Roop by Umme Umair NovelR50655 Roop (Episode 16)
Rate this Novel
Roop (Episode 16)
Roop by Umme Umair
خالہ بی سب خیریت ہے نا ؟؟ جی جی اللہ کا فضل و کرم ہے ۔۔۔۔
وہ بی بی دراصل صاحب کا فون تھا ، وہ بول رہے ہیں کہ 2 دنوں کے لئے کام کے سلسلے میں شہر سے باہر جانا پڑ رہا ہے ۔۔ فیصل آباد جا رہے ہیں اور کام مکمل ہوتے ہی واپس لوٹ آئیں گے ۔۔۔ اوہ اچھا !۔۔۔
اچھا خالہ بی کوئی بات نہیں ہے، چلیں ہم چل کر کچن میں کھانا کھاتے ہیں ۔۔۔
وہ صاحب بول رہے تھے کہ میں آج ادھر ہی رکوں جب تک وہ لوٹ کر نہیں آ جاتے ہیں ۔۔۔
جی کیوں نہیں ضرور رکیں ۔۔۔ آپ پہلے ادھر نہیں رکتی تھیں؟ نہیں جی بس کھانا وغیرہ تیار کرکے ہم ساتھ والے کواٹر میں چلے جاتے تھے ۔۔
باغیچے میں کام کرنے کی ذمہ داری میرے میاں کی ہے اور میں گھر کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ کھانا پکا لیتی ہوں ۔۔۔
یتیم خانے کی تعمیر پر صاحب نے باورچی کو وہاں پر کھانے کی پکوائی کے لئے بھیج دیا تھا ۔۔۔
سارا دن تو صاحب گھر سے باہر ہوتے ہیں اور رات گئے واپسی ہوتی ہے ، صرف ہفتے میں ایک دن چھٹی کرتے ہیں وہ بھی آدھا دن سو کر اور باقی دن باغیچے میں گزار دیتے ہیں ۔۔۔
خالہ بی اپنی باتونی عادت کے طفیل وردہ کے بنا پوچھے ہی تمام معلومات فراہم کر رہیں تھیں ۔۔
کھانے سے فراغت پر خالہ بی کے بارہا منع کرنے کے باوجود وردہ نے برتنوں کی دھلائی شروع کر دی بنیادی صفائی کے بعد اپنے کمرے میں جانے کی ٹھانی ۔۔ خالہ بی آپ بھی تھک گئی ہیں، اوپر چلتے ہیں، آپ ادھر ہی ساتھ والے کمرے میں آ جائیں ۔۔۔
جی میں ادھر ہی ہونگی، آپکو کسی قسم کی کوئی ضرورت ہو تو مجھے بتانا ۔ اور گھبرانے کی قطعا ضرورت نہیں ہے ۔ چوکیدار اپنی ڈیوٹی پر ہے اور کسی کو بھی گھر کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے، آپ بےفکر ہو کر سو جائیں ۔۔۔
بی بی باقی تمام ملازمین صاحب کی ہدایات کے مطابق خود سے گھر سے باہر کی سب ذمہ داریاں سنبھال لیں گے ۔ کسی قسم کی پریشانی والی بات نہیں ہے ۔
آپ آرام کریں خالہ بی آپ بھی سارا دن میرے ساتھ رہیں ہیں آپ بھی تھک گئیں ہوں گی ۔۔ ارے نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے میں بس وضو کر کے مغرب ادا کروں گی اور پھر اپنے میاں کو اور چوکیدار کو کھانا پہنچانا ہے ۔۔۔ اچھا چلیں میں پھر اوپر کمرے میں جا رہی ہوں ۔۔
موسی کا تھکن سے برا حال ہو رہا تھا ۔۔ آنکھیں موندے سیٹ کے ساتھ ٹیک لگائے اپنی ہی دنیا میں گم تھا ، گاڑی کے یکدم جھٹکے سے بریک لگنے پر ہوش کی دنیا میں آیا ۔۔۔
منیر کیا ہوا ہے؟ صاحب لگتا ہے کوئی بلی کتا کسی گاڑی تلے آ کر کچلا گیا ہے ۔۔ یار لوگ بھی دیکھ کر گاڑی نہیں چلاتے ہیں ۔۔
صاحب ہر ایک کو بس اپنی ہی پڑی ہوئی ہے ۔۔ کوئی مرے کوئی جیئے کوئی پرواہ نہیں ہے ۔۔۔ ہاں صحیح کہہ رہے یار منیر ۔۔۔
موسی صرف سر جھٹک کر رہ گیا ۔۔۔
کلائی پر بندھی گھڑی دیکھی تو رات کے دس بجا رہی تھی ۔۔ منیر یار شدید تھکن ہے بس ابھی ناک کی سیدھ چلو تاکہ جلد از جلد پہنچیں ۔۔
جی صاحب بس ابھی آدھے گھنٹے کا سفر باقی ہے ۔۔
سارا دھیان ظالم حسینہ کی طرف تھا ، پتا نہیں گھر واپسی پر کیا حشر کرے گی ؟ بہتر ہے دو دن بات نا ہی کروں ، ہوسکتا ہے پتھر دل کچھ پگل ہی جائے۔۔ موسی اپنی خام خیالی پر خود ہی ہنس پڑا ۔۔ وردہ جمال مرزا اپنے نام کی ایک ہے ۔۔
وردہ کے دو دن خالہ بی کے ساتھ بہت مصروف گزرے ، باہر زمینوں سے لے کر گھر کے باغیچے تک ہر پودے کی جڑ تک کی رسائی کر لی ۔
دو دنوں کے دوران موسی نے ایک مرتبہ بھی دوبارہ فون کرنے کی جسارت نہ کی ۔۔
وردہ جب اسکی بےاعتنائی پر سوچتی تو سر پھاڑنے کو جی چاہتا ۔۔۔ آوارہ مزاج جب پاس ہوتا ہے تو ڈرامے بازیاں ہی ختم نہیں ہوتی اور ابھی دیکھو دو دن گزر گئے ہیں ۔۔۔
کوئی خیر خبر ہی نہیں لی ۔ مجھے کیا ؟ میں کیوں فضول انسان کے بارے میں سوچ رہی ہوں؟
وردہ نے اپنے خیالات کو جھٹکا اور کمبل منہ تک تان کر سو گئی ۔۔۔
دو دن اور تیسری رات کے 11بجے کے بعد موسی کی واپسی ہوئی ۔ گھر میں مکمل سناٹا تھا ۔۔
لگتا ہے ظالم حسینہ سو چکی ہے ۔ اور وہ بھی گدھے گھوڑے بیچ کر ۔۔۔
موسی نے دھیرے سے دروازے میں لگے ہینڈل کو گھمایا اور دبے پاوں کمرے میں داخل ہو گیا ۔۔
سامنے نظر اپنے کنگ سائز بیڈ پر گئی تو وردہ موسی کی امید کے مطابق گہری نیند میں تھی ۔
جیب سے چابی نکال کر کمرہ لاک کیا اور موبائل، اپنا لیپ ٹاپ بیگ ملحقہ لائبریری میں رکھا اور الماری سے رات سونے والا لباس نکال کر واش روم میں گھس گیا ۔۔
شاور لے کر واپس کمرے میں داخل ہوا تو وردہ کی طرف دوبارہ دیکھنا نہ بھولا ۔۔ ظالم حسینہ سر سے پاوں تک کمبل لپیٹے بےسود پڑی تھی ۔۔۔ موسی کے دل میں ایک ٹھیس اٹھی اور پھر مجبور ہو کر لائبریری کی طرف بڑھ گیا ۔۔
آنکھ کھلتے ہی بستر پر بیٹھ کر اپنے دائیں بائیں دیکھا تو بیڈ سائیڈ ٹیبل پر ایک چھوٹا باکس چھوٹے سے خوبصورت ربن میں لپٹا ہوا تھا ۔
سمجھ نہیں آ رہی تھی کدھر سے آیا ہے؟
ہوسکتا خالہ بی رات کو رکھ گئی ہیں اور مجھے جگانا مناسب نہیں سمجھا ۔ چلو کھول کر دیکھتی ہوں پھر پوچھ لوں گی ۔ ابھی شاید وہ باہر باغیچے میں ہوں گی ۔۔
وردہ نے پرتجسس انداز میں خوبصورت باکس کے ریپر کو ادھیڑ ڈالا ۔۔ باکس کھلنے پر حیران رہ گئی۔۔ لال ،پیلی اور ہری کانچ کی چوڑیاں ۔۔۔ چند چوڑیاں باکس کے اندر سے نکال کر دیکھ رہی تھی تو سامنے لائبریری کے دروازے پر موسی کو مسکراتے ہوئے پایا۔۔
السلام علیکم ۔۔ وردہ کیسی ہو ؟ تحفہ پسند آیا ہے ؟ میں اپنی پیاری سی بیوی کے لئے لایا ہوں ۔۔
شدید غصے میں وردہ کے چہرے پر ناگواری واضح جھلک رہی تھی ۔۔
ملٹی ملیین ایئر اور تحفہ کانچ کی چوڑیاں ۔۔
ہونہہ رکھو اپنا تحفہ اپنے پاس بلکہ ایسے کرنا اپنی کسی عزیز کو دے دینا ۔۔۔ مجھے تمھارے تحفوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔
بس زہر اگل لیا ہے یا کچھ باقی ہے ؟ موسی نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وردہ کو مخاطب کیا ۔۔
تحفے کی قیمت کی جانچ پڑتال سے بہتر ہے تحفہ دینے والے کے خلوص کو پرکھا جائے۔ بدلتی رتیں مزاجوں پر اثرانداز ہونے والی دھول کو غبار بنا کر قلب کے رشتوں کو دھندلا دیتی ہیں وردہ جمال مرزا ۔۔
مجھے کانچ کی چوڑیاں پسند ہیں اس لیئے لایا تھا ۔ یہ شڑنگ شڑنگ کرتی کانچ کی چوڑیاں آپکی کلائیوں میں سجیں گی ۔۔۔
اگر کبھی زہر میں کمی واقع ہوئی تو پہن کر دیکھ لینا ، بہت جچیں گی ۔۔۔۔۔
وردہ گنگ ہو کر رہ گئی ۔۔
دو دن بعد شوہر گھر واپس آ رہا ہے اور حال احوال پوچھنے کے بجائے جھگڑ رہی ہو ۔۔۔
ایسا کرنے سے کیا خوشی ملتی ہے آپکو ؟ صرف اپنے آپکو اذیت سے دوچار کر رہی ہو وردہ جمال مرزا ۔۔۔
موسی سکندر خان اپنی زبان سے ہٹنے والوں میں سے نہیں ہے ۔۔۔
جو کرنا چاہتی ہو کر لو ۔ وردہ موسی کے اس نئے روپ پر گھبرا گئی ۔
شاید موسی کی برداشت جواب دیتی جا رہی تھی یا پھر وردہ کا رویہ بہت اذیت ناک ہوتا جارہا تھا ۔۔
واپس جانا چاہتی ہو تو چلی جاوء، میں زبردستی کا قائل نہیں ہوں ۔ میں نے اپنی پوری کوشش کی ہے اور جہاں تک طلاق کا مسئلہ ہے، جب تک انکل نہیں بولیں گے میں کبھی بھی آخری سانس تک یہ قدم نہیں اٹھاوں گا، انکل نے مجھے آپکی ذمہ داری سونپی تھی، اور میں کبھی بھی انکل سے کیئے گئے وعدے سے نہیں پھروں گا ۔۔ ۔۔۔ کیونکہ میں شیطان کو خوش رکھنے کی خواہش ہر گز نہیں رکھتا ہوں ۔۔
شیطان کا تو صرف بہانا ہے موسی سکندر خان ! اصل لالچ تو میرے باپ کے مال کا ہے جو 70 فیصد میرے نام پر ہے ۔۔۔ مجھے طلاق دینے پر تم ہر چیز سے ہاتھ دھو بیٹھو گے ۔۔۔
وردہ غصے سے تمتماتے چہرے کے ساتھ زہر اگل رہی تھی ، جذبات کی رو میں بہتے ہوئے اس بات سے بالکل بےخبر تھی کہ موسی نے اسے دونوں کندھوں سے جکڑ لیا ہے ۔۔۔
وردہ میرے ایک ہاتھ کی مار ہو ، آپکی یہ قینچی کی طرح چلتی زبان میں دو سیکنڈ میں بند کر سکتا ہوں ۔ موسی نے دانت پیستے ہوئے وردہ کو دھمکایا۔۔
موسی اپنا سارا غم و غصہ وردہ کے جکڑے کندھوں پر نکال رہا تھا ۔۔
چھوڑو !! جنگلی انسان درد ہو رہا ہے مجھے ۔۔
وردہ کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں تھیں ۔۔ تم نے مجھے یہاں جبرا رکھا ہوا ہے ۔
چپ کر جاو اس سے پہلے کہ میرا ہاتھ اٹھ جائے ۔
موسی نے ہوا میں لہرایا ہوا ہاتھ اپنے جبڑوں کو بھینچتے ہوئے نیچے کر لیا ۔۔۔
مارو مجھے رک کیوں گئے ہو ، اپنی یہ دیرینہ خواہش بھی پوری کر لو ۔۔
میں آخری دفعہ وارن کر رہا ہوں اپنی زبان بند کر لو ورنہ!
ورنہ کیا کر لو گے ؟؟ وردہ جمال مرزا مجھے بہت کچھ کرنے پر نہ ہی اکساوء تو بہتر ہے ۔
یہ مت بھولو کہ اس وقت آپ موسی سکندر خان کی چھت کے نیچے کھڑی ہو ، یہ وہ چھت ہے جس کو موسی نے اپنے دن رات کی محنت سے تعمیر کروایا ہے ۔ نہ اس میں آپ کے باپ کا پیسہ ہے اور نہ ہی کسی اور کا ہے ۔۔
جہاں تک بات لالچ کی ہے کہ میری نظر آپکے ڈیڈ کے مال پر ہے تو سن لو ۔ اگر مجھے زیادہ مال کی ہوس ہوتی تو آج اپنی پیدائش والے ترقی یافتہ ممالک میں رہ کر ڈالر چھاپ رہا ہوتا ہے ۔۔ جہاں پر پہنچنے کے لئے دن رات مفلس لوگ پاپڑ بیلتے ہیں ۔۔۔
آپ رکھو اپنا مال اپنے پاس سنبھال کر ! ۔مجھے نہ تو آپکے مال میں دلچسپی ہے اور نہ آپکے اعمال میں دلچسپی باقی رہ گئی ہے ۔۔۔ صرف میرے سے بدلہ لینے کی خاطر اپنی سوچ کا معیار اس حد تک گرا لیا ہے؟؟؟
اتنی گری ہوئی اور گھٹیا سوچ کی مالک ہو آپ؟ میں نے تو کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا ۔۔
موسی نے وردہ کو دونوں کندھوں سے پکڑ کر دیوار کے ساتھ لگا دیا ۔
بڑی بڑی چمکیلی آنکھیں شدید غصے میں لہو ٹپکا رہی تھیں ۔۔۔۔
میں ظلم اور زیادتی کرنے والا انسان نہیں ہوں کیونکہ مجھے اپنے ایک رب کا خوف ہے ۔ اور مجھے اپنے آپکو کنٹرول کرنا بھی آتا ہے ۔۔
آپ کو اشد ضرورت ہے صبر اور برداشت سیکھنے کی ۔ واپس جانا چاہتی ہو تو جاو، میں کبھی بھی زبردستی نہیں روکوں گا ۔۔ لیکن صرف ایک بات میری یاد رکھنا، یہاں پر رہ کر شاید زندگی کی حقیقت اور اسکو گزارنے کے چند اصول جان لو ۔۔۔
اپنے اس بنگلے سے نکل کر باہر کی دنیا دیکھو !
دیکھو وہ غریب ، معذور ،محتاج لوگ جو دو وقت کی روٹی کو ترستے ہیں ۔
اور آپکو محبت سے لایا گیا یہ تحفہ حقیر لگ رہا ہے ۔
اعوذ بااللہ من الشیطان الرجیم
“”میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں””(صحیح بخاری 6115،صحیح مسلم 2610)
وردہ صاحبہ یہ پڑھو اور جو آپکے دماغ پر شیطان سوار ہے تاکہ اس سے بچ سکو ۔۔۔
موسی نے لمبی سانس کھینچی اور بولا ۔ ان چوڑیوں کو اس وقت پھینکنا جب آپ جیتو گی اور میں ہاروں گا ۔۔۔۔
ابھی بھی بول رہا ہوں گھر بنتے سالوں بیت جیت جاتے ہیں لیکن گھر کو اجاڑنے میں صرف ایک چھوٹی چنگاری کی ضرورت ہوتی ہے منٹوں میں گھر کا کونا کونا راکھ بنا دیتی ہے ۔۔
ابھی یہ آپکی مرضی ہے راکھ بنانے والی چنگاری بننا ہے یا پھر پھاہوں کا کام سر انجام دینا ہے ؟ ۔۔
شیطان کو خوش کرنا ہے یا رحمان کا رستہ چننا ہے ؟!
وردہ ٹکر ٹکر موسی کے بدلتے تیور کو دیکھ رہی تھی ۔۔ موسی کے بے شکن لباس سے اٹھتی مہک چند لمحوں کے لئے وردہ کو بھی حواس باختہ کر گئی ۔۔۔
موسی کی گرفت ڈھیلی پڑتے ہی برق رفتاری سے بھاگ کر واش روم میں گھس گئی ۔۔۔
بند دروازے کے باوجود بھی وردہ کی دھاڑیں موسی کو واضح سنائی دے رہی تھیں ۔۔
موسی سر جھٹک کر فون اور بیگ اٹھا کر اپنے آفس کے لئے نکل گیا ۔۔
وردہ نے آدھا دن رونے میں گزارا پھر شاور لے کر نیچے آئی تو خالہ بی کچن میں کھڑی لہسن چھیل رہی تھیں ۔۔۔
وردہ کو دیکھتے ہی کھل اٹھیں ۔ ارے بی بی مجھے آپ کو اٹھانا مناسب نہیں لگا ۔۔ آپ آئیں ادھر بیٹھیں ، خالہ بی نے کرسی کو پیچھے دھکیلتے ہوئے وردہ کو بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔ اب بتائیں کیا کھائیں گی ؟ کچھ خاص بھوک نہیں ہے خالہ بی ۔
وردہ بی بی آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے آج؟ کچھ تھکی تھکی سی لگ رہی ہیں آج؟
نہیں میں ٹھیک ہوں خالہ بی ۔
وردہ نے بمشکل اپنے آنسوؤں کو پیچھے دھکیلا ۔۔ ناشتہ میں خود بنا لیتی ہوں آپ ادھر بیٹھ جائیں ۔
ارے نہیں بی بی جی موسی صاحب نے دیکھ لیا تو وہ غمگین نہ ہو جائیں کہ میں آپ سے کام کروا رہی ہوں ۔
آج تو سختی سے بول کر گئے ہیں کہ آپ کو آرام کی ضرورت ہے اور سب کچھ آپکے کمرے میں ہی جا کر پہنچاوں ۔۔
اپنا گناہ چھپانے کے لئے مجھے اکیلے کمرے میں مارنا چاہتا ہے ۔۔ اول درجے کا ڈھیٹ انسان ۔۔۔ وردہ جل کر رہ گئی ۔
لیکن بناوٹی مسکراہٹ سجا کر ارے نہیں خالہ بی موسی صاحب کو چھوڑیں وہ کچھ نہیں کہیں گے ،میں تو اپنی خوشی سے کر رہی ہوں ۔۔
موسی تم جو بولو گے میں اس کے متضاد ہی کروں گی ۔
خالہ بی میں ناشتے کے بعد آج کا کھانا خود بناوں گی ۔۔ آپ آج آرام کریں ۔ بلکہ ایسا کریں اپنے کواٹر میں جا کر تھوڑی دیر کمر سیدھی کر لیں ۔۔
ارے نہیں بی بی جی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، موسی صاحب نے مجھے آپکا خیال رکھنے کی بار بار نصیحت کی ہے ۔۔۔
خالہ بی میں بچی تھوڑی ہوں، میں اپنا خیال اچھی طرح رکھ سکتی ہوں ۔۔۔
اچھا چلیں آپ بےشک کھانا پکا لیں ، لیکن مجھے ادھر ہی رہنے دیں پلیز ۔۔۔
وردہ کو اپنا منصوبہ ناکام ہوتا دکھائی دے رہا تھا ۔
پالک چکن کے ساتھ بھگاری چنا دال بنا لی ۔
خالہ باقی ملازمین کو کھانا کتنے بجے پہنچانا ہے؟
بی بی مغرب کے بعد سبھی اکھٹے بیٹھ کر ہی کھاتے ہیں ۔
کتنی روٹیاں بنیں گی ؟
دس کے قریب جی ۔۔ کیا ؟ بی بی جی مرد ہیں تو پتا ہے پھر وہ زیادہ کھاتے ہیں ماشااللہ ۔
چلو کوئی نہیں آپ مجھے آٹا دو ، میں خود بناتی ہوں روٹیاں ۔ نہیں بی بی اللہ کا واسطہ ہے رہنے دیں اگر اچانک صاحب آگئے تو وہ پریشان ہو جائیں گے ۔
ارے کچھ نہیں ہوتا خالہ ۔
میں سارا دن کیا کروں کمرے میں بیٹھ کر ؟؟؟ اس سے اچھا ہے خود کو کسی کام میں مشغول کر لوں ۔۔
بی بی آپ سے ایک بات بولوں اگر برا نا منائیں تو ؟ جی بولیں ۔
وہ وہ وہ جی “میرا چھوٹا منہ اور بڑی بات “
وہ میں چاہ رہی تھی آپ اوپر جا کر تیار ہو جائیں شاید صاحب مغرب کے بعد آجائیں ۔
میں سب ملازمین کو روٹی پہنچا کر آپ اور صاحب کی روٹی ہاٹ پاٹ میں رکھ جاوءں گی ۔۔۔
ارے نہیں خالہ ہم دونوں مل کر کریں گے ۔۔
بی بی جی مان جائیں نا !
خالہ بی کی لاچارگی قابل دید تھی ۔۔
وردہ تو بس موسی کی بولی ہر بات کی حکم عدولی کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔
تیزی سے گرم توے پر روٹی ڈال کر ساتھ ساتھ تیار شدہ روٹیوں کی گنتی بھی کر رہی تھی ۔ خالہ بی 10 روٹیاں پوری ہو گئی ہیں، آپ جا کر سب کو کھانا دے آئیں ۔ اور واپس آکر خود بھی کھا لیں ۔۔ ارے نہیں میں ساتھ ہی اپنے کواٹر میں لے جاتی ہوں، پہلے میں باقیوں کو کھانا پہنچا آؤں ۔
چلیں ٹھیک ہے جلدی سے واپس آئیں ۔۔
وردہ اپنے حال میں مست روٹی کو چمٹے سے پکڑ کر آگ کے شعلوں پر سینک رہی تھی کہ اچانک ۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔
