Roop by Umme Umair NovelR50655 Roop (Episode 01)
Rate this Novel
Roop (Episode 01)
Roop by Umme Umair
پورے دن کی بھاگ دوڑ اور پھر رت جگے نے باقی کی کسر بھی نکال دی ۔ جیب سے خارجی بڑے گیٹ کی چابی نکال کر دھیرے سے تالا کھولا ، گاڑی کو پورچ میں پارک کیا اور تھکاوٹ سے چور جسم کو گاڑی سے باہر گھسیٹ کر نکالا ۔ چوکیدار جوکے مالک مکان کی اجازت سے ساتھ والے کواٹر میں خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہا تھا ۔گھر کے چاروں اطراف میں رات کے برقی قمقمے اپنی پوری آب و تاب سے جگمگا رہے تھے، جن میں سولر سسٹم فکس تھا ۔سارا دن سورج کی روشنی سے توانائی حاصل کرتے اور غروب شمس کے ساتھ ہی بنا کسی روک رکاوٹ کے جگمگانے لگتے ۔
موتیے اور چنبیلی کے تازہ پھولوں کی خوشبو نے عقبی ستون کے ساتھ اگے پودے کی طرف پلٹ کر دیکھنے پر مجبور کر دیا ۔ کچھ سوچ کر چند پھولوں کو اپنی محتاط انگلیوں سے چن لیا اور کمرے کا رخ کیا۔
اپنی ہمیشہ کی محتاط اور نفیس طبیعت کے تحت دھیرے سے اپنے کمرے کا دروازہ کھولا اور دبے قدموں سے اندر داخل ہو گیا ۔
دیسی لال گلاب کی پتیوں نے پورے کمرے کو معطر کر رکھا تھا ۔ مست کر دینے والی خوشبو نے اسے اپنے سحر میں جکڑ لیا ۔چند لمحے خوشبو کو اپنے اندر اتارا اور نظر کمرے میں جلتے لیمپ پر گئی، جس کی مدھم سی روشنی نے کمرے کے سارے ماحول کو خواب ناک بنا رکھا تھا۔ اسی خوابناک ماحول کا حصہ بننے والی شخصیت دنیا و مافیا سے بےخبر گہری نیند میں بستر پر آڑھی ترچھی لیٹی اسکے دل کے تاروں کو چھیڑ گئی ۔ محبت سے لبریز دل کو بےقابو ہونے سے روکا اور پہلے غسل خانے میں جانے کا سوچ کر قدم الماری کی طرف موڑ لیئے ۔ سنگھار میز کے قریب جاتے ہی ایک زور دار کراہ کو اپنے منہ میں دبالیا ۔ کوئی تیز دھار چیز پاوں کے تلوے میں کھب چکی تھی ۔ ہاتھ میں پکڑے تازہ موتیے کے چند پھول ادھر ہی فرش پر بکھر گئے ۔
یا اللہ !!! یہ کیا چبھ گیا ہے ؟ تھکاوٹ سے اکڑے جسم کو ہلکا سا جھکایا اور کرتے کے بائیں جیب سے موبائل کی ٹورچ کی روشنی میں اپنے زخمی پاوں کا معائنہ کیا تو تلوے پر نظر پڑتے ہی چودہ طبق روشن ہو گئے ۔ نئی نویلی دلہنیا کے گرے جھمکے نے گھر دیر واپسی پر پورے کا پورا بدلہ لے لیا ۔۔ تلوے میں کھبے جھمکے کو کھینچ کر نکالا تو خون کی بوندیں دبیز قالین کو رنگین کرنے کے لئے روانی سے ابل پڑیں ، بروقت جیب سے رومال کھینچا اور ادھر ہی دبا دیا ۔۔۔ چار و نا چار تلوے کو رومال میں جکڑا اور موبائل کی روشنی میں باقی چیزوں کا جائزہ لینا شروع کر دیا ، تمام زیورات بستر سے لے کر سنگھار میز کے اطراف میں کمرے کے فرش پر بکھرے پڑے تھے جوکہ دلہنیا کے شدید غیض و غضب کا منہ بولتا ثبوت تھے ۔۔ عروسی لہنگے کو کمرے میں پڑے صوفے پر بڑی بے دردی سے پھینکا گیا تھا ، بھاری بھرکم دوپٹا صوفے کے بازو پر پڑا آدھے سے زیادہ فرش پر جھول رہا تھا ۔
یقینا محترمہ نے جاہ و جلال میں آکر تمام زیورات اورعروسی کپڑوں کو بھی اپنی دشمنی کا نشانہ بنا ڈالا ہے ۔۔۔ دل میں آئی سوچ پر نامحسوس طریقے سے مسکراہٹ نے ڈیرے ڈال لیئے ۔ تمام بکھری چیزوں کو سمیٹ کر قاتل جھمکوں کو سنگار میز کے ایک کونے میں بغیر کسی آواز پیدا کیئے رکھ چھوڑا ۔ جھمکے بھی شاید دلہنیا کی ہمراہی میں رہ کر ضدی ہو گئے تھے ، جیسے ہی رکھ کر پلٹنا چاہا، انہوں نے دوبارہ سے نیچے لڑکنا شروع کر دیا ۔ آخر تنگ آ کر سنگار میز سے اٹھا کر صوفے پر پڑے لہنگے کے ساتھ ہی رکھ دیئے ۔ اس ساری کاروائی کے دوران دلہنیا صاحبہ کی نیند کا تسلسل رتی برابر نہ ٹوٹا۔۔۔
موسی سکندر خان اس نئے محاذ کے لئے خود کو تیار کر لو ورنہ دو تلواریں کب تک ایک ہی میان میں رہیں گی ۔
الماری میں سے رات سونے والے کپڑے نکال کر نیم گرم شاور کے نیچے کھڑے ہو کر لمبے دن اور تقریبا پوری رات کی تھکاوٹ کو دور کرنے کی کوشش کی ۔
تازہ دم ہو کر کمرے میں قدم رکھتے ہی مسجد سے فجر کی اذان کی آواز گونجی۔۔ بنا تاخیر کیئے نماز کی ادائیگی کیلئے نکل کھڑا ہوا ۔۔
ملگجے اندھیرے میں گھر واپسی پر چہار سو خاموشی کا راج اور معتدل ہوا کے ہلکے پھلکے جھونکے اسکو تازہ دم کرنے کے لئے کافی تھے لیکن اسکے باوجود خمار آلود آنکھیں گہری نیند کے لئے ترسں رہی تھیں ۔۔۔
کمرے میں پہنچ کر سونے کی غرض سے جب بستر کا رخ کیا تو دلہنیا صاحبہ اپنے پورے حق اور جلال کے ساتھ آڑھی ترچھی تقریبا پورے بستر پر بکھری زلفوں کے ساتھ چت پڑی تھیں ۔ اوپر سے زخمی پاوں کے تلوے سے بھی درد کی ٹھیسیں گاہے بگاہے اٹھ رہی تھیں ۔
یار کیا مصیبت ہے ؟ کدھر سووں؟ نہ میں دائیں طرف پورا آ سکتا ہوں اور نہ بائیں طرف ۔ جی میں آیا دلہنیا کو اٹھا کر ایک طرف کر دے لیکن پھر جاہ و جلال کا سوچ کر اس بات کی خود ہی تردید کر دی ۔ کیا فائدہ ہے بھیڑوں کے چھتے کو چھیڑنے کا ؟ بہتر ہے صوفے پر ہی چند گھنٹوں کی نیند لے لوں ۔
صوفے کا رخ کیا تو بھاری بھرکم لہنگا بمع جھمکے اس کا منہ چڑا رہے تھے ۔
اللہ جانے کیا کھا کر سوئی ہیں محترمہ؟ مجال ہے جو ذرا سی بھی کروٹ بدل لیں ۔ جس کروٹ چھوڑ کر گیا تھا اسی پر سو رہی ہیں ۔
الماری سے لکڑی کا مضبوط ہینگر نکال کر لہنگے کو لٹکایا اور جھمکے بھی ساتھ بھاری بھرکم کڑھائی کے ساتھ اڑس دیئے ۔ موبائل کا گلا گھونٹ کر سائلنٹ پر رکھ چھوڑا ۔۔ نڈھال جسم کو بس بستر اور تکیے کی شدید طلب تھی ۔ بمشکل بستر سے تکیہ کھینچ کر نکالا اور صوفے پر ڈھ سا گیا ۔ سر رکھتے ہی نیند کی آغوش میں چلا گیا ۔۔ 10 منٹ کے اندر اسکی بھاری سانسیں کمرے میں اسکی موجودگی کا پتا دے رہی تھیں ۔
بھاری پردوں نے سورج کی روشنی کو اندر آنے سے مکمل طور پر روک رکھا تھا ۔۔۔
دلہنیا صاحبہ نے اپنی نیند پوری ہونے کے بعداپنی ہرنی جیسی بڑی بڑی آنکھیں کھول کر دائیں بائیں گردن گھما کر دیکھا لیکن مکمل سکوت اور پھر کمرے میں موجود دوسرے شخص کی موجودگی کے احساس نے خون کو کھولا دیا ۔ فورا جھٹکا کھا کر بستر پر اٹھ کر بیٹھ گئی ۔ جی چاہا کمرے میں موجود ہر چیز کو تہس نہس کر دے ، بمع صوفے پر گہری نیند میں سوئے اس شخص کو بھی ، جس کی 2 بالشت کے برابر ٹانگیں صوفے سے نیچے کی طرف لڑھک رہی تھیں ۔
کیا یاد کرے گا موسی سکندر خان کس سے پالا پڑا ہے؟ ۔ اٹھتے ساتھ ہی دل میں نفرت اور غصہ اپنے عروج پر تھا ۔
تھکے ماندے کے کانوں تک دلہنیا کی صلواتیں شاید پہنچ چکی تھیں۔لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ چلتا ہوا بستر کے قریب پہنچا ، وردہ میں ساری رات نہیں سویا ابھی چند گھنٹے پہلے ہی سویا ہوں لہذا مجھے تنگ نہ کریں اور ایک سائیڈ پر ہو کر سوجائیں یا پھر فریش ہو کر نیچے کچن میں جا کر ناشتہ کریں ۔ خالہ بی کو بولیں جو کھانا یے وہ بنا دیں گی ۔
موندی آنکھوں کے ساتھ تکیہ ہاتھ میں پکڑے وہ بستر کے ایک طرف کھڑا وردہ کے ہلنے کے انتظار میں تھا۔ تم میرے اوپر حکم چلاو گے ؟ نہیں حکم نہیں درخواست کر رہا ہوں مجھے سونے دیں پلیز ۔
تو جاو جا کر سو جاوء میں نے منع کیا ہے تمھیں؟
“تمھیں” نہیں “آپ” بولو مجھے سمجھی! موسی نے تھکے ہارے لہجے میں عاجزی سے بولا ۔
میری جوتی بولتی ہے “آپ” تمھیں۔۔وردہ غصے سے غرائی ۔ “جاو جو کرنا ہے کر لو “۔ میرے پاس ابھی بحث مباحثے کا وقت نہیں ہے ۔ مجھے شدید تھکاوٹ ہے اور نیند کی ضرورت ہے برائے مہربانی ۔ موسی نے لاچارگی سے اپنا مدعا بیان کیا ۔
تو جاو اتنا بڑا گھر ہے تمھارا کہیں بھی جا کر سو جاوء ۔” میری عقل کام کرتی ہے لیکن آپ تھوڑی سی اس سے پیدل ہو معذرت کے ساتھ” ۔
کیا بولا ہے تم نے ؟ “دوبارہ سے بولو”۔ “دوبارہ بولنے کی ہمت نہیں ہے میرے میں” ۔ جلدی سے اٹھو اور مجھے سونے دو ۔
وردہ نے دوبارہ سے ضد میں آ کر بستر کے درمیان میں بیٹھ کر اپنی ٹانگوں کو لمبا کر کے دائیں جانب پھیلا لیا ، جہاں موسی شرافت کی چکی میں پس رہا تھا ۔
وردہ میری شرافت کا ناجائز فائدہ نہ اٹھاو ! جب میں سو کر آٹھوں گا آپکو ساری تفصیلات دے دوں گا ان شاءاللہ ۔ میرا آپ سے وعدہ ہے ۔
“مجھے نہ تمھاری تفصیلات چاہئیے ہیں اور نہ کسی قسم کی صفائیاں سمجھے تم” !
“تم” نہیں “آپ” ۔ آہستہ آہستہ سیکھ جاوء گی میرے اللہ نے اگر چاہا تو ۔
میں تو تمھاری شکل نہیں دیکھنا گوارا کرتی اور سیکھوں گی تم سے ؟! اپنی شکل دھو جا کر ۔ میں رات واپسی پر شکل دھو کر ہی سویا تھا بلکہ فجر کی ادائیگی کے بعد الحمداللہ !! جبکہ آپ گہری نیند میں تھیں ۔
وردہ نے اکڑی گردن کے ساتھ ہنکارا بھرا ۔
آخری وارننگ دے رہا ہوں مجھے بستر پر آنے دو ورنہ ۔۔۔
ورنہ سے کیا مراد ہے تمھاری؟ “اس سے یہ مراد ہے میری”! موسی نے ایک ہی جھٹکے میں وردہ کو اپنی باہوں میں بھرا اور لا کر صوفے پر بٹھا دیا ۔
گھٹیا انسان تمھاری جرآت کیسے ہوئی مجھے اٹھانے کی ؟ “دیکھ لوں گی میں تمھیں! سمجھے تم”!
“یہی تو میں چاہتا ہوں صرف مجھے ہی دیکھو آپ وردہ جمال مرزا” ۔
موسی نے تکیے کو سیدھا کیا بیڈ سائیڈ لیمپ کو بجھا کر کمبل چہرے تک تان لیا ۔ دل میں شکر ادا کیا کہ کم از کم ٹانگیں سیدھی کرنے کی سہولت تو ملی ہے لیکن ساتھ ہی پاوں میں چبھے جھمکے کی چبھن بھی محسوس ہو رہی تھی ۔۔ جبکہ وردہ پیچ و تاب کھا کر نئے منصوبوں پر غور وفکر کر رہی تھی ۔۔
موسی سکندر خان دیکھنا میں تمھارا جینا دوبھر کر دوں گی اور تم خود اپنے ہاتھوں سے مجھے میرے گھر چھوڑ کر آو گے ۔ “بس دیکھتے جاو میں کرتی کیا ہوں تمھارے ساتھ؟” ۔
اتنے بڑے گھر میں مکمل سناٹا تھا ۔ اکیلے نیچے جاتے ہوئے بھی ڈر لگ رہا تھا ۔ پتا نہیں کون کون ہے گھر میں؟ اور کیسے مزاج ہیں سب کے؟ دیکھنا میں سب کے مزاج درست کر دوں گی ۔ میرا نام بھی وردہ جمال مرزا ہے ۔
مجبور ہو کر صوفے سے ٹیک لگا کر نیم دراز ہو گئی جبکہ جسم میں خون ابھی بھی کھول رہا تھا ، بس نہیں چل رہا تھا کہ اس موسی سکندر خان کو بستر سے نیچے پٹخ دے ۔۔۔
میرے خوابوں اور میرے تمام ارمانوں کا قاتل ۔کیا کچھ نہیں سوچا تھا ؟ کتنا کچھ کرنا چاہتی تھی میں اپنی زندگی میں لیکن اس شخص نے میرے سب ارادوں پر پانی پھیر دیا ہے ۔۔۔۔ زہر لگتا ہے یہ مجھے تنگ ذہن اور تنگ نظر شخص ۔ فکر نہ کرو ، میں نے بھی جینا دوبھر کر دینا ہےتمھارا۔ ۔ دیکھتی ہوں کتنا صابر ہے ؟۔۔
بڑی بڑی روشن بھوری آنکھوں سے موتی ٹوٹ ٹوٹ کر گرنا شروع ہو گئے ۔ دل کی بھڑاس نکال کر الماری میں لٹکا سادہ سا بوٹم اور ٹی شرٹ نکال کر غسل کے لئے گھس گئی ۔ کتنی دیر تو رونے میں گزاری اور پھر نیم گرم پانی سے خود کو تازہ دم کیا ۔ گھنے ریشمی تراشیدہ بالوں میں تولیہ لپیٹ کر کمرے میں قدم رکھتے ہی پوری قوت کے ساتھ بھاری پردوں کو کھڑکیوں کے سامنے سے ہٹایا تو یکدم سورج کی کرنوں نے سارے کمرے کو مکمل طور پر روشن کر دیا ۔
بستر پر پڑے موسی کو رتی برابر فرق نہ پڑا وہ ویسے ہی منہ سر لپیٹے سو رہا تھا ۔
وردہ کی پوری کوشش تھی کہ اس کو زچ کرے لیکن سونے والا بھی شاید ڈھیٹوں کا سردار نکلا ۔۔
سنگھار میز پر پڑی تمام چیزوں کو الٹ پلٹ کیا پھر ایک دم جوش سے چٹکی بجا کر ہئر ڈرائیر کا پلگ لگا کر بالوں کو خشک کرنا شروع کر دیا ۔ چونکہ وردہ کا سارا دھیان بستر پر پڑے موسی پر تھا کہ بس ابھی غصہ کرے گا ۔ میری نیند خراب کر رہی ہو یا پھر دوسرے کمرے میں چلی جاو وغیرہ وغیرہ ۔۔ لیکن سب کچھ دھرا کا دھرا رہ گیا ،موسی ٹس سے مس نہ ہوا ۔۔۔ ایک نمبر کا ڈھیٹ ہے ۔ فکر نہ کرو ذرا جاگ جاو پھر دیکھنا میں کیا حشر کرتی ہوں تمھارا ۔ وردہ نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا ۔۔
نیچے آکر کچن کے بجائے باہر باغیچے کا رخ کیا جہاں موسم بہار کی آمد پر تازہ پھولوں کی مہک ہر سو پھیلی ہوئی تھی ۔ پھولوں کے اوپر بھنبھناتی شہد کی مکھیاں ایک پھول سے دوسرے کی طرف جاتیں، کتنا دلکش نظارہ ہے ، وردہ جیسے کھو سی گئی ۔
کتنا پرسکون ہے یہ ماحول؟! کوئی گاڑیوں کا شور وغل نہیں ہے ۔ گھر کے دوسری طرف درختوں سے پرندوں کی چہچہاہٹ بھی اپنی طرف کھینچ رہی تھی ۔ اس شخص کے گھر کا سب سے بہترین حصہ یہی ہے ، اب تو میں روز یہاں آوں گی ۔ پر میں تو یہاں رہوں گی تو آوں گی نا ۔ چلو جب تک ادھر ہوں روز آیا کروں گی ۔ وردہ کا دل و دماغ موسی کے گھر کے باغیچے میں ہی اٹک گیا ۔۔۔
انواع و اقسام کے پھولوں سے ہو کر گھر کے دوسری طرف لگے پھل دار پودوں کا رخ کیا جہاں پر لیموں اور سنگترے کے پودوں پر بھی بہار اپنی رعنائیاں لائی تھی ۔ انکے اوپر خوبصورت سفید چھوٹے چھوٹے پھول انکی دلکشی کو بڑھا رہے تھے ۔ کتنی دیر وردہ اس دلکش منظر میں کھوئی رہی پھر سوچا کہ کل سے کچھ نہیں کھایا بہتر ہے کچن میں چلی جاوءں ۔ مڑتے ساتھ ہی ۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
