Roop by Umme Umair NovelR50655 Roop (Episode 20)
Rate this Novel
Roop (Episode 20)
Roop by Umme Umair
میرے اختیار میں ہوتا تو میں وردہ کو رخصت کر کے آپکے ساتھ ہی پاکستان بھیجتا۔ موسی نے شکست خوردہ نظروں سے جمال مرزا کو دیکھا ۔ انکل آپ ہمارے بڑے ہیں اور یقینا ہم دونوں کی بہتری کے لئے ہی ایسا فیصلہ کیا ہے ۔۔۔ موسی نے جھجھکتے ہوئے اپنی بات کو جاری رکھا ۔
اب اس بات کو کافی ہفتے گزر چکے ہیں ،میں سوچ رہا تھا میں اگر پاکستان جانے سے پہلے ایک دفعہ وردہ سے مل لوں اور پاکستان روانگی کے بارے میں بھی خود آگاہ کروں تو شاید وردہ کا دل پسیج جائے اور وہ اپنے اس فیصلے پر از سر نوع سوچے تو شاید مثبت نتائج مرتب ہوں ۔۔۔
آپ کا کیا خیال ہے بھیا ؟ موسی میرے خیال میں انکل اپنی بیٹی کو ہم سے بہتر جانتے ہیں لہذا انکے اس کے فیصلے کو ہم من و عن قبول کرتے ہیں ۔۔۔
موسی یار آپ پہلے پاکستان پہنچو ، ادھر کی آب و ہوا ماحول میں اپنے آپکو اس کا عادی بناو ۔ پھر آپ بےشک دوبارہ واپس آکر وردہ کو منا لینا ۔۔۔
کیا خیال ہے انکل ؟
سرمد بالکل درست کہہ رہے ہو ۔ موسی بیٹا بہتر ہے وردہ کو نہ چھیڑا جائے تو بہتری اسی میں ہی ہے ۔۔
سرمد آپ نے پھر کون سے شہر کا انتخاب کیا ہے ؟
انکل میرے خیال سے تو سیالکوٹ میں کھیلوں کے سامان سے لے کر کپڑے کی مل بھی منافع بخش ثابت ہو گی ان شاءاللہ ۔۔ میرا دوسرا آپشن فیصل آباد اور گوجرانوالہ ہیں ۔۔۔
اب یہ ہمارے مرد واحد پر منحصر ہے کہ یہ کیسے اپنی تعلیم اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کاروبار کو ترقی کی طرف گامزن کرتا ہے ۔۔
موسی آپ اس بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟ موسی دل کے ہاتھوں مجبور یکدم اپنے خیالوں کی دنیا سے باہر آیا ۔ انکل میں اس پر اپنی تحقیق کرنا چاہتا ہوں، میرے کچھ دوست ہیں جو پاکستان سے تعلیم کے سلسلے میں یہاں آئے تھے اور آبھی واپسی کا ارادہ رکھتے ہیں ۔۔ ایک بار ان سے مل لوں اور ہمیں جو ملز کے لئے زمین درکار ہو گی اور مناسب علاقہ اس کے علاوہ سرکاری قواعد و ضوابط کا جاننا بھی بہت ضروری ہے ، میں چاہتا ہوں یہ تمام معلومات میں اپنے دوستوں سے بروقت لے لوں ۔۔
ٹھیک ہے موسی بیٹا اپنی تحقیق ضرور کرو اور پھر ہم دونوں کو تفصیلات سے آگاہی دو ۔۔
انکل میں سب سے پہلے جگہ کا انتخاب کرنا چاہتا ہوں جہاں پر میں اپنا گھر تعمیر کر سکوں اس کے بعد باقی تمام معاملات کو آگے لے کر چلو گا ۔ گھر کی تعمیر کے ساتھ ساتھ میں کاروباری مراحل کے بارے میں بھی جانکاری لے سکتا ہوں ۔ وہاں کے سرمایہ کار کس نہج پر سوچتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔۔
موسی بیٹا یہ سب بہت چیلنجنگ ہو گا ۔ نئے لوگ ، نئی زبان ، نیا ماحول اور قانونی تقاضے کینیڈا کی نسبت جان جوکھوں میں ڈالنے والی بات ہے ۔۔
انکل کچھ پانے کے لئے بہت کچھ کھونا پڑتا ہے ۔ مجھے اپنے آپ کو چیلنج کرنا بہت پسند ہے ۔۔
بھیا اور آپ سرمایہ کاری کریں، بزنس کو پھیلانا میری ذمہ داری ہے ۔
میں نے فیصلہ کیا ہے یہاں پر جو مکان میرے نام مم ڈیڈ چھوڑ گئے ہیں اسکو بیچ کر میں پاکستان میں اپنا نیا گھر تعمیر کروں ۔ مجھے زیادہ تو یاد نہیں ہے لیکن مم ڈیڈ کی خواہش تھی کہ وہ ہماری تعلیم کے بعد پاکستان جا کر سیٹل ہوں ۔ بھیا یہی خواہش تھی نا مم ڈیڈ کی ؟؟ ہاں چھوٹے ۔۔ سرمد نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے بولا ۔۔۔
میں کبھی بھی پاکستان نہیں گیا لیکن میرے آباو اجداد کا تعلق اسی مٹی سے ہے ۔۔ آج اگر میرے والدین زندہ ہوتے تو وہ خوشی سے پھولے نہ سماتے ۔۔
انکل میں چاہتا ہوں میرے لوگ ، میرے ہم وطن میری صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائیں ۔۔۔
میں آپ دونوں کو شرمندہ نہیں ہونے دوں گا ۔۔
جمال مرزا نے اپنی کرسی سے اٹھ کر موسی کو اپنے سینے سے لگایا ۔
مجھے بہت فخر ہے کہ میری وردہ بہت محفوظ ہاتھوں میں گئی ہے ۔۔
جو شخص عام انسانوں کے لئے اپنے سینے میں اتنا درد رکھتا ہے وہ اپنی بیوی کے ساتھ تو کبھی بھی ناانصافی نہیں کر سکتا ۔۔
اللہ میرے بیٹے موسی کو کامیابیوں سے ہمکنار کرے آمین ۔۔۔ سرمد بھیا نے بھی موسی کو سینے سے لگا کر کندھا تھتھپایا ۔۔
موسی آپ میرا فخر اور مان ہو ، مجھے کبھی بھی کہیں بھی شرمندہ نہ ہونے دینا ۔۔۔ بھیا آپ کی بات میں نے اپنے پلو سے باندھ لی ہے ۔۔
تینوں کے قہقہے بلند ہوئے ۔۔۔
ہر گزرنے والا لمحہ کرب ناک اور اذیت سے بھرپور تھا ۔۔ روز رات کو وردہ کے پرانے ووئس میسجز اور ٹیکسٹ میسجز کو کھول کر دیکھتا اور سنتا ۔ گزشتہ سال تو جیسے ایک خواب تھا ۔ جو آنکھ کھلنے پر ٹوٹ گیا ۔۔۔
جوں جوں پاکستان روانگی کا وقت قریب آرہا تھا دل کی تشنگی بڑھ رہی تھی ۔۔۔
ہر لمحہ دل کسی چھوٹے بچے کی طرح وردہ جمال مرزا کو ایک جھلک دیکھنے کی ضد کرتا ۔ بارہا سوچا ایک مرتبہ اسکی پھپھو کے گھر کے باہر گاڑی میں بیٹھ جائے تاکہ وردہ کو گھر سے دخول خروج کے وقت ہی سہی ایک نظر ہی دیکھ لے مگر پھر سرمد بھیا اور انکل سے کیا گیا وعدہ یاد کر کے دل مسوس کر بیٹھ جاتا ۔۔۔
ایک ہفتہ ہوٹل میں قیام کے بعد اپنے گھر کی زمین کے لئے پرفضا اور پرسکون ماحول کی تلاش شروع کر دی ۔۔۔ نیت اور ارادے جب پختہ ہوں تو منزلیں بھی آسان ہو جاتی ہیں ۔۔۔
اللہ کی مدد کے ساتھ محنتی اور مخلص لوگوں سے رابطہ جڑ گیا ۔۔۔ وقت اپنی برق رفتاری سے گزرنا شروع ہو گیا ۔ وردہ کی طرف سے مکمل خاموشی تھی ۔۔۔ ہر رات ظالم حسینہ کی دھمکیاں کانوں میں گونجتی ۔۔۔ وہ روٹھنے منانے کا طویل قصہ دماغ کی تختی پر رقم ہو چکا تھا ۔۔۔
کبھی کبھی تو اس واقعہ کو یاد کر کے آنکھیں ابل پڑتیں تو کبھی جی بے تحاشہ ہنسنے پر مجبور کر دیتا ۔۔۔ وردہ میری گڑیا مجھے معاف کر دو پلیز ۔ وردہ جمال مرزا کے بغیر میری زندگی ادھوری ہے ۔۔۔ میری روح کے ساتھ جڑی وہ معصوم سی ضدی لڑکی کب سدھرے گی ؟! منچلا دل کبھی تسلی تشفوی کرتا تو کبھی صحرائی مسافر کی طرح بے کل کر دیتا ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وردہ جمال مرزا نے عبایہ پہن کر خود کو قد آوار آئینے میں دیکھا پھر سر پر حجاب ٹھہرانا جان جوکھوں میں ڈالنے کے مترادف تھا ۔۔
ریشمی کھلے بال بار بار حجاب کو سر سے نیچے لڑھکا دیتے۔
میرے خیال میں بالوں کو باندھ لوں اور اوپر کچھ چھوٹا رومال باندھ لیتی ہوں اور پھر یہ والا سکارف پہنتی ہوں ۔۔
آدھے گھنٹے کی بیزار کن صورتحال کے بعد اخیر میں وردہ جمال مرزا بہت سوبر لگ رہی تھی ۔ خود بھی حیران تھی کہ اسکو پہننے سے وہ کتنی خاص ہستی لگ رہی ہے ۔۔۔
موسی کھڑوس کی پسند تو بہت اچھی ہے، اگر ابھی دیکھ لے تو اس کے قصیدے ہی ختم نہ ہوں ۔سادہ گہرے بھورے حجاب کے ساتھ میچنگ بڑا سکارف جو سینے سے لے کر وردہ کے پیٹ تک کو چھپائے ہوئے تھا ۔۔ اور پشت میں کندھوں سے لٹک کر کولہوں تک جارہا تھا ۔۔۔
ابھی تو سردی ہے تو ٹھیک ہے لیکن گرمیوں میں کیا حشر ہو گا ؟ یہ ڈھیٹ موسی اپنی بات کا بھی پکا ہے ۔۔ خیر میں اتنی دیر میں واپس کینیڈا چلی جاوءں گی ۔۔۔
رکھے اپنے حجاب اپنے پاس ، یہ سب تو میں مجبورا ڈیڈ کے کہنے پر کر رہی ہوں ۔۔۔
دروازے پر ہلکی دستک پر خیالوں کی دنیا سے نکلی ۔ جی کون ؟ اندر آ جائیں ۔۔
خالہ بی کی تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔ بی بی آپ کتنی منفرد لگ رہی ہو ماشااللہ ۔۔۔
آپ اس لباس میں بہت پاکیزہ لگ رہی ہیں ۔ماشااللہ ۔
اللہ آپکو نظر بد سے بچائے آمین ۔۔
وردہ نے بھی دھیرے سے آمین بول دیا ۔۔
خالہ بی پہلے کدھر جائیں؟
ادھر سے کیا ہم پیدل جا سکتے ہیں؟
بی بی جی اگر ہم پیدل چل کر جائیں تو 20 منٹ کا راستہ ہے اور گاڑی میں تو 5 منٹ بھی نہیں لگیں گے ۔
خالہ بی میں یہ علاقہ دیکھنا چاہتی ہوں لہذا پیدل چلتے ہیں اور پھر آج دھوپ بھی اچھی نکلی ہے ۔ شکر ہے پچھلے دو ہفتے تو بادلوں نے سورج کو چھپائے رکھا تھا اور اوپر سے جو گرج چمک ہوتی ہے ۔
جی بی بی جی یہ سارا علاقہ غیر گنجان آباد ہے ، چاروں طرف کھلی زمینیں ہیں ، تو بہت زیادہ خاموشی کی وجہ سے بھی ہر چیز واضح سنائی دیتی ہے ۔۔۔
نہ گاڑیوں کا شور شرابہ ہے اور ناہی فضائی آلودگی ہے ۔۔
موسی صاحب نے اس علاقے کا انتخاب بہت ساری جگہوں کو دیکھنے کے بعد ہی کیا تھا ۔۔۔
کیا آپ ادھر ہی تھیں جب یہ گھر تعمیر ہو رہا تھا ۔۔ نہیں یہ گھر میری آمد سے پہلے ہی تعمیر ہو چکا تھا ۔ ہمارا صاحب سے ملنا بھی ایک دردناک واقعہ ہے جسکو بھلانا بہت مشکل ہے ۔ میں تو جب بھی سوچتی ہوں میرے رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔
وردہ کو ایک دم سارا واقعہ سننے کی طلب ہوئی مگر اسکی انا اسے مزید کریدنے سے روک رہی تھی ۔
میں نہیں چاہتی مجھے اس شخص سے دوبارہ ہمدردی پیدا ہو جائے ۔۔
بس میں نے ادھر گنتی کے ہفتے گزارنے ہیں اور پھر ڈیڈ کو بول دوں گی مجھے پاکستان میں رہائش پذیر ہونا پسند نہیں ہے اور موسی کو واپس کینیڈا آنا پسند نہیں ہے لہذا مجھے خلع چاہیئے ۔۔۔
وردہ اینٹوں کی بنی سڑک پر متوازن چال چلتی خالہ بی کی پیروی میں سارے علاقے کا جائزہ لے رہی تھی ۔ خالہ بی میں ان پیلے پھولوں کی زمین کے پاس جانا چاہتی ہوں ۔
کیا میں کچھ پھول لے سکتی ہوں ۔۔ ہاں ہاں کیوں نہیں آپ ضرور لیں پھول ۔۔ یہ گھر کے قریب تمام زمینیں صاحب کی اپنی ہیں ماشااللہ ۔۔
خالہ انکی دیکھ بھال کون کرتا ہے؟ ۔۔
بیٹی صاحب نے یہ جو سارا محلہ تیار کروایا ہے ادھر کے مکین مرد جو زمین داری سے واقفیت رکھتے ہیں وہ فیکٹری کے بجائے زمینوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں ۔
وردہ نے آگے بڑھ کر چھوٹی پگڈنڈی پر کھڑے ہو کر ٹہنیوں سمیت سرسوں کے پھولوں کا گلدستہ بنایا ۔۔
خالہ بی دیکھیں کتنا خوبصورت لگ رہا ہے اور اسکی خوشبو بھی دیکھیں کتنی اچھی ہے ۔
وردہ کی طرح سرسوں کے پھولوں پر منڈلاتی شہدکی مکھیاں بھی ایک ڈال سے ہو کر دوسری پر جاتیں اور سرسوں کے پھولوں کا رس لیتیں ۔۔
خالہ بی یہ سب کتنا اچھا ہے نا ۔۔ ہاں ہاں بیٹی ادھر آکر طبعیت ٹھیک ہو جاتی ہے ۔ صاحب تو اکثر فجر کے بعد ادھر ٹیوب ویل تک بھاگتے ہیں ۔ یہ دیکھیں جو چوڑا راستہ اس طرف کو جا رہا ہے ۔ اس تمام راستے پر صاحب نے چھوٹی چھوٹی بجری ڈلوا کر اسکو ہموار کروایا ہے ۔ ادھر ہی ٹیوب ویل کے ساتھ ایک بڑا کمرہ ہے جہاں پر ٹریکٹر ٹرالی ہے جو کاشتکاری کے دوران مزدوروں کے زیر استعمال ہوتا ہے ۔۔
سردی گرمی کی تمام سبزیاں مزدور انہیں زمینوں سے کاشت کر کے پہنچاہتے ہیں ۔ تو جو سبزیاں ہمارے گھر میں پائی جاتی ہیں وہ انہیں زمینوں سے آتی ہیں ؟ ۔۔ جی بی بی ۔۔
وردہ کا تو حیرت سے منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔۔۔
میں بھی سوچوں کہ یہ سب سبزیاں اتنی تازہ کیسے ہوتی ہیں؟! ۔۔۔
وردہ پرجوش انداز میں گردن ہلائے جا رہی تھی ۔ بی بی جی آپ نے ادھر ٹیوب ویل تک جانا ہے یا پھر کسی اور دن آ جائیں؟ آج گھر (یتیم خانے) چلنا ہے ؟
خالہ بی میرے خیال میں آج “گھر” چلتے ہیں ۔ میں بچوں اور انکی ماوں سے ملنا چاہتی ہوں ۔ کسی اور دن ٹیوب ویل کی طرف چلے جائیں گے ۔۔
10 منٹ میں دونوں مطلوبہ جگہ پر پہنچ چکی تھیں ۔۔ وردہ کو دیکھتے ہی سب کے چہروں پر بےپناہ خوشی جھلک رہی تھی ۔۔ فیضان کی ماں نے آگے بڑھ کر وردہ کو اپنے گلے سے لگا لیا ۔۔
وردہ بی بی ہم صبح سے آپکا انتظار کر رہے ہیں ۔ نوید بابو نے ہم سب کو مطلع کر دیا تھا کہ آج آپ ہم سب سے ملنے آ رہی ہیں ۔۔ وردہ اس پرجوش استقبال پر بہت متاثر دکھائی دے رہی تھی ۔۔ سب عورتوں سے گلے ملنے کے بعد نجانے کیوں آنکھیں چھلک جانے کو تیار تھیں ۔۔۔ ہر عمر اور ہر رنگ نسل کے مختلف بچے اپنی ماوں کے ساتھ لپٹے کوئی اور ہی منظر دکھا رہے تھے ۔۔۔خالہ بی کے بتانے پر وردہ بولی
آپکے بیٹے فیضان کا سن کر بہت افسوس ہوا ہے ۔ بولتے ساتھ ہی وردہ کی آنکھوں نے چھلکنا شروع کر دیا ۔۔۔
سرعت سے وردہ نے اپنی آنکھیں رگڑ ڈالیں ۔۔ وردہ کے ساتھ ساتھ باقی خواتین بھی آبدیدہ ہو گئیں ۔۔
بی بی جی موسی صاحب نے نوید بابو کے ذریعے ہر طرح کی کوشش کروائی کہ میرا بچہ بچ سکے لیکن تقدیر میں یہی لکھا تھا ۔ صاحب نے ہمیں چھت دی ، کھانا پینا ہر چیز میسر ہے ۔ ہمارے دلوں سے تو ہر لمحہ صاحب کے لئے دعائیں نکلتی ہیں ۔
وردہ پر سوچ انداز میں صرف گردن ہلا پائی ۔۔۔ آپ لوگ یہاں پر سارا دن کیا کرتے ہو ؟ کچھ پڑھنے لکھنے کا بھی انتظام ہے ادھر ؟ آپ سب کے بچے عمر کےمختلف حصوں میں ہیں ۔۔
جی بی بی جی دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم بھی دی جاتی ہے ۔ اس رہائش کے ساتھ 4 بڑے کمروں پر ایک سکول مشتمل ہے ۔۔ پرائمری تک ادھر تعلیم ملتی ہے اس کے بعد صاحب سیکنڈری سکول بھی تعمیر کروا رہے ہیں ۔ یہاں سے آپ نکلیں تو بائیں ہاتھ پر آپکو مزدور کام کرتے دکھائی دیں گے ۔۔۔
وردہ اپنے دماغ میں آنے والی مختلف سوچوں کو جھٹکنے کی بھر پور کوشش کر رہی تھی ۔۔
موسی سکندر خان میں جدھر سے بھی تمھاری کمزوری پکڑنا چاہتی ہوں تم ادھر ہی مضبوط حصار میں قید ملتے ہو ۔
نہیں مجھے کمزور نہیں ہونا، مجھے تو واپس جانا ہے ۔۔ وردہ اپنے اندر چھڑی جنگ میں تن تنہا کھڑی تھی ۔ آگے بڑھتی تو مقابل اسلحے سے لیس ملتا ، اگر پیچھے ہٹتی تو تمام راستے مقفل ملتے ۔۔۔
یا اللہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے ؟!
کہیں یہ موسی سکندر خان مجھے مجبور نہ کر دے ۔۔
یتیم بچوں اور عورتوں سے ملنے کے بعد وردہ کے دل کی حالت عجیب ہو رہی تھی ۔۔۔ خود بھی سمجھ سے باہر تھا کہ کونسی چیز ہے جو مجھے اس سب کی طرف کھینچ رہی ہے؟!
ہر ایک کے پیچھے سینکڑوں درد اور سیکنڑوں ظلم پوشیدہ تھے ۔۔۔ کتنے گھنٹے گزر گئے سب سے باتیں کرتے ، سب کے درد کو محسوس کرتے ۔۔۔
کسی کا خاوند نشئی تھا تو کوئی کثرت نشہ میں ہی موت کے گھاٹ اتر گیا تو کوئی عورت اپنے سسرال کی دھتکاری ہوئی جس کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ میکے سے بھاری بھرکم جہیز نہیں لا سکی ۔ بعض تو ایسی دکھیاری تھیں کہ جنکی زبان ساتھ چھوڑ چکی تھی صرف آنسووں کے ریلے انکی محرومییوں کی داستان رقم کر رہے تھے ۔۔۔ بےکس عورتیں جن کی آنکھیں ہزاروں کہانیاں سنا رہی تھیں ۔۔
ان عورتوں کی دل کی گہرائیوں سے نکلتی دعائیں جو کہ وردہ تمام گفتگو کے درمیان درجنوں بار سن چکی تھی ۔۔۔ موسی میں تمھارے کونسے روپ پر اعتبار کروں ؟ جوان دوشیزہ کے چاک گریبان والا روپ ؟ یا پھر یہ روپ جو غرباء مساکین تمھیں اپنی جھولیاں پھیلا پھیلا کر دعائیں دے رہے ہیں؟
موسی تم بہروپئے ہو ۔ نقب لگانے آئے تو خالی ہاتھ ہی لوٹاوں گی ۔۔۔
یتیم خانے میں الوداعی ملاقات کرتے ہوئے تمام عورتوں سے دوبارہ آنے کا وعدہ کیا ۔۔۔
عصر ڈھل رہی تھی ۔ خالہ بی اور وردہ نے واپس گھر کی راہ لی ۔۔۔ دائیں جانب موڑ مڑنے پر خالہ بی کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا ۔
بی بی وہ موسی صاحب کی گاڑی آ رہی ہے ۔ آج تو جلدی گھر آ گئے ہیں ماشااللہ ۔
آپ ایسا کریں صاحب کے ساتھ گھر چلی جائیں اور میں اپنے کواٹر میں جا رہی ہوں ۔
ارے نہیں خالہ بی ہم دونوں چل کر گھر واپس چلے جائیں گی ۔۔
وہ دیکھیں صاحب نے گاڑی روک لی ہے ۔ آپ جائیں بی بی ۔۔۔ خالہ بی نے التجائیہ انداز اپنایا تو وردہ نے انکی عمر کا لحاظ کرتے ہوئے موسی کی گاڑی کی جانب قدم موڑ دیئے ۔۔۔
ایک ایک قدم اٹھاتے ہوئے من من بھاری محسوس ہو رہا تھا ۔ غمگین چہرہ لیئے گاڑی کے پاس پہنچی ۔۔ موسی نے فورا نیچے اتر کر فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا ۔
وردہ نے پلٹ کر خالہ بی کو دیکھا جو اپنے دھیان میں کواٹر کی طرف چلتی ہوئی جا رہی تھیں ۔
وردہ نے آگے پیچھے گردن گھما کر عقبی سیٹ کا دروازہ کھولا اور بیٹھ گئی ۔۔
موسی نے غم سے گردن ہلاتے ہوئے نیچے اتر کر فرنٹ سیٹ کا دروازہ بند کیا اور دوبارہ واپس آکر اپنی سیٹ پر بیٹھ کر خاموشی سے گاڑی سٹارٹ کر لی ۔
2 منٹ کا راستہ خاموشی کی نظر ہو گیا ۔۔
اترنے سے پہلے موسی نے عقب میں بیٹھی وردہ کی طرف پلٹ کر دیکھا اور گاڑی کے ڈیش بورڈ پر پڑا بیگ بنا کچھ بولے ہاتھ گھما کر پکڑانے کی کوشش کی ۔ وردہ سوچ میں پڑ گئی اس بیگ کو فورا پکڑ لے یا پھر ایک اور بار موسی کو زچ کرے ۔ ان بےکس عورتوں کی دعاوں کا حصار تھا یا پھر موسی کی شخصیت ؟ وردہ نے پگلنا شروع کر دیا، جی چاہا موسی سے پوچھے یہ کیا لائے ہو ؟ لیکن شیطان کی سرگوشیوں پر کان دھرے وردہ جمال مرزا خاموش تھی ۔۔ چند لمحے موسی کا ہاتھ اسی پوزیشن میں رہا ۔ پھر کچھ سوچ کر موسی نے بیگ پر سے اپنی گرفت ہٹا لی، دھڑام سے بیگ وردہ کی گود میں گرا اور پھر موسی گاڑی میں رکا نہیں ، تیزی سے گاڑی کا دروازہ کھول کر گھر کے اندر چلا گیا ۔۔۔
وردہ نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
