Takmeel e ishq by Muntaha Chohan NovelR50508 Takmeel e ishq (Episode 07)
Rate this Novel
Takmeel e ishq (Episode 07)
Takmeel e ishq by Muntaha Chohan
میٹنگ کے بعد وہ اپنے کیبن میں واپس آیا۔ سارا سٹاف الرٹ تھا۔ اس کے رعب و دبدے سے پورا سٹاف ایک لمحے کے لیے آگے پیچھے نہیں ہو سکتا تھا۔ آج فاران کلائنٹ کے ساتھ ایک بہت امپورٹنٹ میٹینگ تھی۔ اور فائنلی وہ کامیاب ہو گئی تھی۔ اب وہ ریلکس چئیر کے ساتھ ٹیک لگائے آ نکھیں موندے بیٹھا تھا۔ پیچھلے کچھ دنوں میں جس طرح وہ مسلسل ماہیر کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اتنا ہی بے چین ہو رہا تھا۔ اور وہ خطا۔۔۔۔جو ایک لمحے میں وہ بہکا تھا۔ پٹ سے آنکھیں کھول دیں۔ نہیں۔۔۔! میں۔۔۔اس لڑکی کے بارے میں کیوں سوچنے لگا۔۔۔۔؟؟ وہ وقت دور نہیں۔۔جب اسے اس گھر سے جانا ہو گا۔۔۔۔! ابیہان خود کو باور کروا رہا تھا۔ لیکن دل تھاکہ عجیب لے ہر دھڑک رہا تھا۔ اس لڑکی۔۔۔کو جانا ہو گا۔۔۔! ہاں۔۔۔۔! جانا ہو گا۔۔۔! اور ماما۔۔۔بابا کے سامنے۔۔۔اسکی اصلیت لانی ہو گی۔۔۔! اسے جانا ہو گا۔۔۔! وہ بار بار خود کو یقین دہانی کروا رہا تھا۔ یہ سمجھے بغیر جو ایک دل میں بس جائے وہ دل سے نکالے نہیں جاتے۔۔۔۔۔! موبائل کی بیل پے وہ چونکا۔ اور کان سے لگایا۔ ہیلو۔۔۔! جی۔۔ماما۔۔۔! کیا۔۔۔کیا۔۔کحہ رہی ہیں آپ یہ۔۔۔؟؟ جھٹ سے نظر سامنے لگی Clockپر گئی۔ جہاں 3 بج رہے تھے۔ فوراً سے موبائل کان سے ہٹایا۔۔۔! گاڑی کی چابی اٹھائیں۔ اور باہر کی طرف لپکا۔ دل اور دماغ دونوں پریشان تھے۔







آنٹی۔۔۔۔! پلیز حوصلہ رکھیں۔ ندا واپس آجائیگی۔۔۔! ماہیر نے ثروت بیگم کو حوصلہ دیا۔ فروا بیگم بھی وہیں تھیں۔ ابھی ابھی مشال واپس لوٹی تھی۔ تو سب کو پتہ لگا۔کہ ندا Missing، ہے۔ اور ساتھ میں ڈرائیور کا بھی کچھ پتہ نہ تھا۔ ندا کے موبائل پر مسلسل کال کی جا رہی تھی۔ لیکن کوئی نہیں اٹھا رہا تھا۔ اور نہ ڈرائیور کال پک کر رہا تھا۔ سبھی پریشان تھے۔ شاہ ویز صاحب ایک اہم میٹنگ کے سلسلے میں شہر سے باہر گئےہوئے تھے۔ حور اور نور بھی پریشان وہیں موجود تھیں۔ بیٹے سے بات کرنے کے بعد بھی ثروت بیگم کو تسلی نہیں ہوئی تھی۔ مزید دل گھبرانے لگا تھا۔ ہماری تو کسی کے ساتھ کوئی دشمنی بھی نہیں۔۔! نجانے کہاں چلی گئی میری ندا۔۔! نجانے کس حال میں ہو گی۔؟ بھابھی! حوصلہ رکھیں۔۔۔! ابیہان آتا ہو گا۔۔! پتہ لگ جائیگا۔ فروا۔۔۔۔! میرا دل بہت گھبرا رہا ہے۔ خدا میری بچی کی خفاظت کرے۔۔۔۔! ثروت بیگم فروا کے گلے لگی تھیں۔ پرویز صاحب مسلسل فون پے بیزی تھے۔۔
###### ##### #####
دھیرے دھیرے دماغ جاگنے لگا۔ سر بھاری ہو رہا تھا۔ آنکھیں کھولنے کی بمشکل کوشش کی۔ جو کسی حد تک کامیاب رہی۔ آنکھوں کے پیوٹے کھلے۔ تو سامنے بیٹھا ایک شخص نظر آیا۔ اندھیرے کی وجہ سے ندا اس کا چہرہ نہ دیکھ پائی۔ جبکہ خود وہ رسیوں میں جکڑی ہوئی تھی۔ چیٸر پے بیٹھی ہوش و حواس میں واپس آ چکی تھی۔ ک۔۔۔۔کو۔۔۔۔ن۔۔۔۔ہو۔۔۔۔ت۔۔۔۔م۔۔۔؟ بمشکل الفاظ ادا کر سکی۔ اس شخص نے ٹانگ پر ٹانگ جمائی۔ اور میز پر کہنی ٹکا کے دو انگلیاں تھوڑی کے نیچے ٹکا کے وہ ندا کی طرف متوجہ ہوا۔ ندا رسیاں کھولنے کی نا کام کوشش کرنے لگی۔ آنکھوں میں وحشت تھی۔ پلیز۔۔۔۔! مجھے۔۔۔جانے دو۔۔۔! کون ہو تم۔۔۔؟ اور۔۔۔۔کیوں۔۔لائے ہو مجھے یہاں۔۔۔؟ اب کی بار ندا روتے ہوئے بول پڑی۔ کیا پلان ہے تمہارا۔۔۔۔۔؟ اور تمہارے ساتھیوں کا۔۔۔۔؟ صرف پانچ منٹ ہیں تمہارے پاس۔۔۔! پورا پورا سچ بتا دو۔۔۔۔! اس شخص نے ندا کی بولتی بند کر دی۔ اتنی بار رعب اور سحرانگیز آواز۔۔ ۔ندا کی آنکھیں حیرت سے پھٹنے کے قریب ہو گئیں۔ ک۔۔۔کون۔۔۔سا۔۔۔پلا۔۔۔ن۔۔۔۔؟؟ کو۔۔۔۔ن۔۔۔سے ساتھی۔۔۔؟؟ ندا کو ٹھنڈے پسینے آنے لگے۔ وہ کن لوگوں کے ہاتھ چڑ گئی تھی۔ چار منٹ۔۔! وہی گھمبیر آواز گونجی۔ اندھیرے کمرے میں۔۔۔۔!! پلیز۔۔۔! مجھے۔۔۔جانے دیں۔۔۔آ۔۔۔۔پ کو۔۔۔کوئی غلط فہمی۔۔ہو گئی ہے۔۔۔۔! میں۔۔۔میں۔۔۔۔!! ندا کو کچھ سمجھ نہ آیا کہ کیا بولے۔ تین منٹ۔۔! سرد مہری لیے وہ آواز پھر سہاٹ لہجے میں گونجی۔ کون تھا وہ۔۔۔ اور کیا چاہتا تھا۔ ندا کا دماغ ماؤف ہو چکا تھا۔ آ۔۔۔۔پ۔۔۔؟؟ ندا کی زبان گنگ ہو گئی۔ دومنٹ۔۔۔! سرد لہجہ پھر سے وہی کرخت اور گھمبیر آواز۔ ندا کے دل کی دھڑکن بہت تیز رفتار سے چلنے لگی۔ نجانے آ گے کیا ہونے والا ہے۔۔۔۔؟ اندھیرے کی وجہ سے خاموشی الگ۔۔ اس کے دماغ اور کان میں گھنٹیاں بجانے لگی۔ سر چکرا سا گیا۔ ایک منٹ کی آواز اسکی سماعتوں سے ٹکرائی یا نہیں اسے نہیں پتہ تھا۔ وہ بس یہی سوچے جا رہی تھی۔ کہ اب آ گے کیا ہونے والا ہے اسکے ساتھ۔۔۔! ندا نے دیکھا۔ وہ شخص اپنی جگہ سے اٹھا۔ ایک لمحے میں ندا کے دل کی دھڑکن اتھل پتھل کوئی۔ ڈر آ نکھوں میں واضح نظر آ رہا تھا۔ وہ شخص آ گے بڑھاZeroواڈ کے بلب کی روشنی میں اسکے چہرے کا کچھ حصہ نظر آیا۔ جو زیادہ واضح نہ تھا۔ آدھا چہرہ ابھی بھی ڈھکا ہوا تھا۔ صرف اسکی آنکھیں نظر آ رہی تھیں ۔ جن میں ندا کو اپنی موت ہی نظر آ ئی۔ خون خشک ہو گیا۔ اس شخص نے لوڈڈ گن ٹیبل پر رکھی۔ اور ایک سپاٹ نظر سامنے بیٹھی خوفزدہ لڑکی پر ڈالی۔ آخری چانس ہے تمہارے پاس۔۔! اپنے بارے میں سب کچھ بتا دو۔۔۔۔!! میں۔۔۔ میں۔۔ ندا کو لگا۔۔۔اب بھی نہ بتایا۔ تو وہ گولی مار دے گا۔ ۔۔۔۔پا۔۔۔نی۔۔۔پا۔۔۔۔نی۔۔۔۔! ندا جیسے ہوش و حواس کھونے لگی۔ اسکے گلے میں جسے کانٹے چبھنے لگے۔ اسے لگا کہ بولا نہیں جائیگا اس سے۔۔۔۔! پانی کا جگ پاس ٹیبل پر ہی پڑا تھا۔ اس شخص نے جگ کا سارا پانی ندا کے چہرے پر اچھال دیا۔ ندا اس اچانک افتاد سے سخت بوکھلائی سامنے والے کی آنکھوں میں سختی اسکے غصے کا پتہ دے رہی تھی۔ زیادہ ڈرامے مت کرو۔ اور فرفر بولو سب! وہ شخص اب غصے کی آخری انتہا پر تھا۔ ندا کو ایسا ہی لگا۔ میں ۔۔۔
۔میرا نام ندا۔۔۔۔ہے۔۔۔ندا۔۔۔! پرویز۔۔۔۔خان۔۔۔۔۔! با۔۔۔با کا ایک ۔۔۔۔بہن ہے۔۔۔۔اور ایک ۔۔۔۔بھائی۔۔۔! ندا فٹ سے اپنا بائیوڈیٹا دینے لگی۔۔۔۔! اس شخص کو مزید غصہ آنے لگا۔ بم۔۔۔کہاں بلاسٹ کرنے والے ہو؟ لوکیشین بتاؤ۔۔۔۔؟ اس شخص نے ندا کے جبڑوں کو اپنی مٹھی میں دبوچا۔ ب۔۔۔م ۔۔۔۔۔کونسا۔۔۔بم۔۔۔؟ ندا کی آ نکھیں اور دماغ پوری طرح کھل چکا تھا اب۔۔۔! ڈر کے ساتھ ساتھ اب وہ اعتماد سے بولی۔ وہی ۔۔۔۔جو۔۔۔۔بلاسٹ کرنے والے ہو۔۔۔۔! بتاؤ۔۔۔۔ورنہ ۔۔۔۔!! اس شخص نے بولتے ساتھ ہی گھن اٹھائی۔ اور ندا کی کنپٹٹی پر رکھی۔ ندا کا جو تھوڑا بہت اعتماد بحال ہوا تھا۔ وہ پھر کہیں جا سوہا۔ سانس بھی اٹک اٹک کر آ رہی تھی۔ میں صرف پانچ تک گنوں گا۔۔۔۔۔۔! اسکے بعد۔۔۔یہ گولی چلے گی۔!! ایک۔۔۔۔دو۔۔۔۔!! وہ گنتی شروع کر چکا تھا۔ د۔۔۔یکھیں۔۔۔۔۔آ۔۔۔۔۔پ کو کوئی غلط فہمی ہوٸ۔۔۔۔ہے۔۔۔کوئی۔۔۔۔بم۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔بلاسٹ۔۔۔کرنے والا۔۔۔۔۔۔! پلیز۔۔۔۔! میرا یقین کریں۔ آ۔۔۔۔پ۔۔کو کوئی۔۔۔۔غلط فہمی ہوتی ہے۔۔۔! جلدی جلدی وہ اٹکتی بولتی چلی گئی۔ Cold bird۔۔۔! اس شخص نے اونچی آواز میں کسی کو پکارا تو جھٹ سے ایک بھکاری وہاں آ ئیگا۔ اسے دیکھتے ہی ندا کے چودہ طبق روشن ہو گئے۔ دماغ پر بجلیاں گریں۔ سیکریٹ ایجنٹ۔۔؟؟ مریمکی آواز کی بازگشت ہونے لگی۔ کیا سنا تھا تم نے۔۔۔! بتاؤ۔۔۔! اس شخص نے من وعن ساری بات بتا دی۔۔۔جو ندا نے فون پر کہا۔۔۔۔!! اب ندا کو اپنی غلطی بلکہ سنگین غلطی کا احساس ہوا۔ ایک چھوٹا سا مزاق اسے کہاں سے کہاں لے آیا۔ آ۔۔۔۔۔پ۔۔۔۔۔پولیس والے ہو۔۔۔؟ ندا نے تھوک نگل کے کہا۔ وہ بھکاری اشارہ ملتے ہی جا چکا تھا۔ اب وہ شخص ندا کے بلکل سامنے ٹیبل پر بیٹھا تھا۔ وہ بہت قریب تھا۔ لیکن ندا اس کی گرین آ نکھوں کو نہیں دیکھ پا رہی تھی۔ باقی کا چہرہ ڈھکا ہوا تھا۔ اب جھوٹ کی کوئی گنجائش نہیں بچی۔۔۔۔! اس لیے تمہارے لیے بہتر یہی ہے۔ کہ سب کچھ۔۔۔۔سچ سچ بتا دو۔ آ ہستہ آ ہستہ آواز میں بولتا وہ سپاٹ لہجہ ندا کو سہما گیا۔ آ نکھوں میں ڈر اور خوف تھا۔
$
شام پانچ بجے ابیہان گھر داخل ہوا۔ تھکا ہارا۔۔۔! ثروت بیگم بھاگتے ہوئے ابیہان کے پاس گئی۔ ابیہان۔۔۔۔! ندا ۔۔۔۔۔کہاں ہے؟؟ اسے ساتھ نہیں لائے۔۔۔؟؟ کہاں ہے میری۔۔۔۔۔بچی۔۔۔؟ ثروت بیگم ابیہان کو جھنجھوڑتی بولیں۔ مما۔۔۔۔! پلیز۔۔۔۔۔! سنبھالیں خود کو۔۔۔! پولیس ڈھونڈ رہی ہے۔ آپ۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔حوصلہ رکھیں۔ ابیہان نے ماں سے زیادہ خود کو تسلی دی۔ اور ثروت بیگم کو گلے سے لگایا۔ مشال فٹ سے پانی لے آئی۔ ابیہان نے زبردستی ماں کو پانی پلایا۔ پرویز صاحب یوں تو ابیہان سے بات نہیں کر رہے تھے۔ دل میں ناراض تھے۔ لیکن اس لمحے وہ ٹوٹے ہوئے بکھرے ہوئے تھے۔ بیٹی کا غائب ہو جانا۔ پرویز صاحب کو اندر سے مار گیا تھا۔ ابیہان چلتا ہوا باپ کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھا۔ بابا۔۔۔! ندا۔۔۔مل نائیگی۔۔۔۔! آپ بھروسہ رکھیں خدا پر۔۔۔۔۔! ابیہان نے باپ کو حوصلہ دیا۔ پرویز صاحب نے آنکھیں سختی سے موندیں۔ آنسو ضبط کئے۔ کہ تبھی پولیس والے آ گئے۔ سر! انسپکٹر فیاض نے ابیہان کو پکارا۔ سب متوجہ ہوئے۔ ہم نے ہر طرف نا کابندی کروا دی ہے۔ ڈرائیور کا بیان لے لیا ہے۔۔۔! اس کے بیان سے یہی لگ رہا ہے۔کہ۔۔۔۔۔آپ کی بیٹی کڈنیب ہوئی ہے۔ انسپکٹر فیاض ٹہرے لہجے میں بولا سب کے دل دھڑکا گیا۔ پلیز۔۔۔۔! انسپکٹر صاحب۔۔۔۔! مجھے میری بہن ہر حال میں واپس چاہیے۔ ابیہان نے اپنے جذبات کو قابو رکھے ہوئے ضبط سے کہا۔ دیکھیں۔۔۔۔! ہم ہر ممکن کوشش کریں گے۔۔۔۔آپ۔۔۔۔بس دھیان رکھئیے گا۔۔۔۔جس نے بھی کڈنیب کیا ہے۔۔ یا دشمنی میں کیا ہے یا پیسوں کے لیے۔۔۔۔ہمیں۔۔۔۔کڈنیپرز کے فون کال کا انتظار کرنا ہو گا۔۔۔! پولیس اپنے ماہرانہ انداز میں بولی۔ دشمنی۔۔۔۔!! ابیہان زیر لب دہرایا۔ ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں انسپکٹر صاحب۔۔۔۔! آپ پلیز میری بیٹی کو جلد از جلد ڈھونڈیں۔ پرویز صاحب کڑک لہجے میں بولے۔ سر! آپ پلیز ہمارے ساتھ تعاون کریں۔ آپ کو کوئی بھی فون آتا ہے۔ آپ سب سے پہلے ہمیں انفارم کریں گے۔۔۔۔! انسپکٹر فیاض اپنی بول کے جا چکا تھا۔ سبھی پریشان حال تھے۔ ابیہان کے کان دشمنی پر ہی ٹک گئے تھے۔ آنکھوں میں قہر تھا۔ اور نظریں ماہیر پر تھیں۔ جیسے ماہیر نے بھی محسوس کر لیا۔ وہ ابھی اس کی نظروں سے الجھ گئی تھی۔
########
ندا نے ایک لمحے کی دیر لگائے بغیر سب کچھ سچ سچ بتا دیا۔ کہ صرف ایک مزاق تھا۔ میجر سکندر کو اس کی بات پر یقین تو نہ آیا۔ لیکن ایک لمحے کو وہ سوچ میں پڑ گیا۔ بھلا ایسا کیسے ممکن تھا۔ تم۔۔۔جانتی ہو۔۔۔۔۔۔! تم کیا کر رہی ہو؟ میجر سکندر نے سرد لہجے میں کہا۔ جی۔۔۔۔! پلیز۔۔۔۔میرا یقین کریں۔۔۔۔۔۔! میں نے کچھ نہیں کیا۔ وہ صرف۔۔۔۔یہی چیک کرنے کے لیے کیا تھا۔ کہ ۔۔۔۔وہ فقیر۔۔۔۔واقعی فقیر ہے یا۔۔۔۔خفیہ ایجنٹ کا بندہ۔۔۔! اور۔۔۔۔۔مجھ۔۔۔سے غلطی ہو گئی۔۔۔۔!! ندا کی معصومیت کی انتہا تھی۔ سکندر تو بس ایک نظر اسے دیکھے گیا۔ وہ انتہا کی معصوم تھی۔ سکندر نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہ اسے ہپناٹائز کرنے لگا۔ اور کمزور اعصاب کی مالک اس کی آنکھوں سے ہپنا ٹائز ہو گئی۔ اب سکندر اس سے سوال کرنے لگا۔ اس نے وہی سارے جواب دئیے۔ جو اس نے ہوش وحواس میں بتایا۔ اس کا مطلب تھا۔ یہ لڑکی سچ کہہ رہی تھی۔ سکندر نے اس کی رسیاں کھول دیں۔ بھائی کا نام بتاؤ۔۔۔۔۔! سکندر کے الفاظ گو نجے۔ ا۔۔۔۔بیہان ۔۔۔۔۔بھائی۔۔۔اور ۔۔نو۔۔۔۔فل۔۔۔بھائی۔۔۔! نوفل کے نام پر سکندر کو جھٹکا لگا۔ یہ۔۔۔۔میجر نوفل۔۔۔؟؟ دماغ میں سپارک ہوا۔۔۔۔! ندا ابھی بھی ہپنا ٹائز تھی۔ نوفل کون۔۔۔؟ کیا کرتا ہے؟ ایک ڈر تھا سوال میں۔ وہ۔۔۔۔۔آرمی میں ہیں۔۔! سیدھے سادھے جواب۔ پورا نام بتاؤ۔۔۔۔! اب شک مزید بڑھا۔ سکندر چوکنا ہوا۔ میجر ۔۔۔۔۔نوفل علی خان۔۔۔! شک یقین میں بدل چکا تھا۔ یہ وہی تھا۔ چوہدری وقار حسین کا سگھا بیٹا نوفل وقار حسین۔ سکندر اچھے سے جانتا تھا۔ سکندر کا نوفل سے کچھ بھی نہیں چھپا تھا۔ سکندر اس کی ساری سچائی جانتا تھا۔ لیکن دنیا والوں کے لیے وہ نوفل علی خان ہی تھا۔ سکندر نے لب بھینچے۔اور ندا کو ہپنا ٹائز سے باہر نکالا۔ ہوش میں آتے ہی ندا نے دیکھا۔ کے اس کے ہاتھ کھل چکے ہیں۔ اور وہ شخص وہاں سے غائب تھا۔ اپنی کلائیوں کو دبایا۔ ہلکا ہلکا درد تھا۔ خود پہ رہ رہ کہ غصہ آ رہا تھا۔ وہ ایسا بچپنا کیسے کر سکتی تھی۔ اتنی بڑی حماقت۔۔۔! اپنے ساتھ وہ خود برا کر چکی تھی۔ سب گھر والے کتنے پریشان ہوں گے۔ نجانے کتنا ٹائم ہو گیا تھا۔ ندا نے ادھر ادھر دیکھا۔ ہلکی ہلکی روشنی تھی۔ لیکن سناٹا تھا ہر سو۔










رات کا اندھیرا پھیلنے لگا تھا۔ نہ ہی کوئی فون آیا تھا۔ اور نہ ہی پولیس کی طرف سے کوئی اطلاع۔ اب تو سب یہی سوچنے لگے۔ کہ آخر کس نے دشمنی نکالی۔ ثروت بیگم کو میڈیسن دے۔کر سلا دیا تھا۔ پرویز صاحب ابھی بھی پریشان تھے۔ اور نظریں فون پر تھیں۔ جیسے جیسے وقت بیت رہا تھا۔ سب کے دل بیٹھے جا رہے تھے۔ فروا بیگم نے فون پر شاہ ویز صاحب کو اطلاع دے دی تھی۔ وہ واپس کے سفر پے تھے۔ اپنے اپنے اثر رسوخ استعمال میں لا رہے تھے۔ لیکن کہی سے بھی کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا۔ ابیہان سڑکوں میں مارا مارا پھر رہا تھا۔ گاڑی پولیس نے اپنی کسٹڈی میں لے لی تھی۔ جہاں گاڑی میں ندا غائب ہوئی تھی۔ پولیس نے پورا علاقہ چھان مارا۔ کہیں کوئی ثبوت نہ ملا۔ ابیہان بھی انہی جگہوں پر خوار ہو رہا تھا۔ لیکن ہر گزرتے لمحے میں اس کے اندر غصہ بھرتا جا رہا تھا۔ ہمت ہارتا جا رہا تھا۔ جس نے بھی کڑنیپ کیا ہے یا دشمنی میں کیا ہے یا پیسوں کے لیے۔۔۔!! انسپکٹر فیاض کی باتیں دماغ میں گردش کرنے لگیں۔ کوئی فون کال نہیں آئی تھی۔ مطلب پیسوں کے لیے کڈنیپ نہیں کیا گیا۔ دشمنی کسی سے نہیں تھی۔۔۔۔! ہاں۔۔۔۔تھی تو۔۔۔۔نئی نئی دشمنی شروع ہوئی۔ ابیہان نے لب بھینچے۔اور گاڑی گھر کے روڈ پر ڈال دی۔
#####
اللہ خیر کرے۔۔۔۔ہماری ندا کو اللہ اپنی حفظ وامان میں رکھے۔ روتی مشال کو ماہیر نے تسلی دی۔ رو رو کے مشال کی آنکھیں سوجھ گئی تھیں۔ نور بھی مشال کے پاس ہی بیٹھی تھی۔ جبکہ حور وہاں نہیں تھی۔ میری بہن بہت معصوم ہے۔۔۔۔۔! مجھے خود پے غصہ آ رہا ہے۔۔۔میں اسے یونیورسٹی۔۔۔۔۔کیوں چھوڑ آئی۔۔۔! اگر۔۔۔۔میں اسے۔۔۔۔۔نہ چھوڑتی وہاں تو۔۔۔۔۔آج۔۔۔وہ۔۔۔گھر ہوتی۔۔۔! میں نے۔۔۔کیوں کی لاپرواہی۔۔۔؟؟ پلیز۔۔۔! آپ خود کو الزام نہ دیں۔۔۔۔۔! سب۔۔۔اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ یہ آزمائش ہے۔ ! مشکل وقت ہے۔۔۔۔کٹ جائے گا۔۔۔۔! ماہیر بھی نرم دل کے ہاتھوں مجبور مشال کے آنسو صاف کرنے لگی۔ مشال کے آنسو اسے اپنے دل پے محسوس ہو رہے تھے۔ تبھی ابیہان گھر میں داخل ہوا۔ تینوں چونکیں۔ غصہ ابیہان کے چہرے پے واضح تھا۔ وہ آگے بڑھا۔ اور ماہیر کو بازو سے جکڑا۔ اور اوپر روم کی جانب بڑھا۔ ماہیر اسکی اس حرکت پر بو کھلائی۔ اسے سمجھ نہ آیا۔ کہ یہ۔۔۔۔اچانک ابیہان کو ہوا کیا ہے؟ ابیہان نے اسے روم میں لا کے بیڈ پر پٹخا۔ اور روم کا ڈور لاک کیا۔ ماہیر کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔ بولو۔۔۔! کہاں ہے میری بہن؟ ابیہان نے ماہیر کو کاندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑ ڈالا۔ ابیہان کی بات نے ماہیر کو سن کر دیا۔ بولو۔۔۔! کہاں ہے میری بہن۔۔۔! اب کے لہجہ میں زیادہ غصہ تھا۔ ماہیر یکدم ہوش میں آئی ۔ پا۔۔۔گل ۔۔۔ہو گئے ہیں کیا۔؟ مجھے۔۔۔۔۔کیا پتہ۔۔۔۔؟؟ مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں؟ ماہیر نے ابیہان کی گرفت سے نکلنے کی ناکام کوشش کی۔ میرے ساتھ ڈرامے مت کرو۔ اور بتاؤ مجھے۔۔۔ندا کہاں ہے۔ ابیہان نے ماہیر کو بیڈ پر دھکا دیا۔ وہ منھ کے بل جا کے گری۔ ابیہان نے اسے بالوں سے پکڑ کر اسکارخ اپنی طرف کیا۔ چھو۔۔۔۔۔ڑیں مجھے۔۔۔۔۔۔! ماہیر درد سے تڑپ گئ۔ میرے غصے کو ہوا مت دو لڑکی ۔۔۔۔۔! ورنہ جان سے جاؤ گی۔۔۔۔! ابیہان کے سرد اور سپاٹ لہجے میں کہے الفاظ ماہیر کے چودہ طبق روشن کر گئے۔ یہ۔۔۔۔کیا۔۔۔بولے جا رہے ہیں آپ۔۔۔۔؟ ماہیر حیران پریشان رہ گئی۔ سیدھی طرح بتاتی ہو یا۔۔۔۔؟ ابیہان نے اسکے چہرے کو مٹھی میں دبوچا۔ مجھے۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔پتہ۔۔۔۔! بمشکل خود کو چھڑاتے ہوئے بولی۔ تمہیں نہیں پتہ۔۔۔؟ تو پھر کسے پتہ ہے۔۔۔۔؟ تمہی ہو یہاں۔۔۔ جو ہمارے گھر کو برباد کرنے آئی ہو۔ بابا کو تم نے اپنی معصومیت کے جال میں پھانس لیا۔ لیکن۔۔۔میں تمہاری اصلیت جانتا ہوں۔ اس لیے سیدھی طرح سچ سچ بتا دو۔ کہ کیا پلان ہے تمہارا؟ اور کہاں ہے میری بہن؟ ابیہان بنا کسی لگی لپٹی کے سیدھا مدعے پر آیا۔ اب برداشت ختم ہو گئی تھی۔ میں۔۔۔۔نہیں جانتی کچھ بھی۔۔۔۔۔پلیز۔۔۔! مت کریں اس طرح میرے ساتھ۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔! ماہیر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ پھر۔۔۔۔پھر سے ڈرامے۔۔۔! ابیہان غصہ سے پھنکارا۔ میں۔۔۔۔کچھ نہیں جانتی۔۔۔۔۔! مجھے۔۔۔جانے۔۔۔۔دیں۔۔۔ہمت کر کے ماہیر آنسو ضبط کرتی دروازے کی جانب بڑھی۔ تو ابیہان نے غصہ سے اسکی بازو سے پکڑ کر اسے اپنی طرف جھٹکا دیا۔ اتنی آسانی سے تو۔۔۔تمہیں میں۔۔۔۔چھوڑنے والا نہیں۔۔۔
تم اور تمہارا وہ باپ۔۔؟ کیا لگات ہے ۔۔میں یہ سازش سمجھ نہیں پاٶں گا۔۔؟؟ عین شادی کے دن۔۔ تمہارا وہاں سے بھاگنا۔۔۔ اور ہمارے گھر میں۔۔ میری زندگی میں انٹر ہونا۔۔۔؟؟ کیا یہ ساش کا حصہ نہیں۔۔؟؟ اور پھر۔۔ اب ندا کا غاٸب کروانا۔۔؟؟ ضرور اس میں تم اورتمہارا باپ دونوں شامل ہیں۔۔؟؟ ابیہان نے سب کچھ خود سے ہی اخز کر یا تھا۔ ماہیر تو اس کی باتیں سنتی ششدر ہی رہ گٸ۔۔؟بھلا وہ اتنا بدگمان کیسے ہو سکتا ہے۔۔؟؟
میں۔۔ میں۔۔ جان بوجھ کے۔ نہ ہی آپ کے گھر آٸ ہوں۔۔ نہ ہی ۔۔ آپ کی زندگی میں۔۔۔! وہ آنسو ضبط کرتے بولی تھی۔
اچھا۔۔؟؟تم نے کہا اور میں نے مان لیا۔۔؟؟ امیزنگ۔۔۔۔! سچ سچ بتاٶ۔۔ کہاں ہے۔۔ ندا۔۔؟؟ ونہ ۔۔؟؟ جان سے مار ڈالوں گا۔۔وہ غرایا۔ میں۔۔ نہیں۔۔ جانتی۔۔۔ چھوڑو۔ مجھے۔۔ وہ درد سے بلبلاٸ تھی۔
درد۔۔۔؟؟ درد تو اب ہوگا۔۔۔۔آخری بار پوچھ رہا ہوں۔ اس کے بعد تم بولنے کے قابل نہیں رہو گی۔ غصیلے لہجے میں کہتا وہ ماہیر کا خون خشک کر گیا۔ اس کی بار بار کی ھمکیوں سے ماہیر کو بھی غصہ سا آنے لگا۔ میں۔۔۔ میں بھی آپکو آخری بار بول رہی ہوں۔ کہ مجھے ندا کے بارے میں کچھ نہیں پتہ۔۔۔۔۔! یقین کریں یا۔۔۔نہ کریں۔۔۔۔! آپکی مرضی۔ اس کی بات پے ابیہان کا دماغ بری طرح گھوما تھا۔ تم۔۔۔تم سمجھتی کیا ہو خود کو۔۔۔؟ ابیہان نے ماہیر کا ہاتھ کمر کے پیچھے لے جا کے مروڑا۔ ماہیر تڑپ گئی۔ چھو۔۔۔۔ڑیں۔۔۔مجھے۔۔۔۔!درد ہو رہا ہے۔۔۔ مجھے۔۔۔ اس بار م ماہیر درد ضبط نہ کر سکی۔۔ ابیہان نے اسے زور سے پیچھے کی طرف دھکا دیا۔ تو وہ توازن برقرار نہ رکھ سکی۔ لڑ کھڑاتی ہوئی ڈریسنگ ٹیبل کی طرف گیری۔ ٹیبل کی نوک ماہیر کے ماتھے پر لگی۔ اور گہرا نشان چھوڑ گئی۔ اس کا سر بری چکریا تھا۔ خون کی بوند اس کے ماتھے پے نمودار ہوٸ۔ جس ابیہان نہ یکھ سکا۔ تبھی دروازے پر زور زور سے دستک ہوئی۔ ابیہان کا دھیان ماہیر سے ہٹا۔ بھائی۔۔۔۔! جلدی دروازہ کھولیں۔۔۔۔! دروازے کی آواز پر ابیہان فورا دروازے کی جانب بڑھا۔ اور دروازہ کھولا۔ بنا پلٹے۔۔۔ بنا ماہیر کو دیکھے۔ وہ ۔۔۔۔۔بھائی۔۔۔نیچے۔۔۔۔ندا۔۔۔۔!!! نور فرط جذبات میں بول نہ پا رہی تھی۔ ابیہان نے نور کی پوری بات نہ سنی۔ اور فورا نیچے کی طرف نور کے ساتھ تیزی لپکا۔ جبکہ ماہیر سر پر چوٹ لگنے سے سر پکڑ کر کھڑی تھی۔ اسکی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا۔ اور چکرا کے وہیں زمین پر گئی۔ ندا۔۔۔۔! ابیہان ندا کو ثروت بیگم کے گلے لگے دیکھ آگے بڑھا۔ ندا نے بھائی کو دیکھا۔ تو فورا ابیہان کے گلے لگی۔ ابیہان نے ندا کو اپنے سینے میں بھینچ لیا۔ خوشی اور آنسو ایک ساتھ چہرے پر برا جمان تھے۔ سبھی خوش تھے۔ اور رو بھی رہے تھے۔ پرویز صاحب بھی بہت آسودہ ہو گئے تھے۔ سب کے چہرے اندرونی خوشی سے جگمگا رہے تھے۔ کہاں۔۔۔۔چلی گئی تھی تم۔۔۔۔۔! جانتی ہو۔۔۔۔۔۔! کیا بیتی ہے ان لمحوں پے ہم پے۔۔۔۔؟ ابیہان نے ندا کا چہرہ ہاتھوں میں لیتے کہا۔ بھا۔۔۔۔ئی۔۔۔۔! مجھے۔۔۔۔نوفل۔۔۔۔۔بھائی لے کے آئے۔۔۔۔! ندا نے نوفل کی طرف اشارہ کیا۔ تو ابیہان نوفل کی طرف مڑا۔ جو چہرے پر ایک بھر پور مسکراہٹ لیے کھڑا تھا۔ ابیہان نے آگے بڑھ کر نوفل کو گلے لگایا۔ سب سے ملنے کے بعد نوفل نے ساری کہانی سنا ڈالی۔ ندا کی شرارت سے لے کر سکندر کے اسے حراست میں لیتے اور پھر سکندر کی کال پر ہی وہ ندا کو لے کر گھر آیا تھا۔ وہ یہاں اپنے ہی شہر میں مشن پر آیا تھا۔ اور یہ بات گھر میں کسی کو نہ پتہ تھی۔ پر یوں سکندر کے بلانے اور ندا کے بارے میں علم ہوتے وہ نوفل پریشان ہو گیا تھا۔ دیکھو نوفل۔۔۔۔۔! مجھے جو صحیح لگا وہ میں نے کہا۔ تمہاری بہن کی یہ شرارت اسے بہت مہنگی پڑ سکتی تھی۔ تم جانتے ہو۔ یہ باتLeakنہ ہو۔ اسی لیے تمہیں بلایا۔ تا کہ تم۔۔۔ خود اپنی بہن کو لے جاؤ۔ یار۔۔۔! میں کس منھ سے تمہارا شکریہ ادا کروں۔۔۔۔۔؟؟ نوفل نے سکندر کو گلے لگایا۔ وہ بہت خوش تھا ایسا مخلص دوست پا کے ندا۔۔۔۔! یہ کیا حرکت تھی۔۔۔۔؟ ایسا کون کرتا ہے؟ ابیہان نے پیار سے ندا کو پچکارا۔ تو وہ منھ بسور کے رہ گئی۔ سوری ۔۔۔۔۔۔بھائی۔۔۔۔۔ ! آئندہ میری توبہ۔۔۔۔جو میں ایسا کچھ کروں۔ ندا کے بجگانہ انداز پے کہنے پے سبھی مسکرا دئیے۔ آجاؤ بچو۔۔۔۔۔۔! کھانا لگ گیا ہے۔ فروا بیگم نے مسکراتے ہوئے سب کو بولا۔ جبکہ نظریں اپنے خو برو بیٹے سے ایک پل کے لیے بھی نہیں ہٹ رہیں تھیں۔ سبھی ڈائننگ ٹیبل کی طرف خوشی خوشی بڑھے۔ ارے بیٹا۔۔۔۔! ماہیر کو بھی بلا لاؤ۔۔۔۔! وہ بھی سب کے ساتھ ڈنر کر لے۔ ثروت بیگم نے نور سے کہا۔ تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ ارے نہیں۔۔۔! مما۔۔۔۔! اسکی طبعیت ٹھیک نہیں تھی۔۔۔وہ۔۔۔سو گئی ہے۔ ابیہان نے فوراً سے نور کو روکا۔ تو ثروت بیگم پریشان ہو گئیں۔ ماہیر۔۔۔۔ٹھیک ہے نہ بیٹا۔۔۔۔؟ زیادہ طبعیت تو نہیں خراب؟؟ ارے نہیں مما۔۔! ٹیبلٹ لے کے سو گئی ہے۔ تھوڑا۔۔۔۔سر میں درد تھا۔ آپ۔۔۔ٹینشن نہ لیں۔۔۔۔۔چلیں آئیں۔۔۔کھانا کھاتے ہیں۔ ابیہان ثروت بیگم کو مطمئن کرتا اپنے ساتھ لگائے ڈائنگ ٹیبل کی جانب بڑھا۔ سب نے آج کتنے عرصے بعد خوشی سے ایک ساتھ وقت بتایا اور کھانا کھایا۔ حور بھی بہت خوش تھی۔ ماہیر کی غیر حاضری کی وجہ سے۔۔۔۔!! سبھی ندا کی واپسی سے بے انتہا خوش تھے۔ جبکہ ماہیر دنیا ومافیا سے بے خبر کمرے کے فرش پر بے ہوش پڑی تھی۔
