Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Roop (Episode 08)

Roop by Umme Umair

موسی نے قریب ہو کر وردہ کے کان میں سرگوشی کی اور آگے بڑھ کر اسے اپنی باہوں میں چھوٹے بچوں کی طرح سمو کر بستر کے وسط میں سے اٹھا کر ایک کونے میں کیا ۔

ابھی خود دوسرے کونے میں پہنچ بھی نہیں پایا تھا کہ وردہ نے دوبارہ سے بدلہ اور زچ کرنے کی نیت سے واپس وہی پوزیشن سنبھال لی ۔۔۔ بستر کے وسط میں سرعت سے کروٹ بدل کر ترچھے انداز میں آنکھیں سختی سے موند کر اپنے دائیں بازو سے چہرہ چھپا لیا ۔۔۔۔۔

وردہ میری نرمی کا ناجائز فائدہ نہ ہی اٹھاو تو بہتر ہے ورنہ نتائج کی آپ ذمہ دار ہو گی ۔

آخری وارننگ دے رہا ہوں ۔ تین تک گنوں گا ، فورا سے پہلے نو دو گیارہ ہو جاوء اپنے کونے میں پلیز ۔ یہ دھمکی نہیں ہے ۔ نہایت اونچی آواز سے موسی نے گننا شروع کر دیا ۔۔۔

ایک <<<<

دو <<<<<

تمھارے تین کی ایسی کی تیسی ۔ وردہ دھاڑ کر اٹھ بیٹھی ۔

وردہ مجھے مجبور کر رہی ہو ، یہ نا ہو میں کچھ کر گزروں ۔ موسی نے نہایت سنجیدگی اور رعب دار لہجے میں بولا ۔ چند لمحوں کے لئے وردہ بھی کانپ کر رہ گئی۔۔

ضدی لہجے میں گویا ہوئی ۔ مجھے نہیں پتا بس تم ادھر نہیں سو سکتے ۔ کیا ؟؟؟ حیرت سے موسی کا منہ کھل گیا ۔۔۔میرا گھر، میرا کمرہ، میرا بستر اور میں ادھر نہیں سو سکتا ہوں ؟؟ ۔

آپکا دماغ تو ٹھکانے پر ہے وردہ ؟

ہاں میرا دماغ بالکل ٹھکانے پر ہے ۔۔

نہیں ہے مجھے لگتا ہے دماغ کے کچھ پیچ ڈھیلے ہو چکے ہیں جنھیں بروقت کسنے کی ضرورت ہے ۔ موسی دوبارہ شرارت پر اتر آیا ۔۔

تمھاری یہ آوارہ حرکتیں مجھے امپریس نہیں کر سکتیں۔

مجھے امپریس کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے ۔ کیونکہ حقیقت کو تو چھپایا نہیں جا سکتا ہے ۔

وردہ میں جو بھی خیر کر رہا ہوں صرف اپنے رب کو راضی کرنے اور اس کے خوف سے کر رہا ہوں ورنہ آپ میرے ایک ۔۔۔۔۔

امید ہے سمجھ گئی ہیں وردہ بیگم ۔ موسی نے آنکھیں گھمائیں ۔

گھٹیا انسان ۔ وردہ نے تکیہ اٹھایا اور صوفے پر آ گئی ۔ وردہ جی میں نے بستر چھوڑنے کو نہیں بولا بلکہ بولا ہے کہ اپنے کونے میں سوئیں ۔

میری جوتی سوتی ہے تمھارے کونے میں ۔

“ہائے خوش نصیب جوتی” ۔

موسی نے وردہ کو چھیڑا ۔

مسکراتے ہوئے بیڈ سے اتر کر الماری سے رات والا لباس نکالا اور واش روم میں گھس گیا ۔۔

واپس کمرے میں آکر الماری میں پڑے سنگل کمبل کو صوفے پر سمٹی وردہ کی طرف لے آیا ۔

وردہ آپ ادھر بستر پر چلی جاو میں ادھر سو جاوءں گا ۔ ابھی پلیز ضد نہیں کرنا ، موسی نے تھکے انداز میں التجا کی۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے فجر سے پہلے اٹھنا ہے اور میں نے صبح روزہ بھی رکھنا ہے جس کے لئے مجھے صبح اپنی سحری کے لئے کچھ بنانا پڑے گا ۔ پلیز ضد نہ کرو ۔۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوجوانوں کو مخاطب کر کے فرمایا:

• “اے نوجوانوں کی جماعت ! تم میں سے جو شادی کی استطاعت رکھتا ہو وہ ضرور شادی کر لے کیونکہ شادی نظروں کو نیچی رکھنے اور شرمگاہوں کی حفاظت کرنے میں زیادہ معاون ہے ،اور جو شادی کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو وہ روزے رکھے کیوں کہ روزہ اسکی جنسی خواہش کو قابو میں رکھے گا”(صحیح مسلم:3466)

موسی سرد آہیں بھرتے ہوئے بولا ، میری تو شادی ہوئے پورے پانچ سال گزر گئے ہیں مگر بیگم صاحبہ کے مزاج ہی نہیں ملتے ۔ یہ نا ہو کوئی اور دوشیزہ لے اڑے موسی سکندر خان کو اور وردہ بیگم ہاتھ ملتی رہ جائیں ۔ موسی نے آواز کو قدرے اونچا کیا اور وردہ کے بدلتے تیور کو دیکھ کر ہنسی دبائی ۔۔

تم روزوں کے ہی قابل ہو ۔ وردہ نے تلخ لہجے میں وار کیا ۔ چلو اس میں بھی میرے رب کی حکمتیں پوشیدہ ہیں اور اجر عظیم ہے ۔ وہ مشہور قول ہے نا کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے ۔اور ویسے بھی روزہ خالص اگر اللہ سبحان و تعالی کے لئے رکھا جائے تو اس بارے میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

“جس نے اللہ تعالی کے راستے میں ایک دن روزہ رکھا ، اسکے چہرے کو جہنم سے 70 سال کی مسافت پر کر دیتا ہے “(صحیح بخاری:2840)

وردہ جی یہ سودہ بھی گھاٹے کا نہیں ہے ۔

مجھے تمھارے گھاٹے یا فائدے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ اچھا تو پھر میرے میں دلچسپی ہے ؟ زیادہ خوش فہمی میں نا رہو ۔ مجبورا رکنا پڑ رہا ہے ورنہ ۔ وردہ نے دھمکی والا انداز اپنا لیا ۔۔۔۔

اچھا سمجھ آگئی ہے وردہ بیگم آپ ادھر اپنے ڈیڈ کی واپسی تک ہو ۔ موسی نے تکیے کو صوفے کے ایک طرف پھینکا اور مجبور ہو کر لیٹنے لگا ۔ لمبی ٹانگیں صوفے سے دو بالشت کے برابر لٹک رہی تھیں

۔وردہ میں کل بھی ٹھیک سے نہیں سو پایا ابھی پلیز سکون سے سو جاوء اور مجھے بھی سونے دو ۔

میں نے تمھارے پاوں پکڑے ہوئے ہیں کہ نہ سو ۔ کاش پکڑ لیتی میرا زخمی پاوں ۔ موسی نے دوبارہ سرد آہ بھری ۔

وردہ نے غصے میں گردن کو جھٹکا اور تکیہ سیدھا کر کے بستر پر نیم دراز ہو گئی ۔۔

اور ہاں کمرے کی لائٹ آف نہیں کر سکتے ۔ کیوں آپ نے موتی پروونے ہے رات کو بستر میں بیٹھ کر ؟۔

تمھیں کیا تکلیف ہے موتی پرووں یا کچھ اور کروں ؟؟

مجھے تو کوئی تکلیف نہیں ہے ۔

اگر ہے تکلیف تو ساتھ والے کمرے میں چلے جاوء اور سکون کی نیند لے لو ۔ تو آپ یہ سب تگ و دو مجھے الگ کمرے میں بھیجنے کے لئے کر رہی ہو ۔

“جو مرضی سمجھو میری بلا سے” ۔ وردہ نے لاپرواہی سے کندھے اچکائے ۔

وردہ میری بات کان کھول کر سن لو ، موسی نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے وارننگ دی ۔

میں یہاں ملازمین کے سامنے کسی قسم کا تماشا نہیں بنوانا چاہتا ہوں، ایک ہفتے بعد خالہ بی واپس آ جائیں گی تو وہ کیا سوچیں گی کہ ہمارے درمیان کیا چل رہا ہے ؟ ۔ پلیز جو بھی مسئلہ ہے اسے اس کمرے تک ہی محدود رکھو ۔

کل میں سنگل میٹرس لے آوں گا اور اسے ادھر لائبریری میں بچھا دوں گا ۔

میں نہیں سووءں گی تمھاری اس لائبریری میں ۔ کس نے بولا آپ ادھر جاوء؟ میں خود ادھر سووں گا ۔

بے فکر رہو جب تک اجازت نہیں دو گی اس بستر کے قریب بھی نہیں بھٹکوں گا، میں زبردستی کا قائل نہیں ہوں البتہ اصول پسند ضرور ہوں ۔۔۔۔ صرف ایک یاد دہانی سن لو وہ بھی اپنے دونوں کان کھول کر، شاید میری بات سمجھ آ جائے ۔ موسی نے انگلی اٹھا کر وارن کیا ۔۔۔۔۔۔۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“خاوند سے محبت کرنے والی، زیادہ بچے جننے والی، جب اسے غصہ آئے یا اس کے ساتھ برا سلوک ہو یا جب اس کا خاوند کسی بات پر اس سے ناراض ہو جائے تو وہ اپنے شوہر سے کہے یہ تیرا ہاتھ میرے ہاتھ میں ہے ، اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھوں گی جب تک آپ راضی نہیں ہو جائیں۔”(سلسلتہ الصحیحتہ:3380)

امید ہے میری کھڑوس سی نک چڑی بیوی کو حدیث سمجھ آ گئی ہے ۔ آ گئے ہو نا اپنی آوارہ حرکتوں کی طرف ۔ یہ آوارگی ہے ؟؟؟ دس فٹ کا بیڈ ہے پھر بیچ میں پانچ فٹ کا فاصلہ اور پھر جا کر صوفہ بچھا ہے؟؟ مجھ مظلوم کو تو گلاب کی پتیوں پر سونا چاہیئے تھا بجائے اس کے کہ صوفے پر خجل ہو رہا ہوں ۔ وردہ نے غصے سے کھولتے ہوئے کمبل کو چہرے تک تان لیا ۔

موسی دل مسوس کر رہ گیا مگر پھر سوچا :

“اللہ تعالی کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔” (سورت البقرہ:286)

وہ دن جلد آئے گا جب آپ میرے بغیر ایک لمحے کی دوری بھی برداشت نہیں کر پاو گی ان شاءاللہ ۔

موسی نے خود کو تھپکا کر تسلی دی اور مجبور ہو کر صوفے پر دراز ہو گیا ۔۔

رات سونے کے اذکار کرتے کرتے نجانے کس وقت نیند کی وادی میں اتر گیا جبکہ وردہ کو شدید بے چینی لاحق تھی ۔

صوفے پر ہوتے ہوئے بھی اتنا جلدی سو گیا ہے ڈھیٹ انسان ۔ باہر موسم ابر آلود ہو چکا تھا ۔ کمرے کی کھڑکیوں سے ٹکراتے تیز بارش کے قطرے اور پھر گرج چمک کے ساتھ ساتھ بجلی کا لرزا دینے والا کڑکا ۔ وردہ کا دل مٹھی میں آ چکا تھا ۔ تیز گرج کے ساتھ ایک دم کمرے میں موجود لائٹ بھی بند ہو گئی ۔ بجلی منقطع ہو چکی تھی ۔ موسی کی بھاری سانسیں کمرے کے سکوت کو توڑ رہی تھیں جبکہ وردہ کا دل سوکھے پتے کی طرح لرز رہا تھا ۔ شیشے کی کھڑکیوں سے آتی آسمانی بجلی کی چمک اور پھر ساتھ ہی خوفناک گرج۔ موسی گہری نیند میں تھا ، ٹس سے مس نہ ہوا ۔

وردہ خوف سے پسینہ پسینہ ہو چکی تھی اور شدید کپکپی طاری ہو گئی ۔ بادل کی گرج کا فوبیہ(خوف کا مرض) اسکے دل و دماغ میں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھ رہا تھا ۔ ہائے کیا کروں ؟ کاش ڈیڈ ہوتے تو مجھے اپنے کمرے میں لے جاتے ۔ مجھے زرا بھی ڈر نہ لگتا ۔۔ آنسو تواتر سے چہرے کو بھگو رہے تھے ۔ کمبل میں چہرہ چھپائے خوف سے تھر تھر کانپ رہی تھی ۔

دھڑم دھڑم دھڑم شدید گرج نے تو جیسے اس کے اوسان خطا کر دیئے ۔ بستر سے رینگ کر نیچے دبیز قالین پر لڑھک آئی ۔ بیڈ سے نیچے اتر کر ادھر ہی دبیز قالین پر سمٹ گئی ۔۔ باہر برستی شدید بارش کی کنکری نما رم جھم اور ساتھ میں گرج چمک نے وردہ کو خوب حراساں کیا ۔ دن کی روشنی میں بھرپور طویل قامت مرد کو ناکو چنے چبوانے والی اب کوئی اور ہی وردہ لگ رہی تھی ۔۔ بیڈ کے ساتھ لگی خوف سے تھر تھر کانپتی آخر نیند کی مہربان وادی میں اتر گئی ۔۔

الارم پر موسی کی آنکھ کھل گئی ۔ اپنے اکڑے جسم کو کچھ دیر بیٹھ کر سیدھا کیا ۔ نظر جب سامنے بچھے بیڈ پر گئی تو وردہ غائب ۔ آنکھوں کو دوبارہ سے مسل کر پورا کھولنے کی کوشش کی ۔ ایک دم سے گھبراہٹ نے آ لیا ۔ فورا بھاگ کر واش روم اور ملحقہ لائبریری میں دیکھا ۔ مکمل سناٹا ۔ کمرے کا لاک بھی بند تھا ۔۔ ۔

یااللہ کدھر چلی گئی ہے یہ پاگل لڑکی؟ کمرے کی بڑی لائٹ آن کرنے پر نظر بیڈ کے پاس نیچے گھٹڑی نما چیز پر گئی ۔ جو کمبل کو پورے چہرے پر لپیٹے بیڈ کے ایک کونے میں سمٹی سو رہی تھی ۔۔

میں کیا کروں اس لڑکی کا ؟! سر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔

وردہ کیا کر رہی ہو ؟؟؟ ۔ بستر پر کیوں نہیں سو رہی ہو ؟ وردہ کی طرف سے کوئی جواب نہ پاکر اس گھٹڑی کو آٹھایا اور بستر پر ڈال دیا ۔۔ وردہ ہنوز نیند میں تھی۔ بستر پر لیٹتے تھوڑا سا کسمسائی اور پھر گہری نیند میں چلی گئی ۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

سرمد بیٹا دیکھو تمھاری آنٹی کی طبیعت کس قدر بگڑ چکی ہے، ہماری اس صبا نے ہمیں جیتے جی مار دیا ہے ۔ یار میں نے ان دونوں بیٹیوں کو انگلی کا چھالا بنا کر پالا ہے ۔۔۔ میں نہیں چاہتا وردہ بھی صبا کے نقش قدم پر چلے ۔۔۔

میں چاہتا ہوں تم موسی کو راضی کر لو بیٹا ۔ جب تک میری بیوی کی آنکھیں کھلی ہیں میں چاہتا ہوں وردہ اسکے سامنے ہی محفوظ ہاتھوں میں چلی جائے ۔ صبا جو کر چکی ہے وہ تمھارے سامنے ہے ، بیٹا ہم نے تو تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن پھر بھی اس معاشرے کی چھاپ نے ہماری نسلوں کو کھوکھلا کر دیا ہے ۔

سرمد نے سانس اندر کھینچی اور بولا ۔ انکل یہ میری زمہ داری ہے موسی کبھی بھی میری بات نہیں ٹالے گا ۔ ۔پر انکل وردہ ابھی صرف 18 سال کی ہے کیا وہ مان جائے گی؟ بیٹا ابھی چھوٹی ہے کچا ذہن ہے اسکو جیسے جس طرف موڑنا چاہوں وہ سنے گی میری بات ۔ اب دیکھو نا صبا کو اعلی تعلیم کے چکروں میں گنوا دیا ہے نا ۔ اس نے کسی کی نہیں سنی اور میرے چہرے پر کالک مل کے چلی گئی ہے ۔۔۔ بوڑھا باپ جمال مرزا اپنی بے بسی پر تڑپ رہا تھا ۔ انکل آپ بس نکاح کی تیاری کریں میں کل شام کو موسی کو آپکی طرف لے آوں گا ۔ بیٹا کل نہیں آج شام تک ہی انتظام کر لو ۔ میری بیوی کے پاس وقت بہت کم ہے ۔

ٹھیک ہے انکل آپ بالکل بھی پریشان نہ ہوں، میں ابھی موسی کو فون کرتا ہوں، وہ ہوسٹل کے لئے نکلنے والا ہو گا ۔ مجھے ملے بغیر تو نہیں جائے گا لیکن پھر بھی احتیاطا میں اسے ابھی بلا لیتا ہوں ۔۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

پی ٹی سی ایل بج بج کر وردہ کو زچ کر رہا تھا، جی چاہا اٹھا کر پٹخ دے ۔ پتا نہیں موصوف نے غسل خانے میں کنسٹرکشن کا کام شروع کر دیا ہے ۔ مجبور ہو کر فون کو کان سے لگایا ۔ ہیلو جی کون؟

میڈم میں بہت دیر سے موسی صاحب کے موبائل پر فون کر رہا ہوں لیکن رابطہ نہ ہونے کی بنا پر انکے دیئے گئے اس نمبر پر فون کیا ہے ۔

کیا انکے ساتھ بات ہوسکتی ہے؟؟

نہیں ابھی تو نہیں ۔ میڈم وہ جیسے ہی فارغ ہوں انکو بولیں گھر فورا پہنچیں ۔ کونسا گھر ؟؟ جی انکا گھر ۔ فیضان کی حالت بہت نازک ہے انکا پہنچنا بےحد ضروری ہے ۔

وردہ نے موسی کو غسل خانے سے نکلتے ہوئے دیکھا تو بنا کچھ بولے فون اسکو پکڑا دیا ۔

کیا کہہ رہے ہو یار ؟؟

میں تصور بھی نہیں کر سکتا ۔ کیا ہو رہا ہے میرے گھر پر ؟! وردہ کے کان کھڑے ہو گئے ۔ شک کے ناگ نے سر اٹھایا، یہ شخص کبھی بھی اعتبار کے قابل نہیں ہو سکتا ۔ کینیڈا میں بھی اس لڑکی کی عزت کو روند کر آیا ہے اور ابھی ادھر ایک اور گھر بسایا ہوا ہے ۔

پتا نہیں کیوں میرے ڈیڈ کو اس کے کالے کرتوت نظر نہیں آتے ہیں؟ فراڈیا ایک نمبر کا ۔۔۔۔۔۔ وردہ کا دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا ۔ اتنی توہین کر سکتا ہے کوئی بھلا ؟ اگر میں فون نہ اٹھاتی تو اس نے نجانے کتنا اور لمبا عرصہ مجھے دھوکہ دینا تھا ۔ فکر نہ کرو موسی سکندر خان ۔ بس میں ادھر میرے ڈیڈ کی پاکستان واپسی تک ہی ہوں ۔

یار تم بالکل فکر نہ کرو میں بس ابھی آیا ۔ فون بند کرتے ساتھ ہی پیچھے ۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *