Takmeel e ishq by Muntaha Chohan NovelR50508 Takmeel e ishq by (Last Episode)
Rate this Novel
Takmeel e ishq by (Last Episode)
Takmeel e ishq by Muntaha Chohan
نوفل کے ساتھ ایک لڑکی کو دیکھ نادیہ کے دل کو کچھ ہوا۔ وہیں نوفل نے قہر آلود نظر نادیہ پر ڈالی ۔ غصہ کو کنٹرول کیا ہے۔ جاؤ بیٹا!میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں۔ اور انشاالله تم کامیاب ہو کر لوٹو گے ۔ فروا بیگم کے کہی ہوۓٸ بات کی باز گشت سنائی دی ۔ تم۔۔۔ تم یہاں – ؟؟ یوں اچانک —– نوفل بیٹا ! نوفل اور مشال اندر آگئے۔ ان کے ساتھ گاؤں کے کافی مہذب اور بارعب لوگ بھی تھے۔ ان سب۔ کو دیکھ عثمان صاحب کو تھوڑا عجیب لگا۔ دوسری طرف انسپکٹر شیر دل نادیہ کو گرفتار کرنے کے لیے۔ نکل چکا تھا۔ اور وہ لیٹ نکالا تھا۔ صرف نوفل کی وجہ سے اُس نے اسے لیٹ آنے کا کہا تھا۔ بنا کسی کو انفارم کیےاس لیے آیا ہوں۔۔ کہ۔ انفارم کر آتا تو – مجرم بھاگ نہ جاتا ۔نوفل نے دھیرے سے کہا۔ ؟؟ کیا ۔ کیا مطلب؟ عثمان صاحب کو بات کچھ جمی نہیں۔ وہیں نادیہ نے پہلو بدلہ ۔ مطلب صاف ہے پیارے چچا جان ! – یہاں کچھ اہسے لوگ بھی موجود ہیں جو منہ پر ماسک لگائے موجود ہیں۔ اور ہم ان سے دھوکہ کھا رہے تھے کہ وہ ہمارے اپنے ہیں بولتا ہوا وہ ناریہ کے قریب آیا، مشال تو اس حسن کی دیوی کو دیکھ ممیرائز ہی ہوگئی تھی۔ وہ کانچ کی گڑیا ، خوبصورتی کا اعلیٰ پیکر تھی ۔ مشال کو اپنا آپ اسکے سامنے بیج لگا ۔ کیا۔ بکواس کر رہے ہو؟ نادیہ نے دانت پیستے کہا۔لیں جی۔ اس – نادیہ میڈم کو لگتا ہے ۔ میں بکواس کر رہا ہوں۔ ایک طنزیہ مسکراہٹ نادیہ کی طرف اچھالتے وہ ساتھ۔ آئے لوگوں سے مخاطب ہوا نوفل باؤ ! یہ ایسے نہیں ۔ سنے گی ۔ آپ پولیس کو بلائیں ہمارے بڑے صاحب کی قاتل کو پھانسی ہونی چاہیے۔ ایک بزرگ نے کہا ۔ تو باقی سب نے تائید کی ۔ نادیہ اور عثمان صاحب . ہکا بکا رہ گئے ۔ نادیہ کو تو اپنا سر چکراتا ہوا محسوس ہوا۔ ا مزید کچھ بولتے ۔ کہ انسپکڑ شیر دل وہاں آن موجود ہوا۔ اس کے ساتھ لیڈی کانسٹیل بھی تھیں ۔ نادیہ کے قدم پیچھے ہوئے۔ بیٹا ! میں نہیں بچوں گا ۔ نایہ نے مجھے
سیڑھیوں سے دھکا دیا ۔ !! وہ ۔ یہی چاہتی ہے کہ تم اس سے شادی کرلو لیکن میں تمہیں کبھی۔ ایک ایسں لڑکی سے شادی کرنے کی اجازت نہیں دوں گا – ! جو جادو ٹونا – کرتی ہو۔ جس کا ضمیر — مر چکا ہو۔! اور یہی میری آخری خواہش ہے ۔ !! ریکارڈنگ چل کر بند ہوئی ۔ ایک سکتہ تھا ہر طرف۔۔۔۔ سب کچھ کلیٹر ہو گیا نادیہ کا رنگ پھیکا پڑ گیا ، وہ پلٹی بھاگنے کے لیئے ۔ الیکن دو لیڈی کانسٹیبل نے دبوچ لیا۔ چھوڑو مجھے ! میں نے کچھ نہیں کیا ۔ ا چھوڑو بے آب ماہی کی طرح مچلی – نوفل اسکے قریب آیا۔ تمہیں کیا لگا ۔ ؟ تم – دار جی کو مار کر اتنا بڑا گناہ کرکے بچ جاؤ گی ۔ ؟ اور میں تمہیں چھوڑ دوں گا ؟ ہرگز ۔ ؟؟ نہیں ! تمہاری سزا ۔ تو پھانسی ہی کرواؤں گا۔ جو ۔ تم نے میری بہن کے ساتھ کیا ۔ ” ( سخت اور کرختگی نے کہتے ( اسکا حساب بھی تمہیں چکانا پڑے گا ۔ سارے ثبوت ۔ تمہارے خلاف موجود ہیں اور اب۔ سزا کے لیئے تیار ہو جاؤ.!
ن نہیں ! میں نے کچھ نہیں کیا۔ اسے ۔ سب جھوٹ ہے۔ نادیہ پھر سے خود کو چھڑا رہی تھی ۔ خود پر ضبط کرتے نوفل سائینڈ
پر ہوا۔ عثمان صاحب بھی خاموش تماشائی بنے دیکھتے رہے۔ مشل کے قریب جانے نادیہ نے لیڈی کانسٹبل کو دھکا دیا۔
اور اسکی پسٹل نکال مثشل کو یر غمال کیا۔
خبردار ! خبردار جو مجھے سے کوئی الجھا ۔ یہ لڑکی جان سے جائیگی ۔ !! پسٹل مشال کی کن پٹی پر رکھے وہ کڑے تیوروں سے سب کو دیکھتے ہوئۓ بولی ۔ ایک لمحے کو نوفل کے دل کو کسی نے جکڑا ۔ اگر تم خود کو قانون کے حوالے کر دو۔ تو تمہاری اسی میں بہتری ہے ورنہ !! انسپکٹر شیر دل نے نوفل کو اشارے سے کچھ بھی کرنے سے باز رکھا۔
نوفل پھر بھی دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا۔ آگے بڑھا۔ بہتری ؟؟ انسپکڑ مجھے بے وقوف سمجھ رکھا ہے کیا ؟ ہر گز نہیں ! میں !! مزید وہ کچھ کہتی نوفل نے تیز دھار چاقو اسے اسکی بازو کا نشانہ لیا ۔ پسٹل والا ہاتھ اسکا نیچے ہوا۔ انسپکٹر شیر دل نے فوراً نادیہ کو حراست میں لیا۔ مشال کو خود سے لگائے ۔ نوفل نے حقارت بھری نظر نادیہ پر ڈالی ۔ جس کی آنکھیں آنسوؤں سے تر تھیں۔ ایک دُکھ رقم تھا ۔ اسکی آنکھوں میں۔
لے جائیں انسپکڑ اسے ۔ اور کڑی سے کڑی سزا دلوانا – !! نوفل غصے سے دھاڑا ۔ تو عثمان صاحب بھی جو بولنے والے تھے ایک دم چپ کر گئے۔ سائیں جی تالیاں بجانے لگی۔ پورے گاؤں نے نادیہ کو ہتھکڑی لگتے اور پولیس کو اُسے لے جاتے دیکھا۔ نوفل باؤ ! آپ گاؤں آجائیں ۔ اب بڑے سردار کی جگہ آپ ہی ہمارے سردار ہیں۔ اور کوئی نہیں۔ ایک بزرگ نے عثمان صاحب کی طرف نفرت سے دیکھتے نوفل سے مہذب انداز میں کہا۔ نوفل نے ایک نظر مشقل پر ڈالی ۔ وہ نظر بولتی اور مسکراتی تھی ۔ اور ساتھ میں دوسری نظر بلال یامین پر ڈالی ۔ اشارے سے اُسے اپنے پاس۔ بلایا اور اُسے سرداری سونپ دی ۔ بلال یامین حیرت سے دیکھتا رہ گیا ۔ سائیں جی پھر ہنسنے لگی ۔ لیکن آنکھوں میں آنسو بھی تھے ۔ میں یہاں آتا رہوں گا ۔ تعلق ہمیشہ قائم رہے گا کیونکہ یہ تعلق یہاں کا ہے۔۔ دل کا۔ اپنے دل کے مقام کی طرف اشارہ کیا۔ نوفل نے بھی پیار سے جواب دیا۔ اور مشال کا ہاتھ تھامے وہ وہاں سے باہر نکلا ۔ سبھی نے آگے بڑھ کر نوفل کو باری باری سراہا۔ کچھ نے گلے لگایا۔ تو کوئی رو دیا ۔ مشال سب حیرت اور خوشی سے دیکھ رہی تھی ۔ وہ سب اسکے شوہر کو اتنا چاہتے ہیں۔ اسے اندازہ نہ تھا ۔ واپسی کا سفر خوشگوار ہو گیا تھا۔ غموں کے بادل چھٹ گئے تھے۔ پرنور سویرا ان کا خیر مقدم کرنے کو تیار تھا۔ یوار سولکی — !They love you – برجستہ مشال نے کہا ۔
I m so lucky.. I have you … my lifeline.
کہتے ساتھ وہ مشال کی طرف مڑا . گھمبیر لہجے میں کہتا وہ مشال کے ماتھے پر محبت کی پہلی مہر ثبت کر گیا۔ جسے آنکھیں بند کیے مشال نے اپنے اندر اترتا دل و جان سے محسوس کیا تھا ****
باہر سے شور کی آواز آئی ۔ تو ماہیر بھی بھاگی بھاگی باہر آئی ۔ ابھی ہی وہ تیار ہوئی تھی۔ ابیہان کے کہنے پر خود کو فریش کیا تھا بہت دل بڑا کر کے ورنہ جس طرح کے حالات تھے۔ اسکا دل نہ تھا۔ کچھ بھی کرنے کا۔۔ بی جان ! دور سے بی جان کو سب سے ملتے دیکھ ماہیر کی آنکھیں بھیگ گئیں ۔ اُسے یقین نہ آیا کہ وہ اس کے سامنے ہیں۔ فوراً سے بیشتر وہ بھاگ کے ان سے جالگی۔ انہوں نے بھی اُسے اپنی آغوش میں چھپا لیا ۔ سبھی اشک بار تھے۔ ابیہان تو ماہیر کو اس قدر فریش دیکھ مسکایا تھا۔ کہ آیا اسکی فکر کرتی ہے اور بات بھی۔ بھی مانتی ہے ۔ گلے شکوے شروع ہوئے تو دل بھی بے انتہا خوش . ہوا۔ کچھ پل کے لیے ماہیر اور بی جان کو اکیلا چھوڑ دیا ۔ اللہ بھلا کرے ! اس بچے کا۔ جس نے تجھے اس درندے سے نجات دلاٸ۔ اس درندے سے آزاد کرایا ۔ ! اور اتنے دن اپنے پاس رکھا ۔ اور کوئی تکلیف نہیں ہونے دی۔ بہت خوش قسمت ہے ہیرے تو ۔ جو ایسا کھرا سونا ملا تجھے۔ بی جان ایبہان کی تعریفوں کے قلابے مار رہی تھیں ۔ اور ماہیر مسکراتی صرف اثبات میں سر ہلا گئی
بی جان !! آپ کے پاس تھیں ؟؟ رات کو کھانے سے فارغ ہوتے روم میں آتے لیپ ٹاپ میں اپنے کام میں بزی ابیہان سے پوچھا۔
ام ! مصروف انداز میں جواب دیا۔ ماہیر نے آگے بڑھ کر لیپ اپ اٹھا کر سائیڈ پر رکھا۔ ابیہان نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
آپ نے مجھے کیوں نہیں بنایا؟ روٹھے پن سے گلہ کیا۔ اچھا کہہ دیتا تو کیا ہوتا ؟ بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا ۔ بتانا چاہیئے تھاناں
ابیہان کی قربت سے اسکی آواز لڑکھڑا گئی جسے ابیہاں بخوبی سمجھ گیا۔ در اصل – ابرار شاہ کی گرفتاری کا -Wait کر رہا تھا۔ اسکے بعد ہی بی جان کو منظر عام پر لانا چاہتا تھا۔ اس لیئے خاموش رہا۔ آپ کو پتہ ہے ۔ ! آپ بہت اچھے ہیں۔ بی جان آپ سے بہت خوش ہیں ۔ ماہیر نے خوشی سے بناتے دیکھا۔
اور میری ماہی – ؟؟ مزید قریب کیا ۔ تو ماہیر کے ہوش اڑے۔ بھاگنے لگی۔ لیکن ایہان کی گرفت سے نہ نکل سکی اور پیار بھری گرفت سے وہ نکلنا چاہتی بھی نہ تھی ***
(کچھ دن بعد ۔
آپ کی ملاقات آئی ہے۔ نادیہ کے کان کھڑے ہوئے اتنے دنوں میں یہ پہلی ملاقات تھی ۔ یہاں تک کہ ماں باپ بھی بھول بیٹھے تھے۔ سامنے نظر پڑی۔ تو چودہ طبق روشن ہو گئے حور!تم – زندہ – ہو – ؟ آواز ساتھ نہ دے رہی تھی ۔ ہاں !بد قسمتی سے زندہ ہوں میں ۔۔ تم… تم نے جو کیا ۔ اس کے لئے جی چاہتا ہے تمہیں مار ڈالوں ۔ حور ضبط کے کڑے مرحلے سے گزرتی سلاخوں پر ہاتھ مارا۔ تم – تم زندہ ہو تو ۔ مجھے کیوں قید کیا ؟؟ نکالو مجھے یہاں ہے ! نادیہ زور زور سے چلانے لگی۔ کیونکہ تم نے میرے بجائے میری بہن نور کو قتل کروا دیا ہے۔ میری جڑواں بہن : میرا عکس میرا سب کچھ. تھی وہ ۔ چھین لیا تم نے اُسے مجھ سے ! قاتل ہو تم اسکی حور آپے سے باہر ہوگئی سلاخوں سے وہ نادیہ کو مارنے لگی تو انسپکر شیردل جو ابھی انٹر ہوا تھا فوراً ان تک پہنچا اور حور کو بپیچھے کیا۔ پر وہ سنبھل نہیں رہی تھی ہوش میں آئیں مس حور ! انسپکٹر شیر دل نے غصہ سے کہا ۔ تو
وہ ٹھٹکی۔ اور انسپکٹر شیر دل کا گریبان پکڑا مجھے ۔ مجھے بھی جیل میں بند کر دو۔ مجھے بھی سزا ملنی چاہئیے !! میں بھی گناہ گار ہوں ۔ اپنی بہن کی ۔ خدا کا واسطہ ہے مجھے مار دو سزا دو ۔ روتے ہاتھ جوڑتے وہ انسپکٹر شیر دل کے دل کو ہلا گئی ۔ وہ نادم تھی ۔ پچھتا رہی تھی ۔ انسپکٹر شیر دل اُسے وہاں سے گھر لے آیا ۔ گاڑی گیٹ پر روک وہ دونوں خاموش تھے آپ خدا سے رو کر گڑا گڑا کر معافی مانگیں۔ حور اور اب اس راز کو راز رہنے دیں ۔ اور نہ آپ کے ماں باپ یہ غم نہیں برداشت کر پائیں گے ۔ ! اس لیئے ۔ خود کو سنبھالیں۔ دھبمے لہجے میں کہتا وہ حور کو بہت کچھ باور کرا گیا۔ خاموشی سے گاڑی کا دروازہ کھول۔ وہ گیٹ کے اندر بڑھ گئی۔ انسپکٹر شیر دل نے بھی دُکھی دل سے واپسی کے لیے گاڑی موڑ دی جبکہ دل پر بوجھ سا آگیا آپ – آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ؟؟ ندا سیڑھیاں اترتی نیچے آئی ۔ ڈرائینگ روم میں سکندر کو دیکھ کر ٹھٹکی ادھر اُدھر دیکھتی سکندر کے قریب آئی – دھیرے سے بولی۔ سکندر جو دونوں ہاتھوں پر تھوڑی جمائے بیٹھا گہری سوچ میں تھا ندا کو دیکھ چونکا۔ اور دلفریب مسکراہٹ نے لبوں کو چھوا ۔ سسر صاحب سے ملنے آیا ہوں – رخصتی کی تاریخ لینے آیا ہوں ۔ خود اعتمادی اور سنجیدگی سے کہا۔ البتہ آنکھوں میں شرارت
تھی۔
کیا کیا مطلب؟ – جائیں ۔ آپ یہاں سے۔ !! ندا کا دل 120 کی رفتار سے دھڑکا۔ جبکہ سکندر مزید اس کے قریب ہوا۔ اُس کے گالوں کو انگلیوں سے چھوا۔ جب کہ ندا ایک ٹرانس کی کیفیت میں اُسے دیکھے گئی
مسزسکندر you are blashing سکندر نے مسکراتے کہا ندا نے شرم و حیا سے سر جھکا لیا۔ اتنے میں نوفل بمعہ ابیہان۔ اور پرویز خان کے نیچے آتا دکھائی دیا۔ ندا تو فوراً وہاں سے نو دو گیارہ ہوئی۔ سلام دعا کے بعد سکندر مدعے پر آیا ۔ نوفل پرویز خان سے پہلے ہی تمام بات کر چکا تھا۔ اور ابیہان کو بھی اعتماد میں لے چکا تھا ۔ اور اس لیے آج با قاعدہ طور پر سکندر کو بلوایا گیا تھا. بیٹا ! نوفل سے ہم سب کچھ جان چکے ہیں اور جس طرح اپنی جان پر کھیل کر آپ نے ہماری بیٹی کا خیال رکھا۔ اسکی حفاظت کی۔ اسکا شکریہ ادا کر کے۔۔۔ ہم خود کو اور آپ کو ہرگز شرمندہ نہیں کرنا چاہتے۔ بلکہ یہ کہیں گے –
کہ ہمیں اپنی بیٹی ۔ آپ جیسے بہادر فوجی کو ہی سونینی ہے !! پرویز صاحب نے تمام مشکلیں حل کر دیں ۔ ایک آسوده مسکراہٹ نے پردے کے پیچھے کھڑی ندا کے لبوں کو چھوا جبکہ ساتھ کھڑی ماہیر نے ٹہوکا مارا ۔ تو وہ شرما گئی ۔ دونوں میں بے انتہا دوستی ہوگئی تھی۔ اور ابھی کی کاروائی مل کر بلکہ چھپ کر! ملاحظہ فرما رہی تھیں تبھی ثروت بیگم نے ماہیر کو کان سے پکڑا ۔ ہیر بیٹا ! اب چلیں یہاں سے ؟؟ کچن میں ؟؟ گھر کا داماد آتا ہے۔ کچھ خاطر مدارت بھی کر لیں۔ محبت بھرے لہجے میں ڈانٹا۔ تو دونوں فوراً وہاں سے کھسکیں ۔ اور ثروت بیگم مسکراتی ڈائٹنگ روم کی جانب بڑھیں ۔ جہاں سکندر اور ندا کی رخصتی کی بات ہو رہی تھی ۔ کچھ ہی دیر میں شاہ ویز صاحب اور فروا بیگم نے بھی انھیں جوائن کر لیا۔ ہنسی خوشی سب نے اس رشتے کو دل و جان سے قبول کیا ۔ خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا گیا ۔ ٹھیک چار دن بعد ندا کی رخصتی طے کر دی گئی۔ کیا ہوا ؟ تم اداس کیوں ہوگئی ؟ ماہیر نے اسکی خاموشی نوٹ کی ۔ تو ندا زبردستی مسکرائی ۔ کچھ نہیں ! نور یاد آگئی تھی ۔ ! وہ ہوتی تو کتنا ہلا گلہ کرتی۔ کتنے شوق سے وہ ہر فنکشن میں پیش پیش ہوتی تھی۔ کہتے کہتے ندا کی آنکھیں بھیگ گئیں ۔ ماہیر نے اُسے گلے سے لگایا ۔ نور تو خود اُسے بھی بہت عزیز ہوگئی تھی۔ صاف دل کی نیک لڑکی ۔ لیکن یہ دنیا تو فانی ہے ۔ جو آیا ہے اُسے جانا ہے ۔ میری بہنا! ر حمتی آج نہیں ۔ چار دن بعد ہے -اس لیئے ۔ آنسوؤں پر بندھ باندھو ! مشال نے آتے ہی ندا کو ٹوکا۔ تو وہ آنسو پونچھنے لگی اب تم دونوں روتی ہوئی نہ نظر آؤ مجھے سب گھر والے بمشکل اس تمام حالات سے نکلے ہیں ۔ اس لیئے .. اب آگے بڑھو۔ مشال انھیں حوصلہ دیتی ۔ خود کی آنکھیں بھیگ گئیں ۔ ندا مشال کے گلے لگی پھر سے رو دی اور مشال اُسے تھپکی دینے لگی ۔ یکدم ماہیر کا دل گھبرایا ۔ قے آئی تو باہر بھاگی سیدھا واش بیسن میں جا کر دم لیا۔ ندا اور مشال بھی گھبرائی پیچھے آئیں ۔ ثروت بیگم نے بھی بھاگتے دیکھا۔ تو پیچھے آئیں۔ مشال نے ماہیر کو پکڑ کر بیڈ پر بٹھایا۔ اس کی حالت بہت خستہ لگنے لگی تھی۔ مما ! ابھی بھیا سے کہیں ! ماہیر کو ڈاکٹر کے پاس لے چلیں مجھے اسکی حالت ٹھیک نہیں لگ رہی۔ مشال نے پریشانی سے کہا ۔ اللہ خیر کرے گا ۔ پریشان نہ ہو ۔ ثروت بیگم نے دھیمی مسکراہٹ سے کہا ۔ اور ماہیر کو بستر پر لٹا دیا ۔ اس کے لیے دودھ گرم کر کے لاؤ۔ پلٹ کر کہا۔ نو نو – بڑی مما – پلیز نو ملک ! ماہیر تڑپ کر بولی۔ لیکن ثروت بیگم نے ایک نہ سنی۔ اور دودھ منگوا کے اسے پلوا کے دم لیا۔ جو تھوڑی دیر بعد ماہیر نے پھر قے کر کے نکال دیا ۔ سکندر کے جانے کے بعد سبھی خوش گیپپوں میں مصروف تھے۔ کہ ثروت بیگم نے ابیہان کو اشارے سے بلوایا ۔ اور ماہیر کی کنڈیشن بتا کر ماہیر کو ابیہان کے ساتھ زبردستی ہاسپٹل – روانہ کیا ۔ ڈاکٹر سے چیک اپ کے بعد تصدیق کی مہر لگ لگی۔ مبارک ہو رپورٹ از پازیٹو – ! ڈاکٹر زکیہ نے پیشہ ورانہ انداز میں ماہیر سے کہا۔ ماہیر تو سکتے میں آگئی۔ ابیہان دل سے خوش ہوا لیکن پریشان بھی ہو گیا . ماہیر کو لے کر وہ باہر آیا۔ کھلی ہوا میں کھل کر سانس لیتا ابیہان یکدم خاموش ہو گیا تھا۔ ماہیر کو اسکی خاموشی کھلی تھی۔ آپ کو خوشی نہیں ہوئی ؟؟ بالآخر ڈرائیو کرتے خاموش سے ہی ایہان سے گلہ کر ہی ڈالا۔ ابیہان سوچوں سے باہر آیا ۔ ماہی ! میرا جانشین آ رہا ہے ۔۔ یا آرہی ہے میرے دل کا ٹکڑا ۔ میری روح کا حصہ — ! میں کیسے خوش نہ ہوں گا ۔ ؟ ڈرائیو کرتے ایک مٹھی نظر سے بیوی کو دیکھا۔ پھر ۔ آپ ! چب کیوں ہیں ؟ ؟ مطمین ہوتے پھر بھی پوچھ لیا۔ ماہی میں نے تمہارا یونیورسٹی میں ایڈمشن کروادیا ! میں تمہیں بہت آگے دیکھنا چاہتا ہوں۔۔!! ابیہان نے بھی صاف لفظوں میں کہہ دیا ۔ تو ۔ ؟؟ آپ میرے ساتھ ہیں ناں ۔ !! پھر ٹینشن کیسی ؟ میں بھی بہت سارا پڑھنا چاہتی ہوں۔ ۔تمہاری طبعیت — اجازت دے گی ؟ وہ پریشان ہوا ۔ ام ! آپ ساتھ ہیں۔ تو سب کچھ ہو جائے گا ۔ یقین بھرے لہجے میں کہا۔ تو ابیہان مسکرا دیا۔
خوشی اس کے انگ انگ سے عیاں تھی۔
ابیہان نے مسکرا کے اس کا ہاتھ تھاما تھا۔ گھر میں داخل ہوتے سبھی کو اپنا منتظر پایا۔ خوش خبری سنتے شاہ ولا میں مبارک باد کا شور اٹھا ۔ تو ماہیر شرما کے روم کی طرف بھاگی۔
نوفل نے ابیہان کی خوب کلاس لی ۔ وہ بس مسکراتا ہی رہا۔ ثروت بیگم نے دونوں کا صدقہ اتارا۔ خوشیاں ایک بار پھر سے شاہ ولاء کی ذہلیز پر اپنے قدم جما رہی تھیں ۔ ***
ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی وہ مسکراتے ہوۓ بالوں کو سنوار رہی تھی۔ اور ڈریسنگ ٹیبل سے پرفیوم اٹھا کر انھیں سمیل کر کے اپنے اوپر چھڑک رہی تھی ۔ ایک پرفیوم کی خوشبو بہت تیز نکلی۔ تو جھٹ سے واپس رکھ دیا ۔ اور نفی میں سرہلایا۔ یہ میجر جی بھی ناں … !! اتنی تیز سمیل بھلا کون لگاتا ہے ۔۔ ؟؟ آپ کے میجر جی لگاتے ہیں ناں … ! آئینہ میں نوفل کا عکس دکیھا۔ تو پلک جھپکنا بھول گئی ۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ایک دوسرے کو مکمل کر رہے تھے مشال کے گال بلش کرنے لگے۔ کیا ہوا ؟ چپ کیوں لگ گئی ؟ وارڈ روب سے کپڑے نکالتے کن اکھیوں سے مشال کو سکتے میں کھڑے دیکھا ۔۔ تو پوچھ بیٹھا۔ نہیں وہ بس ایسے ہی ۔ مشال ڈریسنگ ٹیبل سے چیزیں اِدھر اُدھر کرنے لگی بے مقصد ہی ۔۔ ویسے سالے صاحب – سبقت لے گئے ہم سے ۔۔ !! چہرے پر شرارتی مسکراہٹ لیے وہ کہتا واش روم میں گھسا – پہلے تو مشال کو سمجھ نہ آئی بات۔ پر جب آئی تو دل یکدم دھڑکنے لگا۔ آہستہ سے جا کر بالکونی میں کھڑی ٹھنڈی ہوا کو اپنے اندر اتارنے لگی۔ کتنا ٹائم گزر گیا ۔ احساس نہ ہوا۔
مسز اندر آجائیں اب۔ نوفل کی پکار پر مشال چونکی اور مڑی تھی۔ اندر کی جانب بڑھی۔ وہ وقت کا احساس ہی نہ ہوا ۔۔ صفائی دینی چاہی۔ ام وقت تو واقعی کافی گزر گیا ہے ! یو نو ! یہ جو کلر تم نے پہنا ہے my favorite ۔
آنکھوں میں شرارت واضح تھی ۔ مشال نے ایک نظر اپنے کپڑوں کو دیکھا ۔ اور دوسری نظر اپنے میجر پر ڈالی ۔ اور خفگی سے بولی۔ میجر جی : اگر تعریف ہی کرنی ہے تو ذرا کھل کر کریں ..!! انتہائی خشک مراج بندے ہیں آپ ۔۔ کہتے اُٹھ کر جانے لگی ۔ کہ نوفل نے بازو سے پکڑ کر واپس کھینچ کر بٹھا دیا ۔ کیا کہا ؟ خشک مزاج ؟؟ تیور جار خانہ تھے۔ مشال گڑ بڑائی۔ نہیں ۔ میرا وہ مطلب نہیں — !! شی۔۔۔! نوفل نے اسکے لبوں پر انگلی رکھ کر اُسے چپ کرا دیا۔ اور خود کے قریب کیا۔ چہرے پر آئیں بالوں کی لٹوں کو کان کے پیچھے کیا ۔ مشال یک ٹک نوفل کو دیکھے جارہی تھی۔ آپ کچھ زیادہ نہیں پھیل رہے۔ بے ۔مشال نے اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے نوفل کا دھیان ہٹایا ۔ تم کچھ زیادہ روک ٹوک نہیں کر رہی ۔۔؟ دو بدو جواب آیا ۔ آپ – ناں ! مشال کے لفظوں کو بیچ میں ہی بریک لگ گئی۔ جب نوفل کی سانسیں مشال کی سانسوں سے ٹکرائیں۔ مشال نے سختی سے آنکھیں میچ لیں۔ اس کا لرزتا وجود نوفل نے اپنی بانہوں میں سمیٹا۔ اور محبت کی بارش میں دونوں بھیگنے لگے ******
” ندا اینڈ میجر سکندر اسپیشل”
آج ماہیر اور مشال نے ایک جیسی ساڑھی زیب تن کی تھی۔ پس کلرر مختلف تھا۔ لیکن ڈائزین سیم تھا۔ ایک کا رائل بلیو تو دوسری کا گولڈن – ندا دلہن بنی سکندر کے دل کو دھڑکا رہی تھی ۔ بس فرق یہ تھا کہ وہ شرما نہیں رہی تھی۔ بہت پر اعتمادی سے سکندر کے ساتھ وہ اسٹیج پے بیٹھی تھی۔ تبھی مریم رضا کے ساتھ انٹر ہوئی۔ سکندر کی نظریں ان پر اُٹھیں۔ وہ Already ندا کو مریم کے متعلق تمام سچائی بتا چکا تھا۔ لیکن ندا نے کوئی رسپانس نہ دیا تھا جس کا مطلب تھا کہ وہ دل سے مریم سے راضی نہ تھی۔ سکندر نے ایک نظر اپنی دل کی دھڑکن ندا پر ڈالی سویٹ ہارٹ ! تھوڑا کم مسکرائیں ۔ دلہن ہیں آپ۔۔۔ !! سکندر نے اسکے مسلسل مسکرانے پر چوٹ کی۔ ندا کی مسکراہٹ کو بریک لگی ۔ میرے مسکرانے سے آپ کو بل آ رہا ہے ؟ دانت پیستے دھیمے لہجے میں کہا۔ تو سکندر کھسیانی ہنسی ہنسا۔ یہ چلبلی اور پیاری سی لڑکی ہی تو اسکا اب کل اثاثہ ہوگئی تھی۔ بے رنگ اور بور زندگی میں رنگ بھرنے وہ تتلی آگئی تھی۔ سکندر کی لائف میں۔ اچھا ! دلہنیں تو اتنا شرماتی ہیں۔ لیکن تمہیں کہیں سے دیکھ نہیں لگ رہا ہے کہ دلہن ! ایک منٹ ! اب کس بات پر شرماؤں میں ۔ ؟ مجھے۔ سے نہیں ہوتے فضول کام ۔ ندا نے جلدی میں سکندر کی بات کاٹ کر کہا۔ تو سکندر نے محبت بھری نظر سے اُسے دیکھا۔ گڈ اور
یہ تو ۔۔ میرے لیئے پلس پوائنٹ ہوگا ۔ تھینک گاڈ! ۔ وہ کیسے مطلب؟ ندا مکمل سکندر کی طرف گھومی نظروں میں حیرانی تھی۔ مسز سارے مطلب یہیں سمجھا دوں ۔۔۔؟ کچھ مطلب ۔ ویڈنگ نائیٹ کے لیے بھی چھوڑ دو۔ معنی خیزی سے کہتا وہ اس بار ندا کو شرمانے پر مجبور کر گیا۔ اس کی کان کی لو تک سرخ ہوٸ تھی۔ اسے سکندر سے اتنی بے باکی کی امید نہ تھی۔ ان دو نظروں کی تاب نہ لاتے نظر ہٹائی ۔ دل کی سپیڈ پھر سے بڑھ گئی ۔ کیا ہوا ؟ لگتا ہے ۔۔ مطلب کی بات سمجھ آگئی ۔۔ ! دھیرے سے کان کے پاس سرگوشی کی تو ندا تو پلکیں بھی نہ اُٹھا سکی ۔ توبہ -!کتنے بے باک ہیں : میں انھیں شریف سمجھتی تھی ۔ دل ہی دل میں کہتی وہ خود پر قابو پانے لگی . اسلام علیکم ! کیسی ہو ندا ؟ مریم رضا کے ساتھ اسٹیج پر آئی ندا نے ایک نظر مریم کو دیکھا ۔ لیکن جواب سکندر نے دیا ۔ مریم کو تھوڑا دُکھ ہوا۔ ندا نے اُس سے کلام بھی نہ کیا ۔ بہت بہت مبارک ہو سر – – آپ دونوں کو شادی کی۔۔۔ بمشکل آنسو ضبط کرتے وہ مسکرا کر بولی۔ رضا نے بھی اسکا روندھا لہجہ نوٹ کیا۔ خیر مبارک …۔! سکندر نے مسکرا کر جواب دیا۔ اور وہ جلد ہی وہاں سے اتر کر نیچے چلی گئی۔ رضا ، سکندر سے بغل گیر ہوا۔ مبارک باد دے کر وہ بھی نیچے اتر گیا ۔ مریم کے پیچھے ہی گیا تھا۔ ندا ! اگر کوئی غلطی کر کے پچھتائے ۔ اور معافی مانگے تو اسے معاف کر دینا چاہیئے ۔۔ اس سے ۔۔ اس سامنے والی کی ہی نہیں
ہماری اپنی زندگی بھی آسان ہو جاتی ہے !سکندر نے بہت پیار اور محبت بھرے لہجے میں کیا۔ معاف کر دیا تھا ۔ بہت پہلے دکھ سے کہا۔ لیکن اب اعتبار نہیں کر سکتی ۔ ندا کے لہجے میں آنسوؤں کی آمیزش تھی- سکندر نے اسکا ہاتھ تھاما۔ اور پیار سے دباؤ بڑھایا۔ جیسے اپنا ساتھ ہونے کا یقین تھما رہا ہو۔ ندا نم آنکھوں سے مسکرائی ۔ نکاح Already ہو چکا تھا۔ لیکن دوبارہ سے کروایا گیا۔ سکندر نے کوئی اعتراض نہ کیا ۔ خوشی اسکے چہرے پر صاف عیاں تھی۔ اور پرویز صاحب اپنی بیٹی کو دیکھ بہت خوش تھے ۔ خود کو خوش قسمت تصور کر رہے تھے ۔ آنکھوں میں آنسو آگئے. سبھی اپنی زندگیوں میں خوش تھے ۔ آگے بڑھ گئے تھے مطمنین تھے دور کھڑی حور ان سب کو دیکھ رہی تھی۔ آنکھوں میں ڈھیر سارے آنسو جمگا گئے۔ ! اپنے کیئے پر وہ نادم تھی۔اور باری باری سب سے اپنے رویے کی معافی بھی مانگ چکی تھی۔ لیکن اس گلٹ سے نہیں نکل پا رہی تھی ۔ کہ ندا کی جان اسکی وجہ سے چلی گئی۔ کیا کر رہی ہو۔۔ ؟ ابھی گر جانا تھا۔ ماہیر جو بے دھیانی سے۔۔ بمشکل ساڑھی سنبھالے سیڑھیاں چڑھنے لگی تھی کہ گرنے لگی ۔ انبیہان جو اس کے پیچھے پیچھے ہی تھا۔ فوراً تھام لیا ۔ آپ ہیں ناں۔ سنبھالنے کے لیے گردن موڑ کر پیار سے اپنے قلب عشق کو دیکھت کہا۔ ابیہان نے اسے گود میں اٹھا لیا یہ کیا ؟ حان! ماہیر گھبرائی۔ سارے مہمان ابھی بھی یہیں ہیں۔۔ مہایر نے ٹوکا۔ لیکن وہ کہاں باز آنے والا تھا۔ سامنے بھی ابیہان تھا۔ دلبرم … ! اب اچھے سے سنبھالوں گا ناں. تاکہ کوئی کمی نہ رہ جائے۔ ابیہان کا لہجہ، آنکھیں اور گرفت ایسی تھی۔ کہ وہ نازک سی جان اسکے سینے میں ہی منہ چھپا گئی ۔ اور نیچے موجود لوگوں نے اچھی خاصی ہوٹنگ کی لیکن ابیہان تھا آگے۔ جسے کبھی کسی کی پرواہ نہ تھی۔ حور پر نظر پڑی۔ ابیہان نے ماہیر کو نیچے اتارا۔ ماہیر دھیرے دھیرے چلتی ہوئی حور کے پاس آئی۔ ! یہاں کیوں کھڑی ہو حور ؟ سب کے ساتھ نیچے آؤ. حور نے ماہیر کی جانب دیکھا۔ آنکھوں میں ڈھیروں آنسو تھے۔ ماہیر! میں ۔۔ بہت بری ہوں ۔ میں گلٹ میں ہوں میں کیا کروں ؟ کیسے سب ٹھیک کروں ؟؟ ماہیر نے پلٹ کر ابیہان کو دیکھا تو وہ وہاں سے خاموشی سے چلا گیا۔ ماہیر نے حور کو تسلی دی۔
حور! تم آرونا بند کرو — سب ٹھیک ہو جائیگا۔ اور پہلے تم خود کو معاف کرو… جبتک تم خود کو خود معاف نہیں کرو گی۔ کبھی آگے نہیں بڑھ پاؤ گی … اس لیئے .. خود کو space دو ! اور مجھے یقین ہے ایک دن تم اس گھر کا نور بن جاؤ گی۔ نور کے نام پر ماہیر بھی آبدیدہ ہوگئی ۔
ماہیر کے الفاظ حور کے دل پر لگے ۔ اور آگے بڑھ کر ماہیر کو گلے سے لگایا. کبھی کھبار کسی اپنے کے چند الفاظ آپکو وہ حوصلہ دے جاتے ہیں۔ جو آپ ساری زندگی نہیں حاصل کر سکتے۔ حور نے بھی خود کو بدلنے کی ٹھانی ۔ اور اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں پے خود کو معاف کیا۔ سب کے لیے اب وہ حور نہیں نور بن کے سامنے آئے گی۔
اس نے اپنے دل کو سنبھالا ۔ خود کو سنبھالا۔ تنفر اور نفرت میں صرف خود کا نقصان ہوتا ہے۔ معاف کرنا اور آگے بڑھنا زندگی اسی کا نام ہے – \* ” ختم شد
کردار۔
ماہیر اور ابیہان ایسی جوڑی جس نے ہر مشکل حالات میں اپنے عشق تک رسائی حاصل کرلی. میجر سکندر اور ندا ان کی جوڑی نے بھی ایک دوسرے کو صاف دل سے پالیا۔ نوفل نے ہر رشتے میں خود کو ڈھالا۔ تھوڑا خشک مزاج لیکن محبت اعتماد سے بھر پور ۔ ویسی ہی اسے لائف پارٹنر ملی – سوبر، سلجھی ۔ محبت سے بھری ہوئی۔
حاصل ۔
کہانی کا ایک اینڈ ہوتا ہے۔ اور ہر اینڈ سے ایک نئی کہانی کا آغاز ہوتا ہے۔ کوئی بھی وقت ایک سا نہیں رہتا نہ ہمیشہ خوشیاں رہتی ہیں۔ نہ ہمیشہ غم اور زندگی
یونہی چلتی ہے۔ خوش رہیں۔ سلامت رہیں ۔ (فی امان الله )
