Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Roop by Umme Umair

"میں ناشتہ ایک شرط پر کھاوں گی اگر تم مجھے "وردہ نے تم کو چبا کر بولا ۔ کیا مطلب؟ موسی نے بھنویں اچکائیں ۔ سننے کا حوصلہ رکھتے ہو؟ مرد کا بچہ ہوں ۔ "آپ بولو کیا کہنا چاہتی ہو" ؟
وہ تم مجھے طلاق دے دو !
موسی کا خشک آٹے کے کنستر میں جاتا ہاتھ ایک دم رک گیا اور پلٹ کر زخمی نظروں سے وردہ کو دیکھا جس کا چہرہ ہر طرح کے جذبات سے عاری تھا ۔
بےچینی سے موسی کے جواب کی منتظر دکھائی دے رہے تھی۔
چند لمحے خاموشی کی نظر ہو گئے ۔ بہت بڑا دعوی کیا تھا کہ میں مرد کا بچہ ہوں اور سننے کا حوصلہ رکھتا ہوں ۔ اب کدھر گئی ہے تمھاری مردانگی؟
موسی کی لال انگارا ہوتی آنکھیں وردہ سے چھپی نہ رہ سکیں لیکن اپنی ضدی عادت سے مجبور اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھے جا رہی تھی ۔
ابھی تمھیں سانپ سونگھ گیا ہے ؟ ۔ کھوکھلے دعوے کیوں کرتے ہو جب تم ان پر کاربند نہیں رہ سکتے ۔۔
موسی نے خشک آٹے کو ایک طرف رکھتے ہوئے وردہ کا نازک چہرہ ٹھوڑی سے پکڑ کر اوپر اٹھایا۔
جواب سننا چاہتی ہو تو سنو !
جب تک میرے جسم میں آخری سانس باقی ہے میں یہ قدم کبھی بھی نہیں اٹھاوں گا!
سمجھ آ گئی ہے یا تفصیل سے سمجھاوں؟
دھیما رعب دار لہجہ وردہ کو کانپنے پر مجبور کر گیا ۔
مرد کے بچے عورت کو بے آسرا نہیں کرتے ، انکے سر سے سائبان نہیں چھینتے بلکہ انھیں اپنی چھت کے نیچے محفوظ پناہ گاہ فراہم کرتے ہیں ۔ تم میری فکر نہ کرو موسی، میرے پاس میرے باپ کے گھر کی چھت تمھارے گھر سے زیادہ محفوظ ہے ۔جہاں پر قانون کی بالادستی ہے ، بےشک سب سے زیادہ محفوظ پناہ گاہ وہی ہے میرے لیئے ۔
موسی خاموشی سے وردہ کے زہر خند لہجے کو بڑے تحمل سے برداشت کر رہا تھا ۔
مان لیا وردہ بیگم! آپکی ساری گزارشات کو مان لیا لیکن طلاق والی بات آئندہ آپکی زبان سے سنائی نہ دے ۔
""رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ابلیس سمندر کے پانی پر اپنا تخت بچھاتا ہے اور لوگوں میں فساد اور بگاڑ ڈالنے کے لئے اپنے چیلوں کو بھیجتا ہے اور سب سے بڑے فتنہ باز کو شیطان کا سب سے زیادہ بڑھ کر قرب حاصل ہوتا ہے اور ان میں سے ہر ایک آ کر اپنے کارنامے پیش کرتا ہے کہ میں نے فلاں جرم کروایا اور دوسرا کہتا ہے میں نے فلاں شخص سے فلاں گناہ کروایا ۔ شیطان کہتا ہے تم نے کچھ بھی نہیں کیا، لیکن جو چیلا کہتا ہے میں نے فلاں آدمی اور اسکی بیوی کے درمیان جدائی ڈال دی اور ان دونوں کے ازدواجی تعلقات کو توڑ دیا، تو اس پر ابلیس اسے اپنے قریب کرتے ہوئے اس سے بغل گیر ہوجاتا ہے اور کہتا ہے : تو نے بہت خوب کام کیا ہے"" ۔
(صحیح مسلم:376)
میں اپنے گھر میں ابلیس کو خوش کرنے والے سارے رستے بند کر دوں گا ان شاءاللہ ۔ موسی نے معنی خیز نظروں سے وردہ کو دیکھا ۔
موسی سکندر خان تم اتنے عاجز آ جاوء گے کہ میرے سامنے ہاتھ باندھ کر بولو گے کہ میری جان چھوڑ دو ۔
آزما لو پیاری! دل و جان سے حاضر ہوں ۔
دیکھتے ہیں اس محاذ پر کون ڈٹا رہے گا؟
کامیابی گھر کو آباد کرنے والے کو ملتی ہے یا پھر گھر کو اجاڑنے والا سبقت لے جائے گا؟ ۔۔
آپ جو بات کر رہی ہو آپ تو اس کی "ط" سے بھی واقفیت نہیں رکھتی ہو ۔" ق " تک پہنچنے کے لئے ط، ل، اور الف کا مطلب سمجھو ۔
خیر چھوڑو اس بات کو ! یہ موضوع تو ابلیس کا پسندیدہ ہے ، جس کو میں کبھی بھی اپنی چاردیواری کے اندر دخول کی دعوت نہیں دوں گا ۔
تمھارے دعوت دینے کی نوبت ہی نہیں آئے گی اور چڑیا پھر سے اڑ جائے گی موسی سکندر خان ۔
اور اگر مجھے اپنی چڑیا کے پر کاٹنے پڑ گئے تو دریغ نہیں کروں گا ۔
تم جیسے تنگ ذہن مرد سے یہی امید کی جا سکتی ہے ۔
بھئی اگر گھر ٹوٹنے سے محفوظ کرنا ہے تو حفاظتی بند تو باندھنے پڑیں گے ۔ موسی نے شرارت سے ایک آنکھ دبا کر وردہ کو مذید طیش دلائی ۔
اپنی آوارہ عادتوں سے باز نہ آنا ، میرا کیا ہے میں تو صرف ڈیڈ کی واپسی تک ادھر ہوں بعد میں تم جانو اور تمھاری یہ خوابوں کی دنیا ، میرا تم سے کوئی لینا دینا نہیں ہو گا ۔ ۔
اچھا چلو غصہ تھوکو اور مجھے آٹا گوندھنے دو ۔
میں نے کونسا تمھارے ہاتھ پکڑے ہوئے ہیں ؟ خود ہی تو دعویدار ہو اپنی صلاحیتوں کے تو ابھی ان دعووں پر پورا بھی اترو ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *