Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Roop (Episode 29)

Roop by Umme Umair

“This world is provisions, and there’s no provision in this world better than a righteous wife”( Sunnan Ibne Majah:1928)

“دنیا متاع (سامان)ہے ، اور دنیا کے سامانوں میں سے کوئی بھی چیز نیک اور صالح عورت (بیوی) سے بہتر نہیں ہے”(سنن ابن ماجہ:1928)

موسی نے بولتے ساتھ ہی وردہ کے دونوں ہاتھوں کو تھام لیا اور اپنی آنکھوں کے ساتھ لگا کر بولا ۔ وردہ میں نے آپکو رب کائنات ،اپنے خالق و مالک کی رضا اور خوشنودی کے لئے دل و جان سے معاف کیا ہے ۔۔۔

وردہ جب سے آپ میری زندگی کا حصہ بنی ہو میں نے ہمیشہ آپ کے لئے خیر ہی سوچی ہے ۔ جب دین اسلام پر مکمل طور پر عمل پیرا نہیں بھی تھا پھر بھی میرا دل ودماغ صرف آپکو ہی سوچتا تھا ۔ اور جب اللہ نے توحید کی سمجھ عطا کی اور سنت پر عمل کرنے کی توفیق نصیب ہوئی تو ہر وقت آپکی فکر ستاتی تھی کہ میں کیسے آپکو سمجھاوں کہ رب کا قرآن اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہمیں کیا درس دیتا ہے ؟!

اللہ سبحان و تعالی کا فرمان ہے:

“اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچاو جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں اس پر سخت اور طاقتور فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے انہیں جو حکم دیا جائے وہ کر گزرتے ہیں”(سورت التحریم:6)

وردہ نے ایک سیکنڈ کی تاخیر کیئے بنا موسی سے اپنے ہاتھ چھڑائے اور صوفے پر چھلانگ لگا دی جھٹ سے موسی کے ساتھ لپٹ گئی ۔۔

You are the most precious man on this earth, you are my light and you are my pride forever!

“آپ اس کرہ ارض پر سب سے زیادہ انمول/قیمتی انسان ہیں، آپ میری لیئے روشنی ہو اور آپ ہمیشہ کے لئے میرا فخر ہو”۔

آپ نہیں جانتے کہ آپکی اس بات نے میرے دل سے کتنا بڑا بوجھ ہلکا کر دیا ہے ۔ وردہ نے روتے ہوئے موسی کے ہاتھوں کو تھام لیا اور اپنی خالص محبت کی مہریں ثبت کرنے لگی ۔ موسی حیرت سے وردہ کے اس نئے بدلتے روپ کو دیکھ رہا تھا ۔

وردہ ! بس بس کافی ہے یار ۔ موسی نے وردہ کو اپنے ساتھ لگا کر تسلی دی ۔۔

عصر کی اذان سنائی دے رہی ہے نا ؟ روتی وردہ نے ہاں میں گردن جھٹکی ۔ تو پھر پیاری سی بیوی میں وضو کر کے مسجد جا رہا ہوں۔۔۔

پتا ہے نا فجر اور عصر نماز کو انکے اول وقت پر ادا کرنے کی کتنی فضیلت ہے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

“رات اور دن میں فرشتوں کی ڈیوٹیاں بدلتی ہیں ۔اور فجر اور عصر کی نمازوں میں (ڈیوٹی پر آنے والوں اور رخصت پانے والوں کا)اجتماع ہوتا ہے ۔پھر تمھارے پاس رہنے والے فرشتے جب اوپر چڑھتے ہیں تو اللہ پوچھتا ہے حالانکہ وہ ان سے بہت زیادہ اپنے بندوں کے متعلق جانتا ہے کہ میرے بندوں کو تم نے کس حال میں چھوڑا ہے ۔ وہ جواب دیتے ہیں کہ جب ہم نے انہیں چھوڑا تو وہ (فجر کی) نماز پڑھ رہے تھے اور جب انکے پاس گئے تو تب بھی وہ (عصر کی) نماز پڑھ رہے تھے”(صحیح بخاری،کتاب مواقیت الصلوۃ:555)

اور ہاں پھر واپس آ کر بہت ضروری چھوٹا سا کام نپٹانا ہے ۔ اگر آج یہ کام نامکمل رہا تو مجھے کل اسلام آباد جانا پڑے گا ۔۔

ابھی گذارش ہے کہ مجھے اجازت دو اور مسجد کے لئے جانے دو ، باقی کی لاڈیاں بعد میں بھی کی جا سکتی ہیں ۔۔۔

ابھی آپ بھی اٹھو اور عصر ادا کر لو ! پتا ہے نا فرض نماز کی قبولیت کے زیادہ چانسز نماز کے اول وقت میں ہوتے ہیں ۔ وردہ مسلسل گردن ہلائے جا رہی تھی پر موسی کو اپنے حصار میں جکڑا ہوا تھا۔۔

وردہ ابھی چھوڑ دو پلیز ۔ میں پھر سے غصہ کروں؟

ہاں کر کے تو دیکھیں میں نے کچومر نکال دینا ہے ۔

چلو جی ابھی صلح ہوئے 10 منٹ بھی نہیں گزرے اور دھمکیاں آنا شروع ہو گئیں ہیں ۔۔۔

موسی نے وردہ کی دونوں کلائیوں کو پکڑ کر پیچھے ہٹایا۔ وردہ وہ دیکھ رہی ہے نا گھڑی؟ ٹھیک 8 منٹ میں عصر کی جماعت کھڑی ہو جائے گی ۔

بولتے ساتھ ہی موسی بھاگ کر واش روم میں گھس گیا ۔ وضو کیا اور ناک کی سیدھ میں کمرے سے نکلنے لگا کہ عقب سے وردہ نے ہانک لگائی ۔

سیدھے گھر واپس آنا ہے ! موسی نے مسکراتے ہوئے وردہ کو دیکھا اور بولا، میں عصر کی نماز کے لئے جا رہا ہوں ناکہ سبزی منڈی ۔

سیدھا ہی آوں گا ان شاءاللہ ۔ آپ بے فکر رہو!

سیدھا کا مطلب بالکل سیدھا گھر آنا ہے، یہ نا ہو آپ باہر لوگوں کے ساتھ گفت و شنید شروع کر لو ۔ موسی بغیر جواب دیئے کمرے سے نکل گیا ۔

وردہ نے خوشی سے کمرے میں اچھل کود شروع کر دی ۔ شکر ہے کتنے دنوں کا بوجھ دل سے اترا ہے الحمداللہ ۔ پہلے شکرانے کے 2 نفل اور پھر عصر کی نماز پڑھوں گی، کیونکہ عصر کے بعد کوئی نفلی عبادت قبول جو نہیں ہوتی ہے ۔۔۔ خود سے ہمکلام ہوتے ہوئے واش روم گھس گئی ۔۔۔

نماز کی ادائیگی کے بعد چھم چھم برستی آنکھوں سے اللہ کا شکر ادا کیا اور اپنی آنے والی زندگی کے لئے ڈھیروں دعائیں مانگیں، وردہ ابھی بھی رقت آمیز انداز سے دعاوں میں مشغول تھی جب موسی کی کمرے میں واپسی ہوئی ۔

وردہ کے عقب میں کھڑے ہو کر کتنی دیر اسکا خشوع و خضوع دیکھتا رہا اور پھر چپکے سے لائبریری جانے کے لئے قدم موڑے تو وردہ نے بھاگ کر پیچھے سے دبوچ لیا ۔

موسی آپ ابھی کہیں بھی نہیں جا رہے ہیں ،بس ادھر بیٹھیں گے اور میرے ساتھ ڈھیر ساری باتیں کریں گے ۔

وردہ میرا فی الحال یہ کام مکمل کرنا بہت ضروری ہے پلیز ۔ موسی نے عاجزانہ لہجے میں التجا کی ۔۔

مجھے نہیں پتا، آپ کہیں بھی نہیں جا رہے ہیں ۔ وردہ آپ اب بچی نہیں ہو ، ایک عورت اور وہ بھی میچور پلیز سمجھنے کی کوشش کرو یار ۔۔

اگر یہ ڈیل ڈن ہو گئی تو مزید دس سے پندرہ مزدوروں کی روزی روٹی چل پڑے گی ۔

وردہ فورا موسی کے عقب سے نکل کر سامنے ان کھڑی ہوئی ۔

تو آپ کو بیوی سے زیادہ مزدور عزیز ہیں؟ وردہ نے تائید چاہی ۔

سوچنا پڑے گا کہ کون زیادہ عزیز ہے؟! موسی نے سر کھجاتے ہوئے وردہ کو چڑایا ۔۔۔

ابھی بھی سوچنا پڑے گا؟! وردہ نے آنکھیں پھیلائیں اور حیرت سے گویا ہوئی ۔۔

آپکی سوچ کی ایسی کی تیسی ! آ جائیں میدان میں ذرا ہو جائے کک باکسنگ پھر ؟

ہار گئے تو میری خواہش کے مطابق میرے پاس بیٹھ کر مغرب تک باتیں کرو گے اور اگر جیت گئے تو پھر اپنے مزدوروں کی روزی روٹی تلاش کرتے رہنا ۔ وردہ نے سامنے کھڑے ہو کر پکوڑے کی طرح اپنا منہ پھلا کر بولا ۔

موسی نے مسکراتے ہوئے وردہ کی ناک مروڑی، ۔مجھے یہ دونوں باتیں نامنظور ہیں کیونکہ میرے پاس وقت بہت کم ہے ۔ آپ ساتھ ہی آ جاو اور میرے عقب میں بیٹھ کر کتابوں کا مطالعہ کرو ۔

اور مجھے اپنا کام مکمل کرنا ہے ۔

میں نہیں بولتی آپ سے ۔

چلو یہ تو اور ہی اچھی بات ہے ۔ میں آرام سے اپنا کام مکمل کر لوں گا ان شاءاللہ ۔

موسی آپ بہت ڈھیٹ ہیں ۔ آپ کے ساتھ رہ رہ کر ہو گیا ہوں ۔

میں ناراض ہوں آپ سے جائیں کریں اپنا کام !!

کام کام کام ہر وقت کام ۔

وردہ نے پھولے منہ سے موسی کا رستہ چھوڑا اور واپس صوفے پر آ کر بیٹھ گئی ۔

ٹھیک ہے نہیں کرتا کام ۔ پھر کل میں ایک ہفتے کے لئے اسلام آباد چلا جاوں گا، میرے خیال میں وہ زیادہ مناسب رہے گا ؟ کیا خیال ہے وردہ؟

موسی نے مسکراہٹ کو دباتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا ۔

ہونہہ مجھے نہیں پتا ۔ ہائے ہائے یہ قاتل ادائیں ۔ غصے میں تو گہرے بھورے گلاب جامن جیسی لگ رہی ہو ۔۔

وردہ کا پھولا منہ اب لٹکنا بھی شروع ہو چکا تھا ۔ موسی نے چند سیکنڈ وردہ کو دیکھا پھر آگے بڑھ کر اسے اپنی باہوں میں سمو کر لائبریری کی کرسی پر لا بٹھایا ۔

اب میری پیاری سی بیگم میرے پہلو میں بیٹھ کر میری مدد کروائے گی ۔

وردہ ہنوز خاموش ۔

اچھا چلو آپ ایک کام کرو میرے لیئے اپنے ان خوبصورت ہاتھوں سے اچھی سی چائے بنا کر لاو ۔ دونوں بیٹھ کر اکھٹے پیئں گے ۔ جتنی دیر میں چائے تیار ہوتی ہے میں کچھ تو کام نپٹا لوں گا ۔

اوکے ؟

اوکے میں ابھی بنا کر لاتی ہوں ۔ اور سنو چائے آرام اور دھیان سے بنانی ہے ۔ ہاتھ نہ جلا لینا پلیز ! نہیں جلاتی ، صبح تو میں بہت پریشان تھی اور آپ سے ڈر رہی تھی کہ آپ پتا نہیں مجھے معاف بھی کریں گے یا نہیں ، اس لیئے میرے ہاتھوں میں لرزش تھی ۔ اور ابھی ڈر نہیں لگ رہا ہے؟

نہیں بالکل قطعا بھی نہیں ۔ اور ویسے بھی کس لئیے ڈروں جب میں خود بلیک بیلٹ اور کک باکسنگ کی ماہر ہوں ۔آپ جیسوں کو تو منٹوں میں بھگا سکتی ہوں ۔ موسی نے مسکراہٹ کو دباتے ہوئے وردہ کو محبت پاش نظروں سے دیکھا اور چائے بنانے کی یاد دہانی کروائی ۔

کوفی بنا لوں موسی؟ ہمم چلو جو آپ کا دل کر رہا ہے اور جو زیادہ آسان ہے وہ بنا کر لے آو ۔

اور جلدی نہ آنا ! بے شک وقت لگا کر بنانا ۔

موسی بہت بری بات ہے ۔ وردہ نے سرزنش کی ۔

ارے بھئی میں تو آپکو انتظار کی اذیت سے نکالنا چاہتا ہوں ۔

موسی پکوڑے بھی بنا لوں؟ نیکی اور پوچھ پوچھ!

جاو جان موسی! خادم کے لئے جو جی چاہ رہا ہے بنا کر لے آو ۔

وردہ نے مسکراتے ہوئے موسی کو محبت سے چور نظروں سے دیکھا اور دوبارہ سے اپنی باہوں کا ہار بنا کر بھینچ ڈالا پھر چار و نا چار لائبریری سے باہر نکل آئی ۔۔۔

موسی کی انگلیاں دوبارہ سے حرکت میں آ چکی تھیں، کتنی ساری ریکوئیسٹس پینڈنگ تھیں ۔۔۔

موسی کام میں ایسا مصروف ہوا کہ آگے پیچھے کا ہوش ہی نہ رہا ، اچانک نظر گھڑی پر پڑی تو وردہ کو گئے ڈیڈھ گھنٹہ سے بھی اوپر بیت چکا تھا ۔ موسی کو گھبراہٹ نے آ لیا ۔ چائے میں اتنی دیر تو نہیں لگتی ۔ فورا بھاگ کر زینے اترے اور برق رفتاری سے کچن میں پہنچا ۔ وردہ کو کچن میں ایپرن پہنے مصروف دیکھا تو جان میں جان آئی ۔

عقب سے آ کر وردہ کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیئے ۔

موسی ہاتھ اٹھا لیں ۔ میں نہیں ڈرنے والی ہوں ابھی ۔ میں تو اچھی طرح جانتا ہوں اپنی شیرینی کو ، یہ تو موسی سکندر خان کو تو پچھاڑ کر رکھ دے گی ۔

ویسے پوچھنا یہ تھا کہ چائے بن رہی ہے یا پائے گلائے جا رہے ہیں جو پکنے کا نام ہی نہیں لے رہے ہیں ؟ ۔

آپ جناب کام میں اتنے مصروف تھے کہ میں نے سوچا پکوڑوں کے بجائے فریش کریم کیک بنا لوں ۔ بس اب سب کچھ تیار ہے ماشااللہ ۔

موسی نے دل سے اللہ کا شکر ادا کیا ۔ اور سٹول پر جا بیٹھا ۔ ارے ارے آپ ادھر کیوں بیٹھ گئے ہیں؟ ادھر میز پر جا کر بیٹھیں نا !میں بس ابھی لائی کیک چائے اور ساتھ میں نمک پارے بھی ۔

وردہ میں بیہوش ہو جاوءں گا ۔ کریم کیک کا بنانا تو سمجھ میں آتا ہے مگر یہ نمک پاروں والی بات ہضم کرنا ذرا مشکل ہے ۔ یہ کیسے بنا لیئے ہیں ۔ وردہ نے تیزی سے ہاتھ چلاتے ہوئے تمام چیزیں ٹرے میں سجائیں اور میز پر لے آئی ۔

جناب جب آپ قطر دوحہ میں تشریف فرما تھے تو آپکی غیر موجودگی میں خالہ بی سے آپکی پسند ناپسند کی چیزوں کے بارے میں پوچھا اور پھر سیکھا بھی ۔ تاکہ آپ کے معدے کے ذریعے آپکے دل تک رسائی حاصل کر سکوں ۔

انہوں نے ہی بتایا کہ آپ کو چائے کے ساتھ زیرے والے نمک پارے بھی بہت پسند ہیں لیکن کبھی کبھار ۔

وردہ آپکو معدے سے دل تک رسائی کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔ کیوں؟ وردہ نے گھبرا کر پوچھا ۔

کیوں کہ دل میں پانچ سال سے ایک ہی مکین آباد ہے۔۔ اور وہ مکین کون ہے ؟ وردہ نے متجسس انداز میں پوچھا

ہے کوئی مزدور ٹائپ ۔ موسی ! ۔مجھے تنگ نہ کریں پلیز ۔ اگر سننا چاہتی ہوتو ادھر میرے پاس آو، کان میں بتاوں گا ۔ ادھر کوئی دوسرا موجود نہیں ہے، ایسے ہی بتا دیں ۔

دیواریں تو ہے نا ۔ موسی آپ بھی بہت ضدی ہیں ۔ تعریف کا بہت شکریہ ۔

چلیں بتائیں ۔ ابھی بھی کان میری دسترس سے دور ہے ۔ وردہ مذید قریب ہوئی ۔

باووووووووووووو۔ وردہ ایک جھٹکے سے پیچھے ہٹی ۔ موسی یہ تو چیٹنگ کر رہے ہیں ۔ نہیں میں تو آپ کی بہادری کا پیمانہ ناپ رہا تھا ۔

آپ کو پتا بھی ہے وہ مزدور مکین کون ہے تو پھر بار بار پوچھنے کی کیا تک بنتی ہے بھلا ؟!

اس مکین کو نئے سرے سے زندگی کا آغاز کرنا ہے لہذا اپنی زبان شریف اور منہ شریف کو ہلانے کی جسارت کر لیں ۔

زبان کو ہلانے کے لئے بل کی ادائیگی بہت ضروری ہے ۔

چلیں میں بل دینے کے لئے تیار ہوں ۔

سوچ لو وردہ یہ سودا مہنگا بھی پڑ سکتا ہے ۔

جب منزل کی طرف رواں دواں ہو چکی ہوں تو پھر مہنگے سستے کا کوئی جواز نہیں بنتا ہے ۔

ٹھیک ہے پھر ابھی کیک اور نمک پارے آپ اپنے ہاتھوں سے مجھے کھلاوں گی ۔ وردہ نے گھورا ۔

اب تو ڈیل ڈن ہو چکی ہے ۔وردہ نے کرسی کھسکا کر موسی کے قریب کی اور کیک کا ایک سلائس اٹھا لیا اور موسی کو منہ کھولنے کا عندیہ سنایا ۔

موسی منہ کھولے بیٹھا تھا ، وردہ کیک منہ کے قریب لے جا کر ہاتھ واپس لے آتی ۔ بارہا موسی کو چکما دینے کے بعد آخر موسی کی پکڑ میں آ گئی ۔ موسی نے یکدم کیک والی کلائی دبوچ کر کیک کا سارا سلائس منہ میں ڈال لیا اور پھر وردہ کو ایک اور سلائس کھلانے کا اشارہ کیا ۔ ہاتھ چھوڑیں گے تو سلائس اٹھاوں گی ۔ اب ہاتھ نہیں چھوٹنے والا ، پلیٹ کو اپنے قریب کھسکا لو ۔

موسی! وردہ وعدہ تو وعدہ ہوتا ہے ورنہ پھر وعدے کو توڑنے والا منافق بھی بن سکتا ہے ۔

دو سلائس کے بعد موسی نے چائے پلانے کی فرمائش بھی کر ڈالی ۔

موسی وعدہ صرف کیک کا تھا چائے کا تو نہیں تھا ۔

اگر چائے چھلک گئی تو آپکو جلا بھی سکتی ہے ۔

میں نہیں چھلکنے دوں گا، آپ کا ہاتھ تھامے رکھوں گا ۔ پھر کیا فائدہ ہے ؟ اسکا بہت بڑا فائدہ یے جس سے آپ لاعلم ہو ۔ آہستہ آہستہ سیکھ جائے گی میری گڑیا ۔موسی پھر سے گڑیا بول رہے ہیں ۔

میرے لیئے تو ویسی ہی پانچ سال پرانی گڑیا ہو اور رہو گی ان شاءاللہ ۔

موسی جی اس وقت میں 18 سال کی تھی اور ابھی 23 سال کی ہو چکی ہوں ۔

موسی سکندر خان کو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے ۔میرے دل کی مکین جیسی تھی مجھے ویسی ہی ملی ہے ۔ ہاں صرف ایک بہت بڑا فرق آ گیا ہے ۔

وہ کیا ؟ وردہ نے بےچینی سے پوچھا ۔

وہ فرق یہ ہے کہ وردہ جمال مرزا 18 سال کی عمر میں شرمیلی تھی اور اب 23 سال کی عمر میں لڑاکا بن چکی ہے ۔۔

موسی نے بولتے ساتھ ہی قہقہ لگایا ۔۔

وردہ نے جھٹ سے کیک کا سلائس اٹھا کر موسی کے چہرے پر مل دیا ۔

دیکھا ہے نا ابھی ثبوت بھی مل گیا ہے ۔موسی نے ہنستے ہوئے وردہ کو مذید چڑایا ۔ پاس پڑے ٹشو کے ڈبے میں سے ٹشو نکال کر کریم زدہ چہرہ صاف کیا ۔ اور وردہ کے کان میں سرگوشی والے انداز میں بولا ۔۔۔ دل کی اصل مکین کا یہ انوکھا انداز بہت بھایا ہے ۔

وردہ کے گال دہکنے لگے ۔ دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگیں ۔ گھبرا کر بھاگنے میں عافیت جانی ۔۔ اے وردہ ابھی نمک پارے تو کھلائے ہی نہیں ہیں اور آپ بھاگ کھڑی ہوئی ہو ۔ اپنا وعدہ پورا کرو ورنہ اس حدیث کے بارے میں جانتی ہو نا ۔ موسی نے ادھر بیٹھے بیٹھے ہانک لگائی ۔۔۔

موسی وعدہ صرف کیک کھلانے کا تھا نمک پاروں کا نہیں تھا۔ وردہ نے تیزی سے زینے پھلانگنے شروع کر دیئے ۔ نمک پاروں کا بھی تھا ۔ چلو وہ کل کھلا دینا۔

پگلی نہ ہو تو ۔ موسی نے بقایا چائے ختم کی تو باہر مغرب کی اذان کی آواز گونجنے لگی ۔

وضو کے لئے سیٹنگ روم سے ملحقہ واش روم سے وضو کیا اور مسجد کے لئے روانہ ہو گیا ۔۔۔۔

کمرے میں واپسی پر وردہ کو ویسے ہی اپنے رب کے ہاں ہاتھ پھیلائے پایا ۔ دعاوں کی طلبگار ساتھ میں شاید روئے بھی جا رہی تھی ۔

موسی خاموشی سے کمرے میں پڑے صوفے پر ٹک گیا ۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ وردہ کا تسلسل ٹوٹے ۔ ڈیڑھ مہینے والی وردہ اور اب والی وردہ میں بہت تبدیلیاں رونما ہو چکی تھیں ۔ موسی کو یاد تھا کہ جب وہ وردہ کو نماز کے لئے اٹھایا کرتا تھا لیکن وہ پھر بھی اسکو نظر انداز کر کے بستر پر پڑی رہتی تھی اور آج وہی وردہ خشوع و خضوع سے پانچ وقت نماز کی عادی بن گئی ہے ماشااللہ ۔

جی چاہا وردہ کو خود میں سمو لے اور اسکے پاس کوئی غم اور کوئی آنچ نہ آنے دے ۔۔

اللہ میں تیری کون کونسی نعمت کا شکر ادا کروں ۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میری کھوئی ہوئی محبت دوبارہ میری جھولی میں ڈال دی جائے گی ۔ یہ سب تیرا کرم ہے میرے مالک ۔ الحمداللہ ثم الحمداللہ ۔۔۔ یا اللہ تیرا شکر ہے تو نے اسے اپنے دین پر عمل کرنے کی توفیق دی ہے ۔ اے اللہ میری بیوی کو مذید خیر کرنے کی توفیق عطا فرما آمین ۔ موسی دل ہی دل میں وردہ کو دعائیں دے رہا تھا جوکہ اسکا روز کا معمول بھی تھا ۔

ربنا هب لنا من ازواجنا و ذرياتنا قرة أعين واجعلنا للمتقين إماما(سورت الفرقان:74)

“ہمارے پروردگار!ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما ، اور ہمیں متقی لوگوں کا پیشوا بنا۔”

موسی کے شب و روز اس دعا کو مانگنے میں گزرتے تھے اور آج اس دعا کا ثمر پا کر دل خوشی سے لبریز ہو رہا تھا ۔

وردہ جیسے ہی جائے نماز سے اٹھی ، موسی نے فورا آگے بڑھ کر وردہ کو اپنے حصار میں لے کر اس کی پیشانی چوم ڈالی۔

Warda I’m so proud of you my love!

May Allah increase you in imaan and keep you steadfast upon it ameen.

Warda you just made my day!

“وردہ میری محبت! مجھے آپ پر بہت فخر ہے! اللہ آپکو ایمان میں بڑھائے اور اس پر ثابت قدم رکھے آمین۔ وردہ آپ نے میرا دن خوشگوار بنا دیا ہے!

وردہ کی آنکھوں نے چھلکنا شروع کر دیا۔ ارے ابھی کیوں رو رہی ہو یار ؟ ابھی تو سب شکوے شکایتیں دور ہو گئی ہیں۔ آج تو ہم نے نئی زندگی کا آغاز کیا ہے ماشااللہ ۔ آو اللہ کے حضور دو رکعت نفل ادا کر لیں ۔ جی !وردہ نے آنکھوں کو صاف کیا اور موسی کی مقتدی بن گئی ۔ موسی کے سلام پھیرتے ہی وردہ بھاگ کر موسی سے لپٹ گئی ۔ موسی میں آپ سے اپنی تمام نافرمانیوں، زبان درازیوں اور بدتمیزیوں کی معافی مانگتی ہوں ۔ میں نے آپ کا بہت دل دکھایا ہے ۔ وردہ بس اب بات ختم ہو گئی ہے جب میں نے بولا ہے کہ میں نے آپکی ہر کوتاہی کو معاف کیا ہے تو پھر اتنا کافی ہے ۔ میرے سے بھی غلطی ہوئی ہے کہ میں نے بھی دوبارہ کینیڈا جا کر آپکو منانے کی کوشش نہیں کی ۔ موسی آپکی غلطی چھوٹی ہے بنسبت میری غلطیوں کے ۔ اچھا چلو رونا دھونا بند کرو ۔ آج کے بعد اس موضوع کو دوبارہ نہیں کھولنا ۔ ہم سب انسان ہیں ، غلطیاں ہو جاتی ہیں، اگر ہم سچے دل سے ان غلطیوں کو تسلیم کریں اور اپنی اصلاح کی طرف لوٹ آئیں ۔

وردہ اگر برا نہ لگے تو ایک بات بولوں؟ وردہ فورا موسی سے الگ ہوئی اور سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی ۔ موسی نے جھجھکتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *