Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Roop (Episode 28)

Roop by Umme Umair

وردہ ہر ممکن موسی کو خوش کرنے اور فرمانبداری کی جان توڑ کوشش کر رہی تھی کہ اچانک موسی کے موبائل نے بز بز شروع کر دیا، دونوں فریقین کا تسلسل ٹوٹا ،وردہ نے گلے میں پھنستے نوالوں سے کچھ دیر کے لئے پہلو تہی شروع کر دی ۔

موسی نوید کے ساتھ دفتری معاملات میں مکمل طور پر مشغول ہو چکا تھا ۔ وردہ وقفے وقفے سے موسی کے چہرے کے بدلتے تاثرات کو دیکھ رہی تھی پھر فورا نظریں چرا کر سامنے پڑے پراٹھے پر جھک گئی ۔۔۔

نوید یار ابھی تو قطری جہاز کے چکر نہیں اترے ہیں اور آپ دوبارہ ہواوں کے دوش پر بھیج رہے ہو ۔ اب شاید زمینی سفر بہتر رہے گا ۔۔ نہیں یار میں چاہ رہا تھا کہ کم از کم دو دن تو گھر پر گزار لوں ۔ آپ تمام سپلایئرز کی معلومات ای میل کرو ، میں پہلی فرصت میں دیکھتا ہوں، پھر کل کی کل دیکھی جائے گی ان شاءاللہ ۔

نوید سے فراغت کے بعد موسی نے فون میز پر واپس رکھا اور اچٹتی نگاہ وردہ پر ڈالی جو گہری سوچوں میں گم نوالوں کے ساتھ کھیل رہی تھی ۔

وردہ ! جی یکدم گردن اوپر اٹھائی ۔

اپنا پراٹھا ختم کرو ! وہ مجھے بھوک نہیں ہے ۔ بھوک کیوں نہیں ہے؟ پتا نہیں ۔۔۔

وردہ نے چہرہ جھکائے دھیمے لہجے میں جواب دیا ۔۔

ادھر دیکھو ! کس طرف دیکھوں؟

میری طرف دیکھو !

موسی کا سنجیدہ لہجہ وردہ کی سانس خشک کر رہا تھا ۔

بڑی روشن آنکھوں میں نمی تیرنے لگی ۔

پتا ہے مجھے رزق کے ضیاع پر بھی بہت کوفت ہوتی ہے ۔

موسی میں بعد میں کھا لوں گی ۔

موسی نے وردہ کے سامنے پڑے پراٹھے کی پلیٹ کو اپنے پاس کھسکایا اور لقمہ توڑنے لگا ۔

وردہ حیران و پریشان اسکی حرکات کو دیکھ رہی تھی ۔

لقمہ توڑ کر وردہ کی طرف بڑھایا ۔

منہ کھولو ! وردہ آنکھیں پھاڑے موسی کے اس نئے روپ پر حیران تھی ۔

وردہ میں نے بولا ہے منہ کھولو !

وردہ کی آنکھوں نے چھم چھم برسنا شروع کر دیا ۔

وردہ ! موسی نے سنجیدہ اور کرخت لہجے میں پھر سے پکارا ۔

وردہ نے بنا ایک سیکنڈ کی تاخیر کیئے منہ کھولا اور لقمہ منہ میں لے لیا ۔

ابھی بمشکل ایک لقمہ گلے سے نیچے اترا تھا تو دوسرا منہ کے سامنے تیار تھا ۔

آنکھیں رم جھم برسے جا رہی تھیں ۔

موسی وردہ کو کسی چھوٹے بچے کی طرح دھونس جما کر کھلا رہا تھا ۔

موسی مجھے اور نہیں کھانا پلیز ۔ وردہ میں نے اپنے 2 پراٹھے ختم کر دیئے ہیں ، یہ آپکا اکلوتا پراٹھا ہے اسکو ابھی کے ابھی ختم کرو ۔ جذبات سے عاری خشک لہجہ وردہ کو ہلا کر رکھ گیا ۔۔۔

جلدی جلدی لقمے چباو مجھے ابھی ظہر کے لئے نکلنا ہے ۔ میں خود کھا لوں گی پلیز ۔

نہیں ابھی اور اسی وقت اس کو کھانا ہے ۔ یہ آخری دو لقمے باقی رہ گئے ۔

موسی نے آخری لقمہ وردہ کے منہ میں ڈالا اور پھر ہاتھ دھو کر مسجد کے لئے نکل گیا ۔

وردہ نے پہلے رونے کا شغل کھانے کی میز پر بیٹھ کر پورا کیا اور ماندہ شغل کے لئے سنک پر برتن دھوتے ہوئے پورا کر لیا ۔

اس شخص کی سمجھ نہیں آتی ہے ، بہترین برتاو بھی کرتا ہے اور راضی بھی نہیں ہوتا ہے ۔

یا اللہ میں کیسے اس شخص کو مناوءں؟

میرے مالک ! میرے لیئے آسانی پیدا فرما ! روتے روتے سارا کچن صاف کر ڈالا ۔

واپس کمرے میں آکر وضو کیا اور ظہر کی نیت باندھ لی ۔ نماز کے بعد دعاوں کا لامتنائی سلسلہ، اپنے رب العالمین کے سامنے خالی ہاتھ پھیلائے صرف ایک ہی دعا کی تکرار کیئے جا رہی تھی ۔ یااللہ میرے موسی کا دل میرے لیئے نرم کر دے ، وہ مجھے معاف کر دیں ۔ روتے روتے ادھر ہی جائے نماز پر سجدہ ریز ہو گئی ۔۔۔ کتنی دیر رب کے حضور اپنی حاجات کی سرگوشیاں کرتی رہی ۔ جب دل کا بوجھ ہلکا کر لیا تو آئینے میں اپنا عکس دیکھا ۔ چہرہ لال ٹماٹر اور آنکھیں کافی حد تک سوجھ چکی تھیں ۔

موسی کے آنے سے پہلے بہتر ہے چہرہ دھو لوں ورنہ پھر خفا ہونگے ۔۔۔

ٹھنڈے پانی کے چھینٹوں سے لال ہوتی آنکھیں اور چہرہ دھویا۔۔۔

واش روم سے فراغت کے بعد کمرے میں پہنچنے پر لائبریری میں کھٹ پٹ سنائی دی ۔ یقینا موسی واپس آ چکے ہیں ۔

کچھ دیر سوچنے کے بعد ہمت جمع کی اور لائبریری میں پہنچ کر موسی کو نہایت دھیمے لہجے میں پکارا جو لیپ ٹاپ کھولے سرعت سے انگلیاں چلا رہا تھا ۔

وردہ کے پکارنے پر کچھ دیر کے لئے تیزی سے چلتی انگلیاں تھم گئیں ۔ بنا چہرہ موڑے صرف ہونہہ بولا۔

موسی کیا میں ادھر بیٹھ سکتی ہوں؟

کیا کرو گی ادھر بیٹھ کر ؟

میں آپکے پاس بیٹھنا چاہتی ہوں پلیز ۔

موسی نے فورا پلٹ کر دیکھا ۔ نا چاہتے ہوئے بھی بول پڑا۔

وردہ مجھے ابھی بھی سمجھ نہیں آ رہی کہ ایسی کونسی بات ہو گئی ہے جو آپ ایسے بی ہیو کر رہی ہو ؟ وردہ کیوں میرے ساتھ اپنا قیمتی وقت ضائع کر رہی ہو ؟ آپ ایک جذباتی لڑکی ہو ۔

کل پھر کسی معمولی بات پر ناراض ہو جاو گی ۔ لہذا میں کسی قسم کی خوش فہمیاں نہیں پالنا چاہتا ہوں ۔میرے لیئے آپ کا ساتھ ایک سراب جیسا ہے جس کا حصول ناممکن ہے ۔۔ آپ پل میں تولہ ہوتی ہو اور پل میں ماشہ ہوتی ہو ۔ میں آپکے کس روپ پر اعتبار کروں؟

موجودہ روپ یا پھر جو ماضی میں رہ چکا ہے ؟

موسی آپ میری بات مکمل طور پر سن لیں پلیز ۔

اچھا چلو سناو ! ہم ہمہ تن گوش ہوں ۔

موسی نے لیپ ٹاپ کو بند کرتے ہوئے بولا ۔

موسی کیا ہم ادھر کے بجائے کمرے میں بیٹھ کر آرام سے بات کر سکتے ہیں؟

اچھا چلو کمرے میں کر لیتے ہیں ۔ لیکن ایک شرط پر بات سنوں گا ، اگر بیچ میں رونا دھونا نہیں کرو گی ۔

وردہ جو پہلے ہی ڈبڈبائی آواز میں بول رہی تھی ، موسی کی بات سنتے ہی مذید غم زدہ ہو گئی ۔ موسی میں بہت کوشش کر رہی ہوں مگر آنسو خود سے ہی آجاتے ہیں ۔

وردہ بھاں بھاں روتی کرسی پر بیٹھے موسی سے لپٹ گئی ۔ موسی پلیز مجھے معاف کر دیں ،میں وعدہ کرتی ہوں آئندہ آپکو غمگین نہیں کروں گی ان شاءاللہ ۔

Musa please forgive me for sake of Allah

“مجھے اللہ کی خوشنودی کے لیے معاف کردیں پلیز”

اللہ سبحان و تعالی بڑی سے بڑی خطا معاف کر دیتے ہیں تو پھر ہم انسان کیوں نہیں ایک دوسرے کی خطاوں کو معاف کرتے ؟

موسی جو اس اچانک افتاد پر بوکھلا گیا فورا خود پر قابو پاتے ہوئے وردہ کو نرمی سے خود سے الگ کیا اور ہاتھ پکڑ کر کمرے میں لے آیا ۔ وردہ کا ہاتھ تھامے صوفے پر بٹھایا اور خود بھی ساتھ ہی بیٹھ گیا ۔۔

وردہ بات معافی کی نہیں ، میں اصل بات کو جاننا چاہتا ہوں جو آپکو اس طرح بلک بلک کر رونا پڑ رہا ہے ۔

مجھے بتاو کونسی ایسی بات ہوگئی ہے جس نے آپ کو میرے سے معافی مانگنے پر مجبور کر دیا ہے؟

وردہ مجھے حقیقت جاننی ہے ۔

وردہ نے ہچکیوں میں ساری داستان موسی کے گوش گزار کر دی ۔۔ موسی میں نے آپکے ساتھ بہت ظلم کیا ہے ۔

موسی نے ساری بات سننے کے بعد لمبی سانس کھینچی اور گویا ہوا ۔ وردہ پتا ہے مجھے غم کس چیز کا ہے ؟

وردہ نے اپنی بڑی بڑی سوگوار آنکھیں موسی کے چہرے پر ٹکا دیں اور سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی ۔۔

اس وقت بھی آپ نے زوبی کی بات پر یقین کیا تھا اور آج بھی زوبی کی بات پر یقین کر لیا ہے ۔ اور میرے ساتھ معافی تلافی کر رہی ہو ۔

وردہ میں کس زمرے میں آتا ہوں؟ کیا میری کوئی حیثیت، کوئی شناخت نہیں ہے؟

میں تو آپ کا اپنا تھا ؟ آپ کا شوہر ، آپ کا محرم تھا ۔ مجھے چھوڑ کر آپ ایک اجنبی لڑکی کی باتوں میں آ گئی ۔ جس کا آپکو نام تک بھی معلوم نہیں تھا ۔ آپ نے یہ تک نہیں سوچا کہ اگر میں مجرم ہوں تو پھر میں کیوں اسکے میڈیکل ٹیسٹ کا بول رہا ہوں؟ اور میڈیکل کا سنتے ہی وہ جھوٹی لڑکی غائب ہو گئی ۔

اور آپ نے تو میری بات تک نہ سنی اور فورا ہی غائب ہو گئی ۔ مجھے اپنے فون تک سے بلاک کر دیا تھا ۔ مجھے تو ایک موقع بھی فراہم نہیں کیا گیا کہ میں اپنی صفائی میں بول سکوں ۔ میرے اوپر آپ سے زیادہ اعتبار تو آپ کے ڈیڈ کو تھا ۔۔

اگر میں ایسا غلیظ ذہن انسان ہوتا تو میں نے پورا سال اپنی بیوی کو کیوں چھوڑے رکھا ؟ میری محرم، میری بیوی پورا حق رکھتا تھا ، میں جو چاہتا کرتا لیکن میں اصول پسند تھا ہر چیز کو اسکے ضابطے کے مطابق لے کر چلنے والا تھا ۔ میں بلا شبہ اسلام کے بارے میں اتنا نہیں جانتا تھا مگر پھر بھی میرے میں غیرت موجود تھی ۔ میرے غیرت مند باپ کا خون میری رگوں میں کسی کی قسم کی ملاوٹ برداشت نہیں کرتا تھا ۔ میں نے اپنی ذات کی حد بندی کر رکھی تھی ۔ مجھے میرے بھائی کی محنت اور تربیت اس طرح کی غلاظت سے محفوظ رکھے ہوئے تھی ۔۔۔

وردہ آپکو نہیں پتا کہ آپ نے مجھے کتنا غم دیا ہے ۔ میں کتنا تڑپا تھا آپ کے لئے، میں نے کتنا چاہا تھا کہ صرف ایک بار آپ سے مل لوں تو شاید میں اپنی بے گناہی کا ثبوت دے سکوں لیکن آپ نے تو مجھے کسی بھی قابل ہی نہیں سمجھا تھا وردہ ۔

رشتے تو اعتبار پر بنتے اور نبھائے جاتے ہیں، آپ نے تو مجھے گلی میں پڑے تنکے سے بھی ہلکا کر دیا تھا ۔

وردہ کوئی کرتا ہے ایسا ؟ جیسا آپ نے میرے ساتھ کیا تھا ؟ موسی کی آنکھیں شدت غم سے لال انگارہ ہو رہی تھیں ۔ وردہ جو خود ہچکیوں میں تھیں ، موسی کی آنکھوں میں دیکھنے کی تمام صلاحیت کھو چکی تھی ۔۔

وردہ آپ تو میری پہلی خالص اور سچی محبت تھی ، بغیر کسی کھوٹ کے میں نے اپنے بھائی کے مشورے کو من و عن قبول کیا تھا ۔ اور آپکو پورے وقار کے ساتھ اپنا جیون ساتھی بنایا تھا ، وردہ آپ نے تو مجھے میری ہی نظروں میں گرا دیا ۔۔۔

آپ نے تو مجھے ایسے ایسے گھاو دیئے ہیں کہ میری روح تک جھلس گئی ۔ میرے اندر کی توڑ پھوڑ کتنے سال بیت جانے کے باوجود بھی کچے زخموں کی طرح کھولتی ہے ۔۔

موسی ! وردہ دھاڑیں مار مار کر روئے جا رہی تھی اور دوبارہ سے موسی کے ساتھ لپٹ گئی ۔

موسی نے بہت مشکل سے اپنے آنسوؤں کو روکا ہوا تھا ۔ مرد تھا اپنے دل کی بھڑاس تو نکال رہا تھا مگر آنسوؤں کو اندر ہی اندر اتارے جا رہا تھا ۔

نجانے کتنی دیر وردہ کی کمر کو سہلانے میں گزار دی۔ وردہ کا رونا ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا ۔

وردہ ابھی بہت ہو گیا ہے ۔ مجھے کام کرنے دو پلیز ۔

یہ کام ابھی نپٹانا بہت ضروری ہے ورنہ میں کل سے پھر ایک ہفتے کے لئے اسلام آباد چلا جاوں گا ۔

مجھے کام کرنے دو پلیز ۔

وردہ تو موسی کے کرتے کو جکڑے ضدی بچے کی طرح چپکی بیٹھی تھی ۔۔۔

کیا مصیبت ہے یار ! مضبوط اعصاب کا مالک موسی بے بس نظر آ رہا تھا ۔

وردہ یار چھوڑو مجھے ! موسی نے اسے الگ کرنے کے لئے اٹھنا چاہا ۔

وردہ بھوکی شیرنی کی طرح جھپٹی ۔ موسی ابھی میری بات مکمل نہیں ہوئی ہے ۔

اچھا بات مکمل کرو ! مگر کرتے کے ساتھ کیا دشمنی ہے ؟ کیوں اسکو چیرنے کے در پر ہو ؟

وردہ نے موسی کے کرتے کو چھوڑ دیا اور موسی کے سامنے نیچے فرش پر بیٹھ گئی ۔

کیا کر رہی ہو ؟ نیچے کیوں بیٹھ گئی ہو ؟۔

نہیں مجھے ادھر ہی بیٹھنا ہے ۔

ہاتھ پکڑتے ہوئے گویا ہوئی ۔ موسی جب یہ سارا واقعہ ہوا تھا ، میری عمر اس وقت 19 برس بھی نہیں تھی ۔ میں نعیف تھی ، جذباتی تھی ، بیوقوف تھی ۔

مگر آپ تو میچور تھے ۔ آپ جب پاکستان آئے دوبارہ واپس کینیڈا آکر مجھے ملنے یا منانے کی کوشش کی تھی ؟

اچھا تو ابھی پھر سے میں مجرم ؟ موسی نے وردہ کو گھورا ۔ فون سے میں بلاک اور باقی تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی بندش بھی کر دی گئی تھی ۔

جو بیوی اپنے شوہر کی شکل بھی دیکھنا گوارا نہ کرے تو پھر موسی سکندر کیا کرتا ؟

موسی آپ کو کم از کم ایک دفعہ تو واپس آنا چاہیئے تھا ۔ کس خوشی میں آتا جب میرے اوپر تمام راستے بند کر دیئے گئے تھے؟ ۔

میرے لیئے آتے ۔ تو یہی بات میں بھی آپکو بول سکتا ہوں ۔ آپ آ جاتی نا !

مجھے تو دھتکار چکی تھی تو میری تو کوئی تک نہیں بنتی تھی واپس آنے کی ۔

تو ابھی میں ہی آئی ہوں ۔

جی بالکل آپ ہی آئی ہیں ڈنڈے کے زور پر ۔

انکل زبردستی نہ لاتے تو کبھی بھی نہ آتی ۔

جانتا ہوں میں سب ۔

موسی نے بولتے ساتھ ہی اٹھنا چاہا ۔

موسی آپ ابھی بھی ناراض ہیں؟

وردہ ابھی میری بات کو کان کھول کر غور سے سنو !

“جو عورتیں فحاشی کا ارتکاب کریں تو ان پر چار گواہ پیش کرو”(سورت النساء:15)

“وہ لوگ جو پاکدامن عورتوں پر الزام تراشی کرتے ہیں اور چار گواہ بھی پیش نہیں کرتے”(سورت النور:4)

وردہ یہ آیتیں مرد اور عورت دونوں کے لئے ہیں ، جو بھی زنا کی تہمت لگائے وہ چار مرد گواہوں کو لے کر آئے ۔ وہ زوبی اللہ اسکو ہدایت دے آمین ۔ کیا اسکے پاس چار مرد گواہ موجود تھے یا پھر آپکے پاس ؟

نہیں نا ۔ زنا چاہے زنا بالجبر ہو یا پھر زنا بالرضا ۔ زنا تو زنا ہے ۔ اس پر حد اسی وقت قائم ہو گی جب شواہد موجود ہوں ۔۔۔

“یہ اللہ کی حدیں ہیں ، ان کے (ارتکاب کے) قریب مت جاو”(سورت البقرہ:187)

“اور جو کوئی اللہ کی حدوں سے تجاوز کرے گا تو بلاشبہ اس نے اپنے آپ پر ظلم کیا”(سورت الطلاق:1)

وردہ سمجھ آ رہی ہیں نا میری باتیں؟ کبھی سوچا ہے کہ میں کس کرب سے گزرا تھا ؟ میرے اوپر حد قائم نہیں ہوتی تھی بلکہ اس حد کی حقدار تو وہ عورت تھی جس نے میرے کردار کو داغ دار اور متنازع بنا دیا تھا ۔ جھوٹا الزام جس کے اوپر میری اپنی بیوی آنکھیں بند کر کے عمل پیرا رہی ہے گزشتہ پورے چار سال سے ۔ وردہ آپ کی جگہ اگر میں ہوتا تو کم از کم ایک موقع ضرور فراہم کرتا کہ اپنی صفائی میں جو بولنا ہے بول لو ۔ باقی پھر میری مرضی ہوتی کہ جو فیصلہ میں کروں ۔ اس رشتے کو قائم رکھنا ہے یا پھر الوداع کہنا ہے؟ پچھتاوں سے بچنے کے لیے میں ایک مرتبہ اپنے دل کی تسلی کے لئے ملزم کو ضرور سنتا ۔۔۔ میں ظالم نہیں تھا وردہ ! میں تو مظلوم تھا ! گزشتہ 4 سال سے بدکردای کا طوق گلے میں پہنے گھاو پہ گھاو کھائے جا رہا ہوں ۔

وردہ نے سوگوار نظروں سے موسی کو دیکھا ۔

“This world is provisions, and there’s no provision in this world better than a righteous wife”( Sunnan Ibne Majah:1928)

“دنیا متاع (سامان)ہے ، اور دنیا کے سامانوں میں سے کوئی بھی چیز نیک اور صالح عورت (بیوی) سے بہتر نہیں ہے”(سنن ابن ماجہ:1928)

موسی نے بولتے ساتھ ہی ۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *