Takmeel e ishq by Muntaha Chohan NovelR50508 Takmeel e ishq (Episode 16,17)
Rate this Novel
Takmeel e ishq (Episode 16,17)
Takmeel e ishq by Muntaha Chohan
ہاسٹل پہنچتے ہی ندا کو فورآ آٸ سی یو میں لے جایا گیا ۔ نوفل کو بھی وہ اطلاع دے چکا تھا۔ وہ بھی فوراً پہنچا تھا ۔ ڈاکٹر آٸ سی یو میں تھے۔ نوفل بمشکل آنسو ضبط کر رہا تھا ۔ سکندر بے جان مورت بنا بینچ پر بیٹھا تھا۔ اسکے کپڑوں اور ہاتھوں پر ندا کا خون تھا. وہ اب بھی یقین نہیں کر پا رہا تھا ۔ وہ ڈرپوک اور بزدل سی لڑکی — جو بادل کے گرجنے سے ڈر جاتی تھی۔ کیسے اس گولی کے سامنے آگئی۔ اور سکندر کو بچا کے خود موت کو گلے لگا لیا ۔ کیوں ؟ آخر کیوں کیا اس نے ایسا ؟؟ سکندر کی حالت کے پیش نظر نوفل نے اس سے کچھ نہیں پوچھا ۔ جبکہ وہاب نے ساری تفصیل سے آگاہ کر دیا ۔ جس میں سکندر بے قصور تھا۔ ان کے دو ساتھی جو بہت زخمی تھے ان کو بھی طبعی امداد دی جا رہی تھی۔ تبھی ابیہاں آتا دکھائی دیا۔ توفل کچھ دیر پہلے مشال سے فون پر بات ہوئی۔ ندا کے متعلق بناتے ابیہان کے فون لینے پر نوفل نے اسے ندا کو گولی لگنے کے متعلق آگاہ کیا۔ اور وہ اس وقت ہاسپٹل پہنچ چکا تھا۔ کہاں کہاں۔ کہاں ہے ندا ؟ ابیہان کی بے چینی نوفل سے چھپ نہ سکی ابیہان کے لہجے میں سخت بے چینی تھی۔ نوفل نے اسے کاندھے پر پھیلی دی.
ابیہان۔۔ – اسنبھالو خود کو ۔
نوفل نے خود پر مشکل ضبط کرتے ابیہان سے کہا۔
جو آٸ سی یو کے باہر کھڑے ا ندا کو آکسیجن ماسک میں دیکھ رہا تھا۔ ایک آنسو لڑھکتا ہوا گال پر آ ٹھہرا۔ پیچھے ہوا ۔ دل کو سنبھالا.کیسے کیسے ہوا ۔ یہ سب ؟ بہت سخت لہجے میں پوچھا
یہ سب اتنا اچانک ہوا کوئی کچھ نہ کر سکا ۔ نوفل نے سمجھایا۔ کس نے گولی۔۔۔۔چلاٸ۔؟ کس نے ؟؟ کون ہے وه …! مجھے جانتا ہے ! ابیہان کی آنکھیں ضبط سے سُرخ ہو رہی تھیں۔
جس نے بھی گولی چلائی۔ اب وہ موت کی نیند سو رہا ہے۔ ا نوفل نے شیر کی طرح غرا کر بولا میں جانتا ہوں۔ تمہیں بھی اور تمہاری فیملی کو بھی !! دو خوبصورت بہنیں ہیں تمہاری … !! آفتاب علی شاہ کے الفاظ ابیہان کو پھر سے یاد آئے غصے سے آنکھیں بند کیں۔ اسکا دل کیا ۔ وہ شخص اس کی کے سامنے ہو۔ اور وہ اسے جان سے مار دے ۔ لیکن ابھی۔ جوش سے نہیں ہوش سے کام لینے کا وقت تھا۔ فی الحال – ندا کی زندگی سب سے زیادہ اہم تھی۔ موبائیل پر بجتی
بیل کو نظر انداز کرتے نوفل اور ایہان آٸ سی یو سے نکلتے ڈاکٹر کی طرف بڑھے۔ اور ندا کا پوچھا۔
! جینٹل مین گھبرانے کی بات نہیں۔ گولی ان کی بازو کو چھو کر گزری ہے۔ لیکن خون زیادہ بہہ گیا ہے ابہر حال اب وہ خطرے سے باہر ہیں۔ جیسے ہی انھیں ہوش آتا ہے۔ !! آپ ان سے مل سکتے ہیں۔ ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے ابیہان کے کاندھے پر تھپکی دی۔ اور آگے بڑھ گیا۔ ابیہان اور نوفل نے شکر کا کلمہ پڑھا۔ کال ایک بار پھر سے آرہی تھی۔ ہیلو! ابیہاں موبائیل کو کان کے ساتھ لگائے ایک سائیڈ پر ہوا۔
سر میم روتے ہوئے ڈرائیور کے ساتھ گھر سے نکلیں ہیں۔ گھر کے ملازم بحشو بابا نے ابیہان کو اطلاع دی ۔ جہنیں ابیہان نے خاص ماہیر پر نظر رکھنے کے لیے بولا ہوا تھا ۔ جب وہ پہلی دفعہ یہاں آئی تھی۔ تب سے۔۔۔ اور اب بحشو بابا کے بتانے پر ابیہان نے لب بھینچے اور ڈرائیور کو کال کی۔ اُس نے فوراً فون اٹھا لیا کہاں ہو؟ سرد اور ٹھنڈے لہجے میں پوچھا سر آن دا روڈ … ! جھجھکتے ہوئے جواب دیا۔ آگے سے ایہان نے اُسے جو بولا وہ خاموشی سے سنتا رہا ۔ اور اوکے سر کہتے ہی خون سائیڈ پر رکھا۔ ماہیر کا دھیان
ڈرائیور کی طرف کہاں تھا وہ تو آنسو بہانے میں مصروف تھی۔ وہ جانتی تھی کہ یہ سب اسکے باپ نے کیا ہے۔ اسے واپس بلانے کے لیئے ! اور ماہیر اپنی خاطر اس گھر کے کسی فرد کی جان خطرے میں نہیں ڈال سکتی تھی۔ اسی لیے اس نے یہاں سے باپ کے پاس جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن وہ یہ بھول گئی تھی کہ پچھلی بار جانے کی سزا تو ابیہان نے اسے نہیں دی لیکن اس بار وہ اتنی آسانی سے اسے بخشے گا نہیں ۔ ہر بات سے انجان وہ باہر روڈ پر دوڑتی گاڑیوں کو دیکھ رہی تھی۔ ابھی تو جینا شروع کیا تھا عشق سے دل کا رشتہ جوڑا تھا- اور — یہ آزمائش ۔۔۔ ؟؟ ے کاش ایک دوجے سے ہم ملتے ہی نہیں جب مل ہی گئے تھے تو بچھڑتے ہی نہیں۔۔۔ جو ہونا تھا ہوا ہے اب پا کے کیا بچا ہے۔۔۔ چھوٹا ہے ہاتھ سے سب ۔۔ کچھ حاصل نہ ہوا !! گاڑی ایک جھٹکے سے رکھی۔ ماہیر نے چونک کر سامنے دیکھا۔ تو رونگٹے کھڑے ہو گئے ۔ ڈرائیور گاڑی سے باہر نکل چکا تھا ابیہان نے ڈرائیور کو اپنی گاڑی کی چابی دی ۔ اور خود ما پیر کی گاڑی کی طرف قدم بڑھائے ۔ ماہیر پتھر کی بت بن تھی۔ اس کے تیور اپنے جارحانہ تھے کہ ماہیر چاہ کر بھی کچھ نہ بول سکی۔ حان– ! بمشکل زبان تر کرتے وہ لڑکھڑاتے انداز میں بولی۔ لیکن ابیہان کا دماغ آوٹ آف کنٹرول ہو چکا تھا۔ جھثکے سے ماہر کو کھینچ کر باہر نکالا اور اُسے فرنٹ سیٹ پر دھکا دے کر بٹھایا۔ اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر آیا ابیہان کے غصے پر ماہیر کے آنسو بہہ نکلے۔ جس غصے اور سختی سےپکڑ کر اس نے ماہیر کو فرنٹ سیٹ پر دھکیلا تھا۔ اس کو اندازہ ہو گیا تھا۔ ایک بار وہ پھر غلطی کر چکی ہے \*\*
گھر پر نوفل نے اطلاع دے دی ندا کی خیریت کی !! مشال ، ثروت بیگم اور پرویز خان ہاسپٹل پہنچ چکے تھے۔ لیکن ابھی ندا کو ہوش نہیں آیا تھا۔ نوفل بیٹا یہ سب کیسے ہوا؟ یہ تو یونیورسٹی گئی تھی پھر گولی ۔۔۔ گولی کیسے لگی ندا کو؟ پرویز صاحب تھکے ہارے لہجے میں بولیں لے. میرے حصے کی گولی کھائی ہے ۔ آپکی بیٹی نے ..! قریب بیٹے سکندر کی بات پر وہ سارے چونکے۔ پرویز صاحب نے پلٹ کر اس بھر پور مردانہ وجاہت کے شاہکار – مرد کو دیکھا۔ جو اس وقت اپنے ہاتھوں پر لگے خون پر نظریں ۔ –
پیوست کیئے ہوئے تھے۔ پرویز صاحب نے سوالیہ نظریں نوفل پر ٹکائیں۔ نوفل ان کی نظروں کا مفہوم سمجھنا۔ انھیں وہاں سے ویٹنگ روم میں لے گیا۔ اور انھیں ساری بات بتادی۔ کہ کس طرح ندا مریم پر اعتبار کر کے اس کے ساتھ گئی ۔ اور سکندر نے اسکی جان بچائی۔ اینڈ ایٹ لاسٹ مومنٹ
گولی جو سکندر کے لیے تھی۔ اس نے اپنا نام لکھوا لیا ۔
پرویز صاحب نے بہت ضبط سے سب سنا۔ انھیں اپنی بیٹی کی۔ بے وقوفی جہاں بری لگی۔ وہیں ڈٹ کر دشمن کے آگے کھڑا ہونا اچھا لگا۔ نوفل ! میں اس بہادر فوجی سے ملنا چاہتا ہوں ۔ جس نے ۔ میری بیٹی کی حفاظت کی… اور جس کے لیے میری بیٹی نے اپنی جان کی پرواہ کیئے بغیر اسے بچایا۔ پرویز صاحب کا کھنکھتا انداز دیکھ نوفل نے شکر کا کلمہ پڑھا۔ اور پر سکون ہوا۔
نوفل پرویز صاحب کو سکندر کے پاس لے کے آئے ۔ جو آنکھیں موندے گہری سوچ میں گم تھا۔ سکندر ! بڑے بابا تم سے ملنا چاہتے تھے ۔ نوفل نے سکندر کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر اُسے بلایا ۔ تو وہ لال انگارہ آنکھیں کھولے سامنے کھڑی ہستی کو دیکھنے لگا بیٹا – ! تم نے بہت اچھے سے اپنا فرض ادا کیا ۔ ہمیں فخر ہے تم جیسے فوجی جوانوں پر — جو اپنی جان کی پرواہ
نہ کئے بغیر !! اگر آپ کی بیٹی نہ بچتی ! اس گولی سے مر جاتی تھی— تب بھی آپ یہی کہتے ؟ کھڑے ہوتے پرویز صاحب کی بات کاٹتے وہ انھیں چپ کروا گیا۔ یہ سب ابھی.. اچھا لگ رہا ہے ۔ اکیونکہ آپکی بیٹی زندہ ہے..! لیکن سکندر نے نیچے دیکھتے نفی میں سر ہلایا اور وہاں سے باہر نکل گیا۔ بڑے بابا … ! اس وقت اسے خود نہیں پتہ وه – – کیا کہہ کر گیا ہے. آپ اسکی باتوں پر زیادہ دھیان نہ دیں ۔ وہ ایسا ہی ہے۔ زندگی نے اُس سے بہت امتحان لیئے ہیں…!! نوفل نے سکندر کی پوزیشن کلیئر کی ۔ پرویز صاحب اثبات میں سر ہلاتے ۔ ندا کے وارڈ میں چلے گئے ۔ جہاں اسے شفٹ کیا گیا تھا۔ مشال اور ثروت بیگم وہیں تھیں۔ ثروت بیگم آنسو پونچھیں ندا پر پڑھ پڑھ کر پھونک رہی تھیں ۔ ندا کو ابھی بھی ہوش نہ آیا تھا۔ وہ انجکشنز کے زیر اثر تھی .####
گاڑی کی رفتار بہت تیز تھی۔ ابیہان کے چہرے پر سختی کے آثار ماہیر کو کسی انہونی کا پتہ دے رہے تھے۔ دو دفعہ ایکسیڈینٹ ہوتے ہوتے بچا۔ اب ماہیر کو ڈر لگنے لگا۔ ایک بار وہ پھر ابیہان سے خوف کھانے لگی ۔ آنسو بہاتی وہ خاموش نظروں سے ابیہان کو تکے جارہی تھی ۔ جس کی نظریں سامنے ونڈ اسکرین پر تھیں حان۔۔۔اپلیز آہستہ کریں ! ماہیر مجبور ہو کر – آنسو ضبط کرتی ابیہان سے بولی۔ اور گاڑی مزید تیز رفتار ہو گئی۔ ایک میدان میں گاڑی کو راؤنڈ میں گھوماتے وه ماہیر کو بے بس کر چکا تھا۔ لیکن اسکا غصہ کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا۔ ماہیر سائنس رو کے گاڑی کو گھومتا دیکھ رہی تھی۔ گاڑی سیدھی ایج پر لے گیا۔ جو ایک اونچی چوٹی تھی اور دوسری طرف کھائی۔ ایچ پر پہنچتے گاڑی کو ٹرن کیا۔ کی جان حلق میں اٹکی ۔ گاڑی روکتے ہی وہ باہر نکلا ۔ گاڑی کے بونٹ پر زور سے مکا مارا۔ وہ یہ نہیں بھول پا رہا تھا۔ کہ ماہیر اسکی چاہت، اس کا عشق ایک بار پھر اسے دھوکہ دے کے جارہی تھی۔ وہ یہ سب برداشت نہیں کر سکتا تھا لیکن دھوکہ۔۔۔ دھوکہ دیا بھی تو کس نے ” ماہیر اسکے غصے سے سخت خائف تھی۔ ڈر کے مارے وہ گاڑی سے باہر نہ نکلی ۔ لیکن سامنے ابیہان تھا۔ اس سے بچنا نا ممکن تھا۔ گاڑی کا دروازہ کھول کر ماہیر کو غصے سے باہر نکالا اور گاڑی کے ساتھ پن کیا ۔ ماتھے کے ساتھ ماتھا جوڑا آنکھیں۔
بند کیں ۔ ماہیر اسکی دیوانگی دیکھ کر حراساں تھی۔ حان ! دھیرے سے پکارا۔ نہیں۔ مت نام لو میرا ! سب ختم کر دیا تم نے !! آنکھیں موندے وہ ضبط کے کڑے مرحلے سے گزر رہا تھا ۔ پلیز ! میری بات – – نہیں ! بمشکل روتے بولی۔ کچھ نہیں سننا – ! بس اب فیصلے کا وقت ہے ۔۔ جانا چاہتی ہو ناں ! جاؤ ! ابیہان نے جھٹکے سے اسے چھوڑا ۔ اور خود دور ہوا۔ ماہیر سانس روکے اُسے دیکھ رہی تھی۔ وہ ایک ایک قدم پیچھے ہو رہا تھا ۔ تھا۔ میرا میرے پیار کا تماشا بنا کر رکھ دیا تم نے …!! ٹوٹے لہجے میں کہتے وہ ایک ایک قدم پیچھے کھائی کی طرف اپنے قدم بڑھا رہا تھا۔ ماہیر سے سانس لینا دو بھر ہو گیا۔ حان نہیں ! پلیز ! ایک بار میری بات سن لیں۔ سب ختم ہو گیا ہے آج ۔ بس ۔ میرے قریب مت آنا دور۔۔۔ دور رہو مجھ سے ۔ نفی میں سر ہلاتا وہ اور بھی پیچھے ہوا۔ ایک ہارے ہوئے جواری کی طرح وہ بکھر رہا تھا۔ حان۔۔۔۔ ماہیر اونچی آواز میں چلائی ۔ ابیہان کھاٸ کے بالکل کنارے پہنچ گیا تھا۔ ماہیر کو لگا اسکا دل نکال لیا ہو۔ کسی نے ۔ ! بنا ابیہان غقہ اور ناراضگی کی پرواہ کیئے بغیر بھاگی اسکے سینے سے جالگی۔ اور اُسے اپنے سات بھینچ لیا۔ ایہان نے اُسے خود سے دور کرنا ا
چاہا۔ لیکن ماہیر نے زبردستی اور کس کے اسے پکڑا۔ نہیں – مت کریں۔۔۔ پلیز۔۔ ایسا نہیں دیکھ سکتی ۔ میں آپ کو تکلیف ۔ میں۔۔۔ بابا سائیں نے میری وجہ سے ندا کو… !! میں خود کو کبھی — معاف نہیں کر پاٶں گی۔ روتے ہوئے وہ اپنی صفائی دے رہی تھی۔ کوئی تعلق نہیں تمہارا ہم سے. نہ مجھ سے اور نہ میری فیملی سے ۔ ! جاؤ ۔ نکل جاؤ !ہماری زندگیوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ! میں روز روز نہیں مر سکتا ماہیر۔۔۔ کہتے کہتے ابیہان کی آواز اونچی ہوئی ۔ ماہیر ہچکیوں سے روتی ہوٸ ابیہان کو دیکھا۔ مجھ سے دور مت — سانس اٹکنے کی وجہ سے ” مزید بول نہ پائی ۔ اور لڑکھڑا کر ابیہان کی بانہوں میں جھول گئی۔ ابیہان نے کسی قیمتی متاع حیات کی طرح اُسے سینے سے لگا کر بھینچا۔ اور خود پر کنٹرول کرنے لگا۔ بہت بہت بری ہو تم — !! نہیں — معاف کر سکتا۔ اس بار تمہیں — ! تم ہر بار ایسے کرو گی ۔ !! نہیں رہ سکتا۔ تمہارے بغیر – ! ضرورت ہو تم ۔ ابیہان کی سانس کے لیئے ۔ ! خود میں سموتے وہ چلا کر بولا اور پھر سے اُسے خود سے لگایا \*\* سنا تم نے – ! ۔۔####
ندا گھر آ چکی تھی اسکا زخم بھی کافی حد تک ٹھیک ہو گیا تھا گولی بازو کو چھو کر نکلی تھی ۔ بازو کو فی الحال وہ موو نہیں کر سکتی تھی۔ ڈاکٹر نے بیڈ ریسٹ بتایا تھا ۔ سبھی ندا کے گھر آنے پر خ٢ش تھے۔ کیا حالات و واقعات ہوئے سبھی ۔ باخبر تھے لیکن۔ ندا سے فی الحال کسی نے ذکر نہ کیا۔ سب ندا کے پاس موجود تھے۔ اسکی بیمار پرسی کے لیے۔ مشال تو اسکا سایہ بنی ہوئی تھی۔ نوفل کے نمبر پر کال نے اُسے اپنی جانب متوجہ کیا۔ ندا کی وجہ سے وہ گھر آگیا تھا leave پر … !! وہ گھر رہ کر تمام حالات ٹھیک کرنا چاہتا تھا۔ جی ! مقابل کی آواز سن کر سلام و دعا کے بعد مدعا پر آیا۔ بیٹا ! میں نے پوچھنا تھا کہ پھر کل آرہے ہونال ؟؟ اپنے چچا کی بات سُن کر نوفل کے ماتھے پر بل پڑے۔ بیچھے مڑ کر ایک نظر سب کو دیکھا۔ اور پھر نظر بھٹکتی۔ مثال پر جائہری ۔ وہ لڑکی سراپاۓ عشق بن گئی تھی اس کے لیے ! نہیں ابھی فی الحال نہیں آسکتا۔ آپ اگلے جمعہ تک سارا انتظام مکمل رکھیں گھر میں تھوڑا مسئلہ ہے. ! آپ سے بعد میں بات کرتا ہوں ۔ کہتے ساتھ موبائیل بند کر دیا۔ اور واپس اندر کی جانب بڑھا جو حقیقت میں اسکے اپنے تھے کیا کہا ؟ آئے گا ناں ؟؟ نادیہ نے دل پر پتھر رکھتے باپ سے پوچھا۔ نہیں کہہ رہا ہے گھر میں مسئلہ ہے کوئی ! اگلے جمع کو آجائے گا۔ بے زاری سے کہتے باہر نکلے دانت کچکچاتی نادیہ وہیں کھڑتی رہ گئی۔ چاہے کچھ بھی۔ ہو وہ نوفل سے دستبردار نہیں ہو سکتی ۔ \* چار دن سے ایک روم میں مریم کو رسیوں سے باندھا ہوا ۔ تھا کوئی بھی تو نہیں آیا تھا۔ اب تو اُ سے لگتا تھا موت – ہی آئے گی …! اُسے تو مر جانا چاہیئے تھا لیکن وہ اب تک زندہ تھی ۔ شاید اس کی سزا ابھی تک ختم نہ ہوئی تھی تھی ۔ دھیرے سے دروازہ کھلا۔ اندھیرے کمرے میں روشنی کی۔ کرن نمودار ہوئی ۔ مریم نے آنکھیں بند کر کے کھو لیں۔ سامنے ہی سکندر کھڑا تھا۔ وہ شخص جو پہلے دن ہی مریم کے دل میں گھر کر گیا تھا۔ اور چاہ کر بھی اُسے نکال نہیں پائی تھی۔ اور جب مریم نے سکندر کو ندا کے
قریب دیکھا تو اندر تک سلگ گئی ۔ کیوں ؟ کیوں کیا تم نے ایسا ؟؟ دوست ہو کر دوست کے ساتھ غداری ؟؟ کیوں ؟ ٹھنڈے اور سخت لہجے میں کہتا وہ مریم کے دل کو دھڑکا گیا ۔ مریم کو سکندر کے روپ میں موت سامنے نظر آنے لگی۔
بہت تکلیف دی تم نے .. میری ندا کو… اسکندر نے – سگریٹ سلگایا ۔ مریم تو اسکے الفاظ پر حیران ہوتے اُسے دیکھے گئی۔ وہیں پاس کھڑے رضا نے نفرت کی ایک نظر مریم پر ڈالی ۔ سکندر نے سگریٹ کا کش لیا۔ دھواں ہوا میں چھوڑا۔ رضا نے بجلی کا کرنٹ مریم کو دیا ۔ وہ تڑپ گئی ۔ ساتھ ہی روکا۔ وہ جس چیئر پر بندھی تھی۔ وہ بجلی کی وائرنز سے Conected تھی۔ مریم اندر سے ہل کر رہ گئی۔ اتنی سخت سزا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی ۔ سکندر اتنا ظالم بھی ہو سکتا تھا۔ یہاں یہاں گولی لگی اُسے۔۔ ! بازو کے کاندھے کی طرف اشارہ کیا ۔ اور سگریٹ نیچے پھینکا۔ رضا نے بجی کا ایک اور جھٹکا دیا۔ اور وہ وہ ہوش و حواس کھونے لگی۔ لیکن اب کی بار چہرے پر مسکراہٹ تھی ۔ جو سکندر کو کھل رہی تھی۔ جیسے کچھ تھا۔ جو چھپا ہوا تھا۔ تمہاری محبت کا سودا کیا میں نے ۔ لڑکھڑاتے ہوئے لہجے میں وہ دھیمی Smile سے بولی تو جاتے سکندر کے قدم رکے رضا بھی دل پر پتھر رکھے اُسے دیکھا۔ لیکن اُس تک پہنچایا بھی تو میں نے … !! مریم نے گلے میں ڈالے اُس قلم کی طرف دیکھتے دھیرے سے کہا ۔ اور بے ہوش ہوگئی۔ سکندر اور رضا ایک دوسرے
کو ہونقوں کی طرح دیکھنے ۔ آج پہلی بار سکندر کو کسی کو پہنچانے میں چک گیا تھا ۔ رضا کو اشارہ کرتا وہ خود باہر نکل گیا ۔ رضا نے مریم کو چیٹر سے آزاد. کیا۔ اور اُسے اپنی بانہوں میں اٹھایا۔ ایک آنسو گال پر لڑھکا۔ اور مریم کو لیے اوہ باہر روم کی جانب بڑھا ۔#### حان ! پلیز میری بات میں ! آج کتنے دنوں بعد وہ روم میں آیا تھا۔ ماہیر کو گھر لانے کے بعد وہ اب تک ماہیر سے مخاطب نہ ہوا تھا۔ اور رات کو بھی Study روم میں سو رہا تھا ۔ بلکہ ماہیر کو بات کرنے کا موقع تو دور کی بات آمنا سامنا ہی نہ کرتا تھا۔ ندا کے گھر آنے کے بعد وہ کافی وقت ندا کے پاس گزار کر آئی۔ دونوں کی . اچھی خاصی دوستی ہوگئی۔ ماہیر نے اُسکا بہت خیال رکھا۔ ابھی وہ روم میں داخل ہوئی ۔ تو ابیہان روم – سے باہر نکل رہا تھا۔ ماہیر نے جھٹ سے روکا۔ ابیہان نے اسکا بازو غصے سے جھٹکا اور باہر نکالنے لگا۔ ” وہ پھر سامنے آگئی ۔ آنکھیں پھر سے نین کٹورہ بننے لگیں۔ – پلیز! ایسے مت کریں ! منت بھرے لہجے میں کہا –
آج تمہارے بابا سائیں سے مل رہا ہوں ۔
ڈیل کرنے جا رہا ہوں اُن سے ۔۔۔ تم۔۔ آزاد ہو جاؤ گی بہت جلد یہاں سے ۔۔ ! ابیہان نے ماہیر کا ہاتھ جھٹکتے غصہ ضبط کرتے باہر کی طرف قدم بڑھائے ۔ ماہیرحیران و پریشان روتی نظروں سے اُسکی پیٹھ دیکھتی رہ گئی۔ یہ ۔ یہ شخص … مجھے ۔ بابا – سائیں کے حوالے ؟؟ خود سے بولتی وہ وہیں زمین پر بیٹھ گئی ۔ آنسو ضبط کے باوجود بھی نہ روک پائی۔
ٹھیک ہے ! اگر یہ مجھے اپنے ہاتھوں سے بابا سائیں کو سونپنا چاہتے ہیں تو میں اب پیچھے نہیں ہٹوں گی … اور نہ ہی ۔ بھاگوں گی…! نواب ابیهان پرویز خان اب تک آپ میرا ضبط آزماتے آئے ۔ اب — میں آپ کا ضبط آزماؤں گی۔! دیکھوں گی۔ کیسے آپ مجھے خود اپنے ہاتھوں سے اس باپ نما درندے کے حوالے کرتے ہیں ۔۔۔؟؟ آنسو صاف کرتی وہ اٹھی ۔ اور وارڈ روب سے کپڑے لے کر باتھ روم میں گھسی۔ ابیہان ماہیر سے سب کہنے کے بعد گاڑی لیے آفتاب علی شاہ سے ملاقات کے لیے جارہا تھا ۔ وہ تمام سچائی ماہریر جڑی۔ پرویز خان ابیہان کو بتا چکے تھے۔ اس کے بعد تو آفتاب علی شاہ سے ملنا اور بھی ضروری ہو گیا تھا۔ اب گیم ابیہان کے ہاتھ میں تھی ۔ اور جیت اسی کی تھی۔ \*\*\*
آفتاب علی شاہ خراماں خراماں سیڑھیاں اترتا نیچے آیا. سامنے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے ابیہان پرویز خان براجمان تھا آئیے ۔ آئیے : ! نواب صاحب … آئے ہیں… میری بیٹی کو بھی ساتھ لائے ہوں گے ؟ آتے ہی طنزیا الفاظ سے ابیہان کا استقبال کیا۔ ام۔۔۔ کونسی بیٹی ؟ ابیہان نے اچھنبھے سے پوچھا۔ جبکہ بیٹھنے کی پوزیشن میں زرا فرق نہ آیا۔ میری بیٹی ماہیر ہے جو تمہارے قبضے میں ہے۔ اب کی بار غصے کی آمیزش تھی۔ ابیہان اٹھ کھڑا ہوا۔ مسٹر آفتاب علی شاہ – عرف پاشا ! تمہیں ایسا کیوں لگا کہ میں تمہارے ساتھ ایسی کوئی ڈیل کروں گا ؟؟ بڑے پر سکون انداز میں کہتا وہ آفتاب علی شاہ کو بے سکون کر گیا۔ کیا مطلب؟ ہماری فون پر یہی بات ہوئی تھی۔ آفتاب علی شاہ نے غصہ ضبط کرتے تحمل سے کہا بالکل نہیں ۔۔۔ ! پاشا ! بہتر ہوگا ۔ تم خود کو
بچاؤ کیونکہ بہت جلد بھانسی کا پھندا تمہارے گلے تک پہنچنے والا ہے اور بیٹی کو تو تم بھول ہی جاؤ۔ کیونکہ ۔۔۔؟؟ اپنی بکواس بند کرو۔۔ ورنہ۔۔۔م؟” وہ بولتے کہ۔۔ ابیہاننے آگے بڑھ کر ان کے کالر ٹھیک کرتے طنزیہ سے کہا ۔ ارے۔۔۔ نہ !! آفتاب علی شاہ غرایا۔ نہ ! مجھے دھمکی دینے کی غلطی بھول کر بھی نہ کرنا۔ میرے بارے میں ۔۔ تم کچھ بھی نہیں جانتے… لیکن .. تمہارے بارے میں میں سب جانتا ہوں – !! تمہارے اگلے پچھلے سارے گناہوں کی فہرست ہے میرے پاس ! اور اپنی بیوی کے ساتھ – جو تم نے سلوک کیا ۔۔۔ اسکی۔ ڈیٹیل بھی دوں یا … اگلی ملاقات کے لیے سنبھال رکھوں۔ ابیہان کی اس بات پر آفتاب علی شاہ کا ایک رنگ آیا ایک گیا۔ ابیہان کے چہرے پر انتہا درجے کی سنجیدگی تھی ۔ لڑکے زبان سنبھال کر بات کرو۔ اس وقت یہ مت بھولو تم شاہ حویلی میں کھڑے شاہ جی کو دھمکی دے رہے ہو۔ فرقان شاہ (آفتاب علی شاہ کا چھوٹا بھائی ) (ابیہان کی آخری بات سن چکا تھا ۔ اور بیچ میں آگیا۔ آئیے آئے … ! جناب — ! آپ کی کمی تھی … ! آپ بھی تو ان کے جرم میں برابر کے شریک دار ہیں۔ تو آپ سزا سے
کیسے بچ سکتے ہیں .. ؟ اب کی بار رخ فرمان شاہ کی طرف کیا۔
اور اگر تم یہاں سے زندہ واپس ہی نہ جاؤ تو ؟
فرقان شاہ زیادہ چالاک تھا۔ اس لیے دو بدو جواب دیا ۔ابیہان لا پرواہ انداز میں ہنسا۔ تم لوگ خود مجھے بحفاظت یہاں سے جانے دو گے ۔ کیونکہ ٹھیک ایک گھنٹے تک اگر میں واپس نہ پہنچا۔ تو آفتاب علی شاہ کا کالا چٹھا ثبوت، سمیت پولیس تک پہنچ جائے گا۔ پولیس تو ویسے بھی تمہارے پیچھے ہی ہے … ! سب الرٹ ہو جائیں گے اسکے بعد تم لوگوں کے ساتھ کیا ہوگا سوچو ! ابیہان پُر سکون انداز میں بولا ۔ تو آفتاب علی شاہ اور فرقان علی شاہ نے آنکھوں ہی آنکھوں میں بات کی۔ دیکھو ! ہم کسی طرح کی بدمزگی نہیں چاہتے۔ تم سیدھی طرح صاف صاف بتا دو۔ کیا چاہتے ہو ؟ آفتاب علی شاہ نے مصلحت کی راہ نکالنی چاہی۔
ام … ! اب آئے ہو ناں۔۔ لائن پے۔ ابیہان خوش ہوا۔ اب غور سے سنو ! جو جو جرم تم لوگوں نے کیئے ہیں اسکا اعتراف کرو اور خود کو قانون کے حوالے کرو۔
ورنہ میں ایسی دردناک موت دوں گا۔ کہ تم لوگوں
کی روح بھی کانپ اٹھے گی۔ سخت کرخت ہجے میں کہا۔ تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے؟ ہم ایسا بھلا کیوں کریں گے ؟ فرمان علی شاہ بھڑک اٹھا
آسان موت کے لیے : simple ابیہان دو بدو ہوا۔
دیکھو لڑکے .. ! ہماری تمہارے ساتھ کوئی دشمنی نہیں۔ تم ہماری بیٹی ہمارے حوالے کرو۔ اور اپنی راہ لو۔ یہی تمہارے اور تمہارے خاندان کے لیے بہتر ہوگا ۔ آفتاب علی شاہ عرف پاشا اپنے اصل روپ میں آنے لگا۔ تمہاری بیٹی .. تمہارے حوالے کروں ..؟ تاکہ تم اُسے خون بہا میں آگے دے سکو ۔۔ ؟؟ سخت غصیلے لہجے میں کہا۔ یہ ہمارا آپسی معاملہ ہے تم اس میں نہ پڑو ۔ فرمان علی شاہ بھی بیچ میں کودا۔
تم — تم تو بولو گے … اپنے قاتل بیٹے کو جو بچانا چاہتے ہو۔ ابیہان نے اب کی بار فرقان شاہ کو آڑے ہاتھوں لیا ۔ تو وہ سٹپٹا گیا۔ اور آفتاب علی شاہ کو دیکھنے لگا۔ نہ ہی ہم خود کو قانون کے حوالے کر رہے ہیں۔ اور نہ ہی اپنی بیٹی کے سے دستبردار ہوں گے ۔۔ ! تم نے دشمنی کا آغاز کیا ہے تو ٹھیک ہے – جاؤ اور جو کرنا ہے کر لو۔ آفتاب علی شاہ غرایا۔ تو ابیہان نے نفی میں سر ہلایا۔ ٹھیک ہے .. ! اب اگلی ملاقات خوشگوار نہیں ہونے والی !! بیٹی تو میں اپنی حاصل کر ہی لوں گا۔ لیکن ۔۔۔ ؟؟؟
ایہاں جاتے جاتے مڑا ۔ غصہ اب سر پر چڑھنے لگا ۔ کون سی بیٹی ؟ ٹھہرے لہجے میں پوچھتے وہ روبرو ہوا ۔
ناوہ تمہاری بیٹی نہیں۔۔ اب بیوی ہے میری۔۔ ! ابیہان نے سر و سپاٹ انداز میں کہا۔ . تم – تمہاری بیوی .. !! جھوٹ !! آفتاب علی شاہ سخت پریشان ہوا ۔ ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔ ! وه وه تو خون بہا میں جائے گی۔۔۔ ! پنچائت کا فیصلہ ہے یہ … ! ایک اور تیر پھینکا میری بیوی ہے وہ ابیہان کی شریک حیات .. ! میری زندگی … ! میرے ساتھ رہے گی۔ میری بن کے رہے گی۔ کوئی مائی کا لال آئے کرے جدا ہمیں !! اپنی پنجائیت بھی میں خود ہوں اور فیصلہ بھی میرا ہوگا۔ سمجھے تم – وہ غصے کی آخری حد ہے تھا۔ ضبط کرتے کہا ۔ اور رہی بات … اس ملک کی… اسکی بیٹی کے قاتل کو اس کے حوالے کر دیا تو کونسا خون بہا۔۔؟؟ اور۔۔
وہ جب یہاں سے نکلی تو تمہاری بیٹی سے تھی۔ اب وہ ابیہان پرویز خان کے گھر ہے۔ اسکی بیوی کی حیثیت سے او اسے حاصل کرنا تو دور کی بات ۔۔ ہاتھ لگا کے دیکھنا دھڑ سے الگ نہ کر دیا تو خان کا بیٹا نہیں …! ابیہان کی سخت غصے سے کہے گئے الفاظ آفتاب علی شاہ کو ساکن کر گئے۔
سنا۔۔ تم نے؟فرقان شاہ۔۔۔! ابیہان نے مذاق اڑایا۔ فرقان شاہ کے پیروں سے زمین کھسکی جس نے اپنے بیٹے ابرار کو undergond کیا ہوا تھا اور جسطرح ابیہان بول رہا تھا۔ اس سے یہی لگتا
تھا وہ اسکی لوکیشن بھی جانتا تھا۔ اپنے آپ کو بچاؤ میری بیوی اور میری فیملی سے جتنا دور رہوگئے… فائدے میں رہو گے ورنہ … اگر کسی کو ایک کو بھی گھر وچ بھی آئی — !! تو شک سیدھا۔ تم پر جائے گا سسر جی ! اس لیے Be careful ! وارننگ دیتا ابیہان ان کی بولتی بند کروا چکا تھا۔ بھائی صاحب ۔ ایہ تو بہت برا ہو گیا۔ مجھے تو ابھی سے پھانسی کا پھندہ گلے میں لٹکتا ہوا محسوس ہو رہا ہے ۔ فرمان شاہ نے تھوک نگلی – آفتاب علی شاہ گہری سوچ میں تھا۔ وہ خود کو بچانے کے لیے اپنی اولاد کی قربانی دے سکتا تھا۔ تو بھائی اور بھائی کا بیٹا اسکے لیئے کیا معنی رکھتے تھے۔ شیطانی دماغ چالیں سوچ رہا تھا \* جی بڑے بابا – ! آپ نے بلایا۔ نوفل کو پرویز خان نے اپنے Study روم میں بلایا ۔ اس سے پہلے کہ شاہ ویز خان نوفل سے کچھ کہتے ۔ انہوں نے خود نوفل سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہاتھ میں پکڑی بک سائیڈ ٹیبل پر رکھتے انہوں نے نوفل کو بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔ اور خود بھی قریب چیٸر پر بیٹھ گئے ۔ بیٹا! مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔ آپ کے اور مشال کے رشتے کے بارے میں .. انہوں نے تمہید باندھی۔ میں کچھ سمجھا نہیں بڑے بابا ! پلیز آپ کھل کر بات کریں نوفل نے ناسمجھی سے کہا۔ تو پرویز صاحب نے اسے شاہ ویز کے ارادوں کے متعلق مکمل آگاہی دے دی۔ نوفل شاکڈ رہ گیا۔ اسے یقین نہ آیا ۔ کہ اُسکے بابا ۔ جو اس کے آئیڈیل ہیں ۔ وہ ایسا کچھ کریں گے ۔ نوفل بیٹا .. ! میں رشتوں میں زبردستی کا قائل نہیں آنے والے وقت میں .. میری بیٹی کے لیے مسئلے مسائل صرف اس صورت کھڑے ہوں کہ ابیہان نے حور یعنی۔۔ تمہاری بہن کو ٹھکرایا .. !! اس لیئے بہتر ہے یہ رشتہ — !! بڑے بابا ! نوفل تڑپ ہی تو گیا۔ لیکن جس کرب سے یہ الفاظ پرویز صاحب نے کہے یہ وہی جانتے تھے یا خدا. کیا ہو گیا ہے آپکو؟ کیا .. اتنا ہی بھروسہ تھا مجھ پر ؟ ٹھہرے اور نرم لہجے میں کہتا ۔ اسکا نم لہجہ پرویز صاحب بھی محسوس کر گئے تھے۔ نوفل ان کے قدموں میں بیٹھ گیا۔ ان کے گھٹنوں پے رکھے ہاتھوں پر اپنے مضبوط ہاتھ رکھے۔ یہ وہ مان تھا۔ جو نوفل نے پرویز صاحب کو
بخشا۔ بند آنکھیں دھیرے سے مسکرائیں ۔ بڑے بابا ! مجھے آج ابھی اور اسی وقت آپ کی بیٹی ، میری منکوحہ کی رخصتی چاہیئے۔
نوفل مضبوط لہجے میں کہتا وہ پرویز صاحب کو چونکا گیا۔ اندر آتے ابیہان کے قدم بھی وہیں تھمے۔
بیٹا ! ابھی؟؟ حیرت سے پوچھا۔
بڑے بابا ! آپ کی باتوں سے مجھے بہت تکلیف ہوٸی ہے آپ نے سوچ بھی کیسے لیا۔ کہ میں میجر نوفل خان -اپنے رشتے اپنی بیوی سے دستبردار ہو جاؤں گا ۔۔ ؟؟
یہ رشتہ آپ سب بڑوں نے مل کر جوڑا میں نے اس
رشتے کو دل سے قبول کیا ہے ۔ اور اپنی آخری سانس تک نھاؤں گا ۔۔ ! مجھے نہیں تھا پتہ کہ ایک دن ایسا آئےگا۔ جب مجھے لفظوں سے آپکو یقین دلانا پڑے گا ۔ آپ تو میرے اندر سے بھی واقف ہو — !! نوفل کا لہجہ آخر میں ٹوٹا۔ ابیہان نے آگے بڑھ کر نوفل کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور اسے تھپکا۔ معاف کرنا بھائی ! بابا نے یہ سب .. میری وجہ سے کہا کیونکہ شاہ ویز انکل کی باتوں سے مجھے غصہ آگیا .. ! اور میں نے .. ہی .. ! معاف کر دیں ۔ پلیز!! ابیہان
شرمندہ تھا۔ نوفل کھڑا ہوا۔ معافی نہیں ۔ مجھے رخصتی – چاہیئے ۔۔ ! ابھی۔ اسی وقت …! نوفل نے کھڑے ہوتے اٹل لہجے میںکہا۔ ابیہان اور پرویز خان نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ ٹھیک ہے ۔ ! جیسا تم چاہتے ہو۔ ویسا ہی ہوگا ۔ پرویز صاحب نے ہامی بھری اور اٹھ کھڑے ہوئے۔ مجھے پورا یقین ہے بیٹا ! تم اپنی بیوی کی حفاظت خود سے بھی زیادہ کرو گے۔ اور اس پر آنچ بھی نہیں۔ آنے دوگے … پرویز صاحب نے پرسکون ہوتے کہا۔ نوفل نے اثبات میں سر ہلایا۔ ابیہان نے آگے بڑھ کر نوفل کو ایک بار پھر سے گلے لگایا۔
اور پھر تھوڑی ہی دیر بعد سب ہال نما کمرے میں
موجود تھے ۔ اور حیران تھے کہ اچانک کیوں اکھٹا
کیا سب کو ؟؟ شاہ ونیز صاحب منہ کے زاویے
بگاڑے وہاں سینے پر بازو باندھے کھڑے تھے۔
میں نے آپ سب کو یہاں اس لئے اکھٹا کیا ہے کہ
تمہید باندھی ۔ اور سب پر ایک نگاہ ڈالی ۔
آپ سب کی موجودگی میں میں پرویز خان اپنی
بیٹی امشاال کا ہاتھ تھاما ( جو حیران نظروں اور
دھڑکتے دل سے باپ کو دیکھ رہی تھی۔
مشال کی آج نوفل کے ساتھ رخصتی کر رہا ہوں۔
کہتے ساتھ ہی مشال کا ہاتھ نوفل کے مضبوط ہاتھوں میں تھما دیا۔ سب پے یہ خبر ایک پہاڑ بن کر گری۔ شاہ ویز صاحب کے سینے پر بندھے ہاتھ بے یقینی سے نیچے گرے۔ انہیں یقین نہ تھا کہ یہ سب اتنی جلدی ہو جائے گا ۔ ابھی تو انہوں نے نوفل سے کوئی بات بھی نہیں کی تھی۔ اور پرویز صاحب اپنا کام کر گئے تھے لب بھینچنے قہر کی نظر ڈالتے وہ وہاں سے نکلتے چلے گئے ۔ جسے سب نے نوٹ کیا۔ ثروت بیگم نے آگے بڑھ کر نوفل اور مشال کے ماتھے پر باری باری بوسہ دیا۔ اور پیسے وارے آنکھیں خوشی سے جھلملا گئیں۔ فروا بیگم کے تو دل کی مراد بر آئی تھی ۔ جھٹ اپنا خاندانی لال دوپٹہ لا کر مشال کو اوڑھایا ۔ جو حیرت کا بت بنی کھڑی کبھی باپ کو کبھی ماں کو دیکھتی نوفل کو دیکھنے کی تو سکت ہی کہاں تھی اس میں۔ پیارے پیارے دلہا دلہن کے مجنوں … فی الحال . تو مٹھائی دستیاب نہیں .. ! یہ آئسکریم available ہے تو اسی سے منہ میٹھا کرتے ہیں۔ نور چہکتی ہوئے بولی تو سب مسکرا دیئے ۔ ابیہان اپنی بہنوں کے ساتھ بے انتہا خوش تھا۔ مسکرا رہا تھا ۔ انھیں اپنے ساتھ لگائے کھڑا تھا۔ آئسکریم کا بائیٹ لیتے ماہیر کی نظریں اسی کا طواف کر رہی تھیں۔ جو اسے مکمل اس اگنور کیئے ہوئے تھا۔
سیلفی ٹائم .. نور پھر چہکی جبکہ حور وہاں سے واک آؤٹ کر چکی تھی اپنے باپ کے ساتھ ۔ نوفل اور مشال کو قریب کھڑا کر کے باقی سب ساتھ کھڑے ہوئے۔ اور ندا بھی ابیہان اور پرویز خان کے درمیان میں کھڑی بے انتہا خوش تھی س کے بازو پر پٹی ابھی بھی تک بندھی ہوئی تھی ). ماہیر بیٹا ! یہاں آؤ ۔ پرویز صاحب نے دور کھڑی ماہیر کو پاس بلایا مرے قدموں سے چلتی وہ پاس آئی ۔ پرویز صاحب نے ماہیر اور ابیہان کو ایک ساتھ کھڑا کیا ۔ جو اندر سے تو پر سکون ہوا تھا۔ لیکن ظاہر کچھ نہ کیا ۔ اور ماہیر آنسو ضبط کئے گئے ابیہان کا نظر انداز کرنا دیکھ رہی تھی۔ نور نے کھڑے گھڑے مختلف پوز میں پوری فیملی کی بے شمار تصویریں لے لی تھیں۔ پھر سب بڑے بزرگ وہاں سے ہٹ گۓ۔۔اب مشال اور نوفل کی تصویریں بناتی ندا تھی۔ جبکہ ابیہان اور ماہیر کی سیلفیز نور دھڑا دھڑ لینے لگی مشال سرمائی ۔ گھبرائی تھی۔ تو
وہیں منہ پر بارہ بجائے ماہیر کھڑی تھی۔ کیا ہوا؟ میرا بچہ رو کیوں رہا ہے ؟ ندا کی آنکھوں کے آنسو چہرے کی مسکراہٹ پرویز خان
سے چھپی نہ رہ سکی۔ تو اسے گلے لگاتے پوچھ بیٹھے۔ بابا سب اتنا اچانک ہوا۔ آپی کی رخصتی اتنی اچانک اور ابھی بھائی ” کا نکاح بھی ایسے چانک۔!! کوئی ۔ ہلا گلا ہونا چاہیئے ہیں ناں – ؟ ندا نے باپ کو دیکھتے بچوں کی طرح خوش ہوتے کہا ۔ کیوں نہیں ..؟؟ میرے بچے نے میرے دل کی بات کہہ دی ۔ سچی بابا … ! ندا نے خوشی سے باپ کے گلے لگتے کہا اور پرویز صاحب نے سب کے سامنے صبح مشال اور نوفلکے ولیمے کا اعلان کر دیا۔ سب میں ایک دم سے خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ مشال کا شرم کے مارے کے سر ہی نہیں اٹھ رہا تھا۔ وہیں نوفل اسکا شرمایا ہو اروپ آنکھوں، میں بسا رہا تھا۔ ندا پھر باپ کے کان میں تھی۔
پرویز صاحب کھلکھلا کر ہنس دیئے اچھا جی ! کل صرف مشال اور نوفل کی نہیں بلکہ ابیہان اور ماہیر کا ولیمہ بھی ہوگا ۔ اس بات پر سبھی موجود وہاں تالیاں بجانے لگے۔ نور نے ماہر کو بہت تنگ کرنا شروع کر دیا . ماہیر جو پرویز صاحب کو منع کرنا چاہتی تھی لیکن سب کے مسکراتے چہرے دیکھ وہ نہ بول سکی۔ وہ چاہ کر بھی ابیہان کے چہرے پر اداسی نہ ڈھونڈ پائی ۔ ہرگز ہر گز نہیں میں ایسا نہیں ہونے دوں گا اگر میری حور کو وہ ٹھکرائیں گے ۔ تو اُن کی بیٹی کو نوفل کیسے اپنا سکتا ہے ؟ شاہ ویز صاحب کا غصہ ٹھنڈا نہ ہو رہا تھا۔ اور تو اور ان کی بیوی ان کے خلاف تھی۔ چاہ کر بھی غصے کو کنٹرول نہ کرپارہے تھے ۔ قریب پڑا واس اٹھا کر زمین پر بیٹھا۔ جو کرچی کرچی ہو گیا۔ تبھی فروا بیگم روم میں داخل ہوئی ۔ شاہ ویز صاحب کے غصے کو دیکھ کر وہ ! مشکل لفظ ادا ہوا ایک قہر بھری نظر ہوئی پر ڈالی۔ چپ! ایک لفظ نہیں ! کیسی بیوی ہو تم؟ بجائے شوہر کا ساتھ دینے تم شوہر کے خلاف جارہی ہو؟ غصے اور دُکھ سے وہ فروا بیگم کے روبرو ہوئے آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔ شاہ – فروا کی آنکھیں پانیوں سے لبالب بھر غلط ؟ میں غلط نہیں سمجھ رہا ہے ۔۔ بلکہ میں غلط ہوں۔ تم سب کی نظروں میں !! اب کے لہجہ تم ہوا ٹوٹے ہوئے وہ محسوس ہوئے۔ بھر گئیں.٨
نہ آپ غلط ہیں نہ آپ کے بھائی … !! بس حالات اس وقت ہمارے اختیار میں نہیں ہیں۔ پلیز … غصے میں کچھ بھی غلط مت کیجیئے گا۔ فرمانے روتے ہوئے اپنے محبوب شوہر کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا۔ میری حور ؟؟ اسکا کیا ؟؟ تم ماں ہوناں ؟؟ اسکی ایک ماں ہو کے نہیں جانتی کہ وہ کیا چاہتی ہے۔ دل میں کیا ہے ..؟؟ شاہ ویز ہار مانتے ٹوٹتے لہجے میں بولے۔ سب جانتی ہوں۔ ماں ہو کے کیسے انجان رہ سکتی ہوں بھلا لیکن ایک ایسے شخص کے ساتھ میں اپنی بیٹی کو کبھی نہیں باندھ سکتی۔ جس کی زندگی میں پہلے سے کوئی اور ہو۔۔۔؟؟ اللہ نے میری دونوں بیٹیوں کے بہت خوبصورت نصیب لکھے ہیں۔ اور ہم خود … اپنی بچیوں کو دعاؤں میں رخصت کریں گے. ! فروا نے بہت پیار اور مان سے شوہر کو سمجھا وہ سر ہاتھوں پر گرا کے بیڈ پر بیٹھ گئے فروا بھی دھیرے سے ان کے پاس ہی ان کے کاندھے پر ہاتھ دھرے بیٹھی ۔ کیا نوفل. آپ کا .. کچھ نہیں لگتا؟ نا چاہتے ہوئے بھی شکوہ زبان پر پھسل آیا۔ حیرت سے سراٹھا کر دیکھا۔ یہ تم کہہ رہی ہو ۔ ؟ جبکہ جانتی ہو کہ نوفل میرے لیئے کیا ہے۔۔۔ شاہ ویز نے دُکھ سے شکوہ کیا۔ .
شاہ ویز کی بات پر بے اختیار فروا ہچکیوں سے رونے لگیں شاہ ویز صاحب نے نفی میں سرہلایا۔ اور فروا کھینچ کےاپنے گلے ہے لگایا۔ فروا ان کے لیے کیا تھی ۔ یہ وہ خود نہیں جانتے تھے۔ آپ .. آپ نے … نوفل کو کیوں نہ سمجھا ؟ اس کے دل میں کیا ہے. کیوں نہ جانا ؟؟ اسے اتنی بڑی آزمائش میں کیوں ڈال رہے تھے آپ …؟ روتے ہوئے سینے سے لگی وہ شاہ ویز کے غصے کو سُلا گئی۔ تم مجھ سے گلہ نہیں کر سکتی .. !! اُسے دیکھا۔؟؟ کیسے باپ کے بغیر .. رخصتی لے لی۔ نہ میں کون ہوں؟ کیا مجھے برا نہیں لگا ۔۔؟ میری کوئی حیثیت نہیں ؟؟ آپ جانتے ہیں … بابا… آپ میرے لیے کیا ہیں ؟؟ نوفل کی اچانک آمد سے دونوں چونکے آج پہلی بار وہ بنا دستک کے ان کے روم میں آیا تھا۔ فروا فوراً پیچھے ہوٸ شاہ ویز صاحب نے خفگی سے رُخ موڑ لیا ۔ ناراض ہو گئے ناں مجھ سے ؟؟ روبرو ہوا باپ کے !! تمہیں میری ۔۔ ناراضگی سے فرق پڑتا ہے ؟؟ بنا دیکھے ہوئے۔ آپ میرے رول ماڈل ہیں . ! ! میرے آئیڈئیل !! آپ جانتے ہیں ناں .. ! میں نے آج تک کبھی آپ کی کسی بات کو انکار نہیں کیا … ! بہت مان سے پوچھا۔
لیکن آپ یہ بھی جانتے ہیں ناں ! میں ایک فوجی ہوں اور اپنے قول سے پھر نہیں سکتا۔ الہجہ مضبوط تھا۔ ٹھیک ہے۔ مانتا ہوں ۔ ساری باتیں لیکن رخصتی کا اتنا بڑا فیصلہ نہ میں نظر نہیں آیا؟ نہ تمہیں نہ بھائی صاحب کو بس ہمیشہ فیصلے سناتے آئے ہیں ۔ اور آج بھی … میرکوئی حیثیت نہیں نہ ہی میرے کہے کی … !! ناراضگی ہنوز قائم تھی۔ بابا ! ابیہان اپنی ہر بات بڑے بابا سے پہلے آپ کے ساتھ شیر کرتا ہے … ! تو کیا کبھی بڑے بابا نے اعراض کیا ؟ اور یہ رخصتی کی بات کو ہضم کر لیں ناں — نوفل
نے آنکھ ونگ کرتے مسکراہٹ ہونٹوں میں دباتے کہا۔ شاہ ویز صاحب نے ایک بھر پور گھوڑی سے نوازا سوری — ! ایک کان کو پکڑ کر کہا۔ تو وہ منہ دوسری جانب موڑ گئے۔ اچھا۔ بات تو سنیں ناں… میری ہر خوشی آپ دونوں کے بنا ادھوری ہے … ! آپ جانتے ہیں ناں ! شاہ ویز صاحب کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے اور ان کا رخ اپنی جانب موڑا ۔ رہنے دو۔ ڈرامے ! اب کی بار صلح جو انداز میں بولے۔
ڈرامے تو نہ کہیں !! اب ولیمہ آپ کے بغیر کرتا اچھا لگوں گا ؟ شرارتی آنکھوں سے وہ سنجیدہ بولا شاہ ویز صاحب نے شاکی نظروں سے اپنی محبوب بیگم کو دیکھا۔ ایسے نہ دیکھیں … ! رخصتی کے بعد ولیمہ تو سنت ہے کہتے ہوۓ فروا نے مسکراہٹ ضبط کرتے بیٹے کی سائیڈ لی ۔ یعنی سب طے ہو چکا ہے ۔۔۔ ؟؟ شاہ ویز صاحب پھر دکھی ہوئے۔ تو دھیمی سمائیل دیتا وہ باپ کے بغلگیر ہوا۔ آپ کے بنا کچھ نہیں ہو گا بابا ! آپ میرے سب کچھ ہیں ایک جذب کے عالم میں کہتا وہ شاہ ویز کو پر سکون کر گیا۔ معاف کر دیا ناں ؟ کان میں سرگوشی کی۔ تم سے ناراض ہو سکتا ہوں کیا میں ؟؟ آنکھوں کی نمی آنکھوں کے گوشوں پے اب بھی موجود تھی لیکن اب چہرے پر سکون بھی تھا۔ جس سے نوفل پُر سکون ہوا۔ آئی لو یو ڈیڈ — ! نوفل ہمیشہ سے خوشی میں شاہ ویز صاحب کو یہی کہتا آیا تھا ۔ وہ مسکرا دیئے۔ اوکے ۔ میں چلتا ہوں گڈ نائیٹ آپ پھر سے– . وہیں سے Continue کریں ۔۔ ! شرارت سے آنکھ ونک کرتا ہوا کہتا وہ دروازہ بند کرتا باہر نکل گیا۔ شاہ ویز نے شکوہ کناں انداز میں بیوی کو دیکھا تو وہ مسکراتیں ان کے
قریب آئیں ہمیشہ کی طرح شاہ ویز کے بال خراب کئیے ۔ اور ان کے سینے پر سر رکھا۔ اور آنکھیں موند لیں ۔ لگتا ہے بیٹے کی بات کو سیریس لے لیا ہے ؟؟ کہتے ساتھ شاہ ویز صاحب نے مسکرا کر بیگم کو بانہوں میں بھرا تو وہ آج بھی شرما گئیں۔ ان کی محبت لازوال تھی- ### *بہت – غلط – بہت غلط کیا ہے بڑے بابا نے …سب نے :- مل کے اگر کسی کو میرے جذبات کی پرواہ نہیں .تو اب نیں بی کی کی پراہ نہیں کروں گی۔ .!! بستر کی چادر کھینچ کر نیچے پھینکی۔ ڈریسنگ ٹیبل سے سب اٹھا کر زمین بوس کیا ۔ اور اب روئے جارہی تھی۔ زمین پر بیٹھتی چلی جارہی تھی۔ کیوں ؟ کیوں ؟ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ؟؟حور نے ہچکیوں سے روتے ہمکلامی کی۔ ۔ میں نے تو سچی محبت کی تھی ۔۔ سچے دل سے چاہا تھا۔ تو کیوں ۔۔ ؟؟ اپنے بال نوچنے خود کو اذیت دیتی وہ انتہا پسندی پر پہنچی ہوئی تھی۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا ۔ کہ وہ ساری دنیا کو آگ لگا دے لیکن کوئی اس پاگل کو کیسے سمجھاتا۔ کہ نصیب تو آسمانوں پر رب پہلے سے ہی جوڑ دیتا ہے ۔ اور پھر دنیا میں ہر جوڑا اپنے جوڑے سے مل جاتا ہے۔ اور یہ سب خدا کی مرضی سے ہوتا ہے۔ اگر وہ یہ سمجھ جاتی ۔ تو اتنی اذیت نہ سہتی۔*
*جاری ہے۔*
