Roop by Umme Umair NovelR50655 Roop (Episode 10)
Rate this Novel
Roop (Episode 10)
Roop by Umme Umair
موسی ابھی وردہ کی پرکشش شخصیت کے حصار سے بھی نہ نکلا تھا کہ باہر سے شور کی آوازیں آنے لگیں ۔ جلدی سے ایمبولنس بلاو ۔ موسی نے فورا وردہ کا ہاتھ پکڑ کر تسلی دی، سب ٹھیک ہو جائے جبکہ وردہ کے بھل بھل گرتے آنسوؤں کا مداوا موسی کے لئے بہت مشکل ہو رہا تھا ۔ فورا شیشے کی سلائیڈنگ دوڑ ہٹا کر مہمان خانے میں آئے تو جمال مرزا وردہ کے ڈیڈ وردہ کی مم کی ہتھیلیاں مل رہے تھے اور باقی سب کے چہروں پر شدید پریشانی جھلک رہی تھی ۔۔ سرمد بھیا ایمبولینس والوں کو آنٹی کی بگڑتی حالت کے بارے میں بتا رہے تھے ۔۔۔
موسی نے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے فورا موجودہ صورتحال کی سنگینی کو بھانپ لیا، وردہ کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے تسلی دی اور پاس پڑے ٹشو کے ڈبے میں سے ٹشو نکال کر پکڑائے ۔۔
سرمد بھیا کے اشارے پر جمال مرزا کے پاس بیٹھ گیا اور ڈھارس بندھانے کی بھرپور کوشش کی ۔
انکل آپ بالکل بھی پریشان نہ ہوں ہم سب آپ کے ساتھ ہیں اور آپ کے غم میں برابر کے شریک ہیں ۔۔ اپنے آپ کو اکیلا نہ سمجھیں پلیز ۔۔۔
رب کے حکم کے سامنے دنیا کی کوئی طاقت ٹہر نہیں سکتی، جیسے میرے رب کے فیصلے ہیں ہم اس پر راضی ہیں ۔۔۔
باہر ایمبولینس کا سائرن بجتا سنائی دیا اور ساتھ ہی وردہ کی مم نے آخری ہچکی لی ، روح پرواز ہونے کے بعد آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔۔ موسی نے ہاتھ بڑھا کر آنکھیں بند کیں ۔غم سے نڈھال وردہ ماں کے سینے سے لپٹ کر زار و قطار رو رہی تھی ۔چند لمحوں کی خوشی پر موت کا غم بہت بھاری تھا ۔ موسی سرمد دونوں بھائی جمال مرزا کے ساتھ مل کر کفن دفن اور ہسپتال والوں سے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کے لئے سرگرداں ہو گئے ۔۔۔۔
جبکہ موسی کی بھابھی وردہ کو سنبھالنے کی جان توڑ کوشش کر رہی تھی ۔
رو رو کر وردہ نے آنکھیں سجا لیں ۔ ایسے لگ رہا تھا کہ ماں کے بغیر زندگی ختم ہو گئی ۔ ماں دنیا کی تمام رعنائیاں اپنے ساتھ ہی لے گئی ہیں ۔
چار افراد کا کنبہ اب صرف دو پر مشتمل تھا ۔ صبا کو ماں کی موت سے بھی بےخبر رکھا گیا تھا ۔
والدین کی نافرمانی کرنے والی صبا اپنے یونی فیلو انگریز کے ساتھ شادی رچا کر اپنی دین و دنیا کو داو پر لگا گئی ۔۔۔ ماں کی برداشت جواب دے گئی تو عارضہ قلب میں مبتلا ہو گئی، بیٹی ایسا گھاو دے گئی جس کا کوئی مرہم اس کرہ ارض پر موجود نہیں تھا ۔۔۔
اپنی آنکھوں کے سامنے پلنے والا ہونہار بچہ موسی جس کا کتابوں سے لگاو کے علاوہ عورت کے فتنے سے کوئی لینا دینا نہ تھا ۔۔۔ وردہ کے والدین کی باہمی رضا مندی سے انہوں نے سرمد سے اس رشتے کی خواہش ظاہر کی تو حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے سرمد نے موسی سے پوچھے بغیر ہی حامی بھر لی ۔۔۔ پھر جب دونوں رشتہ ازدواج میں بندھ گئے تو وردہ کی ماں اپنی زندگی کی بازی ہار گئیں ۔۔
موسی کے والدین کی وفات ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں ہوئی جو اپنے بیٹے موسی کو سکول چھوڑے کے بعد خریداری کے لئے گھر سے نکلے اور پھر دوبارہ اللہ نے انہیں گھر واپسی کی مہلت نہ دی اور وہ خالق حقیقی سے جا ملے ۔۔۔۔ والدین کی وفات کے بعد بڑے بھائی جو کہ موسی سے دس سال بڑے ہیں ، موسی کو باپ بن کر پالا اور کاروباری معاملات کو سکندر خان کے عزیز ترین دوست جمال مرزا کے ساتھ خوب پھیلایا۔۔۔ 12 سالہ موسی اور 22 سالہ سرمد اتنے بڑے گھر میں اکیلے رہ گئے ۔۔ وقت بہت بڑا مرہم ہے، بڑے بڑے گھاو بھی اپنی تیز رفتاری سے بھر دیتا ہے۔
جمال مرزا کے زخمی دل و دماغ میں میں بار بار غمگسار بیوی کے ساتھ گزارے گئے لمحات چل رہے تھے ۔۔
مرنے سے پہلے آخری خواہش یہی تھی کہ وردہ کو اس غلاظت سے نکال لو ، اسے کسی اعتباری شخص کے ہاتھ میں دے دو ، دن رات ایک ہی بات کا پرچار کرتی وردہ کی ماں نے موسی کو اپنا داماد بنانے کی ٹھان لی اور یہ خواہش جڑ پکڑتی جا رہی تھی ۔۔۔جس کو جمال مرزا نے بہت دقت کے ساتھ سرمد کے گوش گزار کیا ۔۔۔ وردہ کا نکاح ایسے نازک حالات میں ہونا تھا ۔۔۔ تقدیر کے لکھے کو کوئی نہیں مٹا سکتا ۔۔ سرمد موسی کے بڑے بھائی اور جگری مرحوم دوست سکندر خان کے بیٹے تھے ۔۔ اس کے ساتھ کاروباری شراکت داری سالوں سے چلی آ رہی تھی۔۔۔
ایک ہی ٹاوءن اور ایک ہی روڈ پر دونوں خاندانوں کے گھرانے تھے ۔۔۔
صبا جو کے ڈاکٹر بننے کی خواہش مند تھی اسی کی خواہش کو مد نظر رکھتے ہوئے جمال مرزا کو اپنا علاقہ چھوڑنا پڑ گیا اور بیٹی کو بہترین اور مہنگے ترین پرائیویٹ سکول میں داخلہ دلوا دیا ۔۔۔
یوں دونوں خاندانوں کے بچے ایک دوسرے سے دور ہو گئے ۔۔ صبا ، وردہ اور موسی ہر ہفتے کے آخری دن اپنے والدین کے ہمراہ قریبی پارک جاتے اور کھیل کھیل کر ہلکان ہو جاتے تھے۔۔۔۔
شرارتی موسی اپنی عادت سے مجبور وردہ کو گاہے بگاہے اپنی عداوت کا نشانہ بناتا رہتا ۔۔۔ چونکہ وردہ اسکے والدین کی پسندیدہ بچی تھی جو کہ موسی کو ایک آنکھ نہ بھاتا تھا۔۔
وردہ کے ریشم جیسے بال جو اکثر دو چھوٹی پونیوں میں جکڑے ہوتے اور ساتھ میں میکسی ڈریسز اسکی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتے تھے ۔
صبا لڑاکا طبیعت رکھتی تھی اور وردہ کی مار کا بدلہ بڑے دھڑلے سے موسی کو کبھی جھولے سے دھکا دے کر یا پھر اس کے پھولے گالوں کو نوچ کر لے لیتی ۔۔۔
اس سارے جنگ و جدل میں دونوں کی مائیں پارک میں سارا وقت بچوں کے مقدمے بھگتانے میں گزار دیتیں۔۔۔
♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡
موسی برق رفتاری سے گاڑی چلاتا ہسپتال کے باہر پہنچا ، وردہ جو کے سارا رستہ حجاب اور عبایا پہننے کا سوگ مناتی آئی، ایک مرتبہ بھی موسی کی کسی بات کا جواب نہ دیا ۔ منہ پھلائے موسی مجبور سے ذیادہ باہر کے مناظر کو ترجیح دیتی رہی ۔۔ دماغ میں طرح طرح کے وسوسے اور شبہات موسی کی نکھری شخصیت کو داغ دار بنا رہے تھے ۔ وردہ اپنے اندر ہی اندر بل کھا رہی تھی ۔۔۔
جی چاہ رہا تھا موسی کو کھری کھری سنا دے ۔
بکتی ہوئی خواہشوں میں اجڑے ہوئے خوابوں کا سہارا لے کر بلندی پر لے جانا چاہتے ہو ؟؟؟ ۔۔ مجھے ایسی بلندی نامنظور ہے جس کا انجام کھائی ہے ۔۔ منہ کے بل گرانے سے بہتر ہے اپنے وعدے کی پاسداری پر قائم رہو ۔۔
وردہ صرف کھول کر رہ گئی، یہ سب اپنی زبان تک لانے کے لئے اسے ابھی لمبی مسافت طے کرنا تھی ۔
گاڑی ایک جھٹکے سے رکی ، سپیکر پر لگے فون پر کال ملائی، مخاطب کی آواز کا لرزا کسی انہونی کا عندیہ دے رہا تھا ۔۔۔
صاحب ہم نے پوری کوشش کی ہے لیکن ڈاکٹرز فیضان کو نہیں بچا سکے ۔ نمونیے نے پھیپھڑوں کو مکمل طور پر ناکارہ کر دیا ہے ۔۔۔۔
“”ان للہ و انا الیہ راجعون””(صحیح مسلم :918(2126)۔۔۔۔
“” بےشک ہم اللہ کے لئے ہیں اور ہم اس کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں””
موسی نے شدید قرب سے اپنی آنکھیں موند لیں ۔۔
صاحب آپ پہنچ چکے ہیں؟؟ ہاں یار باہر پارکنگ میں ہوں ۔۔ موسی نے ہارے ہوئے لہجے میں بولا ۔۔
مجھے سمجھ نہیں آتی ایک دم کیسے نمونیہ کی انفیکشن اس کے پھپھیڑوں میں سرائیت کر گئی ؟؟؟
صاحب بس کل ہی اسے کھانسی اور بخار ہوا تو رضیہ نے اسے دوائی کھلائی لیکن رات کے آخری حصے میں بخار کی شدت بڑھ گئی اور سانس لینا محال ہو رہا تھا تو پھر میں نے مجبور ہو کر آپ سے رابطہ کیا ۔۔۔ یار تم مجھے رات کو ہی بتا دیتے پر چلو اس کی زندگی اتنی ہی لکھی تھی ۔۔۔
“اچھا رضیہ نام ہے اس آوارہ کی بیگم کا”۔ وردہ بظاہر باہر دیکھ رہی تھی لیکن کان موسی کی ہر بات کو ازبر کر رہے تھے ۔۔۔
ابھی پےمنٹ باقی ہے ، میں بس ابھی 2 منٹ میں آتا ہوں تو پھر سارا معاملہ سنبھال لوں گا ۔۔۔
نہیں یار بس دو منٹ، میں ابھی آیا ۔۔۔
موسی نے فون بند کر کے کرتے کی جیب میں ڈالا اور بنا کوئی بات کیئے گاڑی کا دروازہ کھول کر یہ جا اور وہ جا ۔۔ وردہ اس بے اعتنائی پر کھول کر رہ گئی مگر شکوے کرنے کا اختیار وہ کھو چکی تھی ۔ اپنی اکڑ جو برقرار رکھنی تھی ۔۔۔
گھر واپسی پر موسی مکمل طور پر خاموش تھا ۔ آنکھیں شدت غم سے لال ہو رہی تھیں ۔۔ خاموشی اور سست روی سے چلتی گاڑی شہری آبادی کو اپنے بہت پیچھے چھوڑ چکی تھی ، اب تو گندم کی بالیاں اپنے پورے وقار کے ساتھ تیز ہوا کے جھونکوں کے ساتھ جھول رہیں تھیں ، پیلی سرسوں جس کی خوبصورتی دور سے ہی ناظر کو اپنی طرف کھینچ رہی تھی ۔ ہلکی پھلکی بوندا باندی جاری تھی ۔۔ وردہ تو جیسے اس منظر میں مکمل طور پر کھو چکی تھی ۔ ہری بھری اور ہلکی زردی مائل سنہری گندم کی فصل کے بیچو بیچ کھلی پھولی سرسوں کی پیلاہٹ دل موہ رہی تھی ۔
وردہ کا جی چاہا موسی ادھر ہی گاڑی روکے اور وہ ان کھیتوں کے بیچو بیچ بھاگے ۔۔۔
لیکن افسوس کے وردہ نے اپنی اکڑ کا بھرم جو رکھنا تھا ۔ جی بہت للچایا مگر اس خواہش کو اندر ہی دبا گئی ۔۔۔ چہرے پہ چھایا تجسس موسی آسانی سے محسوس کر سکتا تھا ۔ عافیت خاموشی میں ہی تھی جس پر وہ کاربند رہا ۔۔۔
اپنے عالیشان خان ہاوس کے پاس پہنچتے ایک ہی ہارن پر چوکیدار نے خارجی دروازے کے دونوں پٹ واہ کر دیئے ۔۔ گاڑی اپنی سست رفتاری سے پورچ میں پارک کی اور سنجیدہ لہجے میں وردہ کو گاڑی سے باہر نکلنے کا اشارہ کیا ۔۔
موسی کے گاڑی سے باہر نکلتے ساتھ چوکیدار بھاگ کر آیا ۔ صاحب فیضان کیسا ہے ؟ نہیں !! چچا وہ اب ہمارے ساتھ نہیں رہا ہے ۔۔
شدت غم سے چوکیدار کی آنکھیں بھر آئیں ۔۔
بس چچا دعا کریں ۔ کچھ دیر میں نوید غسل دلا کر فیضان کو ادھر لے آئے گا ہمیں نماز جنازہ ادھر ہی ادا کرنی ہے ۔۔
وردہ تمام باتیں گاڑی کے کھلے دروازے سے واضح طور پر سن سکتی تھی ۔۔۔
چچا جنازہ میں خود پڑھاوں گا لہذا آپ ساتھ والوں کو بھی بتا دیں تاکہ وہ بھی وقت پر پہنچ سکیں ۔۔
جی صاحب ابھی بتا دیتا ہوں ۔۔
موسی تھکے قدموں کے ساتھ اندر آ گیا اور صوفے پر نیم دراز ہو گیا ۔۔ کتنی دیر سے وہ اپنے اندر کی حالت دوسروں سے چھپا رہا تھا ، ابھی اس غم نے کسی قسم کی اجازت لیئے بغیر باہر نکلنے کا راستہ بنا لیا ۔۔ آنکھیں چغلی کھاتے ہوئے نمکین پانی کو آنکھوں کے کناروں سے باہر دھکیلنے لگیں ۔۔
فیضان کتنا پیار کرنے والا اور زندہ دل بچہ تھا ، چھوٹی موٹی باتیں اسے کھکھلا کر ہنسے پر مجبور کر دیتیں تھیں ۔۔۔ گھر کے اندر داخل ہوتے ہی سب سے پہلے وہ موسی کی ٹانگوں کے ساتھ لپٹ جاتا اور سارے دن کے کارنامے بنا سانس روکے دہرا دیتا تھا۔۔
موسی آس پاس سے بالکل بےخبر کتنی دیر صوفے پر پڑا رہا ۔ وردہ نجانے کب گھر کے اندر داخل ہوئی اور کب کمرے میں گئی وہ مکمل طور پر بےخبر تھا ۔۔
آدھا گھنٹہ گزار کر کمرے کے دروازے کے ہینڈل کو گھمایا لیکن کمرہ لاک ملا ۔۔۔
دستک دینے پر بھی کوئی جواب موصول نہ ہوا ، آواز دینے پر بھی مکمل خاموشی ۔
پتا نہیں شاید سو گئی ہے ۔۔
نیچے کچن کیبنٹ سے دوسری چابی لا کر لاک کو کھولا تو وردہ اوندھے منہ لیٹی ہچکیوں سے روئے جا رہی تھی ۔۔
اسے روتا دیکھ کر فیضان کا غم کچھ دیر کے لئے دماغ کی سلیٹ سے مٹ گیا ۔۔۔
وردہ کیا بات ہے ؟؟ آپ کیوں رو رہی ہو ؟؟
موسی نے پاس بیٹھتے ہوئے وردہ کو سیدھا کر کے اوپر اٹھانے کی کوشش کی ۔۔
وردہ مسلسل موسی کو اپنی پوری قوت کے ساتھ پیچھے ہٹا رہی تھی ۔۔
وردہ !! موسی پوری قوت سے دھاڑا ۔ بات سنو میری ۔۔ اٹھو سیدھی ہو کر بیٹھو۔۔۔
نہیں بیٹھوں گی ۔۔ چلے جاو یہاں سے اور اپنی شکل نہ دکھاو مجھے ۔۔ مجھے نہیں سننی تمھاری کوئی بھی بات اور نہ ہی بتانی ہے ۔۔۔
موسی کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی ۔۔
ٹھیک ہے میں جا رہا ہوں ابھی وضو کرنے کے لئے آیا تھا عصر کے بعد فیضان کا جنازہ ہے ۔۔
موسی ایک ہی سانس میں بول کر واش روم میں گھس گیا ۔۔۔
کیوں نہیں بتاتا مجھے فیضان کیا لگتا ہے اس آوارہ کا ؟؟ وردہ کو غصہ اور موسی کی بے اعتنائی کھول رہی تھی، اگر میں نے نہیں پوچھا تو خود ہی بتا دے ۔۔۔ ایک نمبر کا آوارہ مرد۔۔ ۔۔
وردہ اپنا رونے کا شغل پورا کرتی رہی اور موسی خاموشی سے وضو کر کے کمرے کے لاک کی دونوں چابیاں اپنے ساتھ لے گیا ۔۔۔
موسی نے روزہ مسجد میں پانی سے افطار کر لیا ۔۔۔ گھر واپسی پر کچن کی راہ لی، دن کے کھانے کے گندے برتن اس کا منہ چڑا گئے ۔۔ وردہ جان بوجھ کر سارا گند کچن میں چھوڑ گئی ۔۔
ایک دن پہلے کے ابلے چاول اور تھوڑی سی بچی مرغی کے سالن کو پلیٹ میں ڈال کر مائیکرو ویو میں رکھا ۔
کچھ ہی دیر میں گرم ہوتے سالن کی خوشبو کے بجائے ایک جانی پہچانی مخصوص خوشبو موسی کے ۔۔۔
