Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Takmeel e ishq (Episode 12,13)

Takmeel e ishq by Muntaha Chohan

ماہیر مسلسل ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہی تھی۔ وہ یہاں سے جانے کا پلان کر چکی تھی۔ لیکن دل تھا کہ بار بار بے ایمان ہو رہا تھا۔ ابیہان کا چہرہ بار بار آنکھوں کے سامنے آجاتا۔ تو خود کو بے بس پاتی۔ یکدم دل گھبرانے لگا تو روم سے باہر آگئی۔ ڈائننگ روم میں مخفل سجی تھی۔ نور اور حور دونوں ہنسی مذاق کر رہی تھیں۔ ثروت آنٹی اور فروا آنٹی بھی وہیں تھیں۔ ماہیر کو ایک مکمل فیملی لگی۔ نور اور حور دونوں نے آج کالج سے چھٹی کی تھی۔ آج ان کی بابا شاہ ویز کی برتھ ڈے تھی۔ اور وہ وہیں پلان کر رہی تھیں۔ کہ کیسے wish کریں شاہ ویز کو۔

ارے ماہیر بیٹا۔۔۔۔۔! وہاں کیوں کھڑی ہو؟ یہاں آؤ۔۔۔۔! فروا آنٹی نے اسے دروازے پر خاموش کھڑا دیکھا۔ تو بلا لیا ماہیر مسکراتی اندر کی جانب بڑھی۔ حور نے منہ بنایا۔ چلیں۔۔۔۔ بھابھی۔۔۔۔! آپ بتائیں۔۔۔۔۔! ہم بابا کو آج برتھ ڈے کیسے وش کریں۔ کوئی الگ سا سٹائیل بتائیں۔۔۔! نور نے ماہیر کو بھی باتوں میں شامل کیا۔ جبکہ حور نے غصہ ضبط کیا۔ ماہیر کے چہرے پر ایک تاریک سا سایہ لہرایا۔ بابا۔۔۔۔! ماہیر سوچ میں پڑ گئی۔ آج تک کبھی بابا سے خود سے بات تک نہ کی۔ تو برتھ ڈے کیا وش کرتی۔

😊
😊
😊
😊
😊

آپ۔۔۔۔ بہت Lucky ہیں۔ آپ کے بابا۔۔۔۔ آپ کے پاس ہیں!! ماہیر غمگین ہو گئی۔ تو ایک لمحے کو ہال میں خاموشی چھا گئی۔ ارے بیٹا۔۔۔ ایسی باتیں نہیں کرتے۔ مایوسی والی! یہ گھر بھی آپ کا ہے اور اس گھر میں رہنے والے بھی۔۔۔۔! خود کو اکیلا مت سمجھیں۔ ثروت آنٹی نے ماہیر کو پیار سے سمجھایا۔

#######

کونسی لوکیشن ہے؟ نوفل مسلسل وہاں ان کے سر پر کھڑا تھا۔ وہ جلد از جلد سکندر تک پہنچنا چاہتا تھا۔ لاسٹ ٹائم جو لوکیشن کنیکٹ ہوئی۔ اسی کی توسط سے نوفل انفارمیشن نکلوا رہا تھا۔ سر۔۔۔! ،، علاقہ غیر،، سر وہ پٹھانوں کا علاقہ ہے۔۔۔۔! وہاں تک پہنچنا بہت مشکل ہے۔ اور پہنچنے کے بعد وہاں سے نکلنا۔۔۔۔ نا ممکن۔۔۔۔! وہاں نے انفارمیشن دی۔

وہ۔۔ وہاں۔۔۔ کیسے پہنچ گئے۔ نوفل حیران تھا۔ سر۔۔۔! جہاں سکندر سر کی لاسٹ لوکیشن ملی ہے۔ وہاں سے قریب وہ علاقہ شروع ہوتا ہے۔ اور وہ کہاں تک پھیلا ہوا ہے۔۔۔۔ کوئی نہیں جانتا۔۔۔۔! بس دعا کریں۔ سر سکندر اس علاقے میں نہ پہنچ جائیں۔ ورنہ بہت گڑ بڑ ہو سکتی ہے۔ دہان خود بھی پریشان ہو گیا تھا۔ ہمیں۔۔۔۔ وہاں جانا چاہیے۔ انھیں ہماری ضرورت ہو گی۔ میری بہن ہے وہاں۔۔۔ ہمیں جانا ہو گا۔۔۔!! نوفل خود کلامی سے کہتا۔۔۔ پریشان لگا۔

😇
😇
😇
😇
😇

سر۔۔۔۔! آپ کو سر سکندر پر بھروسہ نہیں! کیا آپ کو ان کی قابلیت پر شک ہے۔ رضا کے بولنے پر وہ دونوں چونکے۔ نہیں۔۔۔۔ کوئی شک نہیں۔۔! خود سے زیادہ بھروسہ ہے۔۔۔!! لیکن اس۔۔۔۔ وقت وہ مشکل میں ہے۔۔۔۔۔ اور اسے ہماری ضرورت ہے۔۔۔! ہمیں جانا چاہیے۔۔۔۔! نوفل تفصیل سے بولا۔ سر۔۔۔! آپ ایموشنل ہو رہے ہیں۔ آپ جانتے ہیں اس وقت آپ کی یہاں کتنی ضرورت ہے۔ یہ کیس ابھی چل رہا ہے۔ ہم نے دشمنوں کے دم پر پاؤں رکھا ہے۔ وہ چپ تو ہر گز نہیں بیٹھیں گے۔ ایسے میں آپ کا ہونا بہت ضروری ہے۔۔۔۔۔۔! آگے جیسے آپ مناسب سمجھیں۔ نوفل خاموش ہو گیا۔ کیونکہ رضا سہی کہہ رہا تھا۔ سکندر یا نوفل میں سے یہاں کسی ایک کا ہونا بہت ضروری تھا۔ کرنل ، سے بھی تمام بریفنگ کے لیے اس کا یہاں ہونا انتہائی ضروری تھا۔ پر دل تھا کہ ندا کو لے کر پریشان تھا۔ وہ چھوٹی سی معصوم لڑکی۔۔۔ نوفل کو بہنوں کی طرح تھی۔

رضا نے آگے بڑھ کر نوفل کو تھپکی دی۔

اللہ پر بھروسہ رکھیں۔۔۔ سب بہتر ہو گا۔ رضا کے الفاظ نے نوفل کے دل کو ڈھاس باندھی۔ (آمین) دل سے آواز نکلی۔ جو عرش تک پہنچی۔

😊
😊
😊
😊
😊

سکندر اور ندا اس وقت ایک بڑے میدان میں کھڑے تھے۔ ان کے قبیلے کے لوگ وہاں جمع ہو چکے تھے۔ جن میں مرد ،عورتیں، بچے ،، بوڑھے سب شامل تھے۔ جیسے سب یہاں تماشا دیکھنے آئے ہوں۔ ندا نے ایک لمحے کے لیے سکندر کی بازو کو نہ چھوڑا۔ وہ بہت ڈری سہمی تھی۔ سکندر اندازہ لگا چکا تھا۔ یہاں طاقت سے نہیں دماغ سے جنگ لڑنی ہے۔

با ادب۔ ہوشیار۔۔۔ سر دار رستم آ رہے ہیں۔۔۔۔!! درباری نے بلند آواز میں سب کو ہوشیار کیا۔ یہ۔۔۔۔ یہ کون ہے۔۔۔؟ ندا کی حیرت سے آنکھیں کھول گئیں۔ بڑا سا ڈنڈا ہاتھ میں اٹھائے۔ ،کاندھے، تک آئے۔ سفید بال، لمبی گھنی مونچھیں۔ سفید شلوار قمیض پر پشاوری واسکٹ اور پشاوری چپل۔۔۔۔ اور بڑی بڑی خونخوار آنکھیں۔۔۔۔! جنہیں دیکھ کر تو ندا سخت گھبرائی۔ ہاں! حشمت۔۔۔ بولو۔۔۔! کیا ماجرا ہے؟ رعب و دبدہ سے آواز میں وہ شخص بولا۔ سکندر کو لگا۔ جیسے کسی ڈرامے کی شوٹنگ ہو رہی ہو۔ لیکن یہ ڈرامہ نہیں حقیقت تھی۔ وہ دیکھنے میں جوکر لیکن حقیقت میں ہر قانون سے بالاتر تھے۔

💝
💝
💝
💝
💝

یہاں سکندر اپنا اصل تعارف بھی نہیں کروا سکتا تھا۔ فوجی ، پولیس، قانون سے یہ لوگ چھپ کے یہاں آئے تھے۔ ایسے میں انھیں یہ پتہ لگے۔ کہ سکندر سیکریٹ ایجنٹ ہے ۔ تو وہ ۔۔۔۔ شاید کچھ بھی بنا سنے سیدھے سزا سنا دیں۔ عالی جاہ۔۔۔۔۔۔! یہ دونوں لڑکا ، لڑکی ہمارے علاقے میں بغیر اجازت کے گھس آئے ہیں۔ کون ہیں۔۔۔! کہاں سے آئے ہیں۔ کچھ علم نہیں۔ حشمت نے غصیلے لہجے میں کہا۔ کون ہو تم۔۔۔۔! سردار نے تیکھے انداز میں پوچھا۔ ہم۔۔۔۔ مسافر ہیں۔۔۔۔! راستہ۔۔۔۔؟؟

اور ۔۔۔۔ یہ لڑکی ۔۔۔۔ تمہارے ساتھ کون ہے؟ سکندر کے جواب سے پہلے سردار کا ایک اور سوال دغا گیا۔ سکندر نے لب بھینچے خود کو کچھ بھی کہنے سے باز رکھا۔ یہ۔۔۔ ہمیں زبردستی لے کر آئے ہیں۔ اور ۔۔۔۔ صرف ہمارا وقت برباد کیا جا رہا ہے۔ ہمیں یہاں سے جانا ہے۔ اب سکندر سے مزید صبر کا دامن نہ تھاما جا سکا۔ رکو لڑکے! تم ایسے یہاں سے نہیں جا سکتے۔ سردار کی رعب دار آواز سکندر کے قدموں کو روک گئی۔ سردار کے ساتھ ایک اور نوجوان آ کر کھڑا ہوا۔ جو گہری نظروں سے ندا کو دیکھنے لگا۔ ندا مزید سکندر کے پیچھے چھپ رہی تھی۔

♥️
♥️
♥️
♥️

یہ اس قبیلے کا اصول ہے۔ ایک بار جو یہاں آجائے۔ وہ واپس نہیں جا سکتا۔ نہ تم۔۔۔۔ نہ یہ لڑکی۔ کڑک دار آواز گونجی۔ نہ ہی میں آپ کے قبیلے کا ہوں۔ اور نہ ہی مجھ پر آپ کے اصول لاگو ہوں گے۔ سکندر اپنے اصولوں پر جینے والا انسان ہے۔ کسی دوسرے کے نہیں۔ سکندر کا سخت لہجہ سب کو دم بخود کر گیا۔ تبھی ندا نے سکندر کا کاندھا ہلایا۔

یہ۔۔۔۔ سکندر کون۔۔۔۔ ہے؟ دھیرے سے کان میں گھس کر پوچھا۔ سکندر نے مڑ کر قہر آلود نظر ندا پر ڈالی۔ تبھی سردار پھر سے بولا۔ ٹھیک ہے۔۔۔۔ اگر تم۔۔۔ جانا چاہتے ہو۔۔۔۔ تو۔۔۔۔ اکیلے جا سکتے ہو۔ یہ لڑکی۔۔۔ یہاں سے نہیں جائے گی۔۔۔۔! ہم اسکا نکاح شازی سے کریں گے۔ ساتھ کھڑے نوجوان کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے اکڑ سے کہا۔ وہ نوجوان خوش ہو گیا۔ لو۔۔۔ اب یہ ۔۔۔۔ شازی کہاں سے آ گئی بیچ میں۔۔۔؟ ندا کو اچھنبا ہوا۔ سکندر نے سر جھٹکا۔

شازی لڑکی نہیں۔۔۔ لڑکا ہے۔ وہ جو ۔۔۔۔ سردار کے ساتھ کھڑا ہے۔ تمہارے ساتھ نکاح فکس کر رہا ہے۔۔۔۔ کیا خیال ہے ؟ سکندر نے اس کے نالج میں اضافہ کرنے کے ساتھ طنز رائے مانگی۔ ک۔۔۔۔ ہا۔۔۔۔ ہو گیا ہے آپ کو۔۔۔۔؟ ندا سامنے اس نوجوان کو دیکھ کر جھر جھری لی۔ اور سکندر کی جانب مڑی۔

💞
💞
💞
💞
💞
💞

آپ کو میرے لیے یہ جنگلی لمبے بالوں والا لڑکا نما لڑکی ہی پسند آنا تھا۔ اور کوئی نہیں ۔۔۔۔ملا تھا۔۔۔۔؟ ندا خفگی سے گھراتے ہوۓ بولی ۔ قبیلہ بھرا پڑا ہے۔۔۔ بولو۔۔۔ بلکہ حکم کرو۔ سکندر نے زچ کیا۔ توبہ ہے۔ آپ سے ۔۔۔! بندہ کوئی پڑھا لکھا، ویل ایجوکیشن پلس فوجی۔۔۔۔ ڈھونڈ سکتا ہے۔۔۔۔ نہ کہ ۔۔۔۔ یہ جنگلیوں کا جنجال پورا۔ ندا نے دانت پیستے خفگی سے کہا۔

ان ڈائیریکٹلی۔۔۔! مجھے۔۔۔ کچھ۔۔۔ کہنا چاہ رہی ہو تم؟ سکندر نے اسے نظروں کے حصار میں لیتے ہوئے کہا۔ ندا سکندر کی نظروں سے پزل ہونے لگی۔ دل پھر سے دھڑکنے لگا۔ یہ تم ۔۔۔ دونوں کیا گٹرگوں گوٹرگوں کر رہے ہو۔؟ حشمت نے غصہ سے ان دونوں کو کہا۔ جو ان سب کو اور ان کے سردار کو کوئی ویلیو ہی نہیں دے رہے تھے۔

سردار۔۔۔! ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں آپ سے۔۔!! سکندر نے بمشکل ندا کے معصوم چہرے سے نظریں ہٹائیں۔ کیا آپ مسلمان ہیں۔؟ اچانک سوال پر سب غصے میں آ گئے۔ تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے لڑکے۔۔۔۔! جو یہ الٹے سوال کر رہے ہو؟حشمت نے بندوق تانی۔ میرا سوال ابھی بھی وہیں ہے۔ سکندر بنا ڈرے بولا۔ الحمدللہ۔۔۔! ہم سب یہاں مسلمان ہیں۔۔۔!!

😊
😊
😊
😊

سردار نے غصہ ضبط کرتے دانت پیستے کہا۔ پھر تو ۔۔۔ آپ کو یہ بھی پتہ ہو گا۔۔۔۔ نکاح کے اوپر نکاح جائز نہیں۔۔۔۔! بڑے پر سکون انداز میں کہا۔ دھڑکتے دل کے ساتھ ندا نے سکندر کے پرسکون چہرے پر کھوجنا چاہا۔ کیا کہنا چاہتے ہو تم؟ سردار ٹھٹھکا۔ یہ لڑکی جس کے نکاح کی بات آپ کر رہے ہیں۔ شادی شدہ ہے۔۔اور نکاح کے اوپر نکاح۔۔۔ نا ممکن ہے۔۔!

تم جھوٹ بول رہے ہو! ساتھ کھڑا نوجوان آگ بگولہ ہوا۔ سکندر نے ایک گھوری سے اس شخص کو نوازا۔ اور ندا کا ہاتھ تھامے وہاں سے نکلنے لگا۔

ٹھہرو۔۔۔۔! سردار غرایا۔ سکندر پھر رکا۔

اب اس مونچھڑ کو کیا تکلیف ہے۔۔۔۔ یہ جانے کیوں نہیں دے رہا۔ ندا زچ آ گئی۔

کیا ثبوت ہے تمہارے پاس۔ کہ اسکا نکاح ہوا ہے۔۔؟ سردار اب فارم میں آگیا تھا۔ قبیلے والوں میں چہ گلوئیاں شروع ہو گئیں تھیں۔ سردار اور سکندر آمنے سامنے تھے۔ وہ ( شازی) شخص بھی سردار کے ہم قدم تھا۔

ہم ۔۔۔۔ ہنی مون پر جا رہے تھے۔ راستے میں گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ۔ اور گاڑی کھائی میں جا گری۔ بمشکل ہم نے اپنی جان بچائی۔

❤️
❤️
❤️
❤️

سامان کے ساتھ نکاح کے پیپرز بھی گاڑی کے ساتھ بلاسٹ میں اڑ گئے۔۔۔! آپ۔۔۔ اپنے آدمیوں کو بھیج کر چیک کروا لیں۔ شاید کچھ ٹکڑے۔۔۔ مل جائے۔ سکندر نے وہیں کھڑے کھڑے کہانی گڑ دی۔ اب وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں بات کرنے لگے۔

مطلب۔۔۔! یہ لڑکی۔۔۔۔ تمہارے نکاح میں ہے۔۔۔۔؟ اس حشمت نے دوبارہ تصدیق کی۔

ہاں۔۔۔! ہاں ۔۔۔۔! کیا اب۔۔۔ لکھ کے دوں؟ سکندر نے غصے سے دانت پیستے غراتے کہا۔

ہاں۔۔۔! لکھ کے تو دینا پڑے گا۔ سردار نے مونچھوں کو تاؤ دیا۔ سکندر کے اس بات پر کان کھڑے ہوئے۔

کیا مطلب۔۔۔؟ ٹھنڈے ٹھار لہجے میں دریافت کیا۔ نکاح کے اوپر نکاح جائز نہیں۔۔۔ لیکن کسی اور کے ساتھ۔۔۔ اگر ۔۔۔ یہ لڑکی۔۔۔ تمہارے نکاح میں ہے۔ تو ۔۔۔۔ تمہارے ساتھ دوبارہ نکاح جائز ہے۔ اور۔۔۔ تم اس کے ساتھ دوبارہ نکاح کر کے ثابت کر دو۔ کہ یہ تمہاری بیوی ہے۔ حشمت نے سکندر کو پورا گھیر لیا۔ کیا بکواس ہے؟ سکندر کو غصہ آ گیا۔

ٹھیک ہے۔۔! اگر تم نہیں کر سکتے۔۔۔۔ تو مطلب۔۔۔ تم جھوٹ بولتے ہو۔

😢
😢
😢
😢
😢

پھر اس لڑکی سے میرا نکاح ہو گا۔ اس شازی نے ہاتھ بڑھا کر ندا کی کلائی پکڑنی چاہی۔ لیکن اس کے بڑھتے ہاتھ پر سکندر کا ہاتھ اپنا دباؤ ڈال چکا تھا۔ ندا کا چڑیا جیسا دل بے تحاشا دھڑک رہا تھا۔

#######

ماہیر گاڑی میں بیٹھی ڈرائیور کو ابیہان کے آفس کا بول کر سوچوں میں گم تھی۔ وہ اپنی بی جان کے لیے بہت پریشان تھی۔ وہ بی جان سے ملنا چاہتی تھی۔ لیکن ۔۔۔ سب کچھ نہ ممکن لگ رہا تھا۔ اور یہاں وہ کسی کو تکلیف نہیں دینا چاہتی تھی۔ اس لئے جانے کا فیصلہ کیا۔ پر جانے سے پہلے ایک نظر ابیہان کو دیکھنا چاہتی تھی۔ بمشکل ثروت آنٹی سے اجازت لے کر وہ قریبی مارکیٹ کا کہہ کر نکلی تھی۔ اور آب آفس کے گیٹ پر کھڑی شش و پنج کا شکار تھی۔ کہ اندر جائے یا۔۔۔۔۔ یہیں سے۔۔۔ رفو چکر ہو جائے۔۔۔۔ بہت سوچا۔۔۔۔ اور قدم خود بخود اندر کی جانب اٹھے۔ نمبر ڈائیل کیا جا چکا تھا۔ کال جا رہی تھی۔ اور فون اٹھا لیا گیا۔ نواب ابیہان پرویز خان۔۔۔۔! آواز میں رعب و دبدبہ غراہٹ تھی۔ ایک لمحے کو ابیہان چونکا۔ نمبر دوبارہ دیکھا۔ اسکی چھٹی حس نے اسے خبردار کیا۔ کیا ہوا؟ سانپ سونگھ گیا؟ مزید گل افشانی ہوئی۔ کون۔۔۔۔؟ سنبھل کر سوال داغا۔

😢
😢
😢
😢
😢

میری بیٹی۔۔۔۔ مجھے واپس چاہیے۔ نواب۔۔۔! اب کی بار پورے غصے بھری آواز کان سے ٹکرائی۔ تو ایک دھیمی مسکراہٹ ابیہان کے لبوں کو چھو گئی۔ آفتاب علی شاہ۔۔۔۔ لہجہ یک دم بدلا۔ ہاں۔۔۔ آفتاب علی شاہ۔۔۔۔۔! تمہارے لئے بہتر ہو گا۔ کہ تم مجھے اچھی طرح جان لو۔ لہجہ میں اب بھی غراہٹ تھی۔ جانتا تو بہت اچھی طرح ہوں آپ کو۔۔۔۔! ابیہان نے چئیر کے ساتھ ٹیک لگاتے پرسکون ہوتے کہا۔ لیکن شاید۔۔۔۔ آپ مجھے اچھی طرح نہیں جانتے اب کی بار ابیہان کا لہجہ تھوڑا سرد ہوا۔

تمہیں بھی جانتا ہوں اور۔۔۔۔ تمہاری فیملی کو بھی ۔۔۔۔ دو خوبصورت بہنیں ہیں تمہاری۔۔۔۔!!

آفتاب علی شاہ۔۔۔۔! ابیہان غصے کی آخر انتہا پہ تھا۔ نہ۔۔۔ نہ ۔۔۔!! بچے۔۔۔! اس کھیل کو نہ کھیلنا۔۔۔! پرانا کھلاڑی ہوں اس کھیل کا۔۔۔! آفتاب علی شاہ نے طنز کیا۔ آفتاب علی شاہ عرف پاشا! بچوں کو کڈ نیپ کرکے انھیں بیچنا اور ان سے بھیگ منگوانا۔ لڑکیوں کا بیو پاری ۔! ڈرگز سمگلینگ کا بادشاہ۔۔۔!! سولہ سے اوپر پولیس کیس میں ملوث۔۔۔!

آج تک پولیس پہنچ نہیں سکی تم تک۔۔۔! بنا ثبوت کے۔۔۔! لیکن۔۔۔ میرے پاس۔۔۔۔ تمہارے لئے بہت کچھ ہے۔ جو تمہیں سیدھا پھانسی کے پھندے تک پہنچا سکتی ہے۔ ابیہان نے غصہ ضبط کرتے سنبھل کر وار کیا۔ ابیہیان کے سردو سپاٹ لہجے میں کہے الفاظ آفتاب علی شاہ پر بم بن کر پھوٹے۔ کچھ لمحے تو بول ہی نہ پایا۔ ک۔۔۔۔ یا۔۔۔۔!! کیا چاہتے ہو تم۔۔۔۔؟؟ آفتاب علی شاہ کا لڑ کھڑایا لہجہ ابیہان کے چہرے کی مسکراہٹ کو واپس لے آیا۔ اب کی بار کھڑا آفس کی ونڈو سے باہر دیکھنے لگا۔ آفتاب علی شاہ۔۔۔۔! ایک ڈیل کرتے ہیں۔ کیا خیال ہے۔؟ ابیہان اب پلاننگ کر چکا تھا۔ کہ اسے کیا کرنا ہے۔ کیسی ڈیل۔۔۔۔؟ آفتاب علی شاہ چوکنا ہوا۔ تمہیں بیٹی چاہیے۔۔۔!! مجھے بھی۔۔۔۔ تم سے کچھ چاہیے ٹھیک ہے۔۔۔۔!! مجھے منظور ہے۔ آفتاب علی شاہ فوراً ہامی بھر گیا۔ فون بند ہوا۔ ابیہان مسکراتا ہوا مڑا۔ لیکن ایک دم ٹھٹھک گیا۔ آنکھوں میں ڈھیروں آنسو لیے وہ دشمن جان سامنے کھڑی تھی۔ آنکھوں میں بے انتہا بے اعتباری تھی۔ ابیہان کے دل کو کچھ ہوا۔

😑
😑
😑
😑
😑
😑

بنا کچھ کہے وہ اپنی قدموں پے واپس مڑی۔ ابیہان کو ہوش آیا۔ تو وہ اسکے پیچھے لپکا۔ وہ آفس کی بلڈنگ سے نکل کر روڈ پر آچکی تھی۔ ابیہان بھی اس کے پیچھے بھاگا۔ روکو۔۔۔! قریب جا کر بازو سے پکڑ کر اپنی طرف موڑا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو ابیہان کو تکلیف دے رہے تھے۔ ہاتھ بڑھا کر گال پر آئے آنسو صاف کئے۔ تو ماہیر نے جھٹکے سے ابیہان کا ہاتھ پیچھے کیا۔ اور شاکی نظروں سے اسے گھورا۔ ماہیر کا ابیہان کا ہاتھ جھٹکنا ابیہان کو سخت نا گوار گزرا۔ کلائی سے تھام کر وہ اسے اپنی گاڑی تک لایا۔ اور زبردستی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر پٹخا۔ ماہیر روئے جا رہی تھی۔ لیکن ابیہان سے سخت خائف تھی۔ وہ آخر کی ساری بات سن چکی تھی۔ اور ابیہان یہ جانتا تھا۔ وہ سخت غلط فہمی کا شکار ہوئی تھی۔ اور ابھی اسی وقت اسکی غلط فہمی دور نہ کی تو وہ پاگل لڑکی کچھ بھی کر سکتی تھی۔ گاڑی ڈرائیو کرتے اس نے شاہ ویز کو کال ملائی۔۔۔۔ انکل۔۔۔! میرا آج بہت ضروری کام ہے۔ تو آج۔۔۔۔ میں گھر نہیں آ سکوں گا۔۔۔۔! اب سنبھال لینا۔ سلام رعا کے بعد سیدھا ابیہان مدعے پر آیا۔ ماہیر کے کان کھڑے ہوئے۔ اگر گھر نہیں لے کر جا رہا تو۔۔۔۔کہاں۔۔۔۔؟؟

😐
😐
😐
😐
😐

جی۔۔۔۔ جی ۔۔۔۔ حیریت ہے۔ ایک بہت ضروری کام ہے۔ جو نمٹانا ہے۔ ایک گہری نظر ماہیر پر ڈالنے کے بعد سامنے ونڈا اسکرین پر دیکھتے کال بند کی۔ آ۔۔۔۔پ۔۔۔۔ کہاں۔۔۔۔ لے کر جا رہے ہیں مجھے؟ بلآخر ہمت کر ماہیر نے ڈرتے ڈرتے پوچھ ہی لیا۔ وہیں۔۔۔۔! جہاں تمہیں ہونا چاہیے! سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔ م۔۔۔۔ ط۔۔۔۔ لب۔۔۔۔ !! ماہیر کا دل بہت سخت گھبرایا۔ تھوڑی دیر میں سارے مطلب۔۔۔۔ تمہیں سمجھ آ جائیں گے۔۔۔۔!! لہجہ اب بھی سرد تھا۔ ماہیر کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ د۔۔۔ یکھیں۔۔۔۔! آپ۔۔۔۔ بہت۔۔۔ غلط کر رہے ہیں۔۔۔!! آپ۔۔۔۔ مجھے۔۔۔۔ بابا سائیں۔۔۔۔۔ کے پاس۔۔۔۔!! رونا پھر سے شروع۔۔! خبردار۔۔۔! خبردار جو ایک آنسو بھی بہایا تو۔۔۔۔ اب۔۔۔!! ابیہان نے رخ موڑ کر غصے سے اسے کہا۔ تو وہ فٹ سے آنسو صاف کرنے لگی۔ اس وقت اسے صرف خوف آ رہا تھا۔ وہ واپس وہیں دلدل میں نہیں جانا چاہتی تھی۔ جہاں سے وہ بمشکل جان بچا کر نکلی تھی۔ پلٹ کر ایک نظر ابیہان کو دیکھا۔ جس کا چہرہ اب بھی سپاٹ تھا۔ وہ کوئی اندازہ نہ لگا سکی۔ اسے خود کو پرسکون رکھنا تھا۔ اور کسی طرح بھی کر کے اسے یہاں سے نکلنا تھا۔ گاڑی اس وقت سنسان علاقے سے گزر رہی تھی۔

😢
😢
😢
😢
😢

ماہیر نے سارے اموشنز ایک طرف رکھ کر خود کو نارمل کیا۔ اور اپنے شیطانی دماغ کو کام پر لگایا۔ اچانک ہی ماہیر کا سانس رکنے لگا۔ اور کھانسی کا دورہ پڑا۔ ابیہان یکدم گھبرا گیا۔۔۔۔۔ ایک ہاتھ سے ایسٹیرنگ تھامے ماہیر کو تھپکی دی۔ پھر کھانسی مزید بڑھتی جا رہی تھی۔ مجبوراً ابیہان کو گاڑی روکنی پڑی۔ اور اسے تھپکیاں دینے لگا۔ وہ انتہائی پریشان ہو گیا ماہیر کے لیے۔۔۔!

ماہی۔۔۔! کیا ہوا۔۔۔ ؟ تم ۔۔۔ ٹھیک ہو۔ ابیہان نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھ میں لیا۔ ماہیر کی آنکھیں بند ہو رہی تھیں۔ مجھ۔۔۔۔ ے۔۔۔۔ سانس ۔۔۔۔ نہیں۔۔۔ گھٹن۔۔۔۔!! بمشکل ماہیر بولی۔ فوراً سے پیشتر ابیہان خود بھی باہر آیا۔ اور ماہیر کو بھی باہر نکالا۔ اسے خود کے ساتھ لگائے وہ بے خد پریشان تھا۔ پانی۔۔۔!! ماہیر نے ادھ کھلی آنکھوں سے پانی مانگا۔ ابیہان فوراً گاڑی کا دروازہ کھولے آگے بڑھا۔ پانی کی بوتل نکالے۔۔۔ وہ پلٹا لیکن۔۔۔ گنگ رہ گیا۔ قریب ہی گھنی درختوں پے اس کی نظر پڑی۔ لیکن اس کا دماغ یہ سب تسلیم نہ کر پا رہا تھا۔ کہ ماہیر اسے دھوکا دے کر ان گھنے جنگلوں میں بھاگ چکی تھی۔ پانی کی بوتل غصے سے زمین پر پٹخی۔ اب تمہیں مجھ سے کوئی نہیں بچا سکتا۔۔۔! غصہ کی آخری کو چھوتا وہ اس طرف دیکھتا دانت پیس گیا۔

خبردار ! جو میری بیوی کی طرف ہاتھ بڑھایا تو۔ ہاتھ توڑ کر رکھ دوں گا۔ سکندر نے غصے سے شازی کا ہاتھ جھٹکا۔ یہ بیوی ہے میری۔۔۔۔! اور کسی نے بھی آنکھ اٹھا کر دیکھا۔ آنکھیں نوچ لوں گا میں اس کی۔۔۔! سکندر غصے سے دھاڑا۔ وہاں موجود سبھی کو سانپ سونگھ گیا۔ نکاح کی بات ہے ناں ۔۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔۔! بلوائیں مولوی کو۔۔۔! ابھی ہو گا ہمارا نکاح۔۔۔ اور اس کے بعد ہمیں یہاں سے جانے کو کوئی نہیں روکے گا۔۔۔۔! سمجھے آپ سب۔۔۔۔!! سکندر نے غصے و غصب سے کہا۔ ایک پل کے لیے تو ندا بھی سہم گئی۔ لیکن نکاح کے فیصلے پر حیران ہوتی سکندر کو دیکھنے لگی۔ وہ بولنا چاہتی تھی۔ لیکن سکندر کے غصے کی وجہ سے منہ سے الفاظ ہی نہیں نکل رہے تھے۔

ٹھیک ہے۔۔۔! نکاح کے بعد تم یہاں سے اس لڑکی کو لے کر جا سکتے ہو۔ سردار نے بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ سنایا۔ اور جو دربار لگا۔ وہ پانچ منٹ میں وہاں سے غائب ہو گیا۔ ایک قدرے حال بہتر گھر میں سکندر اور ندا کو لے گئے۔ ورنہ تقریباً تمام گھر خستہ حال تھے۔ ایک کمرے میں آتے ہیی ندا نے سکندر کی طرف دیکھا۔ اور لب بھینچے۔ میں۔۔۔۔ آپ سے نکاح۔۔۔۔ نہیں کر سکتی۔۔۔۔ بمشکل بولی۔۔۔!

😱
😱
😱
😱
😱

سکندر نے قہر آلود نظر سے ندا کو دیکھا۔ تو وہ سر جھکا گئی۔ تو ٹھیک ہے۔۔۔۔! اس شازی سے کر لو۔ ویسے بھی ۔۔۔۔ مر مٹا ہے تم پر۔۔۔۔! سکندر نے غصے بھرے طنز کے تیر چلائے۔ ہر گز نہیں۔۔۔! ندا تڑپ ہی تو گئی۔

کیا۔۔۔ کوئی اور طریقہ نہیں۔۔۔! آپ تو۔۔۔ فوجی ہیں ناں۔۔۔! سب سے لڑ کر ۔۔۔۔مجھے ۔۔۔۔ یہاں سے لے جا سکتے ہیں ناں؟؟

ندا نے قریب آکر معصومیت سے سکندر سے پوچھا۔ جہاں اس کی معصومیت سکندر کو بھلی لگی۔ وہیں اس کے الفاظ سکندر کو پھر سے غصہ دلا گئے۔

ہاں ! ہے ایک طریقہ۔۔۔۔! ہم فوجی ہیں۔ لڑکے غازی ہوتے ہیں یا شہید۔۔۔! یہاں غازی تو ہو نہیں سکتا۔ کیونکہ یہ تعداد میں بے حساب ہیں۔ دوسرا بچے، بوڑھے ، اور عورتیں ہیں یہاں۔۔۔! اور فوجی نہتوں پر وار نہیں کرتے۔۔۔!

جبکہ یہاں۔۔۔ سب۔۔۔ غلط ہیں بھی نہیں۔۔۔! چند غلط لوگوں کی وجہ سے میں یہاں۔۔۔ اپنی فوجی گری دیکھا کر صرف اپنی نہیں تمہاری جان بھی مشکل میں ڈال دوں گا۔

اور۔۔۔ ایک بات۔۔۔ کان کھول کر سن لو۔۔۔۔ ندا۔۔۔!! بازو سے پکڑ کر خود کے قریب کیا۔ شہید ہو کر تمہیں ان کے حوالے کرنے سے بہتر ہے۔ اپنے ہاتھوں سے تمہیں مار ڈالوں۔

😱
😱
😱
😱
😱
😱

سکندر کے غصیلے لہجے پر ندا نے لرزتی پلکوں سے اس جنونی کو دیکھا۔ کتنے روپ ہیں اس کے ۔۔۔ منہ پھیرتے سکندر نے ندا کا ہاتھ جھٹکا اور باہر کی طرف قدم بڑھائے۔

روکیں ! ندا کی پکار نے سکندر کے قدموں کو روکا۔ پر پلٹا نہیں۔ میں تیار ہوں ۔۔۔۔ نکاح کے لیے۔۔۔! دھڑکتے دل کے ساتھ کہا۔ سکندر پلٹا۔ اور تمسخر سے گردن ہلائی۔ اور اس کے قریب آیا۔

اس نکاح کو دماغ پر سوار مت کرو۔ جسطرح ہو رہا ہے۔ ویسے ختم بھی ہو جائے گا۔ صرف۔۔۔ تمہیں یہاں سے بخفاظت نکالنا ہے۔ Thats it۔ کہتے ہوئے ندا کی آنکھوں میں جھانکا۔ جہاں سکندر کو درد محسوس ہوا۔ سکندر نے نظریں پھیر لیں۔ وہ اس چھوٹی لڑکی کے آگے ہارنا نہیں چاہتا تھا۔ جو اس سے کافی چھوٹی تھی۔ لیکن سکندر کے دل کی دنیا کو ہلانے کی طاقت رکھتی تھی۔

تھوڑی دیر میں مولوی آیا۔ اور ان کے نکاح کا فریضہ سر انجام دے پایا۔ ایک عجیب سے احساس نے دونوں کو گھیر لیا۔ ندا کے دل کی دھڑکن عجیب ہی لے پر دھڑکنے لگی۔

سکندر ریحان۔۔۔۔! ندا کو سکندر کا پورا نام آج پتہ چل ہی گیا۔ قبول ہے کہتے ہی دل ودماغ پر چھا گیا۔ محبت کے جزبے بہت منہ زور ہوتے ہیں۔ وہ عمروں کو کہاں دیکھتے ہیں۔ امیری غریبی کے فرق کو کہاں سمجھتے ہیں۔ بس اپنا آپ دیکھاتے ہیں۔ اور چھا جاتے ہیں۔

☺️
☺️
☺️
☺️
☺️

جہاں دل کی دنیا میں نیا محبت کا اچھوتا احساس جاگا۔ وہیں سکندر کے الفاظ نے اسے واپس ہوش کی دنیا میں لا پٹخا۔ یہ نکاح۔۔۔ وہ یہاں سے نکلتے ہی ختم کر دیں گے۔ ایک دم سے ہی دل بے چین ہوا۔ اسکا دل کیا وہ یہاں سے جائے ہی نہ۔۔۔۔! وہ سکندر کو بس اپنی نظروں کے سامنے رکھنا چاہتی تھی۔ باجی۔۔۔! اندر آ جاؤ۔۔ کھانا کھا لو۔ ایک لڑکی نقاب میں ندا سے مخاطب ہوئی۔ وہ صحن سے روم کے اندر چلی گئی۔ جہاں صرف عورتیں تھیں۔ ہر عمر کی۔ سبھی بڑے اشتیاق سے ندا کو دیکھنے لگیں۔

باجی۔۔۔! تمہیں تو چوٹ بھی لگی ہے۔۔۔۔! اور۔۔۔ کپڑے بھی خراب ہیں۔ آؤ۔۔۔میں تمہیں۔۔۔ کپڑے دوں! وہ چہکتی بولی رضو۔۔۔ تیری زبان بس قینچی کی طرح چلتی ہے۔ کھانا دے اس کو پہلے۔۔۔! بھیچاری کب سے بھوکی ہے۔ ایک بوڑھی عورت نے کہا۔ گرما گرم کھانا دیکھ کر ندا کو بھی یکدم کھانے کا احساس جاگا۔ اور بنا ہچکچاہٹ کے کھانے بیٹھ گئی۔ کھانے سے کیسی پرداہ داری۔۔۔؟؟ اور شرم و حیا۔۔۔! سیر ہو کر کھانا کھایا۔ پھر وہی لڑکی اندر لے گئ۔ اور اپنے کپڑے ندا کو دئیے۔ وہ بھی ندا کی ہی ہم عمر تھی ۔۔۔۔ تقریباً۔۔۔ یا چھوٹی ہو گی۔ ندا اندازہ نہ لگا سکی۔ باجی۔۔! تم۔۔۔ بہت خوبصورت ہو۔۔۔۔! وہ لڑکی حسرت سے بولی۔ تم بھی بہت پیاری ہو۔۔۔۔! سانولی سی وہ لڑکی ندا کو بہت بھائی تھی۔

♥️
♥️
♥️
♥️
♥️

لیکن۔۔۔۔ آپ جتنی نہیں ہوں ناں۔۔۔۔! وہ افسردہ ہوئی۔ ورنہ سائیں۔۔۔۔ آپ کو پسند کرتے۔۔۔۔! بے دھیانی میں منہ سے نکلا تو ندا چونکی۔ اور حیرت سے اس لڑکی کو دیکھا۔

مطلب۔۔۔؟ تم۔۔۔۔ اس موچھڑ سے۔۔۔۔ آئی مین۔۔۔ تم۔۔۔۔ تم۔۔۔ اس۔۔۔ اتنے بڑے کو پسند کرتی ہو؟ ابھی تمہاری ہی کیا ہے۔۔۔ جو تم۔۔۔۔ یہ سب۔۔۔! ندا کو بے انتہا حیرت ہوئی۔

چودہ سال کی ہوں میں۔۔۔! بہت فخر سے بولی۔ اور باجی۔۔۔! بچپن سے ہم۔۔۔ سائیں کے نکاح میں ہیں۔۔۔۔! لیکن۔۔۔ وہ رخصتی۔۔۔ نہیں کرواتا۔۔۔۔! اب پھر وہ افسردہ ہو گئی۔ اسکی باتیں سن کر ندا کا سر حقیقت سے چکرا گیا۔

بچپن کا نکاح۔۔۔؟! ۔۔۔یہ کونسا۔۔۔ علاقہ ہے۔۔۔۔؟؟ کون لوگ ہو تم۔۔۔۔یار۔۔۔؟ بچپن میں کیسے نکاح۔۔۔؟؟

باجی جی۔۔۔ ہمارا قبیلہ۔۔۔ باقی قبیلوں سے بہت اچھا ہے۔۔۔۔!! ہمارے قبیلے کے ساتھ جو قبیلہ آباد ہے ناں۔۔۔ ،، سیاہ قبیلہ،، وہ ۔۔۔۔ بہت ظالم اور بے رحم ہیں۔۔۔! وہ تو کسی لڑکی کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے۔۔۔۔!! اور بغیر نکاح کے ہی۔۔۔!! اچھا ۔۔۔۔ بس کرو۔۔۔۔! ہمیں جانا ہو گا۔۔۔! اب یہاں سے۔۔!! ندا نے جھر جھری لی اس کی باتوں پر۔۔۔۔ اور اسے مزید بات کرنے سے روکا۔ باجی۔۔۔! اتنی شام ہو گئی ہے۔۔۔۔! سردار سائیں۔۔ تو نہیں۔

😱
😱
😱
😱

جائیں دیں گے۔۔۔! اب تو ،،سیاہ قبیلے ،،، کے لوگ گزثبت کریں گے۔ ہمارے قبیلے نے تو آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔ لیکن۔۔۔ وہ آپ کو چھوڑیں گے نہیں۔ وہ بہت طاقت ور ہیں۔۔۔۔! رضیہ عرف رضو پھر سے شروع ہو گئی تھی۔ تبھی دروازے پر دستک ہوئی تو دونوں چونکیں۔

اے رضو۔۔۔! آجا باہر اب۔۔۔۔! باہر سے بے بے کی آواز آئی۔ اچھا باجی۔۔۔۔! میں چلی۔۔۔! اپنا خیال رکھنا۔۔۔۔! رضو یہ کحہ کر چھباک سے باہر نکل گئی۔ ندا وہیں سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔ اسے گھر والوں کی فکر ستا رہی تھی۔ کیا کر رہے ہوں گے وہ۔۔۔! ہر جگہ ڈھونڈ رہے ہوں گے۔۔۔! سب پریشان ہوں گے۔ ندا کا دل اچانک گھر جانے کے لیے بے چین ہوا۔ تبھی دروازہ کھلا۔ اور سکندر اندر داخل ہوا۔ سکندر کو دیکھ ندا کا دل یکبارگی دھڑکا۔ جھٹ سے بیڈ سے کھڑی ہو گئی۔ سکندر نے دروازہ اچھی طرح لاک کیا۔ اور پھر Window کی طرف بڑھا۔ اور اس کا جائزہ لیا۔ یہ علاقہ واقعے ہی خطرناک تھا۔ وہ یہاں سے نکل جاتا۔ لیکن وہ ان قبیلوں کے چکر میں پھنس کے وہ کوئی نئی مصیبت مول نہیں لینا چاہتا تھا۔ اس لئیے علی الصبح نکلنے کا پلان کیا۔ پریشان وہ ندا کے لیے تھا۔ ہم۔۔۔ گھر۔۔۔ کب۔۔۔۔؟ ندا نے قریب آتے دھیرے سے کہا۔

😢
😢
😢
😢
😢

ندا۔۔۔! فی الحال۔۔ کوئی بخث نہیں۔۔۔! اس وقت میرا دماغ بہت تھک گیا ہے۔۔۔! اسے بھی سکون کرنے دو۔ اور خود بھی تھوڑا سکون کرو۔ انشاللہ صبح یہاں سے نکل جائیں گے۔ چھوٹے سے صوفے پر بیٹھے سکندر نے کنپٹیوں کو چھوا۔ سکندر کی بات پر ندا نے بورا سا منہ بنایا آنکھیں نم ہوئیں۔ لیکن بنا کچھ بولے جا کر چارپائی پر بیٹھی۔ ( جو پلنگ نما تھی) ۔

سکندر نے ایک اچھٹتی نظر اس کے پھولے ہوئے چہرے پر ڈالی۔ اور آنکھیں موند کے صوفے کے ساتھ ٹیک لگائی۔ کرنل سے بات کرنے کے بعد نوفل روم سے نکلا۔ تو فون کی بیل ہوئی۔

سر۔۔۔! ہماری ٹیم ان کی تلاش میں نکل چکی ہے۔۔۔! جیسے ہی کوئی خبر ملتی ہے۔ آپ کو انفارم کر دیا جائے گا۔ رضا نے فوراً نوفل کو موجودہ حالات سے آگاہ کیا۔ نوفل نے لمبا سانس خارج کیا۔ اب اسے گھر جانا تھا۔ وہاں سب ہینڈل کرنا تھا۔ ماہیر بنا پیچھے مڑے آگے بھاگتی جا رہی تھی۔ کہ اس کی پاؤں کسی بڑے پتھر سے ٹکرائے۔ وہ گرتے گرتے بچی۔ بمشکل خود کو سنبھالا۔ اور آگے بڑھتی چلی گئی۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ کہاں جا رہی ہے۔۔۔ بس وہ بھاگے جا رہی تھی۔ آج اسے ابیہان سے بھی خوف محسوس ہو رہا تھا۔ وہ جس سے وہ عشق کرنے لگی تھی۔

😄
😄
😄
😄
😄

جنون کی حد تک چاہینے لگی تھی۔ اس سے بھاگ رہی تھی۔ لمحے بھر کو ماہیر کے پاؤں لڑکھڑائے۔ کوئی نوکیلی چیز اس کے پاؤں میں چبھی تھی۔ وہ پاؤں پکڑے وہیں بیٹھ گئی۔ شام کے سائے گھرے ہو رہے تھے۔ گھنا جنگل اور وہ اکیلی۔۔۔۔!! بادل میں خوف پنپا۔ وہیں لڑکھڑاتے ہوئے قریب پڑے پتھر پر ہی بیٹھ گئی۔ آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ کچھ پاؤں میں چبن کا درد ۔ اور کچھ حالات کا درد۔۔۔ آنسو بن کر گالوں میں بحہ نکلے۔

یا اللہ۔۔۔ میری مدد کر۔۔۔! اس ۔۔۔ اس دل کا کیا کروں۔۔۔؟ دماغ کہتا ہے کہ۔ بھاگ جا۔۔۔۔ مت بھروسہ کر کسی پر۔۔۔! لیکن۔۔۔۔ یہ دل۔۔۔۔ یہ دل مجھے کیوں۔۔۔۔ دھوکہ دے رہا ہے۔ بار بار ابیہان۔۔۔۔ کا نام کیوں پکار رہا ہے۔۔۔۔۔؟ گالوں پر آئے آنسو صاف کئیے۔ ابیہان کے ساتھ گزرے لمحات آنکھوں میں فلم کی طرح چلنے لگے۔۔۔ دل نے ہر بار ، بار بار اس پر یقین کی گواہی دی۔ اور اسی ایک لمحے میں دل نے فیصلہ کر لیا۔ اسے واپس لوٹنا ہے ابیہان کے پاس۔۔۔۔! وہ مغرور نواب۔۔۔۔ اس قلب کا عشق تھا اور چاہے وہزندہ رکھے یا مار ڈالے۔۔۔! وہ پیچھے نہیں ہٹے گی۔ ہاں۔۔۔۔! مجھے واپس جانا ہے۔۔۔۔! اپنے نواب کے پاس۔۔۔۔!!

😢
😢
😢
😢
😢

میرا دل اگر اس پے اعتبار کر رہا ہے تو دماغ کی نہیں سنوں گی۔۔۔۔!! ماہیر لڑکھڑاتے اٹھی۔ کہ قریب جھاڑیوں سے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ اس نے چونک کر دیکھا۔ تو اس طرف اسے دو آدمی نظر آئے۔ ان کے ہاتھ میں کچھ سامان تھا۔ شاید وہ جنگل میں رہنے والے تھے۔ لکڑیاں وغیرہ کاٹ کرلے کر جا رہے تھے۔ ماہیر کو دیکھ کر وہ دونوں بھی چونکے۔

کون ہو تم لڑکی۔۔۔۔! اس میں سے ایک غرا کر بولا۔ ماہیر ڈر کے مارے دو قدم پیچھے ہوئی۔ لیکن ان پر اپنا ڈر ظاہر نہ کیا۔ وہ کچھ قدم کے فاصلے پر تھے۔ وہ۔۔۔ میں راستہ۔۔۔ بھٹک۔۔۔۔!! تھوک نگلتے کہا۔ دونوں آدمیوں نے ایک دوسرے سے نظروں کا تبادلہ کیا۔ اور ماہیر کے قریب آنے لگے۔ چلو۔۔۔! آؤ ہمارے ساتھ۔۔۔۔ ہم تمہیں راستہ دیکھا دیتے ہیں۔ ان کے معنی خیزی سے کہنے پر ماہیر کے چودہ طبق روشن ہوئے۔ خب۔۔۔۔ ر۔۔۔۔۔ دار۔۔۔نو آگے بڑھے۔۔۔! میں۔۔۔ خود ڈھونڈ لوں گی راستہ۔۔۔۔! ماہیر نے کرخت لہجے میں کہا۔ ہا۔۔۔۔ہاہاہا۔۔۔! وہ دونوں قہقے مار کر ہنسے۔ اب ماہیر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا۔اور وہاں سے نکلنا ہی مناسب سمجھا۔ لڑکھڑاتی وہ وہاں سے نکلی۔ تو وہ بھی چوکنا ہوئے۔ ایک ماہیر کے آگے جا کھڑا ہوا۔

😱
😱
😱
😱

تو دوسرا ماہیر کے پیچھےماہیر کے پاس نکلنے کا راستہ نہ بچا۔ وہ کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی۔ یا اللہ۔۔۔! ابیہان کے پاس۔۔۔ جان مخفوظ نہ تھی۔ لیکن عزت تو مخفوظ تھی۔۔۔۔ مجھ سے غلطی ہو گئی۔۔۔ جو میں نے یہ قدم اٹھایا۔۔۔ پلیز۔۔۔! میری مدد فرما۔ ماہیر دل ہی دل میں اللہ سے مخاطب تھی۔ وہ آدمی Over Confident تھے۔ ماہیر ان کے پہنچنے پر جھٹکے سے چکما دے کر ایک سائیڈ سے نکلی۔ اور آگے کی طرف بھاگی۔ اس لمحے پاؤں کا درد بھی محسوس نہ ہو رہا تھا۔ بس یہی تھا کہ عزت پر حرف نہ آئے۔ وہ دونوں آدمی بھی قریب پہنچ گئے۔ تبھی ماہیر کسی سے ٹکرائی۔ تو ایسا لگا کہ دنیا گھوم گئی۔ سر اٹھا کر دیکھا۔ تو ساری دنیا سامنے ایک شخص میں نظر آئی۔ ابی۔۔۔ خان۔۔۔!! لب مسکرائے۔ آنکھیں چمکیں دل نے بہت سکون ہو کراپنے قلب عشق کو سامنے دیکھا۔ ابیہان کی آنکھوں میں قہر اور غصہ تو ماہیر کو نظر ہی نہ آیا۔ اسے تو بس ابیہان کا وجود تقویت بخش رہا تھا۔ اتنے میں وہ آدمی بھی وہیں پہنچ گئے۔ ابیہان کو دیکھ کر دونوں چونکے۔ پھر سے نظروں کا تبادلہ ہوا۔ اب۔۔۔ یہ کہاں سے آ گیا بیچ میں؟ ایک بد مزہ ہوا۔

😇
😇
😇
😇
😇

اوے۔۔۔۔۔! یہ لڑکی ہمارے حوالے کر دو۔ اور چلتے بنے یہاں سے۔۔۔۔! ایک آدمی نے غصے سے ابیہان کو بولا۔ ابیہان نے ایک نظر ماہیر کو دیکھا۔ جس کی آنکھوں میں ایک یقین تھا ابیہان کے لیے۔۔۔۔! لیکن ابیہان کچھ لمحے پہلے کئے گئے ماہیر کے عمل کو نہ بھولا تھا۔

سنا نہیں تم نے۔۔۔۔؟ لڑکی کو پہلے ہم نے دیکھا۔ اور اس پر پہلا حق ہمارا ہے۔ وہ آدمی بڑے دعوے سے بولا۔ تو میں نے کب روکا؟ لے جاؤ۔۔۔! ابیہان نے ماہیر کو خود سے الگ کرتے ان کے سامنے کیا۔ تو وہ لڑکھڑا کر گری۔ ایک بے یقینی سی تھی۔ ابیہان ایسے کیسے کر سکتا ہے؟

حیرت اور بے یقینی سے سامنے کھڑے سخت نظروں سے گھورتے ابیہان کو دیکھا۔ ماہیر کو ابیہان کی نظروں سے وحشت ہوئی۔ آنسو پھر سے لڑھک کر گالوں پر بحہ نکلے تھے۔ اندر سب کچھ جیسے ٹوٹ گیا تھا۔ وہ دونوں جیت کی فتح کے لیےماہیر کی جانب بڑھے۔ ابیہان نے ماہیر کے قریب کھڑے ہی سیگرٹ سلگایا۔ اور دھواں ہوا میں چھوڑا۔ ایک قہرآلود نظر آنے والے پر ڈالی۔ آگے بڑھ کر وہ ماہیر کو پکڑتا۔ کہ ابیہان کی گرفت میں اس کی کلائی تھی۔ اس شخص نے حیرت سے ابیہان کو دیکھا۔ ہاتھ چھڑانا چاہا۔ لیکن بے سود۔ اس شخص نے دوسرے ہاتھ سے وار کیا۔

😔
😔
😔
😔
😔
😔

لیکن ابیہان نے اس کے دونوں بازو پکڑ کر پیچھے کی طرف موڑ دیئیے۔ وہ شخص کراہ کر رہ گیا۔ ہڈیوں کے ٹوٹنے کی آواز تک آئی۔ ماہیر دہل کر رہ گئی۔

تو۔۔۔! دوسرا شخص آگے بڑھا۔ لیکن ابیہان نے اس کا حال پہلے والے سے بھی بورا کیا۔ کہ اسکی چینخیں پورے جنگل میں گونجیں۔ ایک بھاگ نکلا۔ جبکہ دوسرا وہیں بے ہوش ہو کر گرا پڑا۔ ابیہان ماہیر کی جانب مڑا۔ ایک نظر اس کے بکھرے چلئے پر ڈالی۔ رو رو کر اس کی موٹی ہرنی سے آنکھیں مزید دلکش ہو گئ تھیں۔ اور ناک سرخ انار۔ ایک پل کو ابیہان کا دل موم ہوا۔ لیکن ایک لمحے بعد ہی وہ واپس سپاٹ چہرے کے ساتھ کھڑا تھا۔ وہ ماہیر کا وہاں سے دھوکے سے نکل کر جانا فراموش نہیں کر پا رہا تھا۔ ماہیر کو اگنور کر کےوہ وہاں سے آگے بڑھا۔ ابیہان ۔۔۔۔! پلیز۔۔۔۔! ماہیر زمین پر بیٹھی ہی رو دی۔ ابیہان کے قدم رکے۔ ماہیر کی آواز میں درد تھا۔ دھیرے سے چلتا ہوا اس کے قریب آ کر بیٹھا۔ اب کیوں رو رہی ہو۔؟؟ لہجے میں غصہ اور طنز تھا۔ ماہیر نے شاکی نظروں سے اسے دیکھا۔ لیکن رونا جاری رکھا۔ یہی تو چاہتی تھی تم۔۔۔! مجھ سے دوری۔۔! مجھ سے خطرہ ہے نہ تمہیں۔۔۔؟؟

♥️
♥️
♥️
♥️

لہجہ اب بھی غصیلہ لیکن انداز ٹہرا ہوا تھا۔ ابی۔۔۔۔!! ماہیر نے بولنا چاہا۔ شی۔۔۔!! ابیہان نے اسکے گلابی ہونٹوں پر انگلی رکھ کر چپ کروا دیا۔ غصے کو ضبط کرتے ابیہان کی رگیں تن گئی تھیں۔ جھٹکے سے اسے کھڑا کیا۔ وہ لڑکھڑا کر کھڑی ہوتی ابیہان کے سینے سے جا لگی۔ سر اٹھا کر بمشکل اس ستم گھر کی جانب دیکھا۔ پلیز۔۔۔! معاف۔۔۔؟؟ ہچکیوں سے بمشکل بولی۔ معاف۔۔۔! ماہیر۔۔۔! تم۔۔۔ ! ابیہان نے غصہ ضبط کرتے دانت ہچکچائے۔

اگر۔۔۔ تمہیں۔۔۔ وہ کچھ کر دیتے۔۔؟؟ آئی سوئیر۔۔۔! میں تمہیں جان سے مار دیتا۔۔۔۔! دونوں بازو پر گرفت سخت کی۔ تو ماہیر رو دی۔ اب کی بار شدت زیادہ تھی۔ جانتی ہو۔۔۔۔ ؟؟ کتنا۔۔۔۔ تڑپا ہوں میں اس پل؟ ابیہان اس کے رونے سے نرم پڑ رہا تھا۔ لیکن وہ پڑنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ ماہیر دوبارہ سے یوں بے اعتباری کر کے اس سے دور جائے۔ چپ۔۔۔! ایک دم چپ۔۔۔۔ ! رونا بند کرو۔۔۔! ابیہان نے نرمی سے مگر غصے بھرے لہجے سے کہا۔ تو وہ اتنی نرمی پا کر سمجھ گئی۔ کہ یہ شخص اس کا محافظ ہے دشمن نہیں۔ ابیہان کے لہجے میں نرمی پا کر ماہیر کو سکون محسوس ہوا۔

😭
😭
😭
😭
😭

اگر اب تم نے رونا بند نہ کیا۔۔۔؟ تو پھر۔۔۔ میں اپنے طریقے سے بند کروں گا۔۔۔ آخر میں زومعنی انداز سے کہتا وہ ماہیر کا دل دھڑکا گیا۔ ماہیر نے خفگی سے اسے گھورا۔ دیکھنے کا سیشن Complete ہو گیا ہو تو چلیں۔۔۔؟ یا کسی جنگلی جانور کا ابھی انتظار کرنا ہے۔ رات کے سائے گہرے ہوتے دیکھ ابیہان نے ماہیر کو نرمی سے لیکن ہلکا سا طنز کیا۔ تو ماہیر کو تو موقع مل گیا۔

کیسے چلوں۔۔۔ ؟ مجھ سے نہیں چلا جائے گا۔۔۔! میرے پاؤں میں کچھ چبھ گیا ہے۔۔۔۔! لاڈ سے اب وہ بدلی ہوئی ماہیر لگ رہی تھی۔ ابیہان اس کا انداز سمجھ گیا۔ نفی میں سر ہلاتے اسے اپنی بانہوں میں اٹھایا۔ ماہیر نے دھیمی مسکراہٹ سے دونوں بازو حق سے ابیہان کے گلے میں ڈالے۔ ابیہان اندر تک سر شار ہوا تھا۔ محبت میں اعتبار نہ ہو تو محبت ، محبت، نہیں۔۔۔! اور ماہیر کی بے اعتباری نے اسے اندر تک توڑا تھا۔ اور اب استحقاق سے خود کو ابیہان کے حوالے کرنا وہ بہت پر سکون ہوا تھا۔ زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں۔۔۔! جو تم نے یہاں سےبھاگ کر غلطی کی ہے نہ۔۔۔۔!

😢
😢
😢
😢
😢

اسکی سزا ضرور ملے گی۔ ابیہان نے اسے فرنٹ سیٹ پر بیٹھاتے سرد لہجے میں کہا۔ تو ماہیر کا دل اس کے اتنے قریب ہونے پر پھر سے تیز رفتار دھڑکنے لگا۔ منہ کہ زاویے بگاڑ کر وہ ابیہان کو اب ڈرائیونگ کرتے دیکھ رہی تھی۔ لیکن ایک سکون تھا۔ کہ وہ اپنے عشق کے پاس ہے۔ جو کچھ بھی کر سکتا ہے۔ لیکن اسے کچھ نہیں ہونے دے گا۔ کن اکھیوں سے ابیہان کو دیکھا۔ وہ سامنے ونڈا اسکرین پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔

#######

نوفل کی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھتے مشال تھوڑا سا گھبرائی۔ نوفل نے گاڑی آگے بڑھائی۔

سب۔۔۔ حیرت ہے ناں۔۔؟ آپ نے مجھے مما سے جھوٹ بولنے کو کیوں کہا؟ ندا کے لیے۔۔۔؟ وہ۔۔ ٹھیک ہےناں۔۔۔۔؟ مشال نے گھبرائے ہوئے نوفل کی طرف دیکھا۔ انشاء اللہ۔۔۔۔! نوفل نے دل سے کہا۔ اس وقت وہ بہت بڑا رسک لے چکا تھا۔ مشال کو گھر سے بلوا کر اسے فون کروایا۔ کہ وہ اور ندا شاپنگ پر گئے ہیں۔ آتے دیر ہو جائے گی۔ ندا کہاں تھی۔ مشال نہیں جانتی تھی۔ لیکن اگر نوفل نے اسے یہ سب کرنے کو کہا تھا۔ تو ضرور وہ جانتا تھا۔ اور مشال کو نوفل پر پورا یقین تھا۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *