Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Roop (Episode 05)

Roop by Umme Umair

وردہ نے بمشکل اپنے لب بولنے کے لئے واہ کیئے تو موسی کی جیب میں پڑے موبائل نے بز بز شروع کر دیا ، وردہ پر ایک منتظر نظر ڈال کر فون کی سکرین گھما کر وردہ کو دکھایا ۔ ڈیڈ ہیں آپ کے ۔ بات کرنی ہیں ان سے ؟ میں انکی کی کال رسیو کر لوں؟

وردہ نے منہ بسورتے ہوئے اثبات میں سر کو جنبش دی ۔

سلام دعا کے تبادلے کے بعد حال احوال کا سلسلہ اور پھر خاص الخاص وردہ کے بارے میں تنبیہ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

موسی کا انداز بیان نہایت مودبانہ تھا جیسے آج سے 5 سال پہلے تھا لیکن پھر بھی وردہ کو مروڑ اٹھ رہے تھے ۔ منہ کے زاویے ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بدل رہے تھے ۔

دیکھو بیٹا اسکو میں نے اسکی ماں کی وفات سے لے کر آج تک انگلی کا چھالا بنا کر رکھا ہے ۔ بہت نازو میں پلی ہے اگر کبھی کوئی بھول چوک کر جاتی ہے تو برداشت کرنا ، حکمت سے کام لینا ۔ اس کو ابھی وقت لگے گا پاکستان میں ہر نئی چیز کو اپنانے اور اپنے آپ کو اس میں ڈھالنے میں ۔

بیٹا تم بہت سمجھدار ہو اسی لیے میں نے 5 سال پہلے تمھیں اپنی بیٹی سونپی تھی ۔ پھر وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ ہمارے گرد و نواح میں اور خاص کر وردہ کی سوچ میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ۔ جن کے باعث ڈھیر ساری غلط فہمیوں نے جنم لے لیا ہے ۔

موسی فون کان سے لگائے وردہ سے مذید دور ہو کر کھڑکی کے پاس چلا گیا ۔ جبکہ وہ اسکی پشت کو گھور رہی تھی ۔۔ میسنا سا نہ ہو تو ، پتا نہیں کیسی عجیب زہنیت کا مالک ہے؟!

انکل آپ بالکل بھی فکر نہ کریں سب خیر خیریت ہے، اگر آپ نے مجھے اپنا بیٹا بنایا ہے اور اپنے جگر کا ٹکڑا میرے سپرد کیا ہے تو میرے لیئے اس سے بڑی اور کیا سعادت کی بات ہو سکتی ہے ۔ انکل وردہ کو میری طرف سے کوئی اذیت نہیں پہنچے گی وردہ ویسے ہی رہے گی جیسے آپ کے پاس رہتی رہی ان شاءاللہ ۔ آپ بالکل بے فکر ہو جائیں ۔ بس ہم دونوں کو آپ کی دعاوں کی طلب رہے گی ۔ انکل آج تو ایک اور کمال ہو گیا ہے ۔

آج تو ناشتے میں وردہ نے انڈا پراٹھا نوش کیا ہے ۔

واقعی؟ جی انکل ۔

یار اس نے تو کبھی بھاری ناشتہ زندگی میں نہیں کھایا ہے ۔ جوس اور سمودیز اسکا پسندیدہ ناشتہ تھا۔

بس انکل دیکھ لیں وردہ پر ابھی ہی پاکستان کا رنگ چڑھنے لگا ہے ۔ موسی نے کھڑکی سے گھوم کر وردہ کو معنی خیز نظروں سے دیکھ کر شرارت سے ایک آنکھ دبائی ۔

وردہ نے بھی پاس پڑا سینڈل موسی کی طرف پھینکا جس کو اس نے بڑی مہارت سے ایک ہاتھ میں کیچ کر لیا۔

انکل پہلے آپ وردہ سے بات کر لیں میں بعد میں کال کر لوں گا ۔ ویسے بھی میں سوچ رہا تھا کہ یہ ہفتہ چھٹی پر ہوں تو کہیں گھومنے پھرنے چلتے ہیں ۔

دوسرا جوتا بھی ہوا میں لہرا دیا گیا ۔

مگر حملہ آور سے زیادہ بچاو کرنے والا چوکنا تھا ،فورا لپک کر دوسرے سینڈل کو بھی اچک لیا ۔

جی انکل وردہ بالکل ادھر ہی میرے ساتھ ہے ۔ ابھی بات کرواتا ہوں ۔ ۔۔

فون پکڑاتے ہوئے وردہ کا ہاتھ دبانا نہ بھولا، جس کو اس نے جوابی کارروائی میں منہ پر ہاتھ پھیر کر پہلے سے متنبہ کر دیا ۔

ارے نہیں ڈیڈ یہ تونہ بولیں، پہلے آپ بول رہے تھے کہ بس میٹنگ نپٹا کر فورا واپس آ جاوءں گا اور ابھی مذید ہفتے کیسے لگیں گے ڈیڈ ؟

میں ابھی سے آپکو بہت مس کر رہی ہوں ۔

ارے نہیں میری گڑیا ابھی تو آپ نے موسی کے ساتھ دل لگانا ہے ، باہر گھوموں پھرو، کھاو پیو اور اپنے ملک کے قدرتی حسن سے مالا مال علاقوں میں جاوء ۔

موسی سامنے بیٹھا وردہ کی مجبور حالت پر مسکرا رہا تھا ۔ لو دیتی معنی خیز نظروں کے تعاقب میں وردہ کے جوابی حملے اس کے صحیح لتے لے رہے تھے، کبھی وہ آنکھوں کو بھینگا کر کے اسکو دیکھتی تو کبھی ٹیڑھا میڑھا منہ بناتی۔

موسی کی مسکراہٹ مذید گہری ہو رہی تھی ۔۔

آخر تنگ آ کر وردہ اسکے سامنے سے اٹھ کر کمرے سے باہر جانے کے لئے دروازے پہ لگا لاک کھولنے لگی ۔

چابی غائب تھی ۔ ڈیڈ میں آپکو کل فون کروں گی ۔

سوری ڈیڈ میرے فون کی بیٹری کل سے مردہ ہوچکی ہے ۔ اس لئے آپکو کال یا ٹیکسٹ نہیں کر پائی ۔

ابھی میں چلتی ہوں بائے بببائے ۔۔۔

فون بند کرتے ہی پھنکارنا شروع کر دیا ۔ چابی لاو کدھر ہے؟ ورنہ تمھارا فون ابھی کے ابھی پانی کے جگ میں ڈبو دوں گی ۔

ہمت ہے تو ڈبو کر دکھاو ۔ “ہونہہ ہمت ۔” بڑا آیا ہمت والا ۔۔ آزما لو ۔

بلیک بیلٹ ہو ، نن چگ، اوریئنٹل کراٹی اور ڈین فور ہو غالبا ؟؟؟ ہو جائے پھر لگے ہاتھوں ایک اور بازی ؟؟ دبیز قالین بچھا ہے ادھر ویسے بھی زخمی ہونے کے چانسز بہت کم ہیں ۔

ہونہہ ۔ وردہ نے منہ چڑایا ۔

انکل نے تو مجھے یہی بتایا تھا کہ میری وردہ کک باکسنگ میں بھی مہارت رکھتی ہے ۔۔

آو دونوں داوء پیچ لگاتے ہیں !

دیکھتے ہیں کس میں زیادہ صلاحیت ہے ؟! مجھے کوئی شوق نہیں ہے تمھاری صلاحیت کو جانچنے کا ، لہذا ذیادہ پھیلنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

ہائے آپ نے پھیلنے ہی کب دیا ہے ؟؟؟ ، کتنے گھنٹے تو سکڑ کر صوفے پر خوار ہوتا رہا ہوں ۔ موسی نے دکھی دل سے دل کی بھڑاس نکالی ۔۔۔

میں تمہیں خوب سمجھتی ہوں سب بہانے ہیں تمھارے ، بس مجھے زچ کرنے کے ۔

دیکھو یہ پورا ہفتہ میں گھر پر ہوں لہذا اپنا خون نہ جلاو بلکہ پر امن ہو کر اپنے گھر کو بسانے کے نئے نئے طریقے سیکھو ۔ شادی کے یہ دن دوبارہ لوٹ کر تھوڑی آئیں گے ۔۔۔پھر آپ بچوں اور گھر گھرستی میں مشغول ہو جاوء گی ۔ موسی نے ایک اور شوشہ چھوڑا۔

وردہ غصے سے صوفے کے پاس کھڑی بل کھا رہی تھی ۔۔

اگر نہیں سیکھنے تو پھر انکل کو کال ملانا کونسا اتنا مشکل ہے بس ووٹس ایپ کھولو ، لسٹ میں نام ڈھونڈو اور ہلکا سا دباو تو فون کان سے لگا لو اور اگر فون کان سے لگانے کی طاقت بھی نہیں ہے تو صرف زبان ہلا کر اپنی آواز ریکارڈ کر کے بھیج دو ۔ بس اتنا سادہ سا تو مرحلہ ہے سارے کا سارا ۔

یہ خام خیالی ہے تمھاری، دل سے نکال دو یہ ساری گیدڑ بھبھکیاں کسی اور کو دینا ۔ بلکہ اسے سناو جا کر جس کے لئے صبح ہر چیز سے بے خبر تڑپ رہے تھے اور بار بار اسکے لیئے دل جلا رہے تھے ۔

موسی کا فلک گیر قہقہ پورے کمرے میں گونج رہا تھا ۔

کتنی کیوٹ لگ رہی ہو ایسے روایتی بیویوں کی طرح جیلس ہوتے ہوئے ۔

جیلس ہوتی ہے میری جوتی ۔ اچھا تو پھر میں اسی کے پاس چلا جاوں جس کے لئے صبح پریشان ہوتے ہوئے دیکھا ہے ، بلکہ کان لگا کر سنا بھی ہے؟؟؟ ۔۔

ٹھاہ کر کے فون دیوار پر مارنے کے لئے ہاتھ اوپر اٹھایا ہی تھا کہ موسی نے لپک کر وردہ کی کلائی تھام لی ۔

بیگم صاحبہ غصہ تھوک دیں ۔

کیوں خوامخواہ اپنی توانائیاں فضول چیزوں پر لگاتی ہیں ۔ ابھی کچھ دن دیں، آپ کو سب کچھ بہت اچھا لگنے گا ان شاءاللہ ۔

نیور(کبھی بھی نہیں)! موسی سکندر خان !

وردہ ابھی کوئی جھگڑا نہیں کرنا بس خاموشی سے میری بات سنو اور سمجھو پلیز ۔ موسی نے وردہ کو کندھوں سے پکڑ کر کمرے میں پڑے صوفے پر لا بٹھایا ۔

مجھے صرف 10 منٹ دو اور تسلی سے میری بات سنو ۔

آخر میرا قصور تو بتا دو اڑیل حسینہ ؟

کیوں اتنی نفرت جمع کر رکھی ہے اپنے نازک سے دل میں وہ بھی صرف اور صرف موسی سکندر خان کے لیئے جسے آپکو اپنی سر آنکھوں پر بٹھانا چاہیئے ناکہ ہر وقت کی زہریلی نگاہوں کے حصار میں رکھتی ہیں ؟ موسی شیرینی لہجے میں ہمکلام تھا ۔

موسی تم ایک خودغرض انسان ہو اور مجھے خود غرض لوگ زہر سے بھی برے لگتے ہیں ۔

بس صرف ایک ہی برائی ہے میرے میں؟

نہیں اور بھی بہت ہیں ابھی میرے دماغ میں صرف یہ والی برآئی آئی ہے ۔ وردہ اصل بات ابھی بھی چھپا گئی، شاید اس میں اس راز کو فاش کرنے اور اپنی زبان پر لانے کا حوصلہ ابھی بھی نہیں تھا ۔

موسی نے رکا ہوا سانس باہر خارج کیا ۔

چلو آپ ساتھ ساتھ بتاتی رہنا اور میں ان غلطیوں کو سدھار لوں گا ان شاءاللہ ۔

اسکے علاوہ تم نے صرف اپنا سوچا، یہ کبھی نہیں دیکھا کہ میں کیا چاہتی ہوں ۔

وردہ میں نے اپنی زندگی کے بہت قیمتی پورے 5 سال آپکو دیئے ہیں ۔ میری تمام تر سوچیں آپ سے شروع ہو کر آپ پر ہی ختم ہوتی تھیں اور ہیں ۔

پا لینے کی خواہش سے زیادہ کھو دینے کا خوف حاوی ہے ، نجانے کونسی نئی سوچ پہلو تہی کر کے منظر بدل دے ۔ اپنی آوارہ سوچوں پر بے اختیاری کا قفل نا لگایا تو ڈکیتی شرطیہ ہے۔ بقول کسی شاعر کے عرض کیا ہے ۔

نظر انداز مت کرنا سمجھ____ کر ادنی چنگاری

یہ شعلہ بن بھی سکتی ہے جلا سکتی ہے محلوں کو

وردہ نے تپ کر منہ کے زاویے بدل کر موسی کو نظر انداز کرتے ہوئے کمرے کے دروازے پر نظریں ٹکا دیں ۔

وردہ آپ کیوں نہیں سمجھتی ہو ؟ پورے 5 سال آپکا انتظار کیا ہے ۔ میں بھی ایک انسان ہوں، اگر میرے سے ماضی میں کچھ کوتاہیاں لا علمی میں ہو گئی ہیں تو معافی مانگنے کا حق بھی تو رکھتا ہوں نا ؟

ازالہ بھی تو کیا جا سکتا ہے ۔

اللہ رب العزت سچے دل سے توبہ کرنے پر معاف کر دیتا ہے تو پھر ہم انسان کس زمرے میں آتے ہیں؟

موسی آج کے لئے اتنا ہی کافی ہے، میں مذید بحث میں نہیں پڑنا چاہتی ۔

تمھارے وعدے کے مطابق 10 منٹ گزر چکے ہیں ۔

دروازہ کھولو مجھے یہاں گھٹن ہو رہی ہے میں نے باہر جانا ہے ابھی اور اسی وقت ۔

موسی نے غم سے چور چہرہ اوپر اٹھا کر وردہ کو دیکھا ۔ ٹھیک ہے آپ جا سکتی ہو لیکن اس حلیے میں نہیں ۔ کتنے ملازم ہیں جو گھر کے اندر باہر ہوتے رہتے ہیں ۔

تو میں کیا کروں؟ میں بھی انکے ساتھ ملازمت شروع کر دوں؟ نہیں ملازمت کی کوئی ضرورت نہیں ہے صرف اپنے لباس پر تھوڑی توجہ دے لیں تو میرے اوپر آپکا احسان عظیم ہو گا ۔۔

کیا ہوا ہے میرے لباس کو ؟ تنگ نظر انسان اب میرے لباس میں بھی کیڑے نکالو گے ؟ کیڑے ابھی تو نظر نہیں آئیں گے لیکن قبر میں انکی کوئی گارنٹی نہیں دی جاسکتی ہے ۔ موسی نے وردہ کو سمجھانے کے لئے جھر جھری لی۔ اور بتاتا چلوں یہ تنگ نظری نہیں ہے یہ ادب اور اخلاق ہیں ، حیا عورت کا زیور ہے ۔ اور یہ اللہ سبحان و تعالی کا حکم ہے اور قانون ہے ۔

“اے نبی ! اپنی بیویوں سے اور صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر چادریں لٹکا لیا کریں، اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی ، اور اللہ بڑا مغفرت کرنے والا مہربان ہے ۔”((الاحزاب:59))

اس کی بہترین مثالیں ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابیات رضی اللہ عنھن سے ثابت ہیں ۔

وردہ وہ لوگ بزرگ بندے ہیں کچھ تو خیال کرو یار ۔ انکی عمر کا لحاظ کرتے ہوئے اپنا سر ڈھانپ لو ڈھیلے ڈھالے لباس پہن کر نکلو پلیز ۔

کمرے اور گھر کے اندر آپ جو مرضی پہنو میں کبھی بھی کوئی اعتراض نہیں کروں گا لیکن جب باغیچے میں جاوء تو پلیز ایسے حلیے میں مت جانا ۔

میرے ساتھ جو مرضی بدلہ لینا ہے اس کمرے میں لے لو لیکن کسی ملازم کے سامنے ایسا رویہ نہ رکھنا پلیز ۔ دیکھو وردہ میں یہ سب باتیں آپکی بہتری کے لئے بول رہا ہوں، میں مانتا ہوں ایک وقت تھا جب مجھے بھی ان باتوں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی، مجھے بھی مقصد حیات معلوم نہیں تھا۔ لیکن اب اللہ کے فضل سے مجھے ان تمام احکامات کی سمجھ ہے اور میں چاہتا ہوں جو ہستیاں میرے دل کے قریب ہیں، وہ میری اس سمجھ بوجھ سے فائدہ اٹھائیں ۔

موسی نہایت نرمی سے وردہ کو مخاطب کیئے ہوا تھا ، جبکہ وردہ نہایت بیزار شکل بنائے صرف گردن جھٹک کر رہ گئی ۔۔۔

بس ختم ہو گیا ہے تمھارا لیکچر یا مذید باقی ہے؟

اگر تمھیں اپنے اشاروں پر ناچنے والی چاہیے تھی تو کوئی ادھر سے ہی ڈھونڈ لیتے، میرے پیچھے کیوں پڑے رہے ہو ؟

آپکے پیچھے اس لیئے پڑا رہا ہوں کیوں کہ ۔۔۔۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *