Takmeel e ishq by Muntaha Chohan NovelR50508 Takmeel e ishq (Episode 06)
Rate this Novel
Takmeel e ishq (Episode 06)
Takmeel e ishq by Muntaha Chohan
نوفل۔۔میرا بیٹا ہے۔۔۔۔! شاہ ویز صاحب بھڑ کے۔۔۔!
ٹھیک ویسے جیسے تم۔۔۔۔۔اپنے باپ کی کسی بات سے انکار نہیں کر سکتے ویسے ہی نوفل بھی۔۔ میری کسی بات سے انکار نہیں کر سکتا۔۔۔!
شاہ ویز صاحب کے لہجے کا یقین وہاں موجود سب کو تاسف میں ڈال گیا۔ شاہ ویز۔۔۔۔۔! کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ۔۔؟ تھوڑا۔۔۔ تحمل کا مظاہرہ کریں۔۔۔۔!فروا شوہر کی بات پر تڑپ ہی تو گئی تھیں۔ یہ ہمارا آپس کا معاملہ ہے۔۔۔آپ اس میں نہ پڑیں۔۔۔۔! شاہ ویز صاحب نے سختی سے فروا کو بھی چپ کروا دیا۔اور سب پے ایک طائرانہ نگاہ ڈالتے وہاں سے چلے گئے۔۔ ۔فروا منہ پر ہاتھ رکھے روتی رہ گئیں۔۔۔۔! یہ سب کیا ہو رہا تھا۔ ایسا تو کسی نے نہیں چاہا تھا۔ بھابھی۔۔۔۔! پلیز۔۔۔۔! آپ شاہ ویز کی باتوں کو سنجیدگی سے نہ لی جیئے گا۔ وہ۔۔۔۔ خود بھی نہیں جانتے۔۔۔ کیا بول گئے ہیں وہ۔۔۔۔! بھلا۔۔۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔مشال ان کی بھتیجی ہے۔ ۔۔۔! اپنی بھتیجی کے ساتھ وہ کچھ بھی۔۔۔برا نہیں کر سکتے۔۔۔۔! فروا ان سے زیادہ خود کو یقین دلا رہی تھیں۔ ثروت بیگم نے ان کا کاندھا تھپتھپایا ۔ کہنے کو ان کے پاس بھی کچھ نہ تھا۔ ان کی نظریں اپنے شوہر پر ٹکی تھیں۔ جو بہت ہی گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے تھے۔ ابیہان مشال اور ندا وہاں سے ہٹ گئے تھے۔ ۔۔۔اس وقت مشال کو سنبھالنا ابیہان کو زیادہ ضروری لگا۔ سوئمنگ پول سائیڈ پر وہ تینوں بہن بھائی بیٹھے سوچوں میں گم تھے۔ تینوں کی سوچوں کا محور نوفل ہی تھا۔
مشال آپی۔۔۔۔! کیا واقعی۔۔۔۔ نوفل بھائی سے آپکا۔۔۔؟ ندا۔۔۔۔! ایسا کچھ نہیں ہو گا۔۔۔۔! میں ۔۔۔نوفل بھائی کو جانتا ہوں۔ وہ کچھ بھی ہو جائے۔۔۔۔مشال آپی کو چھوڑ نے کا فیصلہ کبھی نہیں کریں گے۔۔۔۔! ابیہان۔۔۔! نے ندا کی بات کاٹتے ہوئے مشال کا ہاتھ تھام کر کہا۔ جبکہ مشال کی پتھرائی نظریں پول کے پانی پر تھیں۔ ضروری نہیں۔۔۔ ابیہان۔۔۔! جیسے ۔۔۔ تم ۔۔۔۔۔بابا کے سامنے ان کے فیصلے سے انہراف نہیں کر سکتے۔ ویسے ۔۔۔۔نوفل بھی۔۔۔!! مشال آپی۔۔۔! میں شاہ ویز انکل کی بیٹی کے ساتھ کمٹ منٹ میں نہیں ہوں۔ اس لیے جو فیصلہ بابا نے کیا۔ اسے مان لیا۔ لیکن ۔۔۔نوفل بھائی اور آپ نکاح کے بندھن بندھے ہیں اور اسے۔۔۔ کوئی توڑ نہیں سکتا۔۔۔! بھروسہ رکھیں خدا پر۔۔۔۔۔! ابیہان نے رسان سے سمجھایا۔ یہ سب کچھ۔۔ اس حور کا کیا دھرا ہو گا۔۔! اسی کے لیے شاہ ویز انکل اتنا بڑا سٹینڈ لے رہے ہیں۔ ندا اپنی ہی دھن میں بولے گئی۔ ایسے کیا دیکھ رہے ہیں؟ کچھ غلط نہیں کہا میں نے۔۔۔! دونوں کی حیران نظریں خود پر گھڑے دیکھ وہ سٹپٹائی۔ مشال اور ابیہان نے نفی میں سر ہلایا۔ اللہ تعالٰی سب اچھا کرے گا۔ اللہ پہ بھروسہ رکھیں۔ ابیہان بھلے پریشان تھا۔ لیکن بہنوں کو اداس یا پریشان نہیں دیکھ سکتا تھا۔









منہ ہاتھ دھو کے وہ باہر نکلی۔ تو ابیہان روم میں داخل ہوا۔ ماہیر کے چہرے کی سرخی بتا رہی تھی۔ کہ وہ روئی ہے۔ ماہیر نے نظریں چرائیں۔ اور صوفے کی طرف بڑھ گئی۔ پہلی رات جو اس کے بستر پر سونے کی غلطی کر چکی تھی۔ اسکے بعد جو خمیازہ بھگتا تھا۔ وہ ماہیر کے لیے بہت تھا۔ اس لیے اس دن کے بعد ماہیر خاموشی سے صوفے پر سو جاتی تھی۔ کیونکہ مشہور محاورا ہے۔ سوئے شیر کو جگانا اپنی شامت بلانا ہے۔ اور وہ اپنی شامت نہیں بلانا چاہتی تھی۔ آج گھر میں اتنا تماشا ہوا۔ صرف اسکی وجہ سے گھڑی اتارتے سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ایک غصیلی نظر ماہیر پر ڈالی۔ جو مزے سے صوفے پر چادر تانے لیٹ چکی تھی۔ ابیہان نے لب بھینچے اور واش روم کی جانب بڑھا۔ جیسے ہی ماہیر کو یقین ہوا۔ وہ روم میں نہیں۔ جھٹ سے اٹھی اور دراز کے اوپر سے ابیہان کا موبائل اٹھایا۔ اور مڑ کر دیکھا کہ ابیہان نہ آجائے۔ اور نمبر ڈائیل کرنے لگی۔ بار بار نمبر ڈائیل کرنے کے باوجود کال نہیں اٹھائی جا رہی تھی۔ ماہیر پریشان ہو گئی تھی۔ کسے فون کر رہی ہو؟ کرخت اور ٹھنڈے ٹھار لہجے میں پوچھتا وہ ماہیر کو سن کر گیا۔ ماہیر اپنی جگہ سے ہل نہ سکی۔ ابیہان نے جھٹکے سے اسے اپنی طرف موڑا تو وہ توازن نہ برقرار رکھ سکی اور کٹی پتنگ کی طرح ابیہان کے سینے سے جا لگی۔ اس کی آنکھوں میں غصہ ، نفرت ، حقارت کیا کچھ نہ تھا۔ پل بھر کے لیے ماہیر کا زہن ماوءف ہو گیا۔ ماہیر ابھی بھی ابیہان کی سخت گرمت میں تھی۔ کسے فون کر رہی تھی ماہیر علی شاہ ولد آفتاب علی شاہ۔۔۔! ایک ایک لفظ پر زور دیتا وہ ماہیر کو حیرت کی تھاہ گہرائیوں میں لے گیا۔۔۔۔۔! آپ۔۔۔۔آپ۔۔۔۔!! ماہیر سے کچھ بولا نہ گیا۔ دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ جی۔۔۔۔مس بہروپیا۔۔۔۔۔!! اب اپنے اصلی روپ میں واپس آجاؤ۔۔۔۔۔!! ابیہان نے ہر لفظ چباچبا کر غصہ ضبط کرتے بازو پہ گرفت سخت کرتے کہا میرا۔۔۔۔میرا ہاتھ۔۔۔چھو۔۔۔ڑیں۔۔۔! ماہیر کو درد کا احساس جاگا۔ اور بازو چھڑانے کی نا کام کوشش کی۔ مجھے۔۔۔ سب سچ بتاؤ۔۔! ورنہ۔۔۔ بہت برا پیش آؤں گا۔ ابیہان نے غرا کر اسے مزید قابو کیا۔ اور اسکے دونوں ہاتھوں کو کمر پر لگا دیے۔ اب وہ مزاحمت کرنے کی پوزیشن میں بھی نہ رہی تھی۔ ابیہان کی ہیزل آنکھیں اسکی نیلی کانچ سی آنکھوں میں پیوست تھیں۔ ابیہان کے پرفیوم کی خوشبو ماہیر کے ہر سو پھیلی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ کون۔۔۔۔ سا۔۔۔۔سچ۔۔۔؟؟ بمشکل خود پے قابو رکھے وہ دھیرے سے بولی۔ ہمہم۔۔۔۔! کون۔۔۔۔سا سچ۔۔۔۔؟؟ ابیہان نے مزاق اڑانے والے انداز میں اسکے الفاظ دہرائے۔ میرے سامنے ڈرامے کرنے کی قطعی ضرورت نہیں۔۔۔۔! تمہاری اس معصومیت کے جال میں ۔۔۔۔تم بابا کو پھسا سکتی ہو۔ لیکن ابیہان پرویز خان کو نہیں۔۔۔!! ہر لفظ پر زور دیتا۔ وہ ماہیر کی سانسوں کو بھی محسوس کر رہا تھا۔ اتنے قریب وہ پہلی بار کسی لڑکی کے ہوا تھا۔ وہ بھی نفرت میں۔۔۔! لیکن اس لڑکی کا ہر نقش ابیہان کو اپنی طرف کھینچتا سا محسوس ہوا۔ اس کے چہرے کے ہر نقش پر وہ نظریں جمائے ہوئے تھے۔ آنکھیں اسکی نیلی جھیل جیسی تھیں۔ جن میں خوف و حراس ان کو مزید دلکش بنا رہی تھیں۔ اور بہت قریب اور غور سے دیکھنے پر دائیں آنکھ کے اندر ایک کالا تل تھا۔ جیسے نیلی جھیل میں کوئی ملاح کشتی لے کر سیر کو نکلا ہو۔ سرخ و سفید گال جو اس وقت کچھ زیادہ ہی سرخ ہو رہے تھے۔ اور تیکھی ناک بھی ان کا خوب ساتھ دے رہی تھی۔ نظریں بھٹکتی اسکے گلابی ہونٹوں پر جا ٹھہریں۔ جو الگ ہی کہانی سنا رہے تھے۔ اور کپکپائے جا رہے تھے۔ ماہیر اس کی قربت میں گھبرانے لگی۔ پسینہ اس کے ماتھے پر چمکنے لگا۔ جو اس کی گھبراہٹ کا پتہ دے رہا تھا۔ میں۔۔۔۔کوئی۔۔۔ ڈرامہ۔۔۔۔ نہیں۔۔۔ ۔کر رہی۔۔! آپ ۔۔۔۔کو ۔۔۔غلط۔۔۔فہمی۔۔ہوئی ہے۔۔۔! ماہیر اسکی آنکھوں میں بنا دیکھے بے ربط جملے بولنے لگی۔ وہی ایک لمحہ ابیہان بہک گیا۔ اور اس کے ہونٹوں پر جھکا۔ یہ سب اتنی تیزی میں ہوا۔ کہ ماہیر کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ شدت جذب سے وہ آنکھیں بند کیے۔ اپنا جزبہ لٹا رہا تھا۔ ماہیر تو ہونق بنی کوئی مزاحمت بھی نہ کر سکی۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ کہ ابیہان ایسا کچھ کرے گا۔ وہ تو اس کے سخت لہجے کو ہی دیکھتی آئی تھی۔ یوں وہ اسے بے بس کر دے گا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ ہوش میں واپس آتے ہی ماہیر نے اسے خود سے دور کرنا چاہا۔ لیکن وہ اور شدت سے اسکی سانسیں روکنے کے در پے تھا۔ اور تبھی اچانک وہ پیچھے ہٹا۔ شاید اسے ماہیر پر ترس آ گیا۔ ماہیر نے اپنی نا ہموار ہوتی سانسیں درست کیں اور غصے اور نفرت سے ابیہان کی جانب دیکھا اور ہونٹوں کو ہتھیلی کی بیک سے چھپا لیا۔ چہرے پر خفگی نمایاں تھی۔ بہت۔۔ ۔۔بہت۔ ۔۔ہی بے شرم ہیں آپ۔۔۔! بات نہ بن پائی تو یہی بول دیا۔ ہاں۔۔۔۔ بے شرم ہوں۔۔۔۔۔! لیکن تم سے کم۔۔۔! میرے ہی گھر میں میرے روم میں کھڑے ہو کر تم۔۔۔۔ ۔مجھ سے ایسے بات نہیں کر سکتی۔ ابیہان پھر سے آگے بڑھا۔ اسکے لہجے اور انداز میں زرا بھی شرمندگی کا عنصر نہ تھا۔ جو ابھی کچھ دیر پہلے اس نے کیا۔ پیچھیں ہٹیں۔۔۔! آ گے مت آ ئیں۔۔۔۔! ماہیر گھبرائے ہوئے پیچھے ہوتے گئی۔ تم۔۔۔۔۔اس بھول میں مت رہنا۔۔۔کہ۔۔۔مجھ سے بچ جاؤ گی۔۔۔۔۔! جب تک تم اپنی ساری سچائیں بتا نہیں دیتی۔۔ بچنا۔۔۔۔نا ممکن ہے۔ ابیہان نے ایک آئی برو اٹھاتے دھمکی دینے والے انداز میں کہا۔ ماہیر کی ریڑھ کی ہڈی میں سنساہٹ محسوس ہوئی۔ ۔وہ ۔۔۔کیا کرنے والا تھا۔ ماہیر نے یہ سوچنا بھی نہیں چاہ رہی تھی۔ بہت بری پھسی تھی۔ ایکدم نظر سامنے وال گلاس کی طرف پول سائیڈ پر جا ٹھہری۔ اس سے پہلے کہ ابیہان اسکی طرف پیش قدمی کرتا موبائل پر بیل بجی۔ ایک لمحے کے لیے ابیہان کا دھیان بٹا۔ اور ماہیر بھاگ کر پول سائیڈ کا ڈور کھول کے وہاں چلی گئی۔ اور دروازہ لاک کر دیا۔ ابیہان بھی پیچھے لپکا۔ لیکن دروازہ بند ہو گیا تھا۔ وال ڈور پر زور سے مکا مارا۔ پیچھے ہٹا بہتر ہو گا۔ دروازہ کھول دو۔ ورنہ اتنا برا پیش آؤں گا۔ کہ تم سوچ بھی نہیں سکتی۔ ابیہان نے غصے سےwindowسے ماہیر کو دھمکایا۔ اس سے زیادہ اور کیا برا پیش آئیں گے۔۔۔؟ چھی۔۔۔۔گندی حرکتیں کرتے۔۔۔ ۔۔شرم نہیں آ تی آ پکو۔۔۔۔۔؟ ماہیر بھی اب پورے کانفیڈنس سے بولی۔ کیونکہ اپنا بچاؤ وہ کر چکی تھی۔ ,,You are my wife,,اور میں جو چاہوں تمہارے ساتھ کر سکتا ہوں۔ کسی بھول میں مت رہنا۔ ابیہان نے اسے مزید ڈرایا۔ میں۔۔۔ ۔میں انکل سے آپ کی شکایت کر دوں گی۔ ۔۔! ماہیر کو اس کے ارادوں سے ڈر لگنے لگا۔ شوق سے۔۔۔۔! لیکن ایک بات یاد رکھنا۔ اگر ۔۔۔مجھ سے بچنا چاہتی ہو تو۔۔۔۔سب کچھ سچ سچ بتانا ہو گا۔۔۔۔۔! ابیہان آمنے سامنے ہوا۔ سچ۔۔۔سچ۔۔۔! کیسا سچ۔۔؟ جب میرے بابا سائیں کا نام پتہ کروا سکتے ہیں۔ تو باقی کرے سچ کا بھی خود پتا کروالیں۔ اور میری جان چھوڑیں۔ ماہیر نے چڑتے وہیں سے ہاتھ جوڑے ابیہان نے سینے پر ہاتھ باندھے اسے وال گلاس کے پار دیکھا۔ ایک معنی خیز مسکراہٹ اسکے لبوں کو چھو گئی۔ ماہیر اس کی بڑی پراسرار مسکراہٹ سے یکدم خوف کھا گئی۔ اگر تم نے میرے تین گننے تک ڈور اوپن نہ کیا۔ تو اندر سے میں ڈور لاک کر دوں گا۔ اور تمہیں ساری رات وہیں باہر گزارنی پڑے گی۔ سوچ لو۔۔۔ چیلجنگ انداز تھا۔ ہاتھ پینٹ کی پاکٹ میں ڈالے مطمئین انداز میں ماہیر کو ایک بار پھر سن کر گیا۔ آپ۔۔۔ ۔ایسا۔۔۔۔ نہیں کریں گے۔۔۔۔! ماہیر کو اپنی آواز کھانی سے آتی محسوس ہوئی۔ ایک۔۔۔۔! دو۔۔۔۔! بڑے مطمئن انداز میں بولتا وہ مسکراہٹ ضبط کرتے لاک پر ہاتھ رکھ چکا تھا۔ تین۔۔۔۔۔! کہتے ہی ابیہان نے لاک لگا دیا۔ ماہیر ڈور کے قریب آئی۔ ابیہان کے چہرے پر فاتحانہ چمک تھی۔ وہ واپس مڑا۔ پلیز۔۔۔! دروازہ کھولیں۔۔۔! ماہیر تڑپ کر بولی۔ ابیہان ایک زہریلی مسکراہٹ ماہیر پر اچھال کر بیڈ پر جا کے لیٹ گیا۔ اب رہو باہر صبح تک۔۔۔۔! کھلی فضا میں سر کے پیچھے ہاتھ رکھے وہ خیالوں میں ماہیر سے مخاطب تھا۔ موبائل Use کرنے لگا۔ نمبر چیک کیا۔ جو ماہیر نے ڈائیل کیا تھا۔ کن اکھیوں سے ایک نظر باہر پول کے پاس کھڑی (منہ کے ٹیڑے میڑے زاویے بناتی) ماہیر پر پڑی۔ ابیہان کو وہ آسمان سے اتری کوئی پری محسوس ہوئی۔ موبائل سائیڈ پر رکھ کر ماہیر کی طرف کروٹ لیے وہ نیند کی وادیوں میں کھونے لگا۔ عجیب جلاد قسم کا انسان تھا۔ خود مزے سے بیڈ پر سو رہا ہے اور مجھے یہاں۔۔۔۔ باہر۔۔۔رات گزارنے پر مجبور کر دیا۔۔۔! اللہ جی! میں کیا کروں۔۔۔۔؟ کہاں جاؤں؟ اللہ تو ہی میری مدد فرما۔۔! بے اختیار اوپر کالے آسمان کی جانب دیکھا۔ ایک آنسو اپنی بے بسی پے بہہ نکلا۔ رات کے 2 بجے ابیہان کی آنکھ کھلی ۔ کروٹ لی۔ تو دماغ میں رات والا منظر گھوم گیا۔ پلٹ کر گلاس وال کی طرف دیکھا۔ ماہیر نظر نہ آئی۔ جھٹ سے اٹھ کر گلاس وال کی طرف گیا۔ وہیں پول کے قریب بیٹھی سر گھٹنوں میں دئیے۔۔۔ شاید سو رہی تھی۔ باسونے کی کوشش کر رہی تھی۔ ابیہان نے دروازے کا لاک کھولا۔ اور ماہیر کے پاس پہنچا۔ شاید وہ سوئی ہوئی تھی۔ ابیہان کو حیرت ہوئی۔ بھلا ایسے کون سو سکتا ہے۔ عجیب لڑکی ہے یہ۔۔۔! ماہیر۔۔۔۔! ماہیر۔۔۔۔! اٹھو۔۔۔! ابیہان نے دھیرے سے پکارا۔ لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔ ماہیر۔۔۔! اٹھو یہاں سے۔۔۔! اب کی زرا اونچی آواز میں کہا۔ پر اسکے کان پے تو جوں تک نہ رینگی۔ ابیہان نے اسے جھنجھوڑا۔ اور جھٹکے سے اٹھایا تو وہ ہڑ بڑا کر اٹھی۔ لیکن ساتھ ہی توازن کھو بیٹھی۔ اور پول میں گرنے لگی۔ کہ ابیہان نے اسے بانہوں میں تھام لیا۔ اب اگر ابیہان اسے چھوڑتا۔ تو وہ سیدھی پول میں گرتی۔ چھوڑیں مجھے۔۔۔! ماہیر کسماسائی۔ سوچ لو۔۔۔۔ ۔۔ چھوڑ دیا۔ تو۔۔۔کیا ہو گا تمہارے ساتھ۔۔۔!! ابیہان نے معنی خیزی سے کہا۔ تو ماہیر نے کن اکھیوں سے گردن موڑ کے پیچھے دیکھا۔ تو اپنے پیچھے پول کاپانیدیکھ جھرجھری لیتی جھٹ سے ابیہان کی شرٹ مضبوطی سے تھام لی۔ دونوں ایک بار پھر سے ایک دوسرے کے قریب ہو گئے۔ ابیہان نے جھٹکے سے اسے سیدھا کھڑا کیا۔ اور اس سے دور ہوا۔ وہ ان لمحوں میں قید نہیں ہونا چاہتا تھا۔ خود پر اس لڑکی کو حاوی نہیں کر سکتا تھا۔ کیونکہ بہت جلد وہ اس لڑکی کو اس گھر سے نکالنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ لیکن۔۔۔دل میں بنتے اس کے لیے نرم گوشے سے انجان تھا۔ وہ جو محبت کی پہلی بارش میں نا چاہتے ہوئے بھی بھیگنے لگا تھا۔ چلو۔۔! اندر۔۔۔! پھر سے اپنے خول میں بند ہوتا۔۔ ابیہان سپاٹ لہجے میں کہتا اندر کی جانب قدم بڑھا دیے۔ تو ماہیر میرے میرے قدموں سے ابیہان کے پیچھے چل دی۔
کمرے میں آتےہیوہ صوفے کی جانب بڑھی۔ ابیہن نے اسسکی آنکھوں میں نیند کی سرخی دیکھی۔
تمہارے بابا کسی سے زبردستی تمہاری شادی کروا رہے تھے۔۔؟؟ اچانک ابیہان کے سوال پے وہ چونکی۔
ہاں۔۔۔! سرسری سا منہ بگاڑ کے جواب دیا۔
اور تم بھاگ نکلی۔۔؟؟ اتنا آسا کیسے ہوا یہ سب۔۔؟مم مطلب۔۔؟؟ تمہارے بابا۔۔ فتاب علی شاہ۔۔ بہت پہنچی ہوٸ ہستی ہیں۔۔ جکیسے نکل آٸ وہاں سے۔۔؟؟ ابیہان کو ابھی بھی حیرانی ہو رہی تھی۔
میری بے بے نے ساتھ دیا۔۔ میری دادی جان۔۔۔! انہوں نے کہا۔۔ ماہیر بھاگ جا۔۔ پھر ماہیر ٹھہری دوڑ کی چیمپیٸن۔۔ تو۔۔ ایسے بھاگی۔۔ کہ پیچھے مڑ کے نہ دیکھا۔ وہ مزے سے نیند کی وادیوں میں کھوتے ہوۓ اپنا کارنامہ سنا رہی تھی۔
تمہیں ڈر نیں لگا۔۔؟؟ ابیہان اس سے امپیرس ہوا تھا۔۔ یا۔۔ کچھ اور تھا۔۔؟؟ اس کی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گٸ تھیں۔
لگا تھا۔۔۔ لیکن۔۔ اتنا بھی نہیں۔ ابھی بھی سرسر اندز تھا۔ اور اگر کوٸ غط ہاتھ میں لگ جاتی تو۔۔؟ اس کی آنکھوں میں جھانکاجو اب اسکی جانب کروٹ لیے لیٹی تھی۔ آپ جانتے ہیں اللہ اپنے لوگوں کے ساتھ کبھی کچھ برا نہیں کرتے۔۔ اور نہ ہی انکی سکت سے زیادہ ان پے بوجھ لادتے ہیں۔۔ اور مجھےاپنے اللہ پے یقین تھا۔ اور ہے۔۔ ہمیشہ رہے گا۔۔ وہمیری حفاظت کرے گا۔ ایک یقین سےبکہتے اس نے آنکھیں موند لیں۔ ابیہان ن گہرا سانس خارج کیا۔ اگر ۔۔ نکاح ہی کرنا تھا۔۔ تو وہیں کر لیتی۔۔ یہاں بی تو تمہیں کرنا پڑا۔۔۔ ! ابیہان نے نفی میں سر ہلاتے تکیہ پے ٹیک لگاٸ۔ اپنے نصیبوں سے نہیں نہ بھاگ سکی۔ قسمت میں۔۔ وہ درندے نہیں تھے۔۔ آپ جلاد تھے۔۔ تو ۔۔ جلاد ہی سے نکاح کر لیا۔۔ اس نے آنکھیں موندےہی ابیہان کو ایسا کرار جواب دیا۔ کہ ابیہان کا دماغ سخت گھوما۔ غصہ سے اٹھ کے بیٹھا۔ لیکن وہ سو چکی تھی۔ صبح کرتا ہوں تمہارا بندوبست۔۔ اور بتاتا ہوں۔۔ جلاد کیا ہوتا ہے۔۔؟؟ ابیہان نے مٹھیاں بھینچیں۔ جب کہ وہ نیند کی وادیوں میں کھو گٸ تھی۔






اوفو۔۔۔۔۔ کدھر رہ گئی تھی۔؟ کب سے تمہارا ویٹ کر رہی ہوں۔ اتنا لیٹ کیوں آتی ہو۔۔۔۔؟ مریم نے ندا کو آتے دیکھ غصے سے کہا۔ اوہ۔۔۔۔ ہار۔۔۔۔۔! بس آج لیٹ ہو گئی۔ چلو کلاس میں چلتے ہیں۔ آگے دیر ہو گئی۔۔۔۔! ندا نے Wrist Watchپر نظر ڈالتے کہا۔ پروفیسر ذوالفقار نہیں آئے آج۔۔۔! پہلی کلاس نہیں ہو گی۔ مجھے تو۔۔۔۔بہت بھوک لگی۔۔۔۔! آج Break fastبھی نہیں کیا۔ چلو کینٹین چلتے ہیں۔۔ مریم نے اسے جھٹ سے پلان بنایا۔ چلو پھر۔۔۔۔! چلتے ہوئے مریم کی ٹکر بہت سخت ہوئی۔ سر چکرا گیا۔ ہاتھ میں پکڑی دونوں بکس زمین بوس ہوئیں۔ آف میرے اللہ۔۔۔۔! اندھے ہو کیا۔۔۔؟ دیکھ کے نہیں چل سکتے۔ آنکھیں کسی کو Donateکر آئے ہو۔ غصے سے ماتھے پر ہاتھ رکھے بنا سامنے والے کو دیکھے وہ روکے بغیر بولے گی۔ ،،Same to you,,سپاٹ لہجے میں کہتا وہ آگے بڑھا۔ ،،How dare you Idiot,,مریم پلٹی۔ پر وہ یہ جا وہ جا چھوڑ نامریم۔۔۔! کینٹین چلتے ہیں بھوک لگی ہے۔ ندا نے مریم کی گری ہوئی بکس اٹھائیں۔ اور کینٹین کی جانب قدم بڑھائے۔ کیا ہوا۔۔۔۔رضا۔۔۔؟ رابطہ کیوں کٹا؟ کینٹین رضا جو Bluetoothسے میجر سکندر سے محو گفتگو تھا۔ اچانک لڑکی کے ٹکرانے سے کال کٹ گئی۔ لیکن وہاں سے ہٹتے ہی دوبارہ کال ملائی۔ کچھ نہیں سر۔۔۔! بس وہ۔۔۔۔ کسی لڑکی سے ٹکراؤ ہو گیا تھا۔ سنبھل کے بچے۔۔۔۔! وہاں کسی پر بھروسہ نہ کرنا۔۔۔۔۔۔! اور نہ ہی آنکھیں اور کان بند رکھنا۔۔۔۔! دشمنوں کا گینگ بہت بڑا ہے۔ اس لیے ہر لمحے چوکنا رہو۔ میجر سکندر نے سمجھایا۔ جی سر۔۔۔! بلکل ۔۔۔! رضا بہت سنجیدہ ہوا۔ اور تھوڑی دیر بعد فون بند کر دیا۔ اب اس کا رخ کینٹین کی طرف تھا۔







گھر میں غیر معمولی خاموشی تھی۔ سبھی اپنے اپنے کاموں میں بزی تھے۔ ابیہان اور شاہ ویز صاحب آفس جا چکے تھے۔ جبکہ پرویز صاحب آج بھی طبعیت خراب کی وجہ سے نہ جا سکے۔ اسٹڈی روم میں وہ گود میں کتاب رکھے مسلسل سوچوں میں گم تھے۔ دروازے پر دستک ہوئی۔ تو وہ۔ چونکے۔ ماہیر ان کے پاس آئی۔ انکل۔۔۔۔! مجھے۔۔۔کچھ۔۔۔بات کرنی تھی آپ سے۔۔۔۔! جھجھکتے ہوئے کہا۔ جی بیٹا۔۔۔۔! کہیں ۔۔۔! گلاسسز اتار کے انہوں نے گود میں رکھے۔ انکل۔۔۔۔!مجھے۔۔۔نہیں پتہ۔۔۔آپ نے۔۔۔یہ اتنا بڑا فیصلہ۔۔۔۔اتنے اچانک کیوں لے لیا۔۔۔جبکہ ۔۔۔آپ۔۔۔۔۔نہ کچھ میرے بارے میں جانتے ہیں۔ نہ ۔۔۔۔میرے ۔۔گھر والوں کے بارے میں۔۔۔۔۔!! اور اب۔۔۔۔آپ۔۔۔یہ Receptionکرنا چاہ رہے ہیں۔۔۔اور شاہ۔۔۔ویز انکل اور آپ کے بیچ۔۔۔میری وجہ سے اتنی بخث ہو گئی۔۔۔۔مجھے بلکل اچھا نہیں۔۔۔۔لگا۔۔۔! پلیز۔۔۔۔آپ۔۔۔۔میری وجہ سے ان سے۔۔۔۔کچھ نہ کہیں۔۔!! لہجہ نم ہو گیا۔ ماہیر پرویز صاحب کے آگے گھٹنوں کے بل بیٹھ چکی تھی۔ بیٹا۔۔۔! آپ خود کو کیوں Blameکر رہی ہیں۔؟ یہ سب آپ کی وجہ سے نہیں ہو رہا۔ خود کو الزام نہ دیں۔ ۔! اور ۔۔۔۔رہی بات۔۔۔کہ آپ کے بارے میں جانتا نہیں آ پکی۔۔۔۔فیملی کو نہیں جانتا۔۔۔۔! تو ایسا کچھ نہیں۔۔۔۔!! جتنا میں جانتا ہوں آپ کے اور آپکی فیملی کے بارے میں۔۔۔! شاید۔۔! اتنا آپ بھی نہیں جانتیں۔۔۔۔! آپکو۔۔۔۔ابیہان کی زندگی میں لانے کے فیصلے پر نہ ہی کل کوئی پچھتاوا تھا اور نہ ہی کبھی ہو گا۔ پرویز صاحب کی باتوں نے ماہیر کو ایک بار پھر سے چپ لگا دی تھی۔ وہی چپ جو نکاح کے وقت لگی تھی۔ نظریں ایک بار پھر سے جھکیں۔ بیٹا۔۔۔۔آج نہیں تو کچھ دن بعد ہی سہی۔۔۔۔Receptionتو ہو گا۔۔۔! اور۔۔۔ میں اپنے فیصلے میں ردوبدل کا قائل نہیں۔۔۔! بہت سیدھے سادے لفظوں میں وہ اپنی اہمیت واضح کر چکے تھے۔ ماہیر مزید کچھ نہ بول سکی۔ اور اپنے کمرے میں آگٸ۔ اس کی وجہسے دو بھاٸ آپس میں دورہو رہے تھے۔۔۔ اسے اس بات کا شدید کلک تھا۔ لیکن وہ بےبس تھی۔ نہ اپنوں سے رابطہ کر پا رہی تھی۔ نہ یہاں سے جا پا رہی تھی۔ عجیب کشممکش میں تھی۔









کیا کر رہی ہو اتنی دیر سے موبائل پر۔۔۔۔چھوڑ بھی دو۔۔۔! ابھی آف ٹائم ہو جائے گا۔۔۔۔! ندا نے مریم کو ٹوکا۔۔۔۔جو موبائیل پر ناول پڑھ رہی تھی۔ یار۔۔۔۔! بہت انٹرسٹنگ ناول ہے۔ جنت کے پتے۔۔۔! سسپنس ہے۔۔۔۔! اب راز کھلنے والا ہے۔ جہاں سکندر کا۔۔۔! وہ سیکریٹ ایجنٹ ہے۔۔۔۔! اب سب ہے بم دھماکا ہو گا۔ ۔۔! بلیز پڑھنے دو۔ خدارا۔۔۔! بس کر دو۔۔۔یار۔۔۔ سیکریٹ ایجنٹ بھی کیا بہت بڑی توپ چیز ہوتی ہے۔ جو سب پہ بم پھوٹے گا۔ ندا نے جھنجھلاتے ہوئے مزاق اڑایا۔ لو۔۔۔! تمہیں نہیں پتہ۔۔۔! سیکریٹ ایجنٹ کا۔۔۔۔! یہ واقعی بہت بڑی توپ چیز ہوتے ہیں۔ یہ اپنے ملک کی حفاظت کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ یہ ہمارے ارد گرد بھی ہو سکتے ہیں۔ کسی بھی روپ میں۔۔۔۔! کبھی بھکاری کے روپ میں۔۔۔۔خواجہ سرا کے روپ میں۔۔۔۔! سبزی فروش ۔۔۔۔۔ یا معزور۔۔۔۔۔!! کسی بھی روپ میں۔۔! لیکن ۔۔۔۔ہم انہیں پہچان نہیں سکتے۔۔۔۔! دونوں چلتی چلتی باتیں کرتی جا رہی تھیں۔ اب وہ دیکھو دور وہ سامنے۔۔۔۔! مریم نے ندا کو اشارے سے سامنے دیکھنے کو کہا۔ وہ یونیورسٹی گیٹ کے باہر کھڑی تھیں۔ چھٹی کا ٹائم تھا۔ ندا نے سامنے دیکھا۔ تو ایک بہت ہی ضعیف ،،بوڑھا،، لاچار،،معزور بندہ فٹ پاتھ میں بیٹھا تھا۔ پھٹے پرانے کپڑوں میں۔ آگے چندے کے لیے کٹورا رکھا ہوا تھا۔ مریم کی آنکھوں میں ایک چمک تھی۔ اب تمہیں کیا لگتا ہے؟ وہ کون ہے؟ آئی برو چڑھا کر پوچھا۔ بھکاری اور کون ہے؟ ندا نے جھٹ سے اس کی عقل پے ماتم کرتے کہا۔ جی نہیں۔۔۔! وہ بھکاری کے روپ میں مخبر ہے۔ خفیہ ایجنٹس کا مریم نے اسکے کان میں سرگوشی کی۔ندا نے آنکھیں پھاڑ پہلے اس بھکاری کو دیکھا۔ پھر مریم کو۔اسکی آنکھوں میں بے یقینی تھی۔ ایویں۔۔۔۔۔! کچھ بھی۔۔۔! وہ بھکاری ہے مریم! That’s itنہ مانو۔۔۔! میری گاڑی آ گئی۔ میں چلی,,See you tomorrow,, مریم ہاتھ جھاڑتی اپنی گاڑی میں بیٹھ کر جا چکی تھی۔ ندا وہیں کھڑی اپنی گاڑی کا ویٹ کر رہی تھی۔ مشال اپنی دوست کے ساتھ ضروری نوٹس کے لیے اسکے گھر جا چکی تھی۔ اس لیے آج واپسی ہےوہ اکیلی تھی۔ کافی دیر ہو گئی انتظار کرتے۔ لیکن گاڑی نہ آ رہی تھی۔ یونہی ندا کے دماغ میں شرارت آ گئی۔ دھیرے دھیرے چلتی اس بھکاری کے پاس گئی۔ اور اسے اپنی نظروں سے جانچا۔ اور پھر موبائل کان سے لگائے ڈرامہ کرنے لگی۔ جبکہ دھیان بھکاری پر تھا۔ ہاں۔۔۔! کام ہو گیا ناں۔۔۔۔۔؟؟ بم لگا دئیے ناں سب جگہ۔۔۔۔! ٹھیک ہے۔۔۔جب میری کال آئے تو یہی بلاسٹ کرنا۔۔۔۔۔! میری اگلی کال کا ویٹ کرو۔ بڑی رازداری سے ندا نے فون پر کہا۔ پھر کچھ دیر وہیں کھڑی بھکاری کی حرکات و سکنات کا جائزہ لیتی رہی۔ لیکن کچھ بھی اخذ نہ کر پائی۔ تبھی ندا کی گاڑی آ گئی۔ اور وہ سر جھٹک کر گاڑی میں بیٹھ گئی۔ مڑ کے ایک نظر بھکاری پر ڈالی ۔ نفی میں گردن ہلائی۔ گاڑی اپنی منزل کی جانب گامزن ہو گئی۔ جبکہ ندا کو یہ نہیں پتہ تھا۔ کہ وہ کتنی مصیبت مول لے چکی ہے۔ اور اب آگے اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔۔۔۔ایسے بھی ۔۔۔مریم کچھ بھی بولتی ہے۔کوئی بھکاری ایجنٹس نہیں ہوتے۔ ابھی وہ موبائل نکال ہینڈ فری کان میں لگا رہی تھی۔ کہ گاڑی جھٹکے سے رکی۔ کیا ہوا انکل۔۔۔؟ گاڑی کیوں روکی؟ ماتھے پر بل آ ئے۔ ڈرائیور کوئی جواب دیتا۔ کہ اتنے میں دو نقاب پوش آگے بڑھے۔ ڈرائیور کے سر پر مارا وہ وہیں بے ہوش ہو گیا۔ ندا حراساں سی یہ کاروائی دیکھ رہی تھی۔ ان میں سے ایک نقاب پوش ندا کی جانب بڑھا۔ ندا نے بے خیالی میں جھٹ سے پیچھے ہوئی۔ لیکن ایک نقاب پوش ندا کو کلوروفارم سنگھا چکا تھا۔ اور ندا کی آنکھیں بند ہوتیں چلی گئیں۔ وہ نقاب پوش ندا کو اپنی گاڑی میں لے گئے۔ موبائل ندا کے ہاتھ سے گاڑی میں ہی چھوٹ چکا تھا۔ سڑک ویران تھی۔ اور اس ساری کاروائی میں صرف دو سے پانچ منٹ کا ٹائم لگا تھا۔ پھر سے وہی خاموشی کا راج۔۔۔۔۔۔!
ہاں بولو۔۔۔۔۔! سر کام ہو گیا ہے۔۔۔۔۔! Bluetoothڈیوائز سے آواز کانوں میں پڑی۔ گڈ جاب۔۔۔۔! میجر سکندر کی آنکھوں میں ایک واضح چمک تھی۔ منزل اب دور نہیں۔۔۔! رات کو وہ یونیورسٹی کی بلڈنگ کا گھیراؤ کرنے والے تھے۔ لیکن اس سے پہلے یہ بم دھماکے کی نیوز میجر سکندر کو منزل کے اور قریب لے گئی۔ یہی سوچتے وہ اپنی گاڑی کی جانب بڑھا۔۔









لیکن کیا واقعی بم۔بلاسٹ ہونے والا ہے۔۔؟؟ یا ۔۔ میجر سکندر ملےگا۔۔ ایک ایسی لڑکی سے۔۔ جو اس کے دل کو اپنا بنا لے گی۔۔
