Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Roop (Episode 02)

Roop by Umme Umair

مڑتے ساتھ ہی نظر سامنے کھڑے موسی جو کہ سینے پر ہاتھ رکھے ٹکٹکی باندھ کر وردہ جمال مرزا کو سر سے پاوں تک گھورے جا رہا تھا ۔

وردہ کا موڈ یکدم بدلا ،نفرت سے ہنکارا لے کر تیزی سے گھر کے اندرونی حصے میں جانے کی راہ لی اور تقریبا دوڑ لگانا چاہی ۔ پلک جھپکنے کی دیر کیئے بغیر موسی نے اس کی کلائی تھام لی ۔

یہ کیا بدتمیزی ہے ؟ وردہ غرائی ۔ بیگم صاحبہ یہ بدتمیزی نہیں ہے اس کو تمیز بولتے ہیں ۔ میری لغت میں لفظ بدتمیزی کا ورقہ عرصہ دراز سے پھٹ چکا ہے ۔ موسی نے وردہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جھانکا ۔ کتنے ڈھیٹ انسان ہو ۔

شکر ہے بیگم صاحبہ کچھ تو رائے رکھتی ہیں مجھ ناچیز کے بارے میں ۔

یہ بیگم کس کو بولا ہے؟ وردہ غصے سے لال پیلی ہو رہی تھی ۔ میں نے اپنی بیوی محترمہ کو بیگم بولا ہے ۔ کوئی اعتراض؟ ہاں ہے اعتراض، چھوڑو میری کلائی اور زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اپنی حد میں رہو ۔ وردہ مسلسل اپنی کلائی چھڑوانے کی تگ و دو کر رہی تھی ۔

بیگم صاحبہ اگر یہ کلائی تھامی ہے تو کوئی مائی کا لعل پیدا نہیں ہوا جو چھڑوا سکے ۔

نہیں چھوڑوں گا ، کیا کر لو گی ؟

مائی فٹ ! وردہ غصے سے چلائی ۔ میں نے تمھیں پہلے بھی بولا ہے زیادہ فری نہ ہو ۔

اچھا تو آپ ہی بتا دیں کیا کروں پھر ؟ کیا میں جا کر چوکیدار ، مالی یا پھر کسی غیر محرم عورت سے فری ہوں ؟! توبہ توبہ اللہ کی پناہ ! مجھے حلال چھوڑ کر حرام پر اکسا رہی ہو وردہ، کچھ تو اللہ کا خوف کرو ۔ موسی نے مصنوعی پریشان چہرہ بنایا جو کہ وردہ کو جلانے کے لئے ضرورت سے زیادہ مفید ثابت ہوا ۔

میری طرف سے تم جاوء بھاڑ میں ! میری جوتی کو بھی پرواہ نہیں ہے ۔ چھوڑو میری کلائی ۔ وردہ نے کھینچا تانی شروع کر دی لیکن سب بےسود ۔

موسی نے ایک چھوڑ دوسری کلائی کو بھی تھام لیا ۔

وردہ کو محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا ۔ میری زندگی کی سب سے خوبصورت صبح کو کیوں خراب کرنے پر تلی ہوئی نادان لڑکی؟ وردہ نے موسی کے بدلتے تیور کو نظر انداز کرتے ہوئے فورا جھک کر موسی کے ہاتھ پر اپنے دانت گاڑھ دیئے ۔

موسی ایک دم سے اچھلا اور اسکی گرفت ڈھیلی پڑ گئی ۔ جسکا فائدہ اٹھاتے ہوئے وردہ نے بھاگ جانا چاہا لیکن وہ شاید بھول چکی تھی کہ موسی سکندر خان کوئی معمولی شخص نہیں جسکو وہ چکما دے سکے گی ۔

کیوں بھول جاتی ہو کہ میں کون ہوں؟ تم ایک نہایت ڈھیٹ اور گھٹیا انسان ہو جسے زبردستی دوسروں کے جذبات سے کھیلنے کی عادت ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ مشغلہ اور چسکا ہے ۔ مطلبی خود غرض انسان مجھے شدید نفرت ہے تم سے ۔ وردہ نے حقارت سے دیکھتے ہوئے موسی کے دل کو چھلنی کیا۔

شدت غم سے وردہ کی آنکھیں چھلک جانے کو تیار تھیں جسکو وہ موسی کے سامنے بار بار روکنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی ۔

بس بول لیا ہے یا بیگم صاحبہ نے کچھ اور عرض کرنا ہے ؟

وردہ نے بے بس ہو کر چہرہ دوسری طرف موڑ لیا ۔ نا چاہتے ہوئے بھی موتی ٹپ ٹپ گرنے لگے ۔

بگڑتی ہوئی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈھیٹ موسی نے وردہ کو اپنی باہوں میں بھرا اور گھر کے اندرونی حصے کی طرف چل پڑا ۔ وردہ شدید غصے میں اس کے سینے پر پوری قوت کے ساتھ مکے برسا رہی تھی ۔

میری نئی نویلی دلہنیا کیا کھائیں گی ؟ موسی نے وردہ کو کچن کے سٹول پر بٹھاتے ہوئے پوچھا ۔

غصے میں پیچ و تاب کھاتی کے غصے کا گراف مذید بڑھا۔

تم اس قابل ہو کے میں تمھیں بتاوں گی؟ صرف چند دنوں کی بات ہے میرے ڈیڈ کی واپسی تک میں ادھر ہوں ، پھر میں تمھاری یہ منحوس شکل بھی نہیں دیکھوں گی ۔

موسی نے لمبا سانس خارج کیا اور بولا میری دلہنیا خوبصورت شکل کے ساتھ ساتھ شیریں زبان بھی رکھتی ہیں ماشااللہ ۔ اور میں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلا سکتا ہوں ۔ لہجہ بالکل دھیما اور پرسکون ۔ وردہ کو تو پاوں میں لگی اور سر سے نکلی ۔

غصے سے لال بھبھوکا چہرے سے موسی کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا اور بھاگ کر کچن سے نکل کھڑی ہوئی ، سرعت سے بالائی منزل کی طرف زینے چڑھنے لگی ۔

ارے بیگم رکو تو سہی ! میں تو ناشتہ بنانے والا تھا ۔ خالہ بی کو اچانک جانا پڑ گیا ہے کچھ دیر قبل ہی مجھے مطلع کر کے نکلی ہیں ، انکا نواسہ ہسپتال میں بیمار پڑا ہے ۔ آپ اگر کھانا پکانے میں مہارت رکھتی ہیں تو ضرور خود بھی کھائیں اور مجھے بھی کھلائیں ۔ موسی وردہ کے پیچھے لمبے لمبے ڈھگ بھرتا اس کے سر پر آن پہنچا ۔ وردہ کی اس آخری کوشش کو بھی ناکام بنا دیا جو ابھی خود کو کمرے میں بند کرنے کا منصوبہ تیار کر کے آئی تھی ۔ موسی نے بروقت پہنچ کر دروازے کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں لے کر کھول لیا ۔

دیکھو وردہ اس لڑائی کے بجائے ہم اچھے دوستوں کی طرح تو رہ سکتے ہیں ۔ کیوں خود کو ہلکان کر رہی ہو ۔ انکل نے مجھے آپ کا خیال رکھنے کی تنبیہ کی تھی لہذا میں اپنا وعدہ نبھاوں گا ۔

وردہ جو نیچے دبیز قالین پر بیٹھی زار و قطار رو رہی تھی ۔

موسی نے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھامنے کی کوشش کی جس کو وردہ نے حقارت سے جھٹک دیا ۔

“دور ہو جاوء ! دفع ہو جاوء ! میری نظروں کے سامنے سے” ۔

اچھا چلو پلیز غصہ تھوک دو اور آو نیچے چل کر ناشتہ بناتے اور کھاتے ہیں ۔ خالہ بی تو گھر پر نہیں ہیں اور رات سے آپ نے بھی کچھ نہیں کھایا ہو گا ۔ وردہ نے ہنکارا بھر کر اپنا رخ دیوار کی طرف موڑ لیا ۔

مجبور موسی کو وردہ کے اس طرح روٹھنے پر ٹوٹ کر پیار آیا ۔ سنجیدگی کا خول چڑھاتے ہوئے دھیمے لہجے میں بولا۔ وردہ یہ دیکھو آپکا بدلا آپکے جھمکے نے میرے تلوے میں کھب کر رات کو ہی لے لیا تھا ، ابھی بھی گاہے بگاہے درد کی ٹھیسیں اٹھ رہی ہیں ۔ اور اگر مزید بدلا لینا درکار ہے تو میں سامنے بیٹھا ہوں ۔ جو کرنا ہے کر لو ۔وردہ نے نفرت بھری نظر سے موسی کا زخمی پاوں دیکھا اور بولی ۔ علاج ہے تمھارا، تم ہو ہی اس قابل بلکہ میں کہتی ہوں کہ اس سے بھی زیادہ لگتی تو تمھیں پتا چلتا کہ تڑپ اور درد کیا چیز ہے؟ ۔

وردہ جمال مرزا موسی سکندر خان نے ہر درد کو محسوس بھی کیا ہے اور اپنے اندر اتارا بھی ہے ۔ آپ ابھی نئی ہو آہستہ آہستہ سب سمجھ جاوء گی ۔ موسی نے زندگی کو بہت قریب سے دیکھا ہے ، جس میں مایوسی نام کی کوئی چیز نہیں ہے ۔ موسی نے کبھی بھی کوئی بازی نفس کا پجاری بن کر نہیں کھیلی ہے ۔ نفس کے پجاری اپنے پیچھے غیرت کے تابوت دفناتے ہیں جبکہ غیرت کا نشہ میری گھٹی میں شامل ہے ۔ وہی خمار آلود دھیما لو دیتا لہجہ اور محبت سے لبریز آنکھیں وردہ کو ہلا کر رکھ گئیں ۔

اچھا میں ذرا کپڑے بدل لوں ، پھر دونوں نیچے جائیں گے ۔ بس ابھی 5 منٹ میں آتا ہوں ۔

وردہ پھسر پھسر روئے جا رہی تھی ۔

زندگی میں کبھی بھی اپنے آپکو اتنا لاچار محسوس نہیں کیا تھا جتنا آج اس شخص کی ہمراہی میں کر رہی تھی ۔

جی چاہ رہا تھا بھاگ جائے کہیں دور بہت دور جہاں اس شخص کا سایہ بھی نظر نہ آئے ۔

ادھر ہی گھٹنوں میں سر دیئے نجانے کتنی دیر گزر گئی ۔ واش روم کا دروازہ کھلنے کی آواز کے ساتھ ہی نفرت کی چنگاری بھڑکی ۔

ارے وردہ آپ اس وقت سے ادھر ہی بیٹھی ہو ؟ ادھر آو شاباش صوفے کے اوپر بیٹھو۔

موسی نے قمیض کی آستینوں کو موڑتے ہوئے مصروف انداز میں بولا ۔ ایسے بولا جیسے وردہ فورا ہی اس کے حکم کی تعمیل کرے گی ۔ سوچ کر ہنسی آئی جسکو دبا کر آگے بڑھا اور دو زانو ہو کر وردہ کی دائیں جانب بیٹھ گیا ۔

دیکھو وردہ آپ میری بیوی ہو ، میری عزت ہو اور میری غیرت ہو ۔ میں آپکو اس طرح تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا ۔ آپ کیوں اپنے آپکو اذیت دے رہی ہو ۔ میں تو صرف دوستی کا ہاتھ بڑھا رہا ہوں اور بس ! میں کبھی بھی آپکے ساتھ ناانصافی نہیں کروں گا ان شاءاللہ ۔ یہ ایک مرد کا وعدہ ہے جو اپنی آخری سانس تک اسکو نبھائے گا ۔ آپ میری شریک حیات ہو ،میری ہمسفر ہو ، ابھی میرے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا ہے ۔ ایسے لڑائی جھگڑا سے بہتر ہے سمجھوتہ کرلیتے ہیں ۔ اور وہ سمجھوتہ ایک بہترین دوستی کا بھی تو ہو سکتا ہے ۔موسی نے ملتجی نگاہوں سے وردہ کی آنکھوں میں جھانکا ۔۔۔

کچھ تو بولو پلیز وردہ !

موسی سکندر خان اگر ہمسفر ہونے کا دعوی کرتے ہو تو برداشت کرنا بھی سیکھو ! ہوا میں برہنہ تیر چلا کر خالی ہاتھ ہی رہو گے ! میں بھیڑ میں بچھڑی بچی نہیں ہوں جس کو میٹھی ٹافی پکڑا کر بہلا لو گے ! وردہ جمال مرزا جیتی جاگتی لڑکی ہے جس کی آنکھوں میں دھول جھونکنا تمھارے بس سے باہر ہے۔

نہ میں میٹھی ٹافیوں کا شوقین ہوں اور نا ہی تیر اندوزی کا ماہر اور نا ہی دھول جھونکنے کا خواہش مند ہوں ۔ میں نے تو اپنے ہمسفر کو اپنی سنگت میں اپنے دل کا مکین بنانے کے لیے چنا ہے ۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ نئے ہمسفر کو کچھ وقت لگے گا اپنے اس نئے مکان کو گھر بنانے میں ۔

اور وردہ آپ نے ابھی میری برداشت کو جانا ہی کب ہے؟ میں جب تک صفر سے دس تک نہ پہنچ جاوں پیچھے ہٹنا تو سیکھا ہی نہیں ہے ۔

چلو اٹھو شاباش ہاتھ چہرہ دھو لو ! آو میں تمھیں واش روم تک چھوڑ آوں ۔

خبردار مجھے ہاتھ لگایا تو ورنہ میرے سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔

موسی نے اپنے بڑھے ہوئے ہاتھوں کو پیچھے کھینچ کر اوپر اٹھا لیا ۔ جیسے میری بیگم صاحبہ کا حکم ۔ خادم تو حکم کا غلام ہے ۔ عاجزانہ انداز اپنائے موسی ایک طرف کو کھسک کر صوفے پر بیٹھ گیا ۔

بس ایک عرض ہے کہ یہ بتا دیں ناشتے میں کیا کھانا پسند کریں گی ؟ دیار غیر یا پھر دیسی چلے گا ؟

وردہ پاوں پٹختی دھڑل کر کے دروازہ بند کرتی واش روم میں گھس گئی ۔ کتنی دیر نل کھول کر اپنے لال بھبھوکا چہرے کو ٹھنڈے پانی کے چھینٹوں سے دھویا ۔

شدید بھوک اور شدید غصہ دونوں عروج پر تھے ۔ وردہ جمال مرزا بے بس اور مجبور ہو چکی تھی جسکو موسی سکندر خان کے ساتھ چند دن گزارنا تھے اور واپس لوٹنا تھا ۔

پاگلوں کی طرح کتنی دیر نل کھول کر اپنے غصے کو دبانے کی کوشش کرتی رہی ۔

ٹھک ٹھک کی آواز پر چونکی ۔ یہ یقینا یہی آوارہ مزاج ہے، بالکل جی نہیں چاہتا اس کی شکل بھی دیکھوں ۔

موسی نے 3 مرتبہ دستک دے کر اونچی آواز میں مطلع کیا کہ نیچے کچن میں آ جاوء ۔ میں ناشتہ بنانے جا رہا ہوں ۔ آپ نے تو بتایا نہیں ہے اب میری مرضی کا ناشتہ کرنا پڑے گا ۔

وردہ نے فورا دروازہ کھولا اور بولی خبردار میں تمھاری مرضی کا نہیں کھاوں گی ۔

جی بیگم صاحبہ پھر ارشاد فرمائیں کیا بناوں ؟ بلکہ دونوں ساتھ مل کر بناتے ہیں ۔

نہیں مجھے نہیں آتا بنانا ۔ کیا کیا بنا سکتے ہو؟ سب کچھ بنا سکتا ہوں ۔ کیوں کہیں باورچی رہ چکے ہو ؟ نہیں ۔ لیکن پچھلے 5 سال سے خود ہی بنا رہا ہوں ۔ چلو میں دیکھتی ہوں کتنے ماہر ہو ۔ موسی نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا کہ تھوڑا بہت بولنا تو شروع ہوئی ہے ۔ اس ٹیڑھی کھیر کے ساتھ نبھا کسی چیلنج سے کم نہیں ہے ۔ کیا کیا ہے ناشتے میں؟ دیسی انڈا پراٹھا کے ساتھ کڑک چائے اور دیار غیر کا جیم ٹوسٹ کے ساتھ ہاٹ چاکلیٹ ۔

ایسا کرو مجھے پراٹھا بنا دو ۔ اچھا ٹھرو مجھے فریج میں آٹا دیکھنے دو ۔ آٹے کا تو نام و نشان بھی نہ تھا ۔ وردہ ایسا کرتا ہوں جلدی سے بازار سے تازہ پراٹھے لے آتا ہوں کیوں کہ ابھی نیا آٹا گوندھنا پڑے گا اور آپکو بھوک بھی لگی ہے تو پھر گھر میں بنانے میں وقت لگ جائے گا ۔ اور باہر سے لانے میں کتنی دیر لگے گی ؟ وردہ نے روٹھے لہجے میں پوچھا ۔ یہی کوئی 40 سے 45 منٹ لگیں گے ۔ اتنی دیر ؟ گھر جو جنگل میں تعمیر کروایا ہوا ہے موسی سکندر خان نے ۔ وردہ غصے سے بڑبڑا رہی تھی جسکو موسی باآسانی سن سکتا تھا ۔ لیکن اپنے آپ کو مصروف ظاہر کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا تھا ۔

مجھے نہیں پتا تم آبھی مجھے گھر میں سب کچھ بنا کر دو گے ۔

کچن میں سٹول پر بیٹھتے ہی وردہ بولی میں ناشتہ ایک شرط پر کھاو گی اگر تم مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *