Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Takmeel e ishq by (Episode 18,19)

Takmeel e ishq by Muntaha Chohan

روم میں اینٹر ہوتے نوفل کی نظر صوفے پر بیٹھی مشال پےبجا ٹھہریة۔ ہاتھوں کی انگلیوں کو مروڑتی ، چہرے پر ہوائیاں اڑی ہوئیں وہ سخت مضطرب نظر آئی۔ نوفل کے چہرے پر دھیمی سی مسکراہٹ در آئی۔ لیکن اگلے پل ہی وہ سنجیدہ سا مشال کے پاس آیا ۔ تو وہ چونکی۔ اور یکدم اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ کیا ہوا؟ پریشان کیوں ہو؟ نوفل نے دھیرے لہجے سے پوچھا ۔ نہیں ! وہ یہ سب یوں اچانک ؟؟ کچھ سمجھ نہیں آ رہا !! پتہ نہیں ۔ اچانک بابا نے اتنا بڑا فیصلہ یوں اچانک کیوں لے لیا ؟ خود کو کمپوز کرتے وہ نظریں اٹھائی جھکاتی نوفل کے دل میں اترتی جا رہی تھی۔ یہ فیصلہ بڑے بابا کا نہیں۔ میرا تھا۔ گھمبیر لہجے میں کہتا ۔ وہ مشال کو بُری طرح چونکا گیا۔ آپ کا ؟ وہ جو گھڑی اتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھ رہا تھا۔ مشال کے سامنے آنے پر وہ رکا اور اُسے سنجیدگی سے دیکھا۔ کوئی اعتراض ہے ؟ اب کے لہجے میں تھوڑا غصہ بھی تھا۔ ن نہیں۔ ایسی بات نہیں — مشال کا دل – ایک دم سے دھڑکا اور پلکیں جھکیں۔ پھر اتنے سوال جواب کیوں ؟ نوفل کے ماتھے پر بل پڑے

مشال نے حیرت سے نوفل کو دیکھا۔

شاہ ویز – انکل ! وہ بہت خفا ؟؟

آپ کو ان کی فکر نہیں ہونی چاہیئے ۔ وہ میرے بابا ہیں میں ہینڈل کرلوں گا ۔ روکھے لہجے میں کہتا ۔ وہ وارڈ روب کی جانب بڑھا۔ وہ جھنجھلایا ہوا لگ رہا تھا ۔ سب کی فکر ہے ۔ سامنے شوہر کھڑا ہے اسکی اس کے جذبات کی نہ ہی کوئی فکر ہے اور نہ ہی فرق پڑا رہا ہے۔۔ وہ واش روم میں گھس گیا ۔ باہر نکلا۔ تو وہ ابھی بھی وہیں ہی کھڑی تھی ۔ بالوں کو ٹاول سے خشک کرتا ایک اچٹتی نگاہ مشال پر ڈال کر وہ ڈریسنگ ٹیبل کی جانب بڑھا۔ ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ۔ جاٸیں اور آرام سے سو جائیں ۔! مجھے کام ہے کچھ۔۔ ضروری۔۔۔ دیر سے لوٹوں گا ۔ خود پر پرفیوم کا چھڑکاٶ کرتے وہ، مشال کو دیکھے بنا بولے گیا ۔ دیکھ لیتا۔ تو شاید اس کے آنسوؤں سے موم ہو جاتا – ******

اچھا ڈرامہ کر لیتے ہیں آپ ! ابیہان کے روم میں انٹر ہوتے ہی ماہیر نے طنز کا تیر پھینکا۔ پل بھر کو اس کے قدم رکے ۔ وہ جو کف لنکس کھول رہا تھا ایک اچٹتی نگاہ ڈال کر اگنور کرتا Study روم میں جانے لگا۔ ماہیر کو اسکا اگنور کرنا ہی تو جلا گیا۔

میں آپ سے بات کر رہی ہوں ۔ !! تڑخ کر بولتی

وہ ابیہان کے سامنے آگئی۔ ابیہان نے غصہ ضبط کرتے بمشکل خود کو کچھ بھی کہنے سے باز رکھا۔ اور واپس پلٹ کر وارڈ روب سے کپڑے نکال واش روم کی جانب بڑھا کر ایک بار پھر وہ راہ میں حائل ہوگئی ۔ اب آپ کو کیا اونچا سنائی دیتا ہے؟ آپ یوں مجھے اگنور نہیں کر سکتے ! ابھی بھی غصہ ہنوز قائم تھا. کپڑے دور بیڈ پر اچھالتے وہ ماہیر کے دونوں باو جکڑے۔ دیوار کے ساتھ پن کر گیا۔ اور اسکی ہرنی جیسی آنکھوں – میں اپنی ہیزل آنکھیں ٹکائیں۔ کیا چاہتی ہو تم بولو ؟ غصہ سے وہ بولتا ماہیر کی بولتی بند کروایا گیا۔ کچھ پل یو ہنی سرک گئے ۔ کچھ پوچھ رہا ہوں بولو؟ کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ ؟ کیا چاہتی ہو؟ اب کی بار زچ آتے وہ بھڑ کا ۔ آپ کو !! سبز آنکھیں جھلملا گئیں۔ ابیہان نے اسے کمر سے گرفت میں لیتے خود سے قریب کیا ۔ کہ سانسوں کی جل تھل میں ماہیر کا دل۔ 120 کی رفتار سے دھڑکا۔ جھوٹ – ! مجھے چاہتی تو چھوڑ کر بھاگتی ناں۔۔۔ ابیہان زہر میں بھرا تیر پھینکتا اسے کانپنےپے مجبور کر گیا۔ ماہیر کے آنسو بہہ نکلے۔

یوں پل پل پل مارنے سے بہتر ہے۔ ایک ہی بار میں مار ڈالو ۔ دھیرے سے خود سے دور کرتا وہ نم اور ٹوٹے لہجے میں بولتا رخ موڑ گیا ماہیر نے آگے بڑھ کر اس کے گرد بازو حاٸل کیئے۔

ابیہان نے آنکھیں میچیں۔ ۔ آپ کو چھوڑ کر کبھی نہیں جاؤں گی …!! ابیہان نے روتی ماہیر کے بازو ہٹانے چاہیے تو وہ مزید بانہیں سخت کرگئی ۔

کیسے اعتبار کروں ؟ ابیہان نے ٹوٹے لہجے میں کہا۔ میں ڈر گئی تھی ۔۔۔ بابا سائیں نے میری وجہ سے ندا کو اگر اُسے کچھ ہو جاتا تو ؟ میں خود کو کبھی معاف نہ کر پاتی۔ مزید وہ کچھ نہ کریں۔ اس لیے میں۔ اس لیے خود کو پلیٹ میں سجا کر پیش کرنے جا رہی تھی ۔۔۔ پلٹ کر اس کے بازو خود سے ہٹائے ۔ اور دُکھی اور غصے بھرے لہجے سے پوچھا۔ ماہیر کی آنکھیں جھک گئیں کیا جواب دیتی۔ ہاتھ ابھی بھی ابیہاں

کے ہاتھ میں تھے ۔ ابیہاں اس کے قریب ہوا۔ تمہیں مجھ پر بھروسہ نہیں تھا۔ اس لیئے تم نے یہ قدم اٹھایا۔ : نہیں ! ایسا نہیں ! ماہیر نے روتے ہوئے نفی میں سر ہلایا۔ بھروسہ ہوتا تو مجھ سے کہتی ! میں ابیہان پرویز خان ہوں۔ میرے ہوتے کوئی میری فیملی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا۔ تکلیف دینا تو بہت دور کی بات ہے ٹھوس لہجے میں ۔ کہتا وہ ماہیر کو بہت کچھ باور کروا گیا۔ معاف کر دیں ! مشکل روندھے لہجے میں کہا۔ معاف تو کر دوں ۔۔۔ اعتبار کیسے کروں ؟ اب کی دُکھ سے پوچھا ۔ ماہیر کی نظریں جھک گئیں ۔ اس سوال کا جواب نہ تھا اس۔ کے پاس آنسو ٹپ ٹپ گالوں پر بہنے لگے ابیہان نے آگے بڑھ کر اسکے گالوں سے آنسوٶں کو اپنے لبوں سے آنسو چنا۔ ماہیر کی دھڑکن پل بھر میں دھڑکنا بھولی ۔ اور ماہیر کی آنکھوں کو چوما تو وہ اندر تک لرز گئی کہاں۔ پھر تو وہ ابھی ڈانٹ رہا تھا ۔ غصہ تھا ۔ ناراض ہو رہا تھا ۔ اور کہاں اب ؟؟ دل میں بدلتے محبت کے رنگ ۔ ماہی ! مجھ سے کبھی کچھ نہ چھپانا کبھی بھی۔۔۔ وہ گھمبیر لہجے میں کہتا آنکھیں موندے ماہیر کے ماتھے کے ساتھ ماتھا ٹکائے اسے محسوس کر رہا تھا۔ ماہیر نے سکون کا سانس خارج کیا کہ Finaly وہ مان گیا۔ ناراضگی ختم کردی ۔ ماہیر نے آگے بڑھ کر ابیہان کے سینے میں منہ چھپایا۔ اور اسکی کمر کے گرد بازو حائل کیئے ۔ وہ بھی تو دیوانی تھی اسکی – کہاں رہ سکتی تھی۔

اپنے قلب عشق کے بنا ء *******

رضا کیا رپورٹ ہے ؟ نوفل کے پوچھنے پر ^اس نے اُسے ساری . بات بتا دی ۔ اسی اثناء میں سکندر بھی اپنی پوری تیاری کے ساتھ وہاں پہنچا۔ اب وہ کافی حد تک سنبھل چکا تھا۔ تم پر گولی ملک دلیر کے بندوں نے چلائی۔ نوفل سکندرکے پاس آیا۔ اپنی لوڈڈ گن کو دوبارہ چیک کرتے وہ بس ایک نظر نوفل پر ڈالی ۔ہممم۔۔ اس نے گولی تو چلالی ۔ لیکن اب ۔ میری گولی سے نہیں بچ پائے گا ۔ لہجہ سیاٹ اور ارادہ مضبوط چٹانوں سا تھا۔ سر!ملک دلیر ہی وہ بندہ ہے ۔ جو ڈرگ مافیا اور اسمگلنگ میں ملوث ہے۔ لڑکیوں کی خرید و فروخت بھی کرتا ہے۔ کرنل باجوہ بھی اس کے قبضے میں تھے۔ انھیں وہاں قید کیا گیا۔ یونیورسٹی میں جہاں سے وہ ہمیں ملے مریم ان کی بیٹی وہ بلیک میل ہوتی رہی ان کے ہاتھوں ۔ اپنے والد کی وجہ سے .. !! جبکہ وہ ہمارے پاس ہیں یہ وہ نہیں۔ جانتی۔۔۔ تھی۔ صرف باکو بچانے کی وجہس ے وہ اس ساش کا شکار ہوٸ۔ اور یہی وجہ تھی۔ کہ وہ بھابھی کو وہاں لے گئی۔۔۔ بولتے بولتے رضا نے زبان دانتوں کے نیچے رکھ لی . اور بریک لگایا۔ سکندر کی تیز نظروں سے فورا وہ رُخ پلٹا۔۔۔ نوفل کے رضا کے بھابھی کہنے پر کان کھڑے ہوئے۔ لیکن اس وقت وہ حملے کی تیاری میں تھے۔ انہوں نے ملک دلیر بیگ کو اپنی کسٹڈی میں لینا تھا۔ کیونکہ وہ خود ایک مہرہ تھا ماسٹر مائنڈ تک پہنچنا ہی ان کا مقصد تھا۔ اپنی ٹیم کے ہمراہ وہ فوجی رات کے اندھیرے میں چھلاوے بنے ملک دلیر کے گھر چھپ کے اٹیک کر چکے تھے۔ وہ دیر نہیں کرنا چاہتے تھے ۔ پولیس کو بھی ان کے خلاف کافی ثبوت مل چکے تھے۔ اور وہ بھی کبھی بھی ملک دلیر کو اریسٹ کر سکتے تھے۔ اس لیے ان سے پہلے انہوں نے ملک دلیر کو اپنی کسٹڈی میں لینے کا فل پلان بنایا۔ اور اس پر عمل درآمد بھی کر دیا۔ سخت سیکیورٹی میں بھی وہ ٹیم ورک کے ساتھ خاموشی۔ سے ملک دلیر کو سوتے میں نیند کا انجکشن دے کر اُٹھا لائے تھے۔ بلیک روم میں اسے قید کر دیا گیا ۔ اس کے ہوش میں آنے تک انھیں wait کرنا تھا۔ اپنی پہلی کامیابی پر وہ سارے خوش تھے ضیا! یہ اس وقت — تم نے ۔ بھابھی کس کے لیے بولا.. نوفل جو رضا کو جانے کے لیے دیکھ رہا تھا۔ جھٹ سے پوچھ لیا۔ بھابھی ؟ کون بھابھی ؟ کیسی بھابھی کہاں کی بھابھی؟ رضا سرے سے ہی مکر گیا۔ نوفل نے اُسے ایک سخت گھوری سے نوازا۔ رضا ! تم جاؤ ! سکندر نے رضا کو چلتا کیا ۔ تو اُس نے شکر کا سانس لیا ۔ اور فوراً رفو چکر ہوا ۔ سکندر نے ایک فائل نوفل کی جانب بڑھائی ۔ نوفل نے سوالیہ نظروں سے سکندر کو دیکھا اور فائل کھولی۔ جیسے جیسے وہ پڑھتا گیا۔ اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی –

صبح کے چار بج رہے تھے فون پر میل سے ابیہان کی آنکھ کھلی – – بیل بج رہی تھی۔ آنکھیں ملتے کال رسیو کی سر جی جاگ جائیں – مشن ہو بین کمپلیٹڈ ! انسپکٹر شیر دل کی کھنکتی آواز کانوں سے ٹکرائی۔ ابیہان دھیرے سے مسکرایا۔ شیر دل جو جہلم میں موجود تھا۔ حقیقت میں وہ ابیہان کا قریبی دوست تھا۔ اور اس پر جان نچھاور کرتا تھا۔ ابییہان نے سارے کام شیر دل کے ذریعے ہی کروائے۔ اور اب بھی ایک مشن دیا تھا۔ ماہیر کی بی جی کو بازیاب کرانا جسے آفتاب علی شاہ نے قید میں رکھا تھا۔ گڈ – : بی جان ٹھیک ہیں ناں ؟ لہجے میں فکر مندی تھی ۔ ؟ بالکل ! یہ بھی کوئی کہنے کی بات ہے جناب۔ ؟؟ آپ مجھے یہ بتائیں آفتاب علی شاہ اور فرمان علی شاہ کے خلاف اریسٹ وارنٹ جاری ہو چکا تھا۔ انہوں نے جو اپنی بیوی سکینہ شاہ پر ظلم کئے۔ اس کے ثبوت بھی مل چکے ہیں۔ اور قاتل بھی وہی ہیں۔ اب آپ بتائیں ؟ آپ کے سسرال والوں .

کو لے جاؤں ۔ ان کے سسرال ؟ تفصیل دیتے شیر دل پر جوش ہوا ۔ ابیہان نے لمبی سانس خارج کی ۔ ٹھیک ہے ؟؟ اور ابرار شاہ ؟ اس کا پتہ چلا ؟؟ ایک نظر ساتھ سوئی ماہیر پر ڈالی ۔ دل کو سکون سا محسوس ہوا ۔

اسکی بھی لوکیشن کا پتہ چل جائے گا ۔ جب دونوں بھائیوں کو گرفتار کریں گے ۔ تو فرقان علی شاہ سے نکلوا لیں گے انسپکٹر شیر دل نے مزید بتایا۔

ٹھیک ہے۔ آج۔ ویسے بھی ولیمہ ہے تو ان کا جیل جانا ہی زیادہ بہتر ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ وہ یہاں آکر کوئی ہنگامہ کریں۔ اور میری بیوی کو ڈسٹرب کریں۔ ماہیر کے قریب ہو کر اسکے چہرے سے بالوں کو پیچھے کرتے وہ دیوانہ وار اُسے دیکھے گیا۔ اور ایک جذب کے عالم سے کہا جو حکم جناب ! ولیمے کی بہت بہت مبارک ہو۔ شیر دل نے خوشی سے چہکتے کہا۔ تو ابیہان نے مسکراتے ہوئے کال بند کی اور موبائیل سائیڈ پر رکھتے۔ وہ سوئی ہوئی طاہیر کے گالوں کو چھوا ۔ صاف شفاف چہرہ ، معصومیت لیے وہ سیدھا ابیہاں کے دل میں اتری جا رہی تھی ۔ قریب ہو کے اسکی آنکھوں پر لب رکھے ۔ تو وہ تھوڑا سا کسمسائی – ابیہان مسکرایا۔ اور ماہیر کے بالوں میں منہ دیا۔ تو وہ بڑ بڑا کے اُٹھ گئی۔ ابیہان کو قریب پایا ۔ تو دل پھر زور زور سے دھڑکنے لگا۔

جان – – : دھیرے سے وہ منمنائی – جی جان کی جانی۔۔۔ ابیہان نے اسکے ناک کے ساتھ ناک رب کی۔

******

تمام باتیں سنتا نوفل پریشان ہوا تھا۔ سکندر نے اُسے نکاح نامہ دکھایا تھا۔ قبیلے میں وہ جیسے پھنسے اور وہاں جو کچھ ہوا۔ اس دوران ان کا نکاح ہوا۔ اور وہ کیسے وہاں سے نکلے سکندر نے نوفل کو سب بتا دیا۔ وہ اپنے دوست سے زیادہ دیر کچھ نہیں چھپا سکتا تھا۔ نوفل سے سب کہہ کہ ا نے لکا بوجھ ہلکا کیا تھا۔

& ********

آپ تنگ نہ نہ کریں! بچوں کی طرح پلکیں جھکائے بولی. میری جان – ! نماز کا وقت ہو گیا ہے۔ اس سے پہلے کے….؟مم ن – نہیں نہیں میں جارہی ہوں ۔ پلک جھپکتے ہی وہ اٹھی۔ اور سیدھا واش روم میں گھسی تھی۔ اور ابیہان دل سے مسکرایا تھا۔

&&&*****

گاڑی کو یونہی بلا مقصد سڑکوں پر دوڑاتے اس کے دماغ میں جھکڑ چل رہے تھے۔ جو سکندر نے اُسے بتایا۔ اس کے بعد سے وہ بہت ریشان وہ چکا تھا۔ نوفل یہ نکاح صرف کاغذی فارمیٹلی ہے۔ تم چاہو تو — Divorce کے پیپرز بنوالینا میں سائن کر دوں گا ۔ دل پر پتھر رکھ کر کس طرح یہ سکندر نے کہا۔ یہ صرف وہی جانتا تھا یا اس کا خدا۔ لیکن وہ اپنی خاطر کسی معصوم کی جان کو خطرے میں – نہیں ڈال سکتا تھا۔ قدم قدم پر اسکی جان کو خطرہ تھا ۔ وہ اس فیلڈ میں کشتیاں جلا کر شامل ہوا تھا کہ کبھی کسی بھی موقع پر شہادت کے عہدے پر فائز ہونے پر کوئی اس کے پیچھے رونے والا نہ ہو۔ اور ندا کو وہ اپنے ساتھ جوڑ کر یہ تکلیف نہیں دے سکتا تھا۔ اور یہ ساری بات اس نے نوفل کے گوش گزار دی تھی وہ فیصلہ لے چکا تھا۔ لیکن نوفل کوئی بھی اس بارے میں عمل کرنے سے پہلے وہ بڑے بابا سے بھی بات کرنا چاہتا۔ تھا۔ اور ندا سے بھی۔ صبح کے 5 بجے کے قریب وہ گھر میں داخل ہوا۔ اور سیدھا اپنے روم میں داخل ہوا۔ اور ایک لمحے کے لئے ٹھٹھکا سامنے ہی بیڈ پر وہ پورے استحقاق سے قبضہ جمائے گہری نیند میں سورہی تھی۔ قریب جاکر دیکھا۔ تو دیکھتا رہ گیا نماز کی صورت میں دوپٹہ ابھی بھی لپٹا ہوا تھا۔ آنکھوں کے پپوٹے سوجھے لگ رہے تھے ۔ جسے روتے روتے سوئی نوفل کو خود پر غصہ آیا ۔ کہ بہت ہی روڈلی رات کو وہ بات کر گیا ۔ خیر آج منا لے گا ۔ یہی سو چتے مسکراتے وارڈ روب سے۔

کپڑے نکالے اور باتھ روم میں گھس گیا ****

مسٹر آفتاب علی شاہ اور فرقان علی شاہ — یو آر انڈر اریسٹ! وہ جو پولیس چھاپے کی خبر سنتے انڈر گراؤنڈ ہونے والے تھے۔ اچانک پولیس حملے نے انھیں سنبھلنے نہ دیا۔ اور انھیں گرفتار کر لیا ۔۔ چھوڑو ہمیں کس جرم میں گرفتار کر رہے ہو؟ آفتاب علی۔ شاہ غصے سے خود کو چھڑاتے ہوئے غرایا۔ مسٹر پاشا! بہت سارے گناہ آپ کے سر ہیں۔ اور سب سے بڑا جرم۔۔ اپنی بیوی کے قتل کا ہے۔۔۔ سارے ثبوت مل گۓ ہیں۔ اور جو بھانجھے ابرار شاہ کو چھپا کے رکھا ہے ناں۔۔ اُسے بھی گرفتار کرکے جیل نہ بھجوایا ۔ تو میرا نام بھی شیر دل نہیں ۔ انسپکٹر شیر دل نے آفتاب علی شاہ کو اسی کے لہجے میں غراتے ہوئے کہا ۔ بہت پچھتاؤ گے تم – ! اس دغا بازی پر آفتاب علی شاہ نے دانت پیسے. دیکھا جائے گا ۔ ! پہلے خود کو بچاؤ ۔۔۔ ! پھر مجھے دھمکیاں۔ دینا ۔۔۔ لے چلو۔ ان کو آفتاب علی شاہ کو کہتے ساتھ ہی وہ پولیس کانسٹیل سےبولا تھا۔ جنہوں نے ان دونوں بھائیوں کو ہتھکڑیاں پہنائیں ۔ اور پولیس جیپ میں لے گئے ۔

*****

اپر کلاس ائیریا میں رہتے تھے۔۔ وہاں موجود بہت سارے معزز لوگوں نے ان کو دیکھا۔ ساری عزت خاک میں مل گئی

# #

انٹری سے لے کر گھر کے اندرونی و بیرونی تمام حصوں کو بجلی کے قمقوں سے روشن کیا گیا تھا۔ پھولوں کی سجاوٹ سیٹنگ Arrangement سے لے کر الغرض پورا خان ولاء دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔ اور رات کے اندھیرے میں چمک رہا تھا

دونوں نے Same کلرز پہنے تھے ماہیر اور ابیہان نے گرے کلر جبکہ نوفل اور اور مشال نے رائل بلیو کلر کی میچنگ کی تھی.

یہ عشق نہیں آساں اک آگ کا دریا ہے تجھے مل کے ہی جاناں ہے جینے کا تو ذریعہ ہے۔

دونوں کپلیز کی چھب ہی نرالی تھی۔ ابیہان تو نظروں۔ ہی نظروں میں ماہیر کی نظر اتار رہا تھا ۔ ۔ نظر تھی کہ ہٹ ہی نہیں رہی تھی ۔ چہرے پر پیاری مسکان سجائے وہ ابیہان کے جذبوں کو جگا رہی تھی۔ اور دور ہی کہیں خود انہیں ایک ساتھ خوش دیکھ کر اندر ہی اندر تلملا رہی تھی ۔ جبکہ شاہ ویز صاحب بیٹی کو افسردہ دیکھ دُکھی ہو رہے تھے لیکن وہ بے بس تھے ۔ بیٹی کی خوشیاں خرید سکتے تو ایک لمحے کی دیر کئے۔ بغیر خرید لیتے ۔ بظاہر سب کے ساتھ خوش وہ دل سے اپنی۔ بیٹی کا درد محسوس کر رہے تھے۔ ہو جاؤ خوش جتنا ہونا ہے۔ تم –! تمہاری زندگی کی یہ آخری خوشی ہے ماہیر ! دل ہی دل میں وہ ماہیر سے مخاطب ہوئی۔ وہ ٹوٹ چکی تھی۔ اور اب سامنے والے کو توڑنا چاہتی تھی۔ بہت ہینڈ سم لگ رہے ہیں ۔ میرے دونوں بھائی ماشاء الله ندا دونوں کے بیچ میں کھڑی سیلفی لے رہی تھی تھی۔

سامنے سے انٹر ہوتے سکندر پر نظریں جاٹہریں ۔ یکدم ہاتھ لرز گئے ۔ دل 120 کی رفتار سے دھڑکنے لگا۔ نظریں تھیں ۔ کہ ہٹنے کو تیار نہ تھیں۔ بنا کسی کی پرواہ کیئے وہ پلک جھکے بنا سکندر کو نہارے جارہی تھی ۔ بہنا۔ ۔مانا کہ ہینڈ سم لگ رہا ہے۔ لیکن تھوڑا سا لحاظ کریں۔ ہم بھی یہیں ہیں سارے ۔۔۔ نوفل نے ندا کو چھیڑا ۔ ہلکی سرگوشی میں ۔ تو وہ سٹپٹا گئی۔ اور خور ہی نظریں جھکا لیں۔ چہرے پر ایک دھیمی مسکراہٹ اور گھبراہٹ عیاں ہوئی آج ہی تو نوفل نے ندا سے ساری بات کی تھی۔ اور اس رشتے کے حوالے سے رائے لی تھی۔ یہ بتائے بغیر کہ سکندر نے کیا فیصلہ کیا۔ ندا کے چہرے کے رنگ نوفل سے چھپے نہ رہ سکے۔ اس لیے اس نے خود فیصلہ کیا ۔ کہ وہ ندا اور سکندر کو کبھی الگ نہیں ہونے دے گا۔ اور آج تو خود اس کا

ولیمہ تھا ۔ تو سکندر کا آنا لازمی ہی تھا سکندر اور نوفل ایک دوسرے کے بغل گیر ہوئے۔ ندا پاس اسٹیج پر ہی کھڑی اپنے دل کے قریب شخص کو پلٹ کر دیکھا۔ ایک لمحے کو دونوں کی نظریں ملیں۔ ایک کی نظر میں شرم و حیا جبکہ دوسرے کی نظر یں سپاٹ تھیں۔ ندا مسکراہٹ لیئے ۔ فراک سنبھالے اسٹیج سے نیچے اتر گئی ۔ سکندر کی نظروں نے دور تک اس کا پیچھا کیا تھا۔ جب کوئی خاص نظروں میں سما جائے تو پھر کہاں کچھ اور جچتا ہے ۔ بھلے آج اس نے نوفل اس رشتے کو ختم کرنے کی بات کی تھی ۔ لیکن کس دل سے اس نے یہ سب کہا۔ یہ صرف وہی جانتا تھا۔ گھونٹ گھونٹ سافٹ ڈرنک پیتی حور کی نظر یں مسلسل ماہیر ور ابیہان پر تھیں۔ وہ جو ایک دوسرے میں مگن تھے ۔ اب دونوں کیلز نے مل کر کیک Cermoney کی تھی۔ اور کیمرے کی فلیش نے ایک دلکش منظر پیش کیا تھا ۔ سبھی کے چہرے خوشی سے جگمگا اٹھے۔ مشہور بزنس ٹائیکون ابیہان پرویز خان کی ولیمہ کی Party ہو۔ اور کوئی میڈیا شامل نہ ہو ؟؟ ایسا تو ممکن ہی نہ تھا۔ ایک مخصوص حلقہ احباب شامل تھا۔ اور میڈیا الگ ۔ سب کو جہاں ابیہان اپنی Wife کی حیثیت سے Introduce کرواتا تو اس کے دل۔ میں ابیہان کے لیے پیار مزید بڑھتا جاتا ایک خوبصورت اور شرمیلی مسکان سج جاتی۔ ابیہان نے ماہیر کو بازووں کے حلقے میں لیے میڈیا کے سوالوں کا جواب دینے لگا۔ جبکہ نظر یں بھٹک بھٹک کر اپنی قلب عشق” پر جا ٹھہرتیں ۔ اور میڈیا کے سوالوں کے جواب کے آخر میں۔۔ کسی کی آوز ابھری ۔۔ پلیز سر۔۔! ایک تصویر ” فوٹو گرافر نے ان کی تصویر لی۔ اور اب وہ نوفل اورمشال کی طرف آتے نوفل سے بھی تصویر کی اجازت چاہی۔ نوفل نے گردن اثبات میں ہلائی ۔ اور مشال کی طرف بڑھا۔ مشال کا دل یکدم دھڑکا۔ بھلے جتنی بھی ناراضگی ہی لیکن یہ شخص مشال کی دھڑکنوں میں رہتا تھا ۔ پلکیں اٹھ کر

جھکیں ۔ جو سیدھا نوفل کے دل پر وار کر گئیں ۔

سر ! تھوڑا – کلوز ! تصویر بناتے فوٹو گرافر بولا- نوفل نے مشال کے قریب ہوتے اسے بازوؤں کے حلقے میں لیا اور سامنے کیمرے کی طرف دیکھا۔ جبکہ مشال اس کے ہاتھوں کے لمس پر ہی لرزنے والی حالت میں آگئی تھی۔

نظریں اٹھائیں رخ موڑ کے اسے دیکھا۔ اور فوٹو گرافر نے وہ لمحہ تصویر میں قید کیا ..

مسز۔۔ سامنے دیکھیں ۔۔ ! سنجیدہ لہجہ لیکن آنکھوں میں شرارت تھی۔ مشال نے گھبرا کر سامنے دیکھا۔ اور فوٹو گرافر نے بہت مہارت سے ہر لمحہ تصویر میں قید کیا ۔

ایکسکیوزمی — ندا نے جو آگے بڑھ رہی تھی کسی کی پکار –

پر مڑیی تھی ماتھے پر تیوری چڑھی ! جی – ؟؟ روکھا لہجہ ۔۔۔ یہ آپکی بازو کو کیا ہوا ؟ اس شخص نے پریشانی سے ندا سے پوچھا۔ جیسے سب کچھ جان لینا چاہتا ہو

ایکسکیوز می ! آپ سے مطلب ؟ وہی روکھا لہجہ –

ریلییکس یار۔۔۔ آپ کےباو پے یہ زخم ہیں۔۔؟؟ ہیں ناں ؟ مجھے آپ کو اسطرح دیکھ دُکھ ہوا ہے۔

اوہ پہیلو — ؟؟ تھوڑا آرام سے !! اور دور رہو

مجھ سے ! ندا نے غراتے ہوئے اس ہینڈ سم کو سُنا دی – اور آگے کی طرف بڑھ گئی ۔ وہ لڑکا اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ جبکہ دو زیرک نظروں نے یہ منظر بہت ضبط سے ملاحظہ کیا تھا ۔ آیا بڑا دکھ ہوا ہے۔ ندا نے غصہ ضبط کرتے اس کی نقل اتاری۔ لیکن یکدم کسی کا ہاتھ کھینچنے سے وہ کئی۔ پیننگ کی طرح سامنے والے کے سینے سے جالگی۔ جو دیوار کی اوٹ میں لیئے قہر بھری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا کیا کہہ رہا تھا وہ ؟ سانسوں کو سانسوں میں اٹکائے وہ ندا پر اپنا سحر طاری کر چکا تھا۔ اور وہ بے خود ہوئٸ۔ آنکھیں موندے ۔ اس شخص کو محسوس کر رہی تھی۔ ندا ! میں تم سے پوچھ رہا ہوں !! اب کی بار غصہ پوچھا۔ وہ جو آنکھیں موندے ان لمحوں قید ہوئی تھی۔ سامنے والے کے سوال سر پر آنکھیں کھولے حیرت سے دیکھا۔

آپ غصہ ہو رہے ہیں مجھ پر ؟ وہی مصومیت! یہ میرے سوال کا جواب نہیں ۔ ! سکندر نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر خود کے قریب کیا۔ اور وہ تو لرز ہی گئی آپ مجھے – ڈرا رہے ہیں !! اب کے پھر زچ کیا تم ایسے نہیں ۔ بتاؤ گی – ! ٹھیک ہے۔ اسی سے پوچھ کر آتا ہوں ۔ ایک جھٹکے سے ندا کو چھوڑتے وہ مڑا ۔ ن۔۔۔نہیں ۔ رکیں !! ندا نے سکندر کا ہاتھ تھاما سکندر رکا ۔ اس کے نرم و نازک ہاتھوں کے لمس نے اس مضبوط اعصاب کے مالک کو بھی موم کر دیا ۔ دھیرے سے پلٹا ۔ اور اسی ایک لمحے میں اس کا دل اس کے دماغ پر حاوی آگیا ۔ بس یہ جو بازو پے پٹی بندھی ہے اسی کا پوچھا ۔ ! اور کچھ نہیں ! ۔ جھٹ سے جواب دیتے اس نے سکندر کا ہاتھ چھوڑا . اگلے ہی پل سکندر نے اُسے گلے سے لگایا ۔ اور خود میں سمو لیا ندا سانس روک گئی ۔ سکندر نے آنکھیں موندے اسے بہت زور سے خود سے لگایا ۔ کہ ندا کا حقیقتا سانس رک گیا ۔ اور سٹپٹائی – میرے علاوہ کسی اور کے بارے میں کبھی سوچنا بھی مت ! جان لے لوں گا تمہاری ناک کے ساتھ ناک جوڑے وہ جنون سے کہتا ندا کو ساکت کر گیا۔ آپ تو یہ رشتہ !! ندا نے ہمت کر کے پوچھا.

. ہمارا رشتہ میری آخری سانس تک قائم رہے گا ۔ یاد رکھنا۔ بازوؤں پر گرفت سخت ہوئی ۔ تو ندائی سکی نکلی۔ You are hurting me دھیمے لہجے میں بولی ۔ اتنی سی شدت سے ہی گھبرا گئی ؟؟ ابھی تو منہ زور جذباتوں کو بھی سہنا ہے۔ معنی خیزی سے کہتا وہ ندا کو سمٹنے پر مجبور کر گیا ۔ تو ندا نے وہاں سے نکلنے میں ہی عافیت جانی ۔ آگے بڑھی کہ سکندر نے کھینچ کر پھر سے قریب کیا ۔ منہ پر آئیں بالوں کی لٹوں کو ہا تھوں سے کانوں کے پیچھے کرتے وہ ندا کے چہرے پر محبت کے بکھرے رنگ دیکھ رہا تھا۔ بھلے وہ عمر میں تقریباً 8 سال چھوٹی تھی۔ سکندر سے لیکن محبتیں ، عمروں کا فرق کیا سمجھتی ہیں ؟؟ دونوں کے دل ایک تال پر دھڑک رہے تھے۔ چاہنا اور چاہے جانا ! دونوں کو اس احساس نے بری طرح جھکا جگڑا ہوا تھا بہت جلد – – : آؤں گا لینے .. ! Be Ready mrs… ماتھے پر محبت کی پہلی مہر ثبت کرتے۔ وہ ندا کے چہرے پر حیا کے رنگ بکھرے دیکھتا وہاں سے نکل گیا جبکہ ندا ان فسوں خیز لمحوں میں قید ہو کر رہ گئی تھی **

فنکشن بہت اچھے سے اپنے اختتام کو پہنچ چکا تھا۔

سب مہمان جا چکے تھے۔ گھر کے سبھی افراد ہال روم میں اکھٹے آج کے فنکشن کے متعلق ہی بات کر رہے تھے ۔ کہ اتنے میں ایک شخص گیٹ کے پاس ہی تھا۔ وہ شخص دندناتا ہوا اندر داخل ہوا۔ سب گیٹ کی طرف دیکھنے لگے۔ جبکہ وہ۔۔ چلا ہا تھا۔ ماہی ؟ ماہی۔۔کہاں ہو تم؟ وہ چلا رہا تھا ۔ دیوانوں کی طرح سبھی حیران نظروں سے اسے دیکھنے لگے ماہیر کا دل کسی انہونی کے ڈر سے بہت سخت دھڑ کا۔ کہاں کہاں نہیں ڈھونڈنا تمہیں ۔ !! وہ شخص ماہیر کو دیکھ کر بے چینی سے اس کی طرف بڑھا سبھی حیران نظروں سے یہ تماشا دیکھ رہے تھے۔ جبکہ ابیہان غصہ ضبط کر رہا تھا ۔ کیا ؟ کیا ۔ ؟ کہہ رہے ہو ؟ کون ہو تم؟ سب کی طرف پتھرائی نظروں سے دیکھا۔۔۔ میں نہیں جانتی یہ کون ہے؟ ہیر! کیا کہہ رہی ہو ؟؟ ایسا مت کرو۔ اتنی بڑی سزا بھول گئی ہو؟ وہ شخص آنکھوں میں آنسو لے آیا تھا ۔ مت کرو ایسا۔ بہت پیار کرتے ہیں ناں ہم ایک دوسرے سے !! بکواس بند کرو اپنی ! اور نکلو یہاں سے ! ابیہان نے اس شخص کو گریبان سے پکڑ کر پیچھے دھکیلا۔ وہ گرتے گرتے بچا۔ ماہیر چیٸر کا سہارا لے کے کھڑی تھی !

! میری بات سنیں ۔ ایک بار … ! پلیز۔۔ وہ مجھ سے بہت ناراض ہے ۔ اس لیے وہ ایسا کر رہی ہے۔ لیکن آپ خدا کے لیئے ۔۔ سمجھیں! میں بہت مشکل سے یہاں پہنچا ہوں۔ اب مجھ سے میری محبت مت چھینیں اس شخص نے ہاتھ جوڑے اور رونے لگا ۔ کرب سے !! کیا فضول بولے جا رہے ہو ؟ جانتے بھی ہو جس کے بارے میں بکواس کر رہے ہو۔۔ وہ اس خاندان کی بہو ہے۔ پرویزخان غصے سے اونچی آواز میں بولے وہ شخص سکتے میں آگیا۔ بے یقینی سے ماہیر کو دیکھا جس کی خود کی آنکھیں۔ بھی نم تھیں۔ اس کا دل بار بار اسے یہی کہہ رہا تھا ۔ کچھ غلط۔ ہونے والا ہے۔ ایسا کیسے کر سکتی ہو ہیر تم – ؟؟ تم تو میرے لیے گھر سے بھاگی تھی : ! مانا کہ میں ۔ میں وہاں وقت پر نہیں پہنچ پایا .. ! میرا ایکسیڈینٹ ہو گیا تھا ۔ (آنسو پونچھے ) کتنے دن بے یارو مدد گار ہاسپیٹل میں پڑا رہا ۔ لیکن ٹھیک ہوتے ہی تمہیں تلاشا کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا تمہیں – پھر تم مجھے اس شخص کے ساتھ گاڑی میں نظر آئی. ابییان کی جانب اشارہ کیا ، سب دم سادھے سنے جا رہے تھے۔ کسی میں کچھ کہنے کی ہمت نہ رہی تھی۔

دیکھ لیا بھائی صاحب !! آپ تو بڑا کہتے تھے کہ دوست کی بیٹی ہے شجرہ نصب بھی بہت اونچا ہے۔ بھاگی ہوئی لڑکی کو آپ بہو بنا لائے واہ – !! شاہ ویز صاحب کو آج ہی تو موقع ملا حساب پورے کرنے کا ۔ نہیں ۔ یہ جھوٹ ہے۔۔۔ ! ماہیر کا لہجہ لڑکھڑایا۔ -اچھا — : تو کیا تم گھر سے نہیں بھاگی ؟ بولو ؟؟ شاہ ویز صاحب نے حقارت سے ماہیر سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا ۔ ہیر شاہ ویز صاحب کو چھوڑ ابیہان کی طرف بڑھی ۔ حان ! یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے۔ میں اسے نہیں جانتی ! روتے ہوئے ابیہان کا ہاتھ پکڑے وہ بہت مان سے کہے جا رہی تھی۔ بس کر دو ماہی۔۔۔ میں تمہیں ایسے روتے بلکتے نہیں دیکھ سکتا ۔ مانا کہ تم سے بے پناہ محبت کی ہے میں نے ا لیکن تمہیں – رسوا نہیں کر سکتا۔ وہ شخص کرب سے آنسو پونچھتے بولا بکواس بند کرو اپنی ! جھوٹ مت بولو رسوا کرنے کے بعد یہ ڈرامہ کر رہے ہو .. !! جبکہ میں تمہیں جانتی تک نہیں ابیہان کی طرف سے رُخ موڑ وہ اس شخص سے نفرت سے مخاطب ہوئی ۔ ماہی! میں نہیں جانتا تھا کہ تم اتنی جلدی اپنی محبت بھول جاٶ گی ! ورنہ میں یہاں کبھی نہ آتا۔ ! وہ شخص سپاٹ لہجے میں کہتا ۔ سب کو ٹھٹھکنے پر مجبور کر گیا۔ میں چلا جاتا ہوں۔ یہاں سے… پیچھے کی طرف قدم لیئے ) او کبھی پلٹ کر یہ دیوانہ واپس نہ آئے گا ۔ کرب سے کہتا وہ سب کو سچا لگا ۔

رکو! دروازے کی طرف قدم بڑھتے روکے ابیہاں کے پکارنے پر وہ رکا اور مسکایا اور پلٹا۔ ابیہان نے ماہیر کا ہاتھ تھام کر اسے سامنے کیا اور جھٹکے سے چھوڑا اور دروازہ کی طرف اشارہ کیا ۔ اسے بھی جاتے ہوئے لے کر جاؤ۔ سخت غصے کے عالم میں کہتے وہ وہاں موجود سب کو حیران کر گیا۔ ابیہان ! یہ کیا ؟؟ پرویز صاحب آگے بڑھے. پلیز – بابا ! کوئی بیچ میں نہیں بولے گا ! آج کوئی نہیں بولے گا ۔ !! ابیہان نے وہیں روک دیا ۔ دور کھڑی حور کے چہرے پر ایک بھر پور Smile آگئی جیت کی سرشاری چہرے پر عیاں ہونے لگی . ابھی! وہ بیوی ہے تمہاری یار ! نوفل نے قریب آتے پیار اور تحمل سے سمجھایا. یہ ! اسے کہیں میری نہیں! بے وفا ہے یہ !

نظروں سے دور ہو جائے یہ ورنہ – جان لے لوں

گا میں اس کی ! ابیہان کے جارحانہ تیور دیکھ نوفل نے اُسے پکڑ کر روکا۔ سبھی اس صورت حال سے پریشان تھے ۔ ماہیر کے گال پر خاموش آنسو بہے ۔ میں نہیں جاؤں گی یہاں سے یہ میرا گھر ہے !! ٹوٹا پھوٹا احتجاج کیا۔ دل کے ہزاروں ٹکڑے ہوئے۔ ابیہان نے غصہ سے آگے بڑھ کر ماہیر کو باہر کی طرف دھکا دیا وہ لڑکھڑائی ۔ بے یقینی سے ابیہان کو دیکھا اپنی شکل یہاں سے گم کرو۔ ورنہ – گلا گھونٹ کر مار دوں گا ۔! نفرت سے کہتا وہ ماہیر کے پیروں تلے سے زمین نکال گیا۔ روتے ہوئے ماہیر نے نفی میں سر ہلایا ۔ ایک نظر وہاں موجود سب نفوس پر ڈالی ۔ سب کے لب خاموش تھے۔

غم کو ہنسں کے گلے لگا لیتے ۔ درد سہہ کر بھی ہم مسکرا لیتے ۔ دل کی یہ آرزو رہی دل میں ۔ کاش کہ تم وفا نبھا لیتے۔ تم محبت میری آزما لیتے۔ ہر ستم شوق سے ہم اٹھا لیتے۔ دل کی یہ آرزو رہی دل میں کاش کہ تم وفا نبھا لیتے۔

منہ پر ہاتھ رکھے اپنی ہچکیوں کو روکتے وہ بھاگتی ہوئی دہلیز پار کر گئی۔ پرویز صاحب کرسی پر ڈھے سے گئے ۔ جیسے ان کا دل کسی نے مٹھی میں لے لیا ہو۔ سانس اکھڑنے لگا۔ ابیہان سب کو نظر انداز کرتا اپنے روم میں چلا گیا۔ نوقل پرویز صاحب پر نظر پڑتے ان کی طرف لپکا۔ سب کی نظریں ان پر اٹھیں۔ ہم نے ایسی بھی کیا خطا کر دی تم نے تو زندگی سزا کر دی ۔ ابیہان نے روم میں آتے روم بند کیا ۔ اور روم میں موجود تمام چیزوں کو زمین پر پھینکا۔ لیکن درد اور کرب کم نہ ہوا۔ کیوں دیا ہے یہ صلہ وفاؤں کا۔ بے وفائی کی یہ انتہا کر دی۔ زخم سینے پر ہم سجا لیتے۔ دل میں سارے گلے چھپا لیتے۔ دل کی یہ آرزو رہی دل میں۔ کاش کے تم وفا نبھا لیتے۔ ماہیر انجان راستوں پر آنسو بہاتی چلی جارہی تھی ۔ رات کے اس پہر اسکی محبت اسکے عشق نے اسے گھر سے نکال دیا اس پر بھروسہ نہ کیا۔ دل سے نکال دیا !! یہ درد تو جیسے اسکی جان لینے لگا تھا۔ بیچ سڑک پر وہ گھٹنوں پر بیٹھی رو رہی تھی۔ سینے پر ہاتھ مل رہی تھی۔ اسے یقین نہ نہ آرہا تھا۔ آج ایک بار پھر سے وہیں کھڑی تھی ۔ جہاں سے اس نے شروع کیا تھا۔ بس فرق صرف اتنا تھا۔ آج وہ اپنا دل بھی پیچھے کہیں چھوڑا آئی تھی۔ ۔۔۔تم سے جو دور ہو گئے ہیں۔ ہم اتنے مجبور ہو گئے ہم۔ بے بسی بہہ رہی ہے آنکھوں سے۔ زخموں سے چور ہو گئے ہم۔ بوجھ رسوائی کا اٹھا لیتے۔ اشک پلکوں تلے چھپا لیتے۔ دل کی یہ آرزو رہی دل میں ۔ کاش کے تم وفا نبھا لیتے۔۔ روتے روتے سختی سے آنسو پونچھتی وہ دل سے اس درد کو نکال دینا چاہتی تھی۔ اسے لگ رہا تھا ۔ کہ وہ مر جائے گی۔ نہیں سہی جاتی تیری بے وفائی یاروے.

نہیں تیرے سوا نہیں کوئی میرا۔ سن واسطہ تجھے رب را۔ اسی مرجاں گے۔ فیر روئیں ناں. ہو گیا تمہارا سوگ ۔۔ ؟؟ اٹھواب – چلو – ! وہ شخص ماہیر کے سر پر آکر بولا تھا ۔ ماہیر کو تو سو والٹ کا کرنٹ لگا۔ چٹاخ — ! اٹھتے ہی اس شخص کے منہ پر زور کا تھپڑ لگایا وہ حیران نظروں سے اُسے دیکھے گیا۔ اسکی ہمت پر۔ تم ناں !! بہت ذلیل انسان ہو۔ کیوں کیا تم نے یہ سب ؟ ! یہ کیا ملا تمہیں یہ سب کر کے ؟؟ بولو ؟؟ جواب دو ؟؟ ماہیر نے اُس شخص کا گریبان پکڑ کر اُسے جھنجھوڑا۔ پیچھے ہٹو ! اس شخص نے غصے سے اپنا گریبان چھڑایا۔ کسی کی آج تک جرات نہیں ہوئی ۔ راجہ کے گریبان تک پہنچے کی تم نے۔ یہ جرات کی ! وہ شخص غصہ سے ؟ پھنکارا۔ جرات ؟؟ اور جو تم نے بنے بلائے مہمان کی طرح میری ہستی بستی زندگی میں گھس کر تباہ کرنے کی جو جرات کی ہے ۔ اس پے تمہارا کیا حشر کروں میں ؟ ماہیر بھی غصے سے دوبدو ہوئی ۔ ہا ہا ہاہا – ! میرا حشر کرو گی تم ؟ ہاہا ۔ اچھا کرو۔۔۔

!! تمہارے اپنے تھے ناں وہ “” تمہیں جانتے تھے۔ میں کون؟ (اپنی طرف اشارہ کیا لیکن تمہارے بجائے انہوں نے مجھ پر یقین کیا ۔ !! ان کا کیا حشر کرو گی ۔ میری جان ! خباثت سے کہتے وہ ماہیر کے قریب ہوا ۔ بکواس بند کرو۔ اپنی۔ انگلی اٹھائی) تم جیسے دو ٹکے کے سڑک چھاپ ٹھرکیوں کو ماہیر ابیہان خان اپنے پاؤں کی جوتی کی نوک پر رکھتی ہے ۔ ماہیر کہاں ہار ماننے والوں میں سے تھی۔ میرا ٹھرک پن تو تم اب دیکھو ! جب یہاں بیچ چورا ہے پر تمہاری عزت کا جنازہ نکالوں گا۔ غصے سے وہ پھنکارا۔

اس کے لیے : ناں ۔ پہلے تمہیں مجھے پکڑنا ہوگا ۔ ماہیر نے پراسرار انداز میں کہتے دھیرے سے میکسی تھوڑی اوپر کر کے ہیلز اتارے اور چیلنجنگ انداز سے اس شخص کو دیکھا۔ کیا مطلب۔۔؟؟؟ پہلے پکڑ تو لو راجہ ٹھر کی۔۔ ! اعتماد سے کہتی ماہیر نے دوڑ لگائی ۔ میکسی اٹھا کر بھاگنا تھوڑا مشکل تھا لیکن وہ ماہیر تھی۔ بھاگنے میں چمپین –

راجہ حیرانی سے دیکھتا رہ گیا ۔ ہوش آتے ہی وہ بھی پیچھے بھاگا -ماہیر کافی دور نکل آئی۔ یہ سڑک بھی کافی سنسان تھی ۔

ہائے اللہ ۔ کیا ساری زندگی بھاگتے ہی گزر جائے گی ۔ ؟ ابیہاں آپ نے اچھا نہیں کیا ” میں اس کے لیے آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی۔ آنسو پھر سے بہہ نکلے لیکن آپ سے کبھی نفرت بھی نہیں کر پاؤں گی ۔ بے اختیار ہاتھ دل پر

گیا۔ اس دل میں بستے ہیں آپ — ! آنسو پونچھے .کب تک اور کہاں تک بھاگو گی۔۔۔؟ ارے۔۔ رک۔۔ ۔ پیچھے سے آوازیں آئیں ۔ مڑ کر ایک نظر دیکھا۔ اور پھر سے بھاگی ۔ لیکن لڑکھڑا کر

کر گئی۔ ننگے پاؤں تھے ۔ پاس کانچ کی بوتل تھی۔ اسی کا کانچ پاؤں میں چبھا تھا ۔ درد سے تڑپ گئی۔ لیکن ہمت کر کے اُٹھنے کی کوشش کی ۔ پر نا کام ہی ٹھہری ۔ اف – ! بہت بھگایا تم نے ! وہ شخص قریب پہنچ کر لمبے لمبے سائنس لینے لگا۔ پھر دھیرے دھیرے ماہر کی اور بڑھنے لگا۔ خبردار ! جو میرے قریب آنے کی کوشش بھی کی ۔ ماہیر رینگتی ہوئی پیچھے ہوئی ۔ لیکن ہمت نہ ہاری نہ ہی ڈر کو حاوی کیا۔

داد دینی پڑے گی … ! بہت جہاندیدا لڑکی ہے بھی تو — !! وہ گھٹنوں کے بل زمین پر ماہیر کے قریب بیٹھا۔ اور مسکرایا۔ تبھی ماہیر نے پورا زور لگا کر پاس پڑی کانچ کی ٹوٹی بوتل اس شخص کے منہ پر دے ماری ۔ اور اسے دھکا دے کر درد برداشت کرتے بمشکل اُٹھ کر بھاگی ۔ وہ شخص منہ پر ہونے والے وار سے تلملا گیا۔ اسکے منہ پر بہت گہرا ہے کٹ لگا تھا۔ اور خون رسنے لگا تھا اب تو بچ کے دکھا زرا۔۔ !! چھوڑوں گا نہیں تجھے ۔۔ اغصے سے بولتا وہ منہ پر ہاتھ رکھے ماہیر کے پیچھے ہی لپکا۔ ماہیر بمشکل لنگڑا کے تیز تیز چل رہی تھی کہ اس شخص نے پیچھے سے ماہیر کا دوپٹہ کا کھینچا۔ ۔ ماہیر کا دوپٹہ سرکا ۔ اور دوپٹہ کھیچتا ہوا اس کے ہاتھ میں آگیا ۔ اس نے غصے سے وہ دوپٹہ کھینچ لیا۔ ماہیر کے جوڑے کے ساتھ وہ اٹیچ تھا کھینچنے سے ماہیر درد سے بلبلا اٹھی۔ دوپٹہ اس شخص نے ہاتھ میں لپیٹ کر دور اچھالا۔ بنا بنا مڑ کے دیکھے کہ وہ دوپٹہ کہاں گرا۔ دانت پیستا ماہیر کی طرف بڑھا۔ ماہیر کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا۔ لیکن وہ ہمت نہیں ہار سکتی تھی۔ اسے اپنی عزت اپنی جان سے زیادہ پیاری تھی۔ وہ پھنکارتا ہوا ماہیر کی طرف غصہ سے بڑھا ** تھینک گاڈ فائینلی ! آج جان چھٹی حور روم میں آکر بہت سرشاری سے بولی۔ نور اس پر حیرت زدہ ہوئی۔ حور گھر میں اتنی ٹینشن چل رہی ہے ۔ اور تم خوش ہو؟ ہاں اور نہیں تو کیا – ؟ میری پیاری بہن ٹینشن چلی گئی ہے۔ اب سکون ہی سکون ہوگا ۔ آنکھ ونک کرتے کہا۔ حوری اس وقت سب تکلیف میں ہیں — اما ہیر بھابھی کو گھر سے نکال دیا ۔ ابھی بھیا — تکلیف میں ہیں ۔ بڑے بابا کی طبعیت بھی ٹھیک نہیں ۔ اللہ جی۔۔۔!سب اپنے ہمارے تکلیف میں ہیں ۔ ! اپنوں کی تکلیف پر آپ کیسے خوش ہو سکتی ہیں۔

او ہیلو ! جب میں تکلیف میں تھی تب کسی کو نہ خیال آیا بلکہ میرے دُکھ کا ۔۔ میرے درد کا ۔۔ کسی کو کوٸ احساس نہ ہوا۔۔۔ ؟ سب اپنی خوشیوں، اپنی زندگیوں میں مگن تھے ۔ اب جب خود کو تکلیف پہنچی تو احساس جاگا ہے۔ جبکہ حور کی خوشی کا کسی نے کوئی خیال نہ کیا۔ اچھے سے حور اپنے اندر کا غبار نور کے سامنے اتار نے لگی۔ حوری ! یہ تم کیسی باتیں کر رہی ہو ؟ خدا کا واسطہ ہے … ایسی باتیں مت کرو – ! اور چھوڑ دو ابھی بھیا کا پیچھا ۔ ! وہ آپ کا نصیب نہیں – : ” نور نے خور کو بنا لگی لپٹی کے سُنا دیا۔ نور – تم – ناں جاؤ – – یہاں ہے ! تم بھی ناں ۔ انہی کی ہو۔ ! اپنی بہن کی کوئی فکر نہیں۔ حورر کو غصہ آگیا۔ فکر نہ ہوتی تو ۔ سمجھاتی نہ … آپ کی اپنی حرکتوں پر آپ کا ساتھ دیتی۔ آپ ۔ مجھے یہ بتائیں ۔ وہ شخص جو باہر آیا تھا ۔ ! وہ بار بار تمہیں کیوں دیکھ رہا تھا۔ اور تم بھی اسے دیکھ رہی تھی۔۔ جیسے اسے جانتی ہو؟؟ بتاؤ مجھے ؟ نور نے بھی دانت کچکچائے ۔ کیا بکواس کر رہی ہو ؟ ؟ کیا مطلب ہے تمہاری اسی بات کا تم مجھ پر الزام لگارہی ہو ؟؟ لہجہ لڑکھڑا گیا ۔ جو صاف محسوس ہوا۔ اور جسے باہر کھڑے ایہان نے بھی محسوس کیا.

وہ بابا کے روم سے نکل کر اپنے روم میں جا رہا تھا ۔ نور اور خور کی باتوں سے دل ایکدم زوروں سے دھڑکا۔ لڑکھڑاتے قدموں سے روم میں آیا۔ خود کو فور اُسنبھالا۔ فٹ سے دراز میں سے watch نکالی جس میں ماہیر کے گلے میں ڈالے لاکٹ پر لوکیشن سے چپ لگائی تھی۔ اسکی لوکیشن کو اس نے اس واچ کے ساتھ جوڑا ہوا تھا ۔ لاکٹ رات کو ہی ماہیر کو بہت محبت سے پہنایا تھا۔ اس نے ۔ !! اور اسکی حفاظت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس میں چپ لگا دی تھی۔ کیونکہ ابرار شاہ ابھی زندہ تھا۔ اور وہ کچھ بھی کر سکتا تھا لیکن وہ نہیں جانتا تھا۔ اپنے ہاتھوں سے وہ اُسے درد دے گا۔ لوکیشن مسلسل چینج ہو رہی تھی۔

یہ یہ کہاں جا رہی ہے ؟؟ ابیہان کو سمجھ نہ آیا کہیں۔ یہ کسی سے بھاگ – ؟؟ اوه نو — !!

پھر فوراً اپنا مخصوص لباس (بلیک ہڈی ) پہنا ! اپنی ہیوی باٸیک نکالی ! جو اکثر وہ رات کے وقت خفیہ کاموں کے لیے Use کرتا تھا۔ ایک لاسٹ ٹائم لوکیشن چیک کی۔ اور بائیک ہوا سے باتیں کرنے لگی ۔ ***

ابھی ہاتھ بڑھا کر وہ ماہیر کو چھوتا۔ کہ کسی اور کی آہنی اور سخت گرفت اسکی کلائی پر مضبوطی سے جکڑی گئی ۔

ابیہان نے بلیک ہڈی میں اپنا منہ چھپائے ہوئے تھا۔ وہ شخص حیران نظروں سے سامنے کھڑے بلیک ہڈی میں موجود شخص کو دیکھنے لگا۔ جو ہاتھ میں ماہیر کا دوپٹہ لپیٹے ہوۓ تھا۔ ایک جھٹکے سے اس شخص کو دور دھکا دیا۔ ہڈی سر سے ہٹی۔ تو وہ شخص ابیہان کو پہچان گیا۔ اور بری طرح گھبرایا ۔ ابیہان کے سر پر خون سوار تھا۔ اور پھر اس نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ ! مار مار کر اسے ادھ موا کر دیا ۔ خون میں لت پت اس شخص کو وہیں سڑک پر دھکا دیا۔ اور دوبارہ سےاس کی طرف بڑھا۔ خدا خدا کا واسطہ ہے ۔ چھوڑ دو مجھے ۔ منہ سے خون صاف کرتا وہ ہاتھ جوڑتا ابیہان کے سامنے گڑ گڑایا۔ میری بیوی کی طرف غلط نظر ڈالنے والی کی آنکھیں نوچ لوں تم نے تو اپنے ناپاک ہاتھوں سے چھونے کی کوشش کی ۔۔ ! ایک زنخیر : ہاتھ میں لپیٹے ابیہان اس وقت جنونی ہوا تھا میں۔ میں نے نہیں کیا ! وہ مجھے – اس نے کہا کرنے کو ! موت سامنے دیکھتے وہ تڑپ کر فورا بولا ۔ ” اس شخص کی اس بات پر ماہیر جو منہ موڑے کھڑی تھی ۔ درد برداشت کرتے۔ بھلے ابیہان کو دیکھ وہ اندر تک سرشار ہوئی تھی لیکن ابیہان کا رویہ نہیں بھولی تھی ۔ لیکن چونکی ، کس کی بات کر رہے ہو ؟ ماہیر لڑکھڑائی ہوئی آگے بڑھی. ابیہان نے پلٹ کر اُسے دیکھا ۔ جو مسلسل ابیہان کو نظر انداز کیئے ہوئے تھی۔ اور یہ بات ابیہان کو مزید غصہ دلا رہی تھیوہ جو آپ کے گھر میں تھی۔ حور نام تھا ۔ اس گا – اس شخص نے فوراً بتا یا تھا ۔ اس نے یہ سب کرنے کو کہا ۔ بدلے میں پانچ لاکھ دیئے ۔ اور کہا۔ یہ لڑکی ۔ بھی میری۔ ساری بات بنا کر وہ حلق تر کرتا ماہیر اور ابیہان کو سکتے میں ڈال گیا۔ اسی موقعے کا فائدہ اٹھاتے اس نے ماہیر کو قابو میں کیا۔ اور اپنے کپڑوں میں چھپایا چاقو ماہیر کی گردن پر رکھا ۔ ابیہان غصے سے آگے بڑھنے لگا ۔ ۔ وہیں رک جاٶ۔۔ خبردار جو آگے بڑھے ، چاقو کی نوک ماہیر کی گردن پر ٹکائی تو خون کی بوند نکلی۔ تمہیں کیا لگا ۔۔ ؟ مجھے اتنی تکلیف دے کر تم بچ جاؤ گی؟؟ تو میں ۔ ٹھاہ – گولی کی آواز پر وہ چونکے۔ گولی اس شخص کے دماغ کے پار ہوئی تھی۔ اور وہ بے جان وجود زمین پر گرا تھا. ابیہاں نے آگے بڑھ کر فورا ماہیر کو کورکیا تھا۔ اور سینے سے لگایا تھا ۔ وہ جو ڈری سہمی تھی ۔ دونوں نے ارد گرد نظریں دوڑائیں۔ لیکن گولی چلانے والا نظر نہ آیا۔ ابیہان ماہر کو بائیک کی طرف لے گیا۔ خود بیٹھا اور ماہیر کو بھٕی بیٹھنے کو بولا۔ لیکن وہ نہ بیٹھی۔ بیٹھو۔ پلٹ کر پھر سے کہا ماہیر نے دُکھ سے رُخ موڑ لیا ابیہان نے خود پر ضبط کیا۔ ماہیر ! یہاں Save نہیں ، پلیز بیٹھو ! ابیہاں نے زچ ہو کر کہا۔ ماہیر دانت کچکچاتی لب بھینچے بیٹھی ابیہان نے لمبی سانس خارج کی اور بائیک آگے بڑھائی ماہیر نے ابیہان کو کس کر پکڑا تھا۔ ایک تو ہیوی بائیک اوپر سے میکسی – ! بہت پرابلم ہو رہی تھی۔ اُسے !گھرپہنچتے گھر کےاندر بائیک خفیہ جگہ کھڑی کرتے اس نے ماہیر سے نیچے اترنے کا کہا ۔ ماہیر خاموشی سے منہ پھیرا نیچے اتر گئی ۔ باٸیک، کو لاک لگاتے وہ آگے بڑھا۔ چلو۔ ماہیر کو بت بنا دیکھ وہ پلٹا ۔ کیا ہوا ؟؟ کہاں ؟ وہاں – جہاں سے آپ مجھے نکال چکے ہیں ۔ غصے اور کرب سے کہتی وہ ابیہان کے پاس لڑکھڑاتے آئی ۔ تمہارے پاؤں ؟؟ پاؤں پر جھوٹ آئی ہے ؟ ابیہان نے اسکی بات نظر انداز کرتے جھک کر اسکا پاؤں دیکھا۔ ہٹیے بند کریں یہ ڈرامے ۔۔۔ پاؤں کی چوٹ نظر آگئی جو دل پر چوٹ دی ہے۔ ” اسکا کیا ؟؟ دُکھ سے بولی۔ ابیہاں اس بھپری شیرنی کا یہ روپ دیکھ مسکایا لیکن ظاہر نہیں ہونے دیا ۔ ورنہ خوب عزت ہوتی –

بنا جواب دیئے ماہیر کو گود میں اٹھایا ۔ وہ کسمسائی ۔ اتاریں مجھے نیچے ۔ اور زبردستی مت کریں میرے ساتھ ماہیر دھمکی دیتے وہ ابیہان کو چونکا گئی ۔ خان کی جان – جو مرضی چاہے سزا دے دیتا۔ لیکن ابھی کچھت کہو۔ ۔چپ کر کے میرے ساتھ چلو۔ دھیرے سے ماہیر کے کان میں سحر پھونکتا ۔ ماہیر کو ہمیشہ کی طرح بے بس کر گیا تھا۔ اندر داخل ہوتے گود سے نیچے اتارا۔ سامنے ہی نوفل اور شاہ ویز انکل سیڑھیاں اترتے نظر آئے۔ ان دونوں کو دیکھ کر وہ بھی ٹھٹھکے۔ شاہ ویز صاحب کو غصہ آگیا۔ تم – پھر آگئی !! کیا ہے یہ سب ابیہان ؟ شاہ ویزا انکل نے غصے سے خود پے ضبط کرتے ہوئے بمشکل تیکھے لہجے میں پوچھا۔ یہی تو میں آپ سے پوچھتا ہوں۔ انکل کیا ہے یہ سب ؟ میری بیوی کا وجود آپ کی بیٹی کے لیے اتنا تکلیف دہ ہوگا۔ کہ اتنی گھٹیا حرکت کرتے اُسے زرا شرم نہ آئی ۔ ابیہان غصے سے دھاڑا۔ ایک لمحے کو ماہیر بھی سہم گئی۔ کیا مطلب؟ کیا کہنا چاہتے ہو تم ؟ نوفل کو اس کا انداز اچھا نہ لگا۔ ابیہان نے بالوں پر ہاتھ پھیرا غصہ ضبط کیا وہ شخص آپ کی بیٹی نے ہائر کیا تھا ۔ پانچ لاکھ دیئے اُسے

یہ سب کرنے کے۔ میری بیوی پر گندہ الزام لگانے پر۔

بنا لگی لپٹی کے ابیہان نے سب بول دیا۔ الف سے یے تک تمام بات بتادی۔ جسے سُن نوفل اور شاہ ویزز سکتے ہیں آ گئے۔ انھیں یقین نہ آیا کہ حور کچھ ایسا کر سکتی ہے. لیکن سامنے ابیہان تھا۔ جو بنا دلیل اور ثبوت کے بات نہیں کرتاتھا۔ ایسا کیسے ممکن ہے ؟ یہ سازش ہے.. اس لڑکی کی …!! شاہ ویز صاحب یقین نہیں کر پا رہے تھے۔ لہجہ لڑکھڑا گیا تھا سازش ؟؟ یہ آپ کہہ رہے ہیں ؟ یہ لڑکی ۔ ؟؟ بیوی ہے میری … سخت اور غصیلے لہجے میں کہتا وہ شاہ ویز صاحب کو چپ کرا گیا ۔ شور کی آواز سُن پرویز صاحب اور ثروت بیگم بھی نیچے اتر آئے ۔ ثروت بیگم نے آگے بڑھ کر ماہیر کو اپنے ساتھ لگایا۔ اور رو دیں ۔ انھیں لگا۔ کہ ایک بار پھر سے انہوں نے اپنی دوست کو کھو دیا ۔ ماہیر کو صحیح سلامت دیکھ انہوں نے شکر ادا کیا۔ بلائیں حور کو … ! سب خود بتائے گی اپنے منہ …!! کیوں کیا اس نے یہ سب ۔۔۔ ؟؟ اور یقین کریں انکل غلطی پر میں نے اپنی جان سے عزیز بیوی کو نہیں بخشا. اسے گھر سے باہر نکال دیا ۔ تو آپکی بیٹی کو کیسے بخشوں گا ۔ غراتے ہوئے کہتے وہ شاہ ویز صاحب کے دل کو دھڑکا گئے۔ بھائی ! حور ایسا کچھ نہیں کر سکتی۔ آپ کو غلط فہمی ہوئی ہوگی .. ! مشال نے ڈرتے ڈتے کہا ۔

بنانگی لپٹی کے ایہان نے سب بول دیا۔ الف سے لیے تک تمام بات بتادی۔ جسے سُن توفل اور شاہ ونیز سکتے ہیں آ گئے۔ انھیں یقین نہ آیا کہ حور کچھ ایسا کر سکتی ہے. لیکن سامنے ایہان تھا۔ جو بنا دلیل اور ثبوت کے بات نہیں کرتاتھا۔ ایسا کیسے ممکن ہے ؟ یہ سازش ہے.. اس لڑکی کی …!! شاہ ویز صاحب یقین نہیں کر پا رہے تھے۔ لہجہ لڑکھڑا گیا تھا سازش ؟؟ یہ آپ کہہ رہے ہیں ؟ یہ لڑکی ۔ ؟؟ بیوی ہے میری … اسخت اور غصیلے لہجے میں کہتا وہ شاہ ویز صاحب کو چپ کرا گیا ۔ شور کی آواز سُن پرویز صاحب اور ثروت بیگم تم بھی نیچے نے آ گئے ۔ ثروت بیگم نے آگے بڑھ کر ماہیر کو اپنے ساتھ لگایا۔ اور رو دیں ۔ انھیں لگا۔ کہ ایک بار پھر سے انہوں نے اپنی دوست کو کھو دیا ۔ ماہیر کو صحیح سلامت دیکھ انہوں نے شکر ادا کیا۔ بلائیں خود کو … ! سب خود بتائے گی اپنے منہ …!! کیوں کیا اس نے یہ سب ۔۔۔ ؟؟ اور یقین کریں انکل اغلطی پر میں نے اپنی جان سے عزیز بیوی کو نہیں بخشا.تو آپ کی بیٹی کو کیسے بخشوں گا۔۔؟؟ ابیہان کے غصیلے لہجے پے سبھی ایک پل کو شاک رہ گۓ۔۔ بھاٸ۔۔؟؟ کوٸ غلط فہمی ہوٸ ہو گی۔۔ حور۔۔ ژر۔۔ ایسا نہیں کر سکتی۔۔۔ مشال نے حور کا بچاٶ کرا چاہا۔

اچھا۔ اغلط فہمی۔۔۔ ماہر کی دفعہ یہ غلط فہمی نہیں ہوئی کسی کو؟ انداز ایسا تھا کہ مشال کا سر جھک گیا۔ غصے سے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *