Takmeel e ishq by Muntaha Chohan NovelR50508 Takmeel e ishq (Episode 04)
Rate this Novel
Takmeel e ishq (Episode 04)
Takmeel e ishq by Muntaha Chohan
برخوردار ! اب آپ کو یہاں بلوانے کے لیے ہمیں فون کال سہارا لینا پڑے گا ؟ چوہدری دلاور حسین سپاٹ لہجے میں ہولے۔
آپ کو جو کام ہو ۔ مجھےفون پر بتا دیا کریں۔ آنے کا نہ بولا کریں ۔ میں اتنا فارغ نہیں ہوتا ۔ کہ روز آسکوں ۔
نوفل – بھی بہت تحمل سے بڑے ہوئے لہجے میں بولا۔
بھولو مت — ! تم اپنے دار جی سے بات کر رہے ہو۔اور میں ایسے لب و لہجے کا عادی نہیں ہوں۔ چوہدری دلاور کو غصہ آ گیا۔
لیکن نوفل بہت متحمل کا مظاہرہ کرتا رہا۔ اور گھڑی پر ٹائم دیکھتا اُٹھ کھڑا ہوا۔
مجھے دیر ہو رہی ہے۔ میں چلتا ہوں۔
میرے سوال کا جواب نہیں دیا تم نے ؟ چوہدری دلاور بھی اُٹھ کھڑے ہوے ۔
کونسا سوال ؟ نوفل جانتا تھا لیکن پھر بھی انجان بنا۔
چوہدری دلاور حسن نے قہر آلود نظر نوفل پر ڈالی
نادیہ بیٹی اکب سے تمہارے نام پے بیٹھی ہے۔ ک کروگے اس سے نکاح ؟ اور کتنا انتظار کروانا ہے اس معصوم کو ؟
چوہدری دلاور کی بولتے بولتے آواز بھی دھیمی پڑ گئی.
چوہدری دلاور حسین ! میں نے کسی سے کوئی Commitment نہیں کی اور ان باتوں کے لئیے آپ مجھے ڈسٹرب نہ کیا کریں ۔ نوفل سخت الفاظ میں
کہتا دروازہ کی جانب قدم بڑھائے کہ ایک نقاب پوش لڑکی اس کے بالکل سامنے آن کھڑی ہوئی ۔ کہ نوفل ٹھٹھکا۔ ایک پل کو
چودہری دلاور حسین بھی ٹھٹھکے تھے۔








ماہیر ابیہان کے روم میں بیٹھی گزرے لمحات کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ کہ کس طرح منٹوں میں اسکی زندگی بدل گئی تھی۔ دو آنسو چپکے سے اس کی آنکھوں بہہ کر اسکی ہاتھوں پر آگرے۔ جو اسکی جھولی میں رکھے تہے ۔ بظاہر وہ خود کو مضبوط ثابت کرتی لیکن اندر سے وہ وہی تھی کمزور سی لڑکی تھی۔۔۔ بی جان نے ہمیشہ اسکا مورال سپورٹ کیا تھا۔ اور اُسے خود اعتماد بتایا ۔ دنیا والوں سے لڑنا سکھایا کہ اندر سے کتنے ہی ٹوٹ جائے ۔ لیکن لوگوں پر ظاہر مت کرو۔ ورنہ لوگ آپ کو کہیں کا نہیں چھوڑیں گے
کچھ پل گزرے تھے کہ۔۔ کلکا وقعہ پھر سے زہن میں نقش ہوا۔
انکل ! آنٹی ایہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟ ؟ میں ایسا نہیں کر سکتی۔
ماہیر بری طرح ٹوٹی۔ پرویز صاحب اور ثروت بیگم کی بات ہے !!
بیٹا ! آپ کو یہی کرنا ہوگا ! کیونکہ اس کے علاوہ اور کوئی دوسرا راستہ نہیں ۔ آپ ابھی چھوٹی ہیں ۔ معاشرتی پیچیدگیوں کو آپ نہیں۔
سمجھ سکتیں۔ اس لیئے جیسے ہم کہہ رہے ہیں ویسا کریں ۔ پرویز ،صاحب نے پیار سے سمجھایا ۔
انگل! اور کوئی بھی تو راستہ ہو گا ناں؟ یہی کمزور سا احتجاج کیا
نہیں! اور کوئی راستہ نہیں۔ اب زرا درشتگی سی کہا۔ اور اُٹھ کر باہر نکل گئے ۔ ثروت بیگم اُس روتی ہوئی لڑکی کی طرف متوجہ ہوئیں۔ اور اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا۔
ثرورت بیگم ! آپ انھیں لے آئیں ۔ ہم باہر ویٹ کر رہے ہیں۔ پرویز صاحب ک آواز پے وہ سر اثبات میں ہلاتیں ماہیر کی طرف مڑیں۔
بیٹا – روؤ مت …! اور چلو تیار ہو جاؤ اور اللہ کی رضا میں راضی ہو جاؤ۔ اسی میں سب کے لیئے بہتری ہے۔ آ نئی میں صرف وہاں ان کے روم میں صرف گٸ تھی بس۔۔ یہی ۔۔میری غلطی تھی۔۔۔ میں ان کے کمرے میں رات ٹھہر گٸ اور کچھ بھی نہیں ۔۔ ! ماہیر نے روتے ہوئے صفائی دینی چاہیئے تو ثروت بیگم نے اُسکا ہاتھ تھپتھپایا۔ ما ہیر بیٹا ! ہمیں بھروسہ ہے کچھ بھی غلط نہیں ہوا ۔ ایہاں پر پورا بھروسہ ہے بیٹا ! اور تمہاری معصومیت بھی دیکھی ہے بیٹا ! ثروت بیگم نے پیار سے ماہیر کا جھکا سر اُٹھایا ۔ لیکن بیٹا ۔ ایہ بھی سچ ہے کہ حالات – – تم دونوں کے خلاف ہیں۔ دوسری صورت پولیس کی ہے ! اب آپ یہ تو نہیں چاہوگی۔ کہ آپ کو پولیس کے حوالے کر دیا جائے ۔ ثروت بیگم نے نا چاہتے بھی اُسے ڈرانا چاہا۔ کہ وہ ہاں کر دے۔ آنٹی ! میں چور نہیں ہوں ماہیر تڑپی ۔ ثروت بیگم سر پکڑ کر بیٹھ گٸیں۔ اس کی معصومیت پر تو۔
اُچھا چلو ! اٹھو بیٹا ! منہ ہاتھ دھوؤ — ! دیر ہوگئی تو آپ کے انکل غصہ ہو جاٸیں گے ۔ چلو شاباش ثروت بیگم کہہ کر جانے لگیں۔ آنٹی ! آپ انگل – میرے بارے میں کچھ بھی ۔۔۔کچھ بھی تو نہیں جانتے ۔۔۔ آپ کیسے ۔ مجھے ؟؟ ماہیر کے دماغ میں سوال سر اُٹھانے لگے ۔
بیٹا۔۔۔؟؟ انکل پرویز خان کی آواز پر ما ہیر کا جھکا سر اوپر اٹھا تھا۔۔
وہ س کے سانے آۓ تھے اس کی آنکھوں میں موجود سوال پڑ ھ کے وہ گویا ہوۓ۔
جتنا ہمیں جاننا تھا ۔ ہم جان چکے ہیں۔ اور وقت آنے پر آپ کو آپ کے تمام سوالات کے جوابات مل جائیں گے ۔ ایک آسودہ مسکراہٹ ثروت بیگم کے لبوں پر تھی ۔
ان کی بات پے وہ سر تسلیم خم کر گٸ تھی۔
اس کے پاس کوٸ سیکنڈ آپشن بھی نہیں تھا۔ اس لیے جان چھڑانے کے لیے اس نے ان کی ہاں میں ہاں ملا ہی لی۔
نکاح کے وقت وہ بری طرح سہمی ہوئی تھی لیکن پھر بھی نکاح ہو گیا –
اور وہ کچھ نہ کر پائی ۔ اور وہ جلاد کچھ بھی نہ بولا۔ خاموشی سے نکاح کیا۔ پیپر سائن کیئے۔ اور خاموشی سے اُٹھ کر چلا گیا۔ ایک لفظ
ہھی نہیں بولا۔ نہ ماں سے نہ باپ سے۔!
وہ گھر نہیں جانا چاہتا تھا۔ لیکن کانٹریکٹ کی ایک فائل کے لیے اُسے گھر جانا پڑا۔ وہیں اسکا سامنا شاہ ویز صاحب اور ان کی فیملی سے ہو گیا۔ اور جس طرح کا ری ایکشن اُن کا تھا۔ اس کے
بعد مزید وہاں رکنے کا ابیہان کا دل نہ کیا۔ اور سیدھا آفس نکل گیا
ماہیر شاہ اپنی سوچوں میں کب نیند کی وادی میں کھوگئی ۔ اُسے پتہ ہی نہ چلا۔
ثروت بیگم اُسے چائے پر بلانے آئیں ۔ لیکن اُسے سوتا دیکھ نہ جگایا۔ اور انہی قدموں سے واپس پلٹ گئیں – *











آنکھوں میں آنسو ۔۔۔۔. اور ۔۔۔ حجاب گر چکا تھا۔
تھا۔ ایک کرب تھا۔ ملال تھا چہرے پر ۔ نوفل تھٹکا ۔ وہ اپنی آنکھوں سے اُس گہری جھیل سی آنکھیں میں ایک گہرا سمندر لیے دیکھ رہا تھا۔ اس پر حسن کی دیوی کا گماں ہوا تھا۔ لیکن۔۔۔؟؟
وہ کیا۔۔ کر رہی تھی۔ نوفل اپنی جگہ سے ہل بھی نہ سکا۔ وہ اسے ہپناٹاٸز کر رہی تھی۔ جو کہ۔۔۔ کرنا۔۔۔ نامکن تھا۔ نوفل نے اپنی نظروں کا رُخ بدلا۔ ایک لمحے میں اپنی آنکھیں میچیں۔ اور دماغ کو جگایا۔ اور آنکھیں کھول دیں۔ وہ لڑکی ابھی بھی چہرے پر کرب لیئے اُسکے سامنے کھڑی تھی ۔ مسٹر۔۔۔ نوفل -! جانے سے پہلے صرف اتنا بتا دو مجھے کس چیز کی سزا دینا چاہتے ہو؟ میرا قصور بتا دو ؟ ؟ جب سے ہوش سنبھالا ہے تب سے اپنے نام کے ساتھ تمہارا نام سنا ہے اور آج تم مجھے رسوا کر رہے ہو ؟ کیوں ؟ لہجے میں تڑپ تھی۔
دیکھیں بی بی ! میں نہیں جانتا آپ کو کیا کہا گیا ۔ الیکن میں ۔ — وہ نہیں ۔ جو آپ سمجھ رہی ہیں۔ برسوں پہلے اس خاندان سے میرا اور میری ماں کا ناتا ٹوٹ چکا ہے لہذا مزید کوئی تعلق جوڑنے کا جواز نہیں بنتا۔
نوفل سپاٹ لجے میں کہتا مڑا ۔ تمہارے کہنے سے کچھ نہیں ہوگا نوفل – خون کے رشتے کبھی نہیں ٹوٹتے۔ تم اس خاندان کے وارث ہو اور رہوگے۔ اس حقیقت کو نہیں جھٹلا سکتے تم – ! پیٹھ پیچھے اُس خوبصورت پری کی آواز سنی۔ پل بھر کو وہ رُکا۔ لیکن پلٹا نہیں ۔۔ ! اور آگے بڑھ گیا یہ کیا کیا نادیہ پتر تم نے۔۔؟؟ اسکے سامنے کیوں آگئی؟ چویدری دلاور حسین پریشانی سے اُسکی طرف بڑھے ۔ نادیہ نے فٹ سے حجاب لے لیا۔ اور چوہدری دلاور کی طرف مڑی دار جی ۔ ! اب یہ ضروری ہو گیا تھا۔ آپ کا وارث بہت جلد حویلی واپس لوٹے گا۔ یہ — میرا — آپ سے وعدہ ہے نادیہ ایک عزم سے کہتی واپس زنان خانے کی طرف بڑھ گئ۔










نوفل اپنے سکندر اور رضا کے مشترکہ ایپارنمنٹ پہنچ گیا تھا۔ رات کے سائے گہرے ہو گئے تھے ۔ سارے راستے دماغ میں آندھی طوفان جھکڑ چلتے رہے ۔ اُسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ کہ وہاں اُس کے ساتھ کیا ہوا تھا ۔ وہ لڑکی۔ اس کے حواسوں
پر بری طرح چھا رہی تھی ۔ جتنا اُسے دماغ سے نکالتا۔ اُس کا آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتا۔ اور اسکی آنکھیں : مقناطیسی۔۔۔۔۔ نہیں ! پرکشش آنکھیں کچھ تھا الگ سا ! جو کچھ سمجھ نہیں آ
رہا تھا ۔ شاور لے کر وہ باہر نکلا تو سکندر لیپ ٹاپ کھولے اپنے کام میں بری تھا۔ ایک اچٹتی نگاہ نوفل پر ڈالی ۔ اور وہ واپس اپنے کام میں
میں بری ہو گیا ۔ نوفل اُس کے قریب ہی بیٹھ گیا ۔ سکندر اپنا کام مکمل کرتے اُسکی طرف متوجہ ہوا۔
کیا بات ہے بڈی۔۔؟؟ پریشانی کی وجہ بتاؤ ؟ سکندر اُس کے بہت قریب تھا۔ اور بن بولے اسے سمجھ جاتا تھا۔ اور نوفل بھی اُس سےکچھ نہ چھپاتا تھا۔ اس لیئے آج جو بھی ہوا۔ اُسے سب بتا دیا ۔ سکندر گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ دونوں ہاتھ تھوڑی کے نیچے رکھے۔ وہ آنکھیں موندے بیٹھا رہا ۔ نوفل بس اُسے دیکھے گیا۔
بات یہ ہے نوفل۔۔۔ سکندر بنا آنکھیں کھولے بولا تھا۔ — ! وہ تمہارے دماغ کو قابو کرنا چاہتی تھی۔۔ دھیمے سے آنکھیں کھول کے دیکھا تو نوفل کے ماتھے پر بل پڑے۔ لیکن یہ کہ وہ نہیں کر سکی کیونکہ جو کھیل .. وہ تمہارے ساتھ کھیلنا
چاہتی تھی ۔ تم اس کھیل کے پرانے کھلاڑی ہو۔
سکندر اسے دیکھتے مسکرایا تھا۔
مسکراتے صوفے کے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے کہا۔
نوفلکو س کی بات کی سمجھ نہ لگی۔ یار پہلیاں نہ بجھواؤ سیدھا سیدھا بتاؤ۔ نوفل اکتایا یار۔۔۔! وہ تمہیں ہپینا ٹائز کر رہی تھی ۔ اور جو شخص دوسروں کو ہپیناٹائز کرے ۔ وہ اتنی جلدی کسی کے کنٹرول میں نہیں آتا ۔ بھلے وقت میں تم نے یہ علم سیکھ لیا۔ اور آج تمہارے کام آگیا۔ ورنہ – آج تمہارا اللہ ہی حافظ تھا۔ سکندر نے ہاتھ جھاڑے۔ نوفل بھی اُسکی تائید میں سر ہلانے لگا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے۔ وہ تجھے ہپینا ٹائز کیوں کر رہی تھی ؟ سکندر دور کا کوڑی لایا ۔ وہ ہمیشہ سے ایسا تھا۔ جب تک وہ بات کی تہہ میں نہ جاتا۔ بات ختم نہ کرتا تھا ۔ (ہیپناٹزم اور ٹیلی پیتھی کے علم سے سکندر بخوبی واقف تھا۔ یہ روحانی علم ہے جو ہر کسی کے سیکھنے کے بس کی بات نہیں بہت کم لوگ اس علم کو سکھ پاتے ہیں۔ اور فوجی اس علم کو سیکھ کر اسے اپنے نیک مقاصد میں استعمال کرتے ہیں۔ سکندر بھی ان میں سے ایک تھا. ) (ہپناٹزم کا عمل، سکندر نے نوفل کو سکھا دیا تھا۔ لیکن۔ ٹیلی پیتھی ایک بہت مشکل کام تھا۔ جس میں جان جانے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے وہ جان سے پیارے دوست کو یہ علم نہ سکھایا پایا) سر ! کیا میں آپ کو ڈسٹرب کر سکتا ہوں، کیپٹن رضا نے دروازے سے سر نکال کر کہا۔ وہ کھانے کی لڑے لیکر اندر آیا تھا۔ اسکے آنے کے بعد وہ اپنے نئے کیس کو ڈسکس کرنے لگے تھے ۔ جس کا تعلق ایک مشہور یونیورسٹی سے تھا۔.









شام کے سات بج چکے تھے۔ ابیہان سیٹ کی پشت کے ساتھ ٹیک لگائے آنکھیں موندے گہری سوچ میں ڈوہا تھا ۔ تقریباً سارا آفس جا چکا تھا۔ لیکن ابیہان کا ابھی موڈ نہیں تھا گھر جانے کا ۔ دل پر ایک عجیب سا بوجھ آ پڑا تھا ۔
بابا نے کیسے ایک پل میں بے اعتبار کر دیا ۔ یہ احساس اندر ہی اندر ابیہاں دباتا رہا تھا۔ اور پھر آنکھوں میں وہ لڑکی ان سمائی ۔ تو ابیہان کے دل میں ایک دم سے اس کے لیے نفرت نے پھن پھیلائے ۔ سر دونوں ہاتھوں پر گرایا۔ ۔ دن کے وقت کے لمحات پھر ذہن میں قلابازیاں مارنے لگے۔
جب ماہیر گھر سے باہر نکل رہی تھی ۔ اور ابیہاں غصے سے اُسکے پاس نیچے گیا تھا۔ا ور اسے زبردستیلیے واپس اندر آیا تھا۔ وہ نہیں آنا چاہتی تھی ۔ ایہاں اسے ازبر دستی بازو سے گھسیٹ کرکمرے میں لایا اور بیڈ پر پیٹخا
چپ خبردار۔۔ جو ایک قدم بھی یہاں سے باہر نکالا تو ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں۔ ہوگا۔۔۔!
ابیہاں غصے کی آخری حد کو چھو رہا تھا ۔
آپ سے برا کوئی ہو بھی نہیں سکتا ۔ ماہیر آنسو ضبط کرکے اس کے مقابل کھڑی ہوئی
ابیہان نے غصے سے مٹھیاں بھینچیں ۔
تہمیں کیا لگا ۔ کہ یوں اچانک۔ میری زندگی میں آٶ گی۔ اور تباہی مچا دو گی۔۔۔م
ے تم اتنی آسانی سے یہاں سے نکل جاؤ گی؟ ایہان نے اسے کاندھے اچھے سے پکڑ کر جھنجوڑا ۔ ماہیر اس کی گرفت پر تڑپ گئی ۔ میں نے کچھ نہیں کیا ۔ چھوڑیں تھے۔ اس نے اس کی گرفت کو توڑنے کی ناکام کوششیں کی ۔
ایک بات کان کھول کر سن لو تم۔۔۔ جب تک میں تمہارے بارے میں سب جان نہیں لیتا۔ تم کون ہو؟ کہاں سے آئی ہو ۔ ؟ اور کس کے کہنے
تم یہ سب کر رہی ہو۔ ا تب تک تم یہاں سے کہیں نہیں جا سکتی۔ سمجھیں تم۔
ابیہان نے اٹل ہے میں کہہ کے جھٹکے سے اُسے چھوڑا روکتے روکتے بھی ماہیر کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا
کہ ابھی تک انگلیاں بازو میں پیوست ہیں ۔ ایک غصصیلی نظر ابیہان پر ڈالی۔ اور منہ پھیر گئی تکلیف سے آنسو روک نہ پائی ۔ ابیہان رخ پھیر
کر روم سے باہر نکل گیا۔ لیکن اس بار لاک کرنا نہ بھولا
***![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
دو بار دروازے پر ناک ہوتی تو ابیہان چونکا
لیس کم اِن ! ابیہان نے گہری سانس خارج کی
سرا آپ … ابھی تک نہیں ہے ۔ بڑے سرکار کی کال آئی تھی۔
آپ کے لئے پریشان ہیں کافی ۔۔۔۔ سعد جو کہ گارڈ تھا اور مسٹر پرویز کا پرانا نمک حلال ملازم)
سر جھکائے کھڑا تھا۔ اور جواب کا انتظار کر رہا تھا سعد ٹھیک ہے۔ آپ جائیں : ! میں تھوڑی دیر میں نکلتا ہوں۔
جی بہتر ویسے ہی سر جھکائے وہ باہر نکل گیا
کاش . ! کاش میں اُسے نہ روکتا ۔ جانے دیتا
ا تو وہ یوں ہمیشہ کے لیئے میری زندگی میں نہ آئی ہوتی۔۔۔







سر ! یہ تو بہت بڑا گینگ ہے — !! یہ دیکھیں ۔۔۔۔!!
کیپٹن رضا نے ویڈیو میں تین چار بندوں کی طرف اشارہ کیا۔ پلاننگ کے مطابق کیپٹن رضا یونیورسٹی میں انٹر ہو چکا تھا۔ ایڈمیشن لے کے –
وہ بھی بہت آسانی سے ۔ اور بہت جلد وہ اپنے پہلے مقصد میں کامیاب ہو گیا تھا۔ یونیورسٹی میں
جگہ جگہ وہ کیمرے لگانے میں بھی کامیاب ہو گیا تھا ۔ اور چوبیس گھنٹے وہ اس یونیورسٹی میں نظر رکھ سکتے تھے۔ سکندر کے لیب ٹاپ میں وہ سب جگہ کو فوکس کئے ہوئے تھے۔
کیپٹن رضا تمہمیں سب سے پہلے اس معمالے کا پتہ لگانا ہے کہ وہ کہاں سے آتا ہے۔ اور ڈرگز کا بھی پتہ لگانا ہے ۔ میجر سکندر پر تفکر تھا ۔
بہت جلد وہ بھی پتہ لگ جائیے گا سر — ! ہمارے بندے وہاں ہر گروپ میں موجود ہیں ۔ اور ہر ایک پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ میجر سکندر نے
اثبات میں سرہلایا







ابیہان روم میں آیا ۔ تو یکسر بھول گیا ۔ کہ وہ روم میں ہوگی۔ واش روم سے فارغ ہو کر نکلا ۔ تو لیب ٹاپ کھول کے بیٹھ گیا۔ اور نئے پروجیکٹ پر جو کام کر رہا تھا۔ اسی میں بری ہو گیا۔ اتنا بزی تھا کہ ساری رات کام کرتا رہا۔ اِدھر اُدھر کا کوئی ہوش نہ تھا ۔ تھک ہار کر صوفے پر ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں ۔ تو بابا کا چہرہ آنکھوں کے آگے لہرایا۔
بیٹا ! یہ نکاح کر کے آپ نے جو مجھ پر احسان کیا ہے ۔ ! وہ میں ساری زندگی نہیں چکا پاؤں گا ۔ بیٹا۔ اور آپ نے مجھے گلٹ سے نکالا۔ میرا فخر ہو آپ۔۔ اور جو آج آپ نے واقعی ثابت کر دیا۔ کہ میر امان ہو۔ پرویز صاحب نے ابیہان کے
سر پر ہاتھ پھیرا ۔ وہ نا سمجھی سے باب کو دیکھے گیا ایہان کی آنکھوں میں ڈھروں سوال تھے
۔ بیٹا میں سب جانتا ہوں۔ بس تھوڑا وقت دیں ۔ بہت جلد میں آپ کو تمام سوالوں کے جواب دے دوں گا ۔ لیکن تب تک : آپ مجھ سے وعدہ کریں کہ آپ … اس بچی کو کچھ نہیں۔ کہیں گے ! کوئی سوال جواب نہیں کریں گے۔ کیونکہ جو حالت – آپکی ہے۔ وہی اس بچی کی بھی ہے۔ اس فی الحال – آپ میرا مان رکھیں ! اور اس سے کچھ نہیں۔ کہیں ! وعدہ کریں مجھ سے ! ابیہان نے جھٹ سے۔ آنکھیں کھولیں ۔ پل کے ہزارویں حصے میں اُسے اس ماہیر کا خیال آیا ۔ نظریں اِدھر اُدھر دوڑائیں ۔ وہ کہیں نظر نہ آئی ۔ نہیں ۔ وہ بھاگی تو نہیں ہو گئی؟؟ یکدم دماغ میں خیال آیا ۔ اُٹھا۔ واش روم چیک کیا۔ ہی Jimroom تھا ۔ وہ چیک کیا۔ سب جگہ دیکھ لیا وہ کہیں نہیں تھی۔ یعنی وہ بھاگ گئی ہے ۔ !! ابہان نے کچھ سوچتے ہوۓ YOOM Studr دیکھا۔ بالوں میں پریشانی سے ہاتھ پھیرا اور بیڈ پر آ بیٹھا ۔ ٹیک لگا کے آنکھیں موند لیں۔ تبھی ابیہان کو محسوس ہوا کہ بیڈ پر اس کے علاوہ بھی کوئی اور ہے ۔ جھٹ سے کمبل پیچھے کیا۔ اور بیڈ سے اترا ۔ سامنے مزے سے وہ لیٹی ۔ خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی تھی۔ ابیہاان کے تو سر لگی ۔ پاؤں بجھی۔۔ سر جھٹک کر اُسے بازو سے پکڑ کر بستر سے نیچے اتارا۔ وہ بہت بری طرح سٹپٹائی ۔ نیند میں تھی ۔ قدم ڈگمگائے۔ اور سیدھی جا کر ایہان کے کاندھے سے لگی۔ ابیہاں
نے اگر اُسے چھوڑا ہوتا۔ تو وہ سیدھی جاکر ٹیبلپر لگتی۔ لیکن بچت ہوگٸ۔ اس کے باجود وہ اپنا ماتھا سہلانے لگی۔ جیسے دیوار سے ٹکرائی ہو۔ ایہان نے اُسے سیدھا سامنے کھڑا کیا۔ اور غرا کے بولا- تمہاری جرات کیسے ہوئی میرے بیڈ پر لیٹنے کی ؟ ماہیر اب ہوش و حواس میں واپس آچکی تھی۔ اور ساری صورت حال سمجھنے لگی.
آپ کا بیڈ ؟؟ ہاتھ چھڑوایا۔ اس کا ویسے ہی پہلے سے میٹر گھوما ہوا تھا۔ اوپر سے نیند سے جگا دیا اور یہ بات تو مزید غصہ دلا گئی۔
جھٹ سے پاس پڑا پانی کا جنگ اُٹھایا ۔ اور بستر پر انڈیل دیا۔ اور اسکی طرف واپس مڑی ۔
لیں – یہ رہا ۔ آپ کا بیڈ ! اب زیادہ پیارا لگ رہا ہے۔
chave sweet dreams)
مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر لئے وہ صوفے کی
طرف بڑھی۔ ابیہان نے بازو سے پکڑ کر اسے واپس موڑا
تم — سمجھتی کیا ہو خود کو ؟ یہ سب کر کے ؟؟ ابیہان کو سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔ کہ غصہ کیسے کنٹرول کرے۔ جی چاہا تھپڑوں سے اسکا
منہ لال کردے ۔ لیکن مرد کی مردانگی عورت پر ہاتھ اٹھانے میں نہیں۔ یہ بات اُسے ایسا کرنے سے روک رہی تھی ۔ ورنہ یہ لڑکی اُسکا امتحان لے رہی تھی۔ اسکا صبر آزما رہی تھی ۔
ہاتھ چھوڑیں میرا — ! وہ بھی شیرنی کی طرح غزائی۔ ابیہان نے اُسے پکڑ کر تقریباً گھسیٹا اور باتھ روم لے جا کر شاور کے نیچے کھڑا کر دیا۔ وہ جھٹپٹاتی رہ گٸ۔ ہاتھ بڑھا کر شاور کھول دیا۔ وہ وہاں سے بھاگ جان چاہتی تھی۔ لیکن ابیہان نے دونوں سائیڈ دیوار پر ہاتھ رکھ کر اُسکا فرار کا راستہ روک دیا۔ وہ بھیگتی جا رہی تھی۔ ابیہاں کی آنکھوں میں قہر تھا۔ اسکا غصہ ٹھنڈا ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ ماہیر نے اسکے سینے پر دونوں ہاتھوں سے Push کیا – ہٹانا چاہا لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوا ۔ ماہیر اب لرزنے لگی تھی ۔ خالی خالی نظروں سے ابیہان کو دیکھنے لگی ۔ اور اب مزید مزاحمت نہ کی ۔ خاموشی سے بھیگتی رہی۔ ابیہان نے لب بھینچے ۔ اور آگے بڑھ کر شاور بند کر دیا ۔ ایک خاموشی تھی ۔ دونوں کے بیچ۔ آٸندہ میرے سامنے اونچی آواز میں بولنے سے پہلے سو بار سوچنا ۔ ابیہان سرد لہجے میں کہتا باتھ روم سے باہر نکل گیا۔ ماہر وہیں بیٹھتی چلی گئی ۔ آنسو آنکھوں سے بہتے گالوں پر آگئے ۔ اس لمحے اُسے بی جان کی شدت سے یاد آئی ۔ گھٹنوں کے گرد بازو جمائے وہ روتی رہی ہے :








ناشتے کی ٹیبل پر بھی خاموشی سے ناشتے میں مگن تھے ۔ ماہر دھیرے دھیرے سیڑھیاں اتر کی نیچے آئی ۔ سامنے ہی ڈائینگ ٹیبل پر وہ دشمن جاں بیٹھا تھا۔ بے نیاز سالاپرواہ سا ارے ۔ ماہیر بیٹا – آؤ! آپ بھی سب کے ساتھ ناشتہ کرو۔ ثروت بیگم نے ماہیر کو سیڑھیوں سے اترتے دیکھا ۔ تو اُسے پکارا۔ سب کی نظریں بیک وقت ماہیر پے اٹھیں تھیں۔ ماہیر نے ابیہان کے چہرے سے نظریں چرائیں – ماہیر کا زرا دل نہیں تھا۔ اُس کا چہرہ بھی دیکھنے کا !وہاں چیٸر گھسیٹتے ماہیر جیسے ہی بیٹھنے لگی ۔ کہ حور وہاں سے ہاتھ جھٹک کر جھٹ سے اُٹھ گئی ۔ ۔ حور بیٹا – آپ کہاں جا رہی ہیں ؟ فروا بیگم نے ٹوکا۔ مما- میری بھوک ختم ہوگئی ہے۔ لہجہ اور الفاظ دونوں سرد تھے۔ وہاں موجود سب نفوس نے محسوس کیا ۔ ایک زہر خند نظر ماہیر پر ڈال کر وہ وہاں سے چلی گئی۔ میں دیکھتی ہوں۔ فروا بیگم بھی شرمندہ سی ہوتیں اُٹھیں ۔ اور حور کے پیچھے چلی گٸیں۔ – مشال اور ندا نے ایک دوسرے سے نظرین ملائیں۔ آؤ بیٹا بیٹھو ۔ ثروت بیگم نے بہت پیار سے ماہیر کو ابیہان کے ساتھ والی کرسی پر بٹھایا۔ وہ خاموشی. سے بیٹھ گئی ۔ تبھی مسٹر شاہ ویز آتے دکھائی دیئے ۔ ماہر کو وہاں بیٹھا دیکھ وہ ٹھٹھکے ۔ لب بھینچے ۔ انھیں اپنی بیٹی کے لئے بہت ملال تھا۔ ابیہان جیسا لڑکا ان کے ہاتھ سے نکل گیا۔ افسوس تھا انھیں۔ ارے آؤ ۔ ! شاہ ویزا پرویز صاحب نے دور کھڑے بھائی کو دیکھا۔ وہ دھیرے دھیرے چلتے ڈائننگ ٹیبل تک آئے ۔ لیکن بیٹھے نہیں۔ میں آفس جا رہا ہوں۔ میٹنگ ہے۔ ضروری آفس میں ملتے ہیں۔ خدا حافظ ! سپاٹ اور سرد لہجے میں کہتے وہ باہر نکلنے لگے ۔ ایک منٹ انکل میں بھی آپ کے ساتھ چلتا ہوں ۔ ابیہان بھی ساتھ ہی اُٹھ کھڑا ہوا۔ اور شاہ ویز کے ساتھ باہر قدم بڑھا دیئے ۔ ایک پل کے لیئے خاموشی چھا گئی ۔ ماہیر کو بھوک تو بہت لگی تھی لیکن عجیب عجیب سین کر Create ہو رہے تھے ۔ یہاں ایک سے بڑھ کر ایک چلو – ندا -دیر ہو رہی ہے۔ مشال نے بھی اٹھتے ہوئے کہا۔ او کے بابا ! اللہ حافظ مثال نے بھی اجازت لی اور مشال نے باہر قدم بڑھا رہے ۔ ناچار ندا کو بھی اٹھنا پڑا جبکہ ابھی اسکا ناشتہ رہوتا تھا۔ اب ڈائننگ ٹیبل پر تین نفوس رہ گئے تھے۔ پرویز صاحب یکدم خاموش سے ہو گئے تھے یہی حال ثروت بیگم کا بھی تھا۔ کیا مصیبت ہے۔ بندہ ناشتہ بھی سکون سے نہ کرے یہاں – !! ماہیر دل ہی دل میں سوچ کر برا منہ بنایا۔ ارے بیٹا ! آپ ناشتہ کریں ! یہ لیں انڈا ! – : ثروت بیگم نے اُسے پلیٹ تھائی ۔ اُس نے خاموشی سے تھام لی ۔ بس بہت ہو گیا۔۔۔ آج ہی نکلتی ہوں یہاں. اس جلاد کے آنے پہلے پہلے مجھے یہاں سے نکالنا ہوگا۔ ناشتہ کرتے وہ دماغ میں پلان بنانے لگی . # # #
ہاں رضا بتاؤ کیا سچویشن ہے ؟ میجر سکندر نے لیپ ٹاپ پر نظریں جمائے کان میں لگے بلیوٹوتھ سے رضا سے رابطہ کیا سر کیمرے سب جگہ لگ چکے ہیں۔۔ سوائے ایک جگہ کے. رضا جو یونیورسٹی میں موجود تھا ۔ اپنے مشن کو لیکر اب ایک خاموش اور تنگ گوشے میں وہ بھی Bluetooth کے ذریعے انفارمش دے رہا تھا۔ رضا کی بات پر سکند٤ کی رگیں تنی ۔ کونسی جگہ … ؟ جبکہ نظریں لیپ ٹاپ پر تھیں۔ اسٹور روم ! وہاں جانے کی پرمیشن کسی کو نہیں . رضا نے زرداری سے کہا۔ سکندر ٹیبل پر جھکے لیپ ٹاپ پر یونیورسٹی کے ہر کونے کو کورکئے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔
رض آپ اپنے ساتھ اپنے دونوں ساتھیوں کو لیں۔ اور اسٹور روم کے قریب کی جگہ پر کمر ا نصب کریں وہیں پر سارے راز ہوں گے ۔ اور سب سے امپورٹڈ جگہ بھی کچھ بھی کریں ۔ اور ہر کام مکمل کریں۔ سکندر نے آرڈر کیا ۔ رضا او کے سر – کہتا آگے بڑھ گیا۔ رمیز اور فرقان بھی اسی کے ساتھ مشن میں شامل تھے۔ جبکہ اس مشن کا حصہ ایک لڑکی بھی تھی۔ لیکن وہ کون تھی کیپٹن رضا نہیں جانتا تھا۔ # # #
آپ فکر کیوں کرتے ہیں پرویز صاحب — سب ٹھیک ہو جائیگا۔ ثروت بیگم ۔ پرویز صاحب کو میڈیسن دیتے فکر مندی سے بولیں۔ ثروت ! ہمارا یہ ایک فیصلہ سب کو بکھیر نہ دے .. ! کرب سے آنکھیں موند لیں ۔ ثروت بیگم نے ان کا کاندھے پر ہاتھ رکھا آپ نے کچھ بُرا نہیں کیا ۔ بلکہ نیکی کی ہے اور — جب سب کو حقیقت کا پتہ چلے گا تو سب آپ کا ساتھ دیں گے۔ ام۔۔۔ تب تک بہت دیر نہ ہو جائے ۔ ذہن ابھی بھی فکر مند تھا ۔ ” آپ اللہ پر بھروسہ تھیں … ! وہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کری گا۔ جانتے ہیں ناں۔۔۔ ! آزمائش اللہ کی طرف سے آتی. آپ حوصلہ نہ ہارنا ! ثروت بیگم کا لہجہ نم ہوا ! ۔ لیکن لہجے کی- مضبوطی پرویز صاحب نے بخوبی نوٹ کی ۔ اور آنکھیں موند لیں *
ابیہاں کے سٹڈی دوم میں بیٹھی وہ بس وہاں سے نکلنے کی پلاننگ کر رہی تھی۔ لیکن یہاں سے نکل کر جائے گی کہاں – ؟؟ پھر کسی مشکل میں نہ پڑ جاٶں۔۔؟ أبھی وہ انہی سوچوں میں گم تھی۔ کہ کسی کے آنے پے وہ ٹھٹھکی۔
کون ہو تم۔؟؟اور کہاں سے آٸ ہو۔۔؟
