Roop by Umme Umair NovelR50655 Roop (Episode 22,23)
Rate this Novel
Roop (Episode 22,23)
Roop by Umme Umair
خالہ بی میں آج گھر سے باہر نہیں جانا چاہتی ہوں، زمینوں کی طرف کل چلے جائیں گے ۔۔
میں ابھی کچھ دیر کے لئے آرام کروں گی ۔ بی بی آپکی طبیعت تو ٹھیک ہے نا ؟
آپکے چہرے کا رنگ ایک دم پیلا پڑ گیا ہے بی بی جی؟
ارے نہیں خالہ بی میں ٹھیک ہوں بس ایسے ہی ۔ کچھ دیر ریسٹ کروں گی تو سب ٹھیک ہو جائے گا ۔ آپ بالکل بھی پریشان نہ ہوں ۔
وردہ نے لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ زینے چڑھنا شروع کر دیئے ۔۔ بے جان ٹانگیں من من وزنی محسوس ہو رہی تھیں ۔۔ خشک ہوتے گلے میں کانٹے چبھ رہے تھے ۔
ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ ابھی گر کر بیہوش ہو جائے گی ۔۔ بمشکل بستر تک پہنچ کر ڈھ سی گئی ۔۔
یہ عورت میری زندگی میں کسی اور انہونی کا سندیسہ لا رہی ہے ۔۔ کتنی دقت سے میں نے موسی کے ساتھ یہ ہفتے گزارے ہیں ۔۔۔
میرے مالک میری اس اذیت کو کم کر ۔۔
بہت طویل عرصے بعد وردہ اپنے رب کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوگئی ۔۔
موسی کی طرف سے ملنے والی تمام نصیحتیں اور وضاحتیں سیلابی ریلے کی صورت میں بہنے لگیں ۔
موسی ابھی میرے میں مذید برداشت کی سکت نہیں رہی ہے۔ پچھلے 4 سالوں سے میں اس اذیت سے دوچار ہوں ۔
میں اس کو بھلانا چاہوں تو بھی نہیں بھلا سکتی ۔ موسی میری زندگی سے دور کیوں نہیں چلے جاتے ہو ؟۔ بار بار کچوکے لگانے کیوں آ جاتے ہو ؟
تمھارے حسن سلوک کو دیکھوں یا تمھاری بدفعلی پر پردہ ڈالوں؟ موسی تمھاری اس دکھاوے کی محبت نے مجھے گہرے گھاو دیئے ہیں ۔۔۔
رو رو کر وردہ کا برا حال ہو چکا تھا ۔
میں کیسے اس زوبی کو مورد الزام ٹھہراوں جب میرا اپنا ہی آستین کا سانپ نکلا ہے ۔
میرے مالک ، میرے رب مجھے ہمت دے ، مجھے اس قابل بنا کہ میں اس لڑکی سے بات کر سکوں ۔
ایک گھنٹہ رو رو کر وردہ نے دل کا بوجھ ہلکا کیا ۔ واش روم میں جا کر چہرے کو ٹھنڈے پانی کے چھینٹوں سے تازہ دم کرنے کی کوشش کی ۔۔۔
صحرائی مسافر کی طرح ہلکان وجود لیئے دوبارہ سے بستر پر ایک چت لیٹ گئی ۔ بارہا سوچنے پر زوبی کا نمبر نکال کر فون میں محفوظ کیا ۔۔
دھڑکتے دل کے ساتھ ووٹس ایپ کال ملائی ۔ چوتھی بیل پر نحیف اور لاغر آواز کانوں میں پڑی ۔۔
میں وردہ بات کر رہی ہوں ۔ کیا میں زوبی سے بات کر سکتی ہوں ؟۔ زوبی نے مجھے ای میل کر کے یہ نمبر بھیجا ہے ۔۔۔
وردہ میں بدنصیب زوبی ہی بات کر رہی ہوں ۔۔ یکدم وردہ کا دل دھڑکا ۔۔
اتنے لمبے عرصے بعد میرے ساتھ بات کیوں کرنا چاہتی ہیں؟ میں نے آپکو بہت ڈھونڈا مگر آپ کا سراغ کہیں نہیں ملا۔۔۔ میں آپ کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا ازالہ کرنا چاہتی تھی ۔۔۔ وردہ اپنی صفائی پیش کرنے کے لئے ایک ہی سانس میں بولے جا رہی تھی جیسے شاید دوبارہ موقع میسر نہ ہو ۔۔۔
وردہ ! دوبارہ سے لاغر آواز گونجی ۔ میری بات کو بہت غور سے سننا پلیز ۔ پچھلے 4 ہفتے سے میں تمھارے ساتھ رابطے کے لئے شدت سے منتظر تھی۔کتنی تگ و دو سے تمھارا ای میل میری دوست کے منت ترلے کے بعد ملا ہے ۔ مجھے نہیں پتا اس وقت تم کہاں ہو اور کس حال میں ہو؟! تمھارے کام والوں سے ہی تمھارا یہ ای میل ملا ہے جہاں پر تم لڑکیوں کو کراٹے سکھا رہی تھی ۔
وردہ میں زندگی کی آخری سانسیں لے رہی ہوں ۔۔
ہو سکتا ہے میرا رب میری اس نیکی اور توبہ کو قبول کر لے جو آج سے 4 سال پہلے میں نے اپنے نفس کی تسکین کے لئے تمھاری اور موسی کی زندگی کو بازاری کھلونا سمجھ کر کھیلنے کی بھر پور کوشش کی تھی ۔۔۔ میں یہ بھول گئی تھی کہ میرا رب اوپر عرش پر مستوی ہے ۔ میں اپنی نفسانی خواہشات کی تسکین کے لئے آپ دونوں کی زندگی سے کھیل گئی ۔۔
وردہ سن رہی ہونا میری بات ؟
جی میں سن رہی ہوں ۔ وردہ میں اس وقت موت کے بستر پر پڑی ہوں، میری سانس کی ڈور ٹوٹنے کا لمحہ بہت قریب ہے ۔ ڈاکٹروں نے مجھے لاعلاج کر دیا ہے ۔ بس موت کے فرشتے کسی بھی وقت مجھے اس فانی دنیا کی رنگینیوں سے کھینچ کر لے جائیں گے ۔۔ وحشت ناک اندھیری قبر میری منتظر ہے ۔۔۔
وردہ جو بھی بولوں گی وہ سو فیصد سچ بولوں گی ۔ مجھے میرے کیئے کی سزا اس دنیا میں مل رہی ہے ۔ میں چاہتی ہوں کہ اپنی غلط کاریوں کی توبہ اس دنیا سے کر کے جاوءں شاید میری یہ نیکی اس غفور الرحیم کو پسند آ جائے اور وہ میری بخشش کا ذریعہ بن جائے ۔۔
یکدم زوبی نے کھانسنا شروع کر دیا ۔ ایسے لگ رہا تھا اب دوبارہ دوسری سانس نہیں آئے گی ۔۔
زوبی آپ ٹھیک ہو ؟ پلیز پانی پیو ۔ 30 سیکنڈ مکمل خاموشی چھا گئی ۔
ہیلو ہیلو ہیلو ۔ وردہ بےچینی سے پکار رہی تھی ۔ زوبی پلیز بولو ۔ ہوش میں آو، میں آپکو سننا چاہتی ہوں ۔ پلیز زوبی بولو ۔۔
وردہ کی بے چینی بڑھنے لگی ۔۔ سچ کو سننے کی تڑپ سے آنکھوں نے برسنا شروع کر دیا ۔۔۔
نجانے انٹرنیٹ کمزور تھا یا زوبی بیہوش ہو گئی ، بہرحال کانپتے ہاتھوں کے ساتھ وردہ نے دوبارہ کال ملائی۔
بیل جا رہی تھی مگر کوئی جواب موصول نہیں ہو پا رہا تھا ۔
مسلسل 10 منٹ کی تگ و دو کے بعد فون سے لاغر آواز گونجی ۔ وردہ میں اس وقت بہت تکلیف میں ہوں غور سے میری بات سنتی جاوء ۔۔
میں موسی سکندر خان کو یونی کے پہلے سال سے چاہتی تھی ۔ ایک ڈیپارٹمنٹ میں ہونے کے باوجود بھی میری اس سے کبھی بھی تفصیلی بات چیت نہ ہو سکی ۔۔۔ دن بہ دن یہ محبت جڑ پکڑتی گئی ۔۔ موسی کی سحر انگیز شخصیت اور ذہانت کی صرف میں نہیں بلکہ باقی ڈیپارٹمنٹ کی تمام لڑکیاں اور لڑکے بھی گرویدہ تھے ۔۔۔
میں نے بہت سارے مختلف حربے آزمائے لیکن ناکام رہی ۔۔۔ موسی کو جب خالہ کے نکاح کے بعد گھر واپسی کے لئے گاڑی میں سوار ہوتے دیکھا تو میرے شیطانی ذہن نے فیصلہ کر لیا کہ اسکو پا کر رہنا ہے، چاہے جو مرضی قیمت چکانی پڑے ۔ بتاتی چلوں میری سگی خالہ تمھاری سوتیلی ماں میری ان تمام سیاہ کاریوں سے بری الذمہ اور مکمل طور پر بےخبر بھی ہیں ۔۔
میرا اپنی خالہ کو صرف موسی کے بارے میں یہ بتانا کہ میں اسے بہت چاہتی ہوں ، خالہ سنتے ساتھ ہی آگ بگولہ ہوگئیں تھیں ۔۔۔ خالہ نے مجھے ڈرایا دھمکایا کہ خبردار اگر میں نے تمھارے خاوند کی طرف میلی آنکھ سے بھی دیکھا ۔۔۔ لیکن وہ بالکل بےخبر تھیں کہ میرا شیطانی دماغ کس سمت سوچ رہا ہے ۔
زوبی کو دوبارہ کھانسی کا دورہ پڑا ۔۔ وردہ کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے چلی گئی ۔
زوبی ہمت کرو پلیز ۔ اس ادھورے سچ نے میری جان لے لینی ہے ۔۔۔
مسلسل کھانسی پر وردہ کی ہمت جواب دے گئی ۔
زوبی پلیز ہمت کرو ۔ پانی پیو ۔
کاش اس وقت میں آپ سے مل سکتی ۔ میں ابھی پاکستان میں قیام پذیر ہوں ۔
زوبی کی نحیف آواز گونجی ۔ وردہ موسی کے ساتھ ہی ہونا ابھی ؟ جی ہماری شادی ہو گئی ہے ۔
شکر ہے شادی ہو گئی ۔ اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔۔ اس رب نے تم دونوں کو میرے شر سے محفوظ رکھا ہے ۔۔ الحمداللہ ۔۔۔
وردہ موسی کو کبھی بھی نہیں چھوڑنا ۔۔ موسی جیسا پاک دامن مرد میں نے آج دن تک نہیں دیکھا ہے۔۔۔ وردہ اس تمام معاملے میں تمھارا اور صرف تمھارا موسی بالکل بےقصور تھا ۔
وردہ کے ہاتھ سے فون گرتے گرتے بچا ۔۔۔
شدت غم سے آنسوؤں کی لڑیاں بغیر کسی تگ و دو کے معصوم گالوں کو بھگونے لگیں ۔۔
وردہ موسی تمھارا تھا اور تمھارا رہے گا ۔ اس پاک دامن مرد کی بہت قدر کرنا ۔۔۔
ایسا مرد ہزاروں میں ایک ہے جو جوانی کی بہار میں بھی تنہا عورت کے دعوت نظارہ دینے پر بھی اپنی آنکھیں میچ لے اور اپنا دامن اس غلاظت، اس دلدل سے بچانے کے لئے بھاگ کھڑا ہو ۔۔۔ جو نامحرم عریاں عورت کو دیکھ کر حواس باختہ ہو جائے ۔۔ اور اپنی آنکھوں کو اپنے ہاتھوں سے چھپائے ۔۔
وردہ موسی سکندر خان وہ مرد ہے جسکو زباریہ حسن نے سرعام اسی کے کمرے میں زنا کی دعوت دی تھی ۔۔ میں وہ ظالم عورت تھی جو تم دونوں کی جدائی کا منصوبہ بنا کر آئی تھی ۔۔۔۔
زوبی کا کھانسنا پھر شدت اختیار کر گیا ۔۔۔ یکدم کال کٹ گئی ۔۔۔ اور زوبی کی کال کٹنے کے ساتھ ہی وردہ کا دل بھی کاٹ کر لے گئی ۔۔۔ ریزہ ریزہ ہوتے جذبات نے پچھتاوں کی دلدل میں گھسیٹنا شروع کر دیا ۔۔ میں نے کیا کر دیا ہے موسی سکندر خان ۔۔ میں نے کتنا ظلم کیا ہے ۔ موسی کیوں نہیں اس ظلم پر آواز اٹھائی؟ مجھے کیوں نہیں ڈانٹا ،مجھے کیوں نہیں مارا موسی؟ موسی اتنا کچھ ہو جانے کے باوجود بھی میرے ساتھ حسن سلوک اور محبت ؟
اور میں ظالم وردہ جمال مرزا جس نے موسی سکندر خان کے اعتبار کا خون کیا ہے ۔۔
موسی میں بہت بڑی ظالم ہوں ۔۔
میں کتنی نافرمان بیوی ہوں!!
بدزبانی ، نفرت ،غصہ، ضد اور مقابلے بازی کیا کیا برداشت نہیں کیا موسی سکندر خان نے ۔۔۔
میں نے تو موسی کو اپنی صفائی میں کچھ بھی بولنے کا موقع ہی نہ دیا اور جھوٹے بہتان کو بنیاد بنا کر محبت کرنے والے باکردار شخص کو دھتکارتی رہی ۔
میں کتنی ظالم تھی ۔ ایک اجنبی کی بات پر آنکھیں بند کیئے اعتبار کر بیٹھی اور وہ جو میرا اپنا تھا ، میرا ہمسفر تھا ایک اجنبی لڑکی کے چند جملوں کے عوض سارے رشتے ناتے توڑ آئی ۔۔۔
وردہ کی برستی آنکھوں نے شدت اختیار کر لی ۔آنسوؤں کی لڑیاں لڑھک کر گلے میں لٹکی باریک چین کو تر کرنے لگیں ۔۔ وردہ تو جیسے جامد ہو چکی تھی ۔ رخصتی کی پہلی رات سے لے کر موسی کے قطر جانے تک کے مناظر آنکھوں کی پتلیوں میں گردش کرنے لگے ۔۔۔۔
موسی کی محبت پاش نگاہوں سے لے کر بے وقت کھانے پکوانا اور ہر وہ کام جس سے موسی کو اذیت پہنچے ، میرا مشن اور مشغلہ تھا ۔
موسی سکندر خان میں تو معافی کے قابل بھی نہیں ہوں ۔ کیوں برداشت کیا ہے مجھے ؟ کونسی میرے میں خوبی ہے جو اتنا کچھ گزر جانے کے باوجود بھی مجھے چھوڑنے کے لئے تیار نہ تھے ؟!
پچھتاوے وردہ کے دماغ پر ہتھوڑے کے وار سے بھی زیادہ اذیت ناک ثابت ہو رہے تھے ۔ میں کیا کروں؟
◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
نجانے کتنی دیر سے خالہ بی دستک دے رہی تھیں مگر وردہ بخار کی شدت میں بے سود پڑی تھی ۔ مجبورا خالہ بی بنا اجازت ملے کمرے میں آگئیں ۔۔
وردہ بی بی آپ اٹھیں ۔ صبح سے آپ کمرے میں ہیں ۔ ابھی تو شام کا کھانا بھی تیار ہو چکا ہے ۔
خالہ بی کے بات کرنے کے باوجود بھی وردہ ٹس سے مس نہ ہوئی ۔ قریب آکر پیشانی پر ہاتھ رکھا تو وردہ آگ کی بھٹی میں جل رہی تھی ۔
ہائے میرے اللہ !! بی بی تو شدید بخار میں جل رہی ہیں ۔ ہائے او میرے رب ! موسی صاحب نے تو مجھے خاص خیال رکھنے کا بولا تھا ۔ خالہ بی کے ہاتھ پاوں پھول گئے ۔
دوڑ کر نیچے سے پانی اور سفید لٹھا لے آئیں اور پٹیاں شروع کر دیں ۔۔
میرے مولا میری وردہ بی بی کو کچھ نہ کرنا ۔
میرے رب میری فریاد سن لے ۔۔ میں موسی صاحب کو کیا منہ دکھاوں گی ۔
خالہ بی نے پٹیوں کے ساتھ ساتھ سورت الفاتحہ کا دم شروع کر دیا ۔
وردہ بی بی اٹھیں پانی پئیں ۔
بی بی اٹھیں میں ڈاکٹر کو بلواتی ہوں ۔
خالہ بی کے دم اور 10 منٹ کی پٹیوں کی محنت سے وردہ نے آنکھیں کھول لیں ۔۔
اوہ لاکھ لاکھ شکر ہے میرے مولی ! میری بی بی جی نے آنکھیں کھولی ہیں ۔ خالہ بی ساتھ ساتھ زار و قطار رو بھی رہی تھیں ۔۔
بی بی جی اٹھیں پانی پئیں ۔ شدید نقاہت سے اٹھنے بھی نہیں ہو پا رہا تھا ۔ خالہ بی نے نہایت نرمی سے کانچ کی گڑیا کو اوپر اٹھایا ۔ اور خود سہارا دے کر پاس بیٹھ گئیں ۔ ایک ہاتھ سے پانی پلا رہی تھیں اور دوسرے ہاتھ سے وردہ کی کمر کو سہلا رہی تھیں ۔ چند گھونٹ پانی کے بعد وردہ نے ہاتھ کے اشارے سے پانی کے گلاس کو پیچھے رکھنے کا اشارہ دیا ۔۔
بی بی جی میں ابھی ڈاکٹر کو بلواتی ہوں ۔
آپ ادھر آرام سے لیٹی رہیں ۔۔
وردہ نے بستر سے اٹھتی خالہ بی کا ہاتھ پکڑ لیا اور گردن ہلا کر نفی میں اشارہ کیا ۔
بی بی جی آپکو شدید بخار ہے ۔ آپ تو بخار سے بیہوش پڑی تھیں ۔
صاحب آپکو ہمارے ذمے چھوڑ کر گئے ہیں ۔
آپ ہماری مالکن ہی نہیں ہماری بیٹی کی طرح بھی ہے ۔ بلکہ اس سے بھی عزیز ہیں جی ۔۔
وردہ مسلسل نفی میں گردن ہلا رہی تھی ۔
پھر ہاتھ کا اشارہ کیا ۔ خالہ بی ادھر فرسٹ ایڈ باکس ہے اور اس میں تمام بنیادی ادویات پڑی ہیں ، وہ مجھے لا دیں ۔ وردہ نے نقاہت بھرے لہجے میں التجا کی اور آنکھیں موند لیں ۔۔
بی بی جی بات مان جائیں ۔ صاحب کو پتا چلا تو وہ بہت پریشان ہوں گے ۔۔
خالہ بی مجھے یہ دوائی کھانے دیں اگر آرام نہ آیا تو پھر ڈاکٹر کو بلوا لینا ۔۔
خالہ بی آپ کیا جانیں اب اس بیماری کا علاج صرف موسی سکندر خان کی معافی میں ہی پوشیدہ ہے ۔ غم سے سوچتے ہوئے وردہ کی آنکھوں میں جھڑی لگ گئی ۔۔
بی بی جی آپ سر میری گود میں رکھیں، میں ہلکا ہلکا دبا دیتی ہوں ۔
ارے نہیں خالہ بی مجھے اچھا نہیں لگے گا ، آپ سارا دن کام میں مصروف رہی ہیں۔۔ ابھی آرام کریں ۔ بی بی جی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، جب تک آپ کچھ بہتر محسوس نہیں کرتی میں نے ادھر سے ایک انچ بھی نہیں ہلنا ہے ۔۔۔
وردہ تو بالکل ڈھے سی گئی ۔ بار بار موسی کا پیار سے پکارنا، اپنی نظروں کے حصار میں رکھنا دماغ کی تختی پر مسلسل چل رہا تھا ۔۔۔
خالہ بی اپنی کوشش جاری رکھے ہوئے تھیں ۔ سر دبانے کے ساتھ ساتھ وردہ کے کندھوں کو دبانا شروع کر دیا ۔ ایک گھنٹوں کی محنت رنگ لے آئی ۔۔
خالہ بی اب بس کر دیں ۔ میں پہلے سے بہت بہتر محسوس کر رہی ہوں ۔
جی بی بی ماشااللہ ابھی بہت فرق ہے ، پہلے تو پیشانی آگ کی سی تپش دے رہی تھی ۔۔ خالہ بی میں ٹھیک ہو جاوءں گی ۔ آپ بالکل بھی پریشان نہ ہوں ۔
بی بی جی اب میں آپ کے لئے دلیہ بنا کر لے آوں ۔ صرف صبح سے ناشتہ ہی کھایا ہے ، سارا دن بنا کھائے ہی گزر گیا ہے ۔
خالہ بی مجھے بالکل بھی بھوک نہیں ہے جب ہوگی تو پھر بتا دوں گی ۔ بی بی جی آپ تو ایسے بہت کمزور پڑ جائیں گی ۔۔۔
آپ میرے پاس بیٹھیں اور مجھے بتائیں آپکی موسی صاحب سے کیسے ملاقات ہوئی تھی؟
ارے بیٹی ! رب ذوالجلال بڑا ہی رحیم و کریم ہے ۔ اس نے موسی صاحب کی زندگی بچانی تھی اور ہماری روزی لگوانی تھی ۔ اس کی حکمتیں صرف وہی جانے ۔
بیٹی ہم غریب لوگ کچے مٹی کے گھروں کے مکین تھے ۔
ایسے ہی سردیوں کی تاریک رات تھی ، ہم دونوں میاں بیوی سونے کے لئے لیٹے تھے کہ باہر بہت دور سے کچھ گرنے کی آواز آئی ۔۔ ہمارا گھر چونکہ باقی گاوں سے ذرا ہٹ کر تھا ۔اردگرد گھنے درختوں کے جھنڈ اور دوسری طرف خالی چکنی زمین میں بارش کے پانی سے بنی کھائی تھی ۔
گاوں میں پتا تو ہے لوگ مغرب ڈھلتے ہی اپنے گھروں کے اندر ہو جاتے ہیں ۔ بیرونی آمد و رفت نہ ہونے کے برابر ہو جاتی ہے ۔
خالہ بی آپ کا گھر ادھر سے قریب تھا ؟
ارے نہیں بیٹی ۔ ادھر ہمیں تو ہمارا رزق اٹھا کر لے آیا ۔ وہ رازق جو اوپر بیٹھا ہے اس کی تقسیم بہت اعلی ہے ۔ روزی روٹی کے ایسے ایسے ذریعے کھولتا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔
ہم نے دو دن پہلے اپنی بیٹی بیاہی تھی اور دونوں میاں بیوی گھر میں اداس لیٹے پڑے تھے جب اللہ نے ہمیں موسی صاحب کی زندگی بچانے کا ذریعہ بنایا ۔
جیسے پہلے بتایا ہے کہ اچانک کسی چیز کے گرنے کے شور نے ہمیں چوکنا کر دیا ۔ ہم سمجھے شاید کوئی چور ہمارے صحن میں کود آیا ہے ۔ ۔۔
کچھ دیر انتظار کے بعد بھی گھڑگھڑاہٹ کی آوازیں مسلسل آ رہی تھیں ۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے کوئی چیز پیچھے اور آگے کی طرف کھینچی جا رہی ہو ۔
دونوں میاں بیوی بہت پریشان تھے ۔ اوپر سے بارش کا زور بھی تھا ۔
دل سونے پہ بالکل بھی نہیں مان رہا تھا ۔ باقی علاقے کی بجلی بھی بند ہو چکی تھی ۔۔
کچھ سوچ کر میرے گھر والے نے بولا کہ لالٹین دو باہر دیکھ کر تو آوں ۔ آوازیں بہت عجیب سی آ رہی ہیں ۔ اگر چور ہے بھی تو ہمارے پاس کیا ہے جو چرا کر لے جائے گا ۔
میرا جی نہ مانتا تھا کہ میں اس اندھیری طوفانی رات میں اپنے گھر والے کو باہر نکلنے دوں ۔
اسی بحث میں آدھا گھنٹہ گزر گیا ۔۔
اندر سے ہم دونوں نہایت پریشان تھے ۔ بہرحال جب بارش کا زور ٹوٹا تو میرے میاں نے میری ایک نہ مانی اور کمرے سے لالٹین لے کر نکل کھڑے ہوئے ۔ ڈیوڈی(خارجی دروازہ) سے باہر جھانکا تو منظر ۔۔۔۔۔
Episode 23
میرے گھر والے نے ایک نہ مانی اور کمرے سے لالٹین لے کر نکل کھڑے ہوئے ۔ ڈیوڈی(خارجی دروازہ) سے باہر جھانکا تو منظر واضح تو نہ تھا لیکن اس کے باوجود ہیولے کی سمت چلنا شروع کر دیا ۔۔
جوں جوں قریب جاتے توں توں چر چراہٹ بڑھتی جارہی تھی ۔۔
قریب پہنچتے ہی احساس ہوا کہ کوئی بڑی گاڑی الٹی پڑی ہے۔۔۔ گاڑی کا آدھا حصہ نیچے کھائی کی طرف جھول رہا ہے اور بقایہ گاڑی جھاڑیوں اور درختوں کے جھنڈ میں پھنسی ہوئی ہے ۔۔۔
اندھیری طوفانی رات اور چار سو سناٹا، سردی اپنے عروج پر تھی ۔۔۔ گاڑی سے زیادہ گاڑی میں پھنسے شخص کی جان کی زیادہ پریشانی تھی جو زندگی اور موت کی کشمکش میں گاڑی کے سٹیرنگ ویل میں پھنسا ہوا تھا ۔
میرے گھر والے نے لالٹین کی روشنی میں جتنا ہو سکا کوشش کی مگر سب بے سود تھا ۔۔
گاڑی خطرناک حد تک جھول رہی تھی جوکہ کسی بھی لمحے کھائی میں گر سکتی تھی ۔
بھاگم بھاگ واپس آئے ساری صورت حال مجھے بتانے کے بعد چوہدریوں کے گھر چلے گئے ۔۔
آدھی رات اور اوپر سے سردی اپنے عروج پر تھی ۔ چوہدریوں کے گھر والے بھی آدھی رات کی دستک پر ہڑبڑا گئے ۔ ساری صورتحال بتانے پر انکا بیٹا ٹریکٹر لے جانے پر راضی ہو گیا ۔۔
بی بی جی وہ رات ہمارے لیئے بہت اذیت ناک ثابت ہوئی ۔ کوئی مسافر ہمارے گھر کے قریب زندگی اور موت کی کشمکش میں تھا ۔
خالہ بی وہ شخص کون تھا ؟ وردہ نے کھوئے ہوئے انداز میں پوچھا ۔۔اور آنکھوں سے چند موتی ٹوٹ کر بکھر گئے ۔۔۔
بی بی جی وہ موسی صاحب تھے ۔ اللہ تعالی نے انکو نئی زندگی سے نوازا ہے ۔ میرے میاں اور ہمارے گاوں کے چوہدری کے بیٹے نے ٹریکٹر کے ساتھ رسے باندھ کر صاحب کی گاڑی کو کھینچنا شروع کر دیا ۔ ۔۔۔ اوپر والے رب العالمین کی مدد سے صاحب کی گاڑی نیچے کھائی میں گرنے سے تو بچا لی گئی مگر سب سے مشکل ترین مرحلہ صاحب کو گاڑی سے باہر نکالنے کا تھا۔۔
وردہ کی آنکھیں چھم چھم برس رہی تھیں ۔۔
گیلی کشادہ زمینوں میں ہوا کے تھپیڑوں نے چاروں اطراف سے گھیرے میں لیئے ہوئے تھا ۔۔۔
گاڑی میں پھنسے مسافر کو باہر نکالنا جان جوکھوں میں ڈالنے کے برابر تھا ۔۔۔
گاڑی کے دروازے حادثے کی بنا پر ٹیڑھے میڑھے ہو چکے تھے ۔
وردہ بنا پلکیں جھپکائے درد ناک داستان کو سنے جا رہی تھی ۔۔۔
خالہ بی پھر کیا ہوا ۔؟ بی بی جی انتہائی کوشش کے باوجود بھی دونوں مرد ناکام تھے ۔
واپس گاوں آ کر اور گھروں میں سے اور مردوں کو نیند سے اٹھایا اور پھر باہمی مشورے کے بعد گاڑی کے دروازے کا شیشہ توڑنے کا فیصلہ کیا تاکہ کوئی ایک شخص گاڑی کے اندر داخل ہو کر صاحب کو باہر نکالنے میں مدد کرے ۔۔۔
صاحب دنیا و مافیا سے بے خبر بے سود پڑے تھے۔
ہم تو یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ صاحب کا نام کیا ہے اور کس علاقے سے تعلق ہے؟
بس کتنے گھنٹوں کی محنت کے بعد میرے میاں سمیت باقی مرد انہیں چارپائی پر ڈال کر ہمارے گھر لے آئے ۔۔
مجھے یاد ہیں باہر مسجد میں فجر کی آذانیں گونج رہی تھیں ۔۔ کوئلوں کی چھوٹی انگھیٹی صاحب کی چارپائی کے قریب پڑی تھی ۔ صاحب کا سر پھٹ چکا تھا اور خون کا بھی کافی ضیاع ہوا تھا ۔۔ ہم غریبوں کے گھر میں بکری کا دودھ اور ہلدی موجود تھی ،یا پھر خون کو روکنے کے لئے (سہاگے کے پھاہے) تھے ۔
چوہدریوں کا بیٹا گھر میں پڑی درد کش دوا لے آیا لیکن اسکا بھی کوئی فائدہ نہ ہوا ۔ صاحب ہوش میں ہوتے تو دوائی کھاتے ۔۔۔
باہر بارش کا زور پھر سے بڑھ گیا ۔ کچے راستوں سے صاحب کو 2 گھنٹے کی مسافت پر ہسپتال پہنچانا بھی کسی مہم سے کم نہ تھا ۔
موسی صاحب کے اوپر لحاف لپیٹنے کے باوجود بھی نیلاہٹ دور نہیں ہو پا رہی تھی ۔۔ شاید خون بہت زیادہ بہہ گیا تھا یا پھر شدید سردی میں پڑے رہنے سے انکا یہ حال ہو چکا تھا ۔۔
بی بی جی ہم دونوں میاں بیوی نے وہ ساری رات آنکھوں میں کاٹی ۔۔۔
صاحب بالکل بے ہوش پڑے ہوئے تھے ۔
دسمبر کی جھڑی ایسی لگی کے جیسے اس کا رکنا ناممکن تھا ۔۔ رات سے دوپہر بیت گئی ۔۔
صاحب بالکل بےہوش تھے ۔ گاوں کے بڑے بوڑھوں کی آمد و رفت جاری تھی ۔ گھریلو نسخے جو جس کو پتا تھا وہ بتا رہا تھا مگر ہر چیز بے سود ثابت ہوئی ۔ آخر سب نے فیصلہ کیا کہ شام سے پہلے پہلے صاحب کو ہسپتال لے چلتے ہیں ۔ گاوں کے تمام راستے کچے ہونے کی بنا پر کسی بھی گاڑی میں لے جانا نہایت ہی دشوار تھا .گیلے کچے راستوں پر مریض کو ہسپتال پہنچانا کسی بھی چیلنج سے کم نہ تھا۔
گاڑی کے دھچکے مریض کے لئے مزید نقصان دہ ثابت ہو سکتے تھے ۔ بہرحال اللہ تعالی کی مدد سے موسی صاحب نے عصر سے پہلے آنکھ کھولی ۔۔۔
سب کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا ۔۔۔
صاحب کی شکل و صورت، لباس اور گاڑی انکی مالی حیثیت کی گواہ تھی کہ انکا ہماری غریبوں کی چارپائی پر لیٹنا کس قدر اذیت ناک ہو سکتا تھا ۔۔۔
نقاہت سے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں ، میرے میاں سمیت باقی گاوں کے مرد جمع ہو گئے ۔۔۔
صاحب خاموشی سے سب کے چہروں کو دیکھ رہے تھے ۔ جیسے کچھ یاد کرنے کی کوشش کر رہے ہوں یا پھر کسی خاص شخص کو ڈھونڈ رہے ہوں ۔۔۔
نام پوچھنے پر بولے موسی ۔ سب کی خوشی دیدنی تھی کہ سر کی چوٹ نے دماغ پر اثر نہیں کیا ہے ۔ پھر سب نے اشارے سے صاحب کو ہاتھ کی انگلیاں گننے کا بولا۔۔۔ صاحب نے نقاہت زدہ لہجے میں وہ بھی درست جواب دے دیا ۔۔۔ آہستہ آہستہ صاحب نے اوپر اٹھنے کی کوشش کی ، صد شکر کہ کوئی ہڈی پسلی نہ ٹوٹی ۔ بس پھر آہستہ آہستہ صاحب اٹھ کر خود بیٹھ جاتے ۔ 3 سے4 دن میں صاحب چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے ۔ ہم سے جو ہو سکا وہ ہم نے اپنی استطاعت کے مطابق کیا ۔۔
آخر ایک ہفتے کے قیام کے بعد صاحب نے اپنے گھر واپسی کا ارادہ کیا ۔
خالہ بی موسی صاحب ادھر کیسے پہنچے؟ وہ اس طرف کیا لینے گئے تھے ؟ ۔ آپ لوگوں نے پوچھا نہیں تھا کیا ؟
بی بی جی ہم نے بھی یہی بات پوچھی تھی ، بس جب اللہ کی طرف سے آزمائش آ جائے تو پھر کوئی چیز نہیں روک سکتی ۔اور ویسے بھی صاحب بولتے تھے کہ یہ آزمائش میری اصلاح کے لئے آئی ہے ۔۔۔
صاحب اپنی فیکٹری کے لئے اس علاقے میں زمین دیکھنے گئے تھے ۔ مگر راستہ بھولنے پر ہمارے گاوں کی طرف رخ کر گئے وہ اس بات سے بےخبر تھے کہ آگے تمام راستہ کچا ہے اور پھر گاڑی کے پھسلنے پر صاحب کا سر سٹیرنگ ویل سے پوری قوت سے ٹکرایا اور گاڑی پر انکی گرفت ڈھیلی پڑ گئی ۔ گاڑی تنگ راستے پر رہنے کے بجائے کھائی میں لڑھکنا شروع ہو گئی ۔ سر پر شدید چوٹ کی بنا پر صاحب اس وقت اپنے حواس کھو چکے تھے ۔۔۔
وردہ کی آنکھیں مسلسل برس رہی تھیں ۔۔۔ بی بی جی آپ موسی صاحب سے بہت محبت کرتی ہیں ماشااللہ ۔۔ ایسے ہی ہونا چاہیئے ۔۔۔ دنیا کا سب سے محفوظ رشتہ میاں بیوی کا ہی ہوتا ہے ۔۔
وردہ نے گردن کو ہلکی سی جنبش دی ۔ خالہ بی آپ کیا جانیں میں نے آپکے صاحب کے ساتھ کتنے بڑے بڑے مظالم ڈھائے ہیں ۔۔ میں بہت ظالم ہوں ۔۔ آپ نے انکی جان بچائی اور میں انکی جان لینے کے در پر تھی ۔۔۔ وردہ دل ہی دل میں کڑھ رہی تھی ۔۔۔۔
آنسو صاف کرتے ہوئے وردہ کے مذید کریدنے پر خالہ بی نے مختصرا بتایا ۔۔
وردہ بی بی جی صاحب کی ایک بات میں کبھی بھی نہیں بھولوں گی ۔۔ پتا ہے جب وہ شفایاب ہورہے تھے تو کیا بولے تھے ؟
کیا بولے تھے ؟ “اس حادثے نے مجھے نمازی بنا دیا ہے” ۔ مجھے اللہ تعالی نے نئی زندگی بخشی ہے تو میں یہ موقع ضائع نہیں کروں گا ۔ تب سے آج دن تک میں نے نہیں دیکھا جب بھی صاحب گھر پہ موجود ہوں اور وہ مسجد جا کر باجماعت نماز نہ پڑھیں ۔۔۔
خالہ پھر آپ لوگ یہاں پر کیسے آئے ؟
بیٹی صاحب ایک مہینے بعد دوبارہ ہمارے گھر آئے اور ہمیں ساتھ چلنے کا بولا ۔ بولے کام بھی دوں گا اور رہائش بھی ۔۔۔ اندھا کیا چاہے ؟دو آنکھیں۔۔
ہم نے بھی چند جوڑے اٹھائے اور چل دیئے ۔ ہمارے گھر کونسا قیمتی سامان موجود تھا جو ہمیں پریشانی اٹھانی پڑتی ۔۔
بی بی جی ہم نے صاحب کو پھلتے پھولتے دیکھا ہے ماشااللہ ۔ کیا مطلب خالہ بی؟
مطلب انکو دن رات محنت کرتے اور پھر اس کا پھل ملتے دیکھا ہے ۔۔۔
دیکھیں نا ! صاحب کو اللہ نے بیٹھے بٹھائے چاند سی دلہنیا بھی دے دی ماشااللہ ۔۔ خالہ بی چاند سی دلہنیا مگر گرہن کے ساتھ ۔وردہ کو پچھتاوں کی آگ نے دوبارہ جھلسانا شروع کر دیا ۔۔۔
موسی نے یقینا اپنے نکاح کے بارے میں کسی کو بھی پہلے سے نہیں بتایا ہوا تھا۔۔۔
جانتا جو تھا کہ میں انکار کر چکی ہوں ۔۔۔
خالہ بی مجھے بھوک محسوس ہو رہی ہے ۔ کچن میں چلتے ہیں ۔۔۔ نہیں بی بی جی آپ آرام کریں میں ابھی دلیہ بنا کر لاتی ہوں ۔۔۔۔
◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
موسی کو فون کر لوں ؟ اگر فون کیا بھی تو کیا بولوں گی ؟ میں نے تو ایک ہیرے کو کھویا ہے۔ اس شخص کی مخلص محبت کو اپنے پیروں تلے روندتی رہی ہوں ۔۔۔ میسج تو پڑھا جاچکا ہے لیکن جواب کیوں نہیں آ رہا ہے؟ میں کونسا جواب دیتی تھی اور اگر جواب دیتی بھی تھی تو بھی ہمیشہ جلا کٹا ہی جواب ہوتا تھا ۔۔۔
میں نے کب موسی کی قدر جانی ہے ؟!
پتا نہیں موسی مجھے معاف بھی کریں گے یا نہیں؟
ہر گزرنے والا دن وردہ کی پریشانی میں اضافے کا باعث بن رہا تھا ۔۔۔
خالہ بی موسی صاحب کے “گھر”چلیں ؟ میں سب سے ملنا چاہتی ہوں اور جو ادھر قرآن والی باجی ہیں ، کیا وہ مجھے بھی پڑھا دیں گی ؟
ہاں کیوں نہیں ۔ وہ تو ادھر بھی آ جائیں گی ۔ آپ حکم تو کریں بی بی جی ۔ ارے نہیں میں سب کے ساتھ سیکھنا چاہتی ہوں ۔ میں سب کچھ شروع سے سیکھنا چاہتی ہوں ۔ ایسے ہی جیسے آپکے صاحب نے سیکھا ہے ۔۔۔ وردہ کے لہجے میں درد در آیا ۔۔۔
بی بی جی آپ بھی صاحب کے رنگ میں رنگنے لگی ہیں ماشااللہ ۔۔۔
کوشش کر رہی ہوں خالہ بی ۔ اب پتا نہیں کس حد تک کامیاب ہوتی ہوں ۔۔
بی بی جی آپ بہت اچھی ہیں ، بہت پیار کرنے والی ہیں ۔ اچھا واقعی؟ جی ہاں جی بالکل سچی بات ہے ۔
خالہ بی موسی سکندر خان سے پوچھیں جو میرے عیبوں کو اپنے کمرے کی چاردیواری میں چھپائے بیٹھا رہا ہے ۔ جس نے مجھے عزت دی ، اپنا نام دیا ،اپنے گھر کی چاردیواری کے ساتھ ساتھ اپنے دل میں جگہ دی ، وہ تمام بہتان اور الزام بھلا کر جو میں اسکو دے چکی ہوں ۔۔
وردہ کا یوں سوچوں میں گم ہو جانا خالہ بی کو پریشان کر دیتا تھا ۔۔
بی بی جی آپ ایک دم باتیں کرتی کرتی غمگین کیوں ہو جاتی ہیں؟ لگتا ہے صاحب بہت یاد آ رہے ہیں ؟ خالہ بی نے مسکراتے ہوئے پوچھا ۔۔
بی بی جی یہ وقت دوبارہ زندگی میں کبھی بھی لوٹ کر نہیں آئے گا ۔۔ خوش رہا کریں ۔
بی بی جی آپ نا کوئی زیور پہنتی ہیں اور نا ہی کوئی شادی والے بھڑکیلے کپڑے ۔۔۔
کیوں خالہ بی آپ کے صاحب یہ سب پسند کرتے ہیں کیا ؟
مجھے صاحب کا تو پتا نہیں ہے مگر ہر مرد اپنی بیوی کو سجا سنورا دیکھنا چاہتا ہے ۔۔۔ کیسی سجاوٹ خالہ؟ ارے بی بی جی آپ شوخ رنگ کے کپڑے ، زیورات اور پھر میک اپ بھی لگایا کریں ۔۔ آپ تو ہر وقت ان سادہ سے کپڑوں میں ہوتی ہیں ۔۔ بی بی جی میری باتوں کا برا نہ ماننا، میں تو صرف اس لیئے بول رہی ہوں کہ آپ باہر گوروں کے ملک سے آئی ہیں ۔ یہاں پر دلہنوں کا پہننا اوڑھنا مختلف ہوتا ہے جی ۔۔۔
وردہ نے پر سوچ انداز میں گردن ہلائی ۔۔۔
اچھا خالہ بی تو ایسے کرتے ہوں کہ چند بھڑکیلے جوڑے بھی لے لیتی ہوں ۔ رنگ کون کون سے لوں خالہ ؟؟؟
بی بی جی آپ کا تو رنگ ہی سرخ و سپید ہے، ہر رنگ جچے گا ان شاءاللہ ۔ خالہ بی نے فرحت جذبات میں بولتے ہوئے وردہ کو تسلی دی ۔۔۔
پھر میں ایک لال اور سنہری جوڑا اور دوسرا زرد رنگ کا لے لیتی ہوں اور پھر ساتھ میں گجرے پہن لوں گی ۔ وردہ نے سوالیہ نظروں سے خالہ بی کو دیکھا ۔۔۔
بی بی جی کل تو آپ کو لال اور سنہری جوڑا پہننا چاہیئے اور ساتھ میں زیورات بھی ۔۔۔
اچھا ! کیسے زیورات؟ جھمکے؟
جھمکے بھی اور ماتھے پر ٹیکا بھی پہن لینا بی بی جی ۔۔۔
پر میرے پاس تو یہ چیزیں کوئی نہیں ہیں ۔ بی بی جی بازار جاکر لے آتے ہیں سب وہ چیزیں جو آپکو ضرورت ہے ۔
چلیں پھر تھوڑی دیر میں چلے جاتے ہیں ۔۔
خالہ بی اور بھی کوئی سجاوٹ کروں ؟ جو آپ سمجھتی ہیں یہاں کے مطابق آپکے صاحب کو اچھی لگے گی ؟ کیا میں بالوں میں پھول لگا لوں؟ ۔ کیوں نہیں بی بی جی میں آپکے لیئے پھولوں کے گجرے منگوا لوں گی ۔۔۔
خالہ بی جو گھر میں پھول ہیں کیا ان کے گجرے مل جاتے ہیں؟
۔آپکے صاحب کو یہ پھول پسند ہیں ۔۔ بی بی جی چنبیلی کی بات کر رہی ہیں کیا ؟ جی وہ جو ستونوں کے پاس پودا ہے ۔ وہی والا ۔ بی بی جی کل صاحب کے گھر آنے سے پہلے سب منگوا لوں گی ۔۔ خالہ بی گھر کا ایک ایک کونہ صاف کروانا ہے ۔ اور ہر وہ چیز پکانی ہے جو آپکے موسی صاحب کو پسند ہے ان شاءاللہ ۔۔۔
وردہ خوشی کے ساتھ ساتھ بے حد پریشان بھی تھی نجانے موسی کیسے اس کے بدلے ہوئے رویے کو اپنائے گا ؟!
اگر موسی نے مجھے معاف نہ کیا تو میرا کیا بنے گا ؟!
وردہ کو ٹھنڈے پسینے آنے لگے ۔
خالہ بی ذرا نوید کو فون کر کے پوچھیں کل صاحب کتنے بجے گھر پہنچیں گے ۔۔ جی بی بی جی بس ابھی تھوڑی دیر میں پوچھتی ہوں ابھی تو عصر کا وقت ہوا چاہتا پے ۔۔
وردہ جانتی تھی موسی نے اگر اسکے ساتھ رابطہ نہیں رکھا ہوا تو یقینا نوید کے ساتھ ضرور ہو گا ۔۔ نوید جو موسی کے تمام معاملات سنبھالنے کا انچارج تھا ۔۔۔
موسی 6 دن گزر چکے ہیں باقی کا ایک دن مجھے ایک سال کے برابر لگ رہا ہے ۔ موسی ایک دفعہ مجھے معاف کر دو پھر دیکھنا وردہ جمال مرزا کیسے اپنی محبت اور چاہت کو نچھاور کرتی ہے ۔ موسی میں نے بہت برا کیا ہے ، جس کا میں ازالہ کرنا چاہتی ہوں ۔ موسی پلیز مجھے ایک آخری موقع ضرور دینا ۔ میں مانتی ہوں میں بہت بری ہوں لیکن ایک اور دفعہ آزما لینا پلیز ۔ صبح شام وردہ موسی کو سوچتی اور اسی کے ساتھ یکطرفہ باتیں بھی کرتی ۔۔۔
یااللہ موسی خیر خیریت سے گھر پہنچ آئیں آمین ۔۔
وردہ اٹھتے بیٹھتے ایک ہی بات کا ورد کر رہی تھی ۔ وردہ اپنے دل کا بوجھ اتار کر موسی کے ساتھ نئی زندگی کا آغاز کرنا چاہتی تھی جو ہر طرح کی بدگمانیوں سے پاک ہو ۔ اعتبار اور محبت کا پر خلوص رشتہ ۔۔۔
بی بی جی میں نے نوید صاحب کو فون کیا اور ابھی ابھی پوچھا ہے ، وہ بول رہے ہیں کہ صاحب ۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔
