Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Takmeel e ishq (Episode 09,10)

Takmeel e ishq by Muntaha Chohan

ماہیر مسلسل فون ملا رہی تھی۔ لیکن بی جان کا نمبر بزی تھا۔ سخت جھنجھلا گئی تھی۔ منہ کے ٹیڑے ٹیڑے زاویے بنا رہی تھی۔ کیا ہوا۔۔۔؟ کس کو فون کر رہی تھی؟ حور کی آمد نے ماہیر کو چونکا دیا۔ خاموشی سے فون واپس رکھا۔ اور پلٹی۔ میں۔۔۔۔میں نے کس کو فون کرنا ہے؟ بلکہ۔۔۔۔یہ۔۔۔۔موبائل بج۔۔رہا تھا۔۔۔۔تو ۔۔۔وہ دیکھنے لگی۔۔۔! ماہیر نے معصومیت سے کہا۔ اچھا۔۔۔۔! آپ کو اتنے مینرز نہیں۔ کہ کسی کا موبائیل بغیر اجازت نہیں Use کرتے۔ حور نے میٹھا طنز کیا۔ اہم۔۔۔۔! تمہارا موبائیل تھا؟ آئی برو آچکا تے پوچھا۔ نہیں۔۔۔! حور حیرانی سے بولی۔ تو۔۔۔۔تمہیں کیوں اتنی مرچی لگ رہی ہے۔۔۔۔۔؟ جاؤ جا کر اپنا کام کرو۔۔۔۔۔! ماہیر اسے سنا کے آگے بڑھی۔ حور کو غصہ آ گیا بہت ہواؤں میں اڑ رہی ہو ناں۔۔۔۔!! بہت جلد زمین گرو گی۔ جب گروں گی ناں۔۔۔۔۔تو۔۔۔۔۔جھٹ سے۔۔۔۔۔۔ناں۔۔۔۔وہ۔۔۔میرے۔۔۔نواب۔۔۔۔مجھے۔۔۔کیچ کر لیں گے! شرماتے ہوئے معصومیت سے کہا۔ نواب۔۔۔۔! کون۔۔۔۔۔نواب۔۔۔۔؟ حور حیران ہوئی۔ میرے نواب ۔۔۔۔! نواب ابیہان پرویز خان۔۔۔۔اور کون۔۔۔! ماہیر نے حور کی عقل پر افسوس کیا۔ حور غصے سے پیچ وتاب کھاتی رہ گئی۔ چلتی اسکے پاس آئی۔ کسی خوش فہمی میں مت رہنا۔۔۔۔۔! گرانے والا خود نواب ابیہان پرویز خان ہی ہو گا۔۔۔۔! اور وہ ۔۔۔۔۔وقت۔۔۔بہت جلد آئے گا۔ ہر لفظ پر زور دیا۔ حور۔۔۔۔! آواز پر دونوں چونکیں۔ اور پلٹیں۔

\######## ####\$ ####

آ۔۔۔پ۔۔۔کون۔۔۔؟؟ ابیہان فورا متوجہ ہوا۔ میں۔۔۔ہیرے کی۔۔۔بی جان ہوں۔۔۔۔! وہ اب بھی رو رہی تھیں۔ پلیز۔۔۔! پہلے۔۔۔۔آپ۔۔۔۔رونا تو بند کریں۔۔۔! اور مجھے۔۔۔بتائیں۔ کیا مسلہ ہے۔۔۔؟؟ اگر۔ ۔۔۔آپ کہیں۔ ۔۔۔تو۔۔۔ میں اسے۔۔ ۔۔۔آپ کے پاس لے آتا ہوں۔۔۔!! نجانے کس دل سے یہ الفاظ ابیہان نے ادا کئے۔ نہ۔۔ ۔۔۔نہیں بیٹا۔۔۔۔! یہاں۔ ۔۔نہیں لانا۔۔۔۔! وہ۔۔۔۔لوگ۔۔۔اسے مار دیں گے۔۔۔۔۔! سب سے بڑا۔۔ ۔۔دشمن تو خود۔۔۔۔اسکا باپ۔۔ ۔۔ہے۔۔۔!! بی جان نے جلدی سے ابیہان کی بات کاٹی۔ بس بیٹا۔۔۔! میں۔۔ ۔۔چاہتی ہوں۔ وہ جہاں بھی ہو۔ محفوظ ہو۔ ان۔۔ ۔۔جلا۔۔۔دوں کے ہاتھ نہ لگے۔ ۔۔۔یہ۔۔ ۔زندہ نہیں چھوڑیں گے۔۔۔ میری بچی کو۔۔۔!! وہ پھر سے دکھی ہو کر رو دیں۔ آپ۔۔۔پولیس کو۔۔۔ ۔کیوں نہیں۔۔ ۔بتاتی۔۔۔؟؟ ابیہان پریشان ہو گیا۔ ان کی باتوں سے۔۔۔۔!! بیٹا۔۔! یہ جو۔۔۔۔آفتاب علی شاہ ہے ناں۔۔۔۔میرا بیٹا۔۔۔! جلاد ہے وہ۔۔۔!! پولیس کو جیب میں لے کے۔۔۔۔پھرتا ہے۔۔۔!! بی جان کے لہجے میں اپنے بیٹے کے لیے نفرت تھی۔ میرے۔۔۔! میرے لیے۔۔۔۔کیا حکم ہے آپ کا۔۔۔؟؟ ابیہان بنا سوچے سمجھے بولے جا رہا تھا۔ اسے خود بھی اندازہ نہیں تھا۔ کہ وہ کتنی دیر سے کسی انجان عورت سے باتیں کیے جا رہا تھا۔ بیٹا۔۔۔! تم۔۔۔ ۔مجھے۔۔ ۔۔شریف آدمی لگتے ہو۔۔۔۔!! میری۔۔۔ ہیر کی۔۔۔ ۔حفاظت کرنا۔۔۔۔! اسے بس ان۔۔ درندوں سے بچا لو۔ ابھی بات بھی پوری نہ ہوئی تھی۔ کہ کال کٹ گئی تھی۔ وہ واقعی پریشان ہو گیا تھا۔ اسے سمجھ نہ آ رہا تھا۔ کیا کرے۔۔۔۔۔!! تمام باتوں کا خلاصہ ماہیر سے مل کر بات کر کے ہی پتہ چل سکتا تھا۔ یہی سوچتے وہ اٹھا۔ چئیر سے کوٹ اٹھایا۔ موبائیل اٹھاتا باہر کی طرف قدم بڑھائے۔ ارادہ گھر جانے کا تھا۔

\####### ###### ######

کیا بنا؟ کہاں پہنچا مشن؟؟ نوفل نے سکندر سے دریافت کیا۔ آج رات۔۔۔ اٹیک کرنا ہے۔۔۔! سکندر نے چشمہ اتارتے لیپ ٹاپ بند کیا۔ نوفل سوچتا ہوا سر ہلاتا وہیں بیٹھ کر پلاننگ کرنے لگا۔ کہ اتنے میں بیل پر رنگ ہوئی۔ ان ناون نمبر دیکھ کر ٹھٹھکا۔ فون کان سے لگایا۔ تو مقابل کی آواز سن کر مزید جھٹکا لگا۔ فورا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ چہرے پر پریشانی صاف نظر آ رہی تھی۔ کال بند ہو چکی تھی۔ سکندر اسکے پاس آیا۔ کیا ہوا؟ کس کا فون تھا؟ دار جی۔۔۔۔ ہارٹ اٹیک۔۔۔۔!! آنکھیں جھلملا گئیں۔ اوہ۔۔۔۔۔!! سکندر بھی پریشان ہو گیا۔ مجھے۔۔۔ ۔جانا ہو گا۔۔۔! نوفل سکندر کی طرف مڑا۔ سکندر نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔! لیکن۔۔۔۔۔! اس۔۔ ۔جادو گرنی سے دور رہنا۔۔۔! نوفل دروازے کی طرف بڑھا تھا۔ جب سکندر کی آواز آئی۔ وہ پلٹا نہیں لیکن سکندر کا اشارہ اور اسکی ساری بات سمجھ گیا تھا۔ نوفل کے جانے کے بعد سکندر پھر سے پلاننگ کرنے لگا۔

\#######

موبائیل آفتاب علی شاہ کے ہاتھ میں تھا۔ اور بی جان اچانک آفتاب علی شاہ کو سامنے دیکھ کر گھبرا گئیں۔ ام۔۔۔۔! تو۔۔۔۔ سارا کیا دھرا آپ کا ہے۔۔۔۔! غصہ ضبط کرتے وہ سرد لہجے میں بی جان سے مخاطب ہوئے۔ بی جان خاموش رہیں۔ انھیں ابھی بھی ماہیر کی فکر تھی۔ ایسا۔۔۔ کیوں کیا بی جان؟ غصہ اور دکھ سے پوچھا۔ میری ہیرے۔۔۔۔۔ ۔کے ساتھ۔۔۔ تم نے نا انصافی ۔۔۔۔۔کی آفتاب علی شاہ۔۔۔! وہ بیٹی۔۔ ۔۔ہے تمہاری۔۔۔۔۔!! کوئی بھیڑ بکری نہیں۔۔۔۔! جیسے تم خون بہا میں دے رہے تھے۔ بی جان بھی غصے سے پھنکاریں حقیقت کا پتہ چل گیا تھا۔ اب ڈرنے کا کوئی فائدہ نہ تھا۔ آپ جانتی ہیں ناں! ابرار۔۔ ۔۔ہمارے خاندان کا اکلوتا وارث ہے۔۔۔۔! اسے۔۔۔۔ بچا نے کے لیے۔۔۔۔ سب کیا۔۔۔!! اسے دے دیتے کیا۔۔۔؟ شاہ خاندان کی نسل ختم کر دیں۔۔۔۔؟؟ آفتاب علی شاہ کا غصہ کسی طور کم نہ ہو رہا تھا۔ ہاں تو ابرار کو یہ۔۔۔۔ ۔گولی چلانے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔ یہ کہاں کا قانون ہے۔۔۔۔ کہ کرے بیٹا۔۔۔۔۔ اور بھگتے بیٹی۔۔۔؟؟ کب تک۔ ۔۔آخر کب تک بیٹیوں کو یونہی قربان کرتے رہو گے۔۔۔؟ بی جان ضبط کے باوجود رو دیں۔ لیکن آفتاب شاہ کو اثر کہاں ہونا تھا۔ بس۔۔۔! میں زبان دے چکا ہوں۔ زبان سے پھر نہیں سکتا۔ میری ہیر کسی کے خون بہا میں نہیں جائے گی۔ سنا تم نے۔۔!! بی جان انجام کی پرواہ کئیے بنا بیٹے کے سامنے کھڑی ہو گئیں۔ مبشر۔۔۔۔! مبشر۔۔۔! بی جان کو دیکھتے ہوئے غصے سے ملازم کو پکارا۔ جی۔۔۔! جی شاہ سائیں۔۔۔! وہ بھاگتا نظریں جھکائے اندر داخل ہوا۔ یہ موبائیل لو! اور اس میں جو آخری کال آئی ہے۔ اس نمبر کی مجھے ڈیٹیل چاہیے۔ مکمل۔۔۔۔! کہہ وہ مبشر سے رہا تھا۔ لیکن دیکھ وہ بی جان کو رہا تھا۔ پر بی جان چپ سی کاروائی دیکھ رہی تھیں۔ اور ہاں۔۔۔۔! یہ کام جلدی ہونا چاہیے۔۔۔۔۔اور پوری راز داری سے!! غراتے ہوئے کہا۔ تو مبشر موبائیل لیکر فورا غائب ہوا۔ اس۔۔۔بدزات کو تو۔۔۔۔ میں خود ڈھونڈ ہی لوں گا۔ اور اپنے ہاتھوں سے اس کو دفن کروں گا۔ تا کہ پھر کوئی دوبارہ شاہ خاندان کی عزت کو پیروں تلے روندھنے کی کوشش نہ کرے۔ انتہائی غصے کے عالم میں کہتے وہ بی جان کے قریب آیا۔ تب تک۔۔ ۔۔آپ۔۔۔ اس کمرے میں۔۔۔ قید رہیں گی۔۔۔!! آفتاب۔۔۔! مت بھولو۔۔۔۔! خدا کی لاٹھی بے آواز ہے۔ جب پڑتی ہے ناں۔۔۔۔ تو اچھے اچھوں کے ہوش ٹھکانے آجاتے ہیں۔ جا۔۔۔۔! کر لے جو کرنا ہے۔۔۔۔! میری ہیر کی حفاظت۔۔۔۔ ۔میرا خدا کرے گا۔ بی جان نے پورے یقین سے کہا۔ آفتاب علی شاہ غصہ ضبط کرتے وہاں سے باہر نکل گیا۔

\######

آواز پر ماہیر اور حور دونوں پلٹیں۔ سامنے ابیہان کو دیکھ کر حور بہت گھبرا گئی۔ جس طرح وہ دیکھ رہا تھا۔ صاف پتہ لگ رہا تھا۔ وہ سن چکا ہے اس کی بات۔ وہ چلتا ہوا قریب آیا۔ کون۔۔۔ کس کو گرانے کا ارادہ کر رہا ہے؟ سرد لہجے میں پوچھتا وہ حور کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے کر گیا۔ ماہیر مطمئن کھڑی تھی۔ وہ۔۔۔۔ وہ۔۔۔ ۔یہ۔۔۔۔!! حور سے کچھ بھی بولا نہ جا رہا تھا۔ کیا۔۔ وہ۔۔۔ ۔یہ۔۔۔؟؟ اپنی بات مکمل کرو۔ ابیہان نے بات کاٹی۔ یہ ۔۔۔۔یہ بڑی مما کا موبائیل ۔۔۔۔ ان کی اجازت کے بنا Use کر رہی تھی۔ حور نے فوراً اپنا بچاؤ کیا۔ ہیر کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ کتنے دھڑلے سے الزام لگا دیا۔ جھوٹی۔۔۔۔! ماہیر مزید کچھ بولتی۔۔ کہ ابیہان نے ہاتھ کے اشارے سے اسے چپ کرا دیا۔ پھر وہ حور کی جانب مڑا۔ ماہیر کے پاس۔۔۔اس کا خود کا موبائیل ہے۔ ۔۔۔۔! اور وہ مما کا فون کیوں Use کرے گی۔؟ اتنے مطمئن انداز میں ابیہان نے جواب دیا۔ کہ اس کے جھوٹ بولنے پر ماہیر کا منھ بھی کھلا رہ گیا۔ حور منھ بسورنے لگی۔ آئندہ بات۔۔۔۔۔ تمیز کے دائرے میں رہ کر کرنا۔۔۔۔۔! اور میں۔۔۔۔۔ بار بار نہیں سمجھاتا۔۔۔! Do you Understand۔ ابیہان کے سرد لہجے پر حور منھ بسورے وہاں سے جانے لگی۔ کہ اس سے پہلے ہی ابیہان نے ماہیر کا ہاتھ پکڑا۔ ماہیر نے حیرت سے دیکھا۔ جبکہ ابیہان نظر انداز کرتا اسے ساتھ لئے۔ سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ حور کو یہ دیکھ اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ آنکھوں میں شدید نفرت لیے وہ انھیں جاتا دیکھنے لگی۔ جبکہ ماہیر نے اسے زبان چڑھائی۔ اور مسکراتی ابیہان کے ساتھ آگے بڑھ گئی۔ حور پاؤں پٹختی اپنے روم میں آئی۔ غصہ کسی طور کم نہ ہو رہا تھا۔ بس۔۔!صرف چند۔۔ ۔دن۔۔۔ چند دن اور Wait کر لو۔ تمہاری ایک چھوٹی سی غلطی اور تم۔۔۔ اس گھر سے باہر۔۔۔! خود کلامی کرتے ہوئے اس وقت وہ کوئی پاگل ہی لگ رہی تھی۔

\#######

واہ نواب صاحب! آج تو چھکے پے چھکا لگا رہے ہو۔۔۔!! ماہیر نے روم میں آتے ہی ابیہان کی طرف کدیھتے چہکتے ہوۓ کہا۔ ۔ یہ۔۔ ۔۔نمبر کس کا ہے؟ ابیہان دروازہ لاک کرتا ماہیر کی طرف سنجیدگی سے دیکھتا پوچھنے لگا۔ ماہیر نے نمبر دیکھ کر ٹھٹھک گئی۔ خود بھی فوراً سنجیدہ ہوئی۔ اور ابیہان کے پاس آئی نمبر پہچان گئی تھی۔ ماہیر۔۔۔!! سوچ سمجھ کر بولنا۔۔۔۔ اور صرف سچ بولنا۔ ابیہان نے اسے چپ دیکھتے ہی وارن کرتے کہا۔ ماہیر نے ایک نظر اسکی ہیزل آنکھوں میں جھانکا۔ ماہیر کو اپنا دل ڈوبتا محسوس ہوا۔ ماہیر کا دیکھنا ابیہان کے دل کی دھڑکن کو بھی عجیب لہہ پر دھڑکا گیا تھا۔ لیکن اگلے ہی پل سنبھل بھی گیا تھا۔ یہ۔۔۔ ۔میری۔۔۔۔ بی جان کا نمبر ہے۔۔۔۔! بلآخر سچ بول دیا۔ تمہاری جان کو تمہارے باپ سے کیوں خطرہ ہے؟ ابیہان نے ایک اور سوال داغا۔ تو ماہیر چونکی۔ آ۔۔۔۔پ کی۔۔۔ ۔بی جان۔۔۔۔ سے۔۔۔۔بات ہوئی۔۔۔؟ پلیز بتائیں۔ وہ ٹھیک ہیں ناں۔۔۔۔؟ غیر ارا دی ہی سہی وہ ابیہان کے مزید قریب ہوئی۔ آ۔۔۔ہاں۔۔۔۔۔! وہ ٹھیک ہیں۔۔۔! لیکن ۔۔۔۔۔مجھے ساری سچائی۔۔۔ ۔جاننی ہے۔۔۔۔! ابھی۔۔۔ اسی وقت۔۔۔۔! ابیہان اسے اپنے قریب پا کر تھوڑا سپٹٹا گیا۔ دل کی ایک بیٹ مس ہوئی۔۔۔۔! لیکن آپ۔۔۔۔ایک بار۔۔۔۔ میری بی جان سے بات کر۔۔۔۔۔ وادیں۔۔۔! آنکھوں میں نمی تھی۔ لہجے روندھا ہوا۔ ابیہان اس پاگل لڑکی کو دیکھنے لگا۔ جس نے کچھ ہی دنوں میں اس کے دل میں ڈیرا جما لیا تھا۔ جسے چاہ کر بھی وہ نکال نہیں پا رہا تھا۔ کروا۔۔۔ ۔دوں گا۔۔۔۔! لیکن ساری سچائی جاننے کے بعد۔

\#######

نوفل اسلام آباد سے بائی ایئر ملتان روانہ ہو چکا تھا۔ ملتان ایئرپورٹ سے وہ سیدھا بتائے گئے ہاسپٹل میں پہنچا۔ کاریڈور میں ہی دار جی کا منشی سید بخش نظر میں آگیا۔ فورا چلتا ہوا اس کے پاس آیا۔ کیسے ہیں دار جی۔۔۔۔۔؟؟ لہجے میں فکر نمایاں تھی۔ ابھی سید بخش کچھ کہتے تو اتنی دیر میں ڈاکٹر I.C.U سے باہر آگیا۔ نوفل جھٹ سے آگے بڑھا۔ دیکھیں۔۔۔۔! Patient کی حالت بہت زیادہ Criticalہے۔۔۔۔! ہم ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے۔۔۔۔! ہم تو اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہے ہیں۔۔۔۔! لیکن۔۔۔!! پلیز ڈاکٹر۔۔۔! ہمارے دار جی کو بچا لیں۔۔۔۔۔!! نقاب میں روتی ہوئی وہ کوئی اور نہیں نادیہ تھی۔ نوفل نے اسے پلٹ کر دیکھنا گوارا نہ کیا۔ آپ۔۔۔ ۔میں سے نوفل۔۔۔۔کون ہے؟ ڈاکٹر نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ جی۔۔۔! میں۔۔ ۔ہوں! نوفل نے اسے فوراً جواب دیا۔ وہ پشنٹ بے ہوشی میں بار بار آپ کا نام لے رہے ہیں۔۔۔۔آپ ۔۔۔۔۔ان سے جا کر مل لیں۔۔ ۔۔ایک بار۔۔۔۔! ڈاکٹر تھپکی دئیے جا چکا تھا۔ نوفل فوراً I.C.U کے اندر بڑھا۔ نادیہ وہیں روتے کھڑی رہی۔ ساتھ میں اس کے گل بانو بھی تھی۔ دار جی۔۔۔۔! نوفل نے دھیرے سے اسے پکارا۔ اور دار جی کا کمزور سا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں تھاما۔ دار جی۔۔۔۔کی آنکھیں نیم وا ہوئیں۔ نوفل کو دیکھ کر ایک چمک آئی تھی۔ آکسیجن ماسک ہٹایا۔ پھ۔۔۔۔۔ر۔۔۔۔س۔۔۔ے۔۔۔۔کہو۔۔۔۔! پہلی بار نوفل کے منھ سے سن کر وہ دل خوش ہوئے تھے۔ نوفل نے ان کا ہاتھ چوما۔ دار جی۔۔۔! پلیز ٹھیک ہو جائیں۔۔۔۔! نوفل کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔ بیٹا۔۔۔۔! مجھ۔۔۔ے۔۔۔۔۔معاف۔۔۔۔کر۔۔۔۔۔دو۔۔۔۔!! میں ۔۔۔نے بہت۔۔۔۔۔برا کیا۔۔۔۔تمہارے ساتھ۔۔۔۔(سانس اکھڑی)۔

دار جی۔۔۔! پلیز۔۔۔۔! کچھ نہ بولیں۔۔۔! آپ۔۔۔۔بس ٹھیک ہو جائیں!! مجھے۔۔ ۔آپکی ضروت ہے۔۔! نوفل ان کے چہرے کے قریب ہوتا ماسک لگانے لگا۔ تو دار جی نے نفی میں سر ہلایا۔ اور بس۔۔ ۔۔بولتے چلے گئے۔۔۔ ۔نوفل کے چہرے کے تاثرات بدلے۔۔۔! یکدم غصہ چھا گیا۔ باہر کھڑی نادیہ یہ سب دیکھے جا رہی تھی۔ اور اپنا ورد جاری رکھے ہوئے تھی۔ دار جی نے نوفل کے آگے ہاتھ جوڑے۔۔۔! نوفل نے آنکھیں بند کر کے کھولیں۔ اور ان کے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ آپ فکر۔۔۔۔ نہ کریں۔۔۔! ویسا ہی ہو گا۔۔۔۔۔! جیسا آپ نے کہا ہے۔۔۔!! نوفل کے کہنے کی دیر تھی۔۔ دار جی نے آخری ہچکی لی۔ اور خالق حقیقی سے جا ملے۔ نوفل نے آنسو ضبط کرتے دار جی کی آنکھیں بند کر دیں۔ وہیں بیٹھا رو دیا۔ آنسو پونچھتا۔۔ پھر آنکھیں نم ہو جاتیں۔ نم آنکھیں۔۔۔ ۔سوکھ نہ بائیں۔۔۔سوکھ نہ پائیں۔۔۔۔ گرتے اشکوں نے۔۔۔ ۔قسمیں اٹھائیں۔۔۔ قسمیں اٹھائیں۔۔ ۔نوفل اٹھ کے باہر آیا۔ منشی سید بخش نوفل کی آنکھیں دیکھ کر سمجھ گئے۔ وہ بھی رو دئیے۔ ایک نظر روتی ہوئی نادیہ پر ڈالی۔ اور باہر نکلا۔ جانے دل تو۔۔۔۔ کسطرف ہے لے چلا۔۔۔۔!! ہم تم۔۔۔۔۔بھٹکے۔۔مل رہا نہ آسرا۔۔!!

\########

بلآخر کچھ روتے کچھ سنجیدہ ماہیر نے ابیہان کو ساری سچائی بتا دی۔ ابیہان سوچ میں پڑ گیا۔ تو وہ۔۔۔۔ تمہاری شادی۔۔۔ اس پاگل سے کروانا چاہتے ہیں۔۔۔۔!! ابیہان نے گہرا سانس خارج کر تے کہا۔ لوجی۔۔۔! ساری باتوں میں آپ کو یہی بات سمجھ آئی۔۔۔؟؟ ماہیر برا مان گئی۔ وہ کانچ سی جھیل جیسی آنکھوں میں اپنی ہیزل آنکھیں ڈالے ماہیر کی بولتی بند کر چکا تھا۔ ماہیر نے نظریں جھکا کر اردگرد دیکھنا شروع کر دیا۔ وہ ابیہان کی نظروں کی تپش سے پزل ہونے لگی۔ ویسے۔۔۔! اگر۔۔۔ شادی ہو جاتی۔۔۔ تو۔۔ ۔اس بیچارے کا کیا ہوتا؟ ابیہان نے سنجیدہ لیکن شرارت آنکھوں میں لیے کہا۔ کیا۔۔۔!! مطلب۔۔۔؟ آپ کو ۔۔۔ خوشی ہوتی؟ لڑنے والا اندازا بنایا۔ میری۔۔۔ جان تو نہ پھنستی۔۔۔!! ابیہان نے اسے مزید چڑایا۔ ہاں۔۔۔! جیسے ۔۔۔ میں مری جا رہی تھی ناں۔۔۔! میرا نکاح۔۔۔ آپ سے کروا دیں۔۔! ماہیر واقعی چڑ گئی۔ ہاں تو اور۔۔۔۔؟؟ جس لڑکی کو پتا چلتا۔۔۔ ابیہان پرویز خان نکاح شدہ ہو گیا ہے۔۔۔۔ دل پے ہاتھ رکھ لیتی ہیں۔ ابیہان کو نجانے کیوں ماہیر کو تنگ کر کے مزہ آ رہا تھا۔ وہ ہر بات بتاتے بہت روئی تھی۔ اب ابیہان اس کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھنے کا خواہش مند تھا۔ ناں۔۔۔! تو۔۔۔ ابھی۔۔۔ بھی کون سا۔۔۔ کچھ بگڑا ہے۔ کر لیں۔۔۔!! نروٹھے پن سے کہا۔ اور رخ پھیر لیا۔ ویسے بھی۔۔۔ میں تو آپ کو بہروپیا لگتی ہوں ناں!جو۔۔۔ کسی خاص مقصد کے تحت یہاں آئی ہوں۔۔۔! کتنے۔۔۔ الزام بھی لگائے آپ نے۔۔۔ مجھ پر۔۔۔! آنکھیں پھر سے نم ہونے لگیں۔ ابیہان نے مسکراہٹ دبائی۔ اسے نجانے کیوں اس لڑکی کی ہر ادا ہی پیاری لگتی تھی۔ ہاں۔۔۔ شاید۔۔۔ اسی لیے کہ اس میں بناوٹ نہیں تھی۔ منافقت نہیں تھی۔ دل کی صاف تھی۔ کیا خیال ہے پھر۔۔۔؟ ظالم ۔۔۔ نواب سے۔۔۔۔دور جانا۔۔۔۔چاہتی ہو؟ ٹہر ہوۓ لہجے میں دھڑکتے دل سے بنا اسے دیکھے پوچھا۔ ماہیر حیران نظروں سے دیکھنے لگی۔ لیکن ابیہان نے نہ دیکھا۔ ماہیر نے لمبا سانس خارج کیا۔ جانتی تھی۔۔۔! سچائی جاننے کے بعد۔۔۔ آپ کبھی۔۔۔ مجھے۔۔۔۔ یہاں نہیں رہنے دیں گے۔۔۔۔! لیکن۔۔۔ اگر۔۔۔ آپ۔۔۔ یہ سوچ رہے ہیں۔۔۔ کہ آپ ۔۔۔۔ مجھے۔۔۔ بابا سائیں کے حوالے کر دیں گے۔۔۔۔تو۔۔۔۔ یہ آپ کی بھول ہے۔۔۔! میں کہیں بھی چلی جاؤں گی۔۔۔! لیکن۔۔۔!! تم۔۔۔ کہیں نہیں جاؤ گی۔۔۔۔! ابیہان نے اسے بازو سے کھینچ کر خود سے قریب کیا۔ ماہیر یک دم چپ ہو گئی۔ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھے جا رہے تھے۔ ابیہان کی آنکھوں میں جنون ماہیر دیکھ چکی تھی۔ اور اب گھبرا رہی تھی۔ جب۔۔۔ تم۔۔ یہاں۔۔۔ آئی۔۔۔ تب تم ماہیر علی شاہ تھی۔ اب۔۔ تم مسز ماہیر ابیہان پرویز خان ہو۔۔۔! ہر لفظ کر ادا کرنا وہ ⁦ماہیر کو بہت کچھ سمجھا گیا۔ ماہیر کی دھڑکن یکدم تیز ہو ئی۔ یہ۔۔۔ زبردستی۔۔۔ کا۔۔۔رشتہ ہے۔۔۔! اور زبردستی کے ۔۔۔ رشتے۔۔!! شی۔۔۔! چپ۔۔۔! یکدم۔۔۔ چپ۔۔۔! گھمبیر آواز میں کہتا وہ ماہیر کے لبوں پر انگلی رکھ کر خاموش کروا چکا تھا۔ کسی بھول میں مت رہنا مسز۔۔! تمہارا نام۔۔۔ میرے نام کے ساتھ جڑ چکا ہے۔۔۔!! اور یہ میری آخری سانس تک جڑا۔۔۔ رہے گا!! ابیہان کا چہرہ ماہیر کے چہرے کے بہت قریب تھا۔ ماہیر نے آنکھیں بند کر لیں۔ دھڑکنوں کا شور ابیہان کو صاف سنائی دے رہا تھا۔ ابیہان کا ہر عمل اس کے جذبوں کی تشہیر کر رہا تھا۔ لیک۔۔۔ کن۔۔۔با۔۔۔با۔۔۔سا۔۔۔ئیں۔۔۔! ماہیر نے بولنا چاہا۔ یار۔۔۔! ایک تو۔۔۔تم۔۔۔۔بولتی بہت ہو۔۔۔۔! ابیہان نے اپنا ماتھا ماہیر کے ماتھے سے جوڑا۔ ماہیر نے سانس روک لیا۔ ناک کے ساتھ ناک کو رب کیا۔ تو ماہیر آنکھیں بند کیے سانس روکے بس محسوس کر رہی تھی۔ ایسا سب کچھ اس کے ساتھ پہلی بار ہو رہا تھا۔ کوئی شخص اس کے قریب آیا تھا وہ بھی کوئی غیر نہیں آسکا محرم تھا۔ عجیب سی کھلبلی تھی دل میں۔ اگر اس طرح اپنی سانسوں کو روکو گی تو۔۔۔۔ان سانسوں پر بھی دسترس حاصل کر لوں گا۔۔۔! ابیہان کا گھمبیر اور جزبوں سے معمور لہجہ۔۔۔ ماہیر کے دل کی دنیا اتھل پتھل کر گیا۔ دھیرے سے اس کے ماتھے پر پیار کی پہلی مہر ثبت کی۔ اور دل کو سمبھال کے خاموشی سے پیچھے ہوا۔ ماہیر ابھی بھی اس کے سحر میں جکڑی ہوئی تھی۔ ابیہان نے بہت فرصت سے ماہیر کے چہرے پے پیار کے رنگوں کے قوس وقزاع بنتے دیکھے۔ آج وہ دل سے اعتراف کر ہی گیا۔ کہ یہ لڑکی کچھ ہی دنوں میں اسکی محبت نہیں۔ ۔۔۔عشق بن گیا تھا۔ الہام کے لیے ایک لمحہ ہی کافی ہوتا ہے۔۔۔ عشق کی گھڑی نے ان کی روش پے لنا شروع کر دیا تھا۔ یہ سوچ تو وہ سوچنا ہی نہیں چاہتا تھا۔ کہ وہ اسے چھوڑ کر جائے گی۔ کیونکہ وہ ایسا کبھی ہونے نہیں دے گا۔ نواب ابیہان پرویز خان کو کوئی چیز پسند آ جائے۔ تو وہ اس چیز کو حاصل کر کے دم لیتا تھا۔ یہ تو پھر بھی جیتی جاگتی اسکی بیوی اسکی محرم تھی۔ جو دل میں گھر کر گئی تھی۔ نکاح کے بعد سے ایک عجیب احساس ہو رہا تھا اس کے لیے۔۔۔۔!! جسے وہ غصے میں چھپاتا آیا۔ یہاں تک کے وہ ماہیر کو چوٹ تک بھی پہنچا گیا۔ وہ اپنے جزبوں سے چھپ رہا تھا۔ لیکن عشق کا جزبہ بہت منہ زور ہوتا ہے۔ جس نے آخر۔۔ ابیہان کو اپنے نگ میں رنگ لیا تھا۔

رو کیوں رہی ہو۔۔؟؟ ابیہن نے اس کے آنسو اپنی پوروں پے اٹھاۓ تھے۔ آپ نہیں جانتے ۔۔۔! نواب صاحب۔۔! میرے بابا ساٸیں۔۔ بہت ظالم ہیں۔۔ ! انہیں ۔۔ میرے یہاں ہونےکا علم ہوا۔۔ تو۔۔؟؟ ناجانے۔۔؟ کیا کردیں۔۔۔؟؟ ماہیر کے دل کا ڈر زبان پے آہی گیا۔

مسز۔۔ آپ مجھے انڈرایسٹیمیٹ کر رہی ہیں۔۔۔ ابیاہن نے بھنوٸیں اچکاتے کہا۔ آپ۔۔؟؟ ماہیر کو سمجھ نہآیا اس رٸیس زادے کو کیسے سمجھاۓ۔۔؟؟

ماہیر۔۔۔! میں نے سب جان لیا ہے۔۔ اور معاملے کو میں اپنی طرح سے ہینڈل کروں گا۔ تم بے فکر ہوجاٶ اب۔۔۔۔! ابیہان نے اس کی تسلی کرواٸ تھی۔

لیکن اس کی تسلی کسی صورت نہیں ہو پا رہی تھی۔ اس کا دل کسی انجانے خوف میں مبتال ہو گیا تھا۔ یہ سب بہت اچھے تھے۔ اس کی سوچ سے بھی زیادہ۔۔۔! کیا اگر۔۔ ان میں سے کی کو بھی ماہیر کی وجہ سے کچھ ہو گیا تو۔۔؟؟

ماہیر سوچتے ہوۓ وہیں بیٹھی رہ گٸ۔

آج سونے کا ارادہ نہیں۔۔؟؟ ابیہان فریش ہوتا آچکا تھا۔ لیکن اسے وہیں بیٹھا دیکھ ٹھٹھکا ۔ ماہیر بھی چونکی۔ وہ جو فریش سا ہوتا آٸینے کے سامے کھڑا بال خشک کر رہا تھا۔ ماہیر نے اسے بہت غور سے دیکھا۔ اس کی شخصیت میں بہت اثر تھا۔ وہ مردانہ وجاہت کا شہاکار۔ ماہیر کے دل کی رفتار پھر سے بڑھی تھی۔ کیوں تاڑ رہی ہیں۔۔؟؟ آپ ہ کا ہوں۔۔ آپ کےپاس آجاتا ہوں۔۔ جی بھر کے دیکھ لینا۔۔۔! وہ آٸینےمیں ہی اسے معنی خیزی سے کہتا اچھا خاصا چھیڑ گیا تھا۔ گڑبڑا کے اس نے نظریں پھیر لیں۔ وہ اپنے ہی احساسات سے بری طرح گھبرا رہی تھی۔ دوسری طرف ابیہان کی إکریں اسے پزل کر رہی تھیں۔ وہ مسلسل اسے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا۔ تو وہ وہاں ے گھبرا کے اٹھ گٸ تھی۔ جب وہ نہیں بوتا تھا تو اس کی إکریں بولت تھیں۔ ماہیر دی گریٹ۔۔ جو سب کو ہی تگنی کا نچ نچانے والی شوخ و چنچل لڑکی تھی۔ آج محبت کی زباں سے ڈرنے لگی تھی۔

\######

رات ایک بجے وہ چھ چھلاوے یونیورسٹی کے اندر داخل ہوئے۔ سیکورٹی کیمرے ہائیک کر لیے گئے تھے۔ سیماب سیکورٹی کیمروں کو ہائیک کئے اپنی پوزیشن پر کھڑی تھی۔ سمیرہ علی اور وہاب تینوں گیٹ پر پہرہ دینے لگے۔ سیکورٹی گارڈ کو وہ بے ہوش کر چکے تھے۔ وہ پانچ میجر سکندر کی راہنمائی میں اسٹور روم تک پہنچ چکے تھے۔ سائلنسز لگے فائر سے ڈور اوپن ہو چکا تھا۔ لیکن ان سب کو سٹور روم میں کچھ نہ ملا۔ سر۔! یہاں تو۔۔ ۔۔کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔۔! رضا پریشان ہوا۔ سکندر سوچتے ہوئے ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ اسلحے کی بھاری کھپت۔۔۔ ۔۔یونیورسٹی میں ان ہوئی ہے۔ لیکن آؤٹ نہیں ہوئی۔۔۔۔۔! سرچ کرو۔۔! ہو نہ ہو۔۔۔۔۔! یہیں ہو گا۔ سب۔۔۔۔! سکندر کے سوچنے کی رفتار ایک عام انسان سے کہیں زیادہ تھی۔ وہ سب پھر سے ڈھونڈنے لگے تھے۔ کہ تبھی ایک پرانے شیلف سے ٹکرا تے رضا کا ہاتھ رکا۔ سب اس طرف متوجہ ہوئے۔ فوراً سے پیشتر شیلف کو اس جگہ سے سرکایا۔ تو زمین کے نیچے ایک سرنگ کی طرح کا راستہ دکھائی دیا۔ بنا دیر کیے تین لوگ ٹارچ سمیت اندر داخل ہوئے۔ باہر والے بھی اپنی پوزیشن سنبھالے ہوئے تھے۔ سٹور روم کے دروازے پر بھی حنا اور وحید مکمل چوکنا کھڑے تھے۔ وہ آگے بڑھتے جا رہے تھے۔ ایک کمرہ تھا۔ ٹارچ کے ذریعے بلب آن کیا۔۔۔۔! تو وہ حیران رہ گئے۔ اسلحے بارود سے وہ کمرہ بھرا پڑا تھا۔ سکندر شاک رہ گیا۔۔۔۔۔! لیکن سوچنے کا وقت نہ تھا۔ کہ ۔۔۔۔۔جلد از جلد سارا سامان وہاں سے نکلوایا۔ سکندر حیران تھا۔ کہ اتنا پیارا اسلحہ اور بارود سمیت۔۔۔۔ ۔یہاں۔۔۔ ۔کوئی۔۔۔۔ سیکورٹی کیوں نہیں تھی۔۔۔۔؟ تبھی کسی کے کراہنے کی آواز آئی۔ تو وہ سب چوکنا ہو گئے۔۔۔۔،

سکندر نے سب کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ اور خود آواز کی سمت بڑھا۔ کمرے کے ساتھ ایک دروازہ تھا۔ سب پوزیشن سنبھال چکے تھے۔ لیکن جیسے ہی دروازہ کھولا۔ وہ سب سکتے میں آ گئے۔ دار جی کی آخری رسومات کر دی گئی تھیں۔ نوفل بہت افسردہ تھا۔ وہ مشن کے لیے واپس لوٹنا چاہتا تھا۔ لیکن سکندر نے اسے وہیں رکنے کو کہا۔ وہ اس کے ٹیم ساتھی مل کر سب کر رہے تھے۔ دار جی ( چوہدری دلاور حسین) کے دو ہی بیٹے تھے۔ بڑے بیٹے وقار حسین کی وفات کے بعد دار جی نے فروا بیگم اور ان کے چار سال کے بیٹے نوفل وقار حسین کو گھر سے نکال دیا۔ لیکن وہ بھی اپنے چھوٹے بیٹے عثمان حسین اور ان کی بیوی زینب کی باتوں میں آکر۔۔۔۔۔۔! وقت گزرتا رہا۔ اللہ نے عثمان حسین کو بیٹی نادیہ کے بعد اولاد نہ دی۔ تو دار جی کو نوفل کی یاد ستانے لگی۔ وہ وقت فوقتاً نوفل کو بلاتے۔ اس سے ملتے ۔۔۔۔۔واپس آنے کو کہتے۔۔۔۔! لیکن نوفل کبھی نہ مانا۔ ہر بار دار جی کے بلانے پر وہ ہمیشہ ان سے ملنے چلا جاتا تھا۔ خون کی کشش تھی۔ کہ نوفل بھی ان سے مل کے خوش و مطمئین ہو جاتا تھا۔ اور دار جی نوفل کا چہرہ دیکھ کے جی اٹھتے تھے۔ وہ ان کے خاندان کا اکلوتا وارث تھا۔ عثمان اور زینب نے مل کر پھر سے دار جی کے دماغ میں نئی بات گھسا دی۔ کہ نوفل کو ہمیشہ کے لیے حویلی لانے کا یہی طریقہ تھا۔ کہ نادیہ سے نوفل کی شادی کر دی جائے۔ اس لیے نادیہ کو منگیتر بنا کے نوفل سے دار جی نے بات کی۔ لیکن نوفل نے صاف انکار کر دیا۔ وہ وہاں دار جی سے ملنے جاتا تھا۔ یہ بات اس نے ماں کو بھی نہ بتائی تھی۔ لیکن اچانک دار جی نے نادیہ کو نوفل کی بچپن کی منگیتر کے روپ میں لا کھڑا کیا۔ اور اس پر دباؤ ڈالنے لگے۔ کہ وہ نادیہ سے شادی کر کے حویلی واپس آ جائے۔ اور دار جی اسے اپنے عہدے پر لانا چاہتے تھے۔ ساری جائیداد بھی نوفل کے نام کر دی۔ ( یہ بات دار جی اور نوفل جانتے تھے)۔ عثمان اور زینب ابھی اس سے لا علم تھے۔ دار جی نے سب کر کے دیکھ لیا۔ لیکن نوفل نہ مانا۔ اور آج یوں اچانک۔۔۔۔ ۔۔دار جی کا چلے جانا۔۔۔۔۔! اور جاتے لمحوں میں۔۔۔۔اپنی آخری خواہش کا وہ نوفل سے اظہار کر گئے تھے۔ نوفل ان کو منع نہ کر سکا۔ وہ بہت کچھ سوچ چکا تھا۔ سب باری باری مل رہے تھے۔ لیکن وہ غائب و دماغی سے سب سے مل رہا تھا۔ سبھی کو علم ہو گیا تھا۔ کہ چوہدری دلاور حسین کا وارث چوہدری نوفل حسین ہے۔ سب ادب سے مل رہے تھے۔ عثمان صاحب نوفل کو پانے فوراً اس کے پاس آ ئے۔ نوفل بیٹا۔۔۔۔! دار جی کے جانے کا غم۔۔۔۔۔! بہت بڑا ہے۔۔۔۔! لیکن بیٹا۔۔۔۔! ان کی خواہش تھی۔۔۔کہ ۔۔۔۔ان کے جانے کے بعد ان کی۔۔۔۔جگہ تم لو۔۔۔۔! دار جی ۔۔۔۔سب گاؤں والوں کے لیے مسیحا تھے۔ بہت محبت کرتے تھے سب۔۔۔۔!!۔ عثمان صاحب رو دئیے۔ نوفل نے ترچھی نگاہ سے انھیں دیکھا۔ بیٹا۔۔۔! ہم سب ۔۔بھی دار جی کی۔۔۔آخری خواہش ۔۔۔۔پوری کرنا چاہتے ہیں۔۔!! تمہاری۔۔۔،،دستار بندی،، کرنا چاہتے ہیں۔ تا کہ با قاعدہ تم۔۔۔ان کی جگہ لے سکو۔۔۔!! بڑی مہارت سے مدعا رکھا۔ نوفل جیب میں ہاتھ ڈالے سانس خارج کرتا زمین کو گھورنے لگا۔ آگے۔۔۔!!! جیسے تمہاری مرضی۔۔۔! ہم ۔۔۔زور زبردستی۔۔۔نہیں کریں گے۔۔۔!! عثمان صاحب نے پینترا بدلا۔ دار جی کی۔۔۔۔آخری۔۔۔۔خواہش کا احترام کرنا۔۔۔ہم سب پر لازم ہے۔ بہت بڑے لہجے میں بات کی۔ عثمان صاحب ہمہ تن گوش ہوئے۔ اور۔۔۔۔ان کی آخری خواہش کا اظہار۔۔۔۔۔انہوں نے۔۔۔۔۔مجھ سے اپنے۔۔۔۔آخری لمحات میں کیا۔۔۔۔!! لہجہ انتہائی سنجیدہ اور سرد تھا۔ اندر چلیں۔۔۔!! عثمان صاحب جو غور لگا کر سن رہے تھے۔ اچانک نوفل کے کہنے پر سٹپٹا گئے۔ اور اندر کی جانب قدم بڑھا ئے۔ حویلی کے اندرونی حصے میں سب اکھٹا ہو گئے۔ ان سب کے بیچ کسی شہنشاہ کی طرح کھڑا تھا۔ خواتین پردے کے پار یہ سارا منظر ملا خطہ فرما رہی تھیں۔

جیسا کہ۔۔۔۔یہاں سب جانتے ہیں۔ دار جی اچانک ۔۔۔۔ہمیں۔۔۔چھوڑ گئے ہیں۔۔۔!! نوفل کا لہجہ روندھا آج اسے لگا۔ اس کا باپ چلا گیا۔ دار جی سے اسے اپنے باپ کی خوشبو آتی تھی۔ دل آج اسکا بہت سخت غمگین تھا۔

😭
😭
😭
😭
😭
😭

آپ۔۔۔۔سب چاہتے ہیں۔۔۔۔کہ ۔۔۔۔ان کے جانے کے بعد۔۔میں۔۔۔ان کی۔۔۔جگہ۔۔۔!! تو۔۔۔۔ یہ فی الحال۔۔۔۔۔ میرے لیے۔۔۔۔ ممکن نہیں۔۔۔!! دار جی کا جانا۔۔۔۔! نوفل کا سر جھک گیا۔ عثمان صاحب نے کاندھا تھپکا۔ سبھی ہمہ تن گوش تھے۔ میرے لیے۔۔۔ اس سب سے زیادہ ضروری۔۔۔۔!! دار ۔۔۔۔ جی ۔۔۔۔کی ۔۔۔آخری خواہش پوری کرنا ہے۔۔۔!! جو انہوں نے۔۔۔۔ آخری وقت میں کہی۔۔۔۔ اور وہ ۔۔۔۔۔میری شادی۔۔۔ ہے۔۔۔۔! نوفل نے دھیمے مگر پختہ لہجے میں کہا۔ سبھی کے دل کی رفتار بڑھی۔ نادیہ تو بنا پلکیں جھپکے نوفل کو دیکھے جا رہی تھی۔ تو۔۔۔۔ میں نے۔۔۔۔۔ ایک فیصلہ کیا ہے۔۔۔۔! آج سے۔۔۔۔۔ٹھیک ۔۔۔۔دس دن بعد۔۔۔۔۔ !! پردے والی سائیڈ رخ کیا۔ نوفل جانتا تھا۔ وہاں نادیہ بھی موجود ہے۔ اس لیے توقف کیا۔ میں۔۔۔۔ حویلی واپس آؤں گا۔۔۔۔۔! اور ۔۔۔۔۔شادی۔۔۔ کروں گا۔ لیکن ۔۔۔۔۔صرف۔۔۔ دار جی کی آخری خواہش کا احترام کرتے ہوئے ساتھ ہی وجہ بھی بتا دی۔ اندر خواتین سب نادیہ کو اشاروں اشاروں میں مبارک اور داد دینے لگیں۔ نادیہ شرمیلی ہنسی ہنسی نوفل بیٹا۔۔۔۔! دار جی کی خواہش ہمارے سر آنکھوں پر۔۔۔۔۔۔!! تم ۔۔۔۔جیسا کہو گے۔۔۔۔۔سب ویسا ہو گا۔۔۔۔!! انکل ۔۔۔۔! سب سادگی سے ہونا چاہیے۔ اگلے جمعہ کو۔۔۔۔۔ میں آؤں گا۔۔۔۔ آپ سب انتظامات دیکھ لیجئے گا۔

😊
😊
😊
😊
😊

نوفل نے عثمان صاحب کی بات کا فورا سے جواب دیا۔ ضرور بیٹا۔۔۔! ضرور۔۔۔۔! عثمان صاحب کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ وہ بے انتہا خوش تھے۔ لیکن ظاہر نہ کر پا رہے تھے۔ نوفل خاموشی سے وہاں سے باہر نکل گیا۔ اب اسے واپس مشن پر جانا تھا۔ اس کے بعد فروا بیگم کو سارے معاملات سے آگاہ کر کے اپنا فیصلہ سناتا تھا۔ اس لمحے نوفل کو مشال کی شدت سے یاد آئی۔ 😇😇😇😇😇

سکندر کافی کامگ لے لیب ٹاپ کھول کر بیٹھا۔ ابھی وہ سارے کاموں سے فارغ ہو کر اپنے ایپار ٹمنٹ واپس لوٹا تھا۔ ابھی تھوڑا سا کام کیا۔ کہ رضا اور وہاں آ گئے۔ سلام کر کے وہیں براجمان ہوئے۔ صبح کے چار بج رہے تھے۔ انھیں تمام کاروائی کرتے پوری رات بیت گئی تھی۔ لیکن وہ ابھی بھی پریشان تھے۔ اب کیسے ہیں وہ۔۔۔؟؟ سکندر نے لیب ٹاپ سے نظریں ہٹائے بغیر پوچھا۔ رضا اسی سوال کا منتظر تھا۔ سر۔۔۔۔! ڈاکٹر نے مکمل چیک اپ کر لیا ہے۔ انھیں۔۔۔ ڈر گزدی گئی ہیں۔۔۔ ان کے جسم پر انجکشن کے نشانات ہیں۔ بے ہوش ہیں۔ ابھی بھی۔۔۔۔! پر ڈاکٹر کحہ رہے تھے۔ جلد ہوش آ جائے گا۔ ام۔۔۔۔۔! کافی کامک سائیڈ پر رکھتے گہری سوچ میں ڈوبا۔ اور یو نیورسٹی کی باقی کی رپورٹ۔۔۔۔۔؟؟ وہاں سے دریافت کیا۔ سر۔۔۔! سب کلئیر ہے۔۔۔۔! کوئی Clue نہیں چھوڑا۔ اسٹور روم کا ڈور بھی Repair ہو گیا ہے۔ Everything is clear,, Good..! سکندر نے کرسی کے ساتھ ٹیک لگائی۔ ،،Ok,, وہاں۔۔۔۔! سیکیورٹی گارڈ پر نظر رکھو۔ اور دیکھتے ہیں۔ آج کیا۔۔۔۔کیا ہوتا ہے۔۔۔۔!!؟ کون کون۔۔۔۔ تڑپتا ہے۔!!! ایک سرور تھا۔ جیت کا سکندر کے لہجے میں۔ وہاں جا چکا تھا۔ اب رضا زرا ریلیکس ہوا۔ کچھ سوالات ذہن میں گڈ مڈ ہو رہے تھے۔ سر۔۔۔۔! مجھے۔۔۔ ایک بات نہیں سمجھ آرہی۔۔۔۔۔!! کرنل وہاں کیسے پہنچے۔۔۔۔؟؟ ان کا اس سب۔۔۔۔۔ میں کیا کردار۔۔۔۔؟؟ ام۔۔۔۔! لمبی سانس خارج کی۔۔۔۔! کنکشن ۔۔۔۔۔۔! کنکشن ہے۔۔۔۔ ان کا آپس میں۔۔۔! کہیں کچھ ,,Missing,, ہے۔۔۔! دعا ہے۔ کہ کرنل صاحب کو جلد ہوش آ جائے۔ آمین۔۔۔! رضا کچھ سوچتے ہوئے بولا۔ سر! کرنل صاحب غائب ہیں۔۔۔۔! لیکن۔۔۔ ان کی بیٹی۔۔۔!! رضا رکا۔۔ سکندر کی تیز نظروں سے اسے بریک لگی۔ میں۔۔۔۔میرا مطلب ہے سر۔۔۔! کرنل صاحب کڈنیپ ہوئے وے تھے۔ لیکن یونیورسٹی میں ان کی بیٹی۔ اس کے۔۔ تو کسی انداز سے ظاہر نہیں ہوتا۔۔ کہ وہ اداس ہے یا پریشان۔۔۔!! سکندر کی سوالیہ نظریں ابھی بھی رضا پر تھیں۔ سر۔۔۔! مطلب ۔۔۔باپ غائب ہے۔ اور بیٹی کو پرواہ ہی نہیں۔!! رضا سکندر کی نظروں سے تد بدب کا شکار تھا۔

😐
😐
😐
😐
😐

اس کا بھی جلد پتہ لگ جائے گا۔ سکندر نے پختہ یقین سے کہا۔ لیکن سر۔۔۔۔! رضا نے کچھ کہنا چاہا۔ کہ سکندر نے ہاتھ کے اشارے سے ٹوک دیا۔ لیب ٹاپ پر گرین لائیٹ بلنک کر رہی تھی۔ سکندر نے ہیڈ فون کان سے لگایا۔ کیوں۔۔۔کیا فون۔۔۔؟ مریم کی آواز سکندر کی سماعت سے ٹکرائی۔ ہاں۔۔۔۔! ہاں۔۔۔! پتہ ہے۔۔۔۔! سب ہو جائے گا۔۔۔۔! کر دیا ہے۔ بندوبست۔۔۔۔! تمہاری نو پھلچڑیوں کا۔۔۔! ٹائم پر ڈلیور ہو جائیں گی۔ مریم فون پر بات کر رہی تھی۔ ہاں۔۔۔! پتہ ہے دس کا بندوست کرنا ہے۔ بس ایک رہ گئی ہے۔ اس کا۔۔۔بھی۔ آج بندوبست ہو جائے گا۔ شاطر انداز میں کہا۔ ٹھیک ہے۔۔۔ٹھیک ہے۔۔۔ ہائی۔۔۔! فون بند ہو چکا تھا۔ مرہم جو اسئمنٹ لکھ رہی تھی۔ وہیں پن بک کے اندر رکھا۔ اور باہر نکل گئی۔ لائٹ Off ہو گئی۔ سکندر ہیڈ فون اتارے۔

کیا ہوا سر۔۔۔؟ رضا حیران ہوا۔

سکندر نے ساری ریکاڈنگ رضا کو سنا دی۔ رضا کے سر پر تو پہاڑ ہی گر گیا۔ اس کے اندر کے جزبے۔ وہیں دم توڑ گئے۔ وہ جو۔۔۔۔۔ کبھی شادی نہ کرنے کا سوچے بیٹھا تھا۔ مریم کو دیکھ اس کے دل میں بھی خواہش جاگی۔ کہ وہ بھی گھر بسائے۔ اس کے دل میں بھی مریم کو دیکھ کر محبت کی خواہش نے سر اٹھایا۔ لیکن ۔۔۔۔! سب کچھ ایک جھٹکے میں ختم ہو گیا۔

😢
😢
😢
😢

رضا۔۔! فرض سب سے پہلے۔ باقی سب آخر میں۔۔۔!! سکندر کو وہ چھوٹے بھائیوں کی طرح عزیز تھا۔ اور کچھ نہ کہے بھی وہ رضا کے دل کو جان گیا تھا۔ بس سر۔۔۔! I Know۔۔۔۔ میرے لئے میری زندگی کا مقصد اپنے وطن کے دشمنوں کو نست ونابود کرنا ہے۔۔۔۔۔!! چاہے پھر۔۔۔سامنے کوئی بھی ہو۔ رضا فوراً سنبھلا۔ سکندر نے اسبات میں سر ہلایا۔ تو وہ اٹھ کر باہر آ گیا۔ ایک آنسو ٹوٹ کر گال پر پھسلا۔

،،دل کے راستے میں کیسی ٹھوکر میں نے کھائی۔

ٹوٹے ہیں سارے ارمان مایوسی ہے چھائی،،

ہر خوشی سو گئی۔۔۔۔ زندگی ۔۔۔کھو گئی۔

میں نے تو پیار کیا ! کیوں قسمت میں آئی تنہائی۔۔۔۔ تنہائی۔۔۔!

میلوں ہی پھیلی ہوئی تنہائی۔

میرا مقصد۔۔۔محبت نہیں۔۔۔ اپنے وطن پر شہید ہونا ہے۔ رضا دل مضبوط کر چکا تھا۔ ایک سچا فوجی یہی تو ہوتا ہے۔ اپنے فرض پر سب کچھ قربان کر دینے والا۔ سچا محاطب وطن۔۔۔وطن سے وفاداری نبھاتا ہے۔ اس کے لیے وطن سب سے آگے۔۔۔ ہوتا ہے۔ اور رضا کے لیے بھی اپنا وطن اپنا ملک سب سے پہلے ہے۔♥️♥️♥️♥️

ابیہان کے آفس جاتے ہی ماہیر نے خود کو روم میں بند کر لیا تھا۔ آنسو تھے۔ کہ رک نہیں رہے تھے۔ دل بے حد پریشان تھا۔ وہ پیار کے راستے پر نا جاہتے ہوئے بھی چل پڑی تھی۔ انجام کی پرواہ کئیے بغیر۔۔۔۔! لیکن ۔۔۔اس محبت کا انجام ۔۔۔۔کیا ہو گا۔۔۔!؟؟ جب بابا کو میرے یہاں ہونے کا پتا لگا۔ تو وہ۔۔۔میرے ساتھ ساتھ۔۔۔اس گھر کے لوگوں کو بھی۔۔۔۔!! نہیں۔۔۔۔ نہیں۔۔۔!! ماہیر نے جھر جھری لی۔ اور اپنی جگہ سے کھڑی وہ بانکونی میں چلی گئی۔ موسم صبح سے ہی ابر آلود تھا۔ جیسے بن برسے جانے والا نہیں تھا۔ بے اختیار نظر آسمان پر اٹھی۔ ہوا کا ایک جھونکا ماہیر کو پر سکون سا کرنے لگا۔ وہ ایک فیصلہ کر چکی تھی۔ اسے یہاں سے جانا تھا۔ ہر حال میں وہ اتنی خوشی کے لیے اس گھر کے لوگوں کی جان خطرے میں نہیں ڈال سکتی تھی۔ ایم ساری۔۔۔! ابیہان ۔۔۔۔! ہمارا ملنا ۔۔۔۔ شاید ممکن نہیں۔۔۔ بارش کی بوندیں اسے بھگونے لگیں۔ بے اختیار ہی ہاتھ چہرے پر رکھے وہ آنکھیں موند گئی۔ اچانک نظر اپنے ہاتھوں میں پڑ گئی۔ بارش اسے بھگوتی جا رہی تھی۔ اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں الجھ گئی تھی وہ۔۔۔! شاید محبت کی لکیر تھی ہی نہیں۔۔۔۔؟؟

میرے ہاتھوں میں۔۔۔۔۔ نہ تیری لکیریں

ہیں بہت الگ سی۔۔۔۔۔۔ اپنی تقریریں

میرا زمین پے چلنا۔۔۔۔۔ تیرا ہوا سا اڑنا

نا ممکن سا ہے۔

تیرا میرا ملنا۔

کہ دھوپ سے اندھیرا اب جڑ نہیں سکتا،

یہ عشق اپنا آپ۔۔ مکمل ہو نہیں سکتا۔۔۔!!

میرے ہاتھوں میں۔۔۔۔ نہ تیری لکیریں۔۔۔۔!!

ہیں بہت الگ سی۔۔۔۔۔ اپنی تقریریں۔۔۔۔!!

ندا یار ۔۔۔۔! کہاں تھی تم۔۔۔۔؟؟ صبح سے تمہیں ڈھونڈ رہی ہوں۔ مریم ندا کو لائبریری میں دیکھتے وہاں پہنچی۔ ہاں۔۔۔! وہ ۔۔۔۔بس کچھ۔۔۔ کام تھا۔۔۔ ندا نے ٹالا۔ کیا ہوا۔۔۔؟ تم کچھ پریشان لگ رہی ہو؟ مریم نے اندازہ لگایا۔ نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔۔۔! ندا فوراً کتاب کی طرف متوجہ ہوئی۔ چلو آؤ۔۔۔۔! کینٹین چلیں۔۔۔۔! پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہیں۔ مریم نے ندا سے کہا۔ تو ندا کا دل لرزا۔۔۔! پروفیسر ریحان کے الفاظ دماغ میں گردش کرنے لگے۔ ،،مجھے دوبارہ دہرانہ پڑے۔۔۔!! مریم سے دور رہنا،،

😄
😄
😄
😄

ندا نے جھر جھری لی۔ اور سر جھٹکا۔ نہیں۔۔۔! یار تم جاؤ! مجھے بھوک نہیں۔ ندا نے پھر ٹالا۔ ندا ۔۔۔۔۔! تم چل رہی ہو۔۔۔۔۔؟ یا میں۔۔۔۔ زبردستی کروں۔۔۔۔؟ مریم نے مصنوعی غصے سے بولا۔ اور زبردستی ندا کو کینٹین لے گئی۔ ندا گھبراتی ادھر ادھر پروفیسر ریحان کو کھوجتی مریم کے ساتھ کیٹین پہنچ گئی۔ صبد شکر آج وہ کہیں نہیں تھے۔ آج۔۔۔تم نے کلاس نہیں لی۔ پروفیسر ریحان بھی نہیں آئے۔ !!! مریم کے لہجے میں اداسی تھی۔ وہ سموسوں کا آرڈر دے کر وہاں بیٹھی تھی۔ ندا چونکی۔ کیا۔۔۔۔؟ آج۔۔۔۔پروفیسر ریحان نہیں آئے۔۔۔۔؟؟ حیرت ہوئی۔۔۔ نہیں یار۔۔۔۔! بہت بور دن گزرا۔۔۔! افسردگی سے بولی۔ ندا ریلیکس ہوئی۔ وہ ایسے ہی صبح سے ڈر کر لائبریری میں بیٹھی تھی۔ پتہ ہوتا باہر نکل کے گھومتی پھرتی۔ کل ہی ندا نے پروفیسر ریحان کو فون پر بات کرتے سنا تھا۔ جس میں وہ بمب اور اسلحے کے حوالے سے کو ڈور ڈمیں بات کر رہے تھے۔ ،،ندا معصوم سی،، وہاں سے گزری۔ اور کان میں کچھ جملے پڑ گئے۔ وہ وہیں سکتے میں آ گئی۔ بے اختیار منہ سے پھسل گیا۔ ،،دشت گرد،، سکندر دی گریٹ،، کانوں کے پتلے۔۔ فوراً سے سن لیا۔ اور ندا اس سے پہلے کہ مزید کچھ کرتی یا بولتی۔ جھٹ سے اسے کلائی سے پکڑا۔ اور گھنے درخت کی اوڑھ میں لے گئے۔ جہاں سے انہیں کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ کیا سنا تم نے۔۔۔۔۔؟ پروفیسر ریحان نے غراتے ہوئے پوچھا۔ ک۔۔۔۔ چھ۔۔۔۔ نہیں۔۔۔!! ندا سہم گئی۔ پروفیسر ریحان اسکے بہت قریب تھے۔ گہری بھوری آنکھیں ندا کو بہت کچھ باور کرا رہی تھیں۔ گڈ گرل۔۔۔۔! پروفیسر ریحان نے مسکراہٹ دباتے پیچھے ہوتے ندا کی حاضر جوابی کو سراہا۔ امید کرتا ہوں۔۔۔! جو کہا ہے اس پر قائم بھی رہو گی۔۔۔۔! ورنہ۔۔۔ پہلے تو چھوڑ دیا۔۔۔!! اس بار ۔۔۔۔قید کیا۔۔۔۔۔ تو ۔۔۔۔ ہمیشہ کے لیے قید کر لوں گا۔۔۔۔! معنی خیزی سے کہتا وہ ندا کو سر اٹھانے پر مجبور کر گیا۔ یعنی اسکا اندازہ صحیح تھا۔ آ۔۔۔۔پ۔۔۔؟؟ یعنی وہ پہچان گئی تھی۔۔ نام تو وہ تب بھی نہیں جانتی تھی۔۔۔۔! ہاں۔۔۔ شاید ریحان نام ہی ہو۔۔۔!! بادام کھایا کرو۔۔۔۔! یاد داشت پر اچھا اثر پڑے گا۔ پروفیسر ریحان نے طنز کیا۔ تو منہ بگاڑا۔ کیا دیکھ رہی ہو۔۔۔؟؟ پروفیسر ریحان پھر سے قریب ہوا۔ لہجہ سنجیدہ لیکن آنکھوں میں شرارت تھی۔ ندا کا دل120 کی رفتار سے دھڑکا۔ پلکیں گرتی اٹھتی وہ پروفیسر ریحان کے دل کو بھی دھڑکا رہی تھی۔ میں ندا پرویز خان۔۔۔۔! بہت قریب سرگوشی کی۔ مریم سے ۔۔۔دور رہنا۔۔۔! ایک دم لہجہ سخت ہوا۔ وہ جو گھبرا رہی تھی۔ یکدم سوالیہ نظروں سے ریحان کو دیکھا۔ آنکھوں میں صاف تنبیہہ تھا۔ ندا کو غصہ آ گیا۔ مریم۔۔۔ میری دوست ہے۔۔۔! میں کیوں۔۔۔ اس سے دور رہوں؟ ندا کے خفگی سے کہنے پر ریحان مسکراہٹ دباتا بولا۔ دوست دشمن کی پہچان ہے تمہیں؟ مزاق اڑایا۔ آ۔۔۔۔پ۔۔۔۔ میرا مزاق اڑا رہے ہیں ؟ ناراضگی سے بولی۔ نہیں۔۔! سمجھا رہا ہوں۔۔۔!! اور سمجھ جاؤ۔۔۔! تو زیادہ بہتر ہے۔ مجھے دوبارہ دہرانا نہ پڑے۔ ! مریم سے دور رہنا۔ بہت قریب ہو کر وہ کان میں غراتے ہوئے سر گوشی کرتا وہاں سے جا چکا تھا۔ اور ندا اس کے لفظوں کو دہراتی رہ گئی۔ او۔۔۔۔ہیلو۔۔۔۔! کہاں کھو گئی ؟ مریم نے ندا کو ہلایا تو وہ خیالوں سے باہر آئی۔ نہیں۔۔۔۔! کہیں نہیں۔۔۔۔۔! ندا نے بات کو پھر سے ٹالا۔ اچھا یار ۔۔۔۔! آج ۔۔۔۔کوئی پریڈ تو ہے نہیں۔۔۔۔ ! چل میرے ساتھ قریب مارکیٹ میں چلتے ہیں۔ کچھ آؤٹ فٹس لینے ہیں۔ تمہارے ساتھ۔۔۔۔؟؟ ندا نے اچھنبے سے کہا۔ ہاں۔۔۔ تو کیا۔۔؟ اتنا حیران کیوں ہو رہی ہو؟ مریم نے سموسے کی بائیٹ لیتے ہوئے خفگی سے کہا۔ یار ۔۔۔! پھر کبھی۔۔۔!! آج Possible نہیں۔ ندا کو پروفیسر ریحان کے الفاظ ابھی بھی یاد تھے۔ آج جانا ہے تو مطلب۔۔۔۔ آج ہی جانا ہے۔ ۔۔۔! چلو۔۔۔۔! مریم نے اسے زبردستی اٹھایا۔ اور ساتھ گھسیٹ۔ اچھا۔۔۔۔! یار رکو تو۔۔۔۔! میں۔۔۔۔مشال کو انفارم کر۔۔۔۔!! اوفو۔۔۔۔!! ابھی چھٹی میں ایک گھنٹہ پڑا ہے۔ زیادہ دور نہیں جانا۔ یونی کے پاس جو مارکیٹ ہے وہیں تک چلتے ہیں۔ جلدی آجائیں گے۔۔۔! مریم نے اس کے ہاتھ سے موبائیل لیتے اسے گاڑی میں بٹھایا۔ اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر آ کر بیٹھی۔ اور گاڑی کو آگے بڑھا دیا۔ ایک سر شاری سی تھی۔ ٹھیک ہے۔۔۔!! ٹوٹل کتنے ہیں وہ۔۔۔؟؟ سکندر فون پر وہاں سے آج کے دن کی رپورٹ لے رہا تھا۔ سر! Teacher,StudentاینڈSweepersملا کر ٹوٹل 12 لوگوں کی ٹیم ہے۔! وہاں بہت محتاط انداز میں انفارم کر رہا تھا۔ ابھی مزید بات جاری رکھتا۔ کہ لیب ٹاپ پر گرین لائیٹ بلنک ہوئی۔ رضا جو اپنے لیب ٹاپ پر فائل کیمپلیٹ کر رہا تھا۔ وہ بھی متوجہ ہوا۔ ایک لمحے کے لیے دل دھڑکا۔ بو۔۔کے وہاں ۔۔۔! بعد میں بات کرتا ہوں۔ سکندر فوراً فون آف کرتے۔ لیب ٹاپ سے منسلک ہیڈ فون کان سے لگایا۔ رضا بھی اٹھ کر قریب آگیا۔ بندوبست ہو گیا ہے آخری پھلجڑی کا۔ 9 تم تک پہنچ چکی ہیں۔۔۔ اب اپنا وعدہ یاد رکھنا۔ مریم کی آواز کانوں سے ٹکرائی۔ سکندر نے میٹھایاں بھینجیں۔ وہ جانتا تھا۔ مریم کس کی بات کر رہی ہے۔ ہیڈ فون اتار کر ٹیبل پر پٹخا۔ سکندر نے مریم کے پن کے ساتھ جو چیپ لگائی تھی۔ وہ فون کے سگنلز کے ساتھ ایٹچ ہو کر صرف مریم کی آواز کو سکندر تک پہنچائی تھی۔ اور اسکی لوکیشن کو ٹریس کرتی تھی۔ رضا بھی ریکارڈنگ سن چکا تھا۔ ایک چپ لگ گئی تھی اسے۔ مریم سے اسے یہ امید ہر گز نہ تھی۔ اضا تیار ہوا۔ اپنیweopons اٹھائے جانے کو تیار تھا۔ رضا۔۔۔! لوکیشن ٹریس کرو۔ اور مجھے لمحے لمحے کی رپورٹ کرو۔ سکندر کا انداز رضا کو چونکا گیا۔ اور رضا فوراً فارم میں آیا۔ فوراً سیٹ پر بیٹھا۔ سر۔۔۔۔! آپ کا اکیلا جانا ٹھیک نہیں! پتہ نہیں وہ تعداد میں۔۔۔ کتنے۔۔۔۔؟ رضا نے جانے سکندر سے کہا۔ سکندر پلٹا۔۔۔!

I am one man army of pakistan.

ایک عزم تھا۔ آنکھوں میں غرور تھا۔ ایک سچے اور محب وطن فوجی کے الفاظ۔۔۔ رضا کو بھی مضبوط کر گئے۔ سکندر جا چکا تھا۔ وہ بولنے سے زیادہ کام کرنے پر یقین رکھتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ بہت کم عمر میں اس نے اپنی پہچان بنا لی تھی۔ کیا ہوا تھا؟ مریم کے واپس گاڑی میں بیٹھنے پر ندا نے فوراً پوچھا۔ مریم نے لمبا سانس خارج کیا۔ کچھ نہیں! گاڑی گرم ہو گئی تھی۔ چلتے ہیں۔ مریم بہانے سے گاڑی چیک کرتے۔ فون پر آنے کی اطلاع دی۔ آج مریم کو اپنی کامیابی پر پورا یقین تھا۔ وہ بہت پر جوش تھی۔ لیکن نہیں جانتی تھی۔ کہ جب خدا کی لاٹھی بے آواز ہے۔ اور جب وہ پڑتی ہے۔ تو ہوش ٹھکانے لگ جاتے ہیں۔ مریم کے ہوش بھی بہت جلد ٹھکانے لگنے والے تھے۔ سکندر اور رضا مسلسل رابطے میں تھے۔ کہ تبھی نوفل کی کال سکندر کے موبائیل پر آئی۔ سکندر کارڈرائیور کرتے ہی نوفل کی کال پک کر چکا تھا۔ نوفل ملتان سے واپس آ چکا تھا۔ وہ بھی اپنی گاڑی میں اپنے مشترکہ اپارٹمنٹ میں جا رہا تھا۔ لیکن سکندر سے ڈیٹل لینے پر وہ بھی اپنی ٹیم کے ہمراہ سکندر کے پیچھے ہی جا رہا تھا۔ سکندر کو رہ رہ کر ندا پر غصہ آ رہا تھا۔ سکندر کے منع کرنے کے باوجود پھر مریم کے ساتھ تھی۔ رضا مسلسل سکندر کو ان کی کوشش بتا رہا تھا۔ وہ حیران تھا۔ کہ ندا کیسے مریم کے ساتھ اتنی خطرناک جگہ جا سکتی تھی۔ مریم۔۔۔! ہم۔۔۔ کہاں۔۔۔ جا رہے ہیں۔ اچانک ندا جھلی کو خیال آ ہی گیا۔ مریم ساٹ چہرے کے ساتھ سامنے دیکھتی رہی۔ وہ اپنے اندر ایک جنگ لڑ رہی تھی۔ ندا کی بات کا جواب دیتی؟؟ مریم۔۔۔! تم بول کیوں نہیں رہی۔۔۔۔؟ یہ راستہ مارکیٹ کی طرف تو نہیں جاتا۔۔۔۔! ندا حقیقتاً پریشان ہو گئی۔ ندا کو گھبراہٹ ہونے لگی۔ تبھی جھٹکے سے کار رکی۔ سامنے نظر پڑی۔ تو تین گاڑیاں کھڑی تھیں۔ مریم کا چہرہ ابھی بھی بلکل سیاٹ تھا۔ وہ حیران تھی۔ کہ سب ہو کیا رہا ہے۔ مریم باہر نکلی آگے بڑھی۔ سامنے سے بھی ایک آدمی آگے بڑھا۔ ندا صرف دیکھ رہی تھی۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ تو خود بھی گاڑی سے باہر نکل آئی۔

😇
😇
😇
😇
😇

میں نے اپنا وعدہ پورا کیا۔ اب تم بھی اپنا وعدہ پورا کرو۔ مریم نے سیاٹ انداز میں اس گھنی مونچھوں والے شخص سے کہا۔ جسے دیکھ ایک پل کے لیے ندا لرز گئی۔ اسے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔ گھنی دوپہر۔ سنسان جگہ دور دور تک کسی ذی روح کا نام ونشان تک نہ تھا۔ گھنے درخت تھے۔ ندا نہیں جانتی تھی۔ کہ وہ کونسی جگہ ہے۔ اور مریم اسے یہاں کیوں لائی ہے۔ اتنی بھی کیا جلدی ہے۔۔۔؟ جان من۔۔۔۔! پہلے دیدار تو کروا دو۔ وہ شخص مونچھوں کو تاؤ دیتا کمینے انداز میں بولا۔ جان من کہنے پر مریم نے لب بھینچے۔ لیکن وہ بول نہ سکی کچھ۔۔۔۔!! پلٹی اور ندا کی طرف بڑھی۔ ندا نے ایک نظر مریم کو دیکھا۔ آج اسے احساس ہوا۔ کہ دوست کے روپ میں جب کوئی دشمن نکل آئے۔ تو کتنی تکلیف ہوتی ہے۔ مریم نے سختی سے ندا کو بازو سے پکڑا۔ اور تقریباً گھسیٹتے ہوئے اس شخص کے پاس لے کر جا کر دھمکا دیا۔ بمشکل وہ خود کو گرنے سے بچا پائی۔ دیکھ لو۔۔۔۔! مریم جو کہتی ہے۔ وہ ہی کرتی ہے۔ اپنے قول کی پکی ہے۔ مریم تقریبآ پھنکا دی۔ واہ۔۔۔! پیس تو بہت کمال کا ہے۔۔۔۔! اس شخص نے ندا کا سر سے پاؤں تک گندی نظروں سے جائزہ لیا۔ ندا کا دل کیا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔ اتنے بڑے شاک نے اس کے بولنے کی سکت ہی ختم کر دی تھی۔ اب۔۔۔۔! بتاؤ۔۔۔! کہاں ہیں وہ؟ م?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *