Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Takmeel e ishq (Episode 08)

Takmeel e ishq by Muntaha Chohan

کتنا حسین چہرہ۔۔۔! کتنی پیاری آنکھیں۔۔۔۔!!

اتنی پیاری آنکھیں۔۔! آنکھوں سے چھلکتا۔۔۔۔پیار قدرت نے بنایا ہو گا۔۔۔ فرصت سے تجھے میرا یار۔۔۔!! یار۔۔۔۔رضا۔۔۔! یہ سونگ تو بند کرو۔ عجیب ہوتے جا رہے ہو تم۔۔۔۔۔!! میجر سکندر نے کیپٹن رضا کو ڈپٹا۔۔۔۔! جب سے رضا کو نوفل اور ندا والی بات پتہ چلی تھی۔ تب سے رضا سکندر کو تنگ کر رہا تھا۔ ارے سر۔۔۔! یہ سونگ۔۔۔سنیں نہیں۔۔۔۔فیل کریں۔۔! رضا نے مصنو عی سنجیدگی سے کہا۔ جبکہ آنکھوں میں شرارت واضح تھی۔ رضا۔۔۔! مار کھاؤ گے۔۔۔! میجر سکندر نے اب کے غصے سے ڈپٹا۔ ارے سر۔۔۔! آپ۔۔۔تو بدل گئے ہیں۔۔۔۔! ایک ہی دن میں۔۔۔!! رضا مصنوعی معصومیت کا لبادہ اوڑھ لیا۔ ڈرامے باز۔۔۔! اب سیریس ہو جاؤ۔۔۔۔کام کی بات کریں۔۔۔!! جی جی۔۔۔! بلکل۔۔۔! ویسے سر۔۔۔؟؟ بھابھی۔۔۔پیاری تھیں بہت؟ اب تو رضا نے حد ہی کر دی۔ سکندر اسے مارنے کو اٹھا۔ لیکن وہ بھی بھاگ کے اپنی جان بچا چکا تھا۔

#### $$

ابیہان جیسے روم میں داخل ہوا۔ تو سامنے گری ماہیر پر نظر پڑی۔ ابیہان تو سکتے میں آ گیا۔ وہ تو بھول ہی گیا تھا۔ کہ وہ ماہیر کو دھکا دے کر گیا تھا۔ اور وہ یوں۔۔۔اسے اندازہ نہ تھا۔ وہ فوراً لپکا ماہیر کو سیدھا کیا۔ اسکے ماتھے پر چوٹ کا نشان تھا۔ ابیہان نے اسے ہوش دلانے کی کوشش کی۔ ماہیر۔۔۔! ماہیر۔۔۔! اٹھو۔۔! اسکے چہرے پر تھپکیاں دیں۔ لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔ نبض چیک کی۔ عجیب انداز میں دل دھڑک رہا تھا۔ بس یہی سوچ رہا تھا۔ اگر اسے کچھ ہو گیا تو؟ آگے وہ سوچنا ہی نہیں چا رہا تھا۔ نبض چل رہی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ کہ اسے ہوش میں کیسے لائے۔ گھر والوں کو انفارم کر کے پریشان نہیں کر سکتا تھا۔ پھر ایک فیصلے پے پہنچ کے ابیہان نے ماہیر کو بانہوں میں اٹھایا۔ اور نیچے لے آیا۔ گارڈ نے ابیہان کو دیکھتے ہی آگے بڑھا۔ صاحب جی۔۔۔۔؟؟ وہ پریشان ہوا تھا۔ کریم بابا گیٹ کھولو۔ اور کسی کو کچھ پتہ نہ لگے۔ ابیہان نے ماہیر کو گاڑی کی بیک سیٹ پر لٹایا۔ اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر آ گیا۔ رش ڈرائیونگ کر کے وہ قریبی ہاسٹل پہنچا۔ ماہیر کو اٹھاتے وہ ہاسٹل میں داخل ہوا۔ حواس باختہ ہؤا ہوا تھا۔ ڈاکڑ نے ابیہان کو دیکھتے ہی اسے ڈیل کیا۔ وہ ابیہان کا دوست تھا۔ ابیہان کو رہ رہ کر خود پر غصہ آ رہا تھا۔ کہ اس نے کیوں ماہیر کے ساتھ اتنا برا سلوک کیا۔ وہ لمحے پھر سے آنکھوں میں گھومنے لگے۔ تو سختی سے آنکھیں موند لیں۔ تصور میں ماہیر کا معصوم اور شرارتی چہرہ لہرایا۔ تو دل سے دعا نکلی۔ کہ اسے کچھ نہ ہو۔ کچھ ہی دیر بعد ڈاکڑ نے اسے روم میں بلا لیا۔ ابیہان ۔۔۔۔! اب ٹھیک ہیں وہ۔۔۔۔! ڈونٹ وری۔۔۔۔! سر پر چوٹ لگنے سے وہ بے ہوش ہوئی ہیں۔ ڈاکڑ باسط بولتے ہوئے ابیہان کا جائزہ لینے لگا۔ تھینکس گارڈ۔۔۔! بے اختیار ہی ابیہان کے لبوں سے ادا ہوا۔ بائی داوے۔۔۔! یہ۔۔۔ہیں کون؟ ڈاکڑ باسط نے شکی لہجے میں پوچھا۔ ابیہان نے اچھنبے سے اپنے دوست کو دیکھا۔ ,,She is my wife,,مضبوط لہجے میں جواب دیا۔ رئیلی۔۔۔؟؟ باسط جتنا حیران ہو سکتا تھا وہ ہوا۔ ہاں یار۔۔۔! بس اچانک ہوا۔۔۔! ابیہان تھکے انداز میں بولا۔ ام۔۔۔۔۔ڈئیر۔۔۔ بھابھی کی کئیر بھی کرو۔ وہ بہت ویک ہیں۔۔۔! انجکشن دے دیا ہے۔ کچھ دیر میں انہیں ہوش آ جائے گا۔ تو گھر لے جانا۔ اور۔۔۔یہ کچھ میڈیسن بھی ہیں۔ ٹائم سے دینا اور کھانے کا خاص دھیان رکھنا۔ ڈاکڑ باسط ماہیرانہ انداز میں سلپ ابیہان کی طرف بڑھاتے بولا۔ ابیہان نے سلپ لے کے اثبات میں سر ہلایا۔ پھر کب دے رہے ہو؟ ابیہان جو جانے کے لیے اٹھا۔ باسط کی بات چونکا۔ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔ تو ڈاکڑ باسط مسکرائے۔ یار،،Party,,۔۔۔! شادی کرلی۔ ,,Party,,تو بنتی ہے ناں۔۔۔! ابیہان نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔ اور باہر نکل آیا۔ ماہیر کو ہوش آیا۔ تو خود کو ہاسپیٹل کے بیڈ پر پایا۔ کچھ دیر تو ہوش وحواس قائم کرنے میں لگ گئے۔ پھر دھیرے دھیرے سب یاد آگیا۔ بے اختیار ہاتھ ماتھے پر گیا۔ جہاں بینڈیج بندھی ہوئی تھی۔ جھٹ سے اٹھ کے بیٹھ گئی۔ آنکھوں سے دو آنسو بہہ نکلے۔ اپنی کم مائیگی پھر سے یاد آنے لگی۔ وہ۔۔۔وہ مجھ سے اتنی نفرت کرتے ہیں۔کہ ۔۔۔۔مجھ پر شک کر رہے تھے۔۔۔کہ ندا کو۔۔۔میں نے۔۔۔؟؟ وہ ۔۔۔۔مجھے۔۔۔نجانے۔۔۔۔کیا سمجھتے ہیں۔۔۔؟؟۔۔۔میں نے تو کبھی۔۔۔اس گھر کے۔۔۔۔کسی فرد کا برا نہیں چاہا۔۔۔! پھر۔۔۔کیوں ۔۔۔مجھ پر الزام لگایا۔۔؟؟ خود سے ہی سوال کرتی وہ آنسو بہا رہی تھی۔ نہیں۔۔۔! بس ۔۔۔۔! اب اور نہیں۔۔۔! میں۔۔۔۔اب وہاں۔۔۔۔اس گھر میں واپس نہیں جاؤں گی۔۔۔! کبھی نہیں۔۔۔۔! سختی سے گالوں سے آنسو پونچھے۔ بیڈ سے پاؤں نیچے اتارے۔ لیکن جوتے غائب تھے۔ ادھر ادھر تلاشا۔۔۔۔۔پر۔نہ ملے۔۔۔! میں۔۔۔میرے جوتے۔۔۔؟؟ میں یہاں کیسے آئی۔۔۔؟؟ یکدم دماغ میں کرنٹ لگا۔ ابیہان لے کے آیا۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ ۔۔۔۔۔واپس آئے۔۔۔۔مجھے یہاں سے جانا ہو گا۔۔۔! یہی سوچتے اٹھنے لگی۔ کہ چکرا کر پھر سے بیٹھ گئی۔ کہاں۔۔۔کہاں۔۔۔۔جاوں گی۔۔۔؟ کوئی در۔۔۔۔۔کوئی ٹھکانا نہیں۔۔۔! لیکن۔۔۔۔ایک بات کانفرم ہے۔ واپس نہیں جاؤں گی۔۔۔۔! دل میں تہیہ کر کے وہ اٹھی۔ ابھی دو قدم بھی نہ چلی کہ ابیہان میڈیسن لئیے روم میں داخل ہوا۔ ماہیر ٹھٹھک کر روک گئی۔ دونوں کی نظریں ملیں۔ کچھ چائیے۔۔۔۔؟ نارمل لہجے میں پوچھا۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ زہر۔۔۔۔زہر چائیے۔۔۔! مل سکتا ہے؟؟ چبا چبا کر کہا۔ نا چاہتے ہوئے بھی ابیہان کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔ جسے وہ منھ پھیر کے بروقت چھپا گیا۔ ماہیر نے باہر کی طرف قدم بڑھائے۔ کہاں جا رہی ہو۔؟ ابیہان نے تھکے انداز سے پلٹ کر دریافت کیا۔ جہنم میں۔۔۔! اور پلیز۔۔۔! اب ۔۔۔۔مزید کوئی سوال نہیں۔۔۔! ماہیر نے ہاتھ اٹھا کے ماتھے پر تیوری سجائے بولا۔ اتنے میں ابیہان سر پر پہنچ گیا۔ ایک لمحے کے لیے دونوں کی نظریں ملیں۔ جھٹ سے ابیہان نے ماہیر کو بانہوں میں اٹھایا۔ ماہیر حیران نظروں سے ابیہان کو دیکھنے لگی۔ اتاریں مجھے نیچے۔۔۔۔! یہ ۔۔۔کیا حرکت ہے؟ ماہیر اسکی بانہوں میں مچلی۔ ابیہان اس کی بات کو نظر انداز کرتا باہر کی جانب قدم بڑھائے۔ ہاسپیٹل میں اکا دکا لوگ ہی تھے اور سٹاف تھا۔ جو دیکھ کر معنی خیز ہنسی ہنسی دئیے۔ ماہیر نے شرم کے مارے ابیہان کے سینے میں منھ چھپا لیا۔ کہ مزاحمت بے کار تھی۔۔۔۔ابیہان کو کھبی کسی کی پرواہ نہ پہلے ہوئی نہ آج۔ وہ ہمیشہ وہی کرتا۔ جو وہ کرنا چاہتا تھا۔ ماہیر کا منھ چھپانا ابیہان کو بہت بھایا۔ فرنٹ سیٹ پر بیٹھاتے۔ سیٹ بیلٹ لگا کر وہ ڈرائیونگ سیٹ پر آ گیا۔ اور گاڑی روڈ پر ڈال دی۔ ماہیر مٹھیاں بھینچتی رہ گئی۔ میں گھر نہیں جاؤں گی۔ بہت مضبوط لہجے میں کہا۔ ابیہان خاموش رہا۔ میں۔۔۔۔آپ سے کچھ کہہ رہی ہوں۔۔۔۔! مجھے۔۔۔۔آپ کے ساتھ نہیں جانا ماہیر غصہ ضبط کرتے ابیہان کی جانب مڑی۔ آپ سن رہے ہیں۔ میں کیا کہہ رہی ہوں۔۔۔۔؟ ابیہان کی لا پرواہی ماہیر کو مزید بھڑکا رہی تھی۔ تو اونچی آواز میں بولی۔ ابیہان نے گاڑی گیٹ کے اندر داخل کی۔ اور باہر نکلا۔ ماہیر گاڑی سے نہ اتری۔ ابیہان اسکی سائیڈ کا دروازہ کھول کے کھڑا رہا۔ خود جانا ہے اندر۔۔ یا میری بانہوں میں؟ معنی خیزی سے کہا۔ ماہیر کی خوبصورت آنکھیں مزید پھیل گئیں۔وہ سوچ کے رہ گئی۔ کہ یہ کیا کرنے والا ہے؟ اسکا ارادہ کیا ہے۔

جب ماہیر باہر نہ نکلی۔ تو ابیہان نے آگے بڑھ کر اسے اٹھانا چاہا۔ ن۔۔۔ نہیں۔۔۔! میں۔۔۔ خود۔۔۔۔ چلی جاؤں۔۔۔گی۔ ماہیر نے گھبرا کے دونوں ہاتھوں سے ابیہان کو روکا۔ ابیہان دھیرے سے مسکرا کر پیچھے ہٹ گیا۔ ماہیر مرے ہوئے قدموں سے گھر میں داخل ہوئی۔ اندر ہی اندر وہ بہت سخت ڈری ہوئی تھی۔ ابیہان کا انداز اسے کھٹکا رہا تھا۔ یہ اتنی رات کو کہاں گئے تھے دونوں۔۔۔! کہاں سے آ رہے ہیں۔۔۔؟؟ حور جو پانی کے لیے اٹھی تھی۔ ابیہان اور ماہیر کو روم میں جاتے دیکھا اور وہ دونوں کی پیٹھ ہی دیکھ سکی۔ ورنہ ماہیر کے ماتھے پر لگی بینڈیج ہے نظر پڑی۔ تو سمجھ جاتی۔ دماغ میں تانے بانے بنتی وہ اپنے روم میں چل دی۔

##########

بہت دیر ہو گئی تھی۔ نادیہ کو وظیفہ کرتے۔اب وہ مکمل ہو گیا تھا۔ وہ ابھی بھی پڑھ رہی تھی۔ وہ پڑھتے ہوئے تعویز اس نے گلے میں ڈالا۔ اور ایک بھر پور مسکراہٹ اس کے لبوں پے آ ٹھہری۔ آنکھیں موند کے نوفل کی شبہیہ دل میں اتارنے لگی۔ جبکہ لب مسلسل ہل رہے تھے۔ زینب بیگم مسلسل اپنی بیٹی کو دیکھے جا رہی تھیں۔ جو خود تو پر اسرار تھی۔ حرکتیں بھی بہت پر اسرار تھیں۔ وہ نادیہ سے ڈرتی تھیں۔ اس لیے کچھ بھی پوچھنے کا حوصلہ نہ رکھتی تھیں۔

انٹر کام پے دودھ کا گلاس منگوا کے ماہیر کو دیا۔ وہ منہ بسورنے لگی۔ اور دوسری طرف دیکھنے لگی۔ابیہان اس کا انتظار کرنے لگا۔ خود لو گی یا میں پلاؤں؟ لہجے اور الفاظ کے معنی خیزی ماہیر کا دل دھڑکا گئی۔ جھٹ سے گلاس تھام لیا۔ ابیہان خاموشی سے پلٹ گیا۔ میں جب تک آؤں تو گلاس خالی ہو۔ اور کوئی چالاکی کی۔ تو۔۔۔انجام بہت برا ہو گا۔ بنا ماہیر کو دیکھے کبرڈ سے کپڑے لیتا وہ باتھ روم کی جانب بڑھ گیا۔ اس کے جانے کے بعد ماہیر اس کی نقل اتارنے لگی۔ اب میں۔۔۔ ہر کام اس کی مرضی سے کروں گی؟ No, Never…! ماہیر نے دانت کچکچائے۔ اور دودھ کے گلاس کی طرف دیکھا۔ لیکن پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے۔ اس لیے پھینکے کا ارادہ کینسل کیا۔ اور گلاس منہ سے لگایا۔ ابیہان واپس آیا۔ تو وہ مزے سے بیڈ پر لیٹی تھی۔ بیک کراؤن سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے۔ پل بھر کو ابیہان ٹھٹھکا۔ کیا چیز تھی وہ۔۔! ایسے میں کتنی معصوم اور جاگتے میں پوری چڑیل۔۔۔! بے اختیار ہی ابیہان کے لب مسکرائے۔ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا وہ گیلے بالوں میں comb کر رہا تھا۔ جبکہ مرر سے وہ ماہیر کو مسلسل نظروں میں فوکس کئے ہوئے تھے۔ کچھ یاد آنے پر پلٹا۔ اٹھو۔۔۔۔! اور میڈیسن لے لو۔۔۔! ابیہان نے اس کے سر پر جا کے بولا۔ تو وہ یکدم ڈر گئی۔ نیلی کانچ سے آنکھیں میں نیند ہلکورے لے رہی تھی۔ وہ آنکھیں ابیہان کو بے خود سا کرنے لگیں۔ ابیہان کا جی چاہا۔ وہ ان آنکھوں کو چوم کے اپنا لمس ان پے چھوڑ دے۔ لیکن بر وقت نظریں ہٹا کے آنکھوں کا زاویہ بدلا۔ نیند کی وادیوں میں کھونے سے پہلے ماہیر نے خاموشی سے میڈیسن لی۔ اور آنکھیں موند لیں۔ ابیہان نے بھی چھیڑنا مناسب نہ سمجھا۔ اور صوفے کی جانب قدم بڑھا دئیے۔ اور بمشکل ہی سہی وہاں تک گیا۔ کیا وقت آ گیا ہے۔ کتنے مزے سے میرے بیڈ پر قبضہ جما کے لیٹی ہے۔ اور اپنے ہی روم میں میں یہاں صوفے پر ہوں۔ ابیہان نے نفی میں سر ہلایا۔ لیکن آج کے دن کا لحاظ تو کرنا ہی تھا۔ کہ آج کے دن تو چوٹ بھی خود ہی دی تھی۔ مرہم بھی خود رکھنی تھی۔ نیند تو کیا خاک آنی تھی۔ لیٹے ہوئے ہی نظریں اس پری پیکر چہرے کا طواف کرنے لگیں۔ وہ بہت خوبصورت تھی۔ اور ایج میں بھی کم تھی۔ لیکن پھر بھی وہ ابیاہن کے دل تک رساٸ حاصل کر گٸ تھی۔ شاید۔۔ یہ نکاح کے دو بولں کا اثر تھا۔ کہ وہ اس کے لیے اپنے دل میں نرم گوشہ محسوس کرنے لگا تھا۔ کیا یار۔۔۔؟؟ یہ لڑکی۔۔۔ مجھے۔۔ پاگل کر دے گی۔۔۔۔ ابیہان نے کروٹ بدلی۔ لیکن نظریں بھٹک کے پھر اس نازک وجود پے جا ٹھہیریں۔ اور اس بار نظریں ہٹنے سے انکاری تھیں۔ ماہیر پے نظریں جماٸے کب وہ نید کی وادیوں میں کھونے لگا اسے پتہ ہی نہ چلا۔

#########

ناشتے کی ٹیبل پر نوفل نے سب کو اپنی واپسی کے متعلق آگاہ کیا۔ لیکن بیٹا۔۔۔۔! کل تو آپ آئے ہیں۔ اتنی جلدی واپسی؟ فروا بیگم بیٹے کی بات سے افسردہ ہو گئیں۔ شاہ ویز صاحب خاموشی سے اٹھ کے آفس کے لیے نکل گئے۔ ان کی خاموشی کو سب نے محسوس کیا۔ مما۔۔۔۔! میں چھٹی آیا ہی کب تھا۔ وہ تو ندا کا مسئلہ ہوا تو مجھے آنا پڑا۔ ابھی۔۔۔! ایک مشن پر جانا ہے۔ دعا کریں۔ خدا سرخرو کرے۔ پھر انشاء اللہ کافی دن کی چھٹی پر آؤں گا۔ کن اکھیوں سے ناشتہ کرتی مشال کو دیکھا۔ بیٹا۔۔۔! اگر اسی شہر میں ہیں تو گھر آ جایا کری ںشام کو۔ پرویز صاحب نے پیار سے کہا۔ نہیں بڑے پاپا۔۔۔۔! دوسرے شہر میں پوسٹنگ ہے۔ نوفل نے جھٹ سے بات کو سنبھالا۔ ورنہ اس کے مشن کے لیے مسئلہ پیدا ہو جانا تھا۔ وہ سیکرٹ مشن پر تھا۔ اور یہ بات صرف شاہ ویز صاحب جانتے تھے۔ آپ کے بیٹے اور بہو کا اتا پتا نہیں۔۔۔؟ آج ناشتہ نہیں کرنا انہوں نے؟؟ پرویز صاحب نے ثروت بیگم سے پوچھا۔ ثروت بیگم جواب دیتیں۔ کہ ابیہان اور ماہیر سیڑھیاں اترتے نظر آئے۔ جبکہ نوفل بہو لفظ پڑتی چونک گیا تھا۔ بکبارگی سب کی نظریں نوفل سمیت سیڑھیوں کی طرف اٹھیں۔ اسلام و علیکم! ابیہان چیئر گھیسٹ کے بیٹھا۔ ماہیر بیٹا۔۔۔! یہ آپ کے ماتھے پر۔۔ چوٹ کیسی؟ ثروت بیگم فوراً اس کے پاس آئیں۔ ماہیر نے گڑ بڑا کے ابیہان کی طرف دیکھا۔ جولا پرواہی سے ناشتہ کرنے میں مگن تھا۔ کیونکہ وہ اپنا کام روم میں ہی کر آیا تھا۔ اب ماہیر نے وہی بات کرنی تھی۔ جو ابیہان نے اسے بولنے کو کہی تھی۔ ک۔۔۔ کچھ۔۔۔ نہیں آنٹی۔۔۔! رات کو اندھیرے میں ڈریسنگ سے چوٹ لگ گئی تھی۔ نظریں جھکاتے دھیرے سے کہا۔ ارے بیٹا۔۔۔! دھیان سے کام کیا کرتے ہیں۔۔۔! زیادہ درد تو نہیں؟ ثروت بیگم ویسے ہی پریشان ہو گئیں۔ جیسے اپنی اولاد کے لیے ہوتی تھیں۔ جی۔۔۔ آنٹی۔۔۔۔! ٹھیک۔۔ ہوں اب۔۔۔! ماہیر کا لہجہ گلوگیر ہو گیا۔ ثروت بیگم نے اسے چیئر گھیسٹ کر ابیہان کے ساتھ بیٹھایا۔ اور اس کی پلیٹ میں بریڈ اور انڈا رکھنے لگیں۔ ثروت بیگم کی اتنی محبت اور کیئر پر ماہیر انھیں حیرانی سے دیکھنے لگی۔ آنکھوں میں نمی آگئی۔ جسے چہرہ جھکا کے بمشکل چھپایا۔ اندر ہی اندر شرمندہ ہونے لگی۔ یا خدا۔۔۔! یہ لوگ تو مجھے اتنا چاہنے لگے ہیں۔ میں۔۔۔ ان کی۔۔۔ محبتوں کے قرض میں ڈوب جاؤں گی۔۔۔! ناشتے کے وقت یہی سوچتی رہی۔ چلو ندا۔۔۔! دیر ہو رہی ہے۔ مشال نے اٹھتے ہوئے ندا کو پکارا۔ تو ماہیر نے حیرانی سے پہلے ندا کو دیکھا۔ پھر ابیہان کو۔۔۔! یعنی ندا واپس آ گئی۔ تبھی یہ۔۔۔ صاحب جلاد مطمئن تھے۔ اب ساری بات سمجھی۔ نوفل بیٹا۔۔۔! ناشتے کے بعد میرے روم میں آئیں۔ مجھے کچھ ضروری بات کرنی ہے آپ سے۔ فروا بیگم نے اٹھتے ہوئے نوفل سے کہا۔ نوفل جس کا دھیان جاتی مشال پر تھا۔ فروا بیگم کی طرف متوجہ ہوا۔ نوفل کی کل سے مشال سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ اور وہ جانے سے پہلے مشال سے مل کر جانا چاہتا تھا۔ پر۔۔۔۔ موقع ہی نہیں مل رہا تھا۔ میڈیسن یاد سے لے لینا۔۔۔۔! ابیہان اٹھتے ہوئے دھیرے سے ماہیر کے کان میں بولتے اٹھا۔ اور آفس کے لیے نکل گیا۔ ماہیر اس کے رویے پے انتہائی حیرانی سے دو چار ہوئی۔

########

سرخ و سفید رنگت چھ فٹ سے نکلتا قد۔۔۔ چوڑا کسرتی جسم، لائیٹ گرے شرٹ اور بلیک پینٹ میں مردانہ وجاہت کا شکار وہ جیسے ہی کلاس روم میں داخل ہوا۔ سب خاموش ہو گئے۔ اس کی پرسنیلٹی سب کو اپنی طرف متوجہ کر رہی تھی۔ لڑکیاں تو لڑکیاں لڑکے بھی اس کے آگے پانی بھرتے نظر آ رہے تھے۔ سبھی مرعوب ہو گئے۔ ڈئیر اسٹوڈینٹس۔۔ آئی ایم یور نیو ہسٹری ٹیچر۔۔۔۔! مائی نیم از ریحان۔۔۔ پروفیسر ریحان۔۔۔۔! Phd ہولڈر ان ہسٹری سبجیکٹ۔۔۔! سب پر ایک طائرانہ نگاہ ڈال کے وہ اپنی سحر انگیز آواز سے سب پے حاوی ہوتا جا رہا تھا۔ اور ندا جو مریم کے ساتھ والی سیٹ پر براجمان تھی۔ اس کی آواز پر پورے جان سے کانپ گئی۔ نظریں اٹھا کے سامنے کھڑے انسان کو دیکھا۔ لیکن سمجھ نہ آیا۔ کہ یہ وہی ہے؟ یا کوئی اور۔۔۔۔! ندا پورے جزبے سے اپنے ٹیچر کا جائزہ لے رہی تھی۔ یہ جانے بغیر کے کلاس میں موجود تمام اسٹوڈنٹس باری باری اپنا تعارف کروایا رہے تھے۔ اور اب سب کی نظریں اس پر تھیں۔ اور اس کی نظریں سامنے کھڑے شخص پر۔ مریم نے اسے ٹہوکا لگایا۔ تو وہ ہڑ بڑائی کیا ہوا؟ بنا دیکھے ہی دریافت کیا۔ میڈیم ! ہوش میں آ جائیں۔ اور سر کو گھورنا بند کریں۔ اپنا introduction کروائیں۔ مریم نے ایک ایک لفظ چباچبا کر کہا۔ تو ندا نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔ پھر پوری کلاس میں نظر گھمائی۔ تو سب کی توجہ کا مرکز وہی تھی۔ جھٹ سے کھڑی ہوئی۔ میں۔۔۔ میرا۔۔۔نام۔۔۔۔ ندا پرویز علی خان ہے۔ میں۔۔۔!! Sit down Miss Nida…!ابھی ندا اپنا پورا Introduction بھی نہیں کروا پائی تھی۔ کہ سر ریحان نے اسے بیٹھنے کو بول دیا۔ وہ گڑ بڑا کے چپ ہو گئی تھی۔ اس کے بیٹھتے ہی مریم کی ٹرن تھی۔ اس نے اپنا مکمل تعارف کروایا۔ باقی سب نے بھی مکمل تعارف کروایا۔ ندا نے چونک کر سامنے دیکھا۔ سر ریحان کا دھیان جو تعارف کروا رہا تھا۔ اس کی طرف تھا۔ منہ بسور کے نیچے کر لیا۔ سر ریحان نے لیکچر اسٹارٹ کیا۔ ندا گاہے بگا ہے۔ ایک نظر سر ریحان پر ڈال لیتی۔ لیکن سر نے بھول کے بھی ندا کی طرف ایک بار بھی نہ دیکھا۔ بلکہ ندا کو Feel ہوا کہ سر ریحان کی نظریں بار بار مریم کو فوکس کر رہی تھیں۔ ندا نے گردن موڑ کے ساتھ بیٹھی مریم پر ایک نظر ڈالی۔ جو آج دھیرے دھیرے چہرے سے smile دے رہی تھی۔ شاید اسے بھی یہ احساس ہوا تھا۔ ندا نے سر جھٹکا اور نظریں کتاب پر جما دیں۔ ہونہہ۔۔۔۔! بس پوری کلاس میں ایک یہ مریم ہی ہے۔ باقی تو یہاں اور کوئی ہے نہیں۔۔۔! کہ کسی کو دیکھے۔ ندا غصے سے بڑبڑائی۔ تبھی لیکچر اینڈ ہوا۔ او کے اسٹوڈنٹس۔۔۔! اس ٹاپک پر سب ایک Presentation تیار کریں گے۔ دو دن بعد مجھے Submit کروانی ہے۔ سب نے۔۔۔۔!! سب پر ایک نگاہ ڈالتا وہ کلاس سے باہر نکل گیا۔ ندا نے سر اٹھایا۔ واہ کیا ہینڈسم بندہ ہےیار۔۔۔! قسم سے۔۔۔! اس کی Smile Eyes اور گال کا ڈمپل۔۔۔! آف” So hot” مریم تو سر ریحان کے جاتے ہی اس کی تعریف میں قلابازیاں لگانا شروع ہو گئی۔ جو ندا کو ایک اکھ نہ بھایا۔ اب بس بھی کر دو۔۔۔! اتنے بھی خوبصورت نہیں کہ بندا تمہارے جیسا پاگل ہی ہو جائے۔ ندا نے چڑ کر کہا۔ ثوبہ ہے ندا۔۔۔۔! تمہیں وہ بندا ہینڈسم نہیں لگا۔۔۔؟؟ یا۔۔۔۔ اس نے تمہاری طرف توجہ نہیں دی۔ اس لیئے تمہیں برا لگا۔ مریم نے جو محسوس کیا۔ وہ بے دھڑک بول بھی دیا۔ کرنل محمد خان کی اکلوتی بیٹی تھی۔ وہ۔۔۔! منہ میں سونے کا چمچ کے پیدا ہوئی تھی۔ کسی کے بس کا کام نہیں تھا مریم کے دل کو جیت سکے۔ لیکن یہ واحد سر ریحان ہی تھا جس نے مریم کے دل کے تار چھیڑے تھے۔ مریم تم بہت چھچھوری گفتگو کر رہی ہو اب۔۔۔!تو کرتی رہو۔۔ میں جا رہی ہوں۔۔ندا اسکی باتو ںسے چڑتی جا چکی تھی۔

ارے رکو تو۔۔ میں بھی آرہی ہوں۔۔! مریم نے پیچھے سے ہانک لگاٸ۔

💢
💢
💢
💢
💢
💢
💢
💢
💢
💢

ایکسکیوز می۔ یہ آپ کا پن ہے۔۔ آواز پے مریم اور ندا مڑیں تھیں۔ پروفیسر ریحان کے ہاتھ میں یک پن تھا جو کہ مریم کا تھا۔

اوہ۔۔ جی جی۔۔ سر ۔۔ یہ میرا ہے۔۔۔! تھینکیو سو مچ۔۔۔! مریم خوشی سے چہکی۔ ندا دونوں کو حیران ہوتے دیکھ رہی تھی۔

شکریہ سر۔۔۔! مریم کے چہرے پے انتہا کی خوشی تھی۔

ریحان اسے پن تھماۓ جا چکا تھا۔ جب کہ ندا کو ابھی تک مریم اسی کے خیالوں میں کھوٸ ہوٸ محسوس ہوٸ تھی۔

اب اک کام کرنا۔۔۔! اس پن کو فریم کروا کے دیوار پے ٹانگ دینا یا۔۔ تعویز بنا کے گلے میں پہن لینا۔۔

ندا نے اسے گھورتے ہوۓ اسے چوٹ کی تھی۔

ویسے آٸیڈیا برا نہیں۔۔ مریم نے بیگ سے ڈوری نکالتے پن کو اس میں ڈالتے پن اپ کیا اور گلے میں ڈال لیا۔۔۔ ندا افسوس سے سر پے ہاتھ مارتی رہ گٸ۔ اس کا کچھ نہیں ہو سکتا۔۔۔

⭐
⭐
⭐
✅
✅
✅
✅
✅
✅

ٹارگٹ از کلیٸر۔۔۔! سر ریحن نے بلیو ٹوتھ سے کسی کو انفارم کیا۔ ن کے چہرے پے ایک مسکراہٹ رقصأ تھی۔ جس کی وجہ وہی جانتے تھے۔

💢
💢
💢
💢
💢
⭐

ڈراٸیونگ کرتے نوفل مسلسل فروا بیگم کی باتوں کو سوچ رہا تھا۔ ان کی ساری باتیں سنتا وہ انہیں تو تسلی دے آیا تھا۔ لیکن اب حقیقتاً خود پریشان ہو گیا تھا۔

بیٹا۔۔! ابیہان کے نکاح پے آپ کے بابا بہت برہم ہیں۔ بیٹا۔۔ لیکن۔۔ جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔۔ اسسب میں۔۔ مشال کا کیا قصور۔۔؟؟ اور میں چاہتی ہوں۔ اب آپ کی اور مشال کی شادی ہو جاۓ۔۔ مزید میں کسی قسم کی کوٸ بدمزگی نہیں چاہتی۔۔

آپ کےبابا کے ارادے ۔۔ مجھے ٹھیک نہیں لگ رہے۔۔ ! ایک ڈر سا لگ رہا ہے۔۔ مجھے۔۔۔!

گاڑ کو پارنگ ایرای میںسکھڑا کرتا وہ باہر نکلا۔

وہ بھی جلد از جلد یہ مشن مکمل کرتا ماں کی خواہش کا احترام کرنا چاہتا تھا۔ اس کی بھی یہی مرضی تھی۔ لیکن اس وقت وہ جس مشن میں تھا۔ وہ فی الحال اس سب میں نہیں پڑ سکتا تھا۔

بھلے وہ فروا بیگم کی باتوں سے پریشان ہو گیا تھا۔ اور وہ جو نہیں نادیہ کے متعلق آگاہ کرنے والا تھا۔ نہیں بتا پایا۔ وہ انہیں مزید پرشان نہ کرسکا۔ لیکن۔۔ ایک بات طے تھی۔ وہ کسی بھی حالمیں مشال کو نہیں چھوڑنے والا تھا۔ مشال اس کی منکوحہ تھی۔ اس کے نکاح میں تھی۔ اس کی عزت۔۔ اور شاید ۔محبت بھی۔۔۔ ۔وہ ایک فوجی تھی۔۔ اپنے قول و فعل کا پکا۔۔۔! وہ اپنی بات سے اپنے رشتے سے کبھی بھی آنکھیں نہیں وڑ سکتا تھا۔۔ اور ہر حال میں مشال کو اپنانے کا فیصلہ سوچ چکا تھا۔

✅
✅
✅
✅
✅
✅
✅
✅

اپنے کرے میں بیٹھی ماہیر مسلسل ماہیر کے بارے میں سوچ رہی تھی۔

یہاں سب لوگ بہت اچھے تھے۔۔ سبھی اس سے پیار محبت اور عزت سے پیش آتے تھے۔ لیکن وہیہ بھی جانتی تھی۔۔۔ کہ اس کے بابا بھی اسے مسلسل ڈھونڈ رہے ہوں گے۔۔۔ اور بہت جلد وہ اس تک پہنچے گے اور اسے۔۔۔ یہاں سے۔۔؟؟

ماہیر گھبرا گٸ۔۔ اسے ٹینشن ہو رہی تھی۔ اس کا سر درد سے پھٹا جا رہا تھا۔

یااللہ یہ کیسی آزماٸش ہے۔۔؟؟ کیا کروں میں۔۔؟ یہاں سب اتنے اچھے ہیں۔۔ اور۔۔ بابا نے اگر۔۔ ان میں سے کسی کو بھی میری وجہ سے۔۔ کوٸ نقصان بھی پہنچایا۔۔ تو میں میں۔۔ خود کو کبھی معاف نہیں کر پاٶں گی۔۔۔ !

ماہیر کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ مجھے کیسے بھی کر کے۔۔۔ بی جان سے بات کرنی ہو گی۔۔ میں اتنی خود غرض نہیں ہو سکتی۔۔ کہ اپنےلیے یہاں موجود لوگوں کو نقصان پہنچا سکوں۔۔؟؟

بی جان سے رابطے کے لیے اسے موباٸل چاہیے تھا۔ اور موباٸل کے حصول کے لیے وہ کمرے سے باہر نکلی۔ باہر ٹی وی لاٶنج میں ہی ایک موباٸل چارجنگ پے لگا نظر آیا۔ ماہیر کے چہرے پے خوشی کی لہر دوڑ گٸ۔ اور فوراً سے آگے بڑھی ۔

🌃
🌃
🌃
🌃
🌃
🌃
🌃
🌃

ابیہان ابھی میٹنگ سے فری ہوا تھا۔ وہ کافی تھکن کا شکار تھا۔ کہ اپنے موباٸل پے کال آتی دیکھ وہ چونکا۔ اور بنا یہ دیکھے کہ کس کی کال ہے۔ وہ کال رسیو کر گیا۔

ہیرے۔۔۔ میری بچی۔۔۔ کیسی ہے تو۔۔؟ ابھہان جو ابھی کچھ بول بھی نہیں پایا تھا۔ مقابل کسی خاتون کی بات سنتا حیران ہوا تھا۔۔ چونکتے ہوۓ نمبر کو غور سے دیکھا۔ ان ناٶن نمبر تھا ۔ پھر سے کان سے لگایا۔

آپ کون۔۔؟؟ لہجے میں نرمی تھی۔ بیٹا۔۔۔؟؟ میری ۔۔ ہیرے۔۔ اسی نے فون کیا تھا۔۔ ناں۔۔ وہ کہاں ہے۔۔؟؟ کس حال میں۔۔ ہے۔۔ ؟؟ میری بات کروا دو۔۔ ؟؟ وہ روتے ہوۓ بولیں تھیں۔ ایک پل کو ابیہان کا دل ان کی روندھی اور ڈری ہوٸ آواز پے بری طرح پسیجا۔ لیکن وہ انجان تھا۔۔ اور انجان ہی بنا رہا۔

معاف کیجیے گا۔۔ آپ نے غلط نمبر ڈاٸیل کر دیا۔ ہے۔۔ ! وہ جو یہ کہہ کے کال بند کرنے والا تھا۔ کہ

بیٹا۔۔۔رکو۔۔ ایک بار۔۔ میری بات کروا دو۔۔ ہیرے سے۔۔ ! اس کی جان کو سخت خطرہ ہے۔۔۔!

ان کی تیزی سے کہی بات پے چونکتا ابیہان کا دھیان ایک دم ماہیر کی جانب گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *