انھیں تسلی دی۔ پھر سے کال ملائی۔ بڑے۔۔۔۔۔ بابا۔۔۔! اگر۔۔۔۔ آپ اجازت دیں۔ تو میں کچھ کہنا چاہتی ہوں۔ حور نے موقع دیکھ چوکا لگانا چاہا۔ سب نے سوالیہ نظروں سے حور کو دیکھا۔ بڑے بابا۔۔۔! مجھے لگتا ہے۔۔۔ وہ۔۔۔ بھاگ گئی ہے!! واٹ نان سنس۔۔۔! کیا بول رہی ہو۔۔۔؟؟ پرویز صاحب کو حور کی بات ماہیر کے لیے سخت نا گوار گزر گئی۔ بڑے پاپا! آپ یقین کریں۔۔۔۔! میں نے خود اسے فون پر کسی سے بات کرتے سنا ہے۔۔۔!! کہ وہ اپنا مقصد کامیاب ہوتے ہی یہاں سے بھاگ جائے گی۔۔۔! اب مقصد کون سا۔۔۔! یہ مجھے نہیں پتہ۔۔۔! حور نے جھوٹ کا سہارا لیتے ماہیر کو برا بنایا۔ ماہیر ۔۔۔! ایسا نہیں کر سکتی۔۔! پرویز صاحب زیر لب بڑ بڑائی۔ تو آپ کا مطلب ہے۔۔ میری بیٹی جھوٹ بول رہی ہے۔۔؟ شاہ ویز صاحب کا لہجہ بھی غصے کی آمیز ش لیے تھا۔ شاہ ویز بھائی۔۔۔! ان کا مطلب یہ نہیں۔۔۔ ہو سکتا ہے۔

😱
😱
😱
😱
😱

حور کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہو۔۔! ثروت بیگم نے بات سنبھالی۔ نہیں۔۔۔ بڑی مما۔۔۔! کوئی غلط فہمی نہیں ہونی۔۔۔ کتنی رفعہ تو اس نے آپ کا موبائیل بھی چھپ چھپ کر استعمال کیا ہے۔۔۔۔! حور نے اپنی بات کو مزید سچ ثابت کرنے کے لیےمبلغہ آرائی کی۔ رہنے دو! بیٹا۔۔۔! اب انھیں اپنی اولاد جھوٹی ہی لگے گی۔ اس کل کی آئی لڑکی کے آگے۔۔! کسی کی کوئی Value نہیں۔۔۔! شاہ ویز صاحب نے نفرت سے کہا۔ شاہ ویز۔۔۔! یہ تم۔۔۔ کیسی باتیں کر رہے ہو؟ پرویز صاحب آخر بول ہی پڑے۔ شاہ ویز صاحب طنزا ہنسے۔ پلیز۔۔۔! آپ۔۔۔ چلیں اندر۔۔۔! ثروت بیگم پرویز صاحب کو زبردستی اندر لے گئیں۔ وہ بھی پریشان فی الحال بات کو بڑھانا نہیں چاہتے تھے۔ انھیں ماہیر کی فکر تھی۔ کہیں۔۔۔ کوئی حادثہ نہ۔۔۔؟؟ پرویز صاحب نے ڈر سے کہا۔ اللہ خیر کرے گا۔۔۔۔! آپ اپنے دوست سے بات کریں۔۔۔ جو پولیس میں ہے۔۔۔! ثروت بیگم نے پانی کا گلاس تھامتے ہوئے دھیرے سے کہا۔ تو پانی کے دو گھونٹ لے کے انھوں نے اثبات میں سر ہلایا۔ اور انسپکٹر ناصر کو کال ملائی۔ اور ساری تفصیل سے آگاہ کر دیا۔ گاڑی کا نمبر اور ڈرائیور کا فون نمبر بھی بتا دیا۔۔۔! اب بس دعا ہی کر سکتے تھے۔

😔
😔
😔
😔
😔

نوفل نے گاڑی ایک ریسٹورنٹ کے سامنے پارک کی اس وقت وہاں اکا دکا لوگ ہی تھے۔ گاڑی میں بیٹھے ہی اس نے اپنا بھیس بدلا۔ ایک پل کو تو مشال بھی حیرانی سے دیکھنے لگی۔ وہ بھی نوفل کو پہچان نہ پائی۔ آؤ میرے ساتھ۔۔۔! نوفل اس کی حیران نظروں کے جواب میں بولا۔ اور دونوں ریسٹورینٹ میں داخل ہو گئے۔ اور ایک کیبن میں جا بیٹھے۔ کیا لو گی۔۔۔۔! نظروں کے حصار میں لیتے پوچھا۔ ک۔۔۔ کچھ نہیں۔۔۔! ہاتھوں کی انگلیوں کو مروڑتے وہ جھجکی ویٹر کو دو کافی کا آرڈر کر کےوہ مشال کی طرف متوجہ ہوا۔ اور اسے شروع سے لے کر آخر تک ساری بات بتا دی۔ مشال سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔ ندا کی بے وقوفی پر جہاں غصہ آیا۔ وہیں دل اس کے لیے دعا گو ہوا۔۔۔ کہ اسے کچھ نہ ہو۔ وہ۔۔۔ وہ ٹھیک تو ہو گی ناں؟ ڈرتے ڈرتے پوچھا۔ انشاء اللہ۔۔۔! سکندر پر مجھے خود سے زیادہ بھروسہ ہے۔ وہ اپنی جان میں کھیل جائے گا۔ لیکن ندا کو کچھ نہیں ہونے دے گا۔ نوفل نے یقین سے کہا۔ دونوں کی کافی آ چکی تھی۔ مشال نے منہ دوسری سائیڈ کر کے آنسو پونچھے۔ آپ پلیز۔۔۔! پتہ کریں ناں۔۔۔!! مشال پریشانی سے بولی۔

😔
😔
😔
😔
😔
😔

میری ایک ٹیم ان کی تلاش میں نکل چکی ہے۔ دعا کرو۔ وہ صحیح سلامت ہوں۔ اور صبح ہونے سے پہلے مل جائیں۔ کافی کا ایک سپ لیتے تھکن زدہ لہجے میں بولا۔ گھر۔۔۔ گھر والوں کو کیا کہیں گے۔۔۔ کہ ندا۔۔ کہاں ہے؟ مشال کو ایک نئی پریشانی لاحق ہوئی۔ اس کا بھی سوچا ہے میں نے۔۔۔! جیسا کہوں گا ویسا کرتے جانا۔ سب کچھ انشااللہ ٹھیک ہو جائے گا۔ انشاء اللہ۔۔۔! مشال نے آنسو صاف کیئے۔ کافی۔۔۔ ٹھنڈی۔۔۔۔ ہورہی ہے۔۔۔! نوفل نے اس کا دھیان بٹایا۔ وہ جانتا تھا۔ وہ ٹھنڈی کافی نہیں پیتی۔ وہ کافی نہیں پینا چاہتی تھی۔ اس کا دل ندا کے لیے پریشان تھا۔ لیکن نوفل کا دل وہ نہیں توڑ سکتی تھی۔ میں سمجھا۔۔۔! میری منکوحہ بہت بہادر ہے۔۔۔۔؟؟ نوفل نےاسے پریشانی سے نکالنے کے لیے اس کا دھیان بٹایا۔ آپ۔۔۔ جانتے ہیں۔۔۔! وہ۔۔۔ پاگل۔۔۔ بہت ڈرپوک ہے۔ حد درجے کی بزدل۔۔۔ اور۔۔۔ اندھیرے سے بھی ڈرتی ہے۔ مشال سوچتے ہوئے ندا کے لیے فکر مند ہو رہی تھی۔ جو نوفل کو بہت زیادہ اچھی لگی۔ یہی بات تو اس میں خاص تھی۔ کہ وہ دل کی صاف تھی۔ اور سب سے بے غرض محبت کرنے والی تھی۔

☺️
☺️
☺️
☺️
☺️

سکندر انتہا درجے کا سمجھ دار ، طاقت ور اور بہادر ہے۔ وہ ندا کی حفاظت کرے گا۔ نوفل نے یقین سے کہا۔ پھر اسے ساری بات سمجھائی۔ کہ گھر جا کر کیسے ہینڈل کرنا ہے۔ مشال لب بھینچے اثبات میں سر ہلاتی رہی۔ کچھ لمحوں بعد ایک نظر اٹھا کر نوفل کو دیکھ لیتی۔ لیکن اس کی تو دیی آنکھوں میں جھانکنے کی ہمت ہی نہ ہوتی۔ اس کی شرم و حیا نوفل کو اندر تک سر شار کر رہی تھی۔ اور دل ہی دل میں وہ اس شرم و حیاکے پیکر پر واری صدقے ہو رہا تھا۔ گھر۔۔۔ چلیں۔۔۔؟ نوفل کی نظروں سے مسلسل کنفیوز ہوتی۔ وہ بلاآخر بول پڑی۔ نوفل کی مسکراہٹ جان لیوا تھی۔ آپ چلو۔۔۔ میں آتا ہوں۔۔۔! نوفل کے کہنے پر وہ سر ہلا کر باہر نکلی۔ ریسٹورنٹ کا گلاس ڈور کھولتے وہ کسی اندر آتے وجود سے بری طرح ٹکرائی۔ سامنے لڑکی تھی۔ کوئی بہت ہی اوباش ٹائپ کی۔ اسکی ڈریسنگ سے مشال نے اندازہ لگایا۔ مشال کے ٹکرانے سے وہ سیخ پا ہوئی۔ ہاو ڈیر یو۔۔۔ ٹچ می۔۔۔ ؟ اس نے آگے بڑھ کر مشال کو کاندھے سے دھکا دیا۔ مشال کا سر بوری طرح گھوما۔ مس۔۔۔! آپ جو کوئی بھی ہیں آندھی طوفان کی طرح آپ آئی ہیں۔

😏
😏
😏
😏

اور مجھ سے ٹکرائیں بجائے مجھ سے معافی مانگنے کے آپ بد تمیزی کر رہی ہیں۔ مشال نے بھی حساب بے باق کیا۔ تم سے معافی۔۔۔؟؟ ہاہاہا۔۔۔ اپنے دوستوں (ایک لڑکا اور ایک لڑکی) کے ساتھ مل کر قہقہ لگایا۔ مشال نے لب بھینچے۔ تمہاری اوقات ہے نہیں فارہہ علی۔۔۔۔ تم سے معافی مانگوں؟ اس نے آگے بڑھ کر نفرت اور حقارت سے مشال سے کہا۔

نہیں۔۔۔ تمہاری اتنی اوقات نہیں۔ کہ میں تم جیسی ںد تمیز لڑکی سے معافی مانگواں۔۔۔ مشال کو اس کا انداز بورا لگا۔ نوفل اپنے اصل روپ میں سامنے آ چکا تھا۔ لیکن مونچھیں اور سن گلاسز نہیں Remove کی تھیں۔ وہ مشال کے ساتھ اس لڑکی کو الجھتا دیکھ چکا تھا۔ اور اس لڑکی کو وہ پہچان بھی چکا تھا۔ ایک دل قریب مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائی۔ اور آگے بڑھا۔ یو بلڈی۔۔۔۔! اس لڑکی نے ہاتھ اٹھایا۔ نوفل نے مشال کو کھینچ کر اپنے ساتھ لگایا۔ مشال حیران سی نوفل کو دیکھنے لگی۔ کیا ہوا جان۔۔۔! کیوں ان لفنگوں کے منہ لگتی ہو۔۔۔؟ چلیں نوفل نے مشال کو مزید اپنے ساتھ لگاتے نرمی سے اسے کہا۔ وہ جو سامنے والی کو منہ توڑ جواب دینے والی تھی۔ نوفل کی اس حرکت پر اندر تک سے کانپ گئی۔ زبان تالو کے ساتھ جا چپکی۔ سامنے فاریہ نوفل کو دیکھ کچھ پل تو بول ہی نہ پائی۔ نوفل اس کا Crushتھا۔

😶
😶
😶
😶
😶

اور دل و جان سے اس پر فدا تھی۔ جب وہ ایک خاص مشن پر تھا۔ مری میں وہیں۔ یہ اپنے فرینڈز کے ساتھ چھٹیاں گزارنے آئی تھی۔ Same ہوٹل تھے۔ فاریہ علی۔۔۔ نوفل کی اصلیت نہیں جانتی تھی۔ لیکن اس پر دل و جان سے مر مٹی تھی۔ لیکن وہاں سے نکلنے کے بعد آج ملاقات ہوئی تھی۔ تم۔۔۔؟ فاریہ علی کو وہ بھولا تھا۔

چلیں۔۔۔ جان۔۔۔! دیر ہو رہی ہے۔۔۔! نوفل نے مزیدمحبت سے مشال کے کان میں گھس کر کہا۔ اور مشال کا ہاتھ تھامےایک ادا سے فاریہ کے پاس سے لیکر باہر نکل گیا۔ فاریہ کی نظروں نے ان کا دور تک پیچھا کیا۔ اس کا دل ہر چیز سےاچاٹ ہو گیا۔ چلو ڈیئر۔۔۔! اندر چلیں ساتھ والا لڑکا بولا۔ فاریہ نے غصے سے اسے دیکھا۔ اسکا ہاتھ جھٹکا اور باہر نکل گئی۔ آپ۔۔۔۔ اس۔۔۔ لڑکی۔۔۔ کو جانتے تھے۔۔۔؟ ڈرائیونگ کرتے نوفل بلکل خاموش تھا۔ وہ چاہتا تھا مشال بولے۔ ام۔۔۔ مختصر جواب آیا۔ مشال مزید نہ پوچھ سکی۔ شک کر رہی ہو آپ مجھ پر۔۔۔؟ پلٹ کر ایک پیار بھری نظر ڈالی۔ مشال نے نفی میں سر ہلایا۔ نوفل مسکرا دیا۔ کبھی کرنا بھی مت۔۔۔۔! ایک مان تھا محبت تھی۔ مشال نے یکبارگی بے اختیاری نوفل کی جانب دیکھا۔ گھر آ گیا تھا۔

😐
😐
😐
😐
😐
😐

مشال۔۔! کسی بھی رشتے کی بنیاد اعتبار ہے۔۔۔! اعتبار سے تو رشتہ ہے۔ ورنہ۔۔۔ کچھ نہیں۔۔۔! میں یہ نہیں کہتا۔ کہ مجھ سے بے تحاشا پیار کرو۔ ( نظریں جھک گئیں) لیکن میں یہ ضرور چاہوں گا۔ کہ مجھ پر اعتبار کرو۔ جیسے میں کرتا ہوں۔ نوفل کے ہر لفظ میں سچائی تھی۔ مشال نے پرسکون ہو کر اثبات میں سر ہلایا۔ اور خدا خافظ کہتی اتر گئی۔ نوفل اس کے گیٹ کے اندر تک ہونے پر وہیں کھڑا رہا۔ اس کے بعد نوفل نے گاڑی آگے بڑھا دی۔

فارم ہاؤس میں ان دونوں کے مابین میں خاموشی تھی۔ ابیہان نے ماہیر کو بستر میں لٹایا۔ اور اس کے پاؤں سے کانٹا نکالا۔ وہ درد سے بلبلا اٹھی۔ لیکن ابیہان نے پرواہ نہ کی۔ فرسٹ ایڈ باکس سے مرہم پٹی کی۔ اور اٹھ کھڑا ہوا۔ تو۔۔۔ آپ۔۔۔۔ مجھے یہاں لا رہے تھے۔۔۔۔؟ ماہیر نے بات کا آغاز کیا۔ ابیہان نے خفگی سے اسے دیکھا۔

تو تمہیں کیا لگا۔۔۔؟ تمہارے باپ کے حوالے کرنے جا رہا ہوں۔۔؟ ایک اور طنز میں بجھا تیر چھوڑا۔ آپ۔۔۔ آپ نے فون پر۔۔۔ بابا سائیں سے۔۔۔ڈیل کی آپ نے کہا۔۔۔۔ کہ آپ۔۔۔ مجھے۔۔۔ ان کے حوالے۔۔۔!!

😔
😔
😔
😔
😔

اتنی آسانی سے تو نہیں کروں گا سب۔۔۔؟ ابیہان نے غرایا۔ ماہیر کا دل ایک بار پھر سےاس کے انداز پر دھڑکا۔ میں۔۔۔ میں آپ پر۔۔۔۔ اعتبار کرنے۔۔۔۔ لگی۔۔۔! روتے ہوئے الفاظ ادا ہوئے۔ جھوٹ۔۔ جھوٹ مت بولو ماہیر۔۔! اعتبار ہونا۔۔ تو وہاں سے بھاگتی نہ۔۔۔۔۔! ابیہان غصے سے اس کے قریب ہوا۔ میں۔۔۔ میں ڈر۔۔۔!! ابیہان کے قریب آنے سے وہ گھبرا گئی۔ اس وقت ماہیر کو ابیہان سے ڈر بھی لگا۔ ڈر۔۔۔؟ تم۔۔۔ جو۔۔ گھر سے بھاگ نکلی۔۔! یہ سوچے سمجھے بغیر۔۔۔ اگر کسی غلط انسان کے ہاتھ لگ جاتی تو کیا ہوتا تمہارا۔۔؟ تب۔۔۔ تب ڈر نہیں لگا؟ دانت کچکچائے لگا تھا۔ بہت ڈر لگا تھا۔ اس دنیا سے۔۔۔! لیکن بی جان نے حوصلہ دیا۔۔۔۔ ان کے کہنے پر سب کیا ہے۔ بنا سازو سامان اور بنا منزل کا تعین کئے بھاگی۔۔۔! ماہیر پھٹ پڑی اپنوں کی ڈسی ہوئی ہو ناں۔۔۔! عشق بھی کر لیا لیکن ۔۔۔۔ اعتبار بھی چوک گئی۔

آنسو لڑیوں کی صورت میں بحہ نکلے۔ تمہاری یہ صفائیاں۔۔۔ مجھ پر اثر نہیں کر رہیں۔۔۔!! اور اپنے آنسو۔۔۔ بچا کر رکھو۔۔۔! تم مجھ سے دور بھاگی۔

😄
😄
😄
😄
😄

ٹھیک ہے۔ میں تمہیں خود۔۔۔ اپنے آپ سے دور کر دوں گا۔ جو تم۔۔!!

پلیز خان۔۔۔! ماہیر تڑپ کر کھڑی ہوتی۔ ابیہان کے لبوں پر ہاتھ رکھ گئی۔ آنسو پھر سے بحہ نکلے۔ مجھ۔۔۔ مجھے۔۔۔آپ سے دور نہیں جانا۔۔۔ کہیں۔۔۔ کہیں نہیں جانا۔۔۔! آپ۔۔۔ آپ سے دور جانے سے بہتر ہے۔۔۔۔ میں خود کو مار ڈالوں۔۔۔! سخت دل سے کہتی وہ ابیہان کو چونکا گئی۔ وہ تو آج جیسے ماہیر سے سارےلہدو پیماں کروانے کے موڈ میں تھا۔ لیکن اس کے مرنے کی بات پر دل کو کچھ ہوا۔ وہ جو اسے تنگ کر دہا تھا۔ اب لب بھینچ گیا۔ ٹھیک ہے۔۔۔! پھر خود ہی تمہاری جان لے لیتا ہوں۔۔۔! کیونکہ تمہیں مارنے کا حق بھی۔۔۔۔ میں کسی کو نہیں دے سکتا۔ ابیہان کے سخت لہجے پہ ماہیر نے نین کٹورا آنکھیں اٹھا کراسے دیکھا۔ اس نے ماہیر کے بالوں میں انگلیاں پھسا کرخود سے قریب کیا۔ اور اسکی آنکھوں میں جھانکتے اس کے لبوں پر جھکا۔ ماہیر پوری جان سے کانپ گئی۔ وہ اپنی دیوانگی اپنا جنون ماہیر کی روح میں انڈیل رہا تھا۔ اور ماہیر اس کی وار فتگیوں سے ہلکان ہو رہی تھی۔ اور جب وہ ہچکیوں سے رو دی۔ تو وہ اس کی جان بخشی کرتا پیچھے ہوا۔

😇
😇
😇
😇
😇

ماتھے سے ماتھا جوڑا۔ دونوں کی آنکھیں بند تھیں۔ ماہیر لمبے لمبے سانس لیتی کانپ رہی تھی۔ ابیہان نے اسے خود میں بھینچا۔ وہ بھی پرسکون سے اس کے سینے سے لگی۔ آنکھیں موند گئی۔ اتنی سی سزا پر یہ حال ہے۔۔۔؟؟ اس سے بڑی سزا دے دی۔ تو کیا حال ہو گا تمہارا۔ کان کی لو کو لبوں سے چھوتے وہ ماہیر کے کانوں میں رس گھول رہا تھا۔ اور ماہیر کا دل الگ ہی تال پر دھڑک رہا تھا۔ خا۔۔۔۔ن۔۔۔! ماہیر بمشکل بولی۔

ام۔۔۔! آنکھیں موندے وہ ان لمحوں کے زیر اثر تھا۔ مجھ۔۔۔ ے ۔۔۔۔ بھوک لگی ہے۔۔؟

ماہیر کے بر جستہ کہنے پر وہ یکدم آنکھیں کھولے حیرت سے ماہیر کو دیکھنے لگا۔ رومینٹک موڈ کا بیڑا غرق کرنا۔۔۔ کوئی تم سے سیکھے۔۔! آن لائن آرڈر دیا ہے۔ آرہا ہو گا۔۔۔۔! ابیہان نے اسے پھر سے بانہوں میں بھرا۔ آپ۔۔۔۔ بہت بڑے ہیں۔۔۔! اچانک ماہیر نے کہا تو ابیہان زیر لب مسکرایا۔ ابھی تو میں۔۔۔ نے کچھ کیا ہی نہیں۔۔۔! اور برا بن گیا۔۔؟

😂
😂
😂
😂

ابیہان نے معنی خیزی سے کہتے اسے بانہوں میں اٹھایا۔ شرم وحیاء سےماہیر کی پلکیں بوجھل ہوئیں۔ تبھی پیزا ڈلیور بوائے آ گیا۔ Pizza اور کوک لیتے ابیہان روم کی جانب بڑھا۔ پیزا کوک دیکھ کر ماہیر کی بھوک بھڑکی۔ اور ندیدیوں کی طرح ٹوٹ پڑی۔ کھاتے کھاتے یکدم ابیہان کا خیال آیا۔ تو کن اکھیوں سے اسے دیکھا۔ جو بہت فرصت سے ماہیر کو دیکھ رہا تھا۔ آنکھوں میں لو دیتے جذبے تھے۔ ماہیر جھینپ گئی۔

آپ بھی کھا لیں۔۔۔! آپ کو بھی بھوک لگی ہو گی۔۔۔۔!! ابیہان آگے بڑھااور اس کی منہ کی سائیڈ پر لگا۔ پیزا کا بائیٹ اپنے لبوں سے چنا۔ ماہیر کی سانس اٹک گئی۔

تم آرام سے کھاؤ۔ مجھے جس کی بھوک ہے وہ میں خود کھا لوں گا۔ معنی خیزی سے کہتا وہ ڈریس لے کر باتھ روم میں گھسا تھا۔ ماہیر کا تو پیزا کا بائیٹ حلق میں ہی اٹک گیا۔ وہ ۔۔۔۔ ابیہان کے پر اسرار انداز سے ہی ٹھٹھک گئی تھی۔ فٹ سے پیزا سائیڈ پر رکھا۔ اور سر سے پاؤں تک کمفرٹر اوڑھ کر سونے کی تیاری کرنے لگی۔ لیکن دل تھا کہ بے تحاشا دھڑک رہا تھا۔

😍
😍
😍
😍
😍

ابیہان فریش ہو کر باہر آیا تو۔ماہیر کو سوتے دیکھ زیر لب مسکرایا۔ ڈریسنگ پر کھڑے بال سیٹ کرتا۔ پرفیوم خود پر انڈیلتا۔ وہ مرر سے مسلسل ماہیر کو ہی جانچ رہا تھا۔ لائیٹ آف کرتا۔ Lamp کی روشنی میں وہ ساتھ Study روم کا دروازہ کھول کر جا چکا تھا۔ کافی دیر گزرنے کے بعد بھی جب ماہیر کو ابیہان کی موجودگی محسوس نہ ہوئی۔ تو کمفر ٹر کو ہٹا کر دیکھ اٹھی۔ اور دھیرے دھیرے چلتی سٹڈی روم کی طرف بڑھی۔ ابھی دروازہ کھولنے لگی۔ کہ ابیہان روم میں داخل ہوا۔ ماہیر وہیں تھم گئی۔ کیا بات ہے۔۔۔۔! نیند میں چلنے کی بیماری بھی ہے۔۔۔؟ میٹھا سا طنز کرتا وہ آگے بڑھا۔ کہ ماہیر نے ہاتھ پکڑ کر روک لیا۔

ناراض ہو گئے۔؟ بہت محبت بھرے لہجے میں پوچھا۔ حق میں مجھے۔۔۔؟ بنا پلٹے جواب دیا۔ سارے حق آپ کے ہیں۔۔ محبت بھرے انداز سے کہتی وہ ابیہان کے جزبوں کو پھر سے جگا گئی۔ کیا چاہتی ہو تم۔۔۔؟ پلٹ کر ماہیر کے ناک کے ساتھ ناک جوڑتے سانسیں ان ہیل کی۔

😜
😜
😜
😜
😜
😜

صرف آپ کو۔۔۔۔! ماہیر بھی پیار کے جذبوں کے آگے ہار مان گئی۔ وہ اس کا مجازی خدا تھا۔ وہ کیسے محبت کو ٹھکرا کر نا شکری اور گناہ کر سکتی تھی۔۔۔!

ابیہان نے ماہیر کو بانہوں میں بھرا۔ دونوں کی نظریں ملیں۔ ماہیر نے پلکیں گرا دیں۔ بیڈ پر لٹاتے وہ اس کے قریب ہوا۔ تو ماہیر کی روح تک کانپ گئی۔ دل کی رفتار مزید تک بڑھ گئی۔

خا۔۔۔ن۔۔۔!! ماہیر ابیہان کی بڑھتی جسارتوں سے گھبرا کر دھیرے سے بولی۔ شی۔۔۔!! آج۔۔۔۔ کچھ نہیں کہتا۔۔! صرف محسوس کرنا ہے۔۔۔! اور مجھے۔۔۔۔ محسوس کرنے دو۔ کہتے ساتھ ہی ابیہان ماہیر کی گردن پر جھکا۔ ماہیر خود میں سمٹی۔ پیار بھرے لفظ ماہیر کو اپنی گردن پر محسوس ہو رہے تھے۔ ماہیر نے خود کو ابیہان کے سپرد کر دیا۔ اس خود سپردگی نے ابیہان کو سر شار سا کر دیا۔

رات کی تاریکی پھیل رہی تھی۔ فضا میں ہلکی ہلکی سر گوشیاں تحلیل ہو رہی تھیں۔ اور دور کہیں چاند ان دونوں کے عشق پر مسکرا رہا تھا۔

دبے قدموں وہ کاریڈور سے گزر رہی تھی۔ کہ سامنے سے آتی وہ ثروت بیگم کو دیکھ کر ٹھٹھک گئی۔ آگئیں۔۔۔۔! میں وہی دیکھنے آ رہی تھی۔ ثروت بیگم نے مشال کو دیکھتے کہا۔ تو مشال دھیرے سے مسکرائی۔ جی مما۔۔۔! شاپنگ کرتے وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا۔۔! تھوڑا شرمندہ ہوئی۔ بیٹا۔۔۔! رات دیر اتنی گھر سے باہر نہیں اچھی لگتیں بیٹیاں۔۔! مغرب تک اپنے تمام کام نپٹا لیا کرو۔ ایک ماں ہونے کے ناطے پیار سے سمجھایا۔ مشال نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ سوری مما۔۔! نیکسٹ ٹائم احتیاط کریں گے۔۔۔! فورا مانی اچھا۔۔۔۔ کھانا لگواوں۔۔۔! ندا کہاں ہے۔۔۔؟

ارے۔۔۔ نہیں ۔۔۔ مما۔۔۔! وہ بھوک لگی تو واپسی میں ہم نے۔۔۔ کھا لیا۔ ندا۔۔۔ کو تو نیند آئی تھی۔ سونے چلی گئی۔ میں آپ کی طرف آ رہی تھی۔۔۔۔۔! مما۔۔! خیرت ہے۔۔۔؟ آپ کچھ پریشان لگ رہی ہیں۔ مشال نے ماں کو صفائی دیتے ان کی پریشانی کو بھانپتے پوچھا۔

نہیں۔۔۔! کوئی بات نہیں۔۔۔! جاؤ۔۔۔۔!! سو جاؤ جا کر۔۔۔! ثروت بیگم نے پیار بھرے لہجے میں کہا۔ تو مشال سر اثبات میں ہلاتی اپنے روم کی جانب بڑھی۔ اپنے بستر میں لیٹتے بھی وہ مسلسل ندا کے بارے میں سوچتی رہی۔ اور اس کی سلامتی کی دعائیں کرتی رہی۔

😊
😊
😊
😊
😊

علی الصبح ندا اور سکندر وہاں سے نکلے۔ اس قبیلے کے دو آدمی گن کے ساتھ ان کے ہمراہ تھے۔ ندا منہ ہی منہ میں قرآنی آیات کو ورد کرتی جا رہی تھی۔ تقریباً ایک گھنٹہ چلنے کے بعد وہ لوگ اب ارد گرد کا جائزہ لے رہے تھے۔ سامنے ہی روڈ تھی۔ روڈ دیکھ ندا جہاں خوش ہوئی۔ وہیں سکندر مطمئین ہوا۔ تبھی گاڑی کی آواز نے انہیں چونکایا۔ وہ دونوں آدمی گن ہاتھ میں اٹھائے الرٹ ہوئے۔ قریب ہی فوج کی وین نظر آئی۔ وین ان کو دیکھ کر رک گئی تھی۔ ایک فوجی جوان ہاتھ میں گن اٹھائے ان تک بڑھا۔

خبردار۔۔۔! جو ایک قدم بھی آگے بڑھایا۔۔۔! وہ فوجی جوان کچھ کہتا۔ اس سے پہلے قبیلے کا ایک آدمی گن تانے بولا۔ سکندر نے آگے بڑھ کراس شخص کا بازو مروڑ کے گن کو نیچے گرا دیا۔ وہ سخت تیش میں آیا تھا۔ خبردار۔۔۔۔! جو میرے فوجی جوان کی طرف گن اٹھائی۔ تو ہاتھ الگ کر دوں گا دھڑ سے۔۔۔! اور بھول جاؤں گا کہ ہم آپ کے مہمان تھے۔۔۔! سکندر نے ٹھنڈے لہجے میں کہا۔ تم۔۔۔۔ تم۔۔۔۔ فوجی ہو۔۔؟ وہ شخص گھبرا کر بولا۔

😏
😏
😏
😏
😏

الحمدللہ ! میں ایک فوجی ہوں۔ اور تمہارے علاقے میں تم لوگوں کے پاس رہ کر بھی آیا ہوں۔ اور زندہ سلامت بھی ہوں۔۔۔! غراتے ہوئے کہا۔ سر۔۔۔! آپ ٹھیک ہیں ناں۔۔۔! وہاب سکندر کو دیکھ بہت خوش تھا۔ دو فوجی جوان اور آ گئے۔ سر۔۔۔! آپ اجازت دیں۔ تو انھیں حراست میں لے لیتے ہیں۔۔۔! وہاب نے کسی شکاری کی طرح کہا۔ نہیں میں۔۔۔۔! انہوں نے ہمیں پنا دی ہے۔۔۔۔! ان کا احسان ہے۔۔۔۔! انھیں زندہ واپس بھیجنا ہے۔ اور یہ احسان کا بدلہ ہے۔۔۔۔! بہت ٹہر ٹہر کر رہا۔ اور آگے آج کے بعد کہیں نظر آئے۔ تو آپ کی صحت کے لیے اچھا نہیں ہو گا۔ اس لیے وقت ضائع کیے بغیر نکلو یہاں سے۔۔۔! سکندر نے انھیں الٹی میٹم دیا۔ تو وہ فوراً سے پیشتر وہاں سے بھاگ نکلنے کے 5منٹ بعد وہ بھی جیپ میں بیٹھے اپنی منزل کی طرف روانہ ہوئے۔ صبح ابیہان کی آنکھ کھولی تو ماہیر کا سر اپنے سینے پر محسوس ہوا۔ بے اختیار ہی ہونٹوں کو مسکراہٹ نے چھوا۔ دھیرے سے ماہیر کا سر اٹھا کر تکیے پر رکھا۔ بال بکھرے چہرے کو اپنے حصار میں لیا۔

😇
😇
😇
😇
😇

تو ابیہان نے فوراً ہاتھ بڑھا کر بال پیچھے کیے۔ سوئے ہوئے کسی معصوم بچے کی طرح لگ رہی تھی۔ ابیہان کی شرٹ پہنے وہ ابیہان کو پھر سے اٹریکٹ کر رہی تھی۔ ابیہان کو وہ وقت یاد آیا۔ جب پہلی بار وہ اس کے روم میں آئی تھی۔ اور بنا اجازت اس کے کپڑے پہن لیے تھے۔ ایک دلفریب مسکراہٹ نے لبوں کا احاطہ کیا۔ آگے بڑھ کر ماہیر کے ماتھےپر پیار کی نشانی ثبت کی۔ کتنے پل وہ یوں ہی اس کے نقش کو ذہن میں بیٹھاتا رہا۔ پھر دھیرے دھیرے جسارتیں بڑھنے لگیں۔ تو ماہیر کسمسا کےمندی مندی آنکھوں سےابیہان کو دیکھا۔ حان۔۔۔۔ سونے دیں ناں۔۔۔! نیند کی حماری میں وہ بس اتنا ہی بول پائی۔ لگتا ہے۔۔۔!! ابھی بھی نیند پوری نہیں ہوئی۔۔۔؟ ابیہان کہتے ہی اسکی گردن میں منہ گھسایا۔ وہ کھلکھلا کر ہنسی۔ حان۔۔۔! ابیہان نے منہ اوپر کیا۔ اور مصنوعی خفگی سے دیکھا۔ گدگدی۔۔۔ ناں کریں ناں۔۔۔! بمشکل خود پر کنٹرول کیا۔ ماہیر۔۔۔! رومینس کو خراب مت کیا کرو۔ پیچھے ہٹتےبیڈ کراؤن سے ٹیک لگائےتکیے کو سینے سے لگایا۔ ماہیر مسکراتی ہوئی ابیہان کے منہ کے آگے جھکی۔ پھر۔۔۔! ناراض ہوگئے۔۔۔؟ بچوں کی طرح سوال کیا۔

☺️
☺️
☺️
☺️
☺️
☺️

لگتا ہے۔۔۔! رات کو ڈوز بول گئی ہو۔۔۔ ایک اور ڈوز دینی پڑے گی۔ ابیہان یہ کہتے ہی تکیہ دور اچھالےماہیر کو قابو کیا۔ جو اٹھ کر بھاگنے والی تھی۔ حا۔۔۔ن۔۔۔۔! پلکیں جھکیں۔ ابیہان نے اسے بیڈ پر لٹایا اور اس کے اوپر جھکا۔ جی حان کی جان۔۔۔۔؟؟ ابیہان پھر سے بہکنے لگا۔ پل۔۔۔۔ لیز۔۔۔! خود پر اسے حاوی ہوتے دیکھ منت پر اتر آئی۔ ابیہان کی بڑھتی جسارتوں پر وہ ہلکان ہوئے جا رہی تھی۔ کہ تبھی موبائیل پر بیپ ہوئی۔ تو وہ چونکا۔ ماہیر نے شکر ادا کیا۔ ابیہان نے منہ بگاڑا۔ لیکن ایک ہاتھ سے ماہیر کو قابو کیے۔ دوسرے ہاتھ سے موبائل کان سے لگایا۔

ابی۔۔۔ بیٹ۔۔۔! کہاں ہو تم۔۔۔؟ ثروت بیگم کی آواز پر وہ یکدم سیدھا ہوا۔ مما۔۔۔! میں۔۔۔ فارم ہاؤس ہوں۔۔! کیا ہوا۔۔؟ سب۔۔ حیرت ہے ناں۔۔۔؟ ابیہان ماں کے پریشان لہجے کو بھانپ گیا تھا۔ ماہیر بھی سیدھی ہو کر بیٹھی۔ بیٹا۔۔۔! جتنی جلدی ہو سکے۔ گھر پہنچے۔ کہتے ہی فون بند ہو گیا۔ ابیہان موبائیل سائیڈ پر رکھ ماہیر کی طرف متوجہ ہوا۔

😜
😜
😜
😜

کیا خیال ہےContinue کریں؟ یکدم پوچھنے پر ماہیر کو اچھنبا ہوا۔ جھٹ سے باتھروم کی طرف بھاگی۔ ابیہان کے چہرے پر ایک آسودہ مسکراہٹ آئی۔ لیکن اگلے ہی لمحے وہ مسکراہٹ غائب تھی۔ وہ ماں کے پریشان لہجے پر خود بھی سخت پریشان ہوا تھا۔ اور خود بھی پلک جھپکتے اٹھا تھا۔

مشال آپی۔۔۔! آپ آج اکیلی جا رہی ہیں؟ ندا کہاں ہے۔۔؟ حور نے مشال کو جلدی سے نکلتے دیکھا۔ تو پوچھ لیا۔ مشال نے لب بھینچے۔

وہ۔۔۔۔ ندا کی۔۔۔ ایک اسپیشل کلاس تھی۔ تو وہ صبح ہی نکل گئی۔ مشال نے لہجہ نارمل کرتے کہا۔ حیرت کی بات ہے۔۔! میں نے نہیں دیکھا جاتے ہوئے۔ ایک وہ محترمہ ہیں۔ ماہیر میڈم۔۔۔! ان کا کوئی پتہ نہیں۔۔ کل سے۔۔! عجیب ہی سسٹم ہو گیا ہے گھر کا۔۔۔! کیا۔ کیا مطلب۔۔۔؟ ما۔۔۔ماہیر کہاں ہے؟ مشال کو ساری باتوں میں ایک یہی بات سمجھ میں آئی۔ کیا پتہ کہاں بھاگ گئی ہے؟ ساری رات وہ گھر نہیں آئی۔ ڈائننگ ٹیبل کے پاس کھڑے وہ اونچا اونچا بول رہی تھی۔

😫
😫
😫
😫
😫

حور۔۔۔! فروا بیگم کی آواز پرحور کو بریک لگا۔ فروا بیگم آگے بڑھیں۔ اور غصے سے حور کا بازو پکڑا۔ اور اندر کی طرف بڑھیں۔ مشال نے حیرت سےماں کی طرف دیکھا۔ مما۔۔۔! ماہیر۔۔ رات سے۔۔۔؟؟ مشال سے بولا نہ گیا۔ ثروت بیگم گرنے والے انداز میں ڈائننگ چیئر گھیسٹ کر بیٹھیں۔ مشال ۔۔۔! تم جاؤ۔۔۔! دیر ہو رہی ہو گی تمہیں۔۔۔!! خود کو خود حوصلہ دیتے ہوئے وہ مشال سے مخاطب ہوئیں۔ آپ جتنا مرضی پردہ ڈال لیں۔ حقیقت سامنے آ ہی جانی ہے۔۔۔! بھائی صاحب۔۔۔! ابھی مشال کچھ بولتی ۔ کہ شاہ ویز صاحب کی اونچی آواز کانوں سے ٹکرائی۔ جو بڑے بھائی پرویز صاحب سے مخاطب تھے۔ شاہ ویز۔۔۔! یہ میرے گھر کا معاملہ ہے۔ میں خود ہینڈل کر لوں گا۔ پریشان نہ ہو۔ ضبط سے بولا۔ اچھا۔۔۔! مجھے لگا۔ ہم۔۔۔۔ ایک فیملی ہیں۔ شاہ ویز صاحب نے طنز کیا۔ حور ، فروا بیگم کے ساتھ شور سن کر باہر آ گئیں۔ نور بھی سہمی سی آئی۔

😏
😏
😏
😏
😏
😏

فیملی۔۔۔؟ تم۔۔ مجھے۔۔اور۔۔۔۔ میری اولاد کی فیملی مانتے ہو؟ پرویز صاحب نے کڑے ضبط سےبھائی پوچھا۔ بات کو پلٹیں ناں۔۔۔۔! بلکہ یہ سوچیں۔۔۔۔! جب ابیہان آئے گا۔ تو آپ اسے کیا جواب دیں گے۔۔۔ کہ کس کے ساتھ۔۔۔ بھاگ گئی ہے اس کی بیوی۔۔۔!! شاہ ویز۔۔۔! پرویز صاحب کی کڑک دار آواز پر سبھی چونکے۔ اور ٹھٹھرے۔ ثروت بیگم بھی دل میں ہاتھ رکھے کھڑی ہوئیں۔ بات بڑھتی ہی چلی جا رہی تھی۔ ما۔۔۔ ہیر۔۔۔!! مشال کے پکارنے پر سبھی نے پلٹ کر دروازے کی طرف دیکھا۔ جہاں ماہیر آنکھوں میں آنسو لیے دروازے پر ایستادہ تھی۔ جس کا مطلب تھا ۔ وہ سن چکی تھی شاہ ویز صاحب کی گل افشانی۔ لو جی۔۔۔۔! آگئی ۔۔۔! ہماری عزت کا جنازہ نکال کے۔۔ ہمارے سروں میں خاک ڈال کے۔۔۔!! پوچھیں اس سے ۔۔۔ کہاں تھی۔۔۔۔ یہ رات بھر۔۔۔!! شاہ ویز صاحب طنز میں مجھے تیر چلا رہے تھے۔ جو اندر آتے ابیہان نے سن لئیے۔ ماہیر نے سختی آنکھیں میچیں۔ ابیہان نے خود کو کچھ بھی سخت کہنے سے باز رکھا۔ مشال نےآگے بڑھ ثروت بیگم کو سنبھالا۔

😢
😢
😢
😢
😢

لو جی۔۔۔! اب ابیہان پرویز خان۔۔ خود بھی آگئے ہیں۔۔۔! اچھا ہوا۔۔ صحیح وقت پر آئے ہو۔۔۔! تمہاری بیوی۔۔۔ رات۔۔۔ بھر سے۔۔۔ گھر۔۔۔! انکل۔۔۔! ابیہان نے مٹھیاں بھینچیں۔ غصہ ضبط کیا۔ بیٹا۔۔۔! مجھ پر غصہ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔! اپنی بیوی سے پوچھو۔۔۔! کہاں تھی وہ رات بھر۔۔! اگر یہی الفاظ میں آپ سے کہوں۔۔۔ تو۔۔۔! ابیہان کی ہیزل آنکھیں اس وقت لال انگارا ہوئیں تھیں۔

ابیہان۔۔۔! شاہ ویز صاحب غصے سےچلائے۔ انکل۔۔۔! آواز دھیمی رکھیں۔ ابیہان کا لہجہ ٹھنڈا ٹھار تھا۔ لیکن انتہائی سخت تھا۔ روبرو ہوا۔ میری بیوی کے بارے میں۔۔۔ میں کسی کو بھی کچھ بھی کہنے سنے کا حق نہیں دوں گا۔۔۔! سمجھے آپ۔۔۔!! لہجہ انتہائی غصیلہ تھا۔ اور یہاں موجود۔۔ سب کی تسلی کے لیے صاف اور واضح کر دوں۔ ماہیر اپنے شوہر۔۔۔ یعنی میرے ساتھ تھی۔۔۔! ماہیر کا ہاتھ تھاما۔ اسے اپنے ہونے کا احساس بخشا۔ ماہیر نے آنکھیں کھولیں۔ نین کٹورا آنکھیں ابیہان کے دل کی دنیا کو ہلا گئے۔

❤️
❤️
❤️
❤️
❤️

ابیہان کے الفاظ نے پرویز صاحب کے دل کو ڈھارس بڑھائی۔ ایک سکون اور سر شاری سی تھی ان کے چہرے پر۔۔! اب۔۔۔اگر۔۔۔ کسی نے بھی۔۔۔ میری بیوی کے خلاف۔۔۔ ایک لفظ بھی بولا۔۔۔ تو میں۔۔۔ بھول جاؤں گا۔ کہ میرا اس سے کیا رشتہ ہے۔۔! تنبیہہ انداز میں کہتا وہ وہاں موجود سب کو حیران کر گیا۔ حور تو بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپی۔

بیٹا۔۔! یہ مت بھولو۔۔۔ کہ مشال تمہاری بہن ہے میرے بیٹے۔۔۔؟؟ کیا۔۔۔ کیا آپ کے بیٹے؟ ابیہان کے جار خانہ تیور دیکھ کے دھمکیاں دینی بند کریں۔ رشتوں کے اوپر رشتوں کی سودے بازی مت کریں۔ یہ میں آپ کو پہلے بھی بول چکا ہوں۔ کرخت لہجے میں کہتا اس وقت سب کو سانپ سونگھ گیا۔ اور آپ کو کیا لگتا ہے۔۔۔؟؟ میں اپنی بہن ایک ایسے انسان کو سونپوں گا۔ جو پل میں میری بہن کے سر سے چادر کھینچ لے۔۔۔۔! اب کی بار کے الفاظ نے سب کو چونکایا۔ مشال کا دل تیزی سے دھڑکا۔ ابیہان کے الفاظ اس کے دل کے پار ہوئے تھے۔ اب۔۔۔ نوفل۔۔۔ بھائی۔۔۔۔ آپ کے آنے کے بعد ہی اس رشتے کا خدصہ ہو جائے گا۔۔۔! اس لیےاب دھمکی۔۔۔ نہیں۔۔۔!

😱
😱
😱
😱

انگلی اٹھا کر وارن کرتا۔وہ شاہ ویز کو چپ کروا گیا۔ غصے سے پیچ و تاب کھاتے وہ نکل گئے۔ آج پرویز صاحب کو اپنے بیٹے پہ بہت فخر محسوس ہوا۔ اب وقت آ گیا تھا۔ کہ وہ ماہیر کی ساری سچائی ابیہان کو بتا دیں۔ کیونکہ اب انھیں یقین ہو گیا تھا۔ کہ ابیہان ہر موڑ پر ماہیر کا ساتھ دے گا۔ مشال کے موبائیل پر آتی کال سے سب چونکے۔ کان سے لگائے مشال کی آنکھیں اور آواز پتھرا گئ۔ ک۔۔۔ یا۔۔۔۔ کیا۔۔۔کحہ رہے ہیں۔۔۔ ندا۔۔۔؟؟ مشال سے بات پوری نہ ہو پائی۔ ابیہان نے آگے بڑھ کرموبائیل آنسو بہاتی مشال سے لیا۔ اور جو خبر اسے سننے کو ملی۔ اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ ابیہان۔۔۔! کیا ہوا۔۔؟بتاو ۔۔۔بھی۔۔۔؟ میرا دل بیٹھا جا رہا ہے۔۔۔ ثروت بیگم پریشانی سے آگے بڑھیں۔ گو۔۔۔ لی۔۔۔ گولی لگی ہے۔۔۔۔ندا ۔۔۔کو۔۔۔ ابیہان کواپنی آواز کھائی سے آتی سنائی دی۔ ثروت بیگم دل پر ہاتھ رکھے وہیں ڈھے گئیں۔ سبھی حیران پریشان تھے۔ اچانک کیسے ہوا۔ ک۔۔۔ ہاں۔۔۔ جا۔۔ رہے ہو۔۔؟ ابیہان کو باہر جاتا دیکھتے پرویز صاحب بمشکل بول پائے۔

😶
😶
😶
😶
😶

بابا۔۔۔! ہاسپٹل۔۔۔! وہ حوصلہ نہیں ہارنا چاہ رہا تھا۔ لیکن آگے بڑھتے۔۔۔ اس کے قدم اس کی آواز کے ساتھ لڑ کھڑا رہے تھے۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے۔ میں۔۔۔ میں ۔۔۔ بھی۔۔۔۔ بمشکل قدم بڑھائے۔ کہ لڑ کھڑا گئے۔ پاس کھڑی ماہیر نے فوراً سہارا دیا۔ بابا۔۔۔! آپ گھر پر ہی رکیں۔۔! آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں۔ میں۔۔۔ پتہ کر کے آپ کو بتاتا ہوں۔۔۔۔! ابیہان نے ماہیر کو اشارہ کیا۔ کہ وہ پرویز صاحب کو اندر لے جائے۔ اور خود مین گیٹ ( گاڑی میں بیٹھ) کراس کر گیا۔ مین روڈ پر جیسے ہی ان کی فوج کی جیپ گزری۔ دو گاڑیوں نے انہیں فالو کرنا شروع کر دیا۔ سکندر کی چھٹی حس نے اسے خبردار کر دیا۔ جیپ کو سنسان علاقے کی طرف موڑا۔ سر۔۔۔! آپ میم کو لے کر گاڑی سے نکلیں۔۔۔ انھیں ہم سنبھالتے ہیں۔ وہاب نے گن کو ہاتھ میں لیے پیچھے آنے والی گاڑیوں میں سے ایک گاڑی کو فوکس کیا۔ سکندر نے اس کی گن نیچے کی۔ تبھی پیچھے ایک گاڑی سے فائر ہوا۔ اور ان کی گاڑی کے ٹائر پر نشانہ لگا۔ جیپ ان بیلنس ہوئی۔ لیکن روکنا خطرے سے خالی نہ تھا۔ یہ تعداد میں کم تھے۔ اور وہ کیں زیادہ تھے۔

😐
😐
😐
😐
😐

سر۔۔۔! میم کو لے کر آپ کود جائیں۔ ہم انہیں گمراہ کرتے ہیں۔ ریاض نے بھی وہاب والی بات کی۔ وہاب۔۔۔! ندا کو لے کر۔۔۔ تم نکلو گے۔ اور بخفاظت ایمپارٹمنٹ تک پہنچاؤ گے۔ میں تمہیں کور کروں گا۔ سکندر نے گن چیک کرتے آرڈر کیا۔ ن۔۔۔ نہیں۔۔۔۔! میں۔۔۔ آپ کو چھوڑ کر۔۔۔ نہیں۔۔۔!! ندا۔۔۔ بخث کا وقت نہیں۔۔۔! وہاب۔۔۔! ندا کو غصے سے دبکتے پھر وہ وہاب کی طرف متوجہ ہوا۔ ایک کھروچ بھی نہیں آنی چاہیے۔ اس دیٹ کلیر۔۔۔؟ سختی سے آرڈر دیتے وہ وہاب کو بھی چپ کروا گیا۔ درختوں کے قریب ہوتے ہی گاڑی کی سپیٹ سلو کرتےسکندر اور ریاض نے فائر کر کے ان کا دھیان بٹایا۔ وہاب اور ندا۔۔۔ کود گئے۔ کودتے لمحے بھی ندا کی نظریں سکندر پر تھیں۔ لیکن روتے ہوئے وہ وہاب کے ساتھ آگے بڑھ رہی تھی۔ ان کے قدم تیز تھے۔ وہاب عقاب کی طرح اس کے ساتھ تھا۔ اسے کور کیا۔ تبھی گولیوں کی آواز آئی۔ تو ندا کے قدم دوکے سانس روکا۔ میم۔۔۔! پلیز۔۔۔ Moving۔۔۔! وہاب نے التجا کی۔ ندا کے قدم آگے نہ بڑھے۔ پیچھے پلٹ کر دیکھا۔ صرف درخت تھے۔ اور بہت دور وہ ستمگر۔

😭
😭
😭
😭
😭

میم۔۔۔! پلیز۔۔۔ چلیں۔۔۔! وہاب نے التجا کی۔ گولیوں کی آواز ایک بار پھر سے آئی۔ آنسو روانی سے بہنےلگے۔ دل نے سختی سے باز پرس کی۔ کیسے۔۔۔ ؟ کیسے۔۔۔؟ بزدلوں کی طرح اپنی جان بچا کر بھاگ سکتی ہے۔۔۔؟؟ وہ شخص۔۔۔ ہمیشہ اس کا مخافظ بنا ہے۔۔! اب بھی۔۔۔ اسے ہی Protect کر رہا ہے۔ اور وہ۔۔۔ اسے موت کے منہ میں۔۔۔ چھوڑ آئی۔۔۔؟؟ وہ اپنا فرض تو ادا کر گیا۔۔۔۔ باری۔۔۔ اب ندا کی تھی۔ ہم۔۔۔؟ وہاب نے اسے بازو سے پکڑ کر بھاگنا چاہا۔ ندا نے یکدم فیصلہ کیا۔ ہاتھ چھڑایا۔ اور واپس پلٹی۔ وہاب کے تو پیروں تلے سے زمین نکلی۔ وہ بھی پیچھے لپکا۔ وہ پکارتا پیچھے ہی جا رہا تھا۔ کہ اچانک ٹھٹھکا۔ سکندر پر سامنے سے نشانہ لیا گیا۔ سکندر کی پیٹھ تھی۔ جیسے ہی وہ پلٹا۔ گولی چلی۔ لیکن ندا بیچ میں آگئی۔ اور گولی سکندر تک نہ پہنچ سکی۔ اچانک ہر طرف خاموشی کا راج ہو گیا۔ ندا کی نظریں سکندر پر تھیں۔ سکندر حیران ندا کو اپنے سامنے پا کر گہری نیند سے جیسے جاگا ہو۔ جب وہ اس کے سینے پر سر رکھے۔ اس اسکی بازوں میں جھول گئی۔

😱
😱
😱
😱

سکندر کے لیے وقت ٹھہر سا گیا۔ وہاب نے اس گولی چلانے والے کا دماغ پر نشانہ لیا اور فائر کیا۔ وہ وہیں پر ڈھیر ہو گیا۔ سکندر کی ٹیم کے دو ساتھی شدید زخمی ہوئے تھے۔ باقی مخفوظ تھے۔ سامنے دشمن کے سب ساتھی مارے جا چکے تھے۔ ندا کو تھامے وہ زمین پر بیٹھتا چلا گیا۔ ندا کی آنکھیں بند ہو رہی تھیں۔ لیکن چہرے پر مسکان تھی۔ دل میں اچانک درد کا احساس جاگا۔ ہر رشتہ ہی تو منہ موڑ کے جا چکا تھا۔ ایک ندا کا رشتہ ہی تو تھا اس کے پاس۔۔۔! وہ بھی۔۔؟؟

سب رشتے ناطے ہنس کر توڑ دوں۔۔

میں تجھ سے دل کا رشتہ جوڑ دوں۔۔

نہیں۔۔۔! سکندر حواس کھونے لگا۔

سر۔۔۔! اٹھیں۔۔۔! ہاسپیٹل۔۔۔ پلیز۔۔۔ سر۔۔۔! ان کی نبض کی رفتار بہت آہستہ ہے۔ وہاب نے گھبرا کر کہا۔ سکندر ہوش میں آیا۔ فوراً باہوں میں اٹھایا۔ اور ایک گاڑی کی طرف بڑھا۔ وہاب ساتھ تھا ڈرائیونگ سیٹ پر۔۔۔! سکندر نے ایک بار بھی ندا سے نظریں نہ ہٹائیں۔۔!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *